"سید محمد حسین طباطبائی" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:سید محمد حسین طباطبائی کو سید محمد حسین طباطبائی کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک ہی صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا) | |||
| سطر 210: | سطر 210: | ||
== متعلقہ تلاشیں == | == متعلقہ تلاشیں == | ||
* [[حضرت فاطمہ | *[[حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا|فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا]] | ||
* [[حوزہ علمیہ قم]] | * [[حوزہ علمیہ قم]] | ||
* [[مرتضی مطهری]] | * [[مرتضی مطهری]] | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 14:00، 1 فروری 2026ء
| سید محمد حسین طباطبائی | |
|---|---|
| پورا نام | سید محمدحسین طباطبایی |
| دوسرے نام | علامه طباطبایی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1281 ش، 1903 ء، 1319 ق |
| پیدائش کی جگہ | ایران، صوبه تبریز، شادباد مشایخ |
| وفات | 1360 ش، 1982 ء، 1401 ق |
| یوم وفات | 24 آبان |
| وفات کی جگہ | قم |
| اساتذہ |
|
| شاگرد | حسن حسن زاده آملی، عبدالله جوادی آملی، ناصر مکارم شیرازی، محمد تقی مصباح یزدی، جعفر سبحانی، غلامحسین ابراهیمی دینانی |
| مذہب | اسلام، شیعه |
| اثرات |
|
| مناصب |
|
سید محمد حسین طباطبائی، جو علامہ طباطبائی کے نام سے مشہور ہیں، ایک ایرانی مفسر، فلسفی، اصولی، فقیہ، عارف اور اسلامی مفکر تھے۔ وہ حوزۂ علمیہ قم کے اساتذہ میں شمار ہوتے تھے اور معاصر دور میں ایران کے فکری اور مذہبی ماحول میں شیعہ علما کی نمایاں اور اثرانداز شخصیات میں سے تھے۔
وہ قرآنِ مجید کی تفسیر پر مبنی شہرۂ آفاق کتاب المیزان فی تفسیر القرآن کے مصنف تھے، نیز فلسفے کے میدان میں بدایة الحکمة، نهایة الحکمة اور اصولِ فلسفہ اور روشِ رئیلزم جیسی اہم کتابیں بھی انہوں نے تحریر کیں۔
علامہ طباطبائی نے حوزۂ علمیہ قم میں فقہ اور اصول کی تدریس کے بجائے تفسیرِ قرآن اور فلسفہ کے دروس قائم کیے، اور ان کی اس کاوش کے نتیجے میں حوزۂ قم میں تفسیرِ قرآن کو خاص فروغ حاصل ہوا۔ ان کا تفسیری طریقہ قرآن کی تفسیر قرآن کے ذریعے کرنا تھا۔
سوانحِ حیات
سید محمد حسین طباطبائی 1902ء میں تبریز میں پیدا ہوئے۔ پانچ سال کی عمر میں والدہ اور نو سال کی عمر میں والد کا انتقال ہو گیا۔ والد کے وصی نے انہیں اور ان کے واحد بھائی محمد حسن کو تعلیم کے لیے مکتب بھیجا۔ انہوں نے 1911ء سے 1917ء تک ابتدائی تعلیم حاصل کی، جس میں قرآن اور فارسی ادب کی کتابیں شامل تھیں۔ اس کے بعد 1918ء سے 1925ء تک دینی علوم کی تحصیل میں مشغول رہے اور اپنے بیان کے مطابق فلسفہ اور عرفان کے علاوہ تمام متداول درسی متون کی تعلیم مکمل کی۔
تعلیم
سید محمد حسین نے قرآن کی تعلیم کے بعد، جو اس دور کے تعلیمی نظام میں سب سے پہلے دی جاتی تھی، تقریباً چھ سال کے عرصے میں گلستان، بوستان اور اسی نوعیت کی دیگر ادبی کتابیں پڑھیں۔ ادبیات کے ساتھ ساتھ انہوں نے مرزا علینقی خطاط کی نگرانی میں خوشنویسی کے فنون بھی سیکھے۔ چونکہ ابتدائی تعلیم ان کے فطری ذوق، گہری دلچسپی اور علمی شوق کو پوری طرح سیراب نہ کر سکی، اس لیے انہوں نے مدرسۂ طالبیہ تبریز میں داخلہ لیا۔
وہاں انہوں نے عربی ادب، نقلی علوم، فقہ اور اصولِ فقہ کی تعلیم حاصل کی اور 1918ء سے 1925ء تک مختلف اسلامی علوم کے سیکھنے میں مشغول رہے۔ علامہ طباطبائی نے اپنے دورِ تعلیم کے بارے میں خود تحریر کیا ہے: «تعلیم کے ابتدائی زمانے میں، جب میں صرف و نحو کی تحصیل میں مشغول تھا، مجھے پڑھائی کو جاری رکھنے میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی، اسی وجہ سے جو کچھ پڑھتا تھا اسے سمجھ نہیں پاتا تھا اور اسی حالت میں چار سال گزر گئے۔ اس کے بعد اچانک خدا کی خاص عنایت مجھ پر ہوئی اور میری حالت بدل گئی، اور میں نے اپنے اندر کمال کے حصول کے لیے ایک خاص قسم کی وارفتگی اور بے قراری محسوس کی۔ یہاں تک کہ اسی دن سے لے کر تعلیم کے اختتام تک، جو تقریباً سترہ سال پر محیط تھا، میں نے کبھی تعلیم اور تفکر میں تھکن یا دل شکستگی محسوس نہیں کی۔
میں نے دنیا کی خوبصورتی اور بدصورتی کو بھلا دیا اور زندگی کے تلخ و شیریں حالات کو یکساں سمجھنے لگا۔ اہلِ علم کے علاوہ دیگر لوگوں سے میل جول کو بالکل ترک کر دیا۔ کھانے، سونے اور زندگی کی دوسری ضروریات میں صرف حدِ ضرورت پر اکتفا کیا اور باقی وقت مطالعے میں صرف کرتا رہا۔ اکثر ایسا ہوتا، خاص طور پر بہار اور گرمیوں میں، کہ میں رات بھر مطالعہ کرتا رہتا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا۔ ہمیشہ اگلے دن کا سبق ایک رات پہلے پڑھ لیتا تھا، اور اگر کوئی مشکل پیش آتی تو ہر ممکن کوشش سے اسے حل کر لیتا۔
جب درس میں حاضر ہوتا تو استاد کی باتیں پہلے ہی میرے لیے واضح ہوتی تھیں، اور میں نے کبھی استاد کے سامنے سبق کی کسی الجھن یا غلطی کو پیش نہیں کیا۔»
نجف کی طرف ہجرت
مدرسۂ طالبیہ تبریز میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، سید محمد حسین طباطبائی اپنے بھائی کے ہمراہ نجف روانہ ہوئے اور وہاں پورے دس برس تک دینی علوم کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور روحانی کمالات کے حصول میں مشغول رہے۔ انہوں نے نجفِ اشرف میں علومِ ریاضی سید ابوالقاسم موسوی خوانساری، جو سید ابوالقاسم خوانساری کے پوتے تھے، سے حاصل کیے۔
اسی طرح انہوں نے فقہ اور اصولِ فقہ کے دروس بزرگ اساتذہ، جن میں محمد حسین نائینی اور محمد حسین غروی اصفہانی شامل ہیں، کے زیرِ نظر پڑھے۔ فقہ اور اصول کے ان دروس کی مدت مجموعی طور پر دس سال پر مشتمل تھی۔
فلسفہ میں ان کے استاد حکیمِ متألہ سید حسین بادکوبہای تھے۔ علامہ طباطبائی نے اپنے بھائی سید محمد حسن الٰہی طباطبائی کے ساتھ طویل عرصے تک نجفِ اشرف میں ان کی معیت میں درس و بحث میں شرکت کی۔
الٰہی معارف، اخلاق اور فقہِ حدیث انہوں نے سید علی قاضی طباطبائی سے حاصل کیں، اور سلوکِ عرفانی، نفسانی مجاہدات اور شرعی ریاضتوں میں وہ اسی کامل استاد کی نگرانی، تعلیم اور تربیت میں رہے۔
محمود امجد نقل کرتے ہیں کہ سید علی قاضی کا نام سنتے ہی علامہ طباطبائی کی کیفیت بدل جایا کرتی تھی۔ اسی طرح سید احمد قاضی، علامہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ: میں نجف میں داخل ہونے کے بعد بارگاہِ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوا اور ان سے مدد طلب کی۔ اس کے بعد آقا سید علی قاضی میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آپ نے حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں عرضِ حال کی تھی، اور انہوں نے ہی مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ اب آئندہ ہم ہر ہفتے دو نشستیں کریں گے۔ اسی پہلی نشست میں انہوں نے یہ بھی فرمایا: اپنی اخلاص میں اضافہ کرو اور اللہ کے لیے درس پڑھو، اور اپنی زبان کی بھی زیادہ نگہداشت کیا کرو۔
تبریز کی طرف واپسی
علامہ طباطبائی جب نجف میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، تنگیِ معاش اور مقرره پیسه نہ پہنچنے کی وجہ سے ایران واپس آنے پر مجبور ہو گئے۔ وہ تقریباً دس سال تک قریہ شادآباد، تبریز میں زراعت اور کھیتی باڑی کرتے رہے۔
ان کے فرزند، انجینئر سید عبدالباقی طباطبائی، بیان کرتے ہیں:
مجھے خوب یاد ہے کہ والد صاحب ہمیشہ اور پورے سال سرگرمِ عمل رہتے تھے۔ سردیوں میں اور بارش و برف باری کے موسم میں بھی کام کرنا ان کے لیے معمولی بات تھی۔ کبھی جب بارش برستی یا برف پڑتی تو وہ یا تو چتر (چھتری) ہاتھ میں رکھتے یا پوستین (موٹے فر کی چادر/اوورکوٹ) اوڑھ کر کام کرتے تھے۔
نجف سے واپسی کے بعد شادآباد میں مسلسل محنت کے نتیجے میں پرانے قناتوں کی صفائی ہوئی، بوسیدہ باغات کی زمین پھر سے تیار کر کے درختوں کی اصلاح کی گئی، اور اسی کے ساتھ کئی نئے باغات لگائے گئے۔ گاؤں کے اندر خاندان کی گرمیوں کی رہائش کے لیے ایک خُوبصورت ییلاقی عمارت بھی تعمیر کی۔ گھر کے زیرزمین حصے میں انہوں نے جدید طرز کا ایک حمام بھی بنا دیا۔
قم کی طرف ہجرت
علامہ طباطبائی کچھ عرصہ تبریز میں قیام کے بعد 1946ء میں قم جانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں علامہ کے فرزند بیان کرتے ہیں:
ہم 1946ء کے آغاز کے ساتھ ہی شہرِ قم میں داخل ہوئے۔ ابتدا میں ہم ایک رشتہ دار کے گھر ٹھہرے جو قم میں مقیم تھے اور دینی علوم کی تحصیل میں مشغول تھے، لیکن جلد ہی ہم نے کوچۂ یخچالِ قاضی میں ایک روحانی کے گھر دو حصوں پر مشتمل ایک کمرہ کرائے پر لیا، جسے پردہ لگا کر الگ کیا جا سکتا تھا۔ ان دونوں کمروں کا کل رقبہ تقریباً بیس مربع میٹر تھا۔
ان کمروں کے نیچے گھر کے پینے کے پانی کا ذخیرہ خانہ تھا، جہاں ضرورت پڑنے پر دروازے سے جھک کر اندر جانا پڑتا اور پینے کے پانی کا برتن بھرنا ہوتا تھا۔ چونکہ گھر میں باورچی خانہ موجود نہیں تھا، اس لیے کھانا پکانا بھی اسی کمرے کے اندر کیا جاتا تھا۔
میرے والد کے قم میں چند ہی جاننے والے تھے، جن میں سے ایک سید محمد حجت کوہکمرہای تھے۔ قم میں علامہ کی پہلی آمد و رفت آقای حجت کے گھر سے شروع ہوئی، اور رفتہ رفتہ ان کے اطراف کے لوگوں سے دوستی قائم ہوئی اور میل جول کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔
قم میں تدریس
کچھ عرصے کے بعد، جب بعض علما کے اصرار پر ان کی روزانہ کی (ملا صدرا کی کتاب اسفار کی تدریس معطل کر دی گئی، تو طلبہ کے اصرار پر علامہ طباطبائی نے بو علی سینا کی کتاب الشفا کی تدریس کا آغاز کیا۔ اسی دوران انہوں نے اسفار کے لیے رات کے وقت خصوصی درسی حلقے قائم کیے
یہ کلاسیں ہفتے میں دو راتیں، یعنی جمعرات اور جمعہ کی شب، منعقد ہوتی تھیں اور یہ دروس ایک جگہ مقرر نہ ہوتے بلکہ شاگردوں کے گھروں میں باری باری منعقد کیے جاتے تھے۔ ان مجالس میں صرف چند محدود اور منتخب شاگرد ہی مستقل طور پر شرکت کرتے تھے، اور ان کلاسوں میں شرکت خود علامہ کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔
اساتذه
- سید علی قاضی؛
- مرتضی طالقانی؛
- سید حسین بادکوبهای؛
- محمدحسین غروی اصفهانی؛
- میرزا حسین نائینی؛
- سید محمد حجت کوهکمری؛
- سید ابوالقاسم خوانساری (ریاضی).
شاگردان
سید محمد حسین طباطبائی نے بے شمار شاگردوں کی تربیت کی، جن میں سے اہم اور نمایاں شاگردوں کے نام ذیل میں ذکر کیے جاتے ہیں:
- سید علی خامنهای
- سید محمد خامنهای
- عبدالله جوادی آملی
- ناصر مکارم شیرازی
- حسین نوری همدانی
- امام موسی صدر
- علی اکبر هاشمی رفسنجانی
- مجتبی تهرانی
- محمد تقی مصباح یزدی
- مرتضی مطهری
- حسین شب زنده دار جهرمی
- محمد جواد باهنر
- محمد واعظزاده خراسانی
- سید مرتضی جزایری
- داریوش شایگان
- سید محمد حسینی بهشتی
- حسن حسنزاده آملی؛
- علی پهلوانی تهرانی (سعادت پرور)؛
- محمود امجد
- عبدالرحیم عقیقی بخشایشی
- سید عبدالله فاطمی نیا
- عزیزالله خوشوقت
- غلامحسین ابراهیمی دینانی
- سید عزالدین حسینی زنجانی
- محمدرضا نکونام
- محمد محمدی گیلانی
- محمد صادقی تهرانی
- سید جلالالدین آشتیانی
- علی قدوسی
- اسدالله بیات زنجانی
- محمد مفتح
- محمد اسماعیل صائنی زنجانی
- ابراهیم امینی
- دکتر جواد مناقبی
- یحیی انصاری
- سید عبدالکریم موسوی اردبیلی
- سید محمد علی موحد ابطحی
- حسین علی منتظری
- سید محمدحسین حسینی طهرانی
- سید حسین نصر
- حسین مظاهری
- علی اصغر کرباسچیان
- محمدرضا مهدوی کنی
- محسن مجتهد شبستری
- عباس محفوظی
- سید صابر جباری
- سید محمد شاهچراغی
اهم تصانیف
سید محمد حسین طباطبائی کی دو نمایاں تصانیف ہیں جو ان کی دیگر علمی کاوشوں کے مقابلے میں زیادہ توجہ کا مرکز رہی ہیں:
تفسیر المیزان
یہ تفسیر عربی زبان میں بیس جلدوں پر مشتمل ہے اور تقریباً بیس سال کے عرصے میں تصنیف کی گئی۔ اس تفسیر میں علامہ طباطبائی نے قرآن کی تفسیر قرآن کے ذریعے کے اسلوب کو اختیار کیا ہے۔ اس میں آیاتِ قرآنی کی تفسیر اور لغوی مباحث کے ساتھ ساتھ، الگ الگ مقامات پر آیات کے موضوع کے مطابق روایتی، تاریخی، کلامی، فلسفی اور سماجی مباحث بھی شامل کیے گئے ہیں۔ یہ عظیم تفسیری اثر سید محمد باقر موسوی ہمدانی کے ذریعے فارسی زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے۔
اصولِ فلسفہ اور روشِ رئیلزم
یہ کتاب فلسفے کے چودہ مقالات پر مشتمل ہے جو 1940ء اور 1950ء کی دہائیوں میں تصنیف کیے گئے۔ ان مقالات کی شرح مرتضیٰ مطہری نے فلسفۂ تطبیقی کے نقطۂ نظر سے کی ہے۔ یہ کتاب ان اولین اور اہم ترین تصانیف میں شمار ہوتی ہے جن میں فلسفیانہ مباحث کو اسلامی فلسفیانہ حکمت اور جدید مغربی فلسفے کے تقابلی زاویے سے زیرِ بحث لایا گیا ہے۔
دیگر تصنیفات و تالیفات
عربی زبان میں
- کتاب توحید که شامل ۳ رساله است: (رساله در توحید، رساله در اسماءالله، رساله در افعال الله)؛
- کتاب انسان که شامل ۳ رسالهاست: (الانسان قبل الدنیا، الانسان فی الدنیا، الانسان بعد الدنیا)؛
- رساله وسائط که البته همگی این رسالهها در یک مجلد جمعآوری شده و به نام هفت رساله معروف است؛
- رساله الولایه؛
- رساله النبوة و الامامه؛
- بدایه الحکمة؛
- نهایه الحکمة.
فارسی زبان میں
- شیعه در اسلام؛
- قرآن در اسلام: (به بحث دربارهٔ مباحث قرآنی از جمله نزول قرآن، آیات محکم و متشابه ناسخ و منسوخ و… پرداختهاست)؛
- وحی یا شعور مرموز؛
- اسلام و انسان معاصر؛
- حکومت در اسلام؛
- سنن النبی (دربارهٔ سیره و خلق و خوی پیامبر اسلام در بخشهای مختلف زندگی فردی و اجتماعی ایشان است)؛
- اصول فلسفه و روش رئالیسم (در مورد مبانی فلسفی اسلامی و نیز نقد اصول مکتب ماتریالیسم دیالکتیک است)؛
- علی و فلسفه الهی؛
- خلاصه تعالیم اسلام؛
- رساله در حکومت اسلامی؛
- نسبنامه خاندان طباطبایی (اولاد امیر سراجالدین عبدالوهاب).
آثار مختصر تبصره
بدایةُ الحکمہ: یہ کتاب فلسفے کا ایک مختصر اور جامع درسی کورس ہے جو قم میں علومِ عقلی کے شائقین کے لیے پڑھایا جاتا رہا اور بعد میں ملک کی جامعات میں بھی تدریس کا حصہ بن گیا۔
نهایةُ الحکمہ: یہ تصنیف فلسفے کی تدریس کے لیے زیادہ وضاحت، زیادہ گہرائی اور اعلیٰ علمی سطح کے ساتھ مرتب کی گئی ہے۔
حاشیہ بر کفایہ: یہ اصولِ فقہ کی ایک کتاب ہے جو احکام کے استنباط کے قواعد و ضوابط پر بحث کرتی ہے۔
پروفیسر ہانری کربن کے ساتھ مذاکرات کا مجموعہ: ہانری کربن ایک فرانسیسی محقق تھے۔ تشیع اور اعتقادی مباحث کے بارے میں علامہ طباطبائی کے ساتھ ان کی جو علمی گفتگوئیں ہوئیں، وہ اس کتاب میں محفوظ ہیں۔
رسالۂ انسان قبل از دنیا، دنیا میں اور دنیا کے بعد: یہ کتاب جو اب «انسان از آغاز تا انجام» کے نام سے ترجمہ ہو چکی ہے، عالمِ مادہ، عالمِ مثال اور عالمِ عقل کے تین گانہ عوالم پر مفید مباحث پیش کرتی ہے اور نوجوانوں کے ذہنی شبہات اور فکری تشویشات کے بارے میں نہایت ضروری اور مؤثر مطالب پر مشتمل ہے۔
در محضرِ علامہ طباطبائی: یہ کتاب محمد حسین رخشاد کی تصنیف ہے اور اس میں علامہ طباطبائی سے مختلف موضوعات پر کیے گئے سوالات اور ان کے جوابات شامل ہیں۔
شیعہ در اسلام: علامہ طباطبائی نے یہ کتاب تشیع کے عقائد کو عقلی اور منظم انداز میں متعارف کرانے کے لیے تحریر کی ہے۔
ولایتنامہ: یہ علامہ کی ایک عرفانی رسالہ ہے جسے ہمایون ہمتی نے ترجمہ کیا ہے اور انتشاراتِ روایتِ فتح نے شائع کیا ہے۔
علامہ طباطبائی کی اہم علمی نشستوں میں پروفیسر ہانری کربن کے ساتھ ہونے والی مباحثاتی مجالس قابلِ ذکر ہیں، جن میں سید حسین نصر اور بہت سے دیگر اہلِ علم شریک ہوتے تھے۔ اسی طرح تہران میں منعقد ہونے والی وہ نشستیں بھی اہم ہیں جن میں داریوش شایگان جیسے مفکرین شرکت کرتے تھے۔ علامہ طباطبائی ان مذاکرات کے بارے میں خود فرماتے ہیں:
کربن کے بقول، اب تک مستشرقین نے اسلام کے بارے میں اپنی معلومات زیادہ تر اہلِ سنت سے حاصل کی ہیں، اور اسی بنا پر مذہبِ تشیع کی حقیقت اس طرح مغربی دنیا کے سامنے پیش نہیں ہو سکی جس طرح پیش کی جانی چاہیے تھی۔ ماضی کے مستشرقین کے تصور کے برخلاف، میرا عقیدہ یہ ہے کہ تشیع ایک حقیقی، اصیل اور زندہ مذهب ہے، اور اس میں ایک سچے مذہب کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں، اور یہ اس تصور سے بالکل مختلف ہے جو مغرب میں اس کے بارے میں پیش کیا گیا ہے۔
میں نے اپنی علمی تحقیقات کے نتیجے میں اس حقیقت تک رسائی حاصل کی ہے کہ اسلامی معنویت کی گہرائیوں کو شیعہ زاویۂ نگاہ سے دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ تشیع اس دین کے بارے میں زیادہ حقیقت پسندانہ اور عمیق فہم رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے میں نے کوشش کی ہے کہ اس مذهب کو مغربی دنیا میں اسی صورت میں متعارف کراؤں جیسا کہ وہ حقیقت میں ہے اور جیسا کہ اسے ہونا چاہیے۔
میں اس بات میں بے حد دلچسپی رکھتا ہوں کہ اس مذهب کے علمی رجال اور ممتاز شخصیات سے بالمشافہ رابطہ قائم کروں، ان کے طرزِ فکر سے آشنا ہوں، اور تشیع کے اصول و مبانی کے مطالعے میں ان اکابرین سے استفادہ کر کے اپنے مقصد کے بارے میں زیادہ وضاحت اور یقین حاصل کر سکوں۔
وفات
علامہ طباطبائیؒ زیارتِ ثامنُ الحجج حضرت امام علی بن موسیٰ الرضاؑ کے سفر کے دوران بیمار ہو گئے۔ بعد ازاں انہیں علاج کے لیے تہران اور پھر قم منتقل کیا گیا، مگر علاج مؤثر ثابت نہ ہو سکا۔ بالآخر وہ اتوار کی صبح، 18 محرم الحرام 1402ھ کو اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔
ان کا جنازہ 19 محرم الحرام کو قم میں مسجد امام حسن مجتبیٰؑ سے حرمِ مطہر حضرت فاطمہ معصومہؑ تک نہایت عظمت و احترام کے ساتھ تشییع کیا گیا۔ نمازِ جنازہ آیتاللہ حاج سید محمد رضا گلپایگانیؒ نے پڑھائی، اور اس کے بعد علامہ کو حرم حضرت معصومہؑ کے مسجدِ بالاسر میں سپردِ خاک کیا گیا۔[1]
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ علامه آیتاللَه سید محمدحسین طباطبایی ( زبان فارسی) درج شده تاریخ: ۱۱/ نومبر/ ۲۰۲۴ء اخذشده تاریخ: ۱/ فروری / ۲۰۲۶ء