"سید علی شفیعی" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Javadi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| (ایک دوسرے صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا) | |||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{خانہ معلومات شخصیت | |||
| title = | |||
| image = سید علی شفیعی.jpg | |||
| name = | |||
| other names = آیت الله شفیعی | |||
| brith year = 1319 ش | |||
| brith date = | |||
| birth place = صوبۂ خوزستان [[ایران]] | |||
| death year = 2025 ء | |||
| death date = 25 ء | |||
| death place = قم [[ایران]] | |||
| teachers = {{عمودی باکس کی فہرست |[[سید محمد باقر صدر|آیت اللہ العظمی شہید سید محمد باقر صدر]] [[سید روح اللہ موسوی خمینی|آیت اللہ العظمی سید روحاللہ خمینی]]، آیت اللہ العظمی خوئی }} | |||
| students = | |||
| religion = [[اسلام]] | |||
| faith = [[شیعہ]] | |||
| works = {{عمودی باکس کی فہرست |حوزہ اور یونیورسٹی کے استاد | خوزستان میں اقوام اور مذاہب کے درمیان وحدت کا قیام | |||
}} | |||
| known for = {{عمودی باکس کی فہرست | }} | |||
| website = | |||
}} | |||
'''سید علی شفیعی''' ایک فقیہ، مجتہد، [[انقلاب اسلامی ایران|اسلامی انقلاب]] کے دور کے مجاہد اور مجلسِ خبرگانِ رہبری میں صوبۂ خوزستان کے عوام کے نمائندے تھے۔ اخلاقی طرزِ عمل اور خوزستان میں مقامی و مذہبی اختلافات کے حل میں کلیدی کردار کی بنا پر وہ جنوبی [[ایران]] میں مختلف اقوام (عرب اور بختیاری) اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ایک باوقار اور قابلِ احترام شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ وہ ہر قسم کی تکفیری اور انتہا پسندانہ تحریکوں (چاہے [[شیعہ]] میں ہوں یا [[اہل السنۃ والجماعت|اہلِ سنت]] میں) کے کھلے عام مخالف تھے اور انہیں امتِ اسلامی کے جسم پر چلنے والی تلوار قرار دیتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ [[قرآن|قرآنِ کریم]] مذاہبِ اسلامی کو جوڑنے کے لیے سب سے مضبوط حبلُ المتین ہے، اور وہ ایسی تفسیروں کو جو تفرقے کی بو دیں، روحِ وحی کے منافی سمجھتے تھے۔ | '''سید علی شفیعی''' ایک فقیہ، مجتہد، [[انقلاب اسلامی ایران|اسلامی انقلاب]] کے دور کے مجاہد اور مجلسِ خبرگانِ رہبری میں صوبۂ خوزستان کے عوام کے نمائندے تھے۔ اخلاقی طرزِ عمل اور خوزستان میں مقامی و مذہبی اختلافات کے حل میں کلیدی کردار کی بنا پر وہ جنوبی [[ایران]] میں مختلف اقوام (عرب اور بختیاری) اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ایک باوقار اور قابلِ احترام شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ وہ ہر قسم کی تکفیری اور انتہا پسندانہ تحریکوں (چاہے [[شیعہ]] میں ہوں یا [[اہل السنۃ والجماعت|اہلِ سنت]] میں) کے کھلے عام مخالف تھے اور انہیں امتِ اسلامی کے جسم پر چلنے والی تلوار قرار دیتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ [[قرآن|قرآنِ کریم]] مذاہبِ اسلامی کو جوڑنے کے لیے سب سے مضبوط حبلُ المتین ہے، اور وہ ایسی تفسیروں کو جو تفرقے کی بو دیں، روحِ وحی کے منافی سمجھتے تھے۔ | ||
== سوانحِ حیات == | == سوانحِ حیات == | ||
آیت اللہ سید علی شفیعی دزفول میں ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم خوزستان میں حاصل کرنے کے بعد وہ [[نجف|حوزۂ علمیہ نجفِ اشرف]] روانہ ہوئے اور وہاں کے اکابر علماء سے فیض یاب ہوئے۔ نجف اور قم میں دورانِ تحصیل انہوں نے [[سید روح اللہ موسوی خمینی|امام خمینیؒ]]، آیت اللہ خوئیؒ، [[سید محمد باقر صدر|آیت اللہ سید محمد باقر صدرؒ]] | آیت اللہ سید علی شفیعی دزفول میں ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم خوزستان میں حاصل کرنے کے بعد وہ [[نجف|حوزۂ علمیہ نجفِ اشرف]] روانہ ہوئے اور وہاں کے اکابر علماء سے فیض یاب ہوئے۔ نجف اور قم میں دورانِ تحصیل انہوں نے [[سید روح اللہ موسوی خمینی|امام خمینیؒ]]، آیت اللہ خوئیؒ، [[سید محمد باقر صدر|آیت اللہ سید محمد باقر صدرؒ]] جیسے بزرگ اساتذہ سے استفادہ کیا۔ وہ درجۂ اجتہاد پر فائز تھے اور طویل عرصے تک حوزہ اور یونیورسٹی میں اعلیٰ سطح کے دروس پڑھاتے رہے۔ | ||
== سرگرمیاں == | == سرگرمیاں == | ||
| سطر 44: | سطر 66: | ||
== متعلقہ تلاشیں == | == متعلقہ تلاشیں == | ||
[[وحدت اسلامی|اسلامی وحدت]] | * [[وحدت اسلامی|اسلامی وحدت]] | ||
* [[اسلامی فرقے اور مذاہب]] | * [[اسلامی فرقے اور مذاہب]] | ||
* [[انقلاب اسلامی ایران|اسلامی انقلابِ ایران]] | |||
== حوالہ جات == | |||
{{حوالہ جات}} | |||
[[زمرہ:شخصیات]] | |||
[[زمرہ:ایران]] | |||
[[fa: سید علی شفیعی]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 12:50، 29 دسمبر 2025ء
| سید علی شفیعی | |
|---|---|
| دوسرے نام | آیت الله شفیعی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1319 ش، 1941 ء، 1359 ق |
| پیدائش کی جگہ | صوبۂ خوزستان ایران |
| وفات | 2025 ء، 1403 ش، 1446 ق |
| یوم وفات | 25 ء |
| وفات کی جگہ | قم ایران |
| اساتذہ |
|
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| اثرات |
|
سید علی شفیعی ایک فقیہ، مجتہد، اسلامی انقلاب کے دور کے مجاہد اور مجلسِ خبرگانِ رہبری میں صوبۂ خوزستان کے عوام کے نمائندے تھے۔ اخلاقی طرزِ عمل اور خوزستان میں مقامی و مذہبی اختلافات کے حل میں کلیدی کردار کی بنا پر وہ جنوبی ایران میں مختلف اقوام (عرب اور بختیاری) اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ایک باوقار اور قابلِ احترام شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ وہ ہر قسم کی تکفیری اور انتہا پسندانہ تحریکوں (چاہے شیعہ میں ہوں یا اہلِ سنت میں) کے کھلے عام مخالف تھے اور انہیں امتِ اسلامی کے جسم پر چلنے والی تلوار قرار دیتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ قرآنِ کریم مذاہبِ اسلامی کو جوڑنے کے لیے سب سے مضبوط حبلُ المتین ہے، اور وہ ایسی تفسیروں کو جو تفرقے کی بو دیں، روحِ وحی کے منافی سمجھتے تھے۔
سوانحِ حیات
آیت اللہ سید علی شفیعی دزفول میں ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم خوزستان میں حاصل کرنے کے بعد وہ حوزۂ علمیہ نجفِ اشرف روانہ ہوئے اور وہاں کے اکابر علماء سے فیض یاب ہوئے۔ نجف اور قم میں دورانِ تحصیل انہوں نے امام خمینیؒ، آیت اللہ خوئیؒ، آیت اللہ سید محمد باقر صدرؒ جیسے بزرگ اساتذہ سے استفادہ کیا۔ وہ درجۂ اجتہاد پر فائز تھے اور طویل عرصے تک حوزہ اور یونیورسٹی میں اعلیٰ سطح کے دروس پڑھاتے رہے۔
سرگرمیاں
سیاسی و سماجی سرگرمیاں
آیت اللہ شفیعی خوزستان میں امام خمینیؒ کی تحریک کے پیش رو افراد میں شمار ہوتے تھے۔ دفاعِ مقدس (ایران۔عراق جنگ) کے دوران بھی ان کی سرگرمیاں نمایاں رہیں، یہاں تک کہ ان کے فرزند سید مرتضیٰ شفیعی اس جنگ میں شہید ہوئے۔
ذمہ داریاں
- مجلسِ خبرگانِ رہبری میں صوبۂ خوزستان کے عوام کے نمائندے (دوسرے، تیسرے، چوتھے اور پانچویں ادوار)؛
- انقلاب کے ابتدائی برسوں میں خوزستان کی انقلابی عدالتوں کے حاکمِ شرع؛
- اہواز میں بعض اہم مدارسِ علمیہ اور مرکزی مساجد کی تولیت۔
تقاربی اور وحدت آفرین رویکرد
خوزستان جیسے حساس خطے میں ان کا وحدت پر مبنی نقطۂ نظر نمایاں تھا:
- اقوام کی وحدت: خوزستان مختلف اقوام (عرب، لر، بختیاری وغیرہ) کا مرکز ہے۔ آیت اللہ شفیعی عربی زبان پر مکمل عبور اور مقامی ثقافت کی گہری سمجھ کے باعث ہمیشہ نسلی اور قبائلی کشیدگی کے خاتمے میں محور کا کردار ادا کرتے رہے۔
- تقریبِ مذاہب: وہ کشادہ دلی کے ساتھ امتِ اسلامی کی مشترکہ قدروں پر زور دیتے تھے اور اہلِ سنت کے علمائے کرام سے ملاقاتوں میں دشمنوں کے مقابل ایک متحد محاذ کی ضرورت پر تاکید کرتے تھے۔
- اخلاق مداری:ان کی زاہدانہ اور عوامی زندگی نے ان کے کلام کو تمام سیاسی اور مذہبی حلقوں میں اثر انگیز بنا دیا تھا۔
آثار
انہوں نے فقہ، اصول، تفسیر اور تاریخ کے میدان میں متعدد تصانیف چھوڑیں، جن میں سے بعض یہ ہیں:
- اٹھائیس گفتار (اسلامی انقلاب کے مبانی پر)؛
- کتاب صلوٰة پر شرح؛
- اہلِ بیتؑ کے اشعار اور مراثی کا مجموعہ۔
نظریات
وحدت کے بارے میں فکری اور عملی سیرت
آیت اللہ سید علی شفیعی ان فقہاء میں سے تھے جو وحدت کو محض ایک سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک قرآنی اور اسٹریٹجک ضرورت سمجھتے تھے۔ اس میدان میں ان کی سرگرمیوں کو تین سطحوں پر دیکھا جا سکتا ہے:
فقہی و کلامی رویکرد
اپنے دروسِ خارجِ فقہ اور تفسیری نشستوں میں وہ ہمیشہ “اسلامِ ناب” پر زور دیتے اور علمی نقد اور مقدسات کی توہین کے درمیان واضح حد قائم کرتے تھے۔ وہ ہر طرح کے تکفیری اور انتہا پسندانہ رجحانات کے کھلے مخالف تھے اور قرآنِ کریم کو اسلامی مذاہب کے درمیان مضبوط ترین رشتہ قرار دیتے تھے۔
خوزستان کی اقوام میں عملی کردار:
لسانی اور مذہبی تنوع کے باعث خوزستان ہمیشہ تفرقہ انگیز عناصر کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اس ضمن میں ان کا کردار یہ تھا: === مشترکہ زبان: === عربی زبان و ادب پر ان کی مہارت نے انہیں عرب قبائل اور نخبگان سے براہِ راست اور قریبی رابطہ فراہم کیا۔
حکمیت:
عرب اور بختیاری قبائل کے درمیان کئی بڑے تنازعات میں وہ غیر جانبدار “حَکَم” کے طور پر داخل ہوئے اور صلح و مصالحت قائم کی۔
اہلِ سنت علماء سے روابط:
انہوں نے خوزستان اور اطراف کے اہلِ سنت علماء کے ساتھ ہمیشہ مکالمے کا دروازہ کھلا رکھا:
- ملاقاتیں: ان کا دفتر اہلِ سنت کے علماء اور نخبگان کی آمد و رفت کا مرکز رہا۔
- مزاحمتی محاذ کی تقویت: وہ مسئلۂ فلسطین اور صہیونیت کے خلاف جدوجہد کو امتِ اسلامی کی وحدت کا سب سے بڑا محور سمجھتے تھے۔
وفات
بالآخر عوام کی خدمت اور جدوجہد سے بھرپور زندگی کے بعد، اتوار 7 دی ماہ (مطابق 7 رجب) کو دوپہر کے وقت، دل کا دورہ پڑنے سے وہ اہواز کے امام خمینی اسپتال میں وفات پا گئے[1]۔
بیرونی روابط
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ نگاهی به زندگی آیت الله شفیعی-27 دسمبر 2025ء- اخذ شدہ -27 دسمبر 2027ء