مندرجات کا رخ کریں

"احمد سامبی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
 
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:احمد سامبی کو احمد سامبی کی جانب منتقل کیا
 
(ایک دوسرے صارف 3 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{جعبہ معلومات شخصیت
{{Infobox person
| عنوان = احمد سامبی
| title = احمد سامبی
| تصویر = سامبی احمد.jpg
| image = سامبی احمد.jpg
| نام = احمد سامبی
| name = احمد سامبی
| نام‌های دیگر = احمد بن عبدالله سامبی
| other names =   احمد بن عبدالله سامبی
| سال تولد = ۱۹۵۸ ع
| brith year =1958 ء
| تاریخ تولد =  
| brith date =  
| محل تولد = مجمع الجزائر قمر
| birth place = مجمع الجزائر قمر
| سال درگذشت =  
| death year = 2026 ء
| تاریخ درگذشت =  
| death date =  
| محل درگذشت =  
| death place =  
| استادان =  
| teachers =  
| شاگردان =
| religion = [[اسلام]]
| دین = اسلام
| faith = [[سنی]]
| مذهب = اہل سنت
| works =  
| آثار =  
| known for = جمہوریہ اسلامیہ فیڈریٹو قمر کے سابق صدر ہیں}}
| فعالیت‌ها = سابقہ صدرِ مجمع الجزائر قمر
| وبگاه =  
}}
'''احمد بن عبدالله سامبی''' جمہوریہ اسلامیہ فیڈریٹو [[قمر]] کے سابق صدر ہیں۔<ref> أحمد عبدالله سامبی.. أحوال جزر القمر ج1 الفضائیة - برامج القناة. Al-Jazeera. 2009. مؤرشف من الأصل فی 20 یونیو 2009. اطلع علیه بتاریخ 21 مایو 2013.</ref> انہوں نے اسلامی علوم [[مصر]] کی [[الازہر]] یونیورسٹی اور [[سعودی عرب]] کی اسلامی یونیورسٹی سے حاصل کیں، لیکن وہاں اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے، یہاں تک کہ وہ [[سوڈان]] گئے اور وہاں ایک سال تک درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور پھر اپنی تعلیم مکمل کی۔ انہوں نے [[ایران]] میں علامہ [[محمدتقی مصباح یزدی]] کی نگرانی میں بھی تعلیم حاصل کی۔
 


'''احمد بن عبد الله سامبی''' جمہوریہ اسلامیہ فیڈریٹو [[قمر]] کے سابق صدر ہیں۔<ref> أحمد عبدالله سامبی.. أحوال جزر القمر ج1 الفضائیة - برامج القناة. Al-Jazeera. 2009. مؤرشف من الأصل فی 20 یونیو 2009. اطلع علیه بتاریخ 21 مایو 2013.</ref> انہوں نے اسلامی علوم [[مصر]] کی الازہر یونیورسٹی اور [[سعودی عرب]] کی اسلامی یونیورسٹی سے حاصل کیں، لیکن وہاں اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے، یہاں تک کہ وہ [[سوڈان]] گئے اور وہاں ایک سال تک درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور پھر اپنی تعلیم مکمل کی۔ انہوں نے [[ایران]] میں علامہ [[محمد تقی مصباح یزدی]] کی نگرانی میں بھی تعلیم حاصل کی۔


== نسب ==
== نسب ==
احمد بن عبدالله بن محمد بن عبدالله سامبی لحاریری بن ابی بکر بن علوی بن محمد بن عبدالله بن علوی بن عبدالله بن علوی بن ابی بکر بن علی بن احمد بن عبدالله المسیلی بن محمد بن علوی الشیبہ بن عبدالله بن علی بن عبدالله باعلوی بن علوی الغیور بن الفقیہ المقدم محمد بن علی بن محمد صاحب مرباط بن علی خالع قسم بن علوی بن محمد بن علوی بن عبیداللہ بن احمد المہاجر بن عیسی بن محمد النقیب بن علی العریضی بن [[جعفر بن محمد (صادق)|جعفر الصادق]] بن [[محمد بن علی (باقر العلوم)|محمد الباقر]] بن [[علی بن الحسین (زین العابدین)|علی زین العابدین]] بن [[حسین بن علی (سید الشہدا)|الحسین]] السبط بن امام [[علی بن ابی طالب|علی بن ابی طالب]] ہیں، اور امام علی (ع) کی شادی [[فاطمہ بنت محمد (زہرا)|فاطمہ]] سے ہوئی تھی جو [[محمد بن عبداللہ (خاتم الانبیاء)|محمد]] صلی اللہ علیہ و آلہ کی بیٹی ہیں۔<ref> المعلم, هاشم بن محمد (2009). "المفاخر السامیة فی ذکر تاریخ سلاطین جزر القمر". دمشق، سوریا: الدار العالمیة.</ref>
احمد بن عبدالله بن محمد بن عبدالله سامبی لحاریری بن ابی بکر بن علوی بن محمد بن عبدالله بن علوی بن عبدالله بن علوی بن ابی بکر بن علی بن احمد بن عبدالله المسیلی بن محمد بن علوی الشیبہ بن عبدالله بن علی بن عبدالله باعلوی بن علوی الغیور بن الفقیہ المقدم محمد بن علی بن محمد صاحب مرباط بن علی خالع قسم بن علوی بن محمد بن علوی بن عبیداللہ بن احمد المہاجر بن عیسی بن محمد النقیب بن علی العریضی بن [[امام جعفر صادق علیہ السلام|جعفر الصادق]] بن [[امام محمد باقر|محمد الباقر]] بن [[علی بن حسین|علی زین العابدین]] بن [[امام  حسین]] السبط بن علی بن ابی طالب، اور [[علی ابن ابی طالب|علی بن ابی طالب]] علیہ السلام کی شادی فاطمه بنت محمد (زهرا) سلام اللہ علیہا سے ہوئی جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی ہیں۔۔<ref> المعلم, هاشم بن محمد (2009). "المفاخر السامیة فی ذکر تاریخ سلاطین جزر القمر". دمشق، سوریا: الدار العالمیة.</ref> لہذا، وہ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ستائیسویں پشت میں سے ہیں۔
 
لہذا، وہ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ستائیسویں پشت میں سے ہیں۔
 
 


== سیاسی سرگرمیاں ==
== سیاسی سرگرمیاں ==
احمد عبدالله محمد سامبی (پیدائش 5 جون 1958)، جنہیں آیت اللہ سامبی کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک سیاست دان، سنی مسلمان مذہبی رہنما اور اتحاد قمر یا مجمع الجزائر قمر کے سابق صدر ہیں۔ وہ 14 مئی 2006 کو عام انتخابات میں 58.02 فیصد ووٹ حاصل کر کے ملک کے صدر بنے۔
احمد عبد الله محمد سامبی (پیدائش 5 جون 1958)، جنہیں آیت اللہ سامبی کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک سیاست دان، سنی مسلمان مذہبی رہنما اور اتحاد قمر یا مجمع الجزائر قمر کے سابق صدر ہیں۔ وہ 14 مئی 2006 کو عام انتخابات میں 58.02 فیصد ووٹ حاصل کر کے ملک کے صدر بنے۔
 
ان کی اقتدار میں آمد قمر یونین میں مسلسل فوجی تاختوں کے بعد اقتدار کی پہلی پرامن منتقلی کا نتیجہ تھی۔ وہ قمر کے پہلے سربراہ مملکت بھی ہیں جو انجوان سے تعلق رکھتے ہیں، وہ جزیرہ جس نے 2001 میں اتحاد قمر سے علیحدگی کی اپنی درخواست واپس لے لی تھی۔
ان کی اقتدار میں آمد قمر یونین میں مسلسل فوجی تاختوں کے بعد اقتدار کی پہلی پرامن منتقلی کا نتیجہ تھی۔ وہ قمر کے پہلے سربراہ مملکت بھی ہیں جو انجوان سے تعلق رکھتے ہیں، وہ جزیرہ جس نے 2001 میں اتحاد قمر سے علیحدگی کی اپنی درخواست واپس لے لی تھی۔
سامبی، قمر کے زیادہ تر باشندوں کی طرح [[مسلمان]] سنی ہیں، اور قم شہر میں قیام اور تعلیم کی وجہ سے انہیں آیت اللہ کا لقب دیا گیا ہے۔ انہوں نے قم میں [[اسلام]] کی سیاسی نظریات کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی تعلیم [[سوڈان]] اور [[سعودی عرب]] میں جاری رکھی۔
سامبی، قمر کے زیادہ تر باشندوں کی طرح [[مسلمان]] سنی ہیں، اور قم شہر میں قیام اور تعلیم کی وجہ سے انہیں آیت اللہ کا لقب دیا گیا ہے۔ انہوں نے قم میں [[اسلام]] کی سیاسی نظریات کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی تعلیم [[سوڈان]] اور [[سعودی عرب]] میں جاری رکھی۔


== مذہب ==
== مذہب ==
وہ اہل سنت ہیں، لیکن [[جمہوریہ اسلامی ایران|ایران]] میں تعلیم حاصل کرنے اور ایران سے تعلقات قائم کرنے کے شوق، نیز [[فلسطین]] کے دفاع میں ان کے موقف کی وجہ سے ان کی عوامی مقبولیت کو نقصان پہنچانے کے لیے ان پر [[مذہب شیعہ|شیعہ]] ہونے کا الزام لگایا گیا۔
وہ اہل سنت ہیں، لیکن [[جمہوریہ اسلامی ایران|ایران]] میں تعلیم حاصل کرنے اور ایران سے تعلقات قائم کرنے کے شوق، نیز [[فلسطین]] کے دفاع میں ان کے موقف کی وجہ سے ان کی عوامی مقبولیت کو نقصان پہنچانے کے لیے ان پر [[مذہب شیعہ|شیعہ]] ہونے کا الزام لگایا گیا۔


== قمر کی حکومت کا ان سے سامنا ==
== قمر کی حکومت کا ان سے سامنا ==
سید احمد عبدالله سامبی، جو محور مقاومت اور فلسطینی مقاصد کے حامی و ناصر ہیں، 12 مئی 2018 ع کو کئی مہینوں کی غیر حاضری کے بعد اپنے ملک واپس آئے، جہاں ان کا استقبال ان کے چاہنے والوں اور حامیوں نے بے مثال انداز میں کیا۔ ان کی واپسی کا مقصد اس وقت کے صدر عثمان غزالی کی جانب سے پیش کیے گئے "آئین میں ترمیم کے لیے ریفرنڈم کے منصوبے" کو روکنا تھا، جس کا مقصد صدارتی مدت کو مستقل بنانا تھا، تاکہ آئینی عدالت کی کارروائیوں کو روکا جا سکے اور اس کی انتظامیہ سپریم کورٹ کے حوالے کی جا سکے، جس کی صدارت خود صدر غزالی کرتے تھے۔
سید احمد عبدالله سامبی، جو [[مقاومتی بلاک|محور مقاومت]] اور فلسطینی مقاصد کے حامی و ناصر ہیں، 12 مئی 2018 ع کو کئی مہینوں کی غیر حاضری کے بعد اپنے ملک واپس آئے، جہاں ان کا استقبال ان کے چاہنے والوں اور حامیوں نے بے مثال انداز میں کیا۔ ان کی واپسی کا مقصد اس وقت کے صدر عثمان غزالی کی جانب سے پیش کیے گئے "آئین میں ترمیم کے لیے ریفرنڈم کے منصوبے" کو روکنا تھا، جس کا مقصد صدارتی مدت کو مستقل بنانا تھا، تاکہ آئینی عدالت کی کارروائیوں کو روکا جا سکے اور اس کی انتظامیہ سپریم کورٹ کے حوالے کی جا سکے، جس کی صدارت خود صدر غزالی کرتے تھے۔
 
"احمد عبدالله سامبی" کی قمر واپسی ایک اہم وجہ بنی جس نے غزالی کو حکومت سنبھالنے سے مایوس کر دیا، اور سابق صدر کی ملک میں آمد کے ایک ہفتے بعد ان کے گھر نظر بند کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا، عملاً انہیں بیرونی دنیا سے رابطے سے ممنوع کر دیا گیا، یہاں تک کہ سامبی پورا ایک سال طبی علاج و معالجے سے بھی محروم رہے اور بالآخر ان کی صحت اور جسمانی حالت بگڑتی چلی گئی۔<ref>[https://www.tasnimnews.com/fa/news/1398/07/15/2113357/%D9%87%D8%B4%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%D9%85%D8%AC%D9%85%D8%B9-%D8%AC%D9%87%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%A7%D9%87%D9%84-%D8%A8%DB%8C%D8%AA-%D8%A8%D9%87-%D8%B1%D8%A6%DB%8C%D8%B3-%D8%AC%D9%85%D9%87%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D9%88%D9%85%D9%88%D8%B1 خبرگزاری تسنیم]</ref>
"احمد عبدالله سامبی" کی قمر واپسی ایک اہم وجہ بنی جس نے غزالی کو حکومت سنبھالنے سے مایوس کر دیا، اور سابق صدر کی ملک میں آمد کے ایک ہفتے بعد ان کے گھر نظر بند کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا، عملاً انہیں بیرونی دنیا سے رابطے سے ممنوع کر دیا گیا، یہاں تک کہ سامبی پورا ایک سال طبی علاج و معالجے سے بھی محروم رہے اور بالآخر ان کی صحت اور جسمانی حالت بگڑتی چلی گئی۔<ref>[https://www.tasnimnews.com/fa/news/1398/07/15/2113357/%D9%87%D8%B4%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%D9%85%D8%AC%D9%85%D8%B9-%D8%AC%D9%87%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%A7%D9%87%D9%84-%D8%A8%DB%8C%D8%AA-%D8%A8%D9%87-%D8%B1%D8%A6%DB%8C%D8%B3-%D8%AC%D9%85%D9%87%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D9%88%D9%85%D9%88%D8%B1 خبرگزاری تسنیم]</ref>


 
== متعلقہ تلاشیں ==
* [[قمر ]]
*  [[فلسطین]]
* [[ایران|ايران]]
* [[شیعہ]]


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
{{حوالہ جات}}
[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:سربراہان مملکت]]
[[زمرہ: سياسي شخصيات]]
[[زمرہ:اسلامی ممالک کے سربراہان]]
[[زمرہ:قمر]]
[[زمرہ:قمر]]

حالیہ نسخہ بمطابق 13:51، 10 ستمبر 2026ء

احمد سامبی
پورا ناماحمد سامبی
دوسرے ناماحمد بن عبدالله سامبی
ذاتی معلومات
پیدائش1958 ء
پیدائش کی جگہمجمع الجزائر قمر
وفات2026 ء
مذہباسلام، سنی
مناصبجمہوریہ اسلامیہ فیڈریٹو قمر کے سابق صدر ہیں

احمد بن عبد الله سامبی جمہوریہ اسلامیہ فیڈریٹو قمر کے سابق صدر ہیں۔[1] انہوں نے اسلامی علوم مصر کی الازہر یونیورسٹی اور سعودی عرب کی اسلامی یونیورسٹی سے حاصل کیں، لیکن وہاں اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے، یہاں تک کہ وہ سوڈان گئے اور وہاں ایک سال تک درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور پھر اپنی تعلیم مکمل کی۔ انہوں نے ایران میں علامہ محمد تقی مصباح یزدی کی نگرانی میں بھی تعلیم حاصل کی۔

نسب

احمد بن عبدالله بن محمد بن عبدالله سامبی لحاریری بن ابی بکر بن علوی بن محمد بن عبدالله بن علوی بن عبدالله بن علوی بن ابی بکر بن علی بن احمد بن عبدالله المسیلی بن محمد بن علوی الشیبہ بن عبدالله بن علی بن عبدالله باعلوی بن علوی الغیور بن الفقیہ المقدم محمد بن علی بن محمد صاحب مرباط بن علی خالع قسم بن علوی بن محمد بن علوی بن عبیداللہ بن احمد المہاجر بن عیسی بن محمد النقیب بن علی العریضی بن جعفر الصادق بن محمد الباقر بن علی زین العابدین بن امام حسین السبط بن علی بن ابی طالب، اور علی بن ابی طالب علیہ السلام کی شادی فاطمه بنت محمد (زهرا) سلام اللہ علیہا سے ہوئی جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی ہیں۔۔[2] لہذا، وہ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ستائیسویں پشت میں سے ہیں۔

سیاسی سرگرمیاں

احمد عبد الله محمد سامبی (پیدائش 5 جون 1958)، جنہیں آیت اللہ سامبی کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک سیاست دان، سنی مسلمان مذہبی رہنما اور اتحاد قمر یا مجمع الجزائر قمر کے سابق صدر ہیں۔ وہ 14 مئی 2006 کو عام انتخابات میں 58.02 فیصد ووٹ حاصل کر کے ملک کے صدر بنے۔ ان کی اقتدار میں آمد قمر یونین میں مسلسل فوجی تاختوں کے بعد اقتدار کی پہلی پرامن منتقلی کا نتیجہ تھی۔ وہ قمر کے پہلے سربراہ مملکت بھی ہیں جو انجوان سے تعلق رکھتے ہیں، وہ جزیرہ جس نے 2001 میں اتحاد قمر سے علیحدگی کی اپنی درخواست واپس لے لی تھی۔ سامبی، قمر کے زیادہ تر باشندوں کی طرح مسلمان سنی ہیں، اور قم شہر میں قیام اور تعلیم کی وجہ سے انہیں آیت اللہ کا لقب دیا گیا ہے۔ انہوں نے قم میں اسلام کی سیاسی نظریات کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی تعلیم سوڈان اور سعودی عرب میں جاری رکھی۔

مذہب

وہ اہل سنت ہیں، لیکن ایران میں تعلیم حاصل کرنے اور ایران سے تعلقات قائم کرنے کے شوق، نیز فلسطین کے دفاع میں ان کے موقف کی وجہ سے ان کی عوامی مقبولیت کو نقصان پہنچانے کے لیے ان پر شیعہ ہونے کا الزام لگایا گیا۔

قمر کی حکومت کا ان سے سامنا

سید احمد عبدالله سامبی، جو محور مقاومت اور فلسطینی مقاصد کے حامی و ناصر ہیں، 12 مئی 2018 ع کو کئی مہینوں کی غیر حاضری کے بعد اپنے ملک واپس آئے، جہاں ان کا استقبال ان کے چاہنے والوں اور حامیوں نے بے مثال انداز میں کیا۔ ان کی واپسی کا مقصد اس وقت کے صدر عثمان غزالی کی جانب سے پیش کیے گئے "آئین میں ترمیم کے لیے ریفرنڈم کے منصوبے" کو روکنا تھا، جس کا مقصد صدارتی مدت کو مستقل بنانا تھا، تاکہ آئینی عدالت کی کارروائیوں کو روکا جا سکے اور اس کی انتظامیہ سپریم کورٹ کے حوالے کی جا سکے، جس کی صدارت خود صدر غزالی کرتے تھے۔ "احمد عبدالله سامبی" کی قمر واپسی ایک اہم وجہ بنی جس نے غزالی کو حکومت سنبھالنے سے مایوس کر دیا، اور سابق صدر کی ملک میں آمد کے ایک ہفتے بعد ان کے گھر نظر بند کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا، عملاً انہیں بیرونی دنیا سے رابطے سے ممنوع کر دیا گیا، یہاں تک کہ سامبی پورا ایک سال طبی علاج و معالجے سے بھی محروم رہے اور بالآخر ان کی صحت اور جسمانی حالت بگڑتی چلی گئی۔[3]

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. أحمد عبدالله سامبی.. أحوال جزر القمر ج1 الفضائیة - برامج القناة. Al-Jazeera. 2009. مؤرشف من الأصل فی 20 یونیو 2009. اطلع علیه بتاریخ 21 مایو 2013.
  2. المعلم, هاشم بن محمد (2009). "المفاخر السامیة فی ذکر تاریخ سلاطین جزر القمر". دمشق، سوریا: الدار العالمیة.
  3. خبرگزاری تسنیم