سید یاسین موسوی

    ویکی‌وحدت سے
    سید یاسین موسوی
    NUR05669.jpg
    دوسرے نامآیت اللہ سید یاسین موسوی، آیت اللہ مجاہد
    ذاتی معلومات
    پیدائش کی جگہبغداد عراق
    اساتذہ
    • سید ابوالقاسم خویی
    • سید محمد باقر صدر
    • سید عبدالصاحب حکیم
    • شیخ سلمان خاقانی
    • شیخ نجم الدین عسکری
    • سیداسماعیل صدر
    • شیخ وحید خراسانی
    • شیخ عبدالله جوادی آملی
    مذہباسلام، شیعہ
    اثرات
    • قیامة الخراسانی
    • الغدیر یتحدی بأسانیده
    • اجتهاد فقهی بین الحداثة والاصالة
    مناصب
    • امام جمعہ بغداد

    سید یاسین موسوی ایک عراقی عالم دین، فلسفہ کے استاد، سیاستدان، بغداد شہر کا امام جمعہ، عراق میں اسلامی مزاحمت کے پہلے کور اور حرکت علما و المجاهدین عراقی کے بانی اور شام و عراق میں امام خمینی کے نمائندے تھے۔

    سوانح عمری

    آپ 1952ء کے شعبان کی 15 تاریخ کو بغداد شہر میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے[1]۔

    تعلیم

    سید یاسین موسوی اپنے بچپن کے بعد پرائمری سکول گئے اور چوتھی جماعت تک مروجہ تعلیم حاصل کرنے کے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کاظمین کے حوزہ میں داخلہ لیا اور اس حوزہ مندرجہ ذیل اساتذہ سے کسب فیض کیا:

    کاظمین میں اسلامی مقدماتی اور ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے حوزہ نجف اشرف کا رخ کیا. ‌ انہوں نے نجف کے بزرگ اساتذہ کے پاس سطحیات کے مقدماتی اور ابتدائی دورس حاصل کیے، پھر درس خارج میں شرکت کی اور آیت اللہ خوئی سے (درس خارج فقہ)، آیت اللہ شاہد محمد باقر صدر سے (خارج فقہ و اصول) اور سید عبد الصاحب حکیم (خارجی اصول) کی تعلیم حاصل کی۔ [2]۔

    ایران اور شام کی ہجرت

    آپ اسلامی انقلاب کےدوران شہر ثورہ (موجودہ مدینہ الصدر) میں شہید باقر الصدر کی نمائندگی کرتے ہوئے مذہبی ، سیاسی اور علمی خدمات انجام دے رہے تھے۔ بغداد میں ان کی اور شہید صدر کے دیگر شاگردوں کی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیش آنے والے واقعات کے دوران، انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ آپ عراق سے باہر، حزب بعث کے خلاف اپنی سیاسی جد و جہد کو جاری رکھنے کے لیے شہید صدر کی اجازت سے خفیہ طور پرایران کا رخ کیا گیا۔

    انہوں اپنے علمی اور سیاسی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا اور آیت اللہ واحد خراسانی فقہ اور اصول کی کلاس، آیت اللہ جوادی کی فلسفہ کی کلاس اور آیت اللہ مظاہری کے فقہ اور کچھ دیگر کلاسوں شرکت کی ، جبکہ تحریری، تعلیم ، سیاسی اور معاشرتی سرگرمیوں سے دور نہیں رہے۔ آپ مدت کے لئے شام چلے گئے، جہاں آپ علمی اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ شام میں آپ سطحیات اور درس خارج کی کلاسیں پڑھاتے رہے۔

    اور شام میں شیعہ حوزہ علمیہ کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے متعدد کتابیں لکھیں اور بہت سارے شاگردوں کو تربیت دی۔ جبصدام کی حکومت 2003 میں گر گئی اور نجف اشرف واپس آگئے۔ اس کے بعد اپنی کی تدریسی اور سیاسی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے اور اپنے بعض ساتھیوں کے لئے بغداد چلے گئے، جہاں سیدیہ نامی جگہ پر سکونت اختیار کی جو اس وقت دہشت گرد گروہ القاعدہ کا مرکز تھا۔ اس جگہ آپ نماز جمعہ اور جماعت کا اقامہ، لوگوں کی راہنمائی اور سیاسی، علمی اور معاشرتی سرگرمیوں، خاص طور پر القاعدہ کے دہشت گردی کے عسکریت پسند نظریات اور افکار کے خلاف جنگ میں مشغول رہے اور ان کی سخت محنت اورکوششوں سے اس علاقے میں بہت سے مسلمان، مذہب شیعہ قبول کرلیا ہے [3]۔

    سیاسی سرگرمیاں

    • 1399 ہجری قم المقدسہ میں عراق کی تحریک مستضعفین کے بانیوں میں سے ایک
    • عراق میں اسلامی مزاحمت کے پہلے مرکز کا بانی بطور عسکری شاخ کے طور پر
    • علماء اور مجاہدین تحریک کے بانیوں میں سے ایک
    • عراق کی اسلامی سپریم کونسل کا رکن
    • آیت اللہ حکیم کی مشاورتی کونسل کے رکن
    • قم المقدسہ میں مکتب امام ہادی علیہ السلام کے تنظیمی رکن
    • شام میں امام خمینی (رح) کے اسکول کا مدیر
    • شام امام خمینی کے دفتر کا جانشین۔
    • شام کے علاقے زینبیہ کی جمعہ کی امامت میں آیت اللہ فہری کے جانشین
    • جنوبی عراق (حور) کے علاقوں میں 5 سال تک سریہ کرار گروپ کی قیادت (سرایا الخراسانی فوج کی مرکزی شاخ آج حشد الشعبی کا حصہ ہے)
    • نجف اشرف کے عبوری امام جمعہ

    سماجی اور ثقافتی سرگرمیاں

    سید مجاہد نے معاشرے اور ثقافت کے میدان میں بھی وسیع کردار ادا کیا۔ اس میدان میں ان کے کچھ اقدامات یہ ہیں: نجف میں «موسسة الحدیث الشریف» کی بنیاد رکھی تاکہ احادیث اہل بیت(ع) کی روشنی میں نسل نو تربیت کی جاسکے بغداد میں «حوزه امیرالمومنین ‌علیه‌السلام» تاسیس کی گئی تاکہ مذہب تشیع کو فروغ دیا جا سکے اور بغداد کے مختلف علاقوں میں وہابیت سے مقابلہ کرے بزرگان دین کی مفید کتابوں کی طباعت اور ترجمہ کے ذریعے اسلامی افکار پھیلانے کی کوشش کی، مثال کے طور پر انہوں نے کتاب نجم الثقاقت وغیرہ کا ترجمہ اور شائع کیا۔ عراق میں قومی، سیاسی اور مذہبی سطح پر، بڑے پیمانے کے ساتھ کانفرنسوں اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے محافل اور مجالس کا انعقاد۔ قم میں مکتب امام ہادی علیہ السلام کے تنظیمی رکن شہید محراب آیت اللہ سید محمد باقر حکیم (رح) کی جانب سے تہران میں صدر سکول (رح) کے پرنسپل شام میں امام خمینی (رح) کے مکتب کا منتظم، عالم اسلام کے علماء اور ممتاز شخصیات کی یاد منانا، طلباء کی صورتحال سے نمٹنے، خلیجی ممالک، شام اور انگلینڈ، لبنان کے متواتر دورے اور لبنانی شیعوں اور فلسطینی مسلمانوں کی حمایت، دیگر سماجی سرگرمیوں میں سے ہیں۔

    علمی آثار

    آیت اللہ یاسین موسوی کو سیاست میں مشہور عراقی شخصیات میں سے ایک ہونے کے باوجود، کچھ نامعلوم تعلیمی سرگرمیاں ہیں ان کی تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیاں سیاسی سرگرمیوں سے کم نہیں ہیں۔ ان کی علمی آثار کی فہرست کو دیکھ کر ان کی تعلیمی سرگرمیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان کی تعلیمی سرگرمی کا ایک اہم شعبہ جہاد اور تحریر کے میدان میں تھا۔ انہوں نے 12 سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا ، اور انہوں نے فقہ ، اصولوں ، تصو ف ، الہیات ، فلسفہ ، حدیث ، اخلاقیات ، مہدویت اور تاریخ کے مختلف مضامین پر درجنوں کتابیں لکھی ہیں اس سافٹ ویئر میں جمع اس کی تحقیق اور تحقیق کے آثار ہیں:

    مکتوب آثار

    • الحیرة فی غیبة الکبری
    • الحیرة فی غیبة الصغری
    • قیامة الخراسانی
    • من مفاهیم الجهاد
    • مقتل فاطمة الزهراء
    • ملاحظات علی منهج السید محمدحسین فضل الله
    • الولایة الفقیة (حدود حاکم اسلامی)
    • أضواء علی دولة الامام المهدی
    • النجم الثاقب فی أحوال الحجة الغائب 3 جلد(ترجمه‘تحقیق‘شرح)
    • السیرالی الله لشیخ ملکی تبریزی(ترجمه‘تحقیق‘شرح)
    • صلاة الجمعة (فقهها‘فضائلها‘فلسفتها)
    • مختصرکفایة المهتدی فی معرفة المهدی لمیر لوحی (ترجمه‘تصحیح)
    • کشف الحق للخاتون ابادی (ترجمة‘تحقیق)
    • سلسلة علامات الظهور(5 جلد)
    • هل الدین من صنع البشر (3جلد)
    • منازل الاخرة(ترجمه‘شرح)
    • الهجره من الذات ام الهجره من الوطن
    • منتخب اصول الکافی 2جلد
    • فضائل زیارت عاشوراء
    • تحفة الملوک فی السیر والسلوک لسید مهدی بحرالعلوم(ترجمه‘تحقیق)
    • اجتهاد فقهی بین الحداثة والاصالة
    • سند زیارت عاشوراء
    • سند دعا الندبة
    • الغدیر یتحدی بأسانیده
    • سند زیارة الجامعة الکبیرة
    • حقیقة علامات الظهور 2 جلد
    • البنیان الأخلاقی فی رأی الامام الصدر
    • حیاة علامة بحرالعلوم
    • أنوارالالهیة فی حیاة الشهید الصدر
    • الوطن والمواطنة فی المفهوم الاسلامی
    • مفهوم فلسفة الاسلامی

    غیر مکتوب

    تبصرة الولی(تحقیق) تعلیقات مراة العقول 30جلد اکثیرالعارفین اسرار آل محمد شرح زیارت جامعه کبیره منازل ومقامات الائمة علیهم‌السلام شرح المکاسب 16جلد شرح المعة الدمشقیة10 جلد تقریر حول الاجتهاد والتقلید(فقه استدلالی) فیمن رأی الامام ‌علیه‌السلام 4 جلد آداب معنویه لصلاة الامام الخمینی (ترجمه) پرواز در ملکوت(ترجمه کتاب آیت‌الله سید احمد فهری) الحجة عمل المستضعفین 10 جلد رساله اتحاد عاقل ومعقول بحوث فی علم الاصول تقریرات درس آیت‌الله شهید محمد باقر صدر(ره)

    کتاب الدیات

    امریکہ عراق کو اپنا تابع بنانا چاہتا ہے

    امام جمعہ بغداد آیت اللہ سید یاسین موسوی نے اپنے خطبہ جمعہ میں شام کی حالیہ صورتحال اور اس کے خطے پر اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور صیہونی ریاست خطے میں اپنی سازشوں کو آگے بڑھا رہے ہیں، جن کا مقصد عراق سمیت دیگر ممالک کو اپنے تابع بنانا ہے۔ حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ بغداد آیت اللہ سید یاسین موسوی نے اپنے خطبہ جمعہ میں شام کی حالیہ صورتحال اور اس کے خطے پر اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور صیہونی ریاست خطے میں اپنی سازشوں کو آگے بڑھا رہے ہیں، جن کا مقصد عراق سمیت دیگر ممالک کو اپنے تابع بنانا ہے۔

    آیت اللہ سید یاسین موسوی نے شام میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور اس کے عراق، اردن، اور دیگر خطوں پر ممکنہ اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اور صیہونی منصوبے خطے کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور صیہونی ریاست شام میں ایک سنی ریاست اور عراق میں ایک شیعہ ریاست قائم کرنے کے خواہاں ہیں، لیکن ان منصوبوں میں شام کے دیگر علاقوں کے مستقبل کے حوالے سے کئی پیچیدگیاں موجود ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔

    آیت اللہ موسوی نے کہا کہ امریکہ عراق کے موجودہ نظام یا آئین کو تبدیل نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ یہ آئین خود امریکہ نے تیار کیا ہے، بلکہ وہ عراق کو ہر معاملے میں اپنے تابع بنانا چاہتا ہے۔ ان منصوبوں میں عراق کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا اور صیہونی مداخلت کے لیے راہ ہموار کرنا شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صیہونی ریاست عراق میں الٹی ہجرت کو فروغ دینا چاہتی ہے تاکہ اسرائیل میں موجود عراقی یہودیوں کو دوبارہ عراق میں بسایا جا سکے اور ان کے حقوق کی ضمانت دی جا سکے۔

    امام جمعہ بغداد نے کہا کہ امریکی منصوبے عراق میں حشد الشعبی کے کردار کو محدود کرنے اور عراق کے ایران کے ساتھ تعلقات کو امریکی پالیسیوں کے تابع بنانے کی سازش پر مبنی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عراقی عوام امریکہ کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائیں گے۔ "ہم امام حسین اور امام علی (علیہما السلام) کے پیروکار اور مرجعیت عراق کے فرزند ہیں، ہمارا نعرہ 'ہیہات منا الذلہ' ہے۔"

    آیت اللہ موسوی نے کہا کہ اگر یہ سازشیں کامیاب ہوئیں تو عراقی عوام امریکیوں اور صیہونیوں کے غلام بن جائیں گے، لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہ تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔ انہوں نے اپنے خطبے کے اختتام پر کہا: "ہم امام مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظہور کے لیے زمینہ ساز بنیں گے، اور امریکہ کی تمام سازشیں شکست سے دوچار ہوں گی۔"[4]۔

    بعض قوتیں عراق میں دوسری جولانی رژیم لانے کی کوشش کر رہی ہیں

    بغداد کے امام جمعہ نے ملک کے خلاف سرگرم قوتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ملک کے موجودہ نظام میں بہت سی خرابیاں ہیں لیکن اس کے باوجود مصر، اردن، شام اور کئی دیگر عرب ممالک میں رائج نظاموں سے بہت بہتر ہے مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، بغداد کے امام جمعہ آیت اللہ سید یاسین موسوی نے کہا: عراق کے موجودہ نظام میں بہت سی خرابیاں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ مصر، اردن، شام اور کئی دیگر عرب ممالک میں رائج نظاموں سے بہت بہتر ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے پر عراق کی موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے، مزاحمتی گروہوں اور حشد شعبی کو تحلیل کرنے کی افواہیں پروپیگنڈہ وار کا حصہ ہیں۔ دشمنوں نے غزہ اور لبنان میں مزاحمت کو تباہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ مکمل طور پر ناکام رہے، تاہم آج اپنی شکست کا ازالہ کرنے کے درپے ہیں۔"

    آیت اللہ سید یاسین موسوی نے کہا کہ آج عراق کی صورتحال مستحکم ہے اور ٹرمپ عراق میں جنگ کے بجائے سیاسی فریب کے ذریعے خطے میں گریٹر اسرائیل کا خواب دیکھ رہے ہیں۔" انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ اور صیہونی رژیم کے اہداف کے حصول کو روکنے کا واحد راستہ مزاحمت ہے اور مزاحمت سے میری مراد ہر قسم کی فوجی، ثقافتی، سماجی اور دینی مزاحمت ہے۔

    بغداد کے امام جمعہ نے خبردار کیا کہ اگر ہر کوئی امریکی صیہونی منصوبے کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا ہے تو پھر دشمن کی یہ آگ سب کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ اردن، سعودی عرب اور شام اس وقت گریٹر اسرائیل کے منصوبے کا حصہ ہیں، لہذا ہر ایک کو اس غاصب رژیم کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی دفاعی، سیاسی اور اقتصادی طاقت کو مضبوط کرنا ہوگا[5]۔

    دشمنوں کا منصوبہ خطے کے ممالک کو تقسیم کرنا اور انہیں صہیونی ریاست میں شامل کرنا ہے

    آیت اللہ سید یاسین موسوی نے خبردار کیا کہ دشمن عرب ممالک کو تقسیم کرنے اور انہیں صہیونی ریاست میں شامل کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں، عراق بھی خطرے میں ہے اور اس صورت حال میں غیرجانبداری کوئی حل نہیں ہے۔ حوزه نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ بغداد اور حوزہ علمیہ نجف اشرف کے ممتاز استاد آیت اللہ سید یاسین موسوی نے خطے میں تیزی سے رونما ہونے والے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ واقعات پہلے سے طے شدہ ہیں اور درحقیقت یہ خطے کے ممالک کو تقسیم کرنے اور ان کے معاملات و وسائل پر قبضہ کرنے کے استعماری منصوبے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا: دوسری جنگ عظیم کے بعد اور اکتوبر کے انقلاب (انقلاب تشرین) کے بعد، مرجعیت کے خلاف دشمن کی تمام سازشیں ناکام ہو گئیں۔ آیت اللہ موسوی نے کہا: ہم مشرق اور مغرب کے درمیان ایک دو طرفہ تنازعہ دیکھ رہے ہیں۔ ایک طرف ایران، روس اور چین ہیں، جبکہ دوسری طرف امریکہ اور تمام مغربی ممالک ہیں۔

    انہوں نے نشاندہی کی: آج کے حالات میں غیرجانبداری کا کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ دشمن اپنے منصوبوں کے مطابق عمل کر رہا ہے، اور جو کوئی بھی اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا، وہ امت اسلام کے دشمنوں کا شکار ہو جائے گا۔ حوزہ علمیہ نجف اشرف کے ممتاز استاد نے صہیونی ریاست کی غزہ پٹی پر جاری جنگ اور جارحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دشمن جنگ کو دیگر ممالک تک پھیلانے پر اصرار کر رہے ہیں، اور یہ چیلنج عراق کے قریب بھی پہنچ سکتا ہے، اسی لیے ہمیں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    آیت اللہ موسوی نے کہا: آج صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے بارے میں کوئی بات نہیں ہو رہی ہے، کیونکہ امریکہ اور صہیونی ریاست نے ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا ہے، جو عرب ممالک کو تقسیم کرنے اور انہیں غاصب صہیونی ریاست میں شامل کرنے کا مرحلہ ہے، تاکہ وہ "گریٹر اسرائیل" بنا سکیں۔

    انہوں نے مزید کہا: دشمن کی سازشیں سب پر عیاں ہو چکی ہیں، صہیونی ریاست کے میڈیا نے حال ہی میں لکھا تھا کہ نیتن یاہو اور کابینہ کے کچھ وزراء نے ملاقات کی اور شام کو تقسیم کرنے کے منصوبے پر اتفاق کیا ہے۔ اسی طرح امریکیوں نے عین الاسد اڈے سے عراق سے شام تک فوجی سازوسامان اور ہزاروں فوجیوں کی منتقلی شروع کر دی ہے تاکہ وہ کرد مسلح گروہوں (قسد) کو ترکی کے خلاف سپورٹ کریں[6]۔

    الجولانی گروہ پر اعتماد عراق کو خطرے میں ڈال سکتا ہے

    بغداد کے امام جمعہ آیت اللہ سید یاسین موسوی نے عراقی سیاست دانوں کو درپیش خطرات کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے الجولانی گروہ پر اعتماد کے نقصانات کی نشاندہی کی ہے۔ حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بغداد کے امام جمعہ آیت اللہ سید یاسین موسوی نے عراقی سیاست دانوں کو درپیش خطرات کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے الجولانی گروہ پر اعتماد کے نقصانات کی نشاندہی کی ہے۔

    انہوں نے نماز جمعہ کے خطبے میں علاقائی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "امریکہ اور مغربی ممالک طویل عرصے سے ایک نیا مشرق وسطیٰ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جو صدام حسین کی معزولی سے شروع ہوئی، حالانکہ صدام خود امریکہ کا ایجنٹ تھا۔" آیت اللہ موسوی نے کہا کہ امریکیوں کو یقین تھا کہ عراق ان کی منصوبہ بندی کا حصہ بن جائے گا، لیکن جب انہوں نے زیارت اربعین امام حسین علیہ السلام پر لاکھوں زائرین کو دیکھا تو انہیں احساس ہوا کہ عراق ان کے کنٹرول میں نہیں آئے گا۔

    انہوں نے مزید کہا: "امریکیوں کو جلد معلوم ہوا کہ آیت اللہ سیستانی ان کی سازشوں کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب ان کی ابتدائی سازش ناکام ہوئی تو انہوں نے حزب اللہ کے خلاف 2006 کی جنگ، شیعوں کو منتشر کرنے کے لیے مذہبی انحرافی تحریکوں اور داعش جیسے گروہوں کو تشکیل دیا، لیکن یہ سب منصوبے ناکام ہوگئے۔"

    شام کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے آیت اللہ موسوی نے کہا کہ ترکی نے الجولانی کو دنیا کے سامنے ایک نئے انداز میں پیش کیا تاکہ اسے قبولیت حاصل ہو۔ جبکہ الجولانی عراق میں سینکڑوں افراد کے قتل کے جرم میں سزائے موت کا مجرم ہے۔ انہوں نے عراقی حکام کو خبردار کیا کہ ایسے قاتل سے کسی بھی قسم کے تعلقات نہ رکھیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کا منصوبہ شام کو تقسیم کرنا ہے، "صیہونی حکومت نے شام میں اپنی جارحیت شروع کر دی ہے اور قنیطرہ سمیت مختلف علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے، یہاں تک کہ دمشق صیہونیوں کی نگرانی میں آ گیا ہے۔"

    امام جمعہ بغداد نے شام کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: "شام اس وقت تین ممالک کے زیر تسلط ہے؛ مشرقی حصہ امریکہ کے قبضے میں، جنوب مغرب صیہونی حکومت کے کنٹرول میں اور دیگر علاقے ترکی کے زیر تسلط ہیں۔" انہوں نے الجولانی کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابتدائی دنوں میں جمہوریت پسند بن کر سامنے آیا، لیکن آج اس کے عزائم علویوں اور شیعوں کے قتل عام سے واضح ہو چکے ہیں۔

    آخر میں آیت اللہ موسوی نے عراقی سیاست دانوں کو خبردار کیا کہ وہ الجولانی کے دھوکے میں نہ آئیں۔ انہوں نے کہا: "ہم شام میں کسی جنگ کے خواہاں نہیں، لیکن الجولانی گروہ پر اعتماد عراق کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔"[7]۔

    انقلاب امام خمینیؒ ظہور امام مہدی (عج) کی راہ ہموار کرنے والا نظام ہے

    نجف اشرف کے معروف حوزہ علمیہ کے استاد آیت‌الله سید یاسین موسوی نے عصر غیبت میں شیعہ سیاسی فقہ میں ہونے والی تبدیلیوں کا تجزیہ کرتے ہوئے امام خمینیؒ کے اسلامی حکومت کے قیام میں کلیدی کردار پر زور دیا۔ مدرسہ امام خمینیؒ نجف اشرف میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے انقلاب اسلامی ایران کی سالگرہ اور امام مہدی (عج) کے یوم ولادت کی مناسبت سے گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شیعہ سیاسی فقہ، غیبت کے دور میں طویل عرصے تک نظرانداز رہی، لیکن صفوی حکومت کے قیام کے بعد اس پر دوبارہ غور و فکر کا آغاز ہوا، اور اس موضوع پر ولایت فقیہ کے حوالے سے مباحث کھلے۔

    آیت‌الله موسوی نے بیان کیا کہ اسلام میں ایک مخصوص سیاسی نظام موجود ہے، جس میں ائمہ معصومین علیہم‌السلام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے مطابق، ائمہ کو تکوینی، تشریعی اور حکومتی ولایت حاصل ہے، اور حکومت صرف انہی کے لیے مخصوص ہے یا پھر ان کے مقرر کردہ افراد کے لیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شیعوں کے نزدیک دو نظریات ہیں؛ ایک یہ کہ ائمہ معصومین علیہم السلام نے حکومت اس لیے قائم نہیں کی کیونکہ ان کے پاس وسائل نہیں تھے، جبکہ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ ائمہ کرام حکومت قائم کرنا چاہتے تھے، مگر ظالم حکمرانوں نے انہیں اس کا موقع نہ دیا اور انہیں شہید کر دیا۔

    سید یاسین موسوی نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخ میں کچھ علمائے شیعہ نے حکومت کے قیام کے لیے جدوجہد کی، جیسے شیخ کاشف الغطاء نے وہابیوں کے خلاف لشکر تیار کیا، اور شیخ الشریعة اصفہانی نے نجف میں برطانوی افواج کے خلاف مزاحمت کی، جس کے نتیجے میں انگریز فوج کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ آیت‌الله موسوی کے مطابق، ولایت فقیہ کا تصور غیبت صغری کے دور سے موجود تھا اور کئی شیعہ حکومتیں جیسے آل بویہ، حمدانیان، فاطمیون اور علویان طبرستان اسی نظریے کے تحت وجود میں آئیں، لیکن وہ مکمل اسلامی حکومتیں نہیں تھیں کیونکہ ان کے حکمران امام معصوم (ع) یا ان کے خاص و عام نائبین نہیں تھے۔

    انہوں نے کہا کہ تاریخ میں واحد مکمل اسلامی حکومت، امام خمینیؒ نے قائم کی، جو براہِ راست امام معصوم (ع) سے منسوب ہے، کیونکہ یہ توقیع امام "و اما الحوادث الواقعة فارجعوا فیها إلی رواة احادیثنا" کی بنیاد پر تشکیل دی گئی ہے۔ آیت‌الله موسوی نے کہا کہ امام خمینیؒ کے قیام کردہ اسلامی نظام کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس کے رہبر کو عادل ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حکومت امام مہدی (عج) کے ظہور کے لیے ایک بنیاد فراہم کر رہی ہے، کیونکہ اس کے بعد سے علمی حلقوں میں امام مہدی (عج) کا تذکرہ عام ہو گیا ہے، جو اس سے پہلے ایک حد تک مغفول تھا[8]۔

    حوالہ جات

    1. عراق|آیت الله الموسوی از دلدادگی به انقلاب اسلامی تا حضور در خط مقدم مبارزه فرهنگی و نبرد با تروریسم تکفیری(عراق|آیت اللہ الموسوی انقلاب اسلامی سے محبت سےلے کر میدان ثقافتی یلغار فرنٹ لائن پر اور دہشت گردوں سے مقابلہ)- شائع شدہ از: 23 اگست 2023ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 26 جنوری 2025ء۔
    2. شخصیت‌شناسی سید یاسین موسوی(سید یاسین موسوی کی سوانح عمری)- شائع شدہ از: 19 مئی 2020ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 26 جنوری 2025ء۔
    3. شخصیت‌شناسی سید یاسین موسوی(سید یاسین موسوی کی سوانح عمری)- شائع شدہ از: 19 مئی 2020ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 26 جنوری 2025ء۔
    4. امریکہ عراق کو اپنا تابع بنانا چاہتا ہے: امام جمعہ بغداد- شائع شدہ از: 15 دسمبر 2024ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 25 جنوری 2025ء۔
    5. بعض قوتیں عراق میں دوسری جولانی رژیم لانے کی کوشش کر رہی ہیں، امام جمعہ بغداد کا انتباہ- شائع شدہ از: 25 جنوری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 25 جنوری 2025ء۔
    6. دشمنوں کا منصوبہ خطے کے ممالک کو تقسیم کرنا اور انہیں صہیونی ریاست میں شامل کرنا ہے / عراق خطرے میں ہے-شائع شدہ از: 13 جنوری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 25جنوری 2025ء۔
    7. الجولانی گروہ پر اعتماد عراق کو خطرے میں ڈال سکتا ہے: امام جمعہ بغداد- شائع شدہ از:24 ستمبر 2024ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 25جنوری 2025ء۔
    8. انقلاب امام خمینیؒ ظہور امام مہدی (عج) کی راہ ہموار کرنے والا نظام ہے: آیت‌الله سید یاسین موسوی- شائع شدہ از: 16 فروری 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 فروری 2025ء۔