مندرجات کا رخ کریں

سلطان العلماء

ویکی‌وحدت سے
سلطان العلماء
پورا نامسلطان العلماء
دوسرے نامعلاء الدین سید حسین بن رفیع الدین، خلیفہ السلطان
ذاتی معلومات
پیدائش1001 ق
پیدائش کی جگہایران، اصفہان
وفات1064 ق
یوم وفات23 نومبر
وفات کی جگہایران، بہشہر، مازندران
اساتذہ
  • سید رفیع الدین محمد بن شجاع الدین محمود حسینی
  • ملا حسین یزدی ندوشتی
  • ملا محمود زمانی
  • سید محمد بن علی بن محمد حسنی
  • شیخ بہائی
شاگرد
  • اولاد: سید حسن، سید علی، سید محمد اور سید ابراہیم
  • میرزا عنایت اللہ بن آغا محمد مومن بن محمد باقر اصفہانی
  • محمد داود تویسرکانی
  • آقا حسین خوانساری
  • علامہ مجلسی صاحب بحار الانوار
  • میرزا عبد الرزاق کاشانی و ...
مذہباسلام، شیعہ
اثرات
  • توضیح الاخلاق، خلاصہ کتاب اخلاق ناصری تالیف خواجہ نصیر الدین طوسی
  • دیوان سلطان العلماء
  • رسالہ مناظراتہ مع الشیخ ابی السعود فی القسطنطنیہ
  • انموذج العلوم
  • حاشیہ بر تہذیب
  • حاشیہ بر استبصار
  • حاشیہ بر تفسیر بیضاوی و ...
مناصب
  • بہت سے علویوں، فقراء اور اہل علم کی سرپرستی اور تاریک راتوں میں ان کے لیے کھانے کی تقسیم
  • اصفہان میں نماز جمعہ کا اقامہ اور اوقاف کے دفاتر کا قیام، مدارس علمیہ کا قیام
  • طبی مراکز کا قیام

علاء الدین سید حسین بن رفیع الدین (م 1001 ق)، معروف بہ سلطان العلماء سادات اور شیعہ کی گیارہویں صدی ہجری قمری کے مذہبی و سیاسی بزرگان میں سے ہیں۔ انہوں نے اپنے دادا محترم، سید رفیع الدین محمد، ملا محمود زمانی، شیخ بہائی، سید محمد بن علی اور ملا حسین یزدی ندوشتی جیسے علماء سے تعلیم حاصل کی، اور شاگردوں جیسے آقا حسین خوانساری، علامہ مجلسی، میرزا عبد الرزاق کاشانی، ملا محمد سلیم رازی وغیرہ کی تربیت کی۔ سلطان العلماء کی علمی شہرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1033 ق میں، شاہ عباس کی طرف سے وزارت پر مامور ہوئے اور اسی سال شاہ کی بیٹی سے شادی کر کے شاہ کے داماد بن گئے۔ وہ شاہ عباس اول کی وفات تک اس عہدے پر رہے اور پھر شاہ صفی کے دور میں ان اور شاہ کے درمیان جو کدورت پیدا ہوئی اس کی وجہ سے اس عہدے سے برطرف ہو کر قم جلاوطن کر دیے گئے جہاں اس شہر میں قیام کے دوران انہوں نے مختلف آثار جیسے مختلف حدیثی، فقہی، اصولی اور تفسیری کتابوں پر حاشیے تالیف کیے۔ سلطان العلماء کو دوبارہ شاہ کی طرف سے وزارت کے عہدے پر دعوت دی گئی اور شاہ عباس دوم کے عہد میں اپنی وفات تک اس وزارت کے عہدے پر رہے۔ علویوں، علماء اور فقراء کے امور کی دیکھ بھال، اوقاف کے انتظامی دفاتر کا قیام، مدارس علمیہ اور شفا خانوں کا قیام ان کے دورہ وزارت کی سرگرمیاں تھیں۔ وہ بالآخر 1064 ق میں، مازندران میں وفات پائی اور ان کی جسد خاکی کو نجف اشرف منتقل کر کے حرم مطہر میں سپرد خاک کیا گیا۔

سوانح حیات

علاء الدین سید حسین بن رفیع الدین، معروف بہ سلطان العلماء 1001 ق میں، شہر اصفہان میں پیدا ہوئے۔ ان کے بیشتر آبا و اجداد مختلف ادوار میں مذہبی و سیاسی بزرگان تھے، اور متاخر دور میں سادات خلیفہ کے نام سے مشہور تھے۔ ان کا نسب باپ کی طرف سے 29 واسطوں سے امام سجاد (علیہ السلام) تک پہنچتا ہے اور ماں کی طرف سے سادات شہرستان سے ہیں۔

سید حسین کے اجداد مازندران کے علماء اور حکام میں سے تھے جن میں ان کے جد اعلیٰ سید میر بزرگ مرعشی نے اپنی عمر شریف کا کچھ حصہ مازندران میں حکومت کرتے ہوئے گزارا اور ان کے خاندان سے پہلی شخصیت جو اصفہان میں ساکن ہوئی، میر نظام الدین علی بن میر قوام الدین محمد ہے۔

ان کے جد، سید شجاع الدین محمود بن سید علی، علوم عقلیہ و نقلیہ میں مہارت رکھتے تھے اور کافی املاک امور خیریہ کے لیے وقف کیے۔ ان کے والد رفیع الدین "الحق"، اور ان کے بھائی میرزا قوام الدین بن میرزا رفیع الدین محمد مذہبی سیاسی بزرگان میں سے تھے، جو شاہ عباس اول کے دور میں صدارت پر مامور ہوئے، فضل، کمال، سلامت نفس اور خیر اندیشی کے لیے معروف تھے[1]۔

تعلیم و تدریس

سید حسین ایک علمی و فضل والے خاندان میں پیدا ہوئے اور پرورش پائی۔ نخستین و بہترین استاد و مربی ان کے والد بزرگوار، رفیع الدین تھے۔ وہ دورانِ تحصیل میں ملا خلیل کے ہم بحث رہے اور ہم بحث ہونے کے علاوہ ان دونوں کے درمیان گہری دوستی بھی تھی، یہاں تک کہ ملا خلیل نے کتاب شافی فی شرح الکافی کو سلطان العلماء کے نام سے شائع کیا۔

یہ دونوں سلطان العلماء کے والد رفیع الدین کے حلقہ درس کے شاگرد ہونے کے علاوہ، شیخ بہائی، ملا محمد زمانی اور ملا حسین یزدی ندوشتی کے درس میں بھی حاضر ہوئے اور ان سے استفادہ کیا[2]۔

اساتذہ

  1. ملا محمود زمانی؛
  2. ملا حسین یزدی ندوشتی؛
  3. سید محمد بن علی بن محمد حسنی؛
  4. شیخ بہائی بہاءالدین محمد بن حسین بن عبدالصمد؛
  5. ان کے والد بزرگوار، سید رفیع الدین محمد بن شجاع الدین محمود حسینی۔

تدریس

وہ اپنے زمانے کے مشہور ترین مدرسين اور اساتذہ میں سے تھے اور ان کے درس و وعظ کی مجلسوں میں دو ہزار سے زائد افراد حاضر ہوتے تھے[3]۔ ان کی منطق، اخلاق، تفسیر، فقہ اور اصول جیسی درس گاہیں تھیں اور انہوں نے اس سلسلے میں کئی شاگرد تربیت کیے اور آثار تصنیف کیے۔

شاگرد

  1. میرزا عنایت اللہ بن آغا محمد مومن بن محمد باقر اصفہانی، دائی صاحب ریاض؛
  2. محمد داود تویسرکانی؛
  3. سید حسن، سید علی، سید محمد اور سید ابراہیم، فرزندان سلطان العلماء؛
  4. آقا حسین خوانساری صاحب مشارق الشموس؛
  5. علامہ مجلسی صاحب بحار الانوار؛
  6. میرزا عیسیٰ والد سید علی صاحب الریاض؛
  7. میرزا عبد الرزاق کاشانی؛
  8. ملا ابو الخیر محمد تقی فارسی صاحب رسالة معرفة التقویم؛
  9. ملا محمد سلیم رازی۔

تصانیف

  1. توضیح الاخلاق، خلاصہ کتاب اخلاق ناصری تألیف خواجہ نصیر الدین طوسی؛
  2. حاشیہ بر تہذیب و استبصار؛
  3. دیوان سلطان العلماء؛
  4. آداب الحج؛
  5. أنموذج العلوم؛
  6. حاشیہ بر تفسیر بیضاوی؛
  7. حاشیہ بر حاشیہ خفری بر شرح تجرید قوشچی؛
  8. حاشیہ بر شرح لمعہ؛
  9. حاشیہ بر شرح اربعین حدیث شیخ بہائی؛
  10. حاشیہ بر شرح مختصر الاصول عضدی؛
  11. حاشیہ بر شرح شمسیہ؛
  12. حاشیہ بر معالم؛
  13. حاشیہ بر شرح مطالع؛
  14. حاشیہ بر مختلف علامہ؛
  15. حاشیہ بر کشاف؛
  16. حاشیہ بر زبدۃ الاصول شیخ بہائی؛
  17. حاشیہ بر شرائع الاسلام؛
  18. حاشیہ بر من لا یحضرہ الفقیہ، (بر بعضی ابواب آن)؛
  19. حاشیہ بر حاشیہ قدیمہ جلالیہ؛
  20. رسالہ مناظراتہ مع الشیخ أبی السعود فی القسطنطنیہ۔ یہ کتاب ان کے فرزند سید علی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

علمی مناظرات

سید حسین نے مختلف علاقوں کا سفر کیا، جن میں قسطنطنیہ، مصر اور یمن شامل ہیں اور مصر میں قاہرہ کے علما سے مناظرات اور تبادلہ خیال کیا۔ اسی طرح یمن میں امام زیدیہ سے ملاقات کی اور قسطنطنیہ کے سفر میں ابی مسعود، مفتی اور مشہور تفسیر کے صاحب سے مناظرات کیے جو بعد میں ان کے فرزند سید علی نے کتابی شکل میں مرتب کیے۔

وزارت کا عہدہ

سید حسین کی علمی رشد و نمو کے ساتھ، وہ شاہ عباس اول کی توجہ اور عنایت کا مرکز بنے اور سلمان خان وزیرِ شاہ کی وفات کے بعد، سن 1033 ق میں شاہ عباس کی جانب سے وزارت کے عہدے پر فائز کیے گئے، اسی زمانے میں ان کے والد رفیع الدین بھی منصبِ صدارت پر فائز تھے اور یہ دونوں بزرگوار اپنے اپنے مقام پر عوام کے مراجعات کے جوابدہ تھے۔

سلطان العلماء نے شاہ عباس کے دور میں، تقریباً چار سے پانچ سال وزارت کا عہدہ سنبھالا، نیز سن 1033 ق میں ان کی شادی شاہ کی بیٹی سے ہوئی اور وہ شاہ کے داماد بھی بنے جس کے نتیجے میں چار بیٹے پیدا ہوئے جن کے نام سید ابراہیم، سید حسین، سید رفیع الدین محمد اور سید علی تھے، جو تمام اپنے زمانے کے دانشور اور بزرگ تھے اور مقامِ اجتہاد و استنباط کے حامل تھے۔

شاہ عباس کی وفات کے بعد انہوں نے دو سال تک شاہ صفی کی وزارت کی ذمہ داری سنبھالی اور شاہ صفی کے ساتھ ایک جنگ میں الجھنے کی وجہ سے، سن 1041 ق میں شاہ نے انہیں وزارت سے معزول کر دیا اور حکم دیا کہ ان کے تمام بیٹوں کو کور کیا جائے اور خود انہیں قم جلاوطن کر دیا گیا۔

سید حسین نے قم جلاوطنی کے بعد دس سے پندرہ سال تک مطالعہ، تدریس اور تصنیف میں مصروف رہے اور اسی دوران کتاب حاشیہ بر معالم الدین بھی لکھی۔ کچھ عرصے بعد شاہ صفی نے انہیں اصفهان بلوایا اور دوبارہ وزارت پر مقرر کیا۔ وہ فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ گئے ہوئے تھے کہ شاہ صفی کا انتقال ہو گیا اور شاہ عباس دوم تخت نشین ہوا اور سن 1052 ق میں میر تقی خان کے قتل کے بعد انہیں وزارت پر مقرر کیا، وہ اپنی حیاتِ طیبہ کے آخر تک سن 106 ق تک، آٹھ سال اور چھ مہینے شاہ عباس دوم کی وزارت کے عہدے پر فائز رہے۔

اخلاقی خصوصیات

سلطان العلماء کے پاس فضل، کمال، سلامتِ نفس، تواضع اور خیر اندیشی جیسی نمایاں خصوصیات کے علاوہ وسعتِ صدر اور بہت زیادہ روحانی طاقت بھی تھی۔ یہاں تک کہ شاہ صفی کے ساتھ جھگڑے، وزارت سے معزولی، بیٹوں کے کور کیے جانے اور شاہ کی جانب سے قم جلاوطنی کے بعد بھی انہوں نے صبر اور مقاومت کے ساتھ قم میں تصنیف و تحقیق کا سلسلہ جاری رکھا اور ان مصائب کو برداشت کرتے ہوئے اپنی جانب سے قیمتی آثار چھوڑے۔

سرگرمیاں

  1. بہت سے علویوں، فقراء اور اہل علم کی سرپرستی اور تاریک راتوں میں ان کے لیے غذا کی تقسیم؛
  2. اصفهان میں نماز جمعہ کا اہتمام اور اوقاف کے لیے دفاتر کا قیام؛
  3. مدارس علمیہ کی تأسیس؛
  4. علاجی مراکز کی تأسیس۔

وفات

سلطان العلماء قندھار کی فتح کے بعد سن 1064 ہجری میں واپسی پر مازندران کے شہر بہشہر میں وفات پائی اور ان کی میت کو نجف اشرف منتقل کیا گیا اور کشوانیہ نامی مقام پر حرم مطہر کے جنوب مشرق میں سپرد خاک کیا گیا۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

ماخذ

  1. سید محسن امین، اعیان الشیعہ، ج 10، ص 108؛ ج 5، ص10؛ ج 8، ص 481۔
  2. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، ج3، ص6۔
  3. سید محسن امین، اعیان الشیعہ، ج 6، ص 165۔