سہیون شریف

سیہون شریف ، یا سہون شریف پاکستان کے صوبہ سندھ کا قدیم شہر ہے، جو ضلع جامشورو میں دریائے سندھ کے کنارے آباد ہے۔ یہ شہر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کی وجہ سے خاص شہرت رکھتا ہے۔ یہ شہر سندھ کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے اور یہ شہر سکندر اعظم کے سندھ پر حملے (327 ق م) کے دور کے نقشوں میں “پٹالا” کے نام سے درج ہے۔ سندھ کے رائے خاندان کے راجاؤں کے دور (662ء-450ء) اور برہمن خاندان کے دور (712ء-662ء) میں سیستان کے نام سے تاریخ میں درج ہے۔
وجہ تسمیہ
سیہون دراصل میں شو واہن کا بگاڑ ہے، جس کا مطلب ہے شوَ کی بستی۔ واہن سندھی زبان میں بستی کو کہتے ہیں۔ یعنی یہ شہر شوَ کے پجاریوں کی بستی تھی۔ فارسی لفظ سیستان (شوَ آستان) کا مطلب بھی یہی ہے۔
پہلے یہ شہر قدیم قلعہ میں آباد تھا، جو آج بھی شہر کے شمال میں موجود ہے۔ تاریخ مظہرِ شاہجہانی کے مصنف یوسف میرک لکھتے ہیں کہ یک تھنبھی اور چھٹو امرانی کا مزار سیہون شہر (قلعہ والا شہر) سے آدھ میل پر ہے۔
اس کا مطلب کہ موجودہ جو سیہون شہر ہے، وہ صفحہ ہستی پر نہ تھا۔ حضرت لال شہبار کے دنوں میں یہ شہر بڑھنے لگا اور حضرت قلندر شہباز کے سکونت پزیر ہونے کے بعد اس شہر کی شہرت نے بلائیں لینی شروع کیں۔ لال شہباز کی نسبت سے سیہون شریف بن گیا۔ اس شہر میں قدیم قلعہ، چھٹو امرانی کا مزار، یک تھنبھی، چار تھنبھی کے آثار بھی اس شہر کی قدامت پر روشنی ڈالتے ہیں۔
قدیم مکانات
اس تحصیل میں کائی کی وادی میں قدیم غاریں اور زرتشت مذہب کے دخمے موجود ہیں، نئیگ کی وادی میں لکھمیر یا لکھشمیر کی ماڑی نامی ایک قدیم ٹیلہ ہے، جس کو این جی مجمدار نے اپنی کتاب “ایکسپلوریشنس ان سندھ” میں کئلکولیتھک سائیٹ قرار دیا تھا۔
مجمدار کے موجب منچھر جھیل کے کنارے ٹہنی (Tihni) کی بستی ہے، جہاں موہن جو دڑو اور آمری تہذیب کے قدیم آثار ملے ہیں، بُلو کھوسو کی قدیم بستی، نئگ شریف میں قمبر علی شاہ کا مزار اور بدھ مذہب کا سٹوپا (Stupa) بھی سیہون تحصیل میں ہیں۔
سیہون شریف کئی دیگر اولیا کا مدفن بھی ہے۔ حضرت لعل شہباز قلندر کے ایک روحانی جانشین اور صوفی بزرگ سید نادر علی شاہ کا مزار بھی یہیں پر واقع ہے، جہاں روزانہ ہزاروں لوگوں کو مفت کھانا پیش کیا جاتا ہے۔
سیہون شریف پہلے ضلع کراچی میں رہا۔ بعد میں ضلع دادو کی تحصیل تھا۔ اب ضلع جامشورو کی تحصیل ہے۔ اب سیہون شریف نے بہت ترقی کی ہے۔ ہسپتال، گرلز اور بوائیز کالج بھی ہے۔ سیہون شریف تحصیل میں ہر اقسام کی فصلیں اگتی ہیں اور اس وقت شہر تجارت کا بھی مرکز ہے۔
سیہون کا قلعہ جس کے مقدر میں کئی بادشاہوں کی حکمرانی
افریقی سیاح کو رات چھت پر لیٹے روٹھی ہوئی نیند کو منانے کے لیے کافی پہر بیت گئے، سوتے وقت بھی اس کے ذہن میں ان لوگوں کے چہرے گھوم رہے تھے جن کی گردنیں تن سے جدا کر کے بیچ شہر میں ڈھیر کی گئی تھیں اور ان کے بقیہ اجسام قلعے کی دیواروں پر لٹک رہے تھے۔
یہ بنا گردنوں والی لاشیں سوتے وقت بھی اسی قلعے کی دیوار پہ لٹکی ہوئی تھیں۔ لاشوں کے اکڑے جسموں نے اجنبی کے بدن میں کپکپی پیدا کر دی تھی۔ رسیوں میں لٹکی ہوئی لاشوں نے ہوا کے جھونکے پر ہلنا شروع کیا۔ مردہ ہلتی پرچھایوں نے اس پر مزید دہشت طاری کر دی۔
صبح جب سورج طلوع ہوا تو اسی افریقی سیاح ’ابن بطوطہ‘ نے مدرسے سے سامان اٹھا کر دوسری جگہ رہائش اختیار کی۔ اب اس سے مزید ان مظلوم لوگوں کی بھوسہ بھری لٹکی ہوئی لاشیں دیکھنا برداشت نہ ہوئیں جن کو ہندوستان کے حکمران محمد تغلق کے حکم انحرافی کی وجہ سے قتل کرنے کے بعد سیہون کے قلعے کی دیواروں پر لٹکایا گیا تھا۔
یہ قصہ سندھ کے محقق اشتیاق انصاری نے اپنی کتاب ’سندھ جا کوٹ ائیں قلعا‘ میں سیہون شہر میں قائم قلعے کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ ویسے تو سیہون کا جانا پہچانا تعارف لال شہباز قلندر ہی ہے، جن کے مزار پر جاتے ہوئے ہزاروں عقیدت مندوں کا مزاج بھی قلندرانہ ہو جاتا ہے۔
مگر اس شہر کی تاریخ کے حوالے سے بہت کچھ ایسا بھی ہے جسے جانے بنا آپ نہ تو حقائق تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کی قدامت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
قلعے کے مقدر میں کئی بادشاہوں اور حکمرانوں کی حکمرانی لکھی تھی
اس بار میرے سفر کا مقصد قلندر کے مزار کے اسرار و رموز دیکھنا نہیں تھا بلکہ اس کے عقب میں مٹی کے ٹیلوں، برجوں اور ستونوں کو دیکھنا تھا، جو کسی زمانے میں قلعہ تھے۔ سیہون کا شہر حیدرآباد سے 130 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
زیارتگاہ
ہر سال قلندر کے میلے میں ہزاروں زائرین یہاں ملک کے ہر حصے سے آتے ہیں۔ جس طرح ہر شہر کا ایک تاریخی پس منظر ہوتا ہے، اس کے نام کے ارتقائی مراحل ہوتے ہیں، اسی طرح سیہون شریف تک کا سفر بھی اس شہر نے ایک رات میں طے نہیں کیا ہے۔
سیہون شریف کا نام تاریخ میں سیستان یا سیوستان بیان کیا جاتا ہے۔ سیہون دراصل شو واہن کی بگڑی شکل ہے۔ جس کے معنی شو یا شو کے پجاریوں کی بستی ہے۔ جبکہ فارسی لفظ سیستان یا سیوستان کا مفہوم بھی یہی سمجھا جاتا ہے۔
مشہور سیاح ابن بطوطہ اپنے سفر نامے میں لکھتے ہیں کہ ’سندھ میں سیوستان نامی ایک شہر ہے جو دراصل شواستان تھا، یعنی شیو کا آستان، لیکن لوگوں کی زبان پر سیوستان مشہور ہو گیا۔‘
آج اس قلعے کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہے
شیو ہندو مت میں اعلیٰ درجے کا دیوتا مانا جاتا ہے، جوکہ ایک بہت ہی طاقتور دیوتا ہے۔ جسے برہما (تخلیق کرنے والا) شو (تباہ کرنے والا) وشنو (حفاظت کرنے والا) بھی کہا جاتا ہے۔ اس دیوتا کو تریمورتی بھی کہا جاتا ہے۔ جس کی پیشانی پر ابھری آنکھ غیرمعمولی عقل کی نشانی ہے۔
ایک روایت کے مطابق انہوں نے اپنی بیوی کی جدائی میں دو بہت بڑے آنسو بہائے تھے۔ ان میں سے ایک کٹاس راج میں گرا جبکہ دوسرا اجمیر میں گرا۔ جبکہ اس دنیا کی تخلیق کے حوالے سے بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے آنسوؤں سے وجود میں آئی۔
لیکن اس شہر کا یہ نام اسلام کی آمد کے بعد تبدیل ہو گیا۔ راجا داہر کے زمانے مین سیہون کے قلعے کا حکمران راجا داہر کا چچا زاد بھائی تھا، سیہون کو سکندر اعظم کے دور میں سنڈیمانا کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد قلندر شہباز کے سکونت پذیر ہونے کے بعد سیہون کو شہرت ملی۔
آج جب سندھ میں قلعے مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو رہے ہیں، یہ کسی زمانے میں بہت ہی مضبوط قلعے رہے ہوں گے، مگر کوئی قلعہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو اس میں کمزوریاں ضرور ہوتی ہیں اور یہی کمزوریاں کسی بادشاہت کی شکست کی وجہ بنتی ہیں۔
سیہون کے قلعے کی قدامت کے حوالے سے کئی محقق اس رائے کے حامی ہیں کہ جب سکندر اعظم سندھ میں داخل ہوا تو یہ قلعہ موجود تھا۔ سکندر کے ساتھ آئے ہوئے مورخین نے سندھ کے جن شہروں کا ذکر کیا ہے، ان میں ایک کا نام سنڈیمانا ہے۔
سکندر موسیکانوس فتح کرنے کے بعد سنڈیمانا کے لیے نکلا۔ محقق موسیکانوس کو اروڑ جبکہ سنڈیمانا کو سیہون کہتے ہیں۔ ہندوستان میں اکبر بادشاہ کے زمانے میں سندھ میں مرزا جانی بیگ کی حکمرانی تھی۔
1573 میں مغلوں نے بھکر کا قلعہ فتح کر لیا تھا مگر ملتان کے مغل گورنر نے سیہون اور ٹھٹہ کو فتح کرنے والی افواج کو شکست دی۔ اس لیے اکبر نے مزید افواج بھیجی۔ 1591 میں سیہون کے قریب جنگ ہوئی جس میں مرزا جانی بیگ کی شکست کے بعد مغل فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔
ویسے تو سیہون کا جانا پہچانا تعارف لال شہباز قلندر ہی ہے
اشتیاق انصاری اپنی کتاب ’سندھ جا کوٹ ائیں قلعہ‘ میں لکھتے ہیں کہ کننگمام اور کؤزن بھی سنڈیمانا سے مراد موجودہ سیہون کی ہی ہے۔ البتہ مشہور یونانی جہازران نیئرکس کی کتاب ووئیج نیئرکس کے مرتب ولیم وئسینٹ نے سوگدی سے مراد سکھر اور موسیکانوس سے مراد سیہون لی ہے۔
وہ لکھتے ہیں ’سیہون بدھ کے شہزادے راجا بھارا تاری کا دارالحکومت تھا، جسے ان کے بھائی وکر اہادیتوا چندرگپتا نے اجین سے بے دخل کیا، جوکہ گپتا خاندان کا تیسرا حکمران تھا۔‘
رائے گھرانے کے دور میں بھی سیوستان کا ذکر ملتا ہے اس دور میں سیوستان ایک بہت بڑا علاقہ تھا، چچ نامہ میں اس کا مختصر احوال یوں ہے۔ ’رائے سہیرس بن ساہسی رائے کی حکومت کی سرحدیں مشرق سے کشمور تک مغرب سے مکران تک جنوب سے سمندر کنارے دیبل تک اور شمال سے کیکانان تک تھیں۔
وہ خود اروڑ کی تخت گاہ پر بیٹھے۔ اور اس زمانے میں چار حکمران مقرر کیے۔ ایک حکمران برہمن آباد، دوسرا سیوستان کی دیکھ بھال کرتا تھا، تیسرا اسکلندہ اور چوتھا ملتان پر مامور تھا۔‘
راجا سمیرس کی وفات کے بعد ان کے وزیر چچ بن سیلاج تخت پر براجمان ہوئے۔ وہ اروڑ، اسکلندہ، سکہ اور ملتان کو تابع کرکے کشمیر کی سرحدیں مقرر کرکے واپس لوٹ آئے۔ بعد میں وہ سیستان کے راجا متی کو زیر کرنے کے لیے روانہ ہوئے جس میں سیستان کے راجا متی شکست سے دوچار ہوئے۔ اس طرح یہ قلعہ چچ کے قبضے میں آ گیا۔
آنے والے دنوں میں مٹی کے ٹیلے کی طرح دکھائی دینے والا قلعہ شاید برسات میں بہہ جائے
ماہر آثار قدیمہ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی مانجھی اس خیال کے حامی ہیں کہ ”سکندر اعظم کے حوالے سے جو رائے فرنچ آثار قدیمہ کی ماہر مونیک کروران کی ہے وہ کافی بہتر ہے، ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں تمام تر تجارتی مراکز دریا کے کناروں پر قائم ہوئے ہیں۔
در حقیقت یہ جگہ شو آستان ہی تھی، جہاں بگھوان شو کے ماننے والے رہا کرتے تھے۔ اس قلعے کی تعمیر بعد میں ہوئی، گوکہ یہ قلعہ ق۔ م کے شواہد پیش کرتا ہے مگر یہ وثوق سے نہیں کہا جاتا یہ یہی وہ قلعہ ہے جہاں سے سکندر کا گزر ہوا تھا۔‘
مگر اس قلعے کے مقدر میں کئی بادشاہوں اور حکمرانوں کی حکمرانی لکھی تھی، اس لیے یہ قلعہ بہت سے دیگر حکمران کے قبضے میں رہا۔ سندھ میں تغلق دور میں بھی یہ قلعہ موجود تھا۔ سندھ میں تغلق دور میں ہندستان کے بادشاہ محمد بن تغلق شاہ کی جانب سے عمادالملک موجود تھے۔ اس کے علاوہ اچ، بکھر اور سیوستان میں بھی سرکاری کارندے تھے۔
سیہون میں ایک ہندو ایسا بھی تھا جو کہ چند امیروں کے ساتھ ہندستان کے بادشاہ محمد بن تغلق کی دربار میں پہنچا۔ بادشاہ نے اس سے متاثر ہو کر اسے ’سندھ سرکار‘ کے لقب سے نوازا۔ اسے جو جاگیر عطا کی اس میں سیہون بھی تھا۔
مگر جام انڑ اور قیصر رومی نے اسے برداشت نہیں کیا اور اسے قتل کروا کر خزانے پر قبضہ جما لیا۔ جام انڑ کو وہاں کے لوگوں نے سردار مان کر اسے “ملک فیروز” کے لقب سے نوازا۔
وہ لشکر جمع کرنے کے لیے لاڑ کی جانب روانہ ہوا۔ سیہون میں بچے ہوئے لشکر نے قیصر رومی کو اپنا سردار بنا لیا۔ اس واقعے کا پتہ جب سلطان محمد بن تغلق کے مقرر کیے ہوئے سندھ کے امیر الامرا عمادالمالک کو چلا تو وہ لشکر لیکر سیہون پہنچ گیا۔
قیصر رومی نے اس کا مقابلہ کیا مگر جب عمادالمالک کو کوئی کامیابی نہ ملی تو امیر قیصر کو صلح کا پیغام بھیجا گیا۔ مگر صلح ہونے کے بعد امیر نے قیصر کو گرفتار کرکے قتل کروا دیا۔
اس واقعے کو ابن بطوطہ نے اس طرح بیان کیا ہے۔ ’تب ان سے وعدہ خلافی کرکے ان کا مال و اسباب ضبط کرکے انہیں قتل کا حکم دیا، پھر ہر روز ان میں سے چن چن کر لوگوں کو قتل کرواتا تھا اور ان کی کھالیں اتروا کر ان میں بھوسہ بھروا کر قلعے کی دیواروں پر لٹا دیا کرتا تھا۔
جس کی وجہ سے قلعے کی اکثر دیواروں پر یہ کھالیں لٹکتی رہتی تھیں۔ جنہیں دیکھ کر لوگ دہل جاتے تھے۔‘
آج اس قلعے کا رقبہ سکڑ گیا ہے۔ جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ مٹی کا کوئی بہت بڑا سا ڈھیر ہے
یہ قلعہ ان تمام ادوار سے گزر کر ارغون اور ترخان حکمران کے گھوڑوں کی ٹاپوں تلے بھی روندا گیا۔ ہم یہ تو نہیں جانتے کہ اس قلعے کے برج کب کمزور پڑے اور کب اس کی دیواریں چور چور ہونا شروع ہوئیں۔ مگر اس پر زوال کے کالے بادل چھا گئے۔
آج اس قلعے کا رقبہ سکڑ سا گیا ہے جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ مٹی کا کوئی بہت بڑا سا ڈھیر ہے۔ برج مٹی کے، دیواریں مٹی کی اور فصیلیں مٹی کی۔ اب صرف کہیں کہیں ہی پکی اینٹیں قلعے کی دیواروں میں گڑی ہیں۔ باقی تو سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔
آنے والے دنوں میں مٹی کے ٹیلے کی طرح دکھائی دینے والا قلعہ شاید برسات میں بہہ جائے
سیہون کے قلعے کی دیواروں اور برجوں میں اب دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ اور برسات کے موسم میں اس قلعے کی بچی ہوئی عمارت قطرہ قطرہ پانی میں بہہ رہی ہے۔ بہت سی زمین اب قبضے میں آ چکی ہے اور صرف مختصر سا حصہ ہے جو علامتی طور قلعے کا مظہر ہے[1]۔
میں نے اس قلعے سے سیہون شہر کو دیکھا، جس کی تاریخ ہمیں بہت کچھ بتاتی ہے مگر آج اس قلعے کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہے۔
آنے والے دنوں میں مٹی کے ٹیلے کی طرح دکھائی دینے والا قلعہ شاید برسات میں بہہ جائے، مگر قلعے اور اسے فتح کرنے والے حکمرانوں کے قصے ہمیں صرف تاریخ کے اوراق میں ملتے رہیں گے۔
سندھ کا قدیم شہر
سندھ کے اکثر شہر تاریخی پس منظر رکھتے ہیں۔ تاریخ میں جھانک کے دیکھا جائے تو رنگین ثقافت کے ساتھ یہ شہر خون کی ہولی سے نہاتے رہے ہیں۔ آپ سندھ میں رہتے ہیں اور اگر اس خطے کی تاریخ سے ناآشنا ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین کے دکھ اور اس کی تاثیر سے بے خبر ہیں۔
میرے بچپن کا کچھ حصہ سیہون شہر میں گزرا۔ گھر، لال شہباز کے مزار کے قریب تھا۔ لہٰذا بچپن مزار کے احاطے میں کھیلتے گزرا۔
طرح طرح کے لوگ دیکھنے کو ملے۔ کئی ان کہے دکھوں سے آشنائی ہوئی۔ والدہ کو سندھ کے صوفی شعراء اور درویش لوگوں سے خاص رغبت تھی۔ اس زمانے میں ہمارے گھر میں لکڑی کا خوبصورت جھولا ہوا کرتا تھا۔ جس میں بٹھا کر کبھی شمس تبریزکی حکایتیں سناتیں تو کبھی حضرت عبدالقادر جیلانی کی کرامات سے آگاہ کرتیں۔
سیہون شریف کی خوبصورت یادیں میرے ذہن پر اکثر دستک دیتی ہیں۔ جن شہروں میں آپ کا بچپن گزرا ہو وہ سدا دل کے قریب رہتے ہیں۔ یہ شہر طلسماتی اثر میں لپٹا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ گلاب اور اگربتی کی ملی جلی مہک، فضا میں تیرتی دعاؤں کی گونج، لوگوں کے دکھ، حسرتیں وخواب ایک ساتھ جمع ہوکے عجیب سماں باندھ دیتے۔
جغرافیائی محل وقوع
سیہون کا جغرافیائی محل وقوع بہت خوبصورت ہے۔ زمین کی خاصیت کے لحاظ سے اس شہر کو انرجی سینٹر پلیس کہا جا سکتا ہے۔ توانائی کا مرکز، ایسی زمین جو شفا دینے کا ہنر رکھتی ہے۔
پہاڑ، دریا اور مٹی کی زرخیزی سے ویسے بھی شفا بخش اثر رکھتی ہے۔ سیہون سندھ کا قدیم شہر ہے۔ کسی زمانے میں یہاں سمندر ہواکرتا تھا۔ پہاڑوں کے درمیان گھومتے ہوئے آج بھی زمین پر سیپیاں پڑی ہوئی مل جاتی ہیں۔
سیہون اسٹیشن کے قریب یک تھنبھی نامی غار واقع ہے۔ یہ انتہائی قدیم غار ہے۔ جس میں لال شہباز عبادت کیا کرتے۔ ایسے غار لکی کے مقام پر بھی واقع ہیں۔ ہزاروں سال پہلے پتھر کے زمانے کے لوگ غاروں میں رہا کرتے تھے۔ سیہون کے غار اسی دور کے ہیں۔
یہ شہر قدیم ہجری (پتھر کے دور) کے زمانے سے آباد ہے۔ کہا جاتا ہے کہ درآوڑ سندھ کے قدیم باشندے ہیں۔ یہ شہر درآوڑوں کے زمانے سے آباد تھا۔ درآوڑوں کے بعد یہاں پر آریا قوم آئی۔
آتے ہی درآوڑوں کو محکوم بنا لیا۔ آریا کے دور میں سیہون کو شوستھان کہا جاتا تھا۔ بعد میں سیوستان کے نام سے مشہور ہوا۔ سیہون نام کچھ عرصہ رہا جو حتمی طور پر سیہون کے نام سے جانا جانے لگا۔
شیو کا مندر
کہا جاتا ہے کہ شیو کا مندر پاکستان بننے سے پہلے، لکی کے قریب بہتے ہوئے چشموں کے پاس واقع تھا۔ جہاں ہر سال شیو (ہندوؤں کا دیوتا) کا میلہ لگا کرتا تھا۔ شیوکے پجاریوں کو شوی آریا کہا جاتا تھا۔ شیو استھان کے بعد سیوستان کے نام سے یہ علاقہ مشہور ہوا۔
سیہون کے پہاڑ، دریا، غار و چشمے دنیا بھر کے سیاحوں کو قدیم زمانے سے یہاں کھینچ کر لاتے۔ لکی کے مقام پر بھگو ٹھوڑھو کے پہاڑ منفرد دکھائی دیتے ہیں۔ شام کے وقت شفق کے پس منظر میں یہ سرمئی پہاڑ کسی یوگی کا روپ دھار لیتے ہیں اور گیان و دھیان میں مصروف ہوجاتے ہیں۔
ایک عجیب صدیوں کی پراسراریت ان چٹانوں پر چھائی رہتی ہے۔ محقق اشتیاق انصاری اس ضمن میں لکھتے ہیں انگریز جب 1843ء میں سندھ فتح کر کے یہاں رہنے لگے تو وہ پرفضا مقامات کو کھوجنے لگے تاکہ فرصت کے لمحات وہاں گزار سکیں۔ ٹھٹھہ کے قریب جھرک شہر کی آب و ہوا نے انھیں متاثر کیا۔
لکی کے مقام کے قریب بھگو ٹھوڑھوکے پہاڑوں نے انھیں گرویدہ بنا لیا۔ لہٰذا اس جگہ باقاعدہ ریلوے اسٹیشن کی بنیاد ڈالی گئی۔ انگریزوں کو کھیر تھر کے پہاڑوں میں کسی بلند مقام کی تلاش تھی، جہاں ہل اسٹیشن کا قیام ممکن ہوسکے۔
ابن بطوطہ کی سہیون آمد
مشہور سیاح ابن بطوطہ جب سیہون آیا تھا تو وہ شیخ محمد بغدادی سے ملا۔ جس کی عمر 140 سال تھی۔ وہ حضرت قلندر شہبازکی درگاہ میں واقع چھوٹی سی کوٹھری میں قیام پذیر تھا۔
اس نے انکشاف کیا کہ وہ اس وقت بغداد میں موجود تھا جب ہلاکو نے خلیفہ معتصم باللہ کو قتل کیا تھا۔ ابن بطوطہ نے سرتیز عمادالملک کے ظلم و جبر کی داستانیں بھی رقم طراز کی ہیں۔
وہ روز لوگوں کو قتل کرواتا اور ان کے سر لٹکا دیا کرتا، شہر کی فصیلوں پر لاشیں لٹکتی نظر آتیں۔ شہر میں کھوپڑیوں کے ڈھیر دکھائی دیتے۔ ابن بطوطہ مدرسے کی چھت پر سویا کرتا۔
صبح اٹھتا تو لاشوں کو دیکھ کر دہشت زدہ ہوجاتا ۔ بالآخر اس نے مدرسے کو چھوڑ کرکہیں اور جاکے بسیرا کرلیا۔ لہٰذا اس شہر کی تاریخ خوشبوؤں کے ساتھ خونریزی کے واقعات سے مزین ہے۔
سیہون آکر رہائش پذیر ہونے والی معزز شخصیات میں علی بن حامد کوفی جوکہ فارسی کے اچھے شاعر تھے۔ اور شیخ عثمان ولد ابراہیم کبیر مروندی جنھیں عام طور پر لعل شہباز کے نام سے جانا جاتا ہے۔
قلندر لال شہباز، افغانستان میں ہرات کے قریب مروند کے رہنے والے تھے۔ آپ کی ولادت 1187ع (583 ہجری) میں ہوئی۔ ہندوستان کی سیاحت کے بعد آپ بہاؤالدین ذکریا ملتانی، فرید الدین شکرگنج اور جلال الدین جہانیاں اُچ والے کے ساتھ مل کر سندھ کا دورہ کیا۔
سیہون کا سکون اور الہامی خاموشی محسوس کرکے اس شہر میں سکونت پذیر ہوئے۔ سیہون میں چھ سال گزارے اور 1252ع (650 ہجری) میں خالق حقیقی سے جاملے۔
صوفی درویش کے لیے پوری دنیا اس کا گھر ہے اور انسانیت اس کا مذہب۔ صوفی سب سے پہلے زمین سے رابطہ استوار کرتا ہے۔ پھر اس مٹی پر بسنے والوں سے تعلق جوڑتا ہے۔
کوئی غیر زمین سے ہجرت کرکے آئے اور اس مٹی کی پہچان بن جائے تو اسے زمین اور انسانیت سے عشق کی معراج کہتے ہیں۔ آج دور دراز سے لوگ قلندر کے مزار پر حاضری دینے آتے ہیں۔
قلندر کا روضہ ہندوستان کے بادشاہ سلطان محمد تغلق کے عزیز سلطان فیروز شاہ نے تعمیر کروانا شروع کیا اور سیوستان اور ٹھٹھہ کے اس وقت کے نائب رکن الدین عرف اختیار الدین کی نگرانی میں پایہ تکمیل تک پہنچا۔
سیہون کے تاریخی مقامات میں لعل باغ، یک تھنبھی، لکی چشمہ، کافر قلعہ، لعل باغ اور باغ کے قریب پینے والا چشمہ آ جاتے ہیں۔
سیہون کسی زمانے میں مندر، مساجد، مدارس، باغات، ہنر، سبزی، مچھلی و میوہ جات کا شہر کہلاتا تھا۔ کاروباری مراکز ہونے کی وجہ سے سیاحوں اور تاجروں کی آمد و رفت سال بھرجاری رہتی۔
سیہون کی اہمیت اس لحاظ سے رہی کہ حملہ آور کھیر تھر کے پہاڑوں سے گزرکر قبضہ کر لیتے، بعد میں سندھ کی طرف ان کی پیشرفت جاری رہتی۔ تاتاریوں نے سیہون پر حملہ کیا تھا یہ اس زمانے کی بات ہے جب دہلی پر غیاث الدین کی حکمرانی تھی۔
اسی طرح جلال الدین خوارزم شاہ، بادشاہ اکبرکے سپہ سالار عبدالرحیم خانخاں نے بھی سیہون پر حملے کیے۔ سندھ میں شہباز قلندر، صوفی تحریک کے روح رواں تھے۔ ان کا مزار ہمہ وقت زائرین سے بھرا رہتا ہے۔
سائنسی طور پر یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ خوشبو، ذہنی و روحانی بیماریوں کا علاج کرتی ہے۔ یہ وجدانی کیفیت و ادراک کو تحرک عطا کرتی ہے۔ یہ لاشعور سے تعلق جوڑ دیتی ہے۔ لاشعور، روحانیت کا مرکزکہلاتا ہے۔
خوشبو منفی سوچ اور برے اثرات زائل کرتی ہے۔ مزار پر ہم پیدل چلتے ہیں۔ پاؤں براہ راست زمین سے رابطے میں رہتے ہیں۔ زمین سے مثبت توانائی جسم میں داخل ہو جاتی ہے۔
برگزیدہ ہستی کے مزار پر وجود کی توانائی ہمہ وقت موجود رہتی ہے۔ علاوہ ازیں انسان کا اپنا یقین اور عقیدہ اسے شفا عطا کرتا ہے۔ صوفی بزرگوں کے یہ مزار سماجی رابطوں، فن و فکر اور معاشی وسیلوں کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔
جمعرات کو دھمال کا الگ کیف ہوتا ہے۔ جسے دیکھنے کے لیے دور دراز سے لوگ آتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انسانوں سے مایوس لوگ مزاروں کا رخ کرتے ہیں،گوکہ اکثریت اسے توہم پرستی سے منسوب کرتی ہے۔
اس سال بھی شدید گرمی کے باوجود حضرت قلندر شہباز کا عرس عقیدت و احترام سے منایا گیا، جس میں ہزاروں زائرین نے شرکت کی۔
یہاں بہت سے لوگ تلاش جستجو کے اکسانے پر آتے ہیں۔ راز ازل کا پیچھا کرتے ہوئے۔ بعض خود کو ڈھونڈنے آتے ہیں۔ مزار کی پراسراریت اور پرفسوں ماحول انھیں یہاں کھینچ لاتا ہے۔
چار چراغ تیڈے بلن ہمیشہ
سو پنجواں بالن آئی بلا جھولے لالن[2]۔
خودکش دھماکا
پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کے احاطے میں 16 فروری، 2017ء شام کے وقت خود کش دھماکا ہوا۔ جس کے نتیجہ میں میں کم سے کم 70 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے تھے۔
ہلاک شدگان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ یہ دھماکا جمعرات کی شام درگاہ کے اندرونی حصے میں اس وقت ہوا جب وہاں زائرین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ خودکش حملہ آور سنہری دروازے(سونے کے گیٹ) سے مزار کے اندر داخل ہوا اور دھمال کے دوران خود کو اڑا لیا۔داعش نے ”اعماق نیوز ایجنسی“ میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ سیہون کا قلعہ جس کے مقدر میں کئی بادشاہوں کی حکمرانی-شائع شدہ از: 2 جون 2019ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 9 جولائی 2026ء
- ↑ سندھ کا قدیم شہر-شائع شدہ از: 2 جون 2016ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 9جولائی 2026ء