شہیدِ امت — آیة اللہ العظمی سیدعلی خامنہ ای اور ہندوستان

شہیدِ امت — آیة اللہ العظمی سیدعلی خامنہ ای اور ہندوستان شہید رہبر نے ہمیشہ اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ اختلافات کو ہوا دینا کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے، اور یہ کہ وہ قوتیں جو معاشروں کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، سب سے پہلے ان کے اندر تقسیم پیدا کرتی ہیں۔ اس کے مقابل انہوں نے اتحاد، مکالمہ اور باہمی احترام کو ہی کامیابی کا راستہ قرار دیا [1]۔ دنیا کے نقشے پر کچھ خطے ایسے ہوتے ہیں جو محض جغرافیہ نہیں ہوتے بلکہ تہذیب، فکر اور روحانیت کے امین ہوتے ہیں، اور ہندوستان انہی سرزمینوں میں سے ایک ہے
ہندوستان صرف ایک ملک نہ تھا بلکہ ایک ایسی تہذیبی قوت تھا
جسے صدیوں سے علم، عرفان، تصوف اور تہذیبی ہم آہنگی کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے۔ شہید رہبر کی نگاہ میں بھی ہندوستان صرف ایک ملک نہ تھا بلکہ ایک ایسی تہذیبی قوت تھا جس کے اندر بیداری، وحدت اور فکری توانائی کے بے شمار امکانات پوشیدہ تھے،
اور یہی وجہ تھی کہ ان کی تقاریر اور بیانات میں ہندوستان اور اس کے عوام کا ذکر محض رسمی نہیں بلکہ ایک گہری توجہ اور خیرخواہی کے ساتھ ملتا ہے
وہ ہندوستان کو محض ایک جغرافیائی اکائی کے طور پر نہیں دیکھتے تھے بلکہ ایک تہذیبی تجربہ سمجھتے تھے—ایک ایسا تجربہ جس میں مختلف قومیں اور مذاہب ایک ساتھ رہ کر ایک مشترکہ سماج تشکیل دیتے ہیں۔ ان کے ایک پیغام میں یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں:
“ہندوستان ایک قدیم اور عظیم تہذیب کا حامل ملک ہے، جہاں مختلف عقائد کے لوگ صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، یہ خصوصیت اسے دنیا کے لیے ایک قابلِ توجہ مثال بناتی ہے”[2]۔
یہ جملہ دراصل ایک حقیقت کی طرف اشارہ تھا کہ ہندوستان کی اصل قوت اس کا تنوع نہیں بلکہ اس تنوع کو سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔
شہید رہبر ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی صرف معاشی یا سائنسی میدان میں نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل ترقی اس کے اخلاقی اور انسانی رویوں میں ہوتی ہے۔
وہ ہندوستان کے حوالے سے یہی امید رکھتے تھے کہ یہاں کے لوگ اپنی مشترکہ انسانی اقدار—انصاف، احترام، رواداری اور باہمی تعاون—کو مضبوط کریں، کیونکہ یہی وہ بنیادیں ہیں جو کسی بھی قوم کو دیرپا استحکام عطا کرتی ہیں۔ ان کے ایک خطاب میں یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں:
“کسی بھی معاشرے کی طاقت اس کے ہتھیاروں یا وسائل میں نہیں بلکہ اس کے لوگوں کے درمیان اعتماد اور باہمی احترام میں ہوتی ہے”[3]۔
ہندوستان کے مسلمان اپنے ملک کے فعال اور ذمہ دار شہری ہیں
اسی وسیع تناظر میں وہ ہندوستانی مسلمانوں کو بھی ایک مثبت اور تعمیری قوت کے طور پر دیکھتے تھے—ایک ایسی قوت جو اپنے تاریخی، علمی اور تہذیبی سرمائے کے ساتھ اس ملک کی مجموعی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ان کے نزدیک ہندوستانی مسلمان اپنی شناخت کے ساتھ ساتھ اپنے وطن کی ترقی کے ذمہ دار شہری بھی ہیں، اور یہ دونوں پہلو ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے ایک بیان میں یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں:
“ہندوستان کے مسلمان اپنے ملک کے فعال اور ذمہ دار شہری ہیں، وہ اپنے علم، اپنی محنت اور اپنے اخلاق کے ذریعے معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں اور کرنا چاہیے” [4]۔
یہ پیغام کسی علیحدگی یا فاصلے کا نہیں بلکہ شمولیت اور تعمیر کا تھا—کہ ایک فرد اپنی دینی و تہذیبی شناخت کے ساتھ اپنے ملک کی ترقی میں شریک ہو سکتا ہے اور ہونا چاہیے۔
شہید رہبر ہندوستان کے سیاسی و سماجی منظرنامے میں مسلمانوں کے کردار کو اس زاویے سے دیکھتے تھے کہ وہ عدل، رواداری اور سماجی ہم آہنگی کے داعی بنیں، وہ اپنے اخلاق، تعلیم اور مثبت طرزِ عمل کے ذریعے معاشرے میں اعتماد کو مضبوط کریں،
کیونکہ کسی بھی جمہوری نظام کی اصل طاقت یہی ہوتی ہے کہ اس کے مختلف طبقات ایک دوسرے پر اعتماد کریں اور مل کر آگے بڑھیں۔ ان کے ایک پیغام میں یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں:
“ہر وہ فرد جو اپنے معاشرے میں انصاف، دیانت اور خدمت کو فروغ دیتا ہے، وہ درحقیقت اپنے ملک کو مضبوط بنا رہا ہوتا ہے”[5]۔
یہ سوچ دراصل ہندوستان جیسے کثیرالثقافتی معاشرے کے لیے نہایت اہم ہے، جہاں ہر طبقہ اگر اپنی ذمہ داری کو مثبت انداز میں ادا کرے تو مجموعی نظام مستحکم ہو جاتا ہے۔
ہندوستان کے نوجوانوں کے بارے میں ان کی امیدیں خاص طور پر نمایاں تھیں۔ وہ نوجوانوں کو صرف مستقبل کا سرمایہ نہیں بلکہ حال کی سب سے بڑی قوت سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک نوجوان وہ طبقہ ہے
جو پرانی دیواروں کو گرا کر نئی راہیں بنا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ علم، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھے۔ ان کے ایک پیغام میں یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں:
اپنے ملک کی حقیقی طاقت کو پہچانیں
“میں ہندوستان کے نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے ملک کی حقیقی طاقت کو پہچانیں، علم حاصل کریں، انصاف کا ساتھ دیں اور اپنے معاشرے کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں”[6]۔
یہ دعوت دراصل ایک ہمہ گیر پیغام تھی—کہ تبدیلی کسی ایک گروہ سے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے بیدار ہونے سے آتی ہے، اور اس میں ہر طبقہ، ہر برادری اور ہر فرد کا کردار اہم ہوتا ہے۔
شہید رہبر نے ہمیشہ اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ اختلافات کو ہوا دینا کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے، اور یہ کہ وہ قوتیں جو معاشروں کو کمزور کرنا چاہتی ہیں،
سب سے پہلے ان کے اندر تقسیم پیدا کرتی ہیں۔ اس کے مقابل انہوں نے اتحاد، مکالمہ اور باہمی احترام کو ہی کامیابی کا راستہ قرار دیا۔ ان کے ایک بیان میں یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں:
“جب لوگ ایک دوسرے کو سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے سے دور ہونے لگتے ہیں تو معاشرہ کمزور ہو جاتا ہے، اور جب وہ ایک دوسرے کو قبول کر لیتے ہیں تو وہی معاشرہ مضبوط ہو جاتا ہے”[7]۔
ان کی نگاہ میں ہندوستان ایک امید، ایک امکان اور ایک مشترکہ ذمہ داری تھا
یوں ان کی نگاہ میں ہندوستان ایک امید، ایک امکان اور ایک مشترکہ ذمہ داری تھا—ایک ایسا ملک جہاں ہر فرد، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو، اگر اپنے کردار، دیانت اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھے تو ایک ایسا معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے جو نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن جائے۔
خدایا!شہید رہبر طاب ثراہ کی خدمات، ان کی استقامت اور ان کی فکر کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرما، ان کے درجات کو بلند سے بلند تر فرما، ان کی قربانیوں کو اس امت کی بیداری کا ذریعہ بنا، اور ان کے چھوڑے ہوئے راستے کو ہمیشہ زندہ و تابندہ رکھ۔
پروردگار!جمہوری اسلامی ایران کو اپنی خاص حفاظت میں رکھ، اسے ہر طرح کے فتنوں، سازشوں اور دشمنی سے محفوظ فرما، اس سرزمین کو علم، عدل اور عزت کا مرکز بنا، اور اسے مظلوموں کے لیے امید اور حق کے لیے استقامت کی علامت بنائے رکھ۔
اے ربِ کریم!موجودہ رہبرِ انقلاب کو صحت، طولِ عمر، قوتِ ارادہ اور نورِ بصیرت عطا فرما، انہیں ہر مرحلے میں اپنی نصرت و تائید سے سرفراز فرما، اور ان کے ذریعے امتِ مسلمہ اور پوری انسانیت کو امن، انصاف اور بیداری کا راستہ دکھاتا رہ۔
خدایا!ہمارے وطن ہندوستان اور اس کے تمام باشندوں کو امن، محبت اور باہمی احترام عطا فرما، ان کے دلوں میں اتحاد اور خیرخواہی پیدا فرما، اور انہیں اس قابل بنا کہ وہ اپنی تہذیب، اپنی انسانیت اور اپنی مشترکہ قدروں کے ساتھ دنیا کے لیے ایک روشن مثال بن سکیں۔
پروردگار! ہم سب کو شہداء کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما، ہمیں اخلاص، بصیرت اور استقامت سے نواز، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو حق کے لیے جیتے ہیں اور حق ہی کے لیے دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ<ref>سورہ بقرہ، آیہ 127</ref۔
ترجمہ: اے ہمارے رب! ہم سے (یہ عمل) قبول فرما، بے شک تو خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِ
- تنگہ ہرمز
- جنگ رمضان
- آپریشن وعدۂ صادق 4
- 12 روزہ جنگ
- 2026 میں ایران پر حملہ
- سید علی حسینی خامنہ ای
- سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای