سید مقاومت کی خدمت میں (نوٹس اور تجزیے)

    ویکی‌وحدت سے
    تشیع 121.jpg

    سید مقاومت کی خدمت میں (شہید حسن نصراللہ کی پرشُکوہ تشیع جنازہ میں شرکت اور آنکھوں دیکھا احوال) تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی ہم نے عملی طور پر دیکھا کہ سید حسن نصراللہ کی قیادت میں اسرائیل کو حزب اللہ نے بہت بڑی شکست فاش ایک نہیں دو دفعہ دی۔ جنازے کے اجتماع سے یہ بات بالکل واضح ہو رہی تھی کہ سید نے مقاومت کو اسلحے کی مزاحمت سے بلند کرکے عوامی مزاحمت میں داخل کر دیا۔ یہ کسی بھی تحریک کی کامیابی کی بین دلیل ہوتی ہے کہ کوئی تحریک اسلحے کی قوت کیساتھ ساتھ عوام کی بھی مضبوط قوت اور مدد کیساتھ میدان کارزار میں اترے۔ میری دانست میں اسلحے کی قوت سے کہیں زیادہ مفید اور کارآمد عوامی قوت ہوتی ہے۔

    دنیا اسلام ایک عظیم مجاہد اور رہبر و رہنماء سے محروم ہوگئی ہے

    شہید راہِ قُدس سید حسن نصراللہ فلسطین، لبنان، غزہ اور دیگر علاقوں میں مقاومت و مزاحمت کے عظیم قائد، بے مثال لیڈر اور بہادر جرنیل تھےـ مقاومت کے اس عظیم سردار نے دہائیوں تک صیہونی اور اسرائیلی درندوں کا مقابلہ کیاـ وہ غزہ اور فلسطین میں اسلامی جہاد کے ہیرو تھےـ وہ مقدس جنگ کے ہراول دستے کے سپہ سالار تھے۔

    دنیا اسلام ایک عظیم مجاہد اور رہبر و رہنماء سے محروم ہوگئی ہے۔ وہ حزب اللہ کے نایاب و بے مثال قائد تھےـ انہوں نے اپنی اعلیٰ حکمت عملی اور جرات و بہادری سے ایک ایسے ناجائز اور ظالم ملک اسرائیل کا مقابلہ کیا، جس کے پیچھے یورپی قوتیں کھڑی ہیں اور امریکہ جس کا سب سے بڑا حمایتی اور فائنانسر ہے۔ سید نے نہ صرف حزب اللہ بلکہ شام اور یمن کی مزاحمتی قوتوں کی بھی خوب رہنمائی کی۔ اس عظیم شہید نے ہر جگہ مزاحمتی قوتوں کو اس طرح مضبوط کیا کہ ان کی شہادت کے بعد بھی ان مزاحمتی قوتوں کے پائے ثبات کو لغزش تک نہ آئی۔

    سید مقاومت اہل ایمان کی آنکھوں کا تارا بن گئے

    ‎یہ 22 فروری 2025ء کی صبح ہے اور میں اس مقاومت کے عظیم سردار سید المجاہدین و شہید امت کے نماز جنازہ میں شرکت کے لیے عازم سفر ہوں۔ ایک عجیب وجدانی و روحانی کیفیت میرے قلب و روح پر طاری ہے۔ سید مقاومت کی خدمت میں حاضری، شہید راہ حق کے نماز جنازہ میں شرکت ایک بہت بڑا اعزاز اور خوش قسمتی ہے۔ سید کے نعرے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں لگائے تھے۔

    وہ آج بھی میرے دل و دماغ میں گونج رہے ہیں اور ان نعروں کی چاشنی نے میری زندگی کی شیرینی کو دُگنا کر دیا اور آج ان کی جُدائی نے مجھے گھائل کر دیا ہے۔ اس مرد جری نے ہمیشہ عزیمت کے راستے کا انتخاب کیا۔ حزب اللہ کو وہ عظیم عروج عطا کیا کہ وہ لبنان کی ریاستی فوج سے بھی زیادہ طاقتور ہوگئی، فلاحی میدان میں سید کی حزب اللہ نے ریاست لبنان سے کہیں بڑھ کر کام کیا۔ سید مقاومت اہل ایمان کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔

    روداد سفر

    ‎شام کو میں قطر ایئر ویز کی فلائٹ کے ذریعے سے جب بیروت ایئرپورٹ پر اترا تو ہمارے دوست ہمارے استقبال کے لیے انتظار کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ اس عظیم تاریخی جنازے میں شرکت کی سعادت اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس فقیر کو عطا کی۔ میں وطن عزیز اسلامی جمہوری پاکستان سے واحد اہل سنت تھا، جس نے یہ اعزاز حاصل کیا جبکہ اہل تشیع کی طرف سے محترم جناب سینیٹر راجہ ناصر عباس حفظہ اللہ چیئرمین مجلس وحدت مسلمین اور فلسطین فاؤنڈیشن کے سربراہ جناب صابر ابو مریم نے بھی شرکت کی۔

    اس تاریخی تقریب میں دنیا کے 80 ممالک سے مندوبین تشریف لائے ہوئے تھے، جنہوں نے سید مقاومت اور دیگر عظیم شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ دوستوں کی معیت میں، میں جب ایئرپورٹ سے نکلا تو عجیب سماں تھا۔ ٹریفک کا اژدحام تھا اور پیدل مخلوق خدا سید مقاومت کی بڑی بڑی تصاویر اٹھائے ہوئے سڑک کے دونوں اطراف کھڑے تھے۔ یہ عوام جن میں مرد و خواتین، بچے بچیاں اور بوڑھے و جوان سب موجود تھے، مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے۔ سڑک کی دونوں اطراف بہت کثرت سے بسکٹ اور جوسز اور دیگر اشیائے خورد و نوش تقسیم ہو رہی تھیں۔ جنگ زدہ قوم اپنے ہیروز کو بہت خوبصورت طریقے سے خراج تحسین پیش کر رہی تھی۔ کتبے اٹھا اٹھا کر وہ سید حسن نصراللہ سے اپنی محبت کا اظہار کر رہے تھے۔

    ایئرپورٹ سے گلیریا ہوٹل کا تقریباً دو سے تین کلومیٹر کا یہ سفر ہم نے تقریباً ایک گھنٹے میں طے کیا۔ اگلے دن 23 فروری 2025ء کو ہم ساڑھے نو بجے بیروت کے عظیم الشان کمیل شمون سٹیڈیم میں پہنچے تو اس وقت سے ہی اسٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے محبوب قائد کو الوداع کہنے کے لیے موجود تھے۔ خواتین، بچے، جوان، بوڑھے الغرض ہر شعبہ زندگی سے موجود عوام کا جمِ غفیر سید سے اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کر رہا تھا اور یہ عقیدت اس بات کا اظہار تھا کہ وہ سید پر جان بھی قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

    کمیل اسٹیڈیم نے اپنی تاریخ میں ایسا جم غفیر یقیناً کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ سٹیڈیم سے باہر حاضرین کی تعداد سٹیڈیم کی تعداد سے بھی کئی گنا زیادہ تھی۔ اس لیے میں شرح صدر سے کہہ سکتا ہوں کہ شہید امت کو الوداع کہنے والے ان کے عشاق کی تعداد 15 لاکھ سے کم کسی صورت میں نہیں تھی۔ ہر فرد چاہے مرد ہو کہ عورت بچہ ہو کہ جوان سید کی تصویر اٹھائے ہوئے تھا اور ایک ہاتھ میں حزب اللہ کا جھنڈا تھامے ہوئے تھا۔

    اس عظیم الشان اجتماع کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ لبنانی قوم ایک زندہ قوم ہے اور زندہ قومیں اپنے مخلص قائدین کو ایسے ہی عقیدت کا خراج پیش کرتی ہیں۔ جنازے کا یہ اجتماع لبنان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور میں بھی زندگی بھر اس اجتماع کے جوش اور ولولے اور جان نثاری کو کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ ‎سید حسن نصراللہ نے حزب اللہ کی قیادت اس وقت سنبھالی، جب حزب اللہ کے سربراہ سید عباس موسوی 1992ء میں اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ اس وقت حزب اللہ اور مقاومت کی قوتیں بہت کمزور تھیں۔

    لیکن سید حسن نصراللہ کی بے باک قیادت میں حزب اللہ اتنی مضبوط اور طاقتور ہوگئی کہ اس نے دو دفعہ اسرائیلی فوج کو شکست فاش سے دوچار کیا اور تیسری دفعہ بھی اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ عسکری تاریخ میں شاید یہ واحد مثال ہو کہ کسی حزب نے یا کسی جماعت نے ایک ملک کی فوج کو شکست دی ہو اور اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہو۔ ہم نے عملی طور پر دیکھا کہ سید حسن نصراللہ کی قیادت میں اسرائیل کو حزب اللہ نے بہت بڑی شکست فاش ایک نہیں دو دفعہ دی۔

    جنازے کے اجتماع سے بات بالکل واضح ہو رہی تھی کہ سید نے مقاومت کو اسلحے کی مزاحمت سے بلند کرکے عوامی مزاحمت میں داخل کر دیا۔ یہ کسی بھی تحریک کی کامیابی کی بین دلیل ہوتی ہے کہ کوئی تحریک اسلحے کی قوت کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی مضبوط قوت اور مدد کے ساتھ میدان کارزار میں اترے۔ میری دانست میں اسلحے کی قوت سے کہیں زیادہ مفید اور کارآمد عوامی قوت ہوتی ہے [1]۔

    حوالہ جات

    1. مقاومت کی خدمت میں(1)-شائع شدہ از: 1 مارچ 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 2 مارچ 2025ء۔

    زمره:نوٹس اور تجزیے