اخوان المسلمین تیونس

    ویکی‌وحدت سے
    اخوان المسلمین تیونس
    اخوان‌المسلمین تونس.jpg
    پارٹی کا نامالنهضه جماعت
    قیام کی تاریخ1972 ء، 1350 ش، 1391 ق
    بانی پارٹیراشد الغنوشی
    پارٹی رہنما
    • صالح کرکر
    • جمال العوی
    • صادق شورو
    • محمد القلوی
    • محمد العکروت
    • محمد بن سالم
    • حبیب اللوز
    • نورالدین العرباوی

    النهضہ تحریک تیونس میں بین الاقوامی اخوان المسلمین سے متاثر تنظیم ہے جسے اس ملک میں اخوان المسلمین کی شاخ کها جاسکتا هے. النهضہ تحریک ان افراد اور شخصیات کے توسط سے تشکیل پائی ہے جو اخوان المسلمین مصر کے راہنماؤں اور ان کی طرف سے نشر ہونے والے جرائد سے متاثر تھے. اُمت ِ اسلامیہ کے مسائل و مشکلات میں ہمدردی‘ فلسطین سمیت دُنیا کے مقبوضہ علاقوں کی آزادی کی حمایت‘ عورت کا احترام اور اقتصادی‘ سماجی ‘ ثقافتی اور سیاسی میدانوں میں اس کے مثبت کردار کی توثیق اس تحریک کے اہم اہداف میں شامل ہیں۔

    تاسیس

    النهضہ تحریک ایک معتدل اسلام جماعت ہے جو 1981 ءمیں "اسلامی رجحان تحریک" کے نام سے قائم کی گئی تھی اور 1989 ءمیں اس کا نام تبدیل کرکے "النهضہ پارٹی" رکھ دیا گیا۔ تیونس میں موجودہ اسلامی تحریک کا آغاز چند پرُجوش نوجوانوں نے ۱۹۶۹ء میں کیا‘ جن میں استاد راشد الغنوشی اور شیخ عبدالفتاح مورو سرفہرست ہیں۔ تحریک کا آغاز مساجد اور تعلیمی اداروں سے ہوا۔ تحریک اسلامی نے حالات کے تقاضوں کے پیش نظر مختلف نام اپنائے۔

    70کے عشرے میں ’’الجماعۃ الاسلامیہ‘‘ 80 کی دہائی میں ’’حرکۃ الاتجاہ الاسلامی‘‘ اور ۹۰ کے عشرے کی ابتدا سے ’’حرکۃ النہضۃ‘‘ کا نام اختیار کیا۔[1] اس کے نمایاں بانیوں میں فلسفہ کے استاد راشد غنوشی اور وکیل عبدالفتاح مورو شامل تھے، جن کے ساتھ بعد میں صالح کرکر، حبیب المکنی اور علی العراید جیسے سرگرم کارکن بھی شامل ہوگئے۔ ابتدا میں، اس گروہ کی سرگرمیاں مساجد میں محافل کے انعقاد اور قرآن کریم کی تلاوت کی انجمنوں میں شرکت تک محدود تھیں۔ شروع میں، اس گروہ کی سرگرمیوں کو اس وقت کی واحد حکومتی جماعت، مشروطہ سوشلسٹ پارٹی، کی طرف سے بالواسطہ پذیرائی ملی، کیونکہ وہ اسلامی تحریک کو بائیں بازو کے حاوی مخالفین کے خلاف ایک مددگار عنصر کے طور پر دیکھتی تھی۔ 1974 ءمیں، اس گروہ کو جریدہ المعرفہ شائع کرنے کی اجازت دی گئی، جو بعد میں تحریک کے نظریات کے اظہار کا ذریعہ بن گیا۔ اگست 1979 ءمیں، اس گروہ کی باضابطہ تاسیس کا خفیہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں اس کا آئین منظور کیا گیا اور تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا۔

    تحریک کی قیادت

    راشد الغنوشی نے 28 مئی 1989 ءکو الجزائر کے مقصد سے تیونس چھوڑ دیا، اور صدیق چورو نے اپریل 1988 ءسے تحریک کے سیاسی دفتر کی صدارت سنبھال لی۔ 1990ء کے اوائل سے، یہ تحریک حکومت کے ساتھ شدید تصادم میں آگئی، اور خلیج فارس جنگ کے بحران کے دوران یہ تنازع اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے تحریک کے ارکان اور حامیوں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں 8000 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اگست 1992 ءمیں، ایک فوجی عدالت نے تحریک کے 256 رہنماؤں اور ارکان کو عمر قید کی سزا سنائی۔ اگلے سالوں میں، انسانی حقوق کی تنظیموں کی وسیع تنقید کے باوجود، حکام نے تحریک سے وابستہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھی۔ اگرچہ زیادہ تر قیدیوں کو رہا کر دیا گیا، لیکن تیونس میں اس تحریک کی سرگرمیاں مکمل طور پر ممنوع رہیں، اور اس کی معروف سرگرمیاں صرف یورپ اور شمالی امریکہ میں بیرون ملک مقیم تیونسیوں تک محدود رہیں۔ فی الحال، تحریک کی قیادت راشد الغنوشی کے پاس ہے، جو لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ ولید البنانی اس کے نمائندہ ہیں۔ اس تحریک کی سرگرمیوں کا آغاز راشد غنوشی کی قیادت میں ہوا، اور ان کے بعد کئی دیگر افراد نے اس منصب کو سنبھالا، جن میں مندرجه ذیل افراد شامل ہیں:

    • رؤوف بولعابی؛
    • فاضل البلدی؛
    • حمادی الجبالی؛
    • صالح کرکر؛
    • جمال العوی
    • صادق شورو؛
    • محمد القلوی؛
    • محمد العکروت؛
    • محمد بن سالم؛
    • حبیب اللوز؛
    • نورالدین العرباوی؛
    • ولید البنانی.

    تحریک کے اهم اهداف

    دعوت و تبلیغ‘ مساجد کی آبادکاری‘ غیر اسلامی رسوم و رواج کا خاتمہ‘ نوجوانوں کو تعلیم سے آراستہ کرنا‘ تاکہ وہ مغربی فکری یلغار سے محفوظ رہیں اور ان کا اسلام پر‘بحیثیت عقیدہ و نظام‘ اعتماد بحال کیا جا سکے۔ غریبوں اور پسماندہ طبقوں کے سماجی مسائل میں دل چسپی‘ محنت کشوں اور طالب علموں کی یونینوں میں شرکت‘ نوجوانوں کی ثقافتی و علمی سوسائٹیوں اور کلبوں میں شمولیت‘ جمہوریت ‘ سیاسی آزادیوں اور حقوقِ انسانی کے احترام کے لیے سیاسی جدوجہد کرنا‘ افریقی ‘ عرب اور مسلم ممالک کے ساتھ تعاون--- اُمت ِ اسلامیہ کے مسائل و مشکلات میں ہمدردی‘ فلسطین سمیت دُنیا کے مقبوضہ علاقوں کی آزادی کی حمایت‘ عورت کا احترام اور اقتصادی‘ سماجی ‘ ثقافتی اور سیاسی میدانوں میں اس کے مثبت کردار کی توثیق‘ تاکہ معاشرے کی ترقی میں وہ بھرپور حصہ لے سکے۔ وغیره النهضه جماعت کے اهم اهداف اور مقاصد میں شامل هیں۔ النهضه تحریک ملک میں تبدیلی لانے کی خاطر‘ پرُتشدد ذرائع کے استعمال پر یقین نہیں رکھتی۔ وہ سمجھتی ہے کہ سیاسی و فکری اختلافات کے حل کے لیے اسلحے پر انحصار اُمت اسلامیہ کی پس ماندگی اور اس کے مسلسل بحرانوں کا سبب ہے۔ اس کے برعکس وہ گفتگو‘ مذاکرات اور پرُامن بقاے باہمی پر یقین رکھتی ہے۔ اس کے نزدیک فوج کا کام ملک اور قوم کا دفاع ہے نہ کہ انقلاب برپا کرنا۔ وہ دیگر اقوام کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی تہذیبی مکالمے اور مشترکہ تعاون کی قائل ہے۔[2]

    تیونس اخوان المسلمین کے فروغ میں اسلامی مفکرین کا کردار

    اسلامی زیتونہ یونیورسٹی کے اصلاح پسند علماء اور مفکرین نے تیونس میں جدیدیت پسند اور اصلاحی اسلامی فکر کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی فکری، ثقافتی اور مذہبی محافل نے خطے کے علمی حلقوں پر گہرا اثر ڈالا۔ تیونس کے علما اور نوجوان مسلمانوں کی اسلامی تحریک نے عوامی مزاحمتی تحریکوں کی تنظیم اور مغربی و نوآبادیاتی نظریات کے خلاف قومی مزاحمتی ڈھانچے کی تکمیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ حسن البنا اور دیگر اخوانی رہنماؤں، جیسے کہ شام کے السباعی، کے نظریات دوسری جنگ عظیم کے بعد تیونس کے مذہبی نوجوانوں میں مقبول ہوئے۔ حبیب بورقیبہ کی مغرب نواز اور لبرل پالیسیوں کے خلاف، تیونس میں اسلامی تحریک اور اسلام پسند عناصر نے ترقی کی۔ راشد غنوشی، جو 1941ء میں جنوبی تیونس کے ایک شہر میں پیدا ہوئے اور سوربون یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے، حسن البنا، سید قطب، اور ابو الاعلی مودودی کے نظریات سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے تیونس میں ایک منظم اسلامی سیاسی تحریک کی تشکیل اور تنظیم میں اہم کردار ادا کیا۔ تحریک النهضہ کا فکری ڈھانچہ اخوان المسلمین کے مفکرین جیسے حسن البنا، سید قطب، السباعی اور ابوالاعلی مودودی کے نظریات سے متاثر رہا ہے۔ اسی طرح، الجزائر کے ممتاز مسلم مفکر مالک بن نبی کی فکر اور نظریات نے النهضہ کے رہنماؤں کی فکری اور نظریاتی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

    تحریک سے الگ ہونے والے گروہ

    سنه 1970 ءاور 1980 کی دہائیوں میں، کئی گروہ اور شخصیات تحریک النهضہ سے علیحدہ ہوگئیں، جن میں صلاح الجورشی، احمیدہ النیفر، اور زیاد کریشان شامل ہیں۔ علیحدگی کے بعد، انہوں نے ایک اصلاح پسند اور جدیدیت پسند اسلامی گروہ تشکیل دیا، جسے "الاسلامیین التقدمیین" (ترقی پسند اسلام پسندگروه) کہا جاتا ہے۔ اس گروہ کا ترجمان ایک مذہبی دانشورانہ جریدہ تھا، جس کا نام "(15 + 21)" تھا، جو 15ویں صدی ہجری اور 21ویں صدی عیسوی کے آغاز کی علامت تھا۔ اس گروہ نے پرامن سیاسی حکمت عملی ترک کرکے حکومت تیونس کے خلاف مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ طلائع الفداء نامی گروہ، جس کی قیادت الحبیب الاسود کر رہے تھے، النهضہ کا ایک حصہ تھا، لیکن اسے تیونس کی سیکیورٹی فورسز نے سختی سے کچل دیا۔ بعد ازاں، جب آزاد افسران (Free Officers) اقتدار میں آئے اور ان کا اخوان المسلمین سے تنازع بڑھا، تو اخوانی رہنما الورتلانی کو مصر میں اپنی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول نہ ملا، جس کے باعث وہ لبنان منتقل ہوگئے، جہاں 1959 ءمیں ان کا انتقال ہوا۔

    اخوان المسلمین اور تیونس سے ان کا تعلق

    تیونس، الجزائر اور مراکش کی طرح فرانسیسی استعمار کے تحت تھا۔ فرانس نے الجزائر پر قبضے کے بعد تیونس پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی اور 1881 ءمیں باضابطہ طور پر اسے اپنی نوآبادی بنا لیا۔ فرانسیسی افواج نے تیونس کی کئی قبائلی بستیوں پر حملے کیے اور وہاں اپنی حکمرانی قائم کی۔ اخوان المسلمین کی بنیاد سے ہی اس تنظیم نے اسلامی ممالک کو نوآبادیاتی طاقتوں سے آزاد کرانے کے لیے جدوجہد کی۔ حسن البنا نے یہاں تک کہ ایک بین الاقوامی رابطہ اداره ائم کیا تاکہ ان ممالک کی مدد کی جا سکے جو اپنی آزادی کی راہ تلاش کر رہے تھے۔ اس ادارے نے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں عرب اور اسلامی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ مصر کے برادر ممالک کے عوام کو مدعو کیا گیا۔ اس کانفرنس میں طرابلس، الجزائر، تیونس، مراکش اور فلسطین کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا، خاص طور پر اتحادی ممالک کے ان امور پر مؤقف اور ان ممالک کے حقوق کی مخالفت پر بھی غور کیا گیا۔ اس کانفرنس میں مختلف ممالک کے دانشوروں اور عوام نے خطاب کیا، اور اس اجلاس کے ایک اہم مقرر عبدالمجید ابراہیم صالح پاشا تھے۔ اجلاس کے اختتام پر حاضرین نے مندرجہ ذیل فیصلے کیے: 1. لیبیا کے عوام اور ان کے رہنماؤں کی حمایت کی جائے گی، جو لیبیا کی آزادی، اتحاد اور عرب اتحاد میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔ 2. فرانس کی وحشیانہ زیادتیوں کی مذمت کی جائے گی، جن میں تیونس اور مراکش میں قتل و غارت، تباہی، آزادی کی قید، آزادیوں کو دبا دینا، اور عوام کی زندگی، عزت اور روزگار کو نقصان پہنچانا شامل ہیں۔ اسی طرح، اسپین کے اقدامات کو بھی مراکش میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا۔ 3. فرانس کو خبردار کیا جائے گا کہ عرب اور اسلامی دنیا اس کے وحشیانہ طریقوں کے خلاف ہونے والی مسلسل احتجاجات اور مذمتوں سے تھک چکی ہے۔ اگر فرانس نے اپنے ظالمانہ سلوک، جس میں انسانیت کے بنیادی حقوق کو نظرانداز کیا جاتا ہے، کو ختم نہ کیا تو اس کا نتیجہ اقتصادی اور ثقافتی بائیکاٹ کے طور پر سامنے آئے گا، اور اس کا غصہ صرف اسی حد تک نہیں رک جائے گا۔

    النهضه تحریک کے لئے درپیش مسائل

    النهضه تحریک کو تیونس کی سیاسی، سماجی، اقتصادی اور حزبی صورت حال کی وجه سے مختلف قسم کے مسائل کا سامنا هے جن میں چند اهم مسائل کی طرف اشاره کرتے هیں:

    سیاسی صورت حال :

    آزادی‘ جمہوریت اور حقوق انسانی کے سرکاری نعروں کے باوجود سیاسی صورت حال یہ ہے کہ حکمران دستور پارٹی اور مملکتی ادارے سیاسی زندگی پر مسلط ہیں‘ جب کہ تمام سیاسی اور سماجی قوتوں کو کچلا جا رہا ہے۔ حکمران مخالف سیاسی پارٹیوں کو ’’کنارے پر لگانے‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہیں اور اس سلسلے میں تشدد کے بدترین ذرائع اختیار کر رہے ہیں۔ حکومت نے حزب اختلاف کے خلاف اطلاعاتی و سیاسی سرگرمیاں تیز تر کر رکھی ہیں‘ ان کے اخبارات بند کر دیے ہیں‘ ان کے اجتماعات پر پابندی ہے ‘ ان کے قائدین کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے۔ ان تمام قومی شخصیات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے جو کسی بھی طرح سے ریاست کا مدّمقابل بن سکتی ہیں۔ ان تمام اداروں کو ختم یا بے وقعت کیا جا رہا ہے جو عوام کو یک جا کرسکتے ہیں یا حکمران اقلیت کے اختیارات کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں ہیں‘ جیسے جنرل لیبر فیڈریشن ‘ طالب علموں کے اتحاد‘ تونسی رابطہ براے تحفظ حقوقِ انسانی‘ آزادی صحافت اور مساجد۔ مقننہ‘ انتظامیہ‘ عدلیہ اور محکمہ اطلاعات کو یک جا کیا جا رہا ہے تاکہ اس کا مرکزی کنٹرول فردِواحد(صدرمملکت) کے ہاتھوں میں ہو۔ حکمران ٹولے نے اپریل ۱۹۸۹ء میں پارلیمانی انتخابات کے نتائج میں دھاندلی کے ذریعے قومی حق کی توہین کی ہے۔ ان انتخابات میں عوام نے بھاری اکثریت سے تحریک النہضۃ کی حمایت کی تھی جس نے بالواسطہ طور پر انتخاب میں حصہ لیا تھا۔

    قانونی پیچیدگیاں:

    تیونس کا قانونی نظام‘ ظالمانہ قوانین پر مبنی ہے۔ یہ ظلم و زیادتی کے تمام مرتکب افراد کو مناسب سہارا فراہم کرتا ہے۔ چند ظالمانہ قوانین یہ ہیں: سیاسی پارٹیوں کے دینی بنیاد پر تسلیم کیے جانے کی ممانعت‘ سیاسی پارٹیوں پر وزیرداخلہ کا تسلّط‘ مخصوص قانونی شق کی رُو سے مساجد‘ جامعات‘ صحافت‘ انجمنوں‘ یونینوں اور انتخابات کے تمام مراحل کا وزارتِ داخلہ کے تحت ہونا۔ آزادیِ اختیارِ لباس میں مداخلت‘ عورتوں کے لیے حجاب اوڑھنے کی ممانعت کا قانون اور اس کے نتیجے میں باحجاب طالبات و خواتین کو تعلیمی اداروں اور ملازمتوں سے برطرف کرنا اور بے پردگی کی حوصلہ افزائی وغیرہ۔ اگرچہ ملک کے دستور میں نقل و حرکت کی آزادی کا اقرار کیا گیا ہے‘ تاہم قانوناً وزیرداخلہ کو نقل و حرکت پر پابندی یا اجازت کا اختیار حاصل ہے۔ چنانچہ لاکھوں شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ہے۔ انجمن سازی وزیرداخلہ کے رحم و کرم پر ہے۔ چنانچہ سیکڑوں انجمنیں اور اخبارات حقِ وجود سے محروم کردیے گئے ہیں۔ وزارتِ داخلہ کے تھانوں میں روزانہ انسانوں کو تختہِ مشق ستم بنایا جاتا ہے اور یوں حقوقِ انسانی کی توہین کی جاتی ہے۔

    ثقافتی مسائل:

    راے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے حکومت ِ تیونس عربی اسلامی تشخص کا نعرہ بلند کرتی ہے لیکن عملاً دین‘ اخلاق اور تحریک نہضۃ کو کچلنے کے لیے حکومت اپنے منصوبے پر سختی سے عمل کر رہی ہے۔ حکومت اپنی سب سے بڑی سیاسی مخالف حرکۃ النہضۃ پر جو سب سے بڑا الزام لگاتی ہے وہ ہے اس کا اسلامی تشخص‘ مگر دوسری طرف اس نے نہضۃ کے کافر ہونے کے فتوے بھی صادر کروائے ہیں۔ قانوناً تمام مساجد کو براہِ راست مملکت کی زیرنگرانی کردیا گیا ہے اور ان میں علما کرام کو عوام کی رہنمائی سے روک دیا گیا ہے۔ عمومی اور تربیتی اداروں کی تمام مساجد کو بند کر دیا گیا ہے جو ایک ہزار سے زیادہ ہیں۔ بہت سے اقدامات کے ذریعے عربی اسلامی تشخص کو ختم کیا جا رہا ہے۔ حکومت بائیں بازو کے بے دین‘ اباحیت پسند اور سابق کمیونسٹوں کو تمام اداروں پر مسلط کر رہی ہے جو علانیہ نظریاتی تخریب کاری کے مرتکب ہو رہے ہیں‘ جب کہ ہزاروں اسلام پسند طلبہ اور سیکڑوں اساتذہ کو تحریک اسلامی کے حامی یا ہمدرد ہونے کے الزامات کے تحت تعلیمی اداروں سے نکال دیا گیا ہے۔ حکومت بائیں بازو کے انھی عناصر کو ساتھ ملا کر‘ دین اسلام اور معاشرتی قدروں کو پامال کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کی کسی بھی ملک میں دورِاستعمار میں بھی مثال نہیں ملتی۔ ایک مکمل ثقافتی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ ابن علی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد تاریخی تعلیمی ادارے جامع الزیتونہ وغیرہ میں درس کی اجازت دی تھی مگر اب یہ اجازت واپس لی جا چکی ہے۔ قرآن کریم کی تجوید کے مدرسے بند کر دیے گئے ہیں۔تمام غیر ملکی اسلامی رسالوں اور پرچوں کی ملک میں آمد ممنوع ہے۔ اسلامی کتب کی درآمد پر بھی پابندی عائد ہے اور ان کتابوں کو فروخت کرنے والے کتب خانوں کو بند کر دیا جاتا ہے۔ مارکسی عناصر اور سیکورٹی آفیسرز پر مشتمل قومی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو کتب خانوں کی پڑتال کرتی ہے اور انھیں اسلامی کتابوں سے ’’پاک‘‘ کرتی ہے۔ اس انتہائی سرگرم کمیٹی کو وزارتِ ثقافت خصوصی تعاون فراہم کرتی ہے۔

    صہیونیت کا پھیلاؤ:

    تیونس میں صہیونیوں نے اپنے کئی کلب قائم کر رکھے ہیں اور وہ (کم از کم تین بار) فلسطینی قائدین پر حملے کر چکے ہیں۔ وزارتِ داخلہ کا سیکرٹری اور کئی اعلیٰ عہدے دار بھی موساد کے ایجنٹ ہیں۔ اطلاعات و ثقافت کے میدانوں میں یہودی اثر و نفوذ بڑھ رہا ہے۔ صہیونی مالی ادارے تیونس کی فلم انڈسٹری کی مالی امداد کر رہے ہیں چنانچہ فلموں میں عریانی‘ بے حیائی اور اقدار سے آزادی بڑھ رہی ہے۔ اسلام کی مخالفت کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے‘ آنحضورؐ اور صحابہؓ کی توہین کی جا رہی ہے۔

    امن و امان کی صورت حال:

    تیونس کا نظام دو بنیادوں پر چل رہا ہے: ۱- بیرونی قوتوں کی دست نگری و ماتحتی‘ ۲- پولیس کا ظالمانہ نظام۔ اس کے اثرات یہ ہیں: وزارت داخلہ کا بجٹ ہر وزارت سے زیادہ ہے۔ پولیس کو ’’فری ہینڈ‘‘ دیا گیا ہے کہ وہ جتنا چاہیں‘ مخالفین پر تشدد کریں‘ جیل میں ڈالیں‘ جان سے مار ڈالیں۔ حقوقِ انسانی کی ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں کے احتجاج کے باوجود‘ قتل و تشدد میں ملوث ایک بھی شخص کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں آئی۔ ۱۹۹۰ء اور ۱۹۹۲ء کے دوران صرف اسلامی تحریک کے گرفتارشدگان کی تعداد ۳۰ ہزار تھی۔ اس کے بعد بھی تفتیش اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تشدد کے دوران شہید ہونے والوں کی تعداد ۵۰ ہے‘ ان میں سے زیادہ تر کو‘ ان کے گھر والوں کو بتائے بغیر دفن کر دیا گیا۔ تحریک نہضۃکے کئی قائدین‘ قیدِتنہائی میں رکھے گئے ہیں۔ وہ رابطے اور اطلاعات کے ہر ذریعے سے محروم ہیں۔ انھیں علاج معالجے کی سہولت بھی مہیا نہیں کی جا رہی۔ وہ سوئِ تغذیہ کا شکار ہیں اور زندگی کی ہر سہولت سے محروم ہیں۔ انھیں مکمل قیدتنہائی میں پڑے۴ ہزار دن سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ یہ حضرات اپنی مظلومیت کے اظہار کے لیے کئی بار بھوک ہڑتال کر چکے ہیں۔ یونی ورسٹیوں اور تعلیمی اداروں پر پولیس کا مسلسل محاصرہ اور قبضہ ہے۔ یونی ورسٹی ہوسٹلوں پر رات کے وقت حملے ‘ طلبہ اور اساتذہ کو دق کرنا اور طلبہ پر فائرنگ ایک معمول بن چکا ہے۔ طلبہ کی تنظیم ’’الاتحاد العام التونسی لطلبۃ‘‘ کو کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ حکومت تیونس نے بہت سے لوگوں کو اپنا مخبر اور جاسوس بنا رکھا ہے جواسے ہر طرح کی اطلاعات دیتے ہیں ۔ ان میں دکانوں‘ اداروں اور محلوں کے چوکیدار ‘ ٹیکسی ڈرائیور ‘ قہوہ خانوں کے مالک‘ بلدیہ کے ملازم اور حکمران پارٹی کے ارکان شامل ہیں۔[3]

    انتها پسندی کی مخالفت

    النہضۃ اسلامی اور غیر اسلامی عناصر کے ساتھ کشیدگی کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت (Dialouge) پر زیادہ یقین رکھتی ہے، اور خاص طور سے اس وقت کی صورتحال میں ٹکراؤ نہ صرف تیونس میں جمہوریت کے لیے بلکہ اسلام کے لئے بھی بہت بڑا خطرہ ہے۔ تیونس کی جمہوریت کو ان تین طرح کے عناصر سے خطرہ تو ہے لیکن وہ اب ذہنی لحاظ سے بہت ہی پختہ ہو چکی ہے اور تیونس کی حکومت ،سیاستداں ،تعلیم یافتہ نوجوان اتنے حساس بن چکے ہیں کہ وہ اس طرح کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ،جس کا اظہار راشد الغنوشی نے ان الفاظ میں کیاہے: \”مجھے اس بات پر پورا یقین ہے کہ تیونس میں انتہاپسندی کسی بھی صورت میں اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو گی،کیوں کہ عوام متحد ہیں اور تشدد سے سخت نفرت کرتے ہیں اور تیونس کے لوگ پرامن ہیں،اس لئے دہشت گردوں کی ہر ایک کارستانی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام کے اتحاد میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے،اور ہمیں اس بات پہ اطمینان ہے کہ تیونس کے پاس ایک منظم اورتجربہ کار فوج ہے اور اس کے پاس پاس اپنا ایک پرامن نظام ہے جس کی پشت پر ایک حوصلہ مند عوام ہے جو اپنے امن اور اپنے کامیاب جمہوری سفر کے لئے کمر بستہ ہے،یقیناًفوج اور عوام کی یکجہتی اور مضبوطی سے انتہاپسندی کی ہر کوشش کو خاک میں ملادیا جائے گا تیونس کی حکمراں جماعت النہضۃ اور دیگر سیاسی جماعتوں نے موجودہ اضطرابی حالات سے نکلنے کے لئے قومی مذاکرات کی پیشکش کی ہے، جس پر چند مخالف سیاسی جماعتوں کے علاوہ سب نے اتفاق کیا ہے، اور با قاعدہ یکم نومبر سے قومی مذاکرات کا آغاز بھی ہوگیا ہے۔النہضۃ حکومت سے دست برداری اور ایک عبوری حکومت کی تجویز کے بجائے قومی مذاکرات کو عدم استحکام سے نکلنے کا واحد حل سمجھتی ہے۔اس کا ماننا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے اشتراک اور تعاون سے ہی ملک کو تعمیر وترقی اور استحکام بخشا جا سکتا ہے۔الشرق الاوسط کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں راشد الغنوشی نے کہا کہ\”ابھی تک ہمیں یہ نہیں محسوس ہوا کہ سیاسی حکومت کی جگہ ٹیکنوکریٹ حکومت قائم کرنے کی ضرورت ہے،پھر ان انتخابات کا کیا حاصل اگر اان کے ذریعہ قائم کی گئی حکومت کو برقرار نہ رکھا جائے۔[4]

    1. اسلامی تیونس: مسائل اور پیش رفت www.tarjumanulquran.org تاریخ درج شده: جنوری/2002ء تاریخ اخذ شده: 15/فروری/ 2025ء
    2. مذکوره حواله
    3. مذکوره حواله
    4. انقلاب تیونس اور النہضۃ کا سیاسی سفر rafeeqemanzil.com تاریخ درج شده: دسمبر/2013 ء تاریخ اخذ شده: 15/فروری/ 2025ء