مندرجات کا رخ کریں

کوفہ

ویکی‌وحدت سے
فائل:.jpg

کوفہ ، عراق کے اہم شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر بغداد سے تقریباً 170 کلومیٹر جنوب میں صوبۂ نجف میں واقع ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں تعمیر ہونے والی مسجد کوفہ اس شہر کی اہم ترین عمارتوں میں شمار ہوتی ہے اور شیعہ مسلمانوں کے لیے ایک مقدس زیارت گاہ ہے۔ ایک عرصے تک یہ شہر امام علی بن ابی طالب کے دارالخلافہ کی حیثیت رکھتا تھا، اسی وجہ سے سامرا، کربلا، کاظمین اور نجف کے ساتھ شیعوں کے نزدیک اسے خاص اہمیت حاصل ہے۔ عرب مردوں کے سر پر پہنا جانے والا رومال، جسے چفیہ کہا جاتا ہے، اسی شہر سے منسوب ہے۔

ابتدائی دو صدیوں میں کوفہ نہایت اہمیت کا حامل تھا، لیکن بعد کے ادوار میں سیاسی اور اقتصادی عوامل کے باعث اس کی اہمیت کم ہوتی گئی اور بغداد و نجف جیسے شہر زیادہ نمایاں ہو گئے۔ شیعہ روایات کے مطابق مستقبل میں کوفہ دوبارہ مرکزِ توجہ بنے گا اور ظہور کے بعد حضرت مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حکومت کا مرکز یہی شہر ہوگا۔

وجہ تسمیۂ کوفہ

کوفہ کے نام کی وجہ کے بارے میں متعدد اقوال موجود ہیں۔ ایک قول کے مطابق ’’کوفہ‘‘ اس مقام کو کہتے ہیں جہاں ریت اور کنکریاں ملی جلی ہوں [1]۔ مقدسی کے مطابق اس علاقے کی زمین کی ساخت اسی نوعیت کی ہے، اس لیے اسے کوفہ کہا گیا [2]۔

ایک اور قول یہ ہے کہ چونکہ یہ علاقہ دائرے کی شکل میں تھا یا یہاں دائرہ نما ریتیلے ٹیلے موجود تھے، اس لیے اسے کوفہ کہا گیا۔ بعض روایات کے مطابق سعد بن ابی وقاص نے فتحِ قادسیہ کے بعد اپنی فوج کو اس مقام پر جمع کرتے ہوئے کہا:

’’تَکَوَّفُوا فِی ہٰذَا الْمَوْضِع‘‘ (اس جگہ جمع ہو جاؤ)، اور اسی لفظ سے ’’کوفہ‘‘ کا نام وجود میں آیا [3]۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں موجود ایک چھوٹے پہاڑ ’’کوفان‘‘ کی نسبت سے اس شہر کا نام کوفہ پڑا۔

تاریخی پس منظر

شیعہ اور اہل سنت کی بعض روایات کے مطابق اس شہر کی تاریخ حضرت آدمؑ کے زمانے تک پہنچتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتوں نے حضرت آدمؑ کو سجدہ اسی سرزمین پر کیا تھا [4]۔

اسی طرح کوفہ کے مغربی حصے میں واقع ایک بستی کو حضرت نوحؑ کی سکونت گاہ اور ان کی کشتی کی تعمیر کی جگہ قرار دیا گیا ہے [5]۔ مسجدِ کوفہ میں اس تنور کی جگہ بھی متعین کی گئی ہے جہاں سے پانی ابلنا طوفانِ نوح کی علامت بنا تھا [6]۔

آج بھی مسجدِ کوفہ میں ’’تنور‘‘ اور ’’کشتیِ نوحؑ‘‘ کے مقامات کی نشان دہی کی جاتی ہے، جبکہ حضرت نوحؑ کی نماز کی جگہ کو ’’مسجد‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق حضرت نوحؑ کی کشتی دریائے فرات میں روانہ ہوئی تھی۔

اسی طرح کوفہ کو حضرت ابراہیمؑ کی سکونت گاہ بھی قرار دیا گیا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ منجنیق، جس کے ذریعے حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں ڈالا گیا تھا، اسی علاقے میں تیار کی گئی تھی۔

حضرت ہودؑ کی قبر کو ناحیۂ نخیلہ میں بتایا جاتا ہے، جو کوفہ کے شمال میں تقریباً دو فرسخ کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسی طرح شمال مشرقی جانب ’’قریۃ ذی الکفل‘‘ نامی بستی واقع ہے، جسے حضرت ذوالکفلؑ کی سکونت گاہ اور مدفن قرار دیا جاتا ہے۔

بعض روایات کے مطابق مسجدِ کوفہ وہ مقام ہے جہاں وہ کدو کی بیل اگائی گئی تھی جس نے حضرت یونسؑ کو سایہ فراہم کیا تھا۔ مزید یہ کہ مسجدِ کوفہ کو ایک ہزار ستر (1070) انبیائے کرامؑ کی نماز کی جگہ بھی قرار دیا گیا ہے [7]۔

اگر یہ روایات درست ہوں تو ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطہ قدیم زمانوں ہی سے آباد اور اہمیت کا حامل رہا ہے۔

جغرافیۂ کوفہ

کوفہ، نجف اشرف سے تقریباً آٹھ کلومیٹر مشرق میں دریائے فرات کے کنارے واقع ہے۔ یہ علاقہ سطح سمندر سے تقریباً 22 میٹر بلند ہے۔ اس کے مشرق میں دریائے فرات، مغرب میں صحرا، جنوب مغرب میں قدیم شہر حیرہ (جو تقریباً چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے) اور شمال مشرق میں ذی الکفل واقع ہیں۔

دریائے فرات سے قربت اور اس کی ایک شاخ کے مشرقی جانب بہنے کی وجہ سے اس کے اطراف کی زمینیں انتہائی زرخیز ہیں [8]۔ جغرافیہ دان اصطخری کے مطابق اسی سبب کوفہ کی آب و ہوا بصرہ کے مقابلے میں زیادہ خوشگوار ہے [9]۔

آب و ہوا

جیسا کہ ذکر کیا گیا، کوفہ کے مشرق میں دریائے فرات اور مغرب و دیگر اطراف میں صحرا واقع تھا۔ اسی وجہ سے یہاں کی آب و ہوا مرطوب اور خشک موسم کا ایک حسین امتزاج تھی، جسے اس زمانے میں اصطلاحاً "بری۔بحری" یا "صحرائی۔دریائی" آب و ہوا کہا جاتا تھا۔

یہی معتدل فضا کوفہ کو اس دور کے خوشگوار ترین شہروں میں شمار کراتی تھی۔ اس زمانے میں شمالی ہوائیں صحرا کی جانب سے اور جنوبی ہوائیں کھیتوں اور سرسبز علاقوں کی طرف سے چلتی تھیں، جس سے یہاں کے موسم میں تنوع پیدا ہوتا تھا [10]۔

اس شہر کا پانی بنیادی طور پر دریائے فرات سے حاصل ہوتا تھا، جو نہایت شیریں، ٹھنڈا اور خوش ذائقہ تھا۔ کوفہ میں اس پانی کی گوارائی کا سبب یہ تھا کہ یہ اپنے منبع کے نسبتاً قریب تھا، جبکہ یہی پانی جب کوفہ سے گزر کر بصرہ پہنچتا تو اپنی مٹھاس اور خوشگواری کھو دیتا تھا [11]۔

کوفہ کی خوشگوار آب و ہوا کی ایک تاریخی مثال یہ ہے کہ دو افراد خلیفہ دوم عمر بن خطاب کے پاس آئے تاکہ انہیں فتوحات کے لشکر میں شامل کیا جائے۔ عمر نے ایک شخص سے پوچھا کہ وہ کس شہر جانا چاہتا ہے۔

اس نے جواب دیا: بصرہ۔ چنانچہ اس کے لیے سالانہ سات سو درہم مقرر کیے گئے۔ دوسرے شخص نے کہا کہ وہ کوفہ جانا چاہتا ہے، تو اس کے لیے پانچ سو درہم سالانہ مقرر کیے گئے۔

جب وجہ پوچھی گئی تو عمر نے کوفہ میں دریائے فرات کی موجودگی کو اس فرق کا سبب قرار دیا [12]۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کوفہ کی خوشگوار فضا اور بہتر حالات کے باعث وہاں جانے والوں کے لیے کم وظیفہ بھی کافی سمجھا جاتا تھا۔

آبادی

سن 17 ہجری سے 61 ہجری کے درمیان کوفہ کی آبادی کے بارے میں تاریخی منابع میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

یعقوبی کے مطابق، کوفہ کے ابتدائی باشندوں میں دس ہزار جنگجو شامل تھے۔ اگر ان کے اہل خانہ کو بھی شامل کیا جائے تو تعداد تقریباً تیس ہزار بنتی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً چار ہزار ایرانی سپاہی اپنے سردار دیلم کی قیادت میں مدائن کی فتح سے قبل لشکر اسلام میں شامل ہوئے اور بعد میں کوفہ میں آباد ہو گئے۔

اس طرح مجموعی آبادی تقریباً چونتیس ہزار تک پہنچ گئی [13]۔ اس کے برعکس ایک روایت کے مطابق، جب سعد بن ابی وقاص نے جامع مسجد کوفہ تعمیر کی تو اسے اس انداز سے بنایا گیا کہ وہ تمام جنگجوؤں کو اپنے اندر سمو سکے۔

اس مسجد کی گنجائش چالیس ہزار افراد تھی [14] ۔اگر ان کے اہل خانہ کی تعداد ساٹھ ہزار فرض کی جائے تو اس وقت کوفہ کی آبادی تقریباً ایک لاکھ بنتی ہے۔ اس کی تائید طبری کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں عمر بن خطاب نے سن 22 ہجری میں کوفیوں کی شکایات کے بارے میں کہا تھا:

"ایک لاکھ افراد کی مصیبت سے بڑھ کر کیا ہو سکتی ہے، نہ وہ اپنے حکمرانوں سے خوش ہیں اور نہ ان کے حکمران ان سے۔" [15]۔

بہرحال، کوفہ کے قیام کے بعد اس کی خوشگوار آب و ہوا، ایران کی سرحدوں سے قربت، فتوحات سے حاصل ہونے والے غنائم اور تجارت و معیشت کی ترقی کے باعث عربوں اور غیر عربوں کی بڑی تعداد یہاں آباد ہونے لگی اور آبادی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ اس دوران کوفہ کے بہت سے باشندے ایران کے مختلف علاقوں میں فتوحات میں مصروف رہتے تھے۔

کوفہ کے زیارتی مقامات

مسجد کوفہ

مسجد کوفہ، مکہ، مدینہ اور بصرہ کی مساجد کے بعد عالم اسلام کی چوتھی اہم اور مقدس مسجد سمجھی جاتی ہے۔ یہ مسجد سن 17 ہجری میں سعد بن ابی وقاص نے شہر کوفہ کے قیام کے ابتدائی دور میں تعمیر کی۔ اس کا صحن وسیع، بے سقف اور بلند دیواروں پر مشتمل ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں امام علی بن ابی طالب خطبے ارشاد فرماتے اور فیصلے صادر کرتے تھے، جسے آج "دکۃ القضاء" کہا جاتا ہے۔ اسی مسجد میں ابن ملجم مرادی کے وار سے امیرالمؤمنینؑ شہید ہوئے۔

اس مسجد میں چالیس ہزار افراد کی گنجائش ہے اور مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ کے بعد اسے عظیم فضیلت حاصل ہے۔ یہاں مسافر کو اختیار ہے کہ نماز پوری پڑھے یا قصر کرے۔ اسی مسجد کے قریب حضرت مسلم بن عقیل، مختار ثقفی اور ہانی بن عروہ کے مزارات واقع ہیں۔

مرقد میثم تمار

میثم تمار کا روضہ مسجد کوفہ سے تقریباً تین سو میٹر کے فاصلے پر نجف۔کوفہ شاہراہ کے آغاز پر واقع ہے۔ وہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے وفادار اصحاب اور شاگردوں میں سے تھے اور اصحابِ رسولؐ میں شمار ہوتے ہیں۔

قصر دارالامارہ

قصر دارالامارہ یا والیِ کوفہ کی رہائش گاہ عراق کی قدیم ترین اسلامی عمارتوں میں سے ایک ہے، جسے سن 17 ہجری میں سعد بن ابی وقاص نے تعمیر کروایا۔ یہ مسجد کوفہ کے جنوب مشرق میں مربع شکل کی ایک عمارت تھی، جسے 71 ہجری میں عبدالملک بن مروان کے حکم سے منہدم کر دیا گیا اور آج اس کے صرف کچھ آثار باقی ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت مسلم بن عقیل شہید کیے گئے، امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کے سر مبارک پیش کیے گئے اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور امام سجاد علیہ السلام کی عبیداللہ بن زیاد سے گفتگو ہوئی۔ مختار ثقفی بھی اسی محل میں قیام پذیر رہے اور یہیں ان کے پاس قاتلانِ کربلا کے سر لائے گئے۔

مسجد سہلہ

مسجد سہلہ، مسجد کوفہ کے شمال مغرب میں تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور کوفہ کی مقدس ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ روایات میں اس مسجد میں عبادت کی بے شمار فضیلت بیان ہوئی ہے۔

اسے امام مہدیؑ سے منسوب قدیم ترین مساجد میں شمار کیا جاتا ہے اور روایات کے مطابق ظہور کے بعد یہ آپؑ کی قیام گاہ ہوگی۔ اس مسجد میں وسیع صحن، بلند دیواریں اور متعدد محرابیں موجود ہیں۔ جنوبی حصے میں ایک مقام "مقام حضرت حجتؑ" کے نام سے مشہور ہے۔

مسجد صعصعہ بن صوحان

یہ مسجد مسجد سہلہ کے قریب واقع ہے۔ صعصعہ بن صوحان ایک مشہور خطیب، صحابی رسولؐ اور امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے وفادار ساتھی تھے۔ انہیں اسی مقام پر دفن کیا گیا اور 1387 ہجری میں اس مسجد کی از سر نو تعمیر کی گئی۔

مسجد زید بن صوحان

یہ مسجد صعصعہ بن صوحان کی مسجد کے قریب واقع ہے۔ زید بن صوحان، صعصعہ کے بھائی اور رسول اکرمؐ و حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ جنگ نہاوند میں ان کا ایک ہاتھ کٹ گیا اور بعد میں حضرت علیؑ کے ہمراہ جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ موجودہ عمارت 1395 ہجری میں تعمیر کی گئی۔

مقام یونس علیہ السلام

مقام یونسؑ ایک ایسی عمارت ہے جسے عوام غلطی سے حضرت یونس بن متیؑ کا مزار سمجھتے ہیں، حالانکہ ان کا اصل مزار موصل میں واقع ہے۔ اس مقام کی بناوٹ مسجد سے مشابہ ہے اور اس کے گنبد خانے میں ایک محراب موجود ہے، جہاں روایت کے مطابق امیرالمؤمنین حضرت علیؑ نے نماز ادا کی تھی۔

یہ مقام مسجد کوفہ سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے فرات کے کنارے واقع ہے۔ بعض روایات کے مطابق حضرت یونسؑ یہاں مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے تھے۔

آرامگاہ ابراہیم العمر

یہ مزار میثم تمار کے مزار کے مغرب میں محلہ "حی کندہ" میں واقع ہے۔ ابراہیم العمر، حسن مثنیٰ کے فرزند اور امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی نسل سے تھے اور سادات طباطبائی کے جد امجد شمار ہوتے ہیں۔

مسجد حنانہ

مسجد حنانہ نجف اور کوفہ کے درمیان، قبرستان ثویٰ اور کمیل بن زیاد کے مزار کے قریب واقع ہے۔ روایات کے مطابق جب امام حسینؑ کا سر مبارک یہاں زمین پر رکھا گیا تو زمین سے نالہ و فریاد کی آواز بلند ہوئی، اسی لیے اس مسجد کو "حنانہ" کہا جاتا ہے۔ یہاں ایک چھوٹا سا ضریح موجود ہے اور اس کے قریب مقام امام جعفر صادق علیہ السلام بھی واقع ہے [16]۔

اہل بیتؑ کے اصحاب کے مزارات

حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام

حضرت مسلم بن عقیل، جو امام حسین علیہ السلام کے نمائندے اور سفیر تھے، ان کا مزار مسجد کوفہ کی مشرقی جانب دارالامارہ کے قریب واقع ہے [17]۔ سب سے پہلے مختار ثقفی نے ان کی قبر پر عمارت تعمیر کروائی۔

بعد ازاں آل بویہ کے دور میں عضدالدولہ نے 368 ہجری میں اس کی توسیع کی۔ سلطان اویس جلائری، صفوی حکمرانوں اور قاجار بادشاہوں کے ادوار میں بھی اس روضے کی تعمیر و مرمت ہوتی رہی۔

شیخ محمد حسن نجفی، المعروف صاحب جواہر، نے 1263 ہجری میں ہندوستان کے سلطانِ لکھنؤ کی مالی معاونت سے اس مزار کی وسیع پیمانے پر تجدید کروائی اور چاندی کا ضریح اور سنہری گنبد نصب کروایا [18]۔ اس کے قریب امام حسین علیہ السلام دو بیثياں سکینہ اور عاتیکہ کی قبریں موجود ہں۔ حالیہ دور میں آیت اللہ حکیم اور دیگر مخیر حضرات کی کوششوں سے اس روضے کی مزید توسیع اور تزئین کی گئی [19]۔

ہانی بن عروہ

ہانی بن عروہ، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے اور حضرت مسلم بن عقیل کے پناہ دہندگان میں شمار ہوتے تھے۔ سن 60 ہجری میں انہیں عبیداللہ بن زیاد کے حکم سے حضرت مسلم بن عقیل کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔

ان کا مزار حضرت مسلم بن عقیل کے حرم کے اندر واقع ہے۔ ان کی قبر پر چاندی کا ضریح نصب ہے جو ہندوستان کے شیعوں نے تیار کروایا، جبکہ ان کے گنبد پر نیلے رنگ کی خوبصورت کاشی کاری کی گئی ہے اور اندرونی حصے میں آئینہ کاری کی گئی ہے [20]۔

مختار بن ابی عبیدہ ثقفی

مسجد کوفہ کے قبلہ کی سمت، مسجد سے متصل مختار بن ابی عبیدہ ثقفی کا مزار واقع ہے۔ مختار وہ شخصیت ہیں جنہوں نے شہدائے کربلا کے خون کا بدلہ لینے کے لیے عبیداللہ بن زیاد کے لشکر کے خلاف قیام کیا اور ایک مدت تک کوفہ پر اپنی حکومت قائم رکھی [21]۔

مختار کا روضہ حضرت مسلم بن عقیلؑ کے حرم میں واقع ہے اور دونوں مزارات ایک ہی عمارت کا حصہ ہیں۔ ان کی قبر پر لکڑی کا ضریح نصب ہے اور اس کے مشرقی گوشے میں ایک کھڑکی مسجد کوفہ کی جنوبی دیوار کی طرف کھلتی ہے۔

یہاں دوسری صدی ہجری کا ایک سنگی کتبہ موجود ہے، جس پر خط کوفی میں یہ عبارت درج ہے: «هٰذا قبر مختار بن ابی عبیدة الثقفی الآخذ بثارات الحسین»

یعنی: "یہ مختار بن ابی عبیدہ ثقفی کی قبر ہے، جو امام حسینؑ کے خون کا بدلہ لینے والے تھے۔"

آٹھویں صدی ہجری کے مشہور سیاح ابن بطوطہ لکھتے ہیں: "قبرستان کوفہ کے مغربی حصے میں، مختار کی قبر کے نزدیک، ایک سفید زمین میں سیاہ رنگ کی ایک جگہ نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کی۔

لوگوں نے بتایا کہ یہ ملعون ابن ملجم کی قبر ہے، اور اہلِ کوفہ ہر سال وہاں بہت سی لکڑیاں جمع کرتے ہیں اور سات دن تک اس کی قبر پر آگ روشن رکھتے ہیں۔" [22]۔

خدیجہ بنت امیرالمؤمنین علیہ السلام

سیدہ خدیجہ بنت امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا مزار، جو حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا کی بیٹی اور حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کی حقیقی بہن تھیں، مسجد کوفہ کے "باب الثعبان" کے سامنے واقع ہے۔

میثم تمار

حضرت میثم تمار کا مزار مسجد کوفہ کے جنوب مغرب میں تقریباً چار سو میٹر کے فاصلے پر، اس گھر کے قریب واقع ہے جو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے منسوب ہے۔

کمیل بن زیاد نخعی

حضرت کمیل بن زیاد نخعی کا روضۂ مبارک نجف سے کوفہ جانے والے راستے پر، ثویہ کے علاقے میں مسجد حنانہ کے قریب واقع ہے۔ یہ مزار شہر نجف کے مشرق میں، ایک وسیع میدان کے درمیان، کوفہ بولیوارڈ کے شمالی حصے میں قائم ہے۔

مرقد زید بن علی علیہ السلام

حضرت زید بن علی علیہ السلام کا مزار کوفہ کے شمال میں تقریباً پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ زید بن علی علیہ السلام، چوتھے امام شیعیان حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے فرزند تھے۔

انہوں نے 121 ہجری میں خلیفہ ہشام کے دور میں قیام کیا۔ بعد ازاں انہیں کوفہ کے محلہ کناسہ میں سولی پر لٹکا دیا گیا اور کوفہ کے حاکم یوسف بن عمرو ثقفی نے ان کے جسد مبارک کو جلا کر راکھ ہوا میں بکھیر دی۔ بعد میں اسی مقام پر ان کا مزار تعمیر کیا گیا جہاں ان کے جسم مبارک کو نذر آتش کیا گیا تھا۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم،ص ۱۶۱
  2. طبری، تاریخ الطبری، ۳/۱۴۵
  3. بکری، معجم مااستعجم،ص ۱۱۴۱
  4. بحارالانوار، ج١١، ص١4٩و ج١٠٠، ص٢٣٢
  5. بحارالانوار، ج١١، ص٣٣٢ و ج١٠٠، ص٣٨
  6. بحارالانوار، ج١١، ص٣٣٣
  7. حارالانوار، ج١٠٠، ص٣٨٩
  8. اصطخری، المسالک والممالک، ۸۳؛ ابن بطوطه، سفرنامه ابن بطوطه، ترجمه محمدعلی موحد، ۱/۲۷۰
  9. یاقوت حموی، معجم البلدان، ۴/۴۹۰
  10. مختصر کتاب البلدان، ص١55
  11. تاریخ الکوفه، ص١٣١
  12. فضل الکوفة و فضل اهلها، ص94
  13. فتوح البلدان، ص٢٧٩
  14. معجم البلدان، ج4، ص491
  15. تاریخ الطبری، ج٣، ص243
  16. اماکن زیارتی کوفه را بشناسید (+عکس) - پول نیوز https://www.poolnews.ir. › news › اما... .
  17. ابن بطوطه، سفرنامه ابن بطوطه، ۱/۲۷۰؛ طبری، تاریخ الطبری، ۴/۲۱۶
  18. ابن جبیر، سفرنامه ابن جبیر، ۲۶۰؛ دایرة المعارف تشیع، ۱/۱۱۰ـ
  19. دایرة المعارف تشیع، ۱/۱۱۰ـ۱۱۱
  20. دایرة المعارف تشیع
  21. کمونه حسینی، همان، ۲۵۱؛ دایرة المعارف تشیع، ۱/۱۱۰
  22. ابن بطوطه، همان، ۱/۲۷۱