"ایک چراغ، ایک عہد" علامہ سید ذیشان حیدر جوادی طاب ثراہ

'"ایک چراغ، ایک عہد" علامہ سید ذیشان حیدر جوادی طاب ثراہعلامہ سید ذیشان حیدر جوادی طاب ثراہ کی شخصیت ایک ایسی جامع اور ہمہ جہت پیکر کی مانند تھی جس میں علم، فکر اور عمل ایک دوسرے سے جدا نظر نہیں آتے تھے بلکہ باہم مربوط اور ہم آہنگ دکھائی دیتے تھے[1]۔
پیش لفظ
I ۱۵ اپریل ۲۰۰۰ء کا دن جب بھی یاد آتا ہے تو دل پر ایک خاموش سی اداسی اترتی ہے۔ وہ وقت بھی کیا وقت تھا کہ ایک طرف عاشور کا غم اپنی پوری شدت کے ساتھ فضا میں پھیلا ہوا تھا، دل پہلے ہی مصائبِ کربلا کی یاد میں بوجھل تھے،
اور اسی عالمِ سوگ میں عصرِ عاشور کے قریب یہ خبر آہستہ آہستہ پھیلنے لگی کہ علامہ سید ذیشان حیدر جوادی طاب ثراہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ خبر ایسی تھی کہ جیسے غم کے سمندر میں ایک اور موج اٹھ گئی ہو۔
یوں محسوس ہوتا تھا کہ یکایک فضا کی ساری روشنی مدھم پڑ گئی ہے، جیسے علم کا ایک دریا تھم گیا ہو اور فکر کا ایک روشن چراغ بجھ گیا ہو۔
مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے چراغ بجھ کر بھی روشنی دیتے ہیں اور ایسے دریا رک کر بھی پیاس بجھاتے رہتے ہیں۔
ان کی جدائی صرف جسمانی جدائی تھی، ورنہ ان کا علم، ان کا اسلوب، ان کی فکر آج بھی زندہ ہے۔ عصرِ عاشور کی وہ ساعت محض ایک خبر نہ تھی بلکہ ایک گہرا احساس تھا—یہ احساس کہ ایک ایسا انسان ہم سے جدا ہو گیا جو صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک مکمل مکتب تھا۔
دلوں پر ایک بوجھ سا تھا، زبانیں خاموش تھیں اور آنکھیں اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہ تھیں کہ اب وہ آواز، وہ لہجہ، وہ فکر ہمارے درمیان نہیں رہی۔
یوں لگا جیسے کربلا کے غم میں ڈوبی ہوئی فضا نے ایک اور چراغ کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا ہو، مگر اس چراغ کی روشنی بجھنے والی نہ تھی۔ وہ اپنے آثار، اپنی تحریروں اور اپنے چھوڑے ہوئے نقشِ قدم کے ذریعے ہمیشہ کے لیے زندہ رہنے والا چراغ تھا، جو زمانے کی تاریکیوں میں بھی اہلِ دل کو راستہ دکھاتا رہے گا۔
“انوار القرآن” اسی ذوق کی آئینہ دار ہے
علامہ جوادی کی زندگی کو اگر چند لفظوں میں بیان کیا جائے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ علم کو صرف حاصل کرنے والے نہیں بلکہ اسے جینے والے انسان تھے۔
ان کے یہاں علم کتابوں کی حد تک محدود نہ تھا بلکہ فکر، کردار اور اندازِ زندگی میں پوری طرح رچا بسا تھا۔
انہوں نے قرآن کو محض تلاوت کی حد تک نہیں رکھا بلکہ اسے سمجھا، اس کی گہرائیوں میں اترے، پھر اسے اس انداز میں بیان کیا کہ عام آدمی بھی اس سے مانوس ہو جائے۔ ان کی تفسیر “انوار القرآن” اسی ذوق کی آئینہ دار ہے،
جس میں انہوں نے قرآن کے انوار کو نہایت سادہ، دلنشین اور رواں انداز میں پیش کیا، یوں کہ قاری کو نہ اجنبیت محسوس ہوتی ہے اور نہ کسی قسم کی دشواری۔ ان کی تحریر پڑھتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے کوئی مخلص استاد قدم بہ قدم ساتھ چل رہا ہو اور ہر پیچیدہ نکتہ خود کھول کر سمجھا رہا ہو۔
مطالعۂ قرآن اور اصول و فروع
اسی ذوق کی جھلک مطالعۂ قرآن اور اصول و فروع جیسی کتب میں بھی نمایاں نظر آتی ہے، جہاں انہوں نے دین کے بنیادی تصورات کو اس انداز سے واضح کیا کہ مشکل مباحث بھی روزمرہ کی زبان میں ڈھل کر آسان ہو گئے۔
ان کے یہاں علمی گہرائی اور سادگی ایک ساتھ چلتی ہیں—نہ گہرائی کم ہوتی ہے اور نہ بیان میں پیچیدگی آتی ہے۔ یہی وہ امتیاز تھا جس نے انہیں عام اہلِ علم سے ممتاز کر دیا۔
احادیث اور معارفِ اہل بیتؑ کے میدان میں بھی ان کا قلم برابر متحرک اور بیدار رہا
احادیث اور معارفِ اہل بیتؑ کے میدان میں بھی ان کا قلم برابر متحرک اور بیدار رہا۔ احادیث قدسیہ کی تالیف و ترجمہ ہو، یا صحیفۂ سجادیہ اور نہج البلاغہ کی شرح و ترجمانی—
ہر جگہ انہوں نے اسی اصول کو ملحوظ رکھا کہ مفہوم کی گہرائی بھی باقی رہے اور بیان کی سادگی بھی قائم رہے۔ وہ نہ تو معنی کو سطحی بناتے تھے اور نہ بیان کو بوجھل ہونے دیتے تھے۔
مفاتیح الجنان کا ترجمہ ہو یا اسرار آل محمد جیسے دقیق اور علمی متون کی توضیح، ہر جگہ ان کا انداز ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی مہربان رہبر ایک دشوار گزار راستے میں ہاتھ تھام کر ساتھ چل رہا ہو، ٹھوکر سے بچاتا ہوا اور منزل تک پہنچانے کی فکر میں مگن۔
ان کی نگاہ میں دین مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں
عقائد اور تاریخ کے موضوعات میں علامہ جوادی کی وسعتِ نظر کا اندازہ ان علمی تراجم اور تحقیقی کاوشوں سے بخوبی ہوتا ہے جو انہوں نے نہایت ذمہ داری اور فکری دیانت کے ساتھ انجام دیے۔
تشیع اور اسلام ہو یا فدک (تاریخ کی روشنی میں)، اسلامی بینک ہو یا ہمارے اقتصادیات—ان سب موضوعات پر کام کرتے ہوئے انہوں نے یہ واضح کر دیا کہ دین محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے،
جو انسان کی فردی زندگی سے لے کر اجتماعی اور معاشی نظام تک ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ ان کی نگاہ میں دین مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ بازار، معاشرہ اور انسانی تعلقات سب اس کے دائرے میں آتے ہیں۔
اسی طرح نص و اجتہاد، مکاتبِ خلافت و امامت کے امتیازی نشانات اور خطائے اجتہادی کی کرشمہ سازیاں جیسے دقیق اور حساس موضوعات پر ان کا قلم جس انداز سے چلتا ہے، وہ ایک سنجیدہ محقق اور صاحبِ بصیرت عالم کی پہچان ہے۔
وہ نہ جذبات کی رو میں بہتے ہیں اور نہ کسی تعصب کا شکار ہوتے ہیں، بلکہ دلیل، توازن اور تحقیق کے ساتھ بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ان کی تحریر میں نہ تلخی ہے نہ اشتعال، بلکہ ایک ایسا وقار اور متانت ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
ان کا انداز یہ تھا کہ وہ اختلافی مسائل کو بھی اس طرح پیش کرتے کہ حقیقت واضح ہو جائے مگر دلوں میں دوری پیدا نہ ہو۔ وہ بحث کو الجھاتے نہیں تھے بلکہ سلجھاتے تھے، اور یہی ان کی علمی عظمت کا ایک نمایاں پہلو ہے۔
ان کی نگارشات میں ایک ترتیب بھی ہے، تسلسل بھی اور ایک فکری ربط بھی، جس کی وجہ سے قاری قدم بہ قدم آگے بڑھتا ہے اور ہر مرحلے پر ایک نئی بصیرت حاصل کرتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف مترجم نہیں بلکہ ایک رہنما ہیں، جو تاریخ اور عقائد کے پیچیدہ راستوں میں قاری کا ہاتھ تھام کر اسے حقیقت تک پہنچاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کا علمی سرمایہ آج بھی محض معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ فکر کی تربیت کا ذریعہ ہے، جو پڑھنے والے کو نہ صرف علم دیتا ہے بلکہ سوچنے کا سلیقہ بھی عطا کرتا ہے۔
نقوشِ عصمت
ان کی تصانیف میں صاف محسوس ہوتا ہے کہ وہ محض ایک خطیب یا مترجم نہ تھے بلکہ ایک ہمہ جہت عالم تھے، جن کی نگاہ دین کے ہر گوشے پر محیط تھی۔
نقوشِ عصمت میں انہوں نے اہل بیتؑ کے پاکیزہ کردار کو ایسے انداز میں پیش کیا کہ قاری کے دل میں محبت اور معرفت دونوں پیدا ہوں، جبکہ ذکر و فکر میں عبادت کی روح اور انسان کے باطن کی اصلاح کا پہلو اجاگر کیا۔
اصولِ علم الحدیث اور علم رجال جیسی کتب میں ان کا انداز ایک محقق کا ہے، جہاں وہ روایت اور درایت دونوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں، اور قاری کو یہ سکھاتے ہیں کہ دین کو سمجھنے کے لیے محض جذبات نہیں بلکہ اصول و معیار بھی ضروری ہیں۔
اجتہاد و تقلید اور اسلام کا مالیاتی نظام جیسے موضوعات پر ان کی تحریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ دین کو زمانے کے تقاضوں سے جوڑ کر دیکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمان اپنی عملی زندگی میں بھی دین کی رہنمائی حاصل کریں۔
اسی تسلسل میں نماز (قرآن و سنت کی روشنی میں)، پردہ (قرآن و سنت کی روشنی میں)، عورت اور شریعت اور پاکیزہ معاشرہ جیسی کتب میں انہوں نے معاشرتی زندگی کے اہم پہلوؤں کو نہایت سادہ اور مدلل انداز میں بیان کیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ دین محض کتابوں تک محدود نہ رہے
بلکہ گھروں، بازاروں اور معاشرتی تعلقات میں بھی اپنی روشنی بکھیرے۔ وہ دین کو ایک زندہ حقیقت کے طور پر پیش کرتے تھے، جسے انسان اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کر سکے اور اس کے مطابق خود کو ڈھال سکے۔
کربلا اور اہل بیتؑ سے ان کی گہری وابستگی ان کی تحریروں اور تقاریر دونوں میں پوری طرح جھلکتی ہے
کربلا اور اہل بیتؑ سے ان کی گہری وابستگی ان کی تحریروں اور تقاریر دونوں میں پوری طرح جھلکتی ہے۔
کربلا اور قمر بنی ہاشم جیسی کتب میں وہ صرف تاریخ بیان نہیں کرتے بلکہ اس تاریخ کو احساس میں بدل دیتے ہیں۔ اعمالِ ماہ رمضان اور اعمالِ روز عاشوراء میں وہ عبادت کو محض رسم نہیں رہنے دیتے بلکہ اسے روحانی کیفیت میں ڈھال دیتے ہیں۔
ان کے یہاں واقعات صرف سننے کی چیز نہیں بلکہ جینے کی دعوت بن جاتے ہیں۔ ان کی مجالس اسی ذوق اور اسی تاثیر کا عملی نمونہ تھیں۔ بعد میں جب یہ مجالس محافل و مجالس، عرفانِ رسالت، اسلام دین عقیدہ و عمل اور بضعۃ الرسول جیسے مجموعوں کی صورت میں مرتب ہوئیں تو محسوس ہوا
کہ ان کی آواز کاغذ پر بھی زندہ ہے۔ اسی طرح کربلا شناسی، حسین منی، انا من حسین اور خلق عظیم جیسے خطابات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان کی گفتگو محض سماعت تک محدود نہیں رہتی تھی بلکہ دل کی گہرائیوں میں اتر کر فکر کو بیدار کرتی تھی۔
یوں ان کی تحریریں اور تقاریر دونوں ایک ہی پیغام دیتی نظر آتی ہیں—دین کو سمجھو، اسے جیو، اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لو۔ یہی وہ تسلسل ہے جو ان کے علمی کام کو محض معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ ایک زندہ تحریک بنا دیتا ہے، جو آج بھی دلوں کو متاثر کرتی ہے اور راہیں دکھاتی ہے۔
ان کے اشعار کے مجموعے—سلامِ کلیم، کلامِ کلیم، پیامِ کلیم اور بیاضِ کلیم—اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ ان کے اندر صرف ایک عالم کا ذہن ہی نہیں بلکہ ایک حساس دل بھی دھڑکتا تھا۔
وہ علم کے ساتھ جذبہ بھی رکھتے تھے اور فکر کے ساتھ احساس بھی۔ ان کے ہاں شعر کہنا محض ادبی مشق نہ تھی بلکہ دل کی کیفیت کا اظہار تھا، ایک ایسی داخلی سچائی جو لفظوں کا لباس پہن کر سامنے آتی تھی۔
ان کے اشعار میں اہل بیتؑ کی محبت موجزن نظر آتی ہے
ان کے کلام میں درد بھی ہے اور شعور بھی، محبت بھی ہے اور مقصد بھی۔ وہ محض جذبات کو ابھارتے نہیں بلکہ انہیں ایک سمت دیتے ہیں۔ کبھی ان کے اشعار میں اہل بیتؑ کی محبت موجزن نظر آتی ہے،
کبھی انسان کے باطن کی اصلاح کی دعوت، اور کبھی ایک خاموش نصیحت جو دل کے کسی گوشے میں جا کر ٹھہر جاتی ہے۔ ان کی شاعری میں تصنع نہیں بلکہ سادگی ہے، اور یہی سادگی اسے دل کے قریب لے آتی ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ اپنے اشعار کے ذریعے بھی وہی کام انجام دے رہے ہیں جو اپنی نثر اور تقریر میں کرتے تھے—یعنی دل کو بیدار کرنا، فکر کو جگانا اور انسان کو اس کے اصل مقام کی طرف متوجہ کرنا۔
ان کے یہ مجموعے محض اشعار کا ذخیرہ نہیں بلکہ ایک احساسِ حیات ہیں، جو پڑھنے والے کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں اور خاموشی سے ایک پیغام دل میں اتار دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں صرف پڑھی نہیں جاتیں بلکہ سمجھ لی جاتی ہیں، اور صرف سمجھ میں نہیں آتیں بلکہ دل میں اتر جاتی ہیں اور وہاں ٹھہر بھی جاتی ہیں۔ قاری جب ان کے الفاظ سے گزرتا ہے تو اسے یوں محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کسی بوجھل علمی متن سے گزر رہا ہے،
بلکہ جیسے کوئی رہنمائی کرنے والی روشنی اس کے ساتھ ساتھ چل رہی ہو۔ ان کا ہر لفظ محض معلومات فراہم نہیں کرتا بلکہ دل و دماغ کو ایک نئی سمت دیتا ہے، سوچ کو سنوارتا ہے اور احساس کو جگاتا ہے۔
ان کے یہاں علم، خشک اصطلاحات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت بن کر سامنے آتا ہے۔
وہ پیچیدہ مسائل کو بھی اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ قاری پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا، بلکہ ایک اطمینان سا پیدا ہوتا ہے کہ بات سمجھ میں آ گئی ہے اور دل نے اسے قبول بھی کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں وقتی نہیں رہتیں بلکہ دیرپا اثر چھوڑتی ہیں، اور قاری بار بار ان کی طرف رجوع کرتا ہے۔
یہ وصف کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے کہ وہ علم کو اس طرح پیش کریں کہ وہ ذہن کے ساتھ دل کو بھی متاثر کرے۔ علامہ جوادی کو یہی امتیاز حاصل تھا، اور یہی ان کے علمی کام کا وہ حسن ہے جس نے اسے دوام بخشا، اسے زندہ رکھا اور اسے آنے والی نسلوں کے لیے بھی قابلِ استفادہ بنا دیا۔
منفرد اور دلنشین خطیب اور مقرر
علامہ سید ذیشان حیدر جوادی طاب ثراہ بحیثیت خطیب و مقرر ایک منفرد اور دلنشین اسلوب کے مالک تھے۔ ان کی خطابت محض الفاظ کی ترتیب نہ تھی بلکہ فکر کی ترجمانی اور دل کی آواز تھی۔
وہ جب منبر پر آتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے علم خود زبان پا گیا ہو۔ ان کی گفتگو میں نہ تصنع ہوتا تھا نہ بناوٹ، بلکہ ایک سادہ، رواں اور اثر انگیز انداز ہوتا تھا جو سننے والے کے دل میں اترتا چلا جاتا تھا۔
ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ مشکل ترین علمی اور فکری مسائل کو بھی اس انداز میں بیان کرتے کہ عام سامع بھی اسے بخوبی سمجھ لیتا۔ وہ فلسفیانہ بحثوں کو الجھاتے نہیں تھے بلکہ انہیں سلجھاتے تھے،
اور یہی وجہ تھی کہ ان کی مجالس میں ہر طبقے کے لوگ یکساں دلچسپی کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔ عالم بھی مطمئن ہوتا اور عام انسان بھی فیض یاب ہوتا۔ ان کے ہاں علم کی گہرائی بھی تھی اور بیان کی سادگی بھی—
اور یہی امتزاج ان کی خطابت کو ممتاز بناتا تھا۔ ان کی تقریر میں ایک خاص قسم کی ترتیب اور تسلسل ہوتا تھا۔ وہ موضوع کو اس طرح آغاز سے انجام تک لے کر چلتے کہ سامع کو کہیں بھی ذہنی رکاوٹ محسوس نہ ہو۔
ہر بات اپنے مقام پر، ہر دلیل اپنے محل پر اور ہر نتیجہ اپنے وقت پر سامنے آتا تھا۔ وہ نہ جذبات سے خالی تھے اور نہ جذبات میں بہنے والے، بلکہ اعتدال کے ساتھ دل اور دماغ دونوں کو ساتھ لے کر چلتے تھے۔
ان کی آواز میں نرمی تھی مگر اثر میں گہرائی، ان کے لہجے میں شفقت تھی مگر بات میں وزن۔ وہ سامع کو جھنجھوڑتے بھی تھے مگر محبت کے ساتھ، اور سمجھاتے بھی تھے مگر عزت کے ساتھ۔ یہی وجہ تھی
کہ ان کی مجالس صرف سنی نہیں جاتیں بلکہ محسوس کی جاتی تھیں۔ ان کی گفتگو سننے کے بعد انسان کے اندر ایک خاموش تبدیلی کا احساس پیدا ہوتا تھا، جیسے دل کے کسی گوشے میں روشنی جل گئی ہو۔
کربلا اور اہل بیتؑ کے ذکر میں ان کی خطابت ایک خاص کیفیت اختیار کر لیتی تھی۔ وہ واقعات بیان کرتے ہوئے محض تاریخ نہیں سناتے تھے بلکہ سامع کو اس فضا میں لے جاتے تھے
جہاں درد بھی محسوس ہوتا ہے اور پیغام بھی سمجھ میں آتا ہے۔ ان کی مجلس میں آنسو بھی ہوتے تھے اور شعور بھی، جذبات بھی ہوتے تھے اور فکر بھی۔
مختصر یہ کہ وہ ایک ایسے خطیب تھے جن کی زبان علم کی ترجمان، دل کی آئینہ دار اور کردار کی عکاس تھی۔ ان کی خطابت نے نہ صرف لوگوں کو متاثر کیا بلکہ ان کی فکر کو بدلا، ان کے زاویۂ نظر کو سنوارا اور انہیں دین کے قریب کیا۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی آواز آج خاموش ہونے کے باوجود ان کے الفاظ اور مجالس کی صورت میں آج بھی سنائی دیتی ہے اور دلوں کو اسی طرح متاثر کرتی ہے جیسے پہلے کیا کرتی تھی۔
عملی زندگی میں بھی وہ اسی جوش اور سنجیدگی کے ساتھ مصروفِ عمل رہے جس کا عکس ان کی تحریروں میں نظر آتا ہے۔
انہوں نے دین کو محض درس و تدریس تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک زندہ نظام کے طور پر معاشرے میں نافذ کرنے کی کوشش کی۔
امامت و رہنمائی کے فرائض انجام دیتے ہوئے انہوں نے لوگوں کے دلوں کو جوڑا، ان کے مسائل کو سمجھا اور انہیں دین کے قریب لانے کی عملی تدابیر اختیار کیں۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ ایک ایسا ماحول قائم ہو جہاں دین صرف سنا نہ جائے بلکہ جیا بھی جائے۔
انہوں نے فلاحی کاموں کو بھی باقاعدہ نظم کے ساتھ آگے بڑھایا۔ اہلِ ثروت کو ذمہ داری کا احساس دلایا اور مستحقین تک ان کے حقوق پہنچانے کا ایک منظم طریقہ قائم کیا۔ ضرورت مندوں کی مدد، طلبہ کی سرپرستی اور دینی تعلیم کے فروغ کے لیے
جو اقدامات انہوں نے کیے، وہ محض وقتی خدمات نہ تھیں بلکہ ایک مستقل نظام کی صورت اختیار کر گئے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے دینی تعلیم کے ایسے مراکز قائم کیے جہاں سے علم حاصل کرنے والے نوجوان آگے بڑھ کر دین کی خدمت میں مصروف ہوئے، اور یوں ان کی کاوش ایک تسلسل میں بدل گئی۔
تبلیغِ دین کے میدان میں بھی ان کی سرگرمیاں وسیع اور ہمہ گیر تھیں۔ وہ مختلف خطوں میں جا کر لوگوں تک دین کا پیغام پہنچاتے، ان کے سوالات کے جواب دیتے اور ان کے ذہنوں میں پیدا ہونے والی الجھنوں کو دور کرتے۔
ان کی گفتگو میں ایسی تاثیر تھی کہ سننے والے صرف متاثر ہی نہیں ہوتے تھے بلکہ اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کا ارادہ بھی کرتے تھے۔ انہوں نے ایک ایسے علمی و فکری مرکز کی بنیاد بھی رکھی جہاں سے دین کو سمجھنے اور سمجھانے کا ایک منظم سلسلہ جاری رہا، اور یہ مرکز آنے والوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتا رہا۔
ان کی زندگی کا ہر پہلو اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ وہ صرف بات کرنے والے نہیں بلکہ عمل کرنے والے انسان تھے۔ انہوں نے جو کہا، اسے خود جیا اور دوسروں کو بھی اسی کی دعوت دی۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت میں ایک عجیب سی تاثیر پیدا ہو گئی تھی جو الفاظ سے بڑھ کر عمل کے ذریعے ظاہر ہوتی تھی۔
آج جب ہم ان کی زندگی اور ان کے علمی آثار پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ وہ محض ایک مصنف یا مقرر نہ تھے بلکہ ایک مکمل مکتب تھے۔ ان کی ہر کتاب ایک سمت متعین کرتی ہے،
ہر تحریر ایک چراغ روشن کرتی ہے اور ہر جملہ فکر کی ایک نئی راہ کھولتا ہے۔ ان کا سرمایۂ علم آج بھی زندہ ہے، سانس لے رہا ہے اور آنے والی نسلوں کو خاموشی کے ساتھ یہ دعوت دے رہا ہے کہ وہ اس روشنی سے اپنا راستہ تلاش کریں اور اسے آگے بڑھائیں۔
ایسے لوگ دنیا سے رخصت ہو کر بھی حقیقت میں رخصت نہیں ہوتے۔ ان کے جانے سے صرف جسم نگاہوں سے اوجھل ہوتا ہے، مگر ان کی فکر، ان کے الفاظ اور ان کی تاثیر زمانے کے ساتھ چلتی رہتی ہے۔
ان کے لفظ مٹتے نہیں، ان کے آثار دھندلا نہیں جاتے اور ان کی محنت وقت کی گرد میں کھو نہیں جاتی، بلکہ گزرتے دنوں کے ساتھ اور زیادہ نمایاں ہوتی چلی جاتی ہے۔ وہ اپنے بعد ایک ایسی روشنی چھوڑ جاتے ہیں جو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے، ایک ایسی صدا چھوڑ جاتے ہیں جو خاموشی میں بھی سنائی دیتی ہے۔
وہ ایک فقیہ تھے
علامہ سید ذیشان حیدر جوادی طاب ثراہ کی شخصیت ایک ایسی جامع اور ہمہ جہت پیکر کی مانند تھی جس میں علم، فکر اور عمل ایک دوسرے سے جدا نظر نہیں آتے تھے بلکہ باہم مربوط اور ہم آہنگ دکھائی دیتے تھے۔
وہ ایک فقیہ تھے تو محض احکام کے بیان تک محدود نہ تھے بلکہ ان احکام کی روح اور حکمت کو بھی سمجھتے اور سمجھاتے تھے۔ ان کی فقاہت میں وسعت بھی تھی اور زندگی سے ربط بھی، اسی لیے وہ مسائل کو کتابوں کے صفحات سے نکال کر عملی زندگی کے میدان میں لے آتے تھے۔
وہ ایک مفکر تھے تو محض نظری بحثوں میں الجھنے والے نہیں بلکہ ایسے صاحبِ بصیرت انسان تھے جو حالات کا گہرا تجزیہ کرتے، زمانے کے تقاضوں کو سمجھتے اور دین کی روشنی میں ان کا حل پیش کرتے تھے۔
ان کے اندر تدبر کی وہ کیفیت تھی جو کسی بھی مسئلے کے ظاہر پر قناعت نہیں کرتی بلکہ اس کی تہہ تک پہنچنے کی جستجو رکھتی ہے، اور یہی وصف ان کی گفتگو اور تحریر دونوں میں نمایاں نظر آتا تھا۔
اسی کے ساتھ وہ ایک مدبر، منتظم اور مدیر بھی تھے، جنہوں نے علم کو محض فرد تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک اجتماعی قوت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دینی اور فلاحی کاموں کو باقاعدہ نظم کے ساتھ آگے بڑھایا، ادارے قائم کیے،
نظام وضع کیے اور ایسے افراد تیار کیے جو ان کے بعد بھی اس مشن کو جاری رکھ سکیں۔ ان کی تنظیمی صلاحیت میں سنجیدگی بھی تھی
اور دور اندیشی بھی، وہ کام کو صرف شروع نہیں کرتے تھے بلکہ اسے استحکام بھی عطا کرتے تھے۔ ان کا قلم بھی اسی طرح مضبوط اور متوازن تھا—
وہ لکھتے تو دلیل کے ساتھ، ترتیب کے ساتھ اور ایک واضح مقصد کے ساتھ لکھتے تھے۔ ان کی تحریر میں نہ الجھاؤ ہوتا تھا نہ بے ربطی، بلکہ ایک ایسا تسلسل ہوتا تھا جو قاری کو ابتدا سے انتہا تک اپنے ساتھ لے کر چلتا تھا۔
ان کی شخصیت کا ایک دلکش پہلو یہ بھی تھا کہ وہ ایک حساس شاعر بھی تھے اور ایک مؤثر خطیب بھی۔
ان کے دل میں احساس کی حرارت تھی اور زبان میں بیان کی تاثیر۔ وہ جب شعر کہتے تو اس میں محبت بھی ہوتی، درد بھی اور ایک خاموش پیغام بھی، اور جب منبر پر گفتگو کرتے تو ان کی بات صرف سنی نہیں جاتی بلکہ محسوس کی جاتی تھی۔
ان کے الفاظ دل پر دستک دیتے تھے اور فکر کو بیدار کرتے تھے۔ یوں ان کی ذات علم و فکر کی گہرائی، نظم و تدبیر کی پختگی، بیان کی تاثیر اور احساس کی لطافت کا ایک ایسا حسین امتزاج تھی جو کم ہی شخصیات کو نصیب ہوتا ہے، اور یہی جامعیت انہیں اپنے عہد کی ایک نمایاں، باوقار اور یادگار ہستی بنا دیتی ہے۔
ان کا علم آج بھی زندہ ہے
آپ اُن ہستیوں میں سے ہیں۔ جو بظاہر ہم سے جدا ہو گئے، مگر ان کا علم آج بھی زندہ ہے، سانس لے رہا ہے اور دلوں کو تازگی بخش رہا ہے۔ ان کی تحریریں آج بھی قاری کا ہاتھ تھامتی ہیں، ان کی تقاریر آج بھی سننے والے کے دل میں اترتی ہیں، اور ان کی یاد آج بھی ایک چراغ کی طرح جلتی ہے جو بجھنے کا نام نہیں لیتی۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ کہیں گئے نہیں، بلکہ اپنے الفاظ میں سمٹ کر ہمارے درمیان موجود ہیں۔ جب بھی ان کی کسی تحریر کو کھولا جاتا ہے یا ان کی کسی مجلس کو سنا جاتا ہے تو دل یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ آواز ابھی باقی ہے، یہ روشنی ابھی زندہ ہے۔
ایسے لوگ وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے بلکہ وقت کے ساتھ اور زیادہ واضح ہوتے چلے جاتے ہیں، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال بن کر رہتے ہیں[2]۔
حوالہ جات
- ↑ تحریر: سیدکرامت حسین شعور جعفری
- ↑ "ایک چراغ، ایک عہد" علامہ سید ذیشان حیدر جوادی طاب ثراہ- شائع شدہ از:15اپریل 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 اپریل 2026ء