مندرجات کا رخ کریں

قرآن اور عترت علامہ اقبال لاہوری کی نظر میں (کتاب)

ویکی‌وحدت سے
قرآن و عترت از دیدگاه علامه اقبال لاہوری
نامقرآن اور عترت علامہ اقبال لاہوری کی نظر میں
مؤلفین/ مصنفینمحمد حسین بہشتی
زبانفارسی
زبان اصلیفارسی
ناشرجامعۃ المصطفیٰ العالمیۃ، المصطفیٰ بین الاقوامی مرکز برائے ترجمہ و اشاعت
موضوعاتاقبالیات، قرآنیات، اہل بیت اور اسلامی فکر
شابکhttp://imamali.info/iadl/handle/110/34594 orginal

قرآن و عترت اقبال کی نظر میں، اقبال کے قرآنی افکار، اہل بیت سے محبت، اور اسلامی نشاۃِ ثانیہ کے بارے میں ان کے نظریات کا تحقیقی جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے اقبال کی فارسی و اردو شاعری، خطوط اور نثری آثار کی روشنی میں قرآن اور عترت کے باہمی تعلق کو واضح کیا ہے [1]۔

تعارف

قرآن و عترت از دیدگاه علامہ اقبال لاہوری" ایک تحقیقی و فکری کتاب ہے جس میں برصغیر کے عظیم مفکر، شاعرِ اسلام محمد اقبال لاہوری کے قرآنی افکار، اہلِ بیتِ اطہارؑ سے عقیدت، اور اسلامی تہذیب و تمدن کی تجدید کے بارے میں ان کے نظریات کا علمی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اقبال کی پوری فکری عمارت قرآنِ مجید کی تعلیمات پر قائم ہے اور ان کے نزدیک اہلِ بیتِ رسولؑ قرآن کے حقیقی ترجمان، اسلامی روحانیت کے محافظ اور امت کی فکری رہنمائی کا بہترین نمونہ ہیں۔

مصنف نے اقبال کی فارسی اور اردو شاعری، مکاتیب، خطبات اور دیگر نثری آثار کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اقبال کی دعوتِ خودی، اجتہاد، حریتِ فکر، عشقِ رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم ، اتحادِ امت اور احیائے اسلام جیسے تمام نظریات کا سرچشمہ قرآنِ کریم اور سیرتِ اہلِ بیتؑ ہے۔

کتاب اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ اقبال کی نظر میں محض قرآن کی تلاوت کافی نہیں بلکہ اس کے عملی نفاذ اور حقیقی فہم کے لیے اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے رہنمائی بھی ناگزیر ہے۔

کتاب کے ابواب اور ان کے مرکزی مباحث

فصل اول: اقبال کی شخصیت اور قرآنی فکر

پہلے باب میں علامہ اقبال کی علمی، فکری اور روحانی شخصیت کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے اقبال کے خاندانی پس منظر، ابتدائی تعلیم، مغربی فلسفے سے ان کے تعلق اور بعد ازاں قرآنِ مجید کی طرف ان کی گہری رجوع کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔

اس باب میں واضح کیا گیا ہے کہ اقبال کے نزدیک قرآن صرف مذہبی کتاب نہیں بلکہ ایک زندہ اور ہمہ گیر دستورِ حیات ہے۔ اقبال مسلمانوں کے زوال کی بنیادی وجہ قرآن سے عملی دوری کو قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک امت کی عزت، آزادی، خود اعتمادی اور تہذیبی بقا کا راز قرآن کے ساتھ مضبوط تعلق میں پوشیدہ ہے۔

مزید یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اقبال کی پوری شاعری میں قرآنی اصطلاحات، قرآنی واقعات، انبیائے کرامؑ کے کردار اور اسلامی تعلیمات نہایت نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ اقبال نوجوان نسل کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ قرآن کو براہِ راست سمجھنے کی کوشش کرے اور اس کی روشنی میں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تعمیر کرے۔

فصل دوم: قرآنِ مجید کے بارے میں اقبال کا نظریہ

اس باب میں قرآنِ کریم کے متعلق اقبال کے بنیادی افکار کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق اقبال قرآن کو ہمیشہ زندہ رہنے والا الٰہی پیغام سمجھتے ہیں جو ہر دور کے انسان کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔

اقبال کے نزدیک قرآن انسان کی عقل، فکر، تدبر اور تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور تقلیدِ جامد کی بجائے اجتہاد کی دعوت دیتا ہے۔

اسی باب میں اقبال کے نظریۂ اجتہاد کی وضاحت کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اسلام ایک متحرک دین ہے اور بدلتے ہوئے حالات میں قرآن کے ابدی اصولوں کی روشنی میں نئے مسائل کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔

مصنف نے اقبال کے ان اشعار اور اقتباسات کا بھی تجزیہ کیا ہے جن میں قرآن کو حیاتِ انسانی کا سرچشمہ، انقلابِ اسلامی کی بنیاد اور امتِ مسلمہ کی وحدت کا محور قرار دیا گیا ہے۔ اس باب کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ اقبال کی فکری تحریک کا مرکز و محور قرآنِ کریم ہے۔

فصل سوم: اہلِ بیتؑ اور عترت کے بارے میں اقبال کے افکار

تیسرے باب میں اقبال کی اہلِ بیتِ رسولؑ سے محبت اور ان کے متعلق افکار کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے ثابت کیا ہے کہ اقبال نے اپنی شاعری میں بارہا اہلِ بیتؑ کے فضائل بیان کیے ہیں اور خصوصاً حضرت علیؑ کی شخصیت کو ایمان، معرفت، شجاعت، عدالت، فقر اور عشقِ الٰہی کا کامل نمونہ قرار دیا ہے۔

سعیدی, [7/5/2026 1:32 AM] اقبال کے نزدیک حضرت علیؑ صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ اسلامی تہذیب کے روحانی معمار ہیں۔ اسی طرح حضرت امام حسنؑ اور حضرت امام حسینؑ کی قربانیوں کو اسلام کے بقا کا ضامن قرار دیا گیا ہے۔

واقعۂ کربلا کو اقبال نے ظلم کے خلاف دائمی جدوجہد اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن معرکہ قرار دیا ہے۔

مصنف اس باب میں یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اقبال کی اہلِ بیتؑ سے محبت محض جذباتی نہیں بلکہ فکری، اعتقادی اور تمدنی بنیادوں پر قائم ہے۔ ان کے نزدیک قرآن اور عترت امت کی صحیح رہنمائی کے دو لازم و ملزوم سرچشمے ہیں۔

فصل چہارم: اقبال کی شاعری میں قرآن و عترت

چوتھے باب میں اقبال کے فارسی اور اردو کلام کا تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے۔ مصنف نے اقبال کی نظموں اور غزلوں میں موجود قرآنی مضامین، انبیائے کرامؑ کے تذکرے، اہلِ بیتؑ کی عظمت، حضرت علیؑ کے اوصاف، شہادتِ امام حسینؑ، عشقِ رسول ، خودی، جہاد، حریت، عدل اور توحید جیسے موضوعات کو مفصل انداز میں بیان کیا ہے۔

یہ باب واضح کرتا ہے کہ اقبال نے شاعری کو محض ادبی اظہار کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے قرآن کی دعوت اور اسلامی بیداری کا مؤثر وسیلہ قرار دیا۔ ان کے نزدیک حقیقی شاعری وہی ہے جو انسان کو خدا سے جوڑے، امت میں عزتِ نفس پیدا کرے اور ظلم کے خلاف قیام کی روح بیدار کرے۔

مصنف نے متعدد مقامات پر اقبال کے فارسی اور اردو اشعار کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن اور اہلِ بیتؑ دونوں ان کی شاعری کی فکری بنیاد ہیں۔

فصل پنجم: عصرِ حاضر میں اقبال کا پیغام

کتاب کے آخری باب میں اقبال کے افکار کی عصرِ حاضر میں معنویت کو بیان کیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق آج امتِ مسلمہ جن فکری، سیاسی، اخلاقی اور تہذیبی بحرانوں کا شکار ہے، ان کا مؤثر علاج اقبال کے اسی پیغام میں موجود ہے جو قرآن اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات پر مبنی ہے۔

اقبال مسلمانوں کو فرقہ واریت سے نکل کر اتحاد، علم، تحقیق، اجتہاد، اخلاق، عدل، خود اعتمادی اور روحانی تربیت کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام کی نشاۃِ ثانیہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب مسلمان قرآن کو اپنی عملی زندگی کا دستور بنائیں اور اہلِ بیتؑ کی سیرت کو نمونۂ عمل اختیار کریں۔

مصنف اس باب میں اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اقبال کا پیغام کسی خاص خطے یا قوم تک محدود نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور جدید انسانی معاشرے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے [2]۔

کتاب کا بنیادی پیغام

اس کتاب کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ علامہ اقبال کی پوری فکری اور روحانی دعوت قرآنِ مجید اور اہلِ بیتِ رسولؑ کی تعلیمات سے وابستہ ہے۔ اقبال کے نزدیک قرآن انسان کی فکری آزادی، اخلاقی تعمیر، اجتماعی عدل اور روحانی ارتقا کا سرچشمہ ہے، جبکہ اہلِ بیتؑ اس الٰہی پیغام کی عملی تفسیر اور بہترین نمونہ ہیں[3]۔

کتاب یہ واضح کرتی ہے کہ اقبال کی نظر میں امتِ مسلمہ کی حقیقی نشاۃِ ثانیہ نہ مغربی تہذیب کی تقلید میں ہے اور نہ ہی محض ماضی پر فخر کرنے میں، بلکہ قرآن سے زندہ تعلق، اہلِ بیتؑ کی سیرت سے عملی وابستگی، اجتہاد، علم، اخلاق، اتحادِ امت اور اسلامی خودی کی بحالی میں مضمر ہے۔

اسی بنا پر یہ کتاب نہ صرف اقبالیات کے محققین بلکہ قرآنی علوم، اہلِ بیتؑ کے افکار، اسلامی فکر اور جدید مسلم معاشرت کے مطالعہ سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے ایک اہم تحقیقی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے [4]۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات