مندرجات کا رخ کریں

"احمدرضا بیضایی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
 
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:احمدرضا بیضایی کو احمدرضا بیضایی کی جانب منتقل کیا
 
(ایک دوسرے صارف 5 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{جعبہ معلومات شخصیت
{{Infobox person
| عنوان = احمدرضا بیضایی
| title = احمدرضا بیضایی
| تصویر = احمدرضا بیضایی.jpg
| image = احمدرضا بیضایی.jpg
| نام = احمدرضا بیضایی
| name = احمدرضا بیضایی
| نام‌های دیگر =  
| other names =  
| سال تولد = 1357 ہجری شمسی
| brith year = 1979 ء
| تاریخ تولد =  
| brith date =
| محل تولد = تبریز
| birth place = تبریز، ایران
| سال درگذشت =  
| death year =  
| تاریخ درگذشت =
| death dat 
| محل درگذشت =  
| death place =
| استادان =  
| teachers =  
| شاگردان =  
| students =  
| دین = [[اسلام]]
| religion = [[اسلام]]  
| مذهب = [[مذهب شیعہ|شیعہ]]
| faith = [[شیعہ]]
| آثار = امریکائے عزیز
| works = امریکائے عزیز
| فعالیت‌ها = {{فہرست جعبہ افقی|استاد جامعہ|کاریکاتوریست|مصنف}}
| known for = استاد جامعہ، کاریکاتوریست، مصنف}}
| وبگاه =
}}
 
'''احمدرضا بیضایی'''، ایک ایرانی جامعہ کے استاد اور سیاسی و ثقافتی تجزیہ کار ہیں جو تاریخ اور سیاست کے حوالے سے برسوں کی مطالعے کی بنا پر [[محور مقاومت|جبهہ مقاومت]] کے مجاہدین اور تجزیہ کاروں میں شمار ہوتے ہیں اور تبریز کے مختلف محافل میں تقریریں کرتے رہے ہیں۔ بہمن ماہ 1403 ہجری شمسی میں، ڈاکٹر بیضایی کی [[استنبول]]، [[ترکیہ]] میں گرفتاری اور حراست کی خبر نے میڈیا اور ثقافتی کارکنوں میں احتجاج اور غم کی لہر دوڑا دی۔
 


'''احمدرضا بیضایی'''، ایک [[ایران|ایرانی]] جامعہ کے استاد اور سیاسی و ثقافتی تجزیہ کار ہیں جو تاریخ اور سیاست کے حوالے سے برسوں کی مطالعے کی بنا پر [[مقاومتی بلاک|جبهہ مقاومت]] کے مجاہدین اور تجزیہ کاروں میں شمار ہوتے ہیں اور تبریز کے مختلف محافل میں تقریریں کرتے رہے ہیں۔ بہمن ماہ 1403 ہجری شمسی میں، ڈاکٹر بیضایی کی استنبول، [[ترکی|ترکی]] میں گرفتاری اور حراست کی خبر نے میڈیا اور ثقافتی کارکنوں میں احتجاج اور غم کی لہر دوڑا دی۔


==سوانح حیات==
==سوانح حیات==
احمدرضا بیضایی تبریز میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی تعلیم حیواناتی علوم اور طبی علوم کے شعبوں میں جاری رکھی۔ وہ تبریز یونیورسٹی کے استاد کے طور پر "فزیالوجی" اور "ایناتومی" جیسے اہم مضامین پڑھاتے ہیں اور ان شعبوں کے طلباء کے لیے ایک جانے پہچانے چہرے ہیں۔ وہ شہید مدافع حرم محمود رضا بیضایی کے بھائی ہیں۔
احمدرضا بیضایی تبریز میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی تعلیم حیواناتی علوم اور طبی علوم کے شعبوں میں جاری رکھی۔ وہ تبریز یونیورسٹی کے استاد کے طور پر "فزیالوجی" اور "ایناتومی" جیسے اہم مضامین پڑھاتے ہیں اور ان شعبوں کے طلباء کے لیے ایک جانے پہچانے چہرے ہیں۔ وہ شہید مدافع حرم محمود رضا بیضایی کے بھائی ہیں۔


==ثقافتی سرگرمیاں==
==ثقافتی سرگرمیاں==
بیضایی بطور ثقافتی اور سماجی کارکن، تبریز کی مسجد شہیدی میں ادبی نشستیں اور کتابوں کے تنقیدی جائزے منعقد کرتے رہے ہیں اور نوجوانوں اور نوعمر بچوں کی موجودگی میں مطالعے کی ثقافت اور آزاد خیالی کو فروغ دیا ہے۔
بیضایی بطور ثقافتی اور سماجی کارکن، تبریز کی [[مسجد]] شہیدی میں ادبی نشستیں اور کتابوں کے تنقیدی جائزے منعقد کرتے رہے ہیں اور نوجوانوں اور نوعمر بچوں کی موجودگی میں مطالعے کی ثقافت اور آزاد خیالی کو فروغ دیا ہے۔
 
 


==فن اور کاریکچر==
==فن اور کاریکچر==
وہ ایران کے ماہر اور مشہور کاریکاتوریستوں میں سے ایک ہیں جن کے فنکارانہ ریکارڈ میں "امریکائے عزیز" سمیت مختلف نمائشوں کا انعقاد شامل ہے۔ اس حوالے سے ان کے کام ان کی فنکارانہ اور تنقیدی صلاحیتوں کو بخوبی ظاہر کرتے ہیں۔
وہ [[ایران]] کے ماہر اور مشہور کاریکاتوریستوں میں سے ایک ہیں جن کے فنکارانہ ریکارڈ میں "امریکائے عزیز" سمیت مختلف نمائشوں کا انعقاد شامل ہے۔ اس حوالے سے ان کے کام ان کی فنکارانہ اور تنقیدی صلاحیتوں کو بخوبی ظاہر کرتے ہیں۔
 
 


==سینما==
==سینما==
احمدرضا بیضایی نے سینما کی دنیا میں بھی قدم رکھا ہے اور عالمی سینما کی تاریخ میں تیار ہونے والے کاموں کا تجزیہ اور غور و فکر کیا ہے۔ انہوں نے اس میدان کے کارکنوں کے ساتھ تعاون کیا ہے اور اس حوالے سے نوٹس شائع کیے ہیں۔
احمدرضا بیضایی نے سینما کی دنیا میں بھی قدم رکھا ہے اور عالمی سینما کی تاریخ میں تیار ہونے والے کاموں کا تجزیہ اور غور و فکر کیا ہے۔ انہوں نے اس میدان کے کارکنوں کے ساتھ تعاون کیا ہے اور اس حوالے سے نوٹس شائع کیے ہیں۔


==گرفتاری==
==گرفتاری==
[[فائل:احمدرضا بیضایی 1.jpg|بے فریم|دائیں|]]
[[فائل:احمدرضا بیضایی 1.jpg|تصغیر|بائیں|]]
 
بہمن ماہ 1403 ہجری شمسی میں، ڈاکٹر بیضایی کی [[استنبول]]، [[ترکیہ]] میں گرفتاری اور حراست کی خبر نے میڈیا اور ثقافتی کارکنوں میں احتجاج اور غم کی لہر دوڑا دی۔ اب تک ترک فریق کی جانب سے ان کی گرفتاری کی وجوہات اور حالات کے بارے میں کوئی واضح وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اس مسئلے نے ملک کے علمی اور یونیورسٹی کے حلقوں میں سنگین خدشات پیدا کیے ہیں، اور ثقافتی، سماجی اور میڈیا کے کارکن وزارت خارجہ کی جانب سے ڈاکٹر بیضایی کی رہائی اور ان کی وطن واپسی کے اقدامات کے منتظر ہیں<ref>[https://anaj.ir/news/100560/ "احمدرضا بیضایی" ترکیہ میں گرفتار ہونے والے استاد کون ہیں؟، خبری تجزیاتی ویب سائٹ آناج]</ref>.
 


بہمن ماہ 1403 ہجری شمسی میں، ڈاکٹر بیضایی کی استنبول، [[ترکی]] میں گرفتاری اور حراست کی خبر نے میڈیا اور ثقافتی کارکنوں میں احتجاج اور غم کی لہر دوڑا دی۔ اب تک ترک فریق کی جانب سے ان کی گرفتاری کی وجوہات اور حالات کے بارے میں کوئی واضح وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اس مسئلے نے ملک کے علمی اور یونیورسٹی کے حلقوں میں سنگین خدشات پیدا کیے ہیں، اور ثقافتی، سماجی اور میڈیا کے کارکن وزارت خارجہ کی جانب سے ڈاکٹر بیضایی کی رہائی اور ان کی وطن واپسی کے اقدامات کے منتظر ہیں<ref>[https://anaj.ir/news/100560/ "احمدرضا بیضایی" ترکیہ میں گرفتار ہونے والے استاد کون ہیں؟، خبری تجزیاتی ویب سائٹ آناج]</ref>.


==ردعمل==
==ردعمل==
ڈاکٹر احمدرضا بیضایی کی رہائی کے مطالبے کے لیے #ڈاکٹر_بیضایی_کی_رہائی کے ہیش ٹیگ کے تحت ایک مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس مہم کے دستخط کنندگان نے [[ایران|اسلامی جمہوریہ ایران]] کی وزارت خارجہ سے ڈاکٹر بیضایی کی فوری رہائی اور ان کی صورتحال کی وضاحت کا مطالبہ کیا ہے<ref>[https://www.karzar.net/209261ڈاکٹر احمدرضا بیضایی کی رہائی کے لیے اقدام کی درخواست، کارزار ویب سائٹ]</ref>.
ڈاکٹر احمدرضا بیضایی کی رہائی کے مطالبے کے لیے #ڈاکٹر_بیضایی_کی_رہائی کے ہیش ٹیگ کے تحت ایک مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس مہم کے دستخط کنندگان نے [[ایران|اسلامی جمہوریہ ایران]] کی وزارت خارجہ سے ڈاکٹر بیضایی کی فوری رہائی اور ان کی صورتحال کی وضاحت کا مطالبہ کیا ہے<ref>[https://www.karzar.net/209261ڈاکٹر احمدرضا بیضایی کی رہائی کے لیے اقدام کی درخواست، کارزار ویب سائٹ]</ref>.
[[غلامحسین محسنی اژه‌ای|حجت الاسلام والمسلمین محسنی اژه‌ای]]، چیف جسٹس نے بھی سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں ڈاکٹر بیضایی کی مسلسل حراست کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں ضروری پیروی پر زور دیا ہے<ref>[https://www.khabaronline.ir/news/2137668/%D9%88%D8%A7%DA%A9%D9%86%D8%B4-%D8%A7%DA%98%D9%87-%D8%A7%DB%8C-%D8%A8%D9%87-%D8%A7%D9%82%D8%AF%D8%A7%D9%85-%D8%AA%D8%B1%DA%A9%DB%8C%D9%87-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF%D8%B1%D8%B6%D8%A7-%D8%A8%DB%8C%D8%B6%D8%A7%DB%8C%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%AAترکیہ کے اقدام پر اژه‌ای کا ردعمل/ احمدرضا بیضایی کون ہیں؟، خبر آن لائن تجزیاتی خبر رساں ایجنسی]</ref>۔
[[علی‌اکبر ولایتی|علی اکبر ولایتی]]، آزاد اسلامی یونیورسٹی کے بانی بورڈ کے چیئرمین نے بھی زور دیا کہ ایران نے ہمیشہ [[ترکیہ]] کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور دونوں فریقین کے لیے قابل قبول منطق اور قوانین پر مبنی تعلقات پر زور دیا ہے، لیکن ایک یونیورسٹی کے استاد کی گرفتاری جیسے اقدامات قانون اور منطقی تعلقات کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزارت خارجہ کے عہدیداروں سے ڈاکٹر بیضایی کی رہائی کے لیے پیروی بڑھانے کی درخواست کی ہے<ref>[https://www.khabaronline.ir/news/2137668https://www.tasnimnews.com/fa/news/1404/01/26/3292120/%D8%A7%D9%82%D8%AF%D8%A7%D9%85-%D8%AE%D8%B5%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%87-%D8%AA%D8%B1%DA%A9%DB%8C%D9%87-%D8%AF%D8%B1-%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%AF%D8%A7%D8%B4%D8%AA-%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AF-%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%B4%DA%AF%D8%A7%D9%87-%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8Cایرانی یونیورسٹی کے استاد کی گرفتاری میں ترکیہ کا دشمنانہ اقدام، تسنیم خبر رساں ایجنسی]</ref>.


حجت الاسلام والمسلمین محسنی اژه‌ای، چیف جسٹس نے بھی سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں ڈاکٹر بیضایی کی مسلسل حراست کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں ضروری پیروی پر زور دیا ہے<ref>[https://www.khabaronline.ir/news/2137668/%D9%88%D8%A7%DA%A9%D9%86%D8%B4-%D8%A7%DA%98%D9%87-%D8%A7%DB%8C-%D8%A8%D9%87-%D8%A7%D9%82%D8%AF%D8%A7%D9%85-%D8%AA%D8%B1%DA%A9%DB%8C%D9%87-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF%D8%B1%D8%B6%D8%A7-%D8%A8%DB%8C%D8%B6%D8%A7%DB%8C%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%AAترکیہ کے اقدام پر اژه‌ای کا ردعمل/ احمدرضا بیضایی کون ہیں؟، خبر آن لائن تجزیاتی خبر رساں ایجنسی]</ref>۔


علی اکبر ولایتی، آزاد اسلامی یونیورسٹی کے بانی بورڈ کے چیئرمین نے بھی زور دیا کہ ایران نے ہمیشہ [[ترکی]] کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور دونوں فریقین کے لیے قابل قبول منطق اور قوانین پر مبنی تعلقات پر زور دیا ہے، لیکن ایک یونیورسٹی کے استاد کی گرفتاری جیسے اقدامات قانون اور منطقی تعلقات کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزارت خارجہ کے عہدیداروں سے ڈاکٹر بیضایی کی رہائی کے لیے پیروی بڑھانے کی درخواست کی ہے<ref>[https://www.khabaronline.ir/news/2137668https://www.tasnimnews.com/fa/news/1404/01/26/3292120/%D8%A7%D9%82%D8%AF%D8%A7%D9%85-%D8%AE%D8%B5%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%87-%D8%AA%D8%B1%DA%A9%DB%8C%D9%87-%D8%AF%D8%B1-%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%AF%D8%A7%D8%B4%D8%AA-%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AF-%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%B4%DA%AF%D8%A7%D9%87-%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8Cایرانی یونیورسٹی کے استاد کی گرفتاری میں ترکیہ کا دشمنانہ اقدام، تسنیم خبر رساں ایجنسی]</ref>.


==متعلقہ مضامین==
==متعلقہ مضامین==
* [[غلامحسین محسنی اژه‌ای]]
* [[ایران]]
* [[محور مقاومت]]
* [[محور مزاحمت|محور مقاومت]]
* [[ترکیہ]]
* [[ترکی]]
 
 


==حوالہ جات==
==حوالہ جات==
{{حوالہ جات}}
{{حوالہ جات}}


==ماخذ==
==ماخذ==
* [https://anaj.ir/news/100560/ "احمدرضا بیضایی" ترکیہ میں گرفتار ہونے والے استاد کون ہیں؟، خبری تجزیاتی ویب سائٹ آناج]، مضمون کی اشاعت کی تاریخ: 27 فروردین 1404 ہجری شمسی، مضمون دیکھنے کی تاریخ: 13 آبان 1404 ہجری شمسی۔
* [https://anaj.ir/news/100560/ "احمدرضا بیضایی" ترکیہ میں گرفتار ہونے والے استاد کون ہیں؟، خبری تجزیاتی ویب سائٹ آناج](زبان فارسی) مضمون کی اشاعت کی تاریخ: 16/ اپریل/2025ء، مضمون دیکھنے کی تاریخ:24/ مئی/2026ء۔


{{ایران}}
{{ایران}}
سطر 76: سطر 58:
[[زمرہ: شخصیات]]
[[زمرہ: شخصیات]]
[[زمرہ: ایران]]
[[زمرہ: ایران]]
[[fa: احمدرضا بیضایی]]

حالیہ نسخہ بمطابق 18:04، 24 مئی 2026ء

احمدرضا بیضایی
پورا ناماحمدرضا بیضایی
ذاتی معلومات
پیدائش1979 ء
پیدائش کی جگہتبریز، ایران
مذہباسلام، شیعہ
اثراتامریکائے عزیز
مناصباستاد جامعہ، کاریکاتوریست، مصنف

احمدرضا بیضایی، ایک ایرانی جامعہ کے استاد اور سیاسی و ثقافتی تجزیہ کار ہیں جو تاریخ اور سیاست کے حوالے سے برسوں کی مطالعے کی بنا پر جبهہ مقاومت کے مجاہدین اور تجزیہ کاروں میں شمار ہوتے ہیں اور تبریز کے مختلف محافل میں تقریریں کرتے رہے ہیں۔ بہمن ماہ 1403 ہجری شمسی میں، ڈاکٹر بیضایی کی استنبول، ترکی میں گرفتاری اور حراست کی خبر نے میڈیا اور ثقافتی کارکنوں میں احتجاج اور غم کی لہر دوڑا دی۔

سوانح حیات

احمدرضا بیضایی تبریز میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی تعلیم حیواناتی علوم اور طبی علوم کے شعبوں میں جاری رکھی۔ وہ تبریز یونیورسٹی کے استاد کے طور پر "فزیالوجی" اور "ایناتومی" جیسے اہم مضامین پڑھاتے ہیں اور ان شعبوں کے طلباء کے لیے ایک جانے پہچانے چہرے ہیں۔ وہ شہید مدافع حرم محمود رضا بیضایی کے بھائی ہیں۔

ثقافتی سرگرمیاں

بیضایی بطور ثقافتی اور سماجی کارکن، تبریز کی مسجد شہیدی میں ادبی نشستیں اور کتابوں کے تنقیدی جائزے منعقد کرتے رہے ہیں اور نوجوانوں اور نوعمر بچوں کی موجودگی میں مطالعے کی ثقافت اور آزاد خیالی کو فروغ دیا ہے۔

فن اور کاریکچر

وہ ایران کے ماہر اور مشہور کاریکاتوریستوں میں سے ایک ہیں جن کے فنکارانہ ریکارڈ میں "امریکائے عزیز" سمیت مختلف نمائشوں کا انعقاد شامل ہے۔ اس حوالے سے ان کے کام ان کی فنکارانہ اور تنقیدی صلاحیتوں کو بخوبی ظاہر کرتے ہیں۔

سینما

احمدرضا بیضایی نے سینما کی دنیا میں بھی قدم رکھا ہے اور عالمی سینما کی تاریخ میں تیار ہونے والے کاموں کا تجزیہ اور غور و فکر کیا ہے۔ انہوں نے اس میدان کے کارکنوں کے ساتھ تعاون کیا ہے اور اس حوالے سے نوٹس شائع کیے ہیں۔

گرفتاری

بہمن ماہ 1403 ہجری شمسی میں، ڈاکٹر بیضایی کی استنبول، ترکی میں گرفتاری اور حراست کی خبر نے میڈیا اور ثقافتی کارکنوں میں احتجاج اور غم کی لہر دوڑا دی۔ اب تک ترک فریق کی جانب سے ان کی گرفتاری کی وجوہات اور حالات کے بارے میں کوئی واضح وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اس مسئلے نے ملک کے علمی اور یونیورسٹی کے حلقوں میں سنگین خدشات پیدا کیے ہیں، اور ثقافتی، سماجی اور میڈیا کے کارکن وزارت خارجہ کی جانب سے ڈاکٹر بیضایی کی رہائی اور ان کی وطن واپسی کے اقدامات کے منتظر ہیں[1].

ردعمل

ڈاکٹر احمدرضا بیضایی کی رہائی کے مطالبے کے لیے #ڈاکٹر_بیضایی_کی_رہائی کے ہیش ٹیگ کے تحت ایک مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس مہم کے دستخط کنندگان نے اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ سے ڈاکٹر بیضایی کی فوری رہائی اور ان کی صورتحال کی وضاحت کا مطالبہ کیا ہے[2].

حجت الاسلام والمسلمین محسنی اژه‌ای، چیف جسٹس نے بھی سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں ڈاکٹر بیضایی کی مسلسل حراست کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں ضروری پیروی پر زور دیا ہے[3]۔

علی اکبر ولایتی، آزاد اسلامی یونیورسٹی کے بانی بورڈ کے چیئرمین نے بھی زور دیا کہ ایران نے ہمیشہ ترکی کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور دونوں فریقین کے لیے قابل قبول منطق اور قوانین پر مبنی تعلقات پر زور دیا ہے، لیکن ایک یونیورسٹی کے استاد کی گرفتاری جیسے اقدامات قانون اور منطقی تعلقات کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزارت خارجہ کے عہدیداروں سے ڈاکٹر بیضایی کی رہائی کے لیے پیروی بڑھانے کی درخواست کی ہے[4].

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

ماخذ