مندرجات کا رخ کریں

مجلسِ خبرگانِ رہبری کے بعض اراکین کا اعلامیہ

ویکی‌وحدت سے

مجلسِ خبرگانِ رہبری کے بعض اراکین کا اعلامیہ، علاقائی حالات، تیسری مسلط کردہ جنگ (جنگِ رمضانانقلاب اسلامی کے قائد و رہبر، متعدد کمانڈروں اور ایرانی عوام کی شہادت، نیز جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کے بعد مجلسِ خبرگانِ رہبری کے بعض اراکین نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے۔

امام خامنہ ای کے رہنمائی بخش پیغام اور حالیہ واقعات کے تناظر میں مجلسِ خبرگانِ رہبری کے بعض اراکین نے ایران کے باشعور اور انقلابی عوام سے خطاب کرتے ہوئے دس نکاتی بیان جاری کیا، جس کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ایرانِ اسلامی کے باشعور اور انقلابی عوام!

سید الشہداء حضرت امام حسینؑ اور آپ کے وفادار اصحاب کے ایامِ عزا کی تعزیت پیش کرتے ہوئے، رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی کی صحت، عزت و سربلندی کے ساتھ طویل عمر، فداکار مجاہدین کی قطعی کامیابی اور آپ، میدان میں حاضر عوام، کے لیے مزید عزت و سرفرازی کی دعا کے ساتھ، رہبرِ حکیمِ انقلابِ اسلامی کے رہنمائی بخش پیغام اور حالیہ واقعات کے پیشِ نظر درج ذیل نکات پیش کیے جاتے ہیں:

ملتِ ایران اور محاذِ مقاومت کے حقوق کے حصول کے لیے کوشاں

ہم ذمہ داران، خصوصاً معزز مذاکرات کاروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جو رہبرِ معظم کے فرمان کے مطابق خیرخواہی اور حسنِ نیت کے ساتھ ملتِ ایران اور محاذِ مقاومت کے حقوق کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔

تاہم، ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ ماضی کے نقصان دہ مذاکرات کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے فریب کار اور بدسابقہ دشمن کی چالوں سے مکمل ہوشیاری برتیں اور یہ بات پیشِ نظر رکھیں کہ رہبر کے مقرر کردہ سرخ خطوط کی رعایت شرعی واجب ہے اور ان سے کسی بھی صورت میں تجاوز جائز نہیں۔

امامِ شہیدِ امت کے خون کا انتقام

حالیہ مسلط کردہ جنگ کے بے مثال جرائم کے ذمہ دار حملہ آوروں کی نشاندہی، خصوصاً امریکہ کے مجرم صدر اور صہیونی حکومت کے پلید وزیرِ اعظم کا تعین، ان کی سزا اور امامِ شہیدِ امت کے خون کا انتقام کسی صورت نظر انداز نہ کیا جائے۔

ہر اس مکلف شخص پر جو ان مجرموں تک رسائی حاصل کرے، واجب ہے کہ انہیں اپنے انجام تک پہنچائے۔

معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی اور مفاہمتی یادداشت کی شقوں کی پامالی کا فوری جواب دیا جائے

ذمہ داران کے رہبر اور عوام سے کیے گئے وعدوں کے مطابق توقع کی جاتی ہے کہ معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی اور مفاہمتی یادداشت کی شقوں کی پامالی کا فوری جواب دیا جائے۔

لہٰذا، صہیونی حکومت کی لبنان میں مسلسل جارحیت اور مقبوضہ علاقوں سے عدم انخلا، جو مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی صریح خلاف ورزی ہے، کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ذمہ داران کے عہد کے خلاف اور ایک اسٹریٹجک غلطی شمار ہوگا، جو دشمن کو مزید عہد شکنی اور خلاف ورزیوں پر دلیر کرے گا۔

جوہری حقوق کسی بحث یا تنازعے کا موضوع نہیں بننے چاہییں

ہم دوبارہ یاد دہانی کراتے ہیں کہ رہبرِ معظم کی واجب الاطاعت ہدایات کے مطابق ملک کے جوہری حقوق کسی بحث یا تنازعے کا موضوع نہیں بننے چاہییں اور انہیں مذاکرات کے دائرے سے خارج رکھا جائے۔

آبنائے ہرمز کے انتظام کا استحکام

آبنائے ہرمز کے انتظام کا استحکام، نقصانات کے ازالے کی صورت میں ہرجانے کی وصولی، منجمد اثاثوں کی واپسی، پابندیوں کا خاتمہ اور امریکہ کا خطے سے انخلا، رہبر اور عوام کے ناقابلِ چشم پوشی مطالبات ہیں، جنہیں ملتِ ایران کی عزت و وقار کے تحفظ کے ساتھ حاصل کیا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یقیناً عوامی ردِ عمل کا باعث بنے گی۔

ایسی کوئی بات نہیں کہی جانی چاہیے جس سے ملک کی کمزوری یا ناتوانی کی بو آئے

ذمہ داران کو ہر ایسے بیان سے اجتناب کرنا چاہیے جو دشمن کی جسارت میں اضافے یا ملک کی کمزوری اور عوام کی عدم برداشت کا تاثر پیدا کرے۔ اب جبکہ ہمارے جان نثار مجاہدین کی بہادرانہ مزاحمت نے استکباری امریکہ کو بے بسی سے دوچار کر دیا ہے، ایسی کوئی بات نہیں کہی جانی چاہیے جس سے ملک کی کمزوری یا ناتوانی کی بو آئے۔

ولایت کے نظام میں ولی امر کی رائے اور نقطۂ نظر فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے

سب لوگ، خصوصاً معزز ذمہ داران، جانتے ہیں کہ ولایت کے نظام میں ولی امر کی رائے اور نقطۂ نظر فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے اور ولی فقیہ کی قطعی رائے سے آگاہی کے بعد کوئی بھی ذمہ دار ان کے نظریے کے برخلاف اقدام نہیں کر سکتا اور نہ ہی کرنا چاہیے۔

مفاہمتی یادداشت میں زیرِ بحث تمام امور کا فیصلہ کیا جائے

چونکہ متعدد شواہد کے مطابق دشمن اپنی قوت کو دوبارہ منظم کرنے اور بعض منصوبوں، خصوصاً آئندہ انتخابات، کے لیے وقت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے اور اس کے بعد دوبارہ حملے کا امکان موجود ہے،

اس لیے ضروری ہے کہ طے شدہ 30 اور 60 روزہ مدت کے اندر مفاہمتی یادداشت میں زیرِ بحث تمام امور کا فیصلہ کیا جائے اور ان مذاکرات کو طول دینے سے سختی کے ساتھ اجتناب کیا جائے۔

عوام اپنی باشعور اور باوقار موجودگی کو بدستور میدان میں برقرار رکھیں

ہم عزیز عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنی باشعور اور باوقار موجودگی کو بدستور میدان میں برقرار رکھیں اور مقدس اتحاد کو محفوظ رکھتے ہوئے ہر ایسے اقدام سے پرہیز کریں جو اس اتحاد کو نقصان پہنچائے۔

نیز بعض نادان افراد کی تفرقہ انگیز باتوں پر توجہ نہ دیں، جو اس الٰہی بیداری کو محدود کرنے کے درپے ہیں۔ عوام کی موجودگی اس وقت تک ضروری اور فیصلہ کن ہے جب تک رہبرِ معظم اسے مصلحت سمجھیں۔

شرائط اور وعدوں کی تکمیل کے منتظر رہیں گے

مجلسِ خبرگان میں ملت کے خادم بھی عوام کے ایک حصے کے طور پر عزیز رہبر اور پوری قوم کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ہم معزز ذمہ داران کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں اور شرائط اور وعدوں کی تکمیل کے منتظر رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر اپنے شرعی فریضے پر عمل کریں گے۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ[1]۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. بیانیه جمعی از اعضای مجلس خبرگان درباره تحولات اخیر و مذاکرات-شائع شدہ از:28 جون 2026ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 28 جون 2026ء