احمد سامبی
| احمد سامبی | |
|---|---|
![]() | |
| پورا نام | احمد سامبی |
| دوسرے نام | احمد بن عبدالله سامبی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1958 ء |
| پیدائش کی جگہ | مجمع الجزائر قمر |
| وفات | 2026 ء |
| مذہب | اسلام، سنی |
| مناصب | جمہوریہ اسلامیہ فیڈریٹو قمر کے سابق صدر ہیں |
احمد بن عبد الله سامبی جمہوریہ اسلامیہ فیڈریٹو قمر کے سابق صدر ہیں۔[1] انہوں نے اسلامی علوم مصر کی الازہر یونیورسٹی اور سعودی عرب کی اسلامی یونیورسٹی سے حاصل کیں، لیکن وہاں اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے، یہاں تک کہ وہ سوڈان گئے اور وہاں ایک سال تک درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور پھر اپنی تعلیم مکمل کی۔ انہوں نے ایران میں علامہ محمد تقی مصباح یزدی کی نگرانی میں بھی تعلیم حاصل کی۔
نسب
احمد بن عبدالله بن محمد بن عبدالله سامبی لحاریری بن ابی بکر بن علوی بن محمد بن عبدالله بن علوی بن عبدالله بن علوی بن ابی بکر بن علی بن احمد بن عبدالله المسیلی بن محمد بن علوی الشیبہ بن عبدالله بن علی بن عبدالله باعلوی بن علوی الغیور بن الفقیہ المقدم محمد بن علی بن محمد صاحب مرباط بن علی خالع قسم بن علوی بن محمد بن علوی بن عبیداللہ بن احمد المہاجر بن عیسی بن محمد النقیب بن علی العریضی بن جعفر الصادق بن محمد الباقر بن علی زین العابدین بن امام حسین السبط بن علی بن ابی طالب، اور علی بن ابی طالب علیہ السلام کی شادی فاطمه بنت محمد (زهرا) سلام اللہ علیہا سے ہوئی جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی ہیں۔۔[2] لہذا، وہ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ستائیسویں پشت میں سے ہیں۔
سیاسی سرگرمیاں
احمد عبد الله محمد سامبی (پیدائش 5 جون 1958)، جنہیں آیت اللہ سامبی کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک سیاست دان، سنی مسلمان مذہبی رہنما اور اتحاد قمر یا مجمع الجزائر قمر کے سابق صدر ہیں۔ وہ 14 مئی 2006 کو عام انتخابات میں 58.02 فیصد ووٹ حاصل کر کے ملک کے صدر بنے۔ ان کی اقتدار میں آمد قمر یونین میں مسلسل فوجی تاختوں کے بعد اقتدار کی پہلی پرامن منتقلی کا نتیجہ تھی۔ وہ قمر کے پہلے سربراہ مملکت بھی ہیں جو انجوان سے تعلق رکھتے ہیں، وہ جزیرہ جس نے 2001 میں اتحاد قمر سے علیحدگی کی اپنی درخواست واپس لے لی تھی۔ سامبی، قمر کے زیادہ تر باشندوں کی طرح مسلمان سنی ہیں، اور قم شہر میں قیام اور تعلیم کی وجہ سے انہیں آیت اللہ کا لقب دیا گیا ہے۔ انہوں نے قم میں اسلام کی سیاسی نظریات کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی تعلیم سوڈان اور سعودی عرب میں جاری رکھی۔
مذہب
وہ اہل سنت ہیں، لیکن ایران میں تعلیم حاصل کرنے اور ایران سے تعلقات قائم کرنے کے شوق، نیز فلسطین کے دفاع میں ان کے موقف کی وجہ سے ان کی عوامی مقبولیت کو نقصان پہنچانے کے لیے ان پر شیعہ ہونے کا الزام لگایا گیا۔
قمر کی حکومت کا ان سے سامنا
سید احمد عبدالله سامبی، جو محور مقاومت اور فلسطینی مقاصد کے حامی و ناصر ہیں، 12 مئی 2018 ع کو کئی مہینوں کی غیر حاضری کے بعد اپنے ملک واپس آئے، جہاں ان کا استقبال ان کے چاہنے والوں اور حامیوں نے بے مثال انداز میں کیا۔ ان کی واپسی کا مقصد اس وقت کے صدر عثمان غزالی کی جانب سے پیش کیے گئے "آئین میں ترمیم کے لیے ریفرنڈم کے منصوبے" کو روکنا تھا، جس کا مقصد صدارتی مدت کو مستقل بنانا تھا، تاکہ آئینی عدالت کی کارروائیوں کو روکا جا سکے اور اس کی انتظامیہ سپریم کورٹ کے حوالے کی جا سکے، جس کی صدارت خود صدر غزالی کرتے تھے۔ "احمد عبدالله سامبی" کی قمر واپسی ایک اہم وجہ بنی جس نے غزالی کو حکومت سنبھالنے سے مایوس کر دیا، اور سابق صدر کی ملک میں آمد کے ایک ہفتے بعد ان کے گھر نظر بند کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا، عملاً انہیں بیرونی دنیا سے رابطے سے ممنوع کر دیا گیا، یہاں تک کہ سامبی پورا ایک سال طبی علاج و معالجے سے بھی محروم رہے اور بالآخر ان کی صحت اور جسمانی حالت بگڑتی چلی گئی۔[3]
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ أحمد عبدالله سامبی.. أحوال جزر القمر ج1 الفضائیة - برامج القناة. Al-Jazeera. 2009. مؤرشف من الأصل فی 20 یونیو 2009. اطلع علیه بتاریخ 21 مایو 2013.
- ↑ المعلم, هاشم بن محمد (2009). "المفاخر السامیة فی ذکر تاریخ سلاطین جزر القمر". دمشق، سوریا: الدار العالمیة.
- ↑ خبرگزاری تسنیم
