مندرجات کا رخ کریں

"علی صیاد شیرازی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
« {{شخصیت معلومات خانہ | عنوان = علی صیاد شیرازی | تصویر = علی صیاد شیرازی.jpg | نام = علی صیاد شیرازی | دیگر نام = امیر سپہبد شہید علی صیاد شیرازی | پیدائش کا سال = ۱۳۲۳ ش | تاریخ پیدائش = | مقام پیدائش = ایران، کبودگنبد، درگز | وفات کا سال = ۱۳۷۸ ش | تاریخ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 99: سطر 99:


صیاد شیرازی کے نمایاں ترین فوجی کرداروں میں سے ایک مرداد ۱۳۶۷ ش میں [[مرصاد آپریشن|مرصاد]] آپریشن کی کمان تھی، جو مجاہدین خلق تنظیم (منافقین) کی افواج کے خلاف کیا گیا۔ منافقین کی تنظیم کی جانب سے بعثی عراق کی فوج کی حمایت سے فروغ جاویدان آپریشن شروع کیے جانے کے بعد صیاد شیرازی کو کرمانشاہ کے علاقے میں روانہ کیا گیا۔ انہوں نے فوج، سپاہ اور عوامی دستوں کے درمیان مربوط کارروائی کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے منافقین کے حملے کو چار زبر کے علاقے میں روک دیا۔ اس کارروائی میں فوجی یونٹوں نے حملہ آور ہیلی کاپٹروں اور زمینی دستوں کے ذریعے منافقین کے فوجی دستوں کو تباہ کردیا اور ان کی کارروائی کو مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ منافقین کی کارروائی کی شکست میں صیاد شیرازی کے کردار کے باعث اس تنظیم کے دل میں ان کے خلاف گہری دشمنی پیدا ہوگئی۔
صیاد شیرازی کے نمایاں ترین فوجی کرداروں میں سے ایک مرداد ۱۳۶۷ ش میں [[مرصاد آپریشن|مرصاد]] آپریشن کی کمان تھی، جو مجاہدین خلق تنظیم (منافقین) کی افواج کے خلاف کیا گیا۔ منافقین کی تنظیم کی جانب سے بعثی عراق کی فوج کی حمایت سے فروغ جاویدان آپریشن شروع کیے جانے کے بعد صیاد شیرازی کو کرمانشاہ کے علاقے میں روانہ کیا گیا۔ انہوں نے فوج، سپاہ اور عوامی دستوں کے درمیان مربوط کارروائی کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے منافقین کے حملے کو چار زبر کے علاقے میں روک دیا۔ اس کارروائی میں فوجی یونٹوں نے حملہ آور ہیلی کاپٹروں اور زمینی دستوں کے ذریعے منافقین کے فوجی دستوں کو تباہ کردیا اور ان کی کارروائی کو مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ منافقین کی کارروائی کی شکست میں صیاد شیرازی کے کردار کے باعث اس تنظیم کے دل میں ان کے خلاف گہری دشمنی پیدا ہوگئی۔
== جنگ کے بعد کی ذمہ داریاں ==
ایران عراق جنگ کے اختتام کے بعد صیاد شیرازی نے مختلف فوجی ذمہ داریوں میں اپنی خدمت جاری رکھی۔ سنہ ۱۳۶۸ ش میں انہیں مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے معائنہ کے نائب کے طور پر مقرر کیا گیا اور سنہ ۱۳۷۲ ش میں انہوں نے مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ کے نائب کی ذمہ داری سنبھالی۔ ۶ فروردین ۱۳۷۸ ش کو [[غدیر|عید غدیر خم]] کے موقع پر کمانڈر انچیف کے حکم سے انہیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔
== ہیئتِ معارفِ جنگ کا قیام ==
جنگ کے بعد صیاد شیرازی کی اہم ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں میں سے ایک دفاع مقدس کے تجربات کو فوجی دستوں کی نئی نسل تک منتقل کرنا تھا۔ انہوں نے سنہ ۱۳۷۳ ش میں امام علی (علیہ السلام) فوجی یونیورسٹی میں معارفِ جنگ کا مضمون پڑھانا شروع کیا اور سنہ ۱۳۷۴ ش میں کمانڈر انچیف کی منظوری سے شہید صیاد شیرازی نے ہیئتِ معارفِ جنگ کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کا مقصد دفاع مقدس کے کمانڈروں کے تجربات کو محفوظ کرنا اور مسلح افواج کی آنے والی نسلوں کو تربیت دینا تھا۔
== شہادت ==
امیر میجر جنرل علی صیاد شیرازی ۲۱ فروردین ۱۳۷۸ ش کی صبح تہران میں اپنے گھر سے نکلتے وقت مجاہدین خلق تنظیم (منافقین) کے عناصر کے قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے اور [[شہادت]] سے سرفراز ہوئے۔ ان کی شہادت کے بعد [[سید علی خامنہ ای]]، رہبرِ جمهوری اسلامی ایران، نے اپنے پیغام میں انہیں ’’اسلام کی فوج کے سربلند امیر، دین اور قرآن کے سچے اور فداکار سپاہی، مؤمن اور متقی فوجی‘‘ قرار دیا۔
== نظریات اور روحانی وصیت ==
صیاد شیرازی نے اپنی آخری تحریروں میں سے ایک میں فرد اور معاشرے کی کامیابی کا سب سے اہم عامل ولایت کی پابندی، شہداء کے راستے کو جاری رکھنا اور معاشرے میں روحانیت کو مضبوط کرنا قرار دیا اور مسلح افواج میں اسلامی ثقافت کے کردار پر زور دیا۔
انہوں نے لکھا تھا:
’’میں خدا کی عظیم ترین نعمت کو ولایت کی عظیم نعمت سمجھتا ہوں اور ولایت کے ساتھ تعلق میں استحکام کو ہدایت اور عاقبت بخیری کی ضمانت سمجھتا ہوں۔‘‘
== متعلقہ مضامین ==
[[اسلامی انقلابی گارڈ کور]]
[[اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج]]
[[ایران کی مجاہدین خلق تنظیم]]
[[ایران کا اسلامی انقلاب]]
[[ایران عراق جنگ]]
[[مرصاد آپریشن]]
== ماخذ ==
*[https://historydocuments.ir/?page=post&id=3901 تاریخی دستاویزات کے جائزے کا مرکز]، مضمون درج کرنے کی تاریخ: 20 فروردین 1404 ش، مضمون ملاحظہ کرنے کی تاریخ: 5 مرداد 1405 ش۔
{{ایران}}
{{شہداء}}
[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:شہداء]]
[[زمرہ:شیعہ شہداء]]
[[زمرہ:ایران]]

نسخہ بمطابق 23:14، 7 اگست 2026ء

سانچہ:شخصیت معلومات خانہ

علی صیاد شیرازی، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی بری فوج کے کمانڈر، ایران عراق جنگ کے دوران مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ اور دفاع مقدس کی کارروائیوں کے اعلیٰ کمانڈروں میں سے ایک تھے۔ وہ فوج اور سپاہ کے دستوں کو منظم کرنے میں مؤثر کردار، بالخصوص طریق القدس، فتح المبین، بیت المقدس اور مرصاد آپریشن میں اپنے کردار کے باعث معروف ہوئے۔ صیاد شیرازی کو ۲۱ فروردین ۱۳۷۸ کو مجاہدین خلق تنظیم (منافقین) کے عناصر نے تہران میں ان کی ذاتی رہائش گاہ کے سامنے دہشت گردانہ حملے میں نشانہ بنایا اور وہ شہادت سے سرفراز ہوئے۔

سوانح حیات

علی صیاد شیرازی سنہ ۱۳۲۳ ش میں صوبہ خراسان رضوی کے ضلع درگز کے تابع گاؤں کبودگنبد میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد زیاد خان ژاندارمری کے اہلکار تھے، جو بعد میں فوج میں منتقل ہوگئے۔ والد کی ملازمت کی وجہ سے صیاد شیرازی کا خاندان مختلف شہروں، جن میں مشہد، گرگان، شاہرود، آمل اور گنبد کاووس شامل ہیں، میں مقیم رہا؛ اور انہوں نے اپنا بچپن اور ابتدائی تعلیم انہی شہروں میں گزاری۔ انہوں نے سنہ ۱۳۴۲ ش میں تہران سے ڈپلومہ حاصل کیا اور مرداد ۱۳۴۳ ش میں فوج کی بری فوج کے افسران کے کالج میں داخلہ لیا۔ صیاد شیرازی نے سنہ ۱۳۴۶ ش میں توپ خانے کے دوسرے لیفٹیننٹ کے عہدے کے ساتھ افسران کے کالج سے فراغت حاصل کی اور کمانڈوز، پیراشوٹ اور توپ خانے کے خصوصی تربیتی کورس مکمل کرنے کے بعد اپنی فوجی ملازمت کا آغاز کیا۔

اسلامی انقلاب سے قبل فوجی سرگرمیاں

اصفہان میں توپ خانے کا ابتدائی کورس مکمل کرنے کے بعد امیر سپہبد علی صیاد شیرازی کو تبریز کی دوسری انفنٹری ڈویژن میں منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے ۱۰۵ ملی میٹر توپ خانے کی بیٹری کے نائب کی حیثیت سے کام کیا۔ سنہ ۱۳۴۹ ش میں اس ڈویژن کے خاتمے کے بعد انہیں کرمانشاہ کی ۸۱ ویں بکتر بند ڈویژن میں منتقل کیا گیا اور توپ خانے کی بیٹری کے کمانڈر مقرر ہوئے۔ سنہ ۱۳۵۰ ش میں انہیں انگریزی زبان کی تربیتی کلاس میں شرکت کے لیے تہران بھیجا گیا۔ سنہ ۱۳۵۱ ش میں انہوں نے عفت شجاع سے شادی کی، اور سنہ ۱۳۵۲ ش میں اپنی علمی اور فوجی صلاحیتوں کی بنا پر توپ خانے کی بیلسٹک موسمیات کے خصوصی کورس میں شرکت کے لیے امریکہ بھیجے گئے۔ انہوں نے ایرانی اور امریکی افسران کے درمیان پہلی پوزیشن حاصل کرتے ہوئے یہ کورس مکمل کیا۔ ایران واپس آنے کے بعد سنہ ۱۳۵۳ م میں انہیں اصفہان کے توپ خانے کے تربیتی مرکز منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے توپ خانے کے کالج میں استاد کی حیثیت سے بیلسٹک موسمیات، توپ خانے کی پیمائش، نقشہ خوانی اور انگریزی زبان جیسے خصوصی مضامین پڑھائے۔

اسلامی انقلاب سے قبل مذہبی اور سیاسی سرگرمیاں

صیاد شیرازی کی مذہبی روحانیت اور دینی وابستگی کی وجہ سے شاہنشاہی فوج میں ملازمت کے دوران فوج کے مذہبی اہلکاروں اور دینی کارکنوں کے ساتھ ان کے وسیع روابط قائم ہوئے۔ ان کا خیال تھا کہ فوج کے ڈھانچے کا ایک اہم حصہ، بالخصوص نوجوان افسران اور سپاہی، اسلامی انقلاب کے افکار کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ کرمانشاہ میں قیام کے دوران صیاد شیرازی نے اپنی پہلی منظم مذہبی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ انہوں نے سپاہیوں اور نچلے رینک کے فوجی اہلکاروں کے لیے اسلامی معارف کی نشستیں منعقد کرکے فوجی ماحول میں دینی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔

مذہبی تحریکوں سے تعلق

صیاد شیرازی کرمانشاہ میں بعض سپاہیوں اور مذہبی اہلکاروں کے ذریعے انجمن حجتیہ کی نشستوں سے آشنا ہوئے۔ بعد میں انہوں نے اس تعلق کے بارے میں واضح کیا کہ انجمن حجتیہ ان کے لیے زیادہ تر اسلامی معارف سے واقفیت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ تھی، اور انقلابی جدوجہد کے پھیلنے کے ساتھ انہوں نے اس تحریک سے اپنا راستہ الگ کرلیا اور امام خمینی کی قیادت میں اسلامی انقلاب کی تحریک میں شامل ہوگئے۔ اصفہان منتقل ہونے کے بعد ان کی مذہبی سرگرمیاں مزید وسیع ہوگئیں۔ وہ حوزہ علمیہ کے طلبہ کو انگریزی زبان پڑھانے کے ساتھ ساتھ قرآنی اور دینی نشستوں میں شرکت کرتے اور اسلامی آثار کا مطالعہ کرتے تھے۔

شاہنشاہی فوج کے انسدادِ جاسوسی ادارے کی نگرانی میں

صیاد شیرازی کی مذہبی سرگرمیوں اور روابط نے فوج کے انسدادِ جاسوسی ادارے کی توجہ حاصل کی۔ سنہ ۱۳۵۴ ش سے ان کے لیے ایک فائل تشکیل دی گئی اور ان کی سرگرمیوں کی نگرانی شروع کردی گئی۔ فوج کے انسدادِ جاسوسی ادارے کی رپورٹس میں انہیں ایک ’’بہت زیادہ مذہبی‘‘، ’’ملازمت کے لیے پابند‘‘ شخص اور اسلامی حلقوں سے رابطہ رکھنے والا فرد قرار دیا گیا تھا۔ بعض رپورٹس میں مذہبی نشستوں میں ان کی شرکت، اسلامی کتابوں کے مطالعے اور قیادت کی تعلیم میں نہج البلاغہ کے استعمال کا ذکر کیا گیا تھا۔

فوج میں ایک مزاحمتی مرکز کا قیام

صیاد شیرازی نے اصفہان کے توپ خانے کے تربیتی مرکز میں فوج کے بعض مذہبی افسران کے ساتھ مل کر مزاحمتی مراکز قائم کیے۔ نوجوان افسران کے درمیان خفیہ روابط کو منظم کرکے انہوں نے فوج کے ایک حصے کے اسلامی انقلاب میں شامل ہونے کی راہ ہموار کی۔ ان سے رابطہ رکھنے والے افراد میں شہید یوسف کلاہ دوز اور شہید حسن اقارب پرست کا نام لیا جاسکتا ہے۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے دہانے پر

سنہ ۱۳۵۷ ش میں عوامی احتجاجات میں شدت آنے کے ساتھ صیاد شیرازی کی انقلابی سرگرمیاں زیادہ نمایاں ہوگئیں۔ وہ پہلوی حکومت کی پالیسیوں اور فوج کی جانب سے عوام کے ساتھ کیے جانے والے برتاؤ کی مخالفت کا اظہار کرتے تھے۔ بہمن ۱۳۵۷ میں انقلابی سرگرمیوں کی وجہ سے انہیں گرفتار کر لیا گیا، لیکن اسی سال ۲۲ بہمن کو اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سرگرمیاں

ایران کا اسلامی انقلاب کامیاب ہونے کے بعد علی صیاد شیرازی نے فوج کے انقلابی افسران اور نچلے رینک کے فوجی اہلکاروں کے ایک گروہ کے ساتھ مل کر اصفہان میں فوجی دستوں کی حفاظت اور تنظیم کی ذمہ داری سنبھالی۔ اس دور میں انہوں نے فوجی مراکز، جن میں توپ خانے کا تربیتی مرکز، توپ خانے کے ۴۴ ویں اور ۵۵ ویں گروپ، فضائیہ کا شعبۂ ہوانیروز، ژاندارمری اور اصفہان کا آٹھواں شکاری اڈہ شامل تھے، کی سلامتی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ رحیم صفوی اور احمد سالک جیسے انقلابی عناصر سے ان کی واقفیت نے اصفہان میں فوج اور انقلاب کے انقلابی دستوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے میں مدد دی۔

کردستان میں سرگرمیاں

سنہ ۱۳۵۸ ش میں ملک کے مغربی علاقوں میں بدامنی اور علیحدگی پسند گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ صیاد شیرازی کو فوج اور سپاہ کے دستوں کے ہمراہ کردستان کے بحران سے نمٹنے کے لیے روانہ کیا گیا۔ انہوں نے ملک کے مغربی علاقوں کو پاک کرنے کی کارروائیوں میں مؤثر کردار ادا کیا۔ کردستان میں مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کے دوران صیاد شیرازی نے سپاہ پاسداران اور عوامی دستوں کے تعاون سے سنندج، بوکان اور اشنویہ جیسے شہروں کی آزادی میں حصہ لیا۔ اس دور میں ان کی کمانڈنگ صلاحیتوں کے باعث سنہ ۱۳۵۹ ش میں انہیں کرنل کے عہدے پر مغربی علاقوں کی کارروائیوں کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ اس ذمہ داری کے تحت انہوں نے کرمانشاہ کی ۸۱ ویں بکتر بند ڈویژن، کردستان کی ۲۸ ویں ڈویژن، قزوین کی ۱۶ ویں بکتر بند ڈویژن، ۲۳ ویں ایئر بورن اسپیشل فورسز بریگیڈ اور ملک کے مغربی علاقے کی ژاندارمری فورسز جیسے فوجی یونٹوں کی کمان سنبھالی۔

بنی صدر سے اختلاف اور ایران عراق جنگ کا آغاز

ایران عراق جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مہینوں میں صیاد شیرازی نے مغربی سرحدوں پر بعثی عراق کی فوجی نقل و حرکت کے بارے میں خبردار کیا، لیکن اس وقت کے صدر اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف ابوالحسن بنی صدر کے ساتھ اختلافِ رائے کی وجہ سے انہیں مغربی علاقوں کی کمان سے ہٹا دیا گیا۔ جنگ شروع ہونے کے بعد کچھ عرصے تک انہوں نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے مرکزی ہیڈکوارٹر میں منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے نائب کی حیثیت سے کام کیا۔ بنی صدر کے زوال اور محمد علی رجائی کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد صیاد شیرازی دوبارہ مغربی محاذ پر واپس آئے اور اس علاقے کے فوجی دستوں کی کمان سنبھال لی۔

فوج کی بری افواج کی کمان

مغربی علاقوں کی کارروائیوں میں صیاد شیرازی کی کامیابیوں کے باعث ۷ میزان ۱۳۶۰ ش کو امام خمینی کے حکم سے انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی بری افواج کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ اپنے دورِ کمان میں انہوں نے بری فوج کے ڈھانچے کی ازسرنو تعمیر کے ساتھ ساتھ فوج اور سپاہ پاسداران کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرکے دفاع مقدس کے دوران بڑے پیمانے پر مشترکہ کارروائیوں کے نفاذ کی راہ ہموار کی۔ صیاد شیرازی نے ملک کے جنوبی علاقے میں مشترکہ آپریشنل ہیڈکوارٹر قرارگاہ کربلا قائم کرکے فوج اور سپاہ کے دستوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

دفاع مقدس کی کارروائیوں میں کردار

صیاد شیرازی دفاع مقدس کے دور کی بہت سی بڑی فوجی کارروائیوں کے اہم کمانڈروں میں شمار ہوتے تھے۔ جن کارروائیوں کی منصوبہ بندی، کمان یا رہنمائی میں ان کا کردار تھا، ان میں درج ذیل شامل ہیں:

سانچہ:کالمی فہرست

ثامن الائمہ آپریشن؛ طریق القدس آپریشن؛ فتح المبین آپریشن؛ بیت المقدس آپریشن؛ رمضان آپریشن؛ مسلم بن عقیل آپریشن؛ مطلع الفجر آپریشن؛ والفجر ۱ آپریشن؛ والفجر ۲ آپریشن؛ والفجر ۳ آپریشن؛ والفجر ۴ آپریشن؛ والفجر ۸ آپریشن؛ خیبر آپریشن؛ بدر آپریشن؛ قادر آپریشن۔

صیاد شیرازی کی کمانڈنگ کی اہم ترین خصوصیات میں فوج اور سپاہ کے درمیان اتحاد پر زور دینا اور بعثی عراق کی فوج کے مقابلے میں مسلح افواج کی مشترکہ صلاحیتوں سے استفادہ کرنا شامل تھا۔

فوج کی بری افواج کی کمان سے علیحدگی

صیاد شیرازی نے مرداد ۱۳۶۵ ش میں کارروائیوں کی کمان کے طریقۂ کار اور فوج و سپاہ کے درمیان موجود ہم آہنگی کے مسائل کے بارے میں اختلافِ رائے کی وجہ سے فوج کی بری افواج کی کمان سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد امام خمینی کی منظوری اور اس وقت کے صدر سید علی خامنہ ای کی تجویز پر سنہ ۱۳۶۵ ش میں انہیں شورای عالی دفاع میں امام کے نمائندے کے طور پر مقرر کیا گیا۔ سنہ ۱۳۶۶ ش میں امام خمینی کی منظوری سے انہیں بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

مرصاد آپریشن اور منافقین کی شکست

صیاد شیرازی کے نمایاں ترین فوجی کرداروں میں سے ایک مرداد ۱۳۶۷ ش میں مرصاد آپریشن کی کمان تھی، جو مجاہدین خلق تنظیم (منافقین) کی افواج کے خلاف کیا گیا۔ منافقین کی تنظیم کی جانب سے بعثی عراق کی فوج کی حمایت سے فروغ جاویدان آپریشن شروع کیے جانے کے بعد صیاد شیرازی کو کرمانشاہ کے علاقے میں روانہ کیا گیا۔ انہوں نے فوج، سپاہ اور عوامی دستوں کے درمیان مربوط کارروائی کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے منافقین کے حملے کو چار زبر کے علاقے میں روک دیا۔ اس کارروائی میں فوجی یونٹوں نے حملہ آور ہیلی کاپٹروں اور زمینی دستوں کے ذریعے منافقین کے فوجی دستوں کو تباہ کردیا اور ان کی کارروائی کو مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ منافقین کی کارروائی کی شکست میں صیاد شیرازی کے کردار کے باعث اس تنظیم کے دل میں ان کے خلاف گہری دشمنی پیدا ہوگئی۔

جنگ کے بعد کی ذمہ داریاں

ایران عراق جنگ کے اختتام کے بعد صیاد شیرازی نے مختلف فوجی ذمہ داریوں میں اپنی خدمت جاری رکھی۔ سنہ ۱۳۶۸ ش میں انہیں مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے معائنہ کے نائب کے طور پر مقرر کیا گیا اور سنہ ۱۳۷۲ ش میں انہوں نے مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ کے نائب کی ذمہ داری سنبھالی۔ ۶ فروردین ۱۳۷۸ ش کو عید غدیر خم کے موقع پر کمانڈر انچیف کے حکم سے انہیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

ہیئتِ معارفِ جنگ کا قیام

جنگ کے بعد صیاد شیرازی کی اہم ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں میں سے ایک دفاع مقدس کے تجربات کو فوجی دستوں کی نئی نسل تک منتقل کرنا تھا۔ انہوں نے سنہ ۱۳۷۳ ش میں امام علی (علیہ السلام) فوجی یونیورسٹی میں معارفِ جنگ کا مضمون پڑھانا شروع کیا اور سنہ ۱۳۷۴ ش میں کمانڈر انچیف کی منظوری سے شہید صیاد شیرازی نے ہیئتِ معارفِ جنگ کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کا مقصد دفاع مقدس کے کمانڈروں کے تجربات کو محفوظ کرنا اور مسلح افواج کی آنے والی نسلوں کو تربیت دینا تھا۔

شہادت

امیر میجر جنرل علی صیاد شیرازی ۲۱ فروردین ۱۳۷۸ ش کی صبح تہران میں اپنے گھر سے نکلتے وقت مجاہدین خلق تنظیم (منافقین) کے عناصر کے قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے اور شہادت سے سرفراز ہوئے۔ ان کی شہادت کے بعد سید علی خامنہ ای، رہبرِ جمهوری اسلامی ایران، نے اپنے پیغام میں انہیں ’’اسلام کی فوج کے سربلند امیر، دین اور قرآن کے سچے اور فداکار سپاہی، مؤمن اور متقی فوجی‘‘ قرار دیا۔

نظریات اور روحانی وصیت

صیاد شیرازی نے اپنی آخری تحریروں میں سے ایک میں فرد اور معاشرے کی کامیابی کا سب سے اہم عامل ولایت کی پابندی، شہداء کے راستے کو جاری رکھنا اور معاشرے میں روحانیت کو مضبوط کرنا قرار دیا اور مسلح افواج میں اسلامی ثقافت کے کردار پر زور دیا۔

انہوں نے لکھا تھا:

’’میں خدا کی عظیم ترین نعمت کو ولایت کی عظیم نعمت سمجھتا ہوں اور ولایت کے ساتھ تعلق میں استحکام کو ہدایت اور عاقبت بخیری کی ضمانت سمجھتا ہوں۔‘‘

متعلقہ مضامین

اسلامی انقلابی گارڈ کور اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج ایران کی مجاہدین خلق تنظیم ایران کا اسلامی انقلاب ایران عراق جنگ مرصاد آپریشن

ماخذ

سانچہ:شہداء