مندرجات کا رخ کریں

احمد عطیہ بحر

ویکی‌وحدت سے
احمد عطیہ بحر
پورا ناماحمد محمد عطیه بحر
ذاتی معلومات
پیدائش19498 ء
پیدائش کی جگہغزہ، فلسطین
وفات2023 ء
یوم وفات17 نوامبر
وفات کی جگہغزہ
مذہباسلام، اہل سنت
مناصباخوان المسلمین کے ساتھ تعاون، فلسطین کی قانون ساز کونسل کے پہلے نائب صدر، مدرس، امام جماعت اور خطیب

احمد عطیہ بحر 1949 ع میں فلسطین کے شہر غزہ میں پیدا ہوئے۔ انہیں 1989 ع میں صیہونی رژیم کی فوج نے دو سال کے لیے گرفتار کیا تھا۔ وہ فلسطین کی قانون ساز کونسل کے قائم مقام صدر تھے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے دوران 17 نومبر 2023 ع کو غزہ میں شہادت پائی۔

سوانح حیات

آپ 1949ء ع میں فلسطین کے شہر غزہ میں پیدا ہوئے۔ شادی کے بعد آپ کے ہاں تیرہ بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ آپ کے پاس عربی زبان میں پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ آپ نے قرآن مجید کے میدان میں مختلف سرگرمیاں انجام دیں، جن میں 1971-1974 ع کے دوران غزہ پٹی میں قرآن و سنت کا گھر قائم کرنا بھی شامل ہے۔

سرگرمیاں

ماضی کی سرگرمیاں

  • شیخ احمد یاسین کانفرنس کی تیاری کمیٹی کے صدر۔
  • 1971-1974 ع کے دوران فلسطین کی غزہ پٹی میں قرآن و سنت کے گھر کے بانیوں میں سے ایک۔
  • 1972-1976 ع کے دوران فلسطین کے الخلیل میں شریعت ہائی اسکول کے استاد۔
  • صوبہ الخلیل میں بیت عمر مسجد کے امام جماعت اور خطیب۔
  • 1363 ہجری میں اسلامی یونیورسٹی کے عملے کے نائب۔
  • 1985-2004 ع کے دوران غزہ پٹی میں اسلامی سوسائٹی کے سیکرٹری جنرل۔
  • 1381-138 ہجری کے دوران اسلامی یونیورسٹی کے آرٹس فیکلٹی کے تعلیمی نائب۔
  • اسلامی یونیورسٹی کے آرٹس فیکلٹی میں عربی زبان کے شعبے کے مدرس۔

موجودہ سرگرمیاں

  • فلسطین کی قانون ساز کونسل کے پہلے نائب صدر۔
  • فہرست کی اصلاح اور تبدیلی کے لیے فلسطین کی قانون ساز کونسل کے رکن۔
  • آپ 73988 ووٹ حاصل کر کے غزہ کے نمائندے کے طور پر منتخب ہوئے۔

شہادت

بالآخر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے دوران 17 نومبر 2023 ع کو غزہ میں شہادت پائی۔

ایران کی پارلیمنٹ کے صدر کا پیغام

محمد باقر قالیباف، اسلامی مشاورتی کونسل کے صدر نے اسماعیل ہنیہ، اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کے سیاسی دفتر کے صدر کے نام ایک پیغام جاری کرتے ہوئے فلسطین کی قانون ساز کونسل کے قائم مقام صدر، مجاہد اور پرہیزگار حاجی احمد بحر کی صیہونی رژیم کے سفاکوں کے ہاتھوں شہادت پر پوری اسلامی امت کو تعزیت اور تسلیت پیش کی اور لکھا: نسل پرست اور عارضی صیہونی رژیم نے اس جرم کا ارتکاب کر کے اپنی گندی فطرت کا ہی اظہار کیا ہے اور دنیا کے آزاد لوگوں کو فلسطین کی قوم کی مظلومیت کا زیادہ سے زیادہ احساس دلایا ہے، اور ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور قواعد کی پابندی کا ذرہ برابر بھی خیال نہیں رکھتا۔ انہوں نے مزید کہا: بے شک فلسطین کے شہداء کا خون مظلوم اور مزاحمتی فلسطینی قوم کے عزم کو اس غاصب رژیم کے جارحانہ رویے کے مقابلے میں اور اپنی سرزمین کو قابضوں کے وجود سے پاک کر کے آزادی کے لیے جدوجہد میں مزید مضبوط بنائے گا۔ میں اللہ تعالیٰ سے مرحوم کے اہل خانہ کے لیے صبر جمیل اور فلسطین کی قوم کے لیے صیہونی دشمن پر استقامت اور فتح کی دعا کرتا ہوں[1]۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. دیکھیں: روزنامہ دنیا اقتصاد(زبان فارسی) درج شده تاریخ: 18/نومبر/ 2023ء اخذشده تاریخ: 21/ مئی/2026ء۔

ماخذ

  • دیکھیں: ویکی اخوان میں احمد محمد عطیہ بحر کا مدخل؛ ikhwanwiki.com۔