مندرجات کا رخ کریں

مجلس شورائے اسلامی

ویکی‌وحدت سے
مجلس شورائے اسلامی
پارٹی کا ناممجلس شورائے اسلامی
قیام کی تاریخ۱۳۵۹ ش، 1981 ء، 1400 ق
پارٹی رہنماعلی اکبر هاشمی رفسنجانی، مهدی کروبی، علی اکبر ناطق نوری، غلامعلی حداد عادل، علی لاریجانی، محمد باقر قالیباف.
مقاصد و مبانی
  • قانون سازی، قوانین پر تبصره اور قانون کی نفاذ پر نگرانی

مجلسِ شورایِ اسلامی، اسلامی جمہوریۂ ایران کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ اس کے نمائندے ہر چار سال بعد براہِ راست اور خفیہ عوامی رائے دہی کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں اور مدتِ نمائندگی چار سال ہوتی ہے۔ یہ مجلس اب تک گیارہ ادوار مکمل کر چکی ہے اور خرداد 1403 ش سے اپنا بارہواں دور شروع کر چکی ہے۔ عام قوانین کی وضع و تشریح اور قوانین کے نفاذ کی نگرانی اس ادارے کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہیں۔

ایران میں مجلس کی تاریخ

مجلس کا اصطلاحی اور رسمی تصور پہلی بار عہدِ اشکانی میں ایرانی حکومتوں میں داخل ہوا، جس میں سب سے مشہور مجلس، مجلسِ مہستان تھی۔ مہستان دو دیگر مجالس کے مجموعے پر مشتمل تھی: ایک، مجلسِ خانوادگی جس کے اراکین شاہی خاندان کے مرد افراد تھے، اور دوسری، تجربہ کار بزرگوں اور پارت قوم کے بلند مرتبہ روحانی پیشواؤں پر مشتمل مجلس۔ اشکانی بادشاہ امورِ مملکت میں ان مجلسوں سے مشورہ لیا کرتے تھے۔ قاجاری دور سے آج تک مختلف مجالس درج ذیل طور پر تشکیل دی گئیں ہیں۔ [1]

مجلسِ شوریِ دولتی

یہ مجلس، جو بعد میں دارالشورای دولتی اور مشورت‌خانه جیسے ناموں سے بھی معروف ہوئی، تاریخِ مشروطیت میں پہلی بار 1276 ق میں ناصرالدین‌شاہ قاجار کے حکم سے تمام ملکی امور کی رسیدگی کے لیے تشکیل دی گئی، تاکہ اس کے اراکین مشترکہ ذمہ داری کے ساتھ مسائل کا جائزہ لیں اور نتائج شاہ کو پیش کریں اور منظوری کے بعد اجرا کریں۔ لیکن اُس زمانے کی استبدادی حکومت کے باعث یہ مجلس عوام کے لیے مفید ثابت نہ ہوئی۔ اراکین میں اعتضادالسلطنہ وزیر علوم، نصره‌الدوله حکمران دارالخلافه، سپهسالار، مستوفی‌الممالک، عباس‌قلی‌خان جوان‌شیر وزیر عدلیه، امین‌الدوله، میرزا سعیدخان وزیر امور خارجه، سپهدار، ناصرالملک وزیر تجارت اور دبیرالملک شامل تھے۔

مجلسِ عالی یا مجلسِ فوق‌العاده

یہ مجلس 1327 ق میں دورِ مشروطہ میں، مجاہدین کے ہاتھوں فتحِ تهران کے بعد، تشکیل دی گئی۔ اس کے اراکین تقریباً 500 افراد پر مشتمل تھے جن میں مجلسِ اول کے باقی ماندہ نمائندے، علما، شاہزادگان، اعیان، تجار اور اصنافِ مشروطہ‌خواه شامل تھے۔ یہ مجلس مجلسِ شورایِ ملی کی عدم موجودگی اور فوری ضرورت کے تحت برپا ہوئی تاکہ محمدعلی‌شاه قاجار کے مستقبل اور امورِ مملکت کے انتظام کا فیصلہ کرے۔ اس میں محمدعلی‌شاہ کی خلع، سلطان احمدمیرزا ولیعہد کی تاج‌پوشی اور عضدالملک قاجار کو نیابتِ سلطنت دینے کا منصوبہ منظور کیا گیا۔ اراکین کی کثرت کے باعث فیصلہ سازی مشکل ہونے پر ایک دوسری کمیٹی ”کمیسیونِ عالی“(اعلی کمیٹی) تشکیل دی گئی۔

مجلسِ شورایِ ملی

مجلسِ شورایِ ملی انقلابِ مشروطیت کے نتیجے میں فرمانِ مورخ 14 جمادی‌الثانی 1324 ق مظفرالدین‌شاہ قاجار کے ذریعے قائم ہوئی اور 18 شعبان کو قصرِ گلستان میں شاہ کی موجودگی میں افتتاح ہوا۔ اس مجلس کے مجموعی طور پر 24 ادوار رہے؛ آغاز 13 مهر 1285 ش (18 شعبان 1324 ق) اور اختتام 17 شهریور 1354 ش تھا۔

مجلسِ سنا

ایران کے آئین کے مطابق اس مجلس کے نمائندوں کی تعداد 65 تھی۔ ان میں سے 35 نمائندے تہران اور ولایات کی جانب سے شاہ نامزد کرتا تھا اور 30 نمائندے ملت کی جانب سے منتخب ہوتے تھے۔ مجلسِ سنا 1328 ش تک تشکیل نہ ہو سکی تھی، اور اس سال بہمن‌ماہ میں پہلی بار گشایش پائی۔ اس کا بنیادی فریضہ قوانین کی تصویب تھا۔ امور اگر سنا یا هیئتِ وزرا کی جانب سے پیش ہوتے تو پہلے سنا میں ان کی تصحیح و تنقیح ہوتی اور پھر مجلسِ شورایِ ملی کو بھیجے جاتے۔ مالی امور صرف مجلسِ شورایِ ملی کے اختیار میں تھے اور سنا محض اپنی آرا پیش کر سکتا تھا۔

مجلسِ مؤسسان

یہ عوام کے منتخب نمائندوں کا ایک مجمع ہوتا ہے جس کا فریضہ ملکی قوانین کی تدوین یا اس کے بعض اصولوں میں تبدیلی کرنا ہوتا ہے۔ بعض لوگ پہلی مجلسِ شورایِ ملی کو مجلسِ مؤسس شمار کرتے ہیں کیونکہ اسی میں قانونِ اساسی اور متمم تیار ہوا۔ بعض کے مطابق پہلی مجلسِ مؤسسان 1304 ش میں منعقد ہوئی جس نے قانونِ اساسی کے اصول 36، 37 اور 38 میں تبدیلی کر کے سلطنت کو خاندانِ قاجار سے خاندانِ رضاخان سردارسپه منتقل کیا۔

مجلس کا مقام

مجلسِ شورایِ اسلامی ایران کے نظام میں قانون‌گذاری، برنامه‌ریزی اور نظارت کا مرکزی محور ہے اور عوامی ارادے کا مظہر ہے۔ نمائندگان براہِ راست اور خفیہ رائے دہی سے چار سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ میان‌دورہ انتخاب میں منتخب نمائندے کی مدت صرف اسی دورِ مجلس تک محدود ہوتی ہے۔ مجلس، جنگ یا اشغالِ نظامی کے علاوہ—جو رئیس‌جمهور کی تجویز، نمایندگان کی تصویب اور شورای نگهبان کی تأیید سے ممکن ہے—تعطیل نہیں کی جا سکتی۔ انتخابات بھی ہر حال میں قبل از پایانِ دوره برگزار ہوتے ہیں تاکہ ملک کبھی بغیر مجلس نہ رہے۔

افتتاحِ مجلس

قانونِ اساسی کے اصل 65 کے مطابق پہلی نشست ملکی و لشکری مقامات کی موجودگی میں اور هیأت رئیسه سنی کی صدارت میں، دو تہائی نمائندگان کی شرکت کے ساتھ رسمیّت پاتی ہے۔ یہ نشست سورۂ شوریٰ کی آیات 35 تا 42 کی تلاوت سے آغاز کرتی ہے، پھر پیامِ مقام معظم رهبری پڑھا جاتا ہے اور نمائندگان مسلمان قرآن پر اور اقلیتوں کے نمائندگان اپنی آسمانی کتاب پر قسم اٹھاتے ہیں۔ متنِ سوگند یہ ہے:

«بسم الله الرحمن الرحیم؛ میں قرآنِ مجید کی قسم کھاتا/کھاتی ہوں اور اپنے انسانی شرف پر بھروسا کرتے ہوئے عہد کرتا ہوں کہ اسلام کی حرمت کا محافظ اور ملتِ ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابیوں اور جمہوریۂ اسلامی کی بنیادی اقدار کا نگہبان رہوں گا۔ نیز اس امانت کی، جو قوم نے ہمارے سپرد کی ہے، ایک دیانت دار امین کی حیثیت سے حفاظت کروں گا، اور اپنے نمائندہ فرائض کی انجام دہی میں دیانت اور تقویٰ کو ملحوظ رکھوں گا، اور ہمیشہ ملک کی خودمختاری اور سربلندی، عوام کے حقوق کے تحفظ اور عوامی خدمت کا پابند رہوں گا، آئینِ اساسی کی اطاعت کروں گا، اور اپنی گفتار، تحریر اور آرا کے اظہار میں ملک کی آزادی و خودمختاری اور عوام کے مفادات کو پیشِ نظر رکھوں گا۔»۔

منتخب نمائندگان کی تقاریر اور حلف برداری کے بعد، اراکینِ مجلس قرعہ اندازی کے ذریعے مساوی طور پر پندرہ شعبوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں تاکہ اسنادِ نمائندگی کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔

اور اجلاس کے اختتام پر، مجلس کے اراکین جمہوریۂ اسلامی ایران کے بانی حضرت امام خمینیؒ اور اسلامی انقلاب کے شہداء کے مقام کی تعظیم، ان کے ساتھ اظہارِ عقیدت اور تجدیدِ عہد کے لیے مرقدِ مطہرِ امام خمینیؒ اور بہشتِ زہرا میں حاضری دیتے ہیں۔ [2]

مجلس کا ڈھانچہ

مجلس کا ایک حصہ ساختارِ پارلمانی اور دوسرا حصہ تشکیلاتی ساخت پر مشتمل ہے۔

ساختارِ پارلمانی

مجلسِ شورایِ اسلامی کا پارلمانی ڈھانچہ رئیس، هیأت رئیسه، شعب اور کمیسیونوں پر مشتمل ہے۔ [3]

صدرِ مجلس

صدرِ مجلس کا انتخاب پہلے مرحلے میں ارکانِ مجلس کی مطلق اکثریت سے کیا جاتا ہے، اور اگر یہ حاصل نہ ہو تو دوسرے مرحلے میں نسبتی اکثریت کافی ہوتی ہے۔ اگر صدر استعفا دے دیں یا وفات پا جائیں تو نائب صدور ترتیبِ تقدم کے مطابق اجلاس منعقد کرتے ہیں اور استعفے کا متن پڑھتے یا وفات کا اعلان کرتے ہیں۔

صدرِ مجلس کے فرائض و اختیارات درج ذیل ہیں:

  1. ضابطۂ کار کے مطابق مجلس کے اجلاسوں کی صدارت اور انتظام
  2. مجلس کے تمام انتظامی، مالی، تقرری اور تنظیمی امور کی نگرانی
  3. مجلس کے ملازمین سے متعلق تمام تقرری احکامات پر دستخط، ضابطۂ تقرری اور دیگر قوانین کے مطابق
  4. قانون سازی اور پارلیمانی امور سے متعلق تمام سرکاری خطوط پر دستخط
  5. اُن قانونی اداروں میں شرکت جن میں صدرِ مجلس رکن ہوتا ہے
  6. ہر تین ماہ بعد مجلس اور اس کے ذیلی اداروں سے متعلق مختلف امور پر مجلسِ صدارت کے فیصلوں اور اقدامات کی مکمل رپورٹ ارکانِ مجلس کو پیش کرنا
  7. دیگر امور جو آئین اور دیگر قوانین میں مذکور ہوں

مجلس کی مجلسِ صدارت

مجلس کے افتتاح کے بعد پہلے اجلاس میں عارضی مجلسِ صدارت مجلسِ صدارت کے انتخاب کا اہتمام کرتی ہے۔ مجلسِ صدارت کے ارکان ایک سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔ جو ارکان مجلسِ صدارت کی رکنیت کے امیدوار ہوں انہیں افتتاحی دن کے اختتام تک اندراج کرانا ہوتا ہے۔

مجلسِ صدارت کے ارکان درج ذیل ہوتے ہیں:

  • ایک صدر
  • دو نائب صدر
  • چھ سیکریٹری
  • تین نگران

صدر کا انتخاب پہلے مرحلے میں مطلق اکثریت سے کیا جاتا ہے۔ نائب صدور، سیکریٹریوں اور نگرانوں کا انتخاب الگ الگ خفیہ رائے دہی کے ذریعے نسبتی اکثریت سے کیا جاتا ہے۔ اگر پہلے مرحلے میں مطلق اکثریت حاصل نہ ہو تو دوسرے مرحلے میں نسبتی اکثریت کافی ہوتی ہے۔ اگر ووٹ برابر ہوں تو فیصلہ قرعہ اندازی سے کیا جاتا ہے۔

شعبہ جات

حلف برداری کے بعد ارکان کو قرعہ اندازی کے ذریعے مساوی طور پر پندرہ شعبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اگر کچھ ارکان باقی رہ جائیں تو انہیں باری باری شعبوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ جو ارکان بعد میں حلف اٹھائیں انہیں بھی قرعہ اندازی کے ذریعے اُن شعبوں میں شامل کیا جاتا ہے جن میں کمی ہو۔

ہر شعبہ میں درج ذیل عہدے ہوتے ہیں:

  • ایک صدر
  • دو نائب صدر
  • ایک ترجمان
  • دو سیکریٹری

ان کا انتخاب خفیہ رائے دہی کے ذریعے نسبتی اکثریت سے کیا جاتا ہے اور اس کے لیے شعبہ کے کل ارکان کے ایک تہائی سے زیادہ ووٹ ضروری ہوتے ہیں۔ ووٹ برابر ہونے کی صورت میں قرعہ اندازی کی جاتی ہے۔

ہر شعبہ پورے دورِ نمائندگی کے لیے قائم رہتا ہے اور اس کے فرائض یہ ہیں:

  1. ارکان کی اسنادِ نمائندگی کی جانچ
  2. تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان کا تعین
  3. مجلس کے داخلی ضابطۂ کار کی کمیٹی کے ارکان کا تعین
  4. تخصصی کمیٹیوں کی رکنیت کے امیدواروں کی اہلیت کا جائزہ

کمیٹیاں

مجلس میں خصوصی کمیٹیاں اور تخصصی کمیٹیاں قائم ہوتی ہیں۔ خصوصی کمیٹیوں کے ارکان کی تعداد داخلی ضابطۂ کار کی دفعات (39) تا (44) کے مطابق ہوتی ہے جبکہ تخصصی کمیٹیوں میں کم از کم 19 اور زیادہ سے زیادہ 23 ارکان ہوتے ہیں۔

خصوصی کمیٹیاں

مشترکہ کمیٹی

یہ اُن بلوں اور تجاویز کے لیے تشکیل دی جاتی ہے جو دو یا زیادہ کمیٹیوں سے بنیادی طور پر متعلق ہوں۔ اس کے ارکان کی تعداد 23 ہوتی ہے۔

خصوصی کمیٹی

اہم اور غیر معمولی قومی مسائل کے لیے تشکیل دی جاتی ہے۔ اس کی تجویز کم از کم 15 ارکان دیتے ہیں اور مجلس کی منظوری سے تشکیل پاتی ہے۔ ان ارکان کا انتخاب خفیہ رائے دہی اور نسبتی اکثریت سے ہوتا ہے۔

مطابقتی کمیٹی

یہ کمیٹی ترقیاتی منصوبوں کے اصول و مواد اور ملکی بجٹ کے بلوں کو مرتب کرنے اور تخصصی کمیٹیوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے تشکیل دی جاتی ہے۔ اس میں منصوبہ و بجٹ کمیٹی کے 9 ارکان اور ہر دوسری تخصصی کمیٹی سے 3 ارکان شامل ہوتے ہیں۔

تحقیقاتی کمیٹی

یہ اُن اسنادِ نمائندگی کی جانچ کے لیے قائم کی جاتی ہے جنہیں شعبوں نے منظور نہ کیا ہو یا جن پر اعتراض کیا گیا ہو۔

داخلی ضابطۂ کار کمیٹی

یہ مجلس کے داخلی ضابطۂ کار کی تدوین اور منظوری کے لیے قائم کی جاتی ہے اور ہر شعبہ سے ایک رکن اس میں شامل ہوتا ہے۔

آئین کی دفعہ 90 کی کمیٹی

آئین کی مختلف دفعات خصوصاً دفعہ 90 کے مطابق یہ کمیٹی قائم کی جاتی ہے تاکہ انتظامیہ، عدلیہ اور مجلس کے کام کے طریقۂ کار کی نگرانی کرے۔ اس کے ارکان درج ذیل ہوتے ہیں:

  • ہر تخصصی کمیٹی سے ایک رکن
  • آٹھ ارکان جنہیں شعبوں کے صدور اور مجلسِ صدارت بطور مستقل ارکان منتخب کرتے ہیں

تخصصی کمیٹیاں

مجلس میں درج ذیل تخصصی کمیٹیاں قائم ہیں:

  • تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کمیٹی
  • سماجی امور کمیٹی
  • اقتصادی کمیٹی
  • قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی
  • توانائی کمیٹی
  • منصوبہ بندی، بجٹ اور حسابات کمیٹی
  • صحت و علاج کمیٹی
  • داخلی امور اور بلدیاتی اداروں کی کمیٹی
  • صنعت و معدنیات کمیٹی
  • تعمیرات و انفراسٹرکچر کمیٹی
  • ثقافتی امور کمیٹی
  • عدالتی و قانونی امور کمیٹی
  • زراعت، پانی، قدرتی وسائل اور ماحولیات کمیٹی

ہر تخصصی کمیٹی اپنے دائرۂ کار میں درج ذیل فرائض انجام دیتی ہے:

  1. مجلس کو بھیجے گئے بلوں اور تجاویز کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنا
  2. آئین کی دفعہ 85 کے مطابق بعض بلوں کی آزمایشی منظوری اور سرکاری اداروں کے قواعد کی منظوری
  3. تحقیق و تفتیش کی درخواستوں کا جائزہ
  4. صدرِ جمہوریہ اور وزرا سے ارکان کے سوالات کی رسیدگی
  5. ترقیاتی منصوبوں اور سالانہ بجٹ سے متعلق امور کا جائزہ اور رپورٹ مطابقتی کمیٹی کو دینا
  6. ملک کے انتظامی امور کے بارے میں معلومات حاصل کرنا اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کی رپورٹس کا جائزہ لینا
  7. حکومتی اداروں کی کارکردگی اور قوانین کے نفاذ پر موضوعی اور سالانہ رپورٹ تیار کر کے مجلس میں پیش کرنا

مجلس کی تنظیمی ساخت

تنظیمی اعتبار سے مجلسِ شوریٰ اسلامی کے تحت چار ادارے کام کرتے ہیں: مجلس کا مرکزِ تحقیقات، ملک کا دیوانِ محاسبات، اسلامی تحقیقی مرکز، اور مجلسِ شوریٰ اسلامی کی لائبریری، عجائب گھر اور مرکزِ اسناد۔ ان اداروں کے علاوہ مجلس میں تین معاون شعبے بھی ہیں: شعبۂ نگرانی، شعبۂ قانون سازی اور شعبۂ انتظامی امور۔ [4]

شعبۂ نگرانی

اگرچہ آئین کے مطابق نگرانی کی ذمہ داری براہِ راست اراکینِ مجلس پر عائد ہوتی ہے، لیکن انتخابی حلقوں کے معاملات، عوامی مسائل کا حل، شہری ملاقاتیں، سرکاری حکام سے ملاقاتیں، اور ایوان و خصوصی کمیٹیوں میں لازمی شرکت کے باعث اراکین کے لیے نگرانی کے امور پر بھرپور توجہ دینا ممکن نہیں رہتا۔ اسی وجہ سے نگرانی کے امور کو پیشہ ورانہ انداز میں انجام دینے کے لیے شعبۂ نگرانی قائم کیا گیا ہے۔

شعبۂ قانون سازی

مجلسِ شوریٰ اسلامی میں قانون سازی کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی مسودۂ قانون یا سرکاری بل ایوان میں پیش کیا جاتا ہے اور اس وقت مکمل ہوتا ہے جب منظور شدہ قانون سرکاری گزٹ میں شائع ہو جاتا ہے۔ اس تمام عمل سے متعلق اقدامات شعبۂ قانون سازی کے دائرۂ اختیار میں انجام پاتے ہیں۔ یہ شعبہ تین عمومی محکموں پر مشتمل ہے:

  • قوانین کی تدوین کا عمومی محکمہ
  • کمیٹیوں، ایوان اور مشیروں کا عمومی محکمہ
  • قانونی دستاویزات اور قوانین کی تطہیر کا عمومی محکمہ

شعبۂ انتظامی امور

مجلس کے تمام انتظامی اور دفتری معاملات اس شعبے کی نگرانی میں انجام پاتے ہیں۔

بین الاقوامی امور کا عمومی محکمہ

قانون ساز ادارے کی سفارتی سرگرمیوں اور پارلیمانی سفارت کاری سے متعلق معاملات کی پیروی کے لیے بین الاقوامی امور کا عمومی محکمہ قائم کیا گیا ہے۔

مجلسِ شوریٰ اسلامی کے فرائض اور اختیارات

مجلسِ شوریٰ اسلامی سے متعلق سب سے اہم بحث اس کے فرائض، اختیارات اور قانونی اہلیت سے متعلق ہے۔ آئینِ جمہوریۂ اسلامی ایران نے مجلس کو درج ذیل ذمہ داریاں سونپی ہیں:

عام قوانین کی وضع اور تشریح

آئین کے آرٹیکل 71 اور 73 کے مطابق عام قوانین کی تیاری، منظوری اور ان کی تشریح مجلسِ شوریٰ اسلامی کے فرائض میں شامل ہے۔

نگرانی اور جانچ پڑتال

ملک کے امور کی جانچ پڑتال اور نگرانی مجلس کے بنیادی فرائض میں سے ہے۔ یہ نگرانی ایک طرف انتظامیہ کے ساتھ تعلق کو ظاہر کرتی ہے اور دوسری طرف عوامی اقتدارِ اعلیٰ کے نفاذ کی علامت ہے۔ یہ دو طریقوں سے انجام پاتی ہے:-

نگرانی برائے اطلاع

اس سے مراد یہ ہے کہ مجلس کے اراکین کو انتظامی اور عدالتی اداروں کی کارکردگی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہ معلومات عوامی اطلاعات، تنبیہ، سوالات اور تحقیق و تفتیش کے ذریعے حاصل کی جاتی ہیں، جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 78 میں بیان کیا گیا ہے۔

نگرانی برائے منظوری

یعنی بعض قانونی اقدامات نگران ادارے کی باقاعدہ منظوری کے بغیر قانونی حیثیت نہیں رکھتے۔ اس نگرانی کی اقسام درج ذیل ہیں: [5]

  1. تشکیلی نگرانی: انتظامیہ کے قیام کے آغاز پر مجلس کی نگرانی؛ یعنی صدرِ مملکت وزیران کے انتخاب کے بعد ہر وزیر کے لیے مجلس سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرتا ہے۔
  2. سیاسی نگرانی: انتظامیہ کے ارکان کے سیاسی طرزِ عمل کی مسلسل نگرانی، جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 122، 134 اور 137 میں بیان ہوا ہے۔
  3. مالی نگرانی:
  • قومی بجٹ کی منظوری (آرٹیکل 52)
  • جٹ کے درست نفاذ کی نگرانی دیوانِ محاسبات کے ذریعے (آرٹیکل 54 اور 55)
  • دیگر امور:

بین الاقوامی معاہدات، سرحدی تبدیلیاں، مارشل لا، جنگی حالات، ملکی و غیر ملکی قرضے و امداد، غیر ملکی ماہرین کی خدمات، قومی اثاثوں کی منتقلی، اور سرکاری تنازعات کا تصفیہ مجلس کی منظوری سے مشروط ہے۔

اراکینِ مجلس کی تعداد

مجلس کے اراکین کی تعداد 290 ہے، اور آئین کے آرٹیکل 64 کے مطابق اس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اقلیتی مذاہب کے لیے پانچ نشستیں مخصوص ہیں:

  • زرتشتی: 1
  • یہودی: 1
  • آشوری و کلدانی عیسائی: 1
  • آرمینی عیسائی (شمال اور جنوب): ہر ایک کے لیے 1

[6]

مجلس کے صدور اور ادوار

  1. پہلی مجلس (1359–1363): اکبر ہاشمی رفسنجانی
  2. دوسری مجلس (1363–1367): اکبر ہاشمی رفسنجانی
  3. تیسری مجلس (1367–1371): اکبر ہاشمی رفسنجانی، بعد ازاں مہدی کروبی
  4. چوتھی مجلس (1371–1375): علی اکبر ناطق نوری
  5. پانچویں مجلس (1375–1379): علی اکبر ناطق نوری
  6. چھٹی مجلس (1379–1383): مہدی کروبی
  7. ساتویں مجلس (1383–1387): غلام علی حداد عادل
  8. آٹھویں مجلس (1387–1391): علی لاریجانی
  9. نویں مجلس (1391–1395): علی لاریجانی
  10. دسویں مجلس (1395–1399): علی لاریجانی
  11. گیارہویں مجلس (1399–1403): محمد باقر قالیباف
  12. بارہویں مجلس (1403–تا حال): محمد باقر قالیباف

حوالہ جات