"رائد عطار" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:رائد عطار کو رائد عطار کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک ہی صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا) | |||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{ | {{Infobox person | ||
| | | title = | ||
| | | image = رائد عطار.webp | ||
| | | name = رائد صبحی احمد العطار | ||
| | | other names = أبو ایمن | ||
| | | brith year = 1947ء | ||
| | | brith date = | ||
| | | birth place = [[رفح]] | ||
| | | death year = 2014 ء | ||
| | | death date = | ||
| | | death place = | ||
| | | teachers = | ||
| | | students = | ||
| | | religion = [[اسلام]] | ||
| | | faith = [[اہل السنۃ والجماعت|سنی]] | ||
| | | works = | ||
| | | known for = کمانڈر کتائب [[رفح]] [[گردانهای عزالدین قسام|کتائب الشہید عزالدین القسام]] اور اس کی اعلیٰ عسکری کونسل کے رکن۔}} | ||
}} | |||
'''رائد عطار'''، ملقب '''«ابو ایمن»'''، کمانڈر کتائب [[رفح]] [[گردانهای عزالدین قسام|کتائب الشہید عزالدین القسام]] اور اس کی مرکزی کونسل کے رکن تھے جنہوں نے کتائب [[رفح]] کی تربیت، منصوبہ بندی اور توسیع میں اور سڑکوں پر گولی باری کی کارروائیوں کی ڈیزائننگ اور اجرا میں فوجی ٹھکانوں کو اڑانے کے لیے سرنگیں کھودنے اور [[رژیم اشغالگر قدس|صیہونی رژیم]] کے خلاف مختلف جنگوں میں حکمت عملی کا کردار ادا کیا۔ وہ 2011ء میں وفاء الاحرار ڈیل کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان میں سے ایک تھے، جس میں 1027 [[فلسطین|فلسطینی]] قیدیوں کے تبادلے کی تجویز تھی بدلے میں گیلعاد شلیط کی رہائی کے عوض، جو 25 جون 2006ء کو تحریک [[حماس]] کی خصوصی یونٹ کی نیروں کے ہاتھوں اسیر ہونے والا [[رژیم صهیونیستی|اسرائیلی]] گروہن تھا۔ اور 21 اگست 2014ء کو [[اسرائیل]] کے جنگی طیاروں کے شہر [[رفح]] کے مغرب میں تل السلطان محلے میں ایک گھر پر حملے میں دو دیگر [[گردانهای عزالدین قسام|قسامی]] کمانڈروں، [[محمد ابوشماله]] اور محمد برہوم کے ہمراہ شہید ہو گئے۔ | '''رائد عطار'''، ملقب '''«ابو ایمن»'''، کمانڈر کتائب [[رفح]] [[گردانهای عزالدین قسام|کتائب الشہید عزالدین القسام]] اور اس کی مرکزی کونسل کے رکن تھے جنہوں نے کتائب [[رفح]] کی تربیت، منصوبہ بندی اور توسیع میں اور سڑکوں پر گولی باری کی کارروائیوں کی ڈیزائننگ اور اجرا میں فوجی ٹھکانوں کو اڑانے کے لیے سرنگیں کھودنے اور [[رژیم اشغالگر قدس|صیہونی رژیم]] کے خلاف مختلف جنگوں میں حکمت عملی کا کردار ادا کیا۔ وہ 2011ء میں وفاء الاحرار ڈیل کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان میں سے ایک تھے، جس میں 1027 [[فلسطین|فلسطینی]] قیدیوں کے تبادلے کی تجویز تھی بدلے میں گیلعاد شلیط کی رہائی کے عوض، جو 25 جون 2006ء کو تحریک [[حماس]] کی خصوصی یونٹ کی نیروں کے ہاتھوں اسیر ہونے والا [[رژیم صهیونیستی|اسرائیلی]] گروہن تھا۔ اور 21 اگست 2014ء کو [[اسرائیل]] کے جنگی طیاروں کے شہر [[رفح]] کے مغرب میں تل السلطان محلے میں ایک گھر پر حملے میں دو دیگر [[گردانهای عزالدین قسام|قسامی]] کمانڈروں، [[محمد ابوشماله]] اور محمد برہوم کے ہمراہ شہید ہو گئے۔ | ||
| سطر 93: | سطر 92: | ||
[[زمرہ:فلسطین]] | [[زمرہ:فلسطین]] | ||
[[زمرہ:اسرائیل کے جرائم]] | [[زمرہ:اسرائیل کے جرائم]] | ||
[[fa:رائد عطار]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 16:34، 16 جون 2026ء
| رائد عطار | |
|---|---|
| پورا نام | رائد صبحی احمد العطار |
| دوسرے نام | أبو ایمن |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1947ء |
| پیدائش کی جگہ | رفح |
| وفات | 2014 ء |
| مذہب | اسلام، سنی |
| مناصب | کمانڈر کتائب رفح کتائب الشہید عزالدین القسام اور اس کی اعلیٰ عسکری کونسل کے رکن۔ |
رائد عطار، ملقب «ابو ایمن»، کمانڈر کتائب رفح کتائب الشہید عزالدین القسام اور اس کی مرکزی کونسل کے رکن تھے جنہوں نے کتائب رفح کی تربیت، منصوبہ بندی اور توسیع میں اور سڑکوں پر گولی باری کی کارروائیوں کی ڈیزائننگ اور اجرا میں فوجی ٹھکانوں کو اڑانے کے لیے سرنگیں کھودنے اور صیہونی رژیم کے خلاف مختلف جنگوں میں حکمت عملی کا کردار ادا کیا۔ وہ 2011ء میں وفاء الاحرار ڈیل کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان میں سے ایک تھے، جس میں 1027 فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کی تجویز تھی بدلے میں گیلعاد شلیط کی رہائی کے عوض، جو 25 جون 2006ء کو تحریک حماس کی خصوصی یونٹ کی نیروں کے ہاتھوں اسیر ہونے والا اسرائیلی گروہن تھا۔ اور 21 اگست 2014ء کو اسرائیل کے جنگی طیاروں کے شہر رفح کے مغرب میں تل السلطان محلے میں ایک گھر پر حملے میں دو دیگر قسامی کمانڈروں، محمد ابوشماله اور محمد برہوم کے ہمراہ شہید ہو گئے۔
سوانح حیات
رائد صبحی احمد العطار مئی 1974ء کے مہینے میں صوبہ رفح کے یبنا فلسطینی مہاجرین کیمپ میں ایک فلسطینی پناہ گزین خاندان میں پیدا ہوئے جو قبضہ شدہ رملہ علاقے کے تباہ شدہ گاؤں یبنہ سے بے گھر ہوئے تھے۔
تعلیم
انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم پٹی غزہ کے اسکولوں سے حاصل کی اور 1992ء میں ہائی اسکول مکمل کیا۔ وہ 1991ء سے صیہونی رژیم کے زیرِ تعقیب تھے اور اس وجہ سے ان کی تعلیم جاری نہ رہ سکی۔
جنگی سرگرمیاں
عطار نے تحریک حماس کی تاسیس کے فوراً بعد اس تحریک کی رکنیت حاصل کی اور وطنی سرگرمیوں، مظاہروں اور ہڑتالوں کے انتظام میں شرکت کی، اور تحریک حماس کی خفیہ ٹیموں کے ساتھ تعاون کیا جو اسرائیل کے ایجنٹوں کی شناخت میں مہارت رکھتی تھیں۔ اس کے علاوہ 1993ء میں وہ کتائب عزالدین القسام میں شامل ہو گئے۔
ترقی، تربیت اور منصوبہ بندی میں تعاون
انہوں نے ہتھیاروں کی ترقی، تربیت اور کتائب عزالدین القسام کے آپریشنز کی منصوبہ بندی میں دوسری انتفاضہ کے دوران، 2000ء سے 2005ء، اہم کردار ادا کیا اور 2000ء کے بعد صوبہ رفح میں ان کتائب کی صفوں کی دوبارہ تنظیم اور حکمت عملی کی توسیع میں مرکزی کردار رہا۔ دوسری انتفاضہ کے دوران سرنگیں کھود کر وہ اسرائیل کے کچھ ٹھکانوں کو دھماکے سے اڑانے کی مخصوص کارروائیوں کی قیادت کرنے میں کامیاب رہے۔
آپریشنز کی ڈیزائننگ اور نفاذ میں شرکت
عطار نے قبضہ کار فورسز کے خلاف کئی روڈ سائیڈ شوٹنگ آپریشنز کی ڈیزائننگ اور نفاذ میں اہم کردار ادا کیا، جن میں 1993ء میں کیسوفیم اور کفارم آپریشن، 1994ء میں خزاعہ آپریشن اور اسی سال مصری سرحد پر صلح آپریشن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کتائب عزالدین القسام کے متعدد آپریشنز کی قیادت کی، جن میں سرنگیں کھود کر اسرائیل کے کچھ ٹھکانوں کو دھماکے سے اڑایا گیا جس کے نتیجے میں کئی اسرائیلی فوجی زخمی اور ہلاک ہوئے۔ مثلاً:
- 26 ستمبر 2001ء کو رفح شہر کے جنوب میں اسرائیل کے ترمید نامی فوجی اڈے پر آپریشن، جس میں 150 میٹر لمبی سرنگ کھود کر ریموٹ سے دو 250 کلوگرام کے بم دھماکے سے اڑائے گئے، جس میں پانچ فوجی ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے۔
- 17 دسمبر 2003ء کو اسرائیل کے حردون نامی فوجی اڈے پر آپریشن، جو انتہائی دقیق امیجنگ اور نگرانی کے نظام اور جدید مشین گنوں سے لیس تھا، 200 میٹر لمبی سرنگ کھود کر یہ کارروائی کی گئی جس میں اسرائیل کے اعتراف کے مطابق تین فوجی ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔
- 27 جون 2004ء کو خان یونس شہر کے شمال میں اسرائیل کے محفوظ ٹھکانے پر آپریشن، 500 میٹر لمبی سرنگ کھود کر تین ٹن وزنی بارودی مواد سے بھری 21 دھماکہ خیز بیرلز کو اڑایا گیا، جس میں سات فوجی ہلاک اور بیس زخمی ہوئے۔
- 2 دسمبر 2004ء کو کتائب عزالدین القسام اور فتح کے شاہینوں کے تعاون سے آپریشن براکین الغضب، 4 ماہ میں 600 میٹر لمبی سرنگ کھود کر دو مجاہدین، ایک کتائب القسام اور دوسرا فتح کے شاہینوں سے، نے 1300 کلوگرام کا بم دھماکے سے اڑایا، سرنگ سے نکلنے کے بعد انہوں نے اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ ایک گھنٹہ جھڑپ کی، ایک شہید ہو گیا جبکہ دوسرا مجاہد پسپائی اختیار کرنے میں کامیاب ہو گیا اور ماگ قسم کا ایک درمیانہ ہتھیار حاصل کیا، بعد میں پورا مقام تباہ کر دیا گیا، سات فوجی ہلاک اور 13 سے زائد زخمی ہوئے۔
انہوں نے اپنے معاون محمد ابوشمالہ کے ساتھ 2006ء میں رفح شہر کے مشرق میں آپریشن الوہم المتبدد کی نگرانی کی، جس کے دوران اسرائیلی فوجی جلعاد شالیط کو قیدی بنا لیا گیا۔ عطار 2011ء میں معاہدہ وفاء الاحرار (آزادگان سے وفاداری کا معاہدہ) کی مذاکراتی ٹیم کے رکن تھے، جس کے تحت قبضہ کی جیلوں میں عمر قید اور سنگین سزائیں کاٹنے والے 1027 فلسطینی قیدیوں کو تحریک حماس کے ہاتھوں قید کیے گئے اسرائیلی فوجی جلعاد شالیط کی رہائی کے بدلے آزاد کیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ کتائب القسام کے کمانڈر اور ان کتائب کی عمومی فوجی کونسل کے رکن تھے، انہوں نے قبضہ کاروں کی زیادتیوں کے خلاف جنگ فرقان (2008ء-2009ء)، حجارہ السجیل (2012ء)، العصف المأکول (2014ء) اور رفح کے مشرق میں صوفہ چوکی پر حملے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کمینوں میں سے جو ان کی نگرانی میں تھے، ابوالروس کا کمین بھی تھا، جو مشرقی رفح میں تھا جس کے دوران اسرائیلی افسر ہدار گولڈن لاپتہ ہو گیا۔
گرفتاریاں اور سوء قصد

عطار سن 1991ء سے قابضین کے تعقب میں رہے اور اسی رژیم کے توسط 1991ء میں نو ماہ، 1995ء میں سات ماہ اور 1996ء میں پانچ اور نصف ماہ کے لیے گرفتار رہے۔ قابضین نے 2003ء میں ان کی گاڑی میں بم بارری اور ان کے گھر کا محاصرہ کر کے تین بار ان کے قتل کی کوشش کی اور 2004ء میں یبنا کیمپ کو تباہ کر دیا۔ اسرائیلی فوجی گلاد شالیط کی گرفتاری کے کچھ ہی عرصے بعد انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی گئی اور ان کے گھر کو 2008ء، 2012ء اور 2014ء میں بمباران کیا گیا۔ اس کے علاوہ اوسلو معاہدے کے بعد، جس کی بنیاد پر مغربی کنارے اور غزہ میں قانونی اسلحہ کو صیہونی قابضین کی فوج اور قابضین سے وابستہ خود مختار حکومت کے اسلحے کے طور پر تعریف کیا گیا تھا اور اسی لیے تمام مسلح افراد جو مزاحمتی دھارے سے وابستہ تھے اور قابضین کے خلاف سرگرم عمل تھے، خود مختار ادارے کے توسط گرفتار کیے جانے تھے، 1995ء میں خود مختار حکومت سے وابستہ ایک عدالت نے غیر قانونی اسلحہ کی تربیت دینے کے الزام میں انہیں دو سال قید کی سزا سنائی اور خود مختار حکومت سے وابستہ «قومی سلامتی عدالت» کے توسط 10 مارچ 1999ء کو انہیں سزائے موت برائے تیرباران دی گئی، کیونکہ ان کی گرفتاری کی کوشش کے دوران خود مختار حکومت کا ایک پولیس افسر مارا گیا تھا۔ اس امر نے رفح (غزہ کے جنوب) میں شدید جھڑپوں کو جنم دیا، یہاں تک کہ خود مختار ادارے نے اس فیصلے سے رجوع کر لیا۔
شہادت
رائد عطار 21 اگست 2014ء کو صیہونی قابض رژیم کے لڑاکا طیاروں کے حملے میں شہید ہوئے، جو مغربی شہر رفح کے محلہ تل السلطان میں ایک گھر پر کیا گیا، ساتھ میں دو دیگر قسامی کمانڈر، محمد ابو شمالہ اور محمد برہوم، اور پانچ دیگر فلسطینی شہری بھی شہید ہوئے اور چالیس سے زائد زخمی ہوئے۔
ردعمل
گردانهای عزالدین القسام نے 2015ء میں اس قسامی کمانڈر کی مجاہدت اور جدوجہد کی پاسداری کے لیے العطار (A) نامی ایک نئے میزائل کی نقاب کشائی کی کہ جس کا استعمال 2021ء میں نبرد سیف القدس میں اسرائیل کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر کیا گیا جس کا نتیجہ صیہونی رژیم کو کم سابقہ نقصان پہنچنا اور اسلامی مزاحمت کے اہداف کے راستے میں جنگی معادلات کا بدلنا تھا، اور اس جنگ کے دوران اسرائیل کے دعویدار آئرن ڈوم کو، جو اس رژیم کے لیے ایک قسم کی رکاوٹ پیدا کر رہا تھا، کو ناکارہ بنا دیا گیا۔
حزب اللہ لبنان نے عزالدین القسام بریگیڈز سے وابستہ تین کمانڈروں کی شہادت کے ردعمل میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا: حزب اللہ شہیدان محمد ابو شمالہ، رائد العطار اور محمد برہوم کے خاندانوں اور حماس، مزاحمت اور فلسطین کی قوم سے تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔ ان تینوں شہید کمانڈروں نے اپنی جانیں مزاحمت اور اپنی قوم کے دفاع پر قربان کیں۔ بیان میں کہا گیا ہے: کمانڈروں کی شہید ہونے سے مزاحمت کے عزم اور ارادے میں کوئی کمی نہیں آتی، بلکہ جہاد اور آزادی کے لیے ان کا عزم مزید مضبوط ہوتا ہے۔ حزب اللہ نے اعلان کیا کہ وہ غزہ میں صیہونیوں کے جرائم کی مذمت کرتا ہے جو عرب اور بین الاقوامی خاموشی کے سایے میں وحشیانہ طریقے سے جاری ہیں۔ عالمی برادری کی خاموشی نے صیہونی دہشت گردی کے لیے ایک آڑ فراہم کی ہے۔
وزارت خارجہ اسلامی جمہوریہ ایران نے غزہ کی پٹی میں عزالدین القسام بریگیڈز کے تین کمانڈروں کی شہادت کے موقع پر ایک بیان جاری کیا۔
اس بیان کا مکمل متن درج ذیل ہے:
"قرآنی متن|وَلا تَحسَبَنَّ الَّذینَ قُتِلوا فی سَبیلِ اللَّهِ أَمواتًا ۚ بَل أَحیاءٌ عِندَ رَبِّهِم یُرزَقونَ"[1]۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے شہید عزالدین القسام بریگیڈز کے تین کمانڈروں کی صیہونی مجرموں کے ہاتھوں شہادت پر اسلامی امت، مظلوم فلسطین کی قوم، خاص طور پر غزہ کے مزاحم لوگوں، ان کے ہمرزموں اور محترم خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے اس مجرمانہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے یقین ظاہر کیا ہے کہ اس قسم کے دہشت گردانہ اقدامات مزاحمت اور جہاد کے راستے میں حتمی فتح تک فلسطین کے مزاحم اور فداکار لوگوں اور ان شہیدوں کے ہمرزموں کے عزم کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
اور وہ اللہ تعالیٰ سے ان شہیدوں کے لیے درجات کی بلندی اور ہمرزموں اور بازماندگان کے لیے صبر اور ان عزیزوں کے راستے کو جاری رکھنے کی درخواست کرتا ہے۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- مرکز رؤیہ برائے سیاسی ترقی، رائد العطار، اشاعت کی تاریخ: 9 اگست 2021ء، دیکھنے کی تاریخ: 13 مرداد 1403 ہجری شمسی。
- شبکہ المیادین میڈیا، ایک آزاد عرب نیوز چینل، العطار، ابو شمالہ اور برہوم کون ہیں؟ شہید القسام کمانڈر۔، اشاعت کی تاریخ: 21 اگست 2014ء، دیکھنے کی تاریخ: 13 مرداد 1403 ہجری شمسی。
- مشرق نیوز، «نمبر ون آدمی» القسام بریگیڈز کے آپریشنز کون تھا؟، اشاعت کی تاریخ: 30 خرداد 1391 ہجری شمسی، دیکھنے کی تاریخ: 13 مرداد 1403 ہجری شمسی۔
- ↑ سورہ آل عمران، آیۂ 169