سید اسماعیل خطیب
| سید اسماعیل خطیب | |
|---|---|
| پورا نام | سید اسماعیل خطیب |
| ذاتی معلومات | |
| مذہب | اسلام |
سید اسماعیل خطیب ایک ایرانی مذہبی عالم، سیاست دان اور انٹیلیجنس امور کے ماہر تھے۔ وہ صوبہ قم میں انٹیلیجنس کے سربراہ، قوہ عدلیہ کے تحفظ و معلومات مرکز کے سربراہ، اور آستان قدس رضوی کے حفاظتی محکمے کے نگران رہے۔ انہیں وطنِ عزیز کی تیرہویں اور چودھویں حکومتوں میں اسلامی مشاورتی مجلس (پارلیمانِ ایران) کی اکثریتی تائید سے وزیرِ انٹیلیجنس مقرر کیا گیا۔
ابتدائی زندگی
سید اسماعیل خطیب 1961ء میں قائنات میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دینی درس گاہوں میں تعلیم پائی اور سید علی خامنہ ای، محمد فاضل لنکرانی، ناصر مکارم شیرازی اور مجتبیٰ تہرانى جیسے نامور اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔
ذمہ داریاں
- 1980ء سے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے انٹیلیجنس و آپریشنز شعبے میں خدمات؛
- وزارتِ انٹیلیجنس میں سرگرم کردار؛
- صوبہ قم کے انٹیلیجنس سربراہ؛
- دفترِ رہبرِ اعلیٰ میں خدمات؛
- قوہ عدلیہ کے تحفظ و انٹیلیجنس مرکز کے سربراہ؛
- آستان قدس رضوی کے حفاظتی ادارے کے نگران؛
- تیرہویں اور چودھویں حکومت میں وزیرِ انٹیلیجنس۔
وزارتِ انٹیلیجنس
اگست 2021ء میں سید ابراہیم رئیسی نے انہیں وزیرِ انٹیلیجنس کے طور پر پارلیمان میں پیش کیا، جہاں انہیں اعتماد کا ووٹ حاصل ہوا۔ بعدازاں مسعود پزشکیان کی چودھویں حکومت میں بھی وہ اسی وزارت پر فائز رہے۔ [2]
شہادت
27 فروری 2026ء کو امریکہ و اسرائیل کا ایران پر حملہ، 2026 کے دوران رمضان کی جنگ میں وہ شہید ہوئے۔
ردِ عمل
رہبرِ اعلیٰ
سید علی خامنہ ای نے صدر مسعود پزشکیان کے نام اپنے پیغام میں وزیرِ انٹیلیجنس کی شہادت پر تعزیت اور قوم کو صبر کی تلقین کی۔ [3]
صدرِ ایران
صدر مسعود پزشکیان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ "میرے دو ساتھی اسماعیل خطیب اور علی لاریجانی کی شہادت ملتِ ایران کیلئے بڑا المیہ ہے، مگر ان کا راستہ مضبوطی سے جاری رہے گا۔"
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اپنے بیان میں امریکی و صیہونی طاقتوں کی ’’درندہ کارروائی‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے خون کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔
صدرِ پارلیمان
محمدباقر قالیباف نے اپنے تعزیتی پیغام میں حساس محاذِ انٹیلیجنس پر اس شہید کی ایمان دارانہ خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
عدلیہ
جج علی مظفری نے شہداء کے اہلِ خانہ اور ملتِ ایران سے تعزیت کی اور ان کی قربانی کو انقلاب کی تقویت قرار دیا۔ [4]
مجلسِ خبرگانِ قیادت
مجلسِ خبرگانِ قیادت نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’شہید سید اسماعیل خطیب ایک باحوصلہ اور جری وزیر تھے جن کی خدمات دشمنانِ ملک کیلئے ڈراؤنا خواب تھیں۔‘‘ [5]
متعلقہ مضامین
- امریکہ و اسرائیل کا ایران پر حملہ، 2026
- سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی
- سید علی خامنہ ای
- ایران عراق جنگ
- رمضان کی جنگ
- شہادت