عماد مغنیہ
عماد مغنیہ | |
---|---|
![]() | |
دوسرے نام | حاج رضوان |
ذاتی معلومات | |
پیدائش | 1952 ء، 1330 ش، 1370 ق |
پیدائش کی جگہ | لبنان شہرِ صور |
یوم وفات | 12 فروری |
وفات کی جگہ | دمشق شام |
مذہب | اسلام، شیعہ |
مناصب | حزب اللہ کمانڈوز کا بانی |
عماد مغنیہ حاج عماد مغنیہ وہ عظیم مجاہد ہے کہ جس نے فلسطین اور لبنان پر قابض غاصب اسرائیلیوں کے خلاف کئی آپریشن کئے اور غاصب اسرائیل کے ساتھ براہ راست نبرد آزما رہے، وہ بہت سی کامیابیوں کے بانی تھے جو مجاہدین نے غاصب اسرائیل کے خلاف مقابلے میں حاصل کیں، حاج عماد نے مزاحمت کا باب قائم کیا اور ایک مزاحمتی مدرسے کی بنیاد رکھی جہاں نوجوانوں کو دینی، اخلاقی اور مزاحمتی تربیت کے ساتھ ساتھ فنی مہارتیں بھی سکھائی جاتی ہیں۔ پہلی بار 1980ء میں اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسیوں کی توجہ کا مرکز بنے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کئی ایک دوسرے لبنانی شیعہ جوانوں کی مانند جناب سید حسن نصر اللہ وغیرہ بھی مزاحمتی تحریک 'مقاومۃ الاسلامیہ' کے اساسی رُکن کے طور پر اُبھرکر سامنے آئے تھے۔ قبل ازیں جناب عماد مغنیہ فلسطینی مسلمانوں کے ہمراہ اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف برسرِ پیکار تھے۔
سوانح عمری
شہید عماد مغنیہ کو لبنان میں ’’ حاج رضوان ‘‘ کا لقب دیا گیا تھا اور وہ پوری زندگی اسی لقب سے ہی مشہور رہے، حاج عماد مغنیہ کی ولادت لبنان کے جنوبی علاقے تائر دبہ میں بارہ جولائی سنہ 1962ء میں فیاض مغنیہ کے گھر میں ہوئی، عماد مغنیہ کے دو بھائی جن کے نام فواد مغنیہ اور جہاد مغنیہ ہے وہ دونوں بھی صیہونی غاصب اسرئیلیوں سے جہاد کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں شہید ہوئے۔
حاج عماد مغنیہ بچپن سے ہی دینی ماحول میں پرورش پا کر جوانی کی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے اپنی شہادت کی راہ پر پہنچے، شہید کے گھر کا ماحول دین خداوندی سے مالا مال تھا اور یہ اسی پرورش کا ہی اثر تھا کہ حاج عماد مغنیہ نے اپنی پوری زندگی مظلوموں کی نصرت اور مدد کی خاطر بسر کر دی اور فلسطین کی آزادی کی راہ میں جدوجہد کرتے ہوئے شہادت پائی۔
تعلیم
شہید نے ابتدائی تعلیم جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں حاصل کی، اور اُس کے بعد بیروت کی ایک امریکی یونیورسٹی (اے یو بی) میں تعلیم حاصل کی۔ شہید عماد کا گھرانہ بشمول خود پانچ افراد پر مشتمل تھا۔ آپ کی والدہ محترمہ، والد محترم اور دو بھائی جہاد مغنیہ اور فواد مغنیہ ہیں۔ آپ کے والد کا شمار لبنان کے برجستہ و معروف علما ء میں ہوتا تھا۔ 80 کی دہائی میں شہید عماد مغنیہ ۱۷فورس جو کہ فلسطین لبریشن فرنٹ کی ایک شاخ تھی سے منسلک ہوگئے جس کی ذمہ داری فلسطین کی آزادی میں سرگرم اشخاص کی حفاظت کرنا تھی۔
حزب اللہ میں شمولیت
1982ء میں صہیونی حکومت نے بیروت کا محاصرہ کیا اور اِس تنظیم کی شخصیات اورسرگرم افراد کو لبنان ترک کرنے پر مجبور کردیا۔ اِس کے بعد شہید عماد لبنانی سرگرم تنظیم ’’امل تحریک‘‘(افواجِ مقامتِ لبنان) سے وابستہ ہوگئے جس کے بانی امام موسیٰ صدر اورشہید چمران تھے۔ حزب اللہ کی تأسیس کے بعد عماد مغنیہ حزب اللہ سے وابستہ ہوگئے اوراپنی شہادت تک وابستہ رہے۔ حزب اللہ سے وابستہ ہونے کے بعد حزب اللہ کی اہم شخصیات کی حفاظت پر مأمور ہوگئے اوراِس کے بعد حزب اللہ کی اسرائیل کے خلاف بنائی جانے والی اسپیشل فورس کے عہدیدار کے طور پر منتخب ہوئے۔
امریکی حکومت اوربالخصوص اسرائیلی جعلی حکومت شہید عماد کو ہمیشہ اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتی تھی۔ صہیونی جعلی حکومت نے اسرائیل اورحزب اللہ کے درمیان ہونے والی ۳۳روزہ جنگ سے پہلے دو اسرائیلی فوجیوں کے اغوا کرنے کا الزام بھی شہید عماد مغنیہ پر عائد کیا۔ امریکی ایجنسی (سی آئی اے) نے بھی اسرائیل کے خلاف مختلف کاروائیوں میں شہید عماد مغنیہ کے ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے۔ شہیدعماد مغنیہ صہیونی اورامریکی حکومت کے لیے ایک ڈراؤنے خواب کی صورت اختیار کرگئے تھے ۔ تقریباً ۴۲ممالک کی خفیہ ایجنسیز شہید عماد مغنیہ کی تعقیب میں تھیں، شہید عماد مغنیہ ہمیشہ میڈیا کے سامنے خود کو ظاہر کرنے سے گریز کیا کرتے تھے۔
سیاسی سرگرمیاں
آپ کے والد گرامی آیت اللہ شیخ جواد مغنیہ سیاسی سرگرمیوں سے دور تھے، البتہ آپ کی والدہ محترمہ خواتین میں مختلف اسلامی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف عمل رہتی تھیں۔شہید عماد مغنیہ اپنی جوانی میں ہی حج کے مقدس فریضے سے مشرف ہوئے، سید مقاومت حسن نصراللہ آپ کو’’حاج رضوان‘‘کے لقب سے پکارتے تھے۔حزب اللہ کی تأسیس کے بعد شہید عماد مغنیہ آیت اللہ محمد حسین فضل اللہ کے محافظوں میں سے تھے جو کہ اُس زمانے میں حزب اللہ کے معنوی رہبر سمجھے جاتے تھے۔
1985ء میں شہید عماد مغنیہ کے ایک بھائی جہاد مغنیہ صہیونی فوجیوں کے ہاتھوں شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے، کچھ ہی عرصے بعد شہید عماد مغنیہ کے ایک اور بھائی فؤاد مغنیہ بھی صہیونی درندوں کے ہاتھوں ایک بم دھماکے میں کہ جس کا اصل ہدف عماد مغنیہ تھے، شہادت کی منزل پر فائز ہوگئے۔ اِس طرح آپ کے دو بھائی جہاد مغنیہ اور فواد مغنیہ صہیونی حکومت کے خلاف مبارزے اور مقابلے کی حالت میں شہادت کی منزل پر فائزہوئے۔شہید عماد مغنیہ نے اپنے فرزند کانام بھی اپنے بھائی کے نام پر جہادمغنیہ رکھا جو حال ہی میں صیہونی درندوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرگئے،اِس طرح شہید عماد مغنیہ کے دوبھائی اورایک بیٹا شہادت کی منزل پر فائز ہوئے۔
جہادی سرگرمیاں
1982ء میں عماد مغنیہ نے تین مختلف آپریشنز کی ذمہ داری سنبھالی؛ یہی چیز سبب بنی کہ امریکہ اورفرانس کی ایجنسیز شہید عماد مغنیہ کی تلاش میں تیزی سے سرگرم ہوگئیں۔اپریل ۱۹۸۳ میں بیروت میں موجود امریکی سفارت خانے میں بم دھماکہ اور ۶۳امریکی فوجیوں کا واصل جہنم ہونا، اِس کے علاوہ بیروت میں ہی ایک امریکی فوجی کیمپ پر حملہ اور ۲۴۱ قابض امریکی فوجیوں کی ہلاکت، بقعہ کے علاقے میں فرانسیسی فوجی کیمپ پر حملہ اور ۵۸ قابض فرانسیسی فوجیوں کے واصل جہنم ہونے میں شہید عماد مغنیہ کا مرکزی کردار رہا
جس کے نتیجے میں قابض فرانسیسی اورامریکی قابض افواج، لبنان ترک کرنے پر مجبورہوئیں۔ اور اِس طرح اِس شیطانی افواج سے لبنان کے عوام بالخصوص مسلمانوں کو نجات ملی۔ اِس طرح شہید عماد مغنیہ حزب اللہ میں اسپیشل ٹاسک کے ماہر کے طور پر مشہور ہوگئے۔ شہید عماد اس آپریشن کے بعد دو سال تک روپوش رہے اور اِس کے بعد ایک امریکی جہاز کے اغوا کی ذمہ داری بھی شہید عماد مغنیہ پر عائد کی گئی۔۱۹۹۰ میں عالمی میڈیا نے شہید عماد کے بیروت میں ظاہر ہونے کی خبریں نشر کیں۔
شیطانِ بزرگ امریکہ نے شہیدعمادمغنیہ کے سرکی قیمت ۲۵میلیون ڈالر معین کی اوراِس کے ساتھ ساتھ ۴۲ ممالک کی استعماری ایجنسیزشہید عماد مغنیہ کی تلاش میں شب و روز سرگرم تھیں، ۸ صہیونی ایجنسیز جومسلسل شہید کی تلاش میں تھیں، شہید کی سرگرمیوں کوروکنے میں ناکام، ناتوان اورعاجز رہیں۔بالآخرعمادمغنیہ۱۲ فروری ۲۰۰۸ شام کے دارالحکومت دمشق میں انسانیت دشمن امریکی اور صہیونی ایجنسیز اور اُن کے نمک خوار منافقین کی مدد سے ایک بم دھماکے میں شہادت کی منزل پرفائز ہوگئے ۔
اخلاقی زندگی
شہید مغنیہ سخت ترین حالات کے باوجود اور روزانہ کے فوجی معرکوں کے باوجود بھی حاج عماد مغنیہ کی دینی پابندیوں میں کمی نہیں آئی وہ ہمیشہ پانچ وقت کی نماز مسجد میں ادا کرتے تھے اور آیت اللہ محمد حسین فضل اللہ کے درس اخلاق سمیت دیگر مذہبی مجالس میں شریک رہتے تھے۔ حاج عماد مغنیہ آیت اللہ حسین فضل اللہ کی سیکورٹی پر معمور جوانوں کے ایک دستے کے انچارج تھے اور یہ ذمہ داری انہوں نے سنہ 1980ء اور 1982ء میں اس وقت تک انجام دی جب غاصب اسرائیلیوں نے لبنان پر حملہ کیا اور اس کے جواب میں حاج عماد مغنیہ نے کمر باندھ لی تھی کہ غاصب اسرائیلی دشمن کو کسی صورت کامیابی حاصل نہیں کرنے دیں گے[1]۔
گرفتار کرنے کی کوشش
1995ء میں عماد مغنیہ کو گرفتار کرنے کی ایک اور کوشش کی گئی جب امریکی جاسوسی اداروں کو ان کے خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی کہ عماد بیروت سے ایک جہاز میں سوار ہوئے ہیں اور ابھی خلیج فارس میں محو پرواز ہیں تب اسی وقت امریکی حکام نے سعودی حکومت سے رابطہ کیا کہ ایک اہم ملزم جو بیروت میں 1983 کے بم دھماکے میں ملوث ہے۔ اس کا طیارہ اُتار کر اسے گرفتار کر لیا جائے، لیکن سعودیوں نے ممکنہ رد عمل کے خوف سے یہ امریکی خواہش پوری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسرائیل اور امریکہ کی آنکھوں کو کھٹکنے والے شہید عماد مغنیہ دمشق کے قلب میں ایک بم دھماکے میں شہادت کا جام نوش کر چکے ہیں۔
اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابقہ چیف ڈینی یاتوم (Dany Yatom) نے ایک اسرائیلی روزنامے یروشلم پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: 'عماد مغنیہ ایک بہت چھپا ہوا کردار تھا۔ وہ کسی کو انٹرویو نہیں دیتا تھا، اس کے چند ایک ہی فوٹو گراف ہیں ۔۔۔۔۔۔ وہ بہت ہی خاص صلاحیتوں کا مالک تھا اس کا ذہن ایک تخلیقی ذہن تھا وہ اپنے کئے ہوئے کاموں کا کوئی نشان تک نہیں چھوڑتا تھا'۔ گو کہ عماد مغنیہ کا نام مشہور نہیں تھا مگر یا توم اور اسرائیل کے چند ایک دوسرے ملٹری انٹیلی جنس آفیسروں کے بقول مغنیہ القاعدہ کے سربراہ اُسامہ بن لادن اور حتیٰ حسن نصر اللہ سے بھی خطرناک ترین شخصیت تھے۔ یاتوم کے بقول متذکرہ بالا دونوں شخصیات کسی نہ کسی طرح سیاسی میدان میں بھی ہیں جبکہ مغنیہ صرف اور صرف آپریشن تک محدود رہے۔
اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابقہ چیف ڈینی یاتوم (Dany Yatom) نے ایک اسرائیلی روزنامے یروشلم پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: 'عماد مغنیہ ایک بہت چھپا ہوا کردار تھا۔ وہ کسی کو انٹرویو نہیں دیتا تھا، اس کے چند ایک ہی فوٹو گراف ہیں ۔۔۔۔۔۔ وہ بہت ہی خاص صلاحیتوں کا مالک تھا اس کا ذہن ایک تخلیقی ذہن تھا وہ اپنے کئے ہوئے کاموں کا کوئی نشان تک نہیں چھوڑتا تھا'۔ گو کہ عماد مغنیہ کا نام مشہور نہیں تھا مگر یا توم اور اسرائیل کے چند ایک دوسرے ملٹری انٹیلی جنس آفیسروں کے بقول مغنیہ القاعدہ کے سربراہ اُسامہ بن لادن اور حتیٰ حسن نصر اللہ سے بھی خطرناک ترین شخصیت تھے۔ یاتوم کے بقول متذکرہ بالا دونوں شخصیات کسی نہ کسی طرح سیاسی میدان میں بھی ہیں جبکہ مغنیہ صرف اور صرف آپریشن تک محدود رہے۔
حزب اللہ کے تمام بڑے (Major) حملوں کا ماسٹر مائنڈ
یاتوم نے یہ کہا کہ حزب اللہ کے تمام بڑے (Major) حملوں کا ماسٹر مائنڈ بھی عماد ہی تھے۔ 1994 میں بیونس آئرس میں یہودیوں کے کمیونٹی سینٹر میں بم دھماکہ میں بھی 85، صہیونی مارے گئے اور اس سے ٢ سال قبل اسرائیلی سفارتخانے میں بم دھماکہ بھی (یاتوم کے بقول) عماد مغنیہ کا ہاتھ تھا۔ یہی نہیں بلکہ 2006 میں اسرائیلی فوجی الداد ریگیو (Eldad Reger) اور ایہود گولڈواسر (Ehud Goldwasser) کے اغوا کا ماسٹر مائنڈ بھی شہید عماد کے کھاتے میں ڈالا گیا۔ یاد رہے کہ متذکرہ دونوں فوجیوں کے اغوا کو بہانہ بنا کر اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا گیا تھا جو 33، روز جاری رہنے کے بعد اسرائیل کی شکست کی صورت میں ختم ہوئی۔
اسرائیلی انٹیلی جنس کے ماہرین کی نظر میں لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پر حملوں کا کھلم کھلا الزام عماد مغنیہ پر ہی آتا رہا۔ 1987 میں 18، اسرائیلی فوجی اور 1988 میں 20، اسرائیلی فوجی کہ جس کے بعد عماد مغنیہ لبنان سے روپوش ہو کر ایران چلے گئے تھے۔ 1989 میں کہ جب عماد لبنان میں موجود نہ تھے تو مرنے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد گر کر 2، عدد تک پہنچ گئی تاہم 1990 کے وسط سے، ان کے لبنان واپس آنے کے بعد اس تعداد میں پھر اضافہ ہونے لگ گیا۔
اسرائیلیوں کے حساب کتاب میں مغنیہ پر حملہ ایک بہت اہم سنگ میل کا حصول ہے اِن کے مطابق یہ حزب اللہ کے آپریشن کو کُند اور اسرائیل کی سیکیورٹی و اضیت کو اعتماد اور مضبوطی بخشے گا کیونکہ اسرائیل کی جانب سے شام پر ستمبر کے متوقع حملے میں اب ردّ عمل کا امکان صیہونیوں کو کم ہی نظر آ رہا ہے۔اسرائیلیوں نے عماد مغنیہ کی سیکیورٹی توڑ کر حزب اللہ، حماس اور جہاد اسلامی سمیت دنیا کے تمام مقاومتی گروہوں کو یہ ایک صاف اور واضح پیغام دیا ہے، خصوصاً جناب خالد مشعل کو، کہ جو دمشق کے کسی ایسے علاقے میں رہائش پذیر ہیں جہاں سے عماد مغنیہ کی شہادت گاہ کچھ زیادہ دُور نہیں۔
اسرائیلیوں کے مطابق سب سے اہم نکتہ حزب اللہ، ایران اور شام پر مشتمل مثلث کے لئے بھی یہ ایک شدید دھچکا ہے کہ اس مثلث کا اصلی روح رواں عماد مغنیہ ہی تھے۔ عماد کی عدم موجودگی حزب اللہ کے یونٹ 1800 کے لئے بھی ایک دھچکا ہے جو بقول اسرائیلی انٹیلی جنس 80، کی دھائی کے اواخر میں تشکیل پایا اور جس کے ذمہ سمندر پار آپریشن انجام دینا تھے نیز فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کو خصوصاً ویسٹ بنک اور غزہ کی پٹی کے فلسطینیوں کو تربیت فراہم کرتا ہے۔ ڈاکٹر ایتان آزانی (Dr. Eitan Azani) جو اسرائیلی انٹیلی جنس میں لبنانی ڈیسک کے سربراہ بھی رہے ہیں اور ہرزیلیا میں انسداد ہشت گردی کے ادارے کے ڈپٹی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بھی ہیں۔
اس کے بقول دُنیا کے تقریباً 50، ممالک میں حزب اللہ کا ایک فعال اور متحرک انفرا اسٹرکچر موجود ہے۔ ستمبر 2006 میں امریکہ کی داخلہ کمیٹی برائے بین الاقوامی تعلقات کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار کہ جس کا عنوان 'حزب اللہ کی بین الاقوامی رسائی' تھا، وہاں یہ معاملات بھی زیر بحث لائے گئے تھے کہ حزب اللہ اسرائیل جنگ کے خاتمے کے بعد اب امریکہ اور مغربی دنیا میں وہ کیا ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں جہاں حزب اللہ حملہ کرے گی۔ وہاں جو دستاویزات پیش کی گئیں ہیں جس سے حزب اللہ کے مسلح اور لمبے لمبے ہاتھ کہ جن کی رسائی سمندر پار ممالک تک تھی وہ مغرب کے لئے ایک بہت ہی بھیانک تصور تھا۔ حزب اللہ کی ان تمام صلاحیتوں کا قائم کرنے والے اور اپنی ہدایت دینے والے کا نام عماد مغنیہ کے طور پر آیا[2]۔
شہید عماد مغنیہ؛ ولایت کے علمدار
شہید عماد مغنیہ ایک ایسی عظیم الشان شخصیت کا نام ہے کہ جنہیں قرآن کریم کی اِس آیت ﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ کی اِس دُور میں عملی تفسیروں میں سے ایک تفسیر کہاجاسکتا ہے۔ ایک ایسی شخصیت کہ جس نے اپنے مولا و آقا اسد اللہ ،فاتح خیبر، حیدرِ کرار کی پیروی میں اپنی زندگی گزاری اور اپنی جان بھی اپنے آقا و مولا سید الشہداء امام حسینؑ کے راستے پر چلتے ہوئے اِسی راستے پر قربان کی وہ راستہ کہ جو نبوت کا راستہ ہے ،امامت کا راستہ ہے اور ولایت کا پاکیزہ راستہ ہے ۔
شہید ولایت کے سچے پیروکار اور ولایت کے علمدار تھے ۔ شہید عماد پوری دنیا کے حریت پسندوں اور مظلوموں کے لیے ایک اُمید اور عصرِ حاضر کی عالمی شیطانی طاقتوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب سمجھے جاتے تھے۔
شہید عماد مغنیہ کی شہادت حزب اللہ کی خدمت میں میری طرف سے ہدیہ
شہیدعمادمغنیہ کی والدہ گرامی جو کہ ایک عظیم خاتون اورحضرت زینب سلام اللہ علیہا کی حقیقی پیروکاراوراُن کی عظیم الشان سیرت کا عملی نمونہ تھیں، آپ فرماتی ہیں کہ’’ شہید عماد مغنیہ کی شہادت حزب اللہ کی خدمت میں میری طرف سے ہدیہ ہے‘‘۔ اور فرماتی ہیں کہ: حاج عماد نے تمام چیزیں شہید مصطفیٰ چمران سے سیکھیں، وہ شہید چمران کوکرداراوراخلاقیات میں نمونہ عمل بناتے ہوئے خود کوشہید چمران کا شاگرد سمجھتے تھے۔
شہید عماد کی والدہ محترمہ نے اِس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ کس طرح سے اپنے تین فرزندوں کی شہادت پر صبر کا مظاہرہ فرمایا؟ کہتی ہیں:’’حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا میرے لیے اور تمام شیعیان کے لیے اسوہ اورصبرکا نمونہ ہیں، جب بھی اُس عظیم بانو کی مصیبتیں یاد آتی ہیں تواپنے بیٹوں کی شہادت پر بے قراری اور شکوہ کرنے پر شرم محسوس ہوتی ہے‘‘۔ ناصرِ ولایت ،مالکِ اشترِزمان جنرل قاسم سلیمانی کہتے ہیں کہ:’’شہیدعمادمغنیہ کا نام دشمن کے لیے وحشت و رعب و دبدبہ اور دوستوں کے لیے نشاط کا باعث ہے‘‘[3]۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا تعزیتی پیغام
آخر میں شہید عماد مغنیہ کی شہادت پر ولی امرمسلمین جہان سیدعلی خامنہ ای حفظہ اللہ کاتعزیتی پیغام پیش خدمت ہے۔
بسم اللہِ الرحمٰنِ الرحیم
محترم بھائی حجۃالسلام والمسلمین سید حسن نصراللہ، مخلص، مجاہد اورفداکاربھائی جناب حاج عمادمغنیہ کی شہادت ،خود اُن کے لیے سراپا عشق اور جہاد فی سبیل اللہ کے جوش ولولہ سے پرُ تھی اور ایک عظیم مرتبہ اورسرانجامِ سعادت کی حامل ہے اور لبنانی قوم کے لیے بھی کہ جنہوں نے ایسےعظیم مرد کی پرورش کرکے آزادی کی طلب اور ظلم و ستم کے خلاف مبارزہ و مقابلے کے لیے پیش کیا جوسربلندی اور سرفرازی کے لیے سرمایہ ہے۔
اِس آزاد، فداکاراور برجستہ مرد کا فقدان اگرچہ تمام شریف انسانوں اوراُن تمام لوگوں کے لیے جواُنہیں پہچانتے تھے بالخصوص اُن کے محترم والدین، زوجہ اورپیارےبچوں اورعزیزواقارب اوردوستوں کے لیے دردناک ہے، لیکن زندگی اورموت اُن جیسے انسانوں کے لیے ایک حماسہ(عظیم کارنامہ) ہے جو قوموں کوبیدار کرتا ہے اورجوانوں کے لیےایک مثالی نمونہ بن جاتاہے اورروشن آفاق اورتمام انسانوں کومنزل تک پہنچنے کے لیے رہنما بن جاتا ہے۔
خونخوارصہیونی اورتمام مجرمان جان لیں کہ عمادمغنیہ جیسےشہداءکےپاکیزہ خون سے سینکڑوں عماد پیدا ہوتے ہیں اور ظلم، فساد اور طغیان کے سامنے مقاومت اور مجاہدت دوگنی کردیتے ہیں۔ اِس محترم شہید جیسےمرد کہ جنہوں نے اپنی زندگی، آسائش اور اپنی مادّی زندگی کے فوائد کو مظلوم کے دفاع اور ظلم واستکبار سے مبارزے پر فدا کردیا، یہ چیزبہت قدروقیمت کی حامل ہے کہ جس کی تعظیم میں تمام انسانی ضمیریں اپنے سروں کو جھکا دیتی ہیں۔
خدا کی رحمت و خوشنودی اُس (شہید) پر اور تمام راہِ حق کے مجاہدین پر ہو۔میں اِس عظیم شہادت پرآپ کو اور اُن کے محترم خانوادے کو اور حزب اللہ کے سرفراز جوانوں اور مقاومت کو اور تمام لبنانی قوم کو مبارکباد اور تسلیت عرض کرتا ہوں۔ و السلام علیہ و علیکم و رحمۃ الله سید علی خامنہ ای[4]۔
شہید عماد مغنیہ بہت ساری فتوحات کے خالق تھے
جب کے شہید عماد مغنیہ بہت ساری فتوحات کے خالق تھے لیکن کبھی بھی اپنی تعریف نہیں کی ایک مرتبہ لبنان کے جنوب میں میٹینگ ہوئی اس کے باوجود کہ میٹینگ اراکین نے ان کا نام بہت سنا تھا لیکن پہچانتے نہیں تھے۔ایک مرتبہ اراکین میں سے ایک شخص نے اعتراض کیا کہ تم کون ہو جو ہر روز میٹینگ میں آتے ہو اور چلے جاتے ہو؟ ان برتنوں کو بھی دھو،عماد مغنیہ نے بات مان کر کام کیا بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حاج رضوان(عماد مغنیہ) ہے۔ شہید قاسم سلیمانی کا شہید عماد مغنیہ کے متعلق بیان[5]۔
شہید عماد مغنیہ کے خون کا بدلا صیہونی حکومت کا خاتمہ ہے
ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے القدس بریگیڈ کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی نے کہا ہے کہ ایران، فلسطین اور لبنان میں صیہونی سازشوں میں شہید ہونے والے ہرعماد مغنیہ کے خون کا بدلا میزائل داغنا اور کسی ایک کو ہلاک کرنا نہیں بلکہ بچوں کی قاتل غاصب صیہونی حکومت کا ہی ختم ہونا ہے۔ شہید عماد مغنیہ کے خون کا بدلا صیہونی حکومت کا خاتمہ ہے، جنرل قاسم سلیمانی مقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے کمانڈر عماد مغنیہ، جو حاج رضوان سے معروف تھے، بارہ فروری دو ہزار آٹھ کو دمشق میں صیہونی حکومت کی جاسوسی کی تنظیم موساد کی ایک دہشت گردانہ کارروائی میں شہید ہو گئے تھے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے القدس بریگیڈ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے شہید عماد مغنیہ کی دسویں برسی کے موقع پر تہران میں ایک بیان میں کہا کہ شہید عماد مغنیہ کا نام، دشمن کے لئے رعب و دبدبے اورخوف کا باعث اور دوستوں کے لئے شوق و نشاط کا موجب تھا۔ جنرل قاسم سلیمانی نے کہا کہ آج غزہ اور لبنان، غاصب صیہونی حکومت میں مسلسل اضطراب وبے چینی کا ذریعہ ہیں اور فلسطین سے داغے جانے والے ہر میزائل میں شہید عماد مغنیہ کی انگلی کا نشان دیکھا با سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی بہادری ،شجاعت، دلیری اور چند خطرناک مشن و آپریشن میں کامیابی کے بعد انہیں حزب اللہ کی اعلی شخصیات کی حفاظت کرنے والے گارڈز کا کمانڈر بنا دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدامات اس کے اضمحلال و زوال کے آئینہ دار اور خود کو بچانے کی اس کی آخری کوشش ہے[6]۔
حوالہ جات
- ↑ صابر کربلائی، مرکزی ترجمان فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان، عماد مغنیہ، تحریک آزادی فلسطین کا عظیم شہید- شائع شدہ از: 13 فروری 2014ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 19 فروری 2025ء۔
- ↑ شہید الحاج عماد مغنیہ کا مختصر تعارف- شائع شدہ از: 16 فروری 2012ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 19 فروری 2025ء۔
- ↑ شہید عماد مغنیہ؛ ولایت کے علمدار- اخذ شدہ بہ تاریخ: 19 فروری 2025ء۔
- ↑ [https://urdu.khamenei.ir/news/4091 حزب اللہ کے سینئر رہنما الحاج عماد مغنیہ کی شہادت پر تعزیتی پیغام- اخذ شدہ بہ تاریخ: 19 فروری 2025ء
- ↑ شہید عماد مغنیہ بہت ساری فتوحات کے خالق تھے - شائع شدہ از: 16 ستمبر 2021ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 19 فروری 2025ء۔
- ↑ شہید عماد مغنیہ کے خون کا بدلا صیہونی حکومت کا خاتمہ ہے، جنرل قاسم سلیمانی- شائع شدہ از: 16 فروری 2018ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 19 فروری 2025ء۔