مندرجات کا رخ کریں

"احمدرضا بیضایی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
سطر 32: سطر 32:


==گرفتاری==
==گرفتاری==
[[فائل:احمدرضا بیضایی 1.jpg|بے فریم|بائیں|]]
[[فائل:احمدرضا بیضایی 1.jpg|تصغیر|بائیں|]]


بہمن ماہ 1403 ہجری شمسی میں، ڈاکٹر بیضایی کی استنبول، [[ترکی]] میں گرفتاری اور حراست کی خبر نے میڈیا اور ثقافتی کارکنوں میں احتجاج اور غم کی لہر دوڑا دی۔ اب تک ترک فریق کی جانب سے ان کی گرفتاری کی وجوہات اور حالات کے بارے میں کوئی واضح وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اس مسئلے نے ملک کے علمی اور یونیورسٹی کے حلقوں میں سنگین خدشات پیدا کیے ہیں، اور ثقافتی، سماجی اور میڈیا کے کارکن وزارت خارجہ کی جانب سے ڈاکٹر بیضایی کی رہائی اور ان کی وطن واپسی کے اقدامات کے منتظر ہیں<ref>[https://anaj.ir/news/100560/ "احمدرضا بیضایی" ترکیہ میں گرفتار ہونے والے استاد کون ہیں؟، خبری تجزیاتی ویب سائٹ آناج]</ref>.
بہمن ماہ 1403 ہجری شمسی میں، ڈاکٹر بیضایی کی استنبول، [[ترکی]] میں گرفتاری اور حراست کی خبر نے میڈیا اور ثقافتی کارکنوں میں احتجاج اور غم کی لہر دوڑا دی۔ اب تک ترک فریق کی جانب سے ان کی گرفتاری کی وجوہات اور حالات کے بارے میں کوئی واضح وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اس مسئلے نے ملک کے علمی اور یونیورسٹی کے حلقوں میں سنگین خدشات پیدا کیے ہیں، اور ثقافتی، سماجی اور میڈیا کے کارکن وزارت خارجہ کی جانب سے ڈاکٹر بیضایی کی رہائی اور ان کی وطن واپسی کے اقدامات کے منتظر ہیں<ref>[https://anaj.ir/news/100560/ "احمدرضا بیضایی" ترکیہ میں گرفتار ہونے والے استاد کون ہیں؟، خبری تجزیاتی ویب سائٹ آناج]</ref>.

نسخہ بمطابق 13:25، 24 مئی 2026ء

احمدرضا بیضایی
پورا ناماحمدرضا بیضایی
ذاتی معلومات
پیدائش1979 ء
پیدائش کی جگہتبریز، ایران
مذہباسلام، شیعہ
اثراتامریکائے عزیز
مناصباستاد جامعہ، کاریکاتوریست، مصنف

احمدرضا بیضایی، ایک ایرانی جامعہ کے استاد اور سیاسی و ثقافتی تجزیہ کار ہیں جو تاریخ اور سیاست کے حوالے سے برسوں کی مطالعے کی بنا پر جبهہ مقاومت کے مجاہدین اور تجزیہ کاروں میں شمار ہوتے ہیں اور تبریز کے مختلف محافل میں تقریریں کرتے رہے ہیں۔ بہمن ماہ 1403 ہجری شمسی میں، ڈاکٹر بیضایی کی استنبول، ترکی میں گرفتاری اور حراست کی خبر نے میڈیا اور ثقافتی کارکنوں میں احتجاج اور غم کی لہر دوڑا دی۔

سوانح حیات

احمدرضا بیضایی تبریز میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی تعلیم حیواناتی علوم اور طبی علوم کے شعبوں میں جاری رکھی۔ وہ تبریز یونیورسٹی کے استاد کے طور پر "فزیالوجی" اور "ایناتومی" جیسے اہم مضامین پڑھاتے ہیں اور ان شعبوں کے طلباء کے لیے ایک جانے پہچانے چہرے ہیں۔ وہ شہید مدافع حرم محمود رضا بیضایی کے بھائی ہیں۔

ثقافتی سرگرمیاں

بیضایی بطور ثقافتی اور سماجی کارکن، تبریز کی مسجد شہیدی میں ادبی نشستیں اور کتابوں کے تنقیدی جائزے منعقد کرتے رہے ہیں اور نوجوانوں اور نوعمر بچوں کی موجودگی میں مطالعے کی ثقافت اور آزاد خیالی کو فروغ دیا ہے۔

فن اور کاریکچر

وہ ایران کے ماہر اور مشہور کاریکاتوریستوں میں سے ایک ہیں جن کے فنکارانہ ریکارڈ میں "امریکائے عزیز" سمیت مختلف نمائشوں کا انعقاد شامل ہے۔ اس حوالے سے ان کے کام ان کی فنکارانہ اور تنقیدی صلاحیتوں کو بخوبی ظاہر کرتے ہیں۔

سینما

احمدرضا بیضایی نے سینما کی دنیا میں بھی قدم رکھا ہے اور عالمی سینما کی تاریخ میں تیار ہونے والے کاموں کا تجزیہ اور غور و فکر کیا ہے۔ انہوں نے اس میدان کے کارکنوں کے ساتھ تعاون کیا ہے اور اس حوالے سے نوٹس شائع کیے ہیں۔

گرفتاری

بہمن ماہ 1403 ہجری شمسی میں، ڈاکٹر بیضایی کی استنبول، ترکی میں گرفتاری اور حراست کی خبر نے میڈیا اور ثقافتی کارکنوں میں احتجاج اور غم کی لہر دوڑا دی۔ اب تک ترک فریق کی جانب سے ان کی گرفتاری کی وجوہات اور حالات کے بارے میں کوئی واضح وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اس مسئلے نے ملک کے علمی اور یونیورسٹی کے حلقوں میں سنگین خدشات پیدا کیے ہیں، اور ثقافتی، سماجی اور میڈیا کے کارکن وزارت خارجہ کی جانب سے ڈاکٹر بیضایی کی رہائی اور ان کی وطن واپسی کے اقدامات کے منتظر ہیں[1].

ردعمل

ڈاکٹر احمدرضا بیضایی کی رہائی کے مطالبے کے لیے #ڈاکٹر_بیضایی_کی_رہائی کے ہیش ٹیگ کے تحت ایک مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس مہم کے دستخط کنندگان نے اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ سے ڈاکٹر بیضایی کی فوری رہائی اور ان کی صورتحال کی وضاحت کا مطالبہ کیا ہے[2].

حجت الاسلام والمسلمین محسنی اژه‌ای، چیف جسٹس نے بھی سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں ڈاکٹر بیضایی کی مسلسل حراست کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں ضروری پیروی پر زور دیا ہے[3]۔

علی اکبر ولایتی، آزاد اسلامی یونیورسٹی کے بانی بورڈ کے چیئرمین نے بھی زور دیا کہ ایران نے ہمیشہ ترکی کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور دونوں فریقین کے لیے قابل قبول منطق اور قوانین پر مبنی تعلقات پر زور دیا ہے، لیکن ایک یونیورسٹی کے استاد کی گرفتاری جیسے اقدامات قانون اور منطقی تعلقات کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزارت خارجہ کے عہدیداروں سے ڈاکٹر بیضایی کی رہائی کے لیے پیروی بڑھانے کی درخواست کی ہے[4].

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

ماخذ