ابو عبیدہ
| ابو عبیدہ | |
|---|---|
| دوسرے نام | حُذَیفه سَمیر عبدالله الکحلوت |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش کی جگہ | فلسطین، غزه |
| وفات | 2025 ء، 1403 ش، 1446 ق |
| یوم وفات | 31 اگست |
| مذہب | اسلام، سنی |
| مناصب | عزالدین القسام (حماس کا عسکری ونگ) کے معروف ترجمان |
ابوعبیدہ ایک فلسطینی مجاہد اور کتائب عزالدین القسام (حماس کا عسکری ونگ) کے معروف ترجمان ہیں۔ وہ اپنے جنگی نام "ابو عبیدہ" سے پہچانے جاتے ہیں اور فلسطینی مزاحمت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ میڈیا اور عوامی سطح پر ان کی شخصیت فلسطینی عوام کے حوصلے اور صبر و ثبات کی نمائندگی کرتی ہے۔ ابو عبیدہ اب تک مسلسل میدانِ کارزار میں سرگرم عمل ہیں اور اپنی جنگی بیانات اور موقف کے ذریعے فلسطینی مزاحمتی بیانیے کو عالمی سطح پر اجاگر کرتے ہیں۔ ان کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں استقامت اور جرأت کی مثال قائم کی ہے تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی قوم عروج پر پہنچی ہے، اس کے اندرونی انتشار اور سازشوں نے ہی اسے زوال پذیر کیا ہے۔ یہ اصول آج بھی اتنا ہی سچ ہے جتنا صدیوں پہلے تھا۔ آج جب ہم ابوعبیدہ کی پُراسرار شہادت اور صہیونی دشمن کی بڑھتی ہوئی خفیہ کارروائیوں کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ تلخ حقیقت ایک بار پھر ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے [1]۔
حماس کی میڈیا مشین کہلائے جانے والے ابو عبیدہ کون ہیں؟
فلسطین کی عسکریت پسند تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے ترجمان اسرائیل غزہ جنگ کے دوران نمایاں شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ان کا نام ابو عبیدہ ہے اور انھیں حماس کی میڈیا مشین کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ اکثر سوشل میڈیا پر تنظیم کے پیغامات کو آن لائن پھیلاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ان کا عرفی نام ابو عبیدہ، پیغمبر اسلام کے ساتھیوں میں سے ایک ابو عبیدہ بن الجراح کی نسبت سے ہے۔ وہ ایک مسلمان فوجی کمانڈر تھے۔ ابو عبیدہ القسام کے کمانڈر محمد الدیف کی طرف سے ’آپریشن طوفان الاقصیٰ‘ کا آغاز کرنے کے بعد ایک معروف شخصیت بن گئے۔ حماس کی طرف سے سات اکتوبر کو اسرائیل پر کیے جانے والے حملے کو حماس نے آپریشن طوفان الاقصیٰ کا نام دیا تھا۔ اس حملے میں جنوبی اسرائیل میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے [2]۔
ابو عبیدہ کی صحیح شناخت کوئی نہیں جانتا۔ وہ ہمیشہ ویڈیو ریکارڈنگ میں اپنے چہرے کو سرخ کوفیہ (فلسطینی روایتی سکارف) سے ڈھانپ کر آتے ہیں۔ وہ ویڈیو میں قرآن کی ایک لکھی ہوئی آیت کے ساتھ کھڑے ہو کر حماس کی عسکری کارروائیوں کی پیشرفت اور ان کی تفصیلات کے بارے میں بتاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ابو عبیدہ اپنے ٹیلیگرام چینل کے ذریعے اپنی تقاریر شیئر کرتے ہیں، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ٹیلیگرام چینل 2020 میں شروع کیا گیا تھا۔ وہ کسی اور معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سرگرم نہیں ہے۔
ان کی ویڈیو تقریریں سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہیں اور کئی نیوز چینلز پر نشر ہوتی ہیں۔ لندن سے شائع ہونے والے ایک مشہور عرب روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق’ابو عبیدہ کو 2002 میں پہلی بار القسام کے فیلڈ عہدیداروں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا تھا۔‘
القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کون؟ اسرائیلی فوج نے شناخت ظاہر کردی
اسرائیل فوج نے ویڈیو میں ابو عبیدہ کا مبینہ اصل چہرہ دکھا دیا۔ اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) نے حماس کے عسکری ونگ قسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کی شناخت جاری کردی ہے۔ اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے ایک مختصر ویڈیو جاری کی ہے جس میں مبینہ طور پر ابو عبیدہ کا چہرہ دکھایا گیا ہے۔
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے سرکاری ترجمان اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ انہیں ”ابو عبیدہ“ کے نام سے جانا جاتا ہے جو اکثر سوشل میڈیا پر گروپ کے پیغامات جاری کرتے ہیں۔
عرب خبر رساں ویب سائٹ کے مطابق انہیں اپنا یہ عرفی نام ابو عبیدہ ابن الجراح سے ملا ہے یا انہوں نے خود رکھا، جو ایک مسلمان فوجی کمانڈر تھے اور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے تھے۔ ابو عبیدہ اس وقت مشہور ہوئے جب القسام کے کمانڈر محمد الدیف نے آپریشن الاقصیٰ فلڈ (طوفان الاقصیٰ) شروع کرنے کا اعلان کیا۔ جس نے 7 اکتوبر کو غزہ سے ہونے والے حملوں کو طوفان الاقصیٰ نام دیا تھا۔
ابو عبیدہ کی صحیح شناخت کوئی نہیں جانتا۔ ویڈیوز میں ان کا چہرہ سرخ کیفیہ (ایک روایتی فلسطینی اسکارف) سے ڈھکا ہوا ہے۔ ان کی ویڈیو تقریریں سوشل نیٹ ورکس پر شیئر کی جاتی ہیں اور کئی نیوز چینلز پر نشر ہوتی ہیں۔ لندن میں مقیم ایک مشہور عرب روزنامے ”الشرق الاوسط“ کے مطابق، ’ابو عبیدہ سب سے پہلے 2002 میں القسام کے فیلڈ آفیشلز میں سے ایک کے طور پر مشہور ہوئے۔‘
اخبار میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ، القسام کے سابق رہنما عماد عقیل کے انداز کی نقل کرتے ہوئے اپنے چہرے کو ڈھانپ کر میڈیا سے بات کی ، جنہیں 1993 میں اسرائیل نے جیل میں ڈال دیا تھا 2006 میں ابو عبیدہ کو القسام بریگیڈز کا سرکاری ترجمان مقرر کیا گیا۔ ان کی پہلی عوامی نمائش 25 جون 2006 کو ہوئی جب حماس سمیت مسلح گروپوں نے غزہ کی سرحد کے قریب ایک فوجی بیرک پر حملہ کیا۔
خفیہ شناخت
ابو عبیدہ کی شناخت دریافت کرنا بہت سے لوگوں کا مشن رہا ہے۔ اسرائیلی اخبار یدیوت ایہرونوت نے رپورٹ کیا ہے کہ ابو عبیدہ نے 2013 میں غزہ کی اسلامی یونیورسٹی کی فیکلٹی آف فنڈامینٹلز آف ریلیجن سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ اخبار کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایک مقالہ لکھا جس کا عنوان تھا: ”یہودیت، عیسائیت اور اسلام میں مقدس سرزمین“ اور وہ ڈاکٹریٹ کی تیاری کر رہے تھے۔
اسی اخبار کے مطابق ابو عبیدہ کا تعلق اصل میں غزہ کے گاؤں نالیہ سے ہے جس پر اسرائیل نے 1948 میں قبضہ کیا تھا۔ جبکہ اخبار نے دعویٰ کیا کہ وہ آج اطلاعات کے مطابق شمال مشرقی غزہ میں جبالیہ میں رہتے ہیں۔
اسرائیلی اخبار کا دعویٰ ہے کہ 2008 سے 2012 کے درمیان اسرائیل کی جانب سے کئی بار ان کے گھر پر بمباری کی گئی اور ایک بار پھر غزہ کی پٹی میں موجودہ آپریشن میں ان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق آئی ڈی ایف کے عربی زبان کے ترجمان افيخاي ادرعي نے ابو عبیدہ کی شناخت ظاہر کرتے ہوئے لکھا، ’یہ حذیفہ سمیر عبداللہ کلہوت ہے، جو ابو عبیدہ کے نام اور اپنے سرخ کیفیہ کے پیچھے چھپا ہوا ہے‘۔
پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ’حذیفہ کلہوت تم بے نقاب ہو چکے ہو۔ پردے کو گرانے کا وقت آگیا ہے‘۔ اس سے قبل 2014 میں بھی آئی ڈی ایف نے ابو عبیدہ کی شناخت ظاہر کرنے کا دعویٰ کیا تھا[3]۔
القسام بریگیڈ کے ترجمان
سنہ 2006 میں ابو عبیدہ کو القسام بریگیڈز کا باضابطہ ترجمان مقرر کیا گیا۔ وہ پہلی مرتبہ عوامی سطح پر 25 جون 2006 کو منظر عام پر آئے تھے جب حماس سمیت مسلح گروپوں نے غزہ کی سرحد کے قریب ایک اسرائیلی فوجی چوکی پر حملہ کیا تھا۔
حماس نے یہ کارروائی اس وقت کی تھی جب انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایک اسرائیلی فضائی حملے میں فلسطینی لڑکی ہدہ غالیہ کا خاندان مارا گیا تھا جب وہ ساحل پر پکنک منا رہے تھے۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے بین الاقوامی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی تھی کیونکہ اس واقعے میں ایک 10 سالہ لڑکی کو غزہ کے ساحل پر پاگلوں کی طرح دوڑتے اور ’والد، والد، والد‘ پکارتے دکھایا گیا تھا جو بعدازاں اپنے والد کی لاش پر روتی دیکھی گئی تھی۔
اسرائیلی فوجی چوکی پر حماس کے حملے کے دوران اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو پکڑ لیا گیا تھا جبکہ اس حملے میں دو فوجی ہلاک اور دو دیگر زخمی ہوئے تھے۔ بعدازاں سنہ 2011 میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک معاہدے پر اتفاق کے بعد اسرائیلی فوجی شالیت کو رہا کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت 1000 سے زائد فلسطینیوں کو بھی رہا کیا گیا تھا۔ سنہ 2014 میں اسرائیل غزہ جنگ کے دوران ابو عبیدہ نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں اسرائیلی فوجی شاول ہارون کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا، حالانکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ مرچکا ہے[4]۔
ابوعبیدہ، مزاحمت کا راز اور غداری کی آہٹ
ابوعبیدہ ایک محض نام نہیں بلکہ ایک اساطیری کردار تھا، وہ ایک سایہ تھے، ایک راز تھے، جن کی اصل پہچان ان کے قریبی ساتھیوں سے بھی پوشیدہ تھی۔ یہ وہ فولادی عزم رکھنے والے مجاہد تھے، جن کی جنگی حکمت عملیوں نے اسرائیلی فوج کی نام نہاد طاقت کا بھرم توڑ دیا۔ ابوعبیدہ کی کارروائیوں کا طریقہ کار غیر معمولی تھا۔ وہ دشمن کی گشت، اس کے کمزور نکات اور حرکات و سکنات کو انتہائی باریک بینی سے پرکھتے اور پھر اچانک اس پر ایسی کاری ضرب لگاتے، جس سے وہ سنبھل نہ پاتا، یہ انداز انہیں جنگی میدان میں ایک منفرد حیثیت دیتا تھا۔
یہ وہی نام تھا کہ جسے سن کر صہیونیوں کو نیند میں بھی خوف آتا تھا، لیکن آج کے دور میں کھیل کے اصول بدل گئے ہیں۔ اسرائیل نے اپنے روایتی جنگی طریقوں کی جگہ خفیہ کارروائیوں اور جدید جاسوسی کو ترجیح دی ہے۔ مصنوعی ذہانت، بہترین ٹیکنالوجی اور عرب دنیا میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے وہ مزاحمتی تنظیموں کی جڑوں تک پہنچ رہے ہیں۔ حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس نے حزب اللہ کو ایسا ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، جس کی مثال ماضی میں کم ملتی ہے۔ اس نے بغیر کسی بڑی جنگ کے سید حسن نصراللہ اور اسماعیل ہنیہ جیسی عظیم شخصیات کو شہید کرکے مزاحمتی محاذ کو شدید دھچکا پہنچایا۔
یہ بلاشبہ دشمن کی حکمت عملی کی ایک خوفناک کامیابی ہے۔ کیا یہ سب اتنا آسان تھا؟ مزاحمتی تحریکیں بھی وقت کے ساتھ اپنی حکمت عملی کو اپ گریڈ کرتی رہتی ہیں۔ پھر وہ کون سی اندرونی کمزوری ہے جو ان کی تمام تر محنت اور قربانیوں کو پل بھر میں بے اثر کر دیتی ہے؟ میرے ذہن میں ایک لفظ گونجتا ہے "غداری"۔ اس غداری کی جڑیں اکثر دولت اور پُرتعیش زندگی کے خواب میں پیوست ہوتی ہیں۔ ہمارے اسلامی تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں، چاہے وہ نواسہ رسولؐ امام حسن علیہ السلام کو تنہا چھوڑ دینا ہو یا کربلا میں وقت کے مفتیوں کے فتوے، یہ سب دنیا کی خواہشات کی گونج تھی۔
ابوعبیدہ کی شہادت ہمیں بھی اسی طرح کے تکلیف دہ سوالات کے سامنے کھڑا کرتی ہے۔ اسرائیل کو مزاحمتی تنظیموں کی اشرافیہ کے بارے میں خفیہ معلومات کون فراہم کر رہا ہے؟ کیا حماس کے اندر کوئی غدار موجود ہے؟ قطر کا کیا کردار ہے، جہاں حماس کے ہیڈ کوارٹرز ہیں؟ دبئی اور سعودی عرب کس حد تک اس کھیل میں شریک ہیں؟ محمود عباس کی نام نہاد فلسطینی اتھارٹی کا کردار کیا ہے، جو اپنے ہی لوگوں کو پیچھے سے چھرا گھونپ رہی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو اس بہادر کی شہادت کے بعد ہر باشعور مسلمان کے ذہن میں اٹھنے چاہئیں۔ جب تک ہم ان سوالوں کے جواب تلاش نہیں کر لیتے، ہمیں مزید ابوعبیدہ جیسی شخصیات کو کھونا پڑے گا۔ میں یہ سوالات اپنے قارئین کیلئے چھوڑے جا رہا ہوں، اس یقین کے ساتھ کہ صرف حقیقی خود احتسابی ہی ہمیں اس زوال سے نکال سکتی ہے۔ آخر میں بس یہی عرض کروں گا کہ "پیسہ اور دنیاوی آسائشیں صرف ایک لمحہ کی ہیں، جبکہ شہادت اور قربانی کی حیات ابدی ہے۔"[5]۔
فلسطین کی حمایت پر ایران، لبنان، عراق اور یمن کا شکریہ ادا کرتے ہیں

فلسطینی مقاومتی تنظیم حماس نے صہیونی حکومت کی جارحیت کا مقابلہ کرنے میں فلسطین کا ساتھ دینے پر ایران، عراق، لبنان اور یمن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی مقاومتی تنظیم حماس نے صہیونی حکومت کی جارحیت کا مقابلہ کرنے میں فلسطینی مقاومت کی حمایت کرنے پر ایران، عراق، لبنان اور یمن کا شکریہ ادا کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، حماس کے ترجمان نے ابوعبیدہ اور دیگر کمانڈروں کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین پر صہیونی حکومت کے حملے جاری ہیں۔ ہم صہیونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام اپنا دفاع کررہے ہیں۔ جب تک صہیونی مظالم جاری ہیں، ہم اپنے ہتھیار نہیں پھینکیں گے[6]۔
مزاحمت اور استقامت کا استعارہ ابوعبیدہ کون تھے؟
ابوعبیدہ فلسطین کے مشہور ترین گمنام شہید، جن کی شہادت کی خبر کے ساتھ ہی ان کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھا دیا گیا، غاصب صہیونی حکومت کی جارحیت کے خلاف مزاحمت اور استقامت کی ایک علامت تھے۔
اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے پیر کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس تحریک کے عسکری ونگ کے سابق ترجمان ابوعبیدہ کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔ حماس نے اعلان کیا کہ یہ عظیم کمانڈر، جو دشمن کے سامنے بہادری سے ڈٹے ہوئے تھے اور جنہوں نے میدانِ جنگ سے کبھی پیٹھ نہیں پھیری، سرزمینِ پائیداری و جہاد غزه میں صہیونی فوج کی بزدلانہ بمباری کے نتیجے میں اپنے اہل خانہ سمیت شہادت کے بلند مرتبے پر فائز ہو گئے۔
ابوعبیدہ نے فلسطینی قوم کی تاریخِ مقاومت کی سب سے معتبر جنگ، یعنی طوفان الاقصیٰ آپریشن میں اپنی جان اس مقدس مقصد پر نچھاور کر دی جس کی وہ برسوں سے ایک توانا آواز تھے۔
حماس نے اس بیان میں صہیونی دشمن کو خبردار کیا کہ رہنماؤں، کمانڈروں اور مزاحمت کی علامتوں کا قتل ہماری قوم کے ارادوں کو کبھی نہیں توڑ سکے گا۔ یہ جرائم اپنی زمین اور مقدسات کے دفاع میں ہمارے حقوق پر ثابت قدمی اور ہماری طاقت و صلابت میں مزید اضافے کا باعث بنیں گے۔ حماس کی تاریخ ثابت کرتی ہے کہ یہ تحریک اپنے رہنماؤں کی شہادت کے بعد پہلے سے زیادہ طاقتور، متحد اور دشمن پر کاری وار کرنے کے لیے فولادی عزم کے ساتھ ابھرتی ہے۔
شہید ابوعبیدہ؛ حماس کی ترجمانی کی ۲۰ سالہ تاریخ
حماس نے پہلی بار ابوعبیدہ کی اصل شناخت ظاہر کی؛ ابوعبیدہ کا مکمل نام حذیفہ سمیر الکحلوت اور کنیت ابو ابراہیم تھی، جنہوں نے القسام بریگیڈز کے ترجمان کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ شہید الکحلوت کی سوانح عمری اور شخصیت
شہید حذیفہ الکحلوت مقبوضہ فلسطین کے گاؤں نعلیہ سے تعلق رکھتے تھے، جہاں سے ان کے خاندان کو ۱۹۴۸ میں بے دخل کر دیا گیا تھا اور وہ شمالی غزہ میں جبالیہ مہاجر کیمپ میں آباد ہو گئے تھے۔
فلسطینی اور صہیونی ذرائع کے مطابق، ان پر کئی بار قاتلانہ حملے کیے گئے اور صہیونی لڑاکا طیاروں نے ۲۰۰۸ میں غزہ کی پٹی کے خلاف پہلی جنگ سے لے کر ۲۰۱۲ اور ۲۰۱۴ کی جنگوں تک کئی بار ان کے گھر پر بمباری کی۔ حالیہ نسل کشی کے دوران بھی انہیں شہید کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں۔
صہیونی اخبار یدیعوت آحارونوت کی ۲۵ جولائی ۲۰۱۴ کی رپورٹ کے مطابق، ابوعبیدہ کی سیکیورٹی کی وجہ سے حساس زندگی ان کی اعلیٰ تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکی۔ انہوں نے ۲۰۱۳ میں غزہ کی اسلامی یونیورسٹی کی فیکلٹی آف فنڈامینٹلز آف ریلیجن سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جس کے مقالے کا عنوان یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے درمیان سرزمینِ مقدس تھا۔ وہ مستقبل قریب میں ڈاکٹریٹ (PhD) کی ڈگری حاصل کرنے کی تیاری بھی کر رہے تھے۔
سیاسی تجزیہ کار ایاد القرا کے مطابق، ابوعبیدہ ایک متوازن شخصیت کے مالک تھے اور انہوں نے اپنے رازوں کی ایسی حفاظت کی جس نے انہیں ایک خاص ہیبت اور انفرادیت عطا کی۔ وہ صہیونی فوج اور معاشرے کو نشانہ بنا کر اپنی نفسیاتی جنگ جاری رکھتے تھے۔
القرا کا ماننا ہے کہ ابوعبیدہ کی شخصیت پروپیگنڈا یا میڈیا وار کے ان اہم ترین ہتھیاروں میں سے ایک تھی جسے حماس نے غاصبوں کے خلاف اپنی تمام جنگوں اور مقابلوں میں استعمال کیا۔ جس طرح فلسطینی اور ان کے چاہنے والے ان کے خطاب کے منتظر رہتے تھے، اسی طرح صہیونی فوج، ان کے انٹیلی جنس ادارے اور یہاں تک کہ اسرائیلی رائے عامہ بھی ان پر نظر رکھتی تھی۔
ابوعبیدہ؛ ایک منفرد شخصیت
اس گمنام فلسطینی شہید نے ایسی بے مثال شہرت حاصل کی جس کے وہ کبھی خواہاں نہیں تھے۔ طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد، ابوعبیدہ خطرات مول لیتے ہوئے اپنی مخصوص ہیبت، فوجی وردی، سر پر سرخ رومال اور پیشانی پر کتائب القسام کے نام کی سبز پٹی باندھے دشمن کے خلاف میڈیا اور نفسیاتی جنگ کے محاذ پر حاضر ہوتے رہے۔
ابوعبیدہ کو عربی زبان پر خاص مہارت حاصل تھی جس نے انہیں میڈیا کے محاذ پر ایک جنگجو بنا دیا تھا۔ ماہرین اور مبصرین کے مطابق ان کے الفاظ دشمن کے دلوں پر گولیوں کی طرح لگتے تھے اور ان کا یقین و اعتماد ان کے موزوں اور درست الفاظ میں جھلکتا تھا۔
مصنف اور سیاسی تجزیہ کار ایاد القرا نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ابوعبیدہ کی شخصیت مختلف پہلوؤں، خاص طور پر طویل عرصے تک اپنی ظاہری شکل، فوجی وردی اور نقاب کو برقرار رکھنے کے حوالے سے منفرد ہے۔ القرا کے مطابق، شہید الکحلوت جتنا اپنی تقریر کے انداز، وقت، الفاظ اور مواد کو اہمیت دیتے تھے، اتنا ہی اپنی ظاہری ترتیب اور موجودگی کو بھی اہمیت دیتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابوعبیدہ نے ان اوقات میں بھی میڈیا پر اپنی موجودگی برقرار رکھی جب اسرائیل انہیں گرفتار کرنے کی کوششوں میں تھا۔ ۲۰۰۴ میں شمالی غزہ کی پٹی میں مسجد النور کے اندر ایک پریس کانفرنس میں اپنی پہلی موجودگی سے ہی انہوں نے خود کو رازداری کے ایک مضبوط حصار میں رکھا۔ صہیونی انٹیلی جنس کی انہیں اس روش سے ہٹانے یا ان کا توازن بگاڑنے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔
۷ اکتوبر کے بعد ابوعبیدہ کا نمایاں کردار
ابوعبیدہ کی چند اہم ترین تقاریر ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ کو حماس کے آپریشن کے بعد سامنے آئیں۔ جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد انہوں نے بتایا کہ ۷ اکتوبر کے آپریشن کی منصوبہ بندی ۲۰۲۱ سے شروع کر دی گئی تھی، یعنی اسی سال مئی میں ہونے والی ۱۱ روزہ جنگ کے بعد۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس کے تقریباً ۴۵۰۰ ارکان نے اس آپریشن میں حصہ لیا، جن میں سے ۳۰۰۰ میدان میں موجود تھے۔
ابوعبیدہ نے طوفان الاقصیٰ کے مقاصد کے بارے میں اعلان کیا کہ اس آپریشن کا ایک مقصد اسرائیلی فوج کی غزہ بریگیڈ کو تباہ کرنا تھا جو اس فوج کی جنوبی کمان کا حصہ تھی۔ ابوعبیدہ کی مشہور ترین تقاریر میں سے ایک وہ تھی جس میں انہوں نے عرب رہنماؤں کو غزہ تک انسانی امداد پہنچانے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا تھا کہ عرب حکمرانوں کی غزہ کے عوام تک امداد پہنچانے میں بے بسی نے ہمیں اور حماس کو حیران کر دیا ہے۔
صہیونی ریاست ابوعبیدہ کو کس نظر سے دیکھتی تھی؟
صہیونی ریاست ابوعبیدہ کو حماس کی ایک بااثر اور علامتی شخصیت سمجھتی تھی، جن کی تقاریر اور بیانات کا اسرائیلی رائے عامہ باقاعدگی سے پیچھا کرتی تھی، اگرچہ ان کی اصل شناخت ہمیشہ ابہام میں رہی۔
۲۰۱۴ کی غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی ویب سائٹ یدیعوت آحارونوت نے حذیفہ سمیر عبداللہ الکحلوت کا نام اور ایک تصویر شائع کی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ابوعبیدہ کی ہے، لیکن حماس نے اس رپورٹ کی تردید کر دی۔ اس میڈیا نے لکھا کہ ابوعبیدہ کی شناخت ظاہر کرنے کی کوشش کا مقصد اس طلسم کو توڑنا ہے جو ان کے گرد بنا ہوا ہے اور جس نے انہیں حماس کی بااثر شخصیات میں سے ایک بنا دیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ابوعبیدہ پر پابندیاں
امریکہ نے اپریل ۲۰۲۴ میں ابوعبیدہ پر پابندیاں عائد کیں اور انہیں حماس میں انٹیلی جنس وار کا کمانڈر قرار دیا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا کہ ابوعبیدہ القسام بریگیڈز کے سائبر انفلوئنس یونٹ کی قیادت کے ذمہ دار تھے۔
اگرچہ گزشتہ اگست میں صہیونی فضائیہ کی دہشت گردانہ کارروائی اور ان کے گھر پر بمباری کے نتیجے میں ابوعبیدہ کی آواز ان کی شہادت کے سرکاری اعلان کے ساتھ خاموش ہو گئی ہے، لیکن ان کی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی[7]۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ تحریر: ایچ ایس اے مغنیہ
- ↑ تحریر: سرخ کوفیہ
- ↑ القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کون؟ اسرائیلی فوج نے شناخت ظاہر کردی- شائع شائع شدہ از: 8 ستمبر 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 8 ستمبر 2025ء
- ↑ حماس کی میڈیا مشین کہلائے جانے والے ابو عبیدہ کون ہیں؟-شائع شدہ از: 8 ستمبر 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 8 ستمبر 2025ء
- ↑ ابوعبیدہ، مزاحمت کا راز اور غداری کی آہٹ- شائع شدہ از: 8 ستمبر 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 8 ستمبر 2025ء
- ↑ فلسطین کی حمایت پر ایران، لبنان، عراق اور یمن کا شکریہ ادا کرتے ہیں، حماس- شائع شدہ از: 29 دسمبر 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 29 دسمبر 2025ء
- ↑ مزاحمت اور استقامت کا استعارہ ابوعبیدہ کون تھے؟- شائع شدہ از: 29 دسمبر 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 29 دسمبر 2025ء