مندرجات کا رخ کریں

عالمی انجمنِ اتحاد برائے تقریبِ حقوق دانانِ مسلمین

ویکی‌وحدت سے

عالمی انجمنِ اتحاد برائے تقریبِ حقوق دانانِ مسلمینعدل کا فروغ، امن و دوستی کا قیام، انسانیت کی سربلندی، دنیا بھر کے تمام مستضعفین کا تحفظ، تمام انسانوں کو فائدہ پہنچانا، تمام مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اخوت کا قیام، ظلم، زیادتی اور استکبار کا مقابلہ، اور مسلمانوں کے درمیان ہر قسم کے امتیاز، تفرقہ اور انتشار سے دوری—یہ سب ہمیشہ سے عالمِ اسلام کی ممتاز شخصیات اور مفکرین کے اہم مقاصد میں شامل رہے ہیں، اور یہ دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کے بلند اور مقدس اہداف میں سے ہیں۔ یہ مقدس ہدف قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مضبوط اور گہری بنیادیں رکھتا ہے، اور امتِ اسلامی کی بھلائی بھی اسی میں ہے، کیونکہ جب امت تفرقہ اور اختلاف سے دور ہو تو غیر ملکی طاقتوں کے لیے اسلامی ممالک پر تسلط قائم کرنا ممکن نہیں رہتا۔

اسلام کی تاریخ کے اس مرحلے میں، جب مسلم اقوام نے گہری اسلامی بصیرت کی بدولت مستکبر اور ظالم قوتوں کے وجود کو پہچان لیا ہے، ضروری ہے کہ ان استکباری طاقتوں کی تفرقہ انگیز سازشوں کو ناکام بنانے، اسلام اور مسلمانوں کی عظمت کو بحال کرنے، اسلامی تہذیب کو ازسرِ نو زندہ کرنے، اور وحدتِ کلمہ کے ذریعے اس الٰہی مقصدِ عظیم کی جانب پیش قدمی کرنے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے۔ اس اہم مقصد کے حصول کے ذرائع میں سے ایک، امتِ اسلامی کے اندر رابطے کے نظام کو قائم کرنا، وسعت دینا اور گہرا کرنا ہے۔

عالمِ اسلام میں اُن ممتاز مسلمان فقہاء اور ماہرینِ قانون کے درمیان، جو تقریبِ مذاہب کی فکر رکھتے ہیں، باہمی رابطہ قائم کرنا، اور ایک اسلامی نمونہ تیار کرکے اسے منظور کرنا، عالمِ اسلام کے سماجی سرمائے کا ایک اہم حصہ بن سکتا ہے، جو امتِ واحدہ کی تشکیل اور نئی اسلامی تہذیب کے قیام کی راہ ہموار کرے، نیز دنیا بھر کے مسلمانوں کے درمیان قانونی مسائل اور اختلافات کے حل کے وسائل فراہم کرے، اور بین الاقوامی تنظیموں اور فورمز میں مسلمانوں کے مفادات اور حقوق کا دفاع ممکن بنائے۔

پہلا باب: عمومی احکام

پہلا شق

"اتحادِ عالمیِ تقریب، ہیئتِ حقوق دانانِ مسلمین" ایک عالمی مسلم ماہرینِ قانون کی انجمن ہے، جسے اس کے دستور میں "اتحاد" کہا جائے گا، اور اس کا رجحان اسلامی قانونی منہج پر مبنی ہوگا۔

اس اتحاد کا قیام، بانی ہیئت کی منظوری اور مجمعِ عالمیِ تقریب بین المذاہب الاسلامیہ کے سیکریٹری جنرل کی توثیق کے بعد عمل میں آئے گا۔

تبصرہ:یہ اتحاد ایک مستقل قانونی شخصیت کا حامل، غیر سرکاری اور غیر منافع بخش ادارہ ہوگا، اور اس کا انتظام بانی ہیئت اور اتحاد کی سربراہی کے تحت انجام پائے گا۔

دوسرا شق

اتحاد کا مرکزی اور مستقل دفتر تہران میں ہوگا، اور یہ دوسرے مقامات اور دنیا کے تمام ممالک میں اپنی شاخیں، نمائندگیاں یا تقریب پسند مسلم حقوق دانوں کی انجمنیں قائم کر سکتا ہے۔

تیسرا شق

اتحاد کی سرگرمیوں کی مدت غیر محدود ہوگی۔

دوسرا باب: مقاصد

چوتھا شق

اتحاد درج ذیل مقاصد کے حصول کے لیے اپنی سرگرمیاں انجام دے گا:

  • اسلامی حقوق کے میدان میں سرگرم اور دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں کے حقوق کے مدافع مسلمان حقیقی اور حقوقی اشخاص کی شناخت، ان کے درمیان رابطہ قائم کرنا، نیز ان کی مادی اور معنوی حمایت کرنا، اور مؤثر ہم آہنگی و وحدت پیدا کرنا۔
  • دنیا کے مختلف ممالک میں تقریب پسند مسلم حقوق دانوں کی انجمنوں کی مادی اور معنوی حمایت، تاکہ اسلامی حقوق کی ترویج اور مسلمانوں کے دفاع کے لیے ایک مؤثر نیٹ ورک قائم ہو۔
  • مسلمانوں کے درمیان اسلامِ محمدیِ اصیل صلی اللہ علیہ وسلم کی ترویج اور تقریب کے حصول کے لیے مسلم حقوق دانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا۔
  • مسلمانوں کی مزاحمت، اعتماد اور سماجی سرمائے کو مضبوط بنانے کے لیے پیشہ ورانہ اور تخصصی معاونت فراہم کرنا۔
  • دنیا کے کسی بھی خطے میں مسلمانوں اور مستضعفین کے حقوق کا دفاع کرنا۔
  • مظلوموں کی قانونی حمایت اور ظالموں کا مقابلہ کرنا۔
  • دنیا کے ممالک میں اسلامی حقوق کی ترویج اور نفاذ۔
  • اسلامی منہج کے ساتھ قانونی موضوعات کا مطالعہ اور تحقیق۔
  • قانونی شبہات کا اسلامی حقوق کی روشنی میں معتبر جواب فراہم کرنا۔
  • اسلامی حقوق کا دفاع کرنا۔
  • جدید اور نوپید قانونی مسائل کا اسلامی منہج کے ساتھ مؤثر قانونی جواب دینا۔
  • عدل و قسط، امتِ واحدہ، اور مسلمانوں کی آزادی کے حصول کے لیے ہر قسم کی قانونی سرگرمی یا اقدام انجام دینا۔

تیسرا باب: فرائض، اختیارات اور اقدامات

پانچواں شق

اتحاد اپنے مقاصد کے حصول کے لیے درج ذیل فرائض انجام دے گا:

  • اداروں، حقیقی اور حقوقی اشخاص، خصوصاً عالمی سطح پر معروف یا مؤثر شخصیات سے رابطہ قائم کرنا، تاکہ ممتاز مسلم حقوق دانوں کی شناخت کی جائے، ہم آہنگی پیدا ہو اور انہیں فعال بنایا جائے۔
  • دنیا میں متعلقہ تعلیمی و تحقیقی اداروں، تحقیقی مراکز، جامعات اور معروف تھنک ٹینکس کے ساتھ تعاون کرنا۔
  • مختلف سماجی طبقات اور متعلقہ شعبوں میں موجود مرتبط تصنیفات و مقالات کی تحقیق، تالیف اور اشاعت کرنا۔
  • قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر کانفرنسوں کا انعقاد کرنا۔
  • بین الاقوامی انعام/جائزہ تیار کرنا اور اس کا اجراء کرنا۔
  • منتخب تقریب پسندانہ/تقریبی علمی و فکری کاموں کا دنیا کی زندہ زبانوں میں ترجمہ کرنا۔
  • بین الاقوامی وحدت کانفرنس کے انعقاد میں تعاون کرنا اور وحدت کی سفارتی حکمتِ عملی کو نافذ کرنا۔
  • اسلامی حقوق کے میدان میں تقریب پسندانہ خطاب/بیانیے کے نمونے کی تدوین اور اشاعت کرنا۔
  • عالمی تنظیم برائے اسلامی حقوق کے لیے مناسب ڈھانچے کی تشکیل اور نقشہ سازی کرنا۔
  • اتحاد کے مقاصد کے دائرے میں آنے والا ہر امر یا معاملہ۔

چوتھا باب: ڈھانچے

چھٹا شق

اتحاد کے ڈھانچے درج ذیل ہیں:

  • بانی ہیئت؛
  • عمومی اسمبلی؛
  • بانی ہیئت اور اتحاد کا صدر۔

ساتواں شق : بانی ہیئت

بانی ہیئت کے اراکین درج ذیل افراد ہیں:

ایرانی بانی ہیئت

  • ابراہیم عزیزی؛
  • جناب فضل اللہ موسوی؛
  • قاسم شعبانی؛
  • محمود عباسی؛
  • جناب محمد حسن وحدتی شبیری؛
  • جناب صادق ہاشمی شہرو دی؛
  • شریعہ باقری؛
  • فیروز اصلانی؛
  • عثمان سالاری؛
  • محمد حسن صادقی مقدم؛
  • مرتضیٰ شہبازی نیا۔

غیر ایرانی بانی ہیئت

  • محی الدین ماہِر حمود (لبنان)؛
  • حسن شُبّر (عراق)؛
  • شیخ مصطفی ملص (لبنان)؛
  • کامل محمد الرفاعی (لبنان)؛
  • ڈاکٹر حافد عباس (انڈونیشیا)؛
  • ڈاکٹر عبدالعزیز ساشادینا (امریکہ)؛
  • مسعود شجرہ (انگلینڈ)؛
  • اسماعیل احمد (عراق)؛
  • دینا المولی۔

نوٹ 1: بانی ہیئت کے اراکین، صدرِ بانی ہیئت و اتحاد کی تجویز پر، اپنے یا باہر کے 5 سے 7 افراد کو اُن فرائض کی انجام دہی کے لیے منتخب کر سکتے ہیں جو ان کے سپرد کیے گئے ہوں، تاکہ وہ صدرِ بانی ہیئت و اتحاد کی نگرانی اور تقرری کے تحت اپنے فرائض انجام دیں۔

نوٹ 2: ساخت، فرائض کی تفصیل، اختیارات، اور تمام ضوابط، قواعد و دستورالعمل، بانی ہیئت و اتحاد کے صدر کی تجویز اور بانی ہیئت کی منظوری سے طے کیے جائیں گے۔

نوٹ 3: جناب ابراہیم عزیزی کو بانی ہیئت نے بانی ہیئت و اتحاد کا صدر منتخب کیا ہے۔

بانی ہیئت کے صدر، جو اتحاد اور عمومی اسمبلی کے بھی صدر ہیں، کا حکم مجمعِ جهانی برائے تقریبِ مذاہبِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل کی طرف سے جاری ہوگا۔

نوٹ 4: پالیسی سازی، منصوبہ بندی، پروگراموں کی منظوری، اور انسپکٹر یا انسپکٹروں کی تقرری، بانی ہیئت و اتحاد کے صدر کی تجویز اور بانی ہیئت کی منظوری سے ہوگی۔

نوٹ 5: بانی ہیئت اپنے بعض اختیارات بانی ہیئت و اتحاد کے صدر کو تفویض کر سکتی ہے۔

ساتواں شق : عمومی اسمبلی

عمومی اسمبلی کے اراکین 110 افراد پر مشتمل ہوں گے، جنہیں بانی ہیئت مقرر کرے گی، اور یہ اتحاد کے وژن، حکمتِ عملی اور طریقۂ کار کے بارے میں مشاورت اور رہنمائی میں حصہ لیں گے۔

نواں شق: سماج

اتحاد کا صدر مختلف ممالک میں **"مجتمعِ حقوق دانانِ مسلمین"** کی تشکیل کی پیروی کرے گا۔

دسواں شق: سرگرمی کا لائسنس

اتحاد، مجمعِ عالمیِ تقریب بین المذاہب اسلامی کے سیکریٹری جنرل کی طرف سے اساسنامہ منظور کیے جانے کی تاریخ سے قائم سمجھا جائے گا، اور وہ کسی بھی مرجع یا مقام سے کسی لائسنس یا اجازت کے بغیر، اور رجسٹریشن کی ضرورت کے بغیر، باقاعدہ طور پر اپنی سرگرمی انجام دے سکتا ہے۔

گیارہواں شق : دستور میں ترمیم

اساسنامے میں کوئی بھی تبدیلی بانی ہیئت و اتحاد کے صدر کی تجویز، عمومی اسمبلی کی منظوری، اور مجمعِ عالمیِ تقریب بین المذاہب اسلامی کے سیکریٹری جنرل کی توثیق سے کی جائے گی۔

یہ اساسنامے کا ابتدائی مسودہ، چار ابواب، گیارہ مواد، اور پانچ نوٹس پر مشتمل ہے، اور اسے ................. کو مجمعِ عالمیِ تقریب بین المذاہب اسلامی کے سیکریٹری جنرل نے منظور کیا۔

حوالہ جات