امامِ شہید کی آخری رخصتی میں قومی وحدت کی تجلی (نوٹس)

امامِ شہید کی آخری رخصتی میں قومی وحدت کی تجلی ایک تجزیاتی عنوان ہے جو امامِ شہید کی وداع، آخری بدرقہ اور تشییع کے سماجیاتی اور سیاسی پہلوؤں کا جائزہ پیش کرتا ہے [1]۔ مزاحمتی قیادت کی تشییعِ جنازہ ایران کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ سماجی سرمایہ کی تجدید اور قومی یکجہتی کے استحکام کا ایک اہم موڑ سمجھی جاتی رہی ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقات اور متنوع فکری و سماجی رجحانات رکھنے والے افراد کی وسیع اور بامعنی شرکت اس تقریب کو محض ایک مذہبی یا روایتی رسم تک محدود نہیں رکھتی بلکہ اسے اسلامی انقلاب کے نظریات سے تجدیدِ عہد اور نظام کے تسلسل کے حق میں ایک عملی عوامی اظہار کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ یہ منظر امتِ اسلامی کی فکری پختگی اور امامِ شہید کی آواز پر عوامی لبیک کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔
سماجی اور وحدت آفرین دلالتوں کا تجزیہ
سیاسی سماجیات کے نقطۂ نظر سے ایران میں کسی شہید رہنما کی تشییع ایک ایسے "مرحلۂ انتقال" (Rite of Passage) کی حیثیت رکھتی ہے جس میں معمول کے سیاسی اختلافات عارضی طور پر پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور قومی و مذہبی شناخت ایک مشترک محور کے طور پر نمایاں ہو جاتی ہے۔
تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے مواقع پر شہادت اور قیادت دو بنیادی عناصر ہیں جو مختلف سماجی گروہوں کو ایک مشترک مقصد کے گرد جمع کرتے ہیں۔ یہی کیفیت "کثرت میں وحدت" کی عملی مثال پیش کرتی ہے، جہاں نسلی، ثقافتی اور فکری تنوع ایک مشترک قومی و دینی احساس میں ڈھل جاتا ہے۔
شہداء کی بدرقہ کے تاریخی شواہد

تاریخی اعداد و شمار اور میدانی رپورٹس سے، خصوصاً شہدائے مدافعِ حرم، تاریخی تشییعِ جنازۂ شہید جنرل قاسم سلیمانی، شہدائے خدمت بالخصوص شہید آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی، نیز محورِ مقاومت کے قائد شہید سید حسن نصر اللہ کی لبنان میں ہونے والی تشییع کے حوالے سے، یہ واضح ہوتا ہے کہ مزاحمتی قیادت اور شہید کمانڈروں کی آخری رخصتی میں امتِ مسلمہ کی وسیع شرکت متعدد اہم سماجی و سیاسی کردار ادا کرتی ہے:
سیاسی مشروعیت کا اظہار: نظام کی نرم طاقت (Soft Power) اور عوامی حمایت کو نمایاں کرنا۔ بیرونی بازدارندگی: بین الاقوامی مبصرین کو یہ واضح پیغام دینا کہ قوم اور ریاست کے درمیان مضبوط وفاداری اور اعتماد موجود ہے۔ داخلی ہم آہنگی: اجتماعی غم اور سوگ کی فضا کے باعث وقتی سیاسی کشیدگیوں میں کمی اور قومی یکجہتی کا فروغ۔
علمی نقطۂ نظر سے وحدت کا مظہر
قومی یکجہتی اور اسلامی وحدت، اسلامی انقلاب کی قیادت کے فکری نظام میں محض ایک وقتی یا سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک بنیادی اسٹریٹجک ضرورت ہے۔ امامِ شہید کی تشییع ایسے اتحاد کے عملی مشاہدے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔
علمی زاویۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو اس موقع پر عوام کی وسیع شرکت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مزاحمت اور شہادت کا بیانیہ قوم اور ریاست کے درمیان تعلق اور اعتماد کو برقرار رکھنے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔
یہ تحریر اس حقیقت پر زور دیتی ہے کہ اس نوعیت کے اجتماعی واقعات کا علمی اور سماجی مطالعہ ترقی پذیر معاشروں میں قومی وحدت، سماجی انسجام اور اجتماعی شناختکو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے نئے نظریاتی اور تجزیاتی نمونے فراہم کر سکتا ہے۔
ایک رسم سے بڑھ کر

ایران میں امامِ شہید کے جسدِ خاکی کی تشییع محض ایک مذہبی یا سیاسی رسم نہیں، بلکہ سماجی سرمایہ (Social Capital)کی تشکیل کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ یہ عظیم اجتماع اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ ایثار، نظام کے اصولوں سے وفاداری، باہمی ہمدردی، محبت اور شہادت جیسے بلند انسانی اور اسلامی اقدار، معاشرتی تقسیم پیدا کرنے کی مختلف کوششوں کے باوجود، قومی اتحاد اور اجتماعی یکجہتی کو برقرار رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایران میں تشییع کا جغرافیائی تجزیہ
امامِ شہید اور ان کے اہلِ خانہ کی ایران کے تین اہم شہروں میں تشییع، امام و قائدِ شہید کے خون کا انتقام لینے اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے عوامی مطالبے کے ساتھ ساتھ، انقلابی شناخت کے تین بنیادی پہلوؤں کی بھی نمائندگی کرتی تھی[2]۔
1۔ تہران:ملکی سیاست اور فیصلہ سازی کے مرکز کی حیثیت سے تہران نے عوامی غم و اندوہ کو ایک قومی مطالبے میں تبدیل کرنے کا کردار ادا کیا، تاکہ شہید کے راستے کے تسلسل کا عزم مزید مضبوط ہو۔
مختلف سیاسی، سماجی اور فکری طبقات کی نمایاں شخصیات کی شرکت اس بات کی غماز تھی کہ امامِ شہید ایک جماعتی وابستگی سے بالاتر قومی شخصیت تھے۔
2۔ قم:مرجعیتِ دینی اور حوزاتِ علمیہ کے مرکز کی حیثیت سے قم نے شہادت کے دینی، فقہی اور الٰہیاتی پہلو کو اجاگر کیا۔ یہاں کی تشییع اس حقیقت پر زور دیتی تھی کہ امامِ شہید کی قیادت فقاہت اور اسلامی مذہبی روایت کی مضبوط بنیادوں پر استوار تھی، اور امت کا اتحاد محض ایک سیاسی ضرورت نہیں بلکہ ایک شرعی ذمہ داری بھی ہے۔
3۔ مشہد:حضرت امام رضا علیہ السلام کے روضۂ اقدس کے جوار میں واقع مشہد، اس عظیم سفر کا اختتامی مرحلہ اور روحانی نقطۂ اتصال تھا۔ یہاں تشییع نے اس پورے عمل کو ایک سیاسی مظاہرے سے بلند کر کے ایمانی فریضہ کی حیثیت عطا کر دی۔ مشہد میں عوام کی موجودگی شہادت کے راستے کو متبرک بنانے اور اسے اسلامی امت کے مہدوی اور عالمی مقاصد سے جوڑنے کی علامت سمجھی گئی۔
امتِ اسلام کی یکجہتی؛ مذہبی سرحدوں سے آگے
اس پورے سلسلۂ تشییع میں جو چیز نمایاں رہی، وہ لفظی وحدت نہیں بلکہ عملی وحدت تھی۔ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک ہی پرچم اور ایک ہی نعرے کے تحت مختلف شہروں اور دو ہمسایہ ممالک میں سڑکوں پر نکلنا، علمِ سیاست کی اصطلاح میں بیانیۂ مقاومت کے دائرۂ اثر کی توسیع سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اس واقعے کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ عالمِ اسلام میں حقیقی اتحاد انتظامی ہدایات یا سرکاری فیصلوں سے نہیں، بلکہ شہید رہنماؤں کے مقدس اہداف اور مشترک نظریات سے وابستگی کے ذریعے قائم ہوتا ہے[3]۔
مزاحمت کے جغرافیے میں وحدت
امامِ شہید کے جسدِ خاکی کی تشییع صرف ایک قومی واقعہ نہیں تھی بلکہ اس نے ایک بین الاقوامی اور سرحدوں سے ماورا عمل کی صورت اختیار کر لی۔ نجفِ اشرف اور کربلائے معلیٰ جیسے عراق کے مقدس شہروں سے ایران کے اہم مذہبی و سیاسی مراکز، یعنی تہران، قم اور مشہد تک اس سفر نے عالمِ اسلام کے قلب میں ایک روحانی اور نظریاتی یکجہتی کے جال کو نمایاں کیا۔
اسی اسلامی اتحاد کی جھلک دیگر ممالک میں ہونے والی علامتی تعزیتی اور تشییعی تقریبات میں بھی دیکھی گئی[4]۔
عراق:عراق میں مختلف مذہبی، نسلی اور سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد کی شرکت نے واضح کیا کہ مکتبِ مقاومت ایک ایسی حکمتِ عملی کے طور پر کامیاب رہا ہے جس نے ایران اور عراق کے عوام کے درمیان رسمی سفارت کاری سے کہیں زیادہ گہرا رشتہ قائم کیا ہے۔
یہ وسیع عوامی شرکت ان تمام میڈیا مہمات کا عملی جواب بھی تھی جن کا مقصد دونوں اقوام کے درمیان اختلاف اور دوری پیدا کرنا تھا۔
محورِ مقاومت میں تسلسل:
امامِ شہید کے جسدِ خاکی کا ان مقدس شہروں سے گزرنا گویا امتِ مسلمہ کے اتحاد کے ایک عملی نقشۂ راہ کی تصویر تھا۔ اس عظیم اجتماع نے ثابت کیا کہ شہادت پر مبنی مشترک نظریہ اور فکر جغرافیائی سرحدوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتی ہے، اور سرحدیں اس کے اثر و رسوخ کو محدود نہیں کر سکتیں۔
امام خامنہای کے پیغام کا ایک حصہ
امام خامنہای نے قائدِ امتِ اسلام کی تشییع اور آخری بدرقہ کے موقع پر اپنے پیغام کے ایک حصے میں خون کا بدلہ لینے اور انتقام کے موضوع کی طرف اشارہ کیا۔
مظلومیت کی صدا
آج بھی وہی حسینی جوش و جذبہ ہماری قوم کو نئی زندگی اور بیداری عطا کر رہا ہے، اور امام خمینیؒ کے مکتب اور امامِ شہید خامنہای کے راستے کو نئی شان و شوکت کے ساتھ نمایاں کر رہا ہے۔
یہی وہ حیات بخش ولولہ ہے جو حضرت امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت کی صدا اور ان کے جاوداں نعرے "هَلْ مِنْ نَاصِرٍ يَنْصُرُنِي" کی بازگشت بن کر پہلے ایران، پھر عراق اور اس کے بعد دیگر ممالک میں گونج اٹھتا ہے اور باطل کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیتا ہے۔
اسی مناسبت سے میں ایران اور عراق کے شہروں اور دیہاتوں، خصوصاً تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد کی شاندار، تاریخ ساز، دشمن شکن اور حیرت انگیز شرکت پر دل کی گہرائیوں سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
خون کا بدلہ اور عہدِ وفا
ہماری قوم حضرت امام حسین علیہ السلام کے خون کی وارث اور ان کے خون کا بدلہ لینے والی قوم ہے۔ اس عظیم ملت نے برسوں تک اپنے جوانوں کو امام حسینؑ کے راستے میں اور ان کے دشمنوں اور فکرِ حسینی کے مخالفین کے مقابلے میں قربان کیا ہے، اور آج بھی وہ امام حسینؑ اور عصرِ حاضر کے حسینیوں کے خون کی وارث ہے۔
آج میں اپنے شہید پیشوا کی بارگاہ میں عرض کرتا ہوں:
"اے مظلوم شہید! اے سربلند مظلوم! اے خدا کے نیک بندے!"
آج جب ہم اشکبار آنکھوں اور ٹوٹے ہوئے دلوں کے ساتھ آپ کے جسدِ اطہر سے رخصت ہو رہے ہیں، تو آپ سے یہ عہد کرتے ہیں کہ آپ کے مکتب کی حفاظت کریں گے، آپ کے متعین کردہ سیدھے راستے پر ثابت قدمی کے ساتھ چلیں گے، اس راہ کی مشکلات سے ہرگز خوف زدہ نہیں ہوں گے، اور آپ ہی کی طرح اللہ تعالیٰ کی بشارتوں اور وعدوں پر کامل یقین رکھیں گے۔
ہم یہ بھی عہد کرتے ہیں کہ آپ کے پاک خون اور ان دونوں جنگوں کے تمام شہداء کے خون کا بدلہ ان مجرم، ظالم اور رسوا قاتلوں سے ضرور لیا جائے گا۔ یہ انتقام ہماری قوم کا مطالبہ ہے اور یقیناً اسے پورا ہونا ہے۔
یہ مجرم، جن کے نام اور کردار ابتدا سے انتہا تک محفوظ ہیں، اپنی خواہش کے مطابق پرسکون موت ہرگز نہیں پا سکیں گے۔ انہیں جان لینا چاہیے کہ اس عزم کی تکمیل کسی ایک فرد یا چند ذمہ داران کی موجودگی پر موقوف نہیں ہے۔ ہم رہیں یا نہ رہیں، یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا، اور بہت جلد دنیا بھر کے آزاد منش انسانوں میں سے ہر ایک اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اس الٰہی ذمہ داری کی انجام دہی میں اپنا کردار ادا کرے گا[5]۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ تحریر: احسان جوادی
- ↑ خونخواهی امام شهید امروز به مطالبهای جهانی تبدیل شده است-شائع شدہ از: 24 تیر 1405ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 15 جولائی 2026ء
- ↑ امام جمعه نجف اشرف: تشییع پیکر امام خامنهای در عراق و ایران، تجدید بیعت و اعلام موضع دینی و سیاسی بود-شائع شدہ از: 20 تیر 1405ش -اخذ شدہ بہ تاریخ: 15 جولائی 2026ء
- ↑ استقبال پرشور و حزنانگیز مردم نجف اشرف از پیکر شهید امام خامنهای-شائع شدہ از:17 تیر 1405ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 15 جولائی 2026ء
- ↑ پیام به مناسبت تشییع و تدفین آقای شهید ایران-شائع شدہ از: 20 تیر 1405ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 15 جولائی 2026ء