مندرجات کا رخ کریں

"مصطفی محامی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 36: سطر 36:
وہ غیر ملکی طالب علموں کے سپروائزر کی حیثیت سے سرگرم رہے ہیں اور لیول 3 اور ماسٹرز کے ساتھ ساتھ اصولی، غیر ملکی کورس میں فقہی اور تفسیر اور بیانیہ پر متعدد کتابوں کی رہنمائی اور مشاورت کرتے رہے ہیں۔
وہ غیر ملکی طالب علموں کے سپروائزر کی حیثیت سے سرگرم رہے ہیں اور لیول 3 اور ماسٹرز کے ساتھ ساتھ اصولی، غیر ملکی کورس میں فقہی اور تفسیر اور بیانیہ پر متعدد کتابوں کی رہنمائی اور مشاورت کرتے رہے ہیں۔


== نمائندۂ ولیِ فقیہ سیستان و بلوچستان کا پاکستان کے علماء اور قوم کے نام پیغامِ تشکر ==
سیستان و بلوچستان [[ایران]] میں رہبرِ انقلابِ اسلامی کے نمائندے حجت الاسلام والمسلمین مصطفیٰ محامی نے حالیہ دنوں غاصب [[اسرائیل]] اور [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کی اسلامی جمہوریہ ایران پر جارحیت کے خلاف پاکستانی علماء اور عوام کی حمایت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ایک پیغام میں شکریہ ادا کیا ہے۔
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سیستان و بلوچستان ایران میں رہبرِ انقلابِ اسلامی کے نمائندے حجت الاسلام والمسلمین مصطفیٰ محامی نے حالیہ دنوں غاصب اسرائیل اور امریکہ کی اسلامی جمہوریہ ایران پر جارحیت کے خلاف پاکستانی علماء اور عوام کی حمایت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے شکریہ اور قدردانی کی ہے۔
نمائندہ ولی فقیہ سیستان و بلوچستان کے پاکستانی علماء اور عوام کے نام پیغام کا متن درج ذیل ہے:
بسم الله الرحمٰن الرحیم
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ.
علمائے کرام، دانشورانِ عظام، ذمہ دارانِ محترم اور ملتِ عظیم، مجاہد و غیور پاکستان!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
میں اپنی جانب سے اور ملتِ مقاوم و شہید پرور ایرانِ اسلامی — بالخصوص سیستان و بلوچستان کے بہادر اور غیور عوام کی طرف سے —
ان مجرم صفت امریکی و صہیونی دشمنوں کی مسلط کردہ جنگ کے تناظر میں، آپ شریف، وفادار اور باوقار پاکستانی قوم کی ہمدردی، رفاقت اور جان نثارانہ حمایت پر، دل کی اتاہ گہرائیوں سے شکریہ اور قدردانی کرتا ہوں۔
آج جب کہ اسلام اور اقوامِ عالم کی آزادی کے کٹر دشمن — یعنی مجرمانہ امریکہ اور ناجائز صیہونی رژیم — مذاکرات کے عین مرحلے میں ایران پر ایک غیر منصفانہ اور وحشیانہ جنگ مسلط کیے ہوئے ہیں، آپ کا ہمارے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہمارے لیے حوصلے، عزم اور قلبی قوت کا باعث ہے۔
دشمنانِ اسلام و انسانیت نے اپنی درندگی میں حدیں پار کرتے ہوئے نہ صرف انقلابِ اسلامی کے عظیم رہبر کو شہادت سے سرفراز کیا، بلکہ ہمارے دلیر جرنیلوں، مخلص خدمت گزاروں، معصوم بچوں اور دیگر عزیز شہریوں کو بھی شہید کر کے پوری قوم کو ایک عظیم غم میں مبتلا کر دیا ہے۔
لیکن اس کے باوجود ہم نے اس جارحیت کے مقابلے میں اپنی شناخت، آزادی، علاقائی سالمیت اور اپنے اعلیٰ دینی مقاصد کا پوری قوت سے دفاع کیا ہے۔ ہمارا یہ دفاع نہ صرف جائز اور معقول ہے بلکہ بین الاقوامی اصولوں اور کھلی حقانیت کے عین مطابق ہے۔
اگرچہ اس جنگ میں ہم مظلوم ٹھہرے ہیں، لیکن خداوندِ متعال کے اس فرمان پر یقین رکھتے ہوئے کہ «وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ» (کمزوری نہ دکھاؤ، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے)، ہم پوری استقامت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں — اور آج برتری ہمارے ہاتھ میں ہے۔
دشمن کے وہ امریکی جنگی بحری جہاز، جو اس کی بحری طاقت کی علامت سمجھے جاتے تھے، نشانہ بننے کے بعد میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز — جو ان کی توانائی کی معیشت کی شہ رگ ہے —
آج ہمارے کنٹرول میں ہے۔ ان کے جدید ترین طیارے تباہ ہو چکے ہیں، اور ان کا مصنوعی رعب و دبدبہ زمین بوس ہو گیا ہے۔ ان کے فوجی اور معاشی ڈھانچے ہماری زد میں ہیں،
اور ان کے انتہائی جدید دفاعی نظام ہمارے مجاہدین کے ایمان اور بصیرت کے سامنے بے بس ہو کر رہ گئے ہیں۔ دشمن آج اسی دلدل میں دھنس چکا ہے جو اس نے خود اپنے لیے کھودی تھی۔
اے با بصیرت علماء! اے دلیر حکمرانو! اے صاحبانِ دانش اور جامعات کے اساتذہ! اے بیدار ضمیر ہنرمندو! اور اے میرے عزیز پاکستانی بھائیو اور بہنو!
جس طرح امام حسینؑ ہر سال اربعین کے موقع پر ایران و پاکستان کی دو عظیم قوموں کے دلوں کو محبت اور عقیدت کے رشتے میں جوڑ دیتے ہیں، اسی طرح آج بھی مکتبِ حسینی ہمیں دورِ حاضر کے یزیدی عناصر کے مقابل لا کھڑا کرتا ہے۔
ہمارا راستہ وہی ہے جو ہمارے شہید رہبر، حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کا تھا، جنہوں نے اپنے عظیم شہید جد کی سنت پر چلتے ہوئے «مثلی لا یبایع مثل یزید» (میرے جیسا شخص یزید جیسے کی بیعت نہیں کرتا) کا نعرہ بلند کیا۔ یہی وہ مکتب ہے
جس نے ہمیں سکھایا کہ ظلم کے سامنے ڈٹ جانا ہے اور ذلت کو ہرگز قبول نہیں کرنا۔ اور آپ نے اپنی حمایت سے ثابت کر دیا ہے کہ آپ اس راہ میں ہمارے سچے ساتھی اور ہم آواز ہیں۔
ایک بار پھر، دل کی گہرائیوں سے — خصوصاً ہمارے عزیز رہبر کی شہادت اور دشمن کے وحشیانہ حملوں کے موقع پر — آپ کی بھرپور حمایت اور خلوص پر مبنی ہمدردی پر آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ہمیں امید ہے کہ تمام مسلمانوں اور دنیا کے آزاد انسانوں کے درمیان مقاومت اور مقدس اتحاد کے سائے میں، ہم اس دن کے منتظر رہیں گے جب حضرت صاحب العصر (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی ولایتِ عظمیٰ کا ظہور ہوگا۔ ان شاء اللہ بمنّہ و کرمہ۔
وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ (اور ہم چاہتے ہیں کہ ان لوگوں پر احسان کریں جو زمین میں کمزور کر دیے گئے، اور انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں وارث بنا دیں۔)
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مصطفیٰ محامی؛ نمائندہ ولیِ فقیہ (سیستان و بلوچستان)
۱۶ شوال ۱۴۴۷ ہجری قمری (مطابق ۴ اپریل ۲۰۲۶ء)<ref>[https://ur.hawzahnews.com/news/416480/%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%AF%DB%81-%D9%88%D9%84%DB%8C-%D9%81%D9%82%DB%8C%DB%81-%D8%B3%DB%8C%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%88-%D8%A8%D9%84%D9%88%DA%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1-%D8%A7%D9%88%D8%B1 نمائندۂ ولیِ فقیہ سیستان و بلوچستان کا پاکستان کے علماء اور قوم کے نام پیغامِ تشکر]- شائع شدہ از: 15 اپریل 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 اپریل 2026ء</ref>۔
== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
{{حوالہ جات}}

نسخہ بمطابق 16:41، 16 اپريل 2026ء

مصطفی محامی
پورا ناممصطفی محامی
ذاتی معلومات
پیدائش کی جگہمشہد
اساتذہ
مذہباسلام، شیعہ
اثرات
  • اسلامی فکر میں حج
  • حج سفری آداب نصابی کتاب
  • حج کے سفر کے آداب
مناصب
  • عالمی اسمبلی برائے تقریب مذاهب اسلامی کی سپریم کونسل کے رکن
  • صوبہ سیستان و بلوچستان میں فقیہ سرپرست کا نمائندہ
  • امام جمعہ زاہدان

مصطفی محامی ایک ہیں صوبہ سیستان و بلوچستان میں فقیہ سرپرست کا نمائندہ اور زاہدان شہر کے امام جمعہ ہیں۔ وہ عالمی اسمبلی برائے تقریب مذاهب اسلامی کی سپریم کونسل کے رکن ہیں۔

سوانح عمری

وہ 1965 میں مشہد میں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن سے ہی اسکول گئے اور قرآن اور فارسی ادب سیکھنے کے بعد دوسری جماعت میں داخل ہوئے۔

چوتھی جماعت مکمل کرنے کے بعد وہ ایک سال تک ابتدائی اسکول میں تعلیم حاصل کرنے میں ناکام رہے لیکن اس دوران انہوں نے اپنے والد کے ساتھ عربی ادب اور فقہ (عروة الوثقی) کی تعلیم حاصل کی اور 1976 میں حوزه علمیہ میں داخل ہو کر حوزه علمیہ کی سطح پر کورسز کیے۔ [1]

اساتذه

مکاسب مرحوم آیت اللہ ستودہ اور کفایه کے ساتھ آیت اللہ سید حسین شمس اور آیت اللہ محقق داماد کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کی اور اب 1981 سے آیت اللہ واحد خراسانی کے ساتھ خارج اصول فقه رہے ہیں۔

انہوں نے تفسیر کے دور کے آغاز سے ہی قرآن مجید کی تفسیر اور حفظ کی تعلیم حاصل کی، لیکن اس عمل کا عروج قم میں ہے اور آیت اللہ مشکینی کی تفسیر میں شرکت کرکے، اور پھر آیت اللہ جوادی آملی کی تفسیر کے سبق کے آغاز کے ساتھ۔

یہ سلسلہ 1981 کے آخر تک جاری رہا اور اس کے ساتھ انفرادی اور اجتماعی طور پر قرآن مجید کی تحقیق بھی ہوئی اور بالآخر قرآن ی ثقافت اور نالج ولیج کی تحقیق میں رہنمائی کے لیے ایک تشریحی گروپ تشکیل دیا گیا۔

سرگرمیاں

1991 سے 1994 تک تین سال تک سیستان اور بلوچستان میں ثقافتی اور سماجی کاموں میں مصروف رہے اور بلوچستان کے امور میں رہبر اعلیٰ کا نمائندہ دفتر قائم کرکے ساراوان شہر کی ذمہ داری قبول کی۔ اور نائب سٹی امور کے عہدے پر براجمان رہتے ہوئے اور اس نائب سیاسی و سماجی امور کے علاوہ زاہدان میں بلوچستان کے امور میں سپریم لیڈر کے نمائندہ دفتر پر بھی قابض ہیں۔

قم واپس آنے کے بعد وہ تعلیمی و تحقیقی امور اور تعلیمی و تحقیقی انتظام میں زیادہ مشغول رہے، نیز مکاسب، کفایہ، بدایه اورنهایه الحکمه، پہلے حلقات ، شهید صدر کے دوسرے اور تیسرے حلقے، تعلیمی اور موضوعاتی تفسیر، فقہ کے ساتھ فقہ مقارن میں بھی مشغول رہے۔

وہ غیر ملکی طالب علموں کے سپروائزر کی حیثیت سے سرگرم رہے ہیں اور لیول 3 اور ماسٹرز کے ساتھ ساتھ اصولی، غیر ملکی کورس میں فقہی اور تفسیر اور بیانیہ پر متعدد کتابوں کی رہنمائی اور مشاورت کرتے رہے ہیں۔

نمائندۂ ولیِ فقیہ سیستان و بلوچستان کا پاکستان کے علماء اور قوم کے نام پیغامِ تشکر

سیستان و بلوچستان ایران میں رہبرِ انقلابِ اسلامی کے نمائندے حجت الاسلام والمسلمین مصطفیٰ محامی نے حالیہ دنوں غاصب اسرائیل اور امریکہ کی اسلامی جمہوریہ ایران پر جارحیت کے خلاف پاکستانی علماء اور عوام کی حمایت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ایک پیغام میں شکریہ ادا کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سیستان و بلوچستان ایران میں رہبرِ انقلابِ اسلامی کے نمائندے حجت الاسلام والمسلمین مصطفیٰ محامی نے حالیہ دنوں غاصب اسرائیل اور امریکہ کی اسلامی جمہوریہ ایران پر جارحیت کے خلاف پاکستانی علماء اور عوام کی حمایت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے شکریہ اور قدردانی کی ہے۔

نمائندہ ولی فقیہ سیستان و بلوچستان کے پاکستانی علماء اور عوام کے نام پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم الله الرحمٰن الرحیم

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ.

علمائے کرام، دانشورانِ عظام، ذمہ دارانِ محترم اور ملتِ عظیم، مجاہد و غیور پاکستان!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

میں اپنی جانب سے اور ملتِ مقاوم و شہید پرور ایرانِ اسلامی — بالخصوص سیستان و بلوچستان کے بہادر اور غیور عوام کی طرف سے —

ان مجرم صفت امریکی و صہیونی دشمنوں کی مسلط کردہ جنگ کے تناظر میں، آپ شریف، وفادار اور باوقار پاکستانی قوم کی ہمدردی، رفاقت اور جان نثارانہ حمایت پر، دل کی اتاہ گہرائیوں سے شکریہ اور قدردانی کرتا ہوں۔

آج جب کہ اسلام اور اقوامِ عالم کی آزادی کے کٹر دشمن — یعنی مجرمانہ امریکہ اور ناجائز صیہونی رژیم — مذاکرات کے عین مرحلے میں ایران پر ایک غیر منصفانہ اور وحشیانہ جنگ مسلط کیے ہوئے ہیں، آپ کا ہمارے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہمارے لیے حوصلے، عزم اور قلبی قوت کا باعث ہے۔

دشمنانِ اسلام و انسانیت نے اپنی درندگی میں حدیں پار کرتے ہوئے نہ صرف انقلابِ اسلامی کے عظیم رہبر کو شہادت سے سرفراز کیا، بلکہ ہمارے دلیر جرنیلوں، مخلص خدمت گزاروں، معصوم بچوں اور دیگر عزیز شہریوں کو بھی شہید کر کے پوری قوم کو ایک عظیم غم میں مبتلا کر دیا ہے۔

لیکن اس کے باوجود ہم نے اس جارحیت کے مقابلے میں اپنی شناخت، آزادی، علاقائی سالمیت اور اپنے اعلیٰ دینی مقاصد کا پوری قوت سے دفاع کیا ہے۔ ہمارا یہ دفاع نہ صرف جائز اور معقول ہے بلکہ بین الاقوامی اصولوں اور کھلی حقانیت کے عین مطابق ہے۔

اگرچہ اس جنگ میں ہم مظلوم ٹھہرے ہیں، لیکن خداوندِ متعال کے اس فرمان پر یقین رکھتے ہوئے کہ «وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ» (کمزوری نہ دکھاؤ، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے)، ہم پوری استقامت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں — اور آج برتری ہمارے ہاتھ میں ہے۔

دشمن کے وہ امریکی جنگی بحری جہاز، جو اس کی بحری طاقت کی علامت سمجھے جاتے تھے، نشانہ بننے کے بعد میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز — جو ان کی توانائی کی معیشت کی شہ رگ ہے —

آج ہمارے کنٹرول میں ہے۔ ان کے جدید ترین طیارے تباہ ہو چکے ہیں، اور ان کا مصنوعی رعب و دبدبہ زمین بوس ہو گیا ہے۔ ان کے فوجی اور معاشی ڈھانچے ہماری زد میں ہیں،

اور ان کے انتہائی جدید دفاعی نظام ہمارے مجاہدین کے ایمان اور بصیرت کے سامنے بے بس ہو کر رہ گئے ہیں۔ دشمن آج اسی دلدل میں دھنس چکا ہے جو اس نے خود اپنے لیے کھودی تھی۔

اے با بصیرت علماء! اے دلیر حکمرانو! اے صاحبانِ دانش اور جامعات کے اساتذہ! اے بیدار ضمیر ہنرمندو! اور اے میرے عزیز پاکستانی بھائیو اور بہنو!

جس طرح امام حسینؑ ہر سال اربعین کے موقع پر ایران و پاکستان کی دو عظیم قوموں کے دلوں کو محبت اور عقیدت کے رشتے میں جوڑ دیتے ہیں، اسی طرح آج بھی مکتبِ حسینی ہمیں دورِ حاضر کے یزیدی عناصر کے مقابل لا کھڑا کرتا ہے۔

ہمارا راستہ وہی ہے جو ہمارے شہید رہبر، حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کا تھا، جنہوں نے اپنے عظیم شہید جد کی سنت پر چلتے ہوئے «مثلی لا یبایع مثل یزید» (میرے جیسا شخص یزید جیسے کی بیعت نہیں کرتا) کا نعرہ بلند کیا۔ یہی وہ مکتب ہے

جس نے ہمیں سکھایا کہ ظلم کے سامنے ڈٹ جانا ہے اور ذلت کو ہرگز قبول نہیں کرنا۔ اور آپ نے اپنی حمایت سے ثابت کر دیا ہے کہ آپ اس راہ میں ہمارے سچے ساتھی اور ہم آواز ہیں۔

ایک بار پھر، دل کی گہرائیوں سے — خصوصاً ہمارے عزیز رہبر کی شہادت اور دشمن کے وحشیانہ حملوں کے موقع پر — آپ کی بھرپور حمایت اور خلوص پر مبنی ہمدردی پر آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ہمیں امید ہے کہ تمام مسلمانوں اور دنیا کے آزاد انسانوں کے درمیان مقاومت اور مقدس اتحاد کے سائے میں، ہم اس دن کے منتظر رہیں گے جب حضرت صاحب العصر (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی ولایتِ عظمیٰ کا ظہور ہوگا۔ ان شاء اللہ بمنّہ و کرمہ۔

وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ (اور ہم چاہتے ہیں کہ ان لوگوں پر احسان کریں جو زمین میں کمزور کر دیے گئے، اور انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں وارث بنا دیں۔)

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

مصطفیٰ محامی؛ نمائندہ ولیِ فقیہ (سیستان و بلوچستان)

۱۶ شوال ۱۴۴۷ ہجری قمری (مطابق ۴ اپریل ۲۰۲۶ء)[2]۔

حوالہ جات