شمس تبریزی
| شمس تبریزی | |
|---|---|
![]() | |
| دوسرے نام | حضرت شمس تبریز |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1185 ء |
| پیدائش کی جگہ | تبریز |
| وفات | 1248ء |
| وفات کی جگہ | خوی |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
شمس تبریزی یا شمس الدین محمد (1185ء – 1248ء) ایران کے مشہور صوفی اور مولانا روم کے روحانی استاد تھے۔ روایت ہے کہ شمس تبریزی نے مولانا روم کو قونیہ میں چالیس دن خلوت میں تعلیم دی اور دمشق روانہ ہو گئے۔ ابھی حال ہی میں ان کے مقبرے کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ کے لیے نامزد کیا ہے۔
حضرت شمس تبریزؒ اور مولانا رومی
شمس تبریز کے جانے کے بعد رومی بے چین ہو گئے۔ وہ اضطراب اور رنج میں گھومتے رہتے تھے۔ حضرت شمس تبریزکا ذکر ہو اور مولانا جلال الدین رومی کا ذکر نہ ہو یہ تو ممکن ہی نہیں، دونوں ایک دوسرے کے شاگرد بھی تھے اور استاد بھی، دونوں ایک دوسرے کی ذات میں گم تھے۔
سوانح عمری
ولادت
15 شعبان المعظم 560ھ کو ایران کے شہر سبزوار میں ہوئی۔ آپ کا شجرہ مبارک امام جعفر سے ہوتا ہوا انیسویں پشت پر حضرت علی سے جا ملتا ہے۔ اُس وقت سبزوار ایران کا مشہور شہر تھا۔
والد کا نام
ان کے والد کا نام علاؤ الدین اور نفحات الانس میں علی بن ملک داؤد تبریزی لکھا ہے۔
پیر و مرشد
بابا کمال الدین جندی کے مرید تھے شیخ رکن الدین سنجاسی اور شیخ ابوبکر زنبیل باف تبریزی کو بھی مرشد کہا گیا ۔ شمس تبریز، تبریز میں پیدا ہوئے اور ان کا نام محمد رکھا گیا، والد کا نام علی تھا۔ جب سن شعور کو پہنچے تو ایک دن قرآن پاک پڑھ رہے تھے، جب سورۃ شمس پہ پہنچے تو لفظ شمس پہ انگلی رکھ کر بڑی دیر تک کچھ سوچتے رہے۔
اور سوچتے سوچتے واقعے میں چلے گئے، ہوش آیا تو انگلی بدستور لفظ ’’شمس‘‘ پہ تھی اسی وقت گھر والوں سے کہا کہ ’’آج سے میرا نام شمس ہے، اب مجھے شمس کہہ کر پکارنا ‘‘ لہٰذا تب سے انھیں شمس تبریز کہا جانے لگا۔
شجرہ نسب
آپ کا شجرہ نسب چند پشتوں کے بعد مولا امام جعفرصادق علیہ السلام سے جاکر ملتا ہے آپ صوبہ خراسان کی بستی سبزوار میں 560ہجری میں پیدا ہوئے آپ کے والد سید صلاح الدین گرم کپڑوں کا کاروبار کرتے تھے سید صلاح الدین عالم فاضل اور دیندار مبلغ تھے فاطمیوں کے نقیب خاموشی کے ساتھ عالم اسلام میں پھیلائے گئے
سید صلاح الدین کا خاندان کس داعی کے ساتھ سبزوار آیا پتہ نہیں چلتا سید صلاح الدین نے فرزند گرامی کا نام شمس الدین رکھا آپ کا شجرہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے مولا امام جعفر صادق ع _ امام ذادہ اسماعیل _سید محمد عریضی _سید زید(اسماعیل ثانی) _سید معصوم شاہ _سید غالب الدین _سید عبد المجید _مستنصرباللہ_سید محمد ہادی_محمد ہاشم(مدفون یمن) سید محمود سبزواری(مدفون لاہور)_سید محب مشتاق_سید خالد الدین_سید صلاح الدین _شمس الدین سبزواری(مدفون ملتان)
مولانا روم سے ملاقات اور دنیا کا سفر اور کرامات
شمس تبریزی نے ایک دفعہ دعا کی کہ مجھے وہ بندہ ملے جو میری صحبت کا متحمل ہو یہ دعا قبول ہو گئی اور قونیہ میں مولانا روم کے پاس پہنچ گئے حضرت شاہ شمس سبزواری اپنے عہد کے عظیم روحانی پیشوا تھے۔
آپؒ کی ولادت 15 شعبان المعظم 560 ہجری کو ایران کے شہر سبزوار میں ہوئی۔ آپؒ کا شجرہ مبارک حضرت امام جعفر سے ہوتا ہوا انیسویں پشت پر حضرت علی سے جا ملتا ہے۔
سفر
آپ دنیا کے کئی ممالک میں تشریف لے گئے، جہاں آپ نے اسلام کی شمع کو روشن کیا۔ برصغیر میں تبت کے راستے کشمیر میں داخل ہوئے۔ آپ نے کوہستان تبت، سکردو میں اسلام کی شمع کو روشن کیا۔
اس طرح ہزاروں لوگ آپ کے کرم و فیض سے فیضیاب ہوتے ہوئے مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ 586 ہجری میں آپ کے والد محترم سید صلاح الدین نے اپنے آبائی وطن سبزوار جانے کا فیصلہ کیا اور سبزوار پہنچ کر آپ نے حضرت شاہ شمس کی شادی اپنے حقیقی بھائی حضرت سید جلال الدین کی دختر سے کر دی۔
بعد ازاں آپ ایران کے شہر تبریز تشریف لے گئے۔ 12 برس تک آپ شہر تبریز میں سکونت پزیر رہے اور وہاں آپؒ شمس تبریزی مشہور ہوئے۔ آپ کی ولادت سبزوار میں ہوئی، اس لیے آپ سبزواری کہلائے۔
آپ کے مرشد کے حکم پر قونیہ تشریف لے گئے، جہاں آپ کی ملاقات اس وقت کے عظیم عالم دین مولانا جلال الدین رومیؒ سے ہوئی۔ پہلی ملاقات میں ایک مشہور و معروف کرامت معرض وجود میں آئی کہ مولانا جلال الدین رومی اپنے درس میں طالب علموں کو تعلیم دے رہے تھے کہ
حضرت شاہ شمس سبزواری تبریزی دورانِ درس تشریف لے گئے جو نہایت سادہ لباس میں تھے اور مولانا رومیؒ کے قریب بیٹھ گئے۔مولانا رومیؒ کے قریب چند کتابیں پڑی تھیں، حضرت شاہ شمسؒ نے مولانا رومی کی طرف مخاطب ہو کر کتابوں کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا یہ کیا ہے؟
جواب ملا اسے علم کہتے ہیں، جو آپ نہیں جانتے۔ آپ کو اس سے کیا نسبت؟ حضرت شاہ شمس نے مولانا رومی کا یہ فقرہ سنا تو جلال میں آئے اور وہ تمام کتابیں اٹھا کر پانی کے بھرے حوض میں ڈال دیں۔ مولانا رومی کو آپ کے اس عمل سے بڑا قلق ہوا اور غصہ و پریشانی کے عالم میں آپؒ رو پڑے اور کہا:
اے درویش! تم نے یہ کیا کر دیا، میری تمام روح کی غذا تم نے ایک لمحے میں ضائع کر دی ، کتابیں بڑی نایاب تھیں۔ اب کہیں سے نہیں ملیں گی۔ حضرت شاہ شمس نے جب مولانا رومی کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو فرمایا:
تمھاری روح کی غذا اگر تمھیں مل جائے تو؟ مولانا رومی نے کہا کیسے ممکن ہے؟ آپ دوبارہ پانی سے بھرے حوض کے نزدیک گئے۔ سب سے پہلے پانی میں سے وہ کتاب نکالی ،جس کا مولانا رومی کو زیادہ صدمہ تھا۔
جب حضرت شاہ شمسؒ نے کتاب کو مولانا رومی کے ہاتھوں میں دیا تو کتاب کو پانی کے قطرے نے بھی نہ چھوا تھا۔ مولانا رومی نے آپ حضرت شاہ شمسؒ کا یہ کمال دیکھ کر حیرت سے پوچھا یہ کیا ہے؟
آپ نے مولانا رومی کو جواب دیا: یہ وہ علم ہے کہ جسے تم نہیں جانتے۔ اس دوران مولانا رومیؒ پر ایک ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ آپؒ کے دست مبارک پر بیعت ہو گئے۔ آپ نے مولانا رومی کو طریقت کے اسرار و رموز سے آگاہ کیا،
تو آپؒ نے اپنی پوری زندگی حضرت شاہ شمسؒ کے نام وقف کر دی۔مولانا جلال الدین رومیؒ نے لوگوں سے گفتگو ترک کر دی۔ ان معاملات کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں میں حضرت شاہ شمس کے خلاف چہ میگوئیاں ہونے لگیں اور لوگ آپ کو دیوانہ کہنے لگے۔
یہاں تک کہ مولانا رومی کے خاص شاگرد بھی حضرت شاہ شمس سے برہم ہونے لگے۔ ان کا خیال تھا کہ مولانا رومی کی عدم توجہی کا باعث حضرت شاہ شمسؒ ہیں۔ اگر وہ یہاں سے چلے جائیں ،تو پھر مولانا رومی کی صحبتوں سے مستفیض ہو سکتے ہیں۔ حضرت شاہ شمس کو لوگوں کی براہمی کا حال معلوم ہوا ،
تو ایک دن چپکے سے دمشق چلے گئے۔ مولانا رومی نے شاگردوں اور دوسرے لوگوں سے یکسر قطع تعلق کر لیا۔ گوشہ تنہائی دن و رات مرشد کی یاد میں تڑپتے رہتے۔ اس زمانے میں مولانا رومی نے حضرت شاہ شمس کی یاد میں ایسے پردرد اشعار کہے، جنھیں سن کر پتھر دل بھی رو پڑے:
مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم تا غلام شمس تبریزیؒ نہ شُد ملتان میں جہاں آپؒ کا مزار اقدس ہے، سینکڑوں برس قبل یہ جگہ دریا کا کنارہ تھی۔ آپ ملتان کے لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے رہے۔ بھٹکے ہوئے لوگوں کو کامیابی کے مقام تک پہنچاتے رہے۔
تعلیم
اُس وقت سبزوار ایران کا مشہور شہر تھا۔ حضرت شاہ شمس ؒ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سید صلاح الدین محمد سے حاصل کی۔ 16 سال کی عمر میں آپ نے تمام دینی و دنیاوی تعلیم مکمل کر لی تھی۔ آپؒ اپنے والد محترم کے ساتھ 579 ہجری میں سبزوار سے براستہ چرکس بدخشاں گئے۔ وہاں آپؒ کی تعلیمات سے ہزاروں لوگ حلقہ اسلام میں داخل ہوئے۔
مناسب وقت پر شمس الدین کی تعلیم و تربیت کی فارسی و عربی میں سمجھ بوجھ کے بعد قرآن حدیث تفسیر فقہ کی طرف لائے یوں ایمانیات عبادات معملات کی بنیادیں مضبوط کرکے شیعیت کے ساتھ طریقت کو شامل کیا تذکرتہ اولیاء فرید الدین عطار میں ہے کہ سید صلاح الدین ایرانی صوفیائے کرام کی پیدا کردہ روحانی ہوا و فضا میں سانس لے رہے تھے۔
مذہب
اندازہ ہے کہ سید صلاح الدین نے فرزند گرامی کو تعلیمات چہاردہ معصومین ع سے روشناس کرایا کیونکہ آخری فاطمی خلفاء اثنا عشری مسلک رکھتے تھے۔
بعض مورخین شاہ شمس سبزواری کو شاہ شمس اسماعیلی کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت اسماعیل بن امام جعفرصادق ع کی اولاد سے ہیں نہ کہ اسماعیلی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
آپ کی درگاہ عالیہ میں امام بارگاہ موجود ہے جہاں قدیم عرصہ سے مجالس امام حسین ع کا اہتمام ہوتا ہے ہر جمعرات کو ہفتہ وار مجالس عزا برپا ہوتی ہیں بارہ اماموں کے حوالے سے دیگر تقاریب کا انقعاد ہوتا ہے
ملتان کی سر زمین پر عزاداری کا آغاز کرنے والا
یہی دستور درگار بی بی پاک دامناں درگاہ امام بری درگا شہباز لعل قلندر پر نافذ العمل ہے بعض مورخین نے شاہ شمس تبریزی کو ملتان کی سر زمین پر عزاداری کا آغاز کرنے والا درج کیا ہے سید صلاح الدین کا انتقال 665ہجری میں ہوا۔
اس دور میں عالم اسلام مغلوں کے تابڑ توڑ حملوں کی وجہ سے زلزلہ میں آگیا تھا سید شمس الدین سبزوار سے نکلے 666ہجری میں ملتان میں وارد ہوئے متاخرین تذکرہ نگاروں نے حکایت اولیا سنائی کہتے ہیں کہ بہاؤ الدین زکریا نے آپ کی خبر پائی تو دودھ کا پیالہ لباب بھیجا۔
مطلب یہ تھا یہاں اہل اللہ کی بھیڑ بھاڑ ہے تمھاری گنجائش نہیں ہے حضرت شاہ شمس الدین نے پیالہ دودھ پر گلاب کا پھول تیرا دیا اور اپنی گنجائش کا جواز دکھلایا حضرت بہاؤ الدین زکریا کے پوتے سے شاہ شمس کے گہرے روابط تھے خطاب رکن الدین والعالم شاہ شمس کا عطا کردہ ہے جو بعد ازاں شاہ رکن عالم بن گیا تذکرہ نگاروں نے حکایات اولیاء میں ایک اور اضافہ کیا ہے۔
سید شمس الدین نے جلادوں کو اپنی کھال اتار کر دے دی اب کوئی انھیں اپنے پاس پھٹکنے نہیں دیتا تھا بھوک نے ستایا تو لب دریا آئے مچھلیاں ابھرنے لگئیں ایک مچھلی پکڑی مگر ملتانیوں نے اسے بھوننے سے انکار کر دیا آپ نے سورج کو حکم دیا تبش بکن سورج سوا نیزے پر اتر آیا اور مچھلی بھون دی جسے آپ نے تناول فرمایا اسی وجہ سے ملتانی آپ کو تپ ریز(گرمی دینے والا)کہنے لگے
کربلا دربار شاہ شمس تبریز
بعد میں تپ ریز تت ریز تب ریز اور تبریز ہوا یوں شمس الدین سبزواری شمس تبریزی ہوئے ملتان کی شدید گرمی اسی وجہ سے ہے ورنہ ملتان کی آب و ہوا خوشگوار معتدل تھی نو تعمیر سہ دری کی پیشانی پر ائمہ اہل بیت اطہار ع کے اسم گرامی لکھے ہوئے ہیں بورڈ پر لکھا ہے
"کربلا دربار شاہ شمس تبریز" مزار شریف کے چبوترے پر ایک چھوٹا سے دروازہ ہے بورڈ پر لکھا ہے حضرت شمس الدین ولی سبزواری جبکہ مزار شریف کے اندر لکھا ہوا ہے حضرت شاہ شمس تبریز یہ تضاد عوام کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے بعض مورخین نے اسی وجہ سے شمس الدین سبزواری کو ہی شمس الدین تبریزی مانا ہے
جیسا کہ تاریخ انوار السادات المعروف گلستان فاطمہ میں لکھا ہے کہ مخدوم سید شمس الدین تبریزی کی ولادت ماہ شعبان بقول ماہ رجب بروز جمعہ 560 ہجری میں شہر سبزوار میں ہوئی علم فضل و تقوی اور طہارت میں بے عدیل صاحب کرامت ہوئے جب آپ اپنے والد صلاح الدین کے ہمراہ کشمیر و تبعت بغرض دعوت اسلام تشریف لے گئے
تبریزی رکھنے کی وجہ
تو وہاں شمس الدین عراقی کہلائے اور جب عرصہ تک تبریز میں مقیم رہے تو تبریزی کہلائے 675 ہجری میں وفات پائی مزار ملتان میں ہے لیکن اہل علم جانتے ہیں کہ اس بات کا تاریخی شواہد کے لحاظ سے حقیت کے ساتھ دور دور تک کوئی واسطہ نہیں
کیونکہ شمس الدین سبزواری کا کسی طور پر بھی تبریز سے کوئی واسطہ نہیں ہے تبریز کہلانے کی وجہ وہ صرف تپ ریز ہے جو بعد میں تبریز ہو گیا جبکہ شمس تبریزی مولانا روم کے استاد تھے جن کا مزار قونیہ میں آج بھی موجود ہے اسی طرح شمس الدین عراقی اور ہیں جن کا مزار کشمیر میں ہے انکا انتقال 924ہجری میں ہوا
سید شمس الدین نے گیارہ سال ملتان میں تبلیغ کی اور 677ہجری کو ملتان میں وفات پائی حجرہ کے قریب سپرد خاک کیا گیا قبر پر مقبرہ آپ کے پوتے سید صدر الدین نے تعمیر کرایا سیٹھ مہر دین نے عالیشان مقبرہ تعمیر کرایا رنجیت سنگھ کے دور میں سکھ گورنر ساون مل نے مسجد مقبرہ مسلمانوں سے چھین کر گردوارہ بنا دیا
مسجد گرنتھی کی جائے رہائش تھی رنجیت سنگھ کے مرنے کے بعد مقبرہ بددستور گردوارہ رہا ان سارے سکھاشاہی دور میں ملتان میں اذان سنائی نہیں دی نماز پنجگانہ نماز عید بقر فطر پر مکمل طور پر پابندی تھی انگریزوں کے ملتان پر قبضے کے بعد 1850ء میں مقبرہ و مسجد مسلمانوں کو دے دی گئی
آپ کے صرف ایک ہی فرزند صاحب اولاد ہوئے جن کا نام نصرالدین ہے جو لاہور میں دفن ہیں ان کی اولاد میں کبیرالدین کا مدفن اوچ شریف میں ہے اور صدر الدین ملتان میں ان کی اولاد سے سید عالم پیدا ہوئے جنکو پیار سے جتو شاہ کہتے ہیں اور ان کی قبر شاہ شمس کے برابر ہی ہے [1]۔
ملتان آمد
ایک بات کی غلط فہمی دورکر دوں، وہ یہ کہ ملتان میں جو شاہ شمس تبریزی کا مزار ہے وہ دوسرے ہیں، شمس تبریز کا مزار قونیہ میں ہے۔
اس بات کی شہادتیں ملتی ہیں کہ حضرت شمس تبریز اپنے ایک شاگرد کے ساتھ ملتان ضرور آئے تھے اور انھوں نے اپنے شاگرد کو آگ لینے کے لیے بھیجا تھا تاکہ گوشت بھونا جا سکے لیکن آگ کسی نے نہ دی اور وہ واپس آگئے،
تب حضرت کو جلال آگیا اور انھوں نے سورج کی طرف دیکھ کر کہا ’’ تو بھی شمس، میں بھی شمس ذرا نیچے آ جاتا کہ میں گوشت بھون سکوں۔‘‘ سورج سوا نیزے پہ آگیا، لوگ گرمی سے بلبلا اٹھے اور حضرت کے گرد جمع ہو گئے اور ان کی منت سماجت کرنے لگے کہ سورج کو واپس اس کے مقام پہ بھیج دیں،
مولانا رومی سے ملاقات
حضرت شمس تبریز کچھ دن ملتان میں گزار کر واپس قونیہ آگئے، وہیں ان کا مزار ہے۔ مولانا رومی سے حضرت شمس تبریز کی ملاقات کے دو واقعات ملتے ہیں۔ پہلا :یہ کہ ایک دن مولانا رومی ایک حوض کے کنارے بیٹھے تھے قریب ہی میں چار نہایت اہم اور قیمتی کتابیں رکھی تھیں، حضرت شمس تبریز وہاں آئے تو کتابوں کی طرف اشارہ کرکے پوچھا کہ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ رومی نے بے اعتنائی سے جواب دیا ’’یہ وہ ہے جو تم نہیں جانتے‘‘ یہ سن کر حضرت شمس نے کتابیں اٹھا کر حوض میں پھینک دیں، رومی پریشان ہو گئے اور شمس تبریز سے کہا ’’ یہ آپ نے کیا کیا؟
یہ میری نہایت قیمتی اور پرانی کتابیں تھیں جو اب دوبارہ نہیں مل سکتیں‘‘ یہ سن کر حضرت شمس تبریز نے حوض میں ہاتھ ڈالا اور مولانا رومی کی سب سے زیادہ قیمتی کتاب نکال کر مولانا کے ہاتھ میں دے دی جس پر ایک بھی پانی کی بوند نہ تھی، ایک ایک کرکے انھوں نے سب کتابیں حوض سے نکال کر رومی کو دے دیں۔ رومی حیران پریشان کھڑے تھے بولے ’’ یہ کیا ہے؟‘‘ شمس تبریز نے جواب دیا ’’ یہ وہ ہے جو تم نہیں جانتے۔‘‘
اس ملاقات نے رومی کی دنیا بدل دی، وہ حضرت شمس تبریز کے مرید ہو گئے اور ان کا قلب روشن ہوگیا، وہ جو ہر وقت ایک بے چینی سی لگی رہتی تھی، اسے قرار مل گیا۔
دوسرا واقعہ: ان دونوں کی ملاقات کا کچھ یوں ہے کہ مولانا جلال الدین رومی اپنے شاگردوں کو حوض کے کنارے درس دے رہے تھے کہ اچانک ایک فقیر وارد ہوا اور سامنے آ کر کھڑا ہوگیا، رومی کو تعجب ہوا کہ اس فقیر کو دربان نے اندر کیوں آنے دیا، ابھی وہ یہی سوچ رہے تھے
کہ فقیر نے ان کی نایاب کتابوں کی طرف اشارہ کر کے پوچھا: ’’ ایں چیست (یہ کیا ہے)‘‘ مولانا نے بے پروائی سے کہا ’’ایں قیل و قال است‘‘ (یہ باتیں ہی باتیں ہیں) یہ سن کر شمس نے وہ کتابیں اٹھا کر حوض میں پھینک دیں، مولانا شدت غم سے رو پڑے کیونکہ ان کتابوں میں رومی کے والد کی قلبی و روحانی وارداتوں پہ مشتمل روزنامچے تھے۔
مولانا بہت ناراض ہوئے اور بولے ’’ اے شمس! تو نے یہ کیا کیا، تجھے پتا بھی ہے کہ تُو نے کیا کیا؟‘‘ فقیر یہ سن کر ہنسا اور حوض کے پانی میں ہاتھ ڈال کر ایک ایک کرکے ساری کتابیں نکال دیں جو بالکل خشک تھیں، تمام طالب علم اور رومی یکدم کھڑے ہوگئے، رومی بولے ’’ یہ کیا ہے؟‘‘ فقیر نے جواب دیا ’’ یہ وہ ہے جو تم نہیں جانتے۔‘‘ یہ سنتے ہی مولانا رومی فقیر کے قدموں میں گر پڑے، دونوں اس طرح شیر و شکر ہوگئے کہ جیسے یہ دو بے چین روحوں کا ملاپ تھا۔
مولانا رومی کے دل میں ایک آگ سی جو بھڑکتی تھی وہ فقیر سے گلے ملتے ہی ٹھنڈی ہوگئی اور شمس تبریزکو لگا یہی وہ جگہ ہے جس کے لیے وہ بے چین پھرا کرتے تھے، یہ دو روحوں کا ملاپ تھا۔ پہلی ہی ملاقات میں عالم اور درویش اس طرح ملے کہ ایک ہوگئے۔
زبانی روایات کے مطابق دونوں ہستیاں دنیا و مافیہا سے بے خبر گھنٹوں باتیں کرتے رہتی۔ یہ باتیں کیا ہوتی تھیں کوئی نہیں جانتا، یہ ایک طرح کی چلہ کشی کہا جاتا ہے، چلے بھی جاری رہے اور معمول کی ملاقاتیں بھی، جس کا عرصہ مہینوں پر نہیں بلکہ ساڑھے تین برسوں پہ محیط ہے۔
اس وقت جلال الدین رومی کی عمر پینتیس برس اور حضرت شمس تبریزکی پچپن اور ساٹھ کے درمیان تھی۔ بڑی عمر والے نے محسوس کیا کہ لوگوں خصوصاً شاگردوں کو یہ صورت حال ناگوار ہو رہی ہے۔
رومی کے بیٹوں کو بھی یہ صورت حال اچھی نہیں لگ رہی تھی، لیکن مولانا رومی کی کیفیت اس وقت امیر خسرو والی تھی جو حضرت نظام الدین اولیا کے درمیان تھی۔ اس لیے شمس جس طرح آئے تھے اسی طرح خاموشی سے واپس چلے گئے۔
شمس تبریز کی بیوی
شمس تبریز کی بیوی کیمیا خاتون ایک صبر کرنے والی اور فہمیدہ عورت تھیں، شادی سے پہلے محلے کی عورتوں نے انھیں شادی کے بارے میں بری طرح ڈرا دیا تھا، لیکن شمس تبریز نے انھیں آہستہ آہستہ بہت کچھ سکھا دیا اب وہ عالم کی روح سے واقف ہوگئی تھیں، میاں بیوی گھنٹوں علمی و روحانی باتیں کرتے۔
شمس تبریز کے مزار کے ساتھ ایک مسجد اور پارک بھی ہے۔ ایک انگریز مصنف کے مصداق حضرت شمس کا مزار قوی (Khoi) میں ہے مگر زیادہ تر مغربی مصنفین اس بات پر متفق ہیں کہ شمس تبریزکا مزار قونیہ میں ہے۔ شمس تبریز کے جانے کے بعد رومی بے چین ہو گئے۔ وہ اضطراب اور رنج میں گھومتے رہتے تھے۔
اسی جگہ آج رقص درویش ہوتا ہے جو رومی کے اضطراب کا مظہر ہے۔ ان کے جانے کے بعد یہ خبر ملی کہ شمس کو دمشق اور اس کے گرد و نواح میں دیکھا گیا ہے۔
مولانا نے اپنے بیٹے سلطان ولاد کو شام کی جانب روانہ کیا، سلطان ولاد شمس تبریز کو واپس لانے میں کامیاب ہو گئے۔ ایک مرتبہ پھر دونوں ملے نہ معانقہ ہوا، نہ مصافحہ ہوا، دونوں ہی ایک دوسرے کے قدموں میں گر پڑے۔
پتا ہی نہ چل سکا دونوں میں کون چھوٹا ہے کون بڑا۔ کون محب ہے کون محبوب، کون مرید ہے کون مرشد۔ یہ بھی کوئی نہیں بتا سکتا کہ یہ دو جسموں کا ملاپ تھا یا دو روحوں کا۔ شمس تبریز کا نکاح قونیہ ہی میں کیمیا خاتون سے پڑھوا دیا گیا تاکہ پاؤں میں زنجیر پڑے اور وہ قونیہ میں مستقل قیام کر لیں۔
رومی اپنے مرشد سے اس سربستہ علم طریقت کا حصول چاہتے تھے جو کتابوں میں نہیں ملتا صرف سینہ بہ سینہ منتقل ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف شمس اپنا سب کچھ کسی ایسے عالم بے بدل کے سپر کرنا چاہتے تھے جو اس کا متحمل ہو سکے،
لہٰذا یہ ملاقاتیں رنگ لاتیں، ان طویل ملاقاتوں کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ رومی کے بیٹے علاؤ الدین نے شمس کو دھوکے سے مسجد سے باہر بلا کر قتل کر دیا، لیکن زیادہ تر مغربی مصنفین ایسے ہیں جو اس بات کو نہیں مانتے، اگر ایسا ہوتا تو قونیہ میں بھلا کس کا مزار ہے؟
دیوان شمس تبریزی
مولانا رومی کا ایک دیوان ہے جس کا نام ہے ’’ دیوان شمس تبریزی‘‘ بہت سے لوگ اسے شمس تبریزکا دیوان سمجھتے ہیں، لیکن ایسا بالکل نہیں ہے۔ یہ دیوان مولانا رومی کا ہے۔
شمس تبریز کے بارے میں یہ روایت بھی ملتی ہے کہ انھیں کچھ لوگوں نے قتل کر کے ان کی لاش کنوئیں میں ڈال دی تھی جس کا باطنی ادراک مولانا رومی کو ہوگیا تھا، انھوں نے اپنے بیٹے سلطان کو اور ایک درویش کو بلایا، ایک رسی دی اور حکم دیا کہ ان کے محبوب و مرشد کا جسد خاکی کنوئیں سے نکال لاؤ، لہٰذا شمس کو کنوئیں سے نکالا گیا اور انھیں باغ کے ایک کونے میں دفن کیا گیا[2]۔
تین شمس الدین
حضرت شاہ شمس تبریز وقت کے بہتے دریا میں تین شمس الدین ابھرتے ہیں جو تبریزی کہلاتے ہیں پہلے شمس الدین تبریزی مولانا روم کے استاد گرامی ہیں جن کا مزار قونیہ میں ہے دوسرے شخص تبریزی اصل میں شمس عراقی ہیں
جن کا روضہ کشمیر میں ہے اور ان کی وفات 924 ہجری میں ہوئی جبکہ تیسرے شمس تبریزی شمس الدین سبزواری ہیں جن کا مزار ملتان میں ہے چوتھے شمس الدین سبزواری جو شاہ شمس سبزواری ملتان کی اولاد سے ہیں انکا مزار آلہ آباد(انڈیا) میں ہے عوامی حلقہ میں اس حوالہ سے حیرانی اور پریشان پائی جاتی ہے
کہ قونیہ والے شاہ شمس تبریز کون ہیں اور شاہ شمس تبریز ملتان والے کون ہیں اہل علم جانتے ہیں کہ شاہ شمس تبریز جن کا مزار قونیہ میں ہے وہ مولا روم کے استاد گرامی تھے۔
جن کے بارے میں مولانا روم فرماتے ہیں معنوی ہرگز نہ شد مولائے روم تا غلامے شمس تبریزی نہ شد حضرت شاہ شمس تبریز وہ عارف ہیں جنھوں نے مولانا روم کو معرفت کے اسرار رموز سے آگاہ کیا حضرت مولانا جلال الدین رومی کو شاہ شمس تبریزی سے بڑی عقیدت مندی تھی اور زیادہ تر وہ شاہ شمس کے ساتھ ہی رہتے تھے۔
ایک مرتبہ مولانا روم اپنی کتب لیے ہوئے اپنے استاد کے پاس تشریف لائے وہ حوض پر بیٹھے ہوئے تھے حضرت شاہ شمس تبریز نے علامہ سے پوچھا یہ کیا ہے مولانا نے کہا یہ یہ قبل و قال ہے یہ وہ چیز ہے۔
جس کا آپکو علم نہیں اس پر شاہ شمس نے تمام کتابیں تالاب میں پھینک دیں مولانا روم گھبرائے کہ اس میں میرے والد بزگوار کے اقوال تھے جن کا ملنا اب مشکل ہے حضرت شاہ شمس تبریز نے تالاب میں ہاتھ ڈالا اور کتابیں پانی سے باہر نکال دیں مولانا روم نے دیکھا کتابیں بھیگی نہیں
بلکہ ان سے گرد اڑ رہی تھی مولانا روم نے شاہ شمس سے پوچھا یہ کیا راز ہے شاہ شمس نے جواب دیا تم کو اسی خبر نہیں مولانا روم یہ کشف کرامات کو دیکھ کر شاہ شمس تبریز کے مرید ہو گئے مولانا روم کو شاہ شمس تبریز نے باطنی علوم سے روشناس کرایا
شاہ شمس مولانا روم کو چھوڑ کر دمشق چلے آئے
کچھ عرصہ بعد شاہ شمس مولانا روم کو چھوڑ کر دمشق چلے آئے مولانا روم نے ان کی جدائی میں کھانا پینا چھوڑ دیا لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا پھر اپنے بیٹے سلمان کو دمشق بھیجا جو شاہ شمس تبریز کو واپس قونیہ لے آئے جب شاہ شمس تبریز کی کرامات کے چرچے ہوئے تو مولانا روم کے بیٹے علاؤ الدین محمد نے چند لوگوں کو ساتھ ملا کر شاہ شمس تبریز کو 645 ہجری میں قتل کر دیا
آپ کا مزار قونیہ میں ہے حضرت شاہ شمس تبریز کا کلام کتب خانوں میں موجود نہیں ہے کلیات شاہ شمس تبریزی میں سارا کلام مولانا روم کا ہے جس میں مولانا روم نے شاہ شمس کے عشق میں غزلیات کہی ہیں چونکہ مولانا روم کو ولایت مطلقہ کا حقیقی عرفان شاہ شمس تبریز کی صحبت سے حاصل ہوا دوسرے سید شمس الدین سبزواری جن کا مزار ملتان میں ہے
ہم عصر اولیاء
سید محمد المکی رضوی مشہدی، لعل شہباز قلندر،شیخ فرید الدین گنج شکر،مخدوم عبدالرشید حقانی،شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی، جلال الدین رومی اور جلال الدین سرخ بخاری، بو علی شاہ قلندر ان کے ہم عصر اولیاء تھے۔
شاعری
باکمال صوفی بزرگ اور شاعر تھے، دیوان شمس تبریزی کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
مقالات شمس تبریزی
مقالات شمس تبریزی، شمس تبریزی کے وہ دانشمندانہ اور دلچسپ مکالمات ہیں جو قونیہ میں 642 ہجری تا 643 ہجری اور تھوڑے عرصے کی گمشدگی کے بعد 644 ہجری تا 645 ہجری کے قیام کے دوران ان کی زبان پر جاری ہوئے تھے
اور جو مولانا جلالالدین محمد بلخی کے مریدوں کے پاس بکھرے ہوئے مختلف نوشتوں میں موجود تھے جنھیں بعد ازاں جمع کر دیا گیا تھا۔ان کی بے ترتیب اور شکستہ عبارات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شمس تبریزی کی اپنی تصنیف نہیں بلکہ مریدین کے روزنامچوں سے لیے گئے اقتباسات ہیں جنھیں یکجا کر دیا ہے
وفات
غیر مسلم قبیلوں کے سرداروں کو کلمہ پڑھا کر مسلمان کیا۔ یہیں آپؒ نے وصال فرمایا۔ آپؒ کی وفات 28 صفر المظفر 675 ہجری کو ہوئی۔ نفحات الانس میں ان کی وفات 645ھ بمطابق 1247ء ہے
حوالہ جات
- ↑ حقائق بیاں طلب ص،١١٩
- ↑ رئیس فاطمہ،حضرت شمس تبریزؒ اور مولانا رومی- شائع شدہ از:2 مئی 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 12 جون 2026ء
