"ترکی" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| (ایک ہی صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا) | |||
| سطر 534: | سطر 534: | ||
[[زمرہ:ممالک]] | [[زمرہ:ممالک]] | ||
[[زمرہ:اسلامی ممالک]] | [[زمرہ:اسلامی ممالک]] | ||
[[fa: ترکیه]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 16:04، 5 اپريل 2026ء
| ترکی | |
|---|---|
![]() | |
| سرکاری نام | جمہوریہ ترکی |
| پورا نام | جمہوریہ ترکی |
| طرز حکمرانی | وفاقی جمهوریه |
| دارالحکومت | انقره |
| سرکاری زبان | ترکی |
ترکی اسلامی ممالک میں سے ایک اہم ملک ہے جس میں سیاسی، سماجی اور مذہبی تحریکوں کا خاص اثر رہا ہے۔ یہ ملک مشرق وسطیٰ میں بحیرۂ روم کے مشرقی حصے میں واقع ہے اور جغرافیائی لحاظ سے بلقان اور قفقاز کے سنگم پر واقع ہے۔
ترکی ایک منفرد جغرافیائی حیثیت رکھنے والا ملک ہے کیونکہ اس کا ایک حصہ ایشیا میں اور دوسرا حصہ یورپ میں واقع ہے۔ اس لحاظ سے اسے ایک یوریشیائی ملک کہا جاتا ہے۔ ملک کا بڑا حصہ یعنی اناطولیہ (یا ایشیائے کوچک) شمال مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں واقع ہے جبکہ ایک چھوٹا حصہ تھریس کے نام سے بلقان (جنوب مشرقی یورپ) میں واقع ہے۔
ترکی کے شمال میں بحیرہ اسود، شمال مشرق میں جارجیا اور آرمینیا، مشرق میں آذربائیجان اور ایران، جنوب مشرق میں عراق اور شام جبکہ جنوب مغرب اور مغرب میں بحیرہ روم اور بحیرہ ایجیئن واقع ہیں۔ ترکی کا دارالحکومت انقرہ ہے۔
دو اہم اسٹریٹجک آبی گزرگاہیں باسفورس اور داردانیلز بھی ترکی کے اختیار میں ہیں۔ ترکی کا رقبہ تقریباً 783,356 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ ملک زیادہ تر پہاڑی ہے اور نسبتاً بارش بھی زیادہ ہوتی ہے۔ جغرافیائی طور پر اس کی شکل مشرق سے مغرب تک پھیلے ہوئے مستطیل کی مانند ہے۔
ترکی دنیا کے انتہائی حساس خطوں میں واقع ہونے کی وجہ سے اہم جغرافیائی اور اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے اور شمال مغربی ایشیا اور یورپ کے درمیان ایک پل اور راہداری کی حیثیت رکھتا ہے۔ بہت سے ممالک خصوصاً ایران اپنی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ترکی کی سرزمین استعمال کرتے ہیں۔
ترکی اپنی خوشگوار آب و ہوا اور سیاحتی مقامات کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
ترکی کی آبادی تقریباً 84 ملین (2020ء) ہے۔[1] ان میں تقریباً 75 سے 85 فیصد اہل سنت جبکہ 15 سے 25 فیصد علوی ہیں۔
نسلی ترکیب کے اعتبار سے تقریباً:
- 70 تا 75 فیصد ترک
- 18 فیصد کرد
- 7 تا 12 فیصد دیگر قومیتیں
ترکی کی سرکاری زبان ترکی زبان ترکی (استانبولی) ہے۔ ماضی میں یہ زبان عربی رسم الخط (عثمانی) میں لکھی جاتی تھی، لیکن 1923ء میں جمہوریہ ترکی کے قیام کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک کی اصلاحات کے نتیجے میں 1928ء میں لاطینی رسم الخط اختیار کیا گیا۔ ماضی میں سلطنت عثمانیہ کے نام سے ترکی کئی صدیوں تک مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی یورپ کے وسیع علاقوں پر حکمران رہا۔
ترکی کے بڑے شہر
ترکی کے بڑے شہروں میں درج ذیل شہر شامل ہیں:
- استنبول
- انقرہ
- ازمیر
- بورسا
- آدانا
- غازی عینتاب
- انطالیہ
- قونیہ
- قیصریہ
یہ شہر جدید تجارتی مراکز، صنعتی علاقوں اور قومی پارکوں پر مشتمل ہیں۔
ترکی کی آبادی
2020ء کی مردم شماری کے مطابق ترکی کی آبادی تقریباً 84 ملین ہے۔
مذہبی تقسیم:
- 75 تا 85 فیصد سنی
- 15 تا 25 فیصد علوی
- تقریباً 0.4 فیصد عیسائی اور یہودی
ترکی ایک سیکولر ریاست ہے، تاہم عوام کی بڑی اکثریت مسلمان ہے۔
ترکی کی زبان
ترکی زبان ترک زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اسے دنیا کی قدیم زبانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس زبان کی مختلف شاخیں درج ذیل ہیں:
1. وسطی ایشیائی شاخ 2. جنوب مغربی شاخ 3. شمال مغربی شاخ 4. جنوبی سائبیریا کی شاخ 5. شمالی سائبیریا کی شاخ
ترکی زبان میں عربی اور فارسی کے بہت سے الفاظ شامل ہوئے، خاص طور پر عثمانی دور میں۔[2]
حکومت اور سیاسی نظام
حکومت
ترکی کے آئین کی پہلی دفعہ کے مطابق ریاست کی نوعیت جمہوری ہے۔ آئین کی دوسری دفعہ کے مطابق یہ ایک سیکولر، جمہوری اور سماجی ریاست ہے۔
2017ء کے آئینی ریفرنڈم اور 2018ء کے انتخابات کے بعد ترکی کا نظام پارلیمانی سے صدارتی نظام میں تبدیل ہو گیا۔
انتظامیہ
انتظامی اختیارات صدر کے پاس ہوتے ہیں جو عوام کے براہ راست ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں۔
مقننہ
قانون سازی کا ادارہ ترکی کی عظیم قومی اسمبلی ہے جس میں 600 ارکان ہوتے ہیں۔
عدلیہ
ترکی میں عدلیہ کو آئینی طور پر آزادی حاصل ہے اور عدالتیں آئین کی دفعہ 138 کے مطابق آزادانہ فیصلے کرتی ہیں۔
ترکی کی اہم سیاسی جماعتیں
- حزب عدالت و ترقی
- ریپبلکن پیپلز پارٹی
- ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی
- قوم پرست تحریک (MHP)
- اچھی پارٹی (İYİ Parti)
- سعادت پارٹی (Saadet Partisi)
ترکی میں کرد جماعتیں
امن و جمہوریت پارٹی (BDP)
یہ جماعت مئی 2008ء میں قائم ہوئی اور صلاح الدین دمیرتاش کو اس کا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا۔ امن و جمہوریت پارٹی اس وقت ترکی کے لاکھوں کردوں کے حقوق کی سب سے بڑی قانونی حامی جماعت سمجھی جاتی ہے اور کرد علاقوں میں خاصا سماجی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔
حق و آزادی پارٹی (HAKPAR)
یہ جماعت عبدالملک فرات کی قیادت میں قائم ہوئی جو ترکی کے معروف کرد رہنما شیخ سعید کے پوتے ہیں۔ اس کے رہنما کمال بورکای ہیں اور جماعت کا نظریہ سوشلسٹ رجحان رکھتا ہے۔
آزاد مطالبہ اسلام پسند پارٹی (HUDAPAR)
اس جماعت کے رہنما زکریا یاپیجی اوغلو ہیں۔ کرد اسلام پسند حلقوں نے اس جماعت کو 2012ء میں قائم کیا۔ یہ جماعت اسلامی اصولوں کی بنیاد پر یہ موقف پیش کرتی ہے کہ کمالزم اور آپو ازم کردوں کے مسائل کا حل نہیں ہیں۔ اس جماعت کی معروف شخصیات میں حسین یلماز اور سعید شاہین شامل ہیں۔
ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی (DHP)
ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی سابقہ جماعتوں کے خاتمے کے بعد قائم کی گئی۔ اس کے رہنماؤں میں ارتوغرول کورکچو اور صباحت تونجل شامل ہیں۔
ترکی کی زبانیں اور نسلی گروہ
ترکی کے آئین کے مطابق “ترک” ایک سیاسی اصطلاح ہے جس میں جمہوریہ ترکی کے تمام شہری شامل ہوتے ہیں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی نسل یا مذہب سے ہو۔ نسلی اقلیتوں کو سرکاری حیثیت حاصل نہیں ہے اور اکثریت کی مادری زبان ترکی ہے۔
ترکی کی معیشت
1923ء کے بعد سے ترکی کی معیشت ایک مخلوط نظام پر قائم ہے جس میں سرکاری اور نجی دونوں شعبے شامل ہیں۔ وقت کے ساتھ اقتصادی سرگرمیاں زراعت سے صنعت اور خدمات کے شعبے کی طرف منتقل ہوئیں اور یہ شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔
قدرتی وسائل
ترکی قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اگرچہ ان میں سے کچھ ہی بڑے پیمانے پر قابل استعمال ہیں۔ ایران کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں ترکی وہ ملک ہے جس کے پاس کوئلے کے قابل ذکر ذخائر ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ذخائر زونگولداغ کے علاقے میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ محدود مقدار میں تیل جنوب مشرقی ترکی اور شمال مغربی تراکیہ میں پیدا ہوتا ہے۔ تاہم ملک کو زیادہ تر تیل درآمد کرنا پڑتا ہے۔ منگنیز، زنک، سیسہ، تانبا اور باکسائٹ کے ذخائر بھی موجود ہیں۔
زراعت
ترکی کی تقریباً ایک تہائی زمین زراعت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ زرعی زمین کا ایک بڑا حصہ فصلوں کی کاشت کے لیے جبکہ ایک حصہ مویشیوں کے چرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اہم فصلوں میں گندم، جو، مکئی، چاول، کپاس، چقندر، تمباکو اور آلو شامل ہیں۔ انگور، زیتون اور سبزیوں کی کاشت بھی کی جاتی ہے۔ زراعت اور مویشی پالنا ترکی کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور کپاس، تمباکو، پھل، سبزیاں اور دیگر زرعی مصنوعات اہم برآمدی اشیاء ہیں۔
نباتاتی ماحول
ترکی کی نباتات کو عمومی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: اسٹیپی گھاس زار جو زیادہ تر وسطی اور جنوب مشرقی اناطولیہ میں پائے جاتے ہیں اور جنگلات جو ملک کے دیگر علاقوں میں موجود ہیں۔
بحیرہ اسود کے مشرقی ساحل پر واقع پونٹک جنگلات سب سے زیادہ گھنے ہیں کیونکہ اس علاقے میں بارش زیادہ ہوتی ہے اور موسم معتدل رہتا ہے۔ ان جنگلات میں بلوط، صنوبر، دیودار، میپل اور دیگر درخت پائے جاتے ہیں۔ بحیرہ ایجیئن اور بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں میں میڈیٹرینین قسم کی نباتات جیسے جنگلی زیتون، لوریل اور خرنوب پائے جاتے ہیں۔
ترکی کی ثقافت
ثقافتی لحاظ سے ترکی مشرق اور مغرب کے درمیان ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس کی ثقافت میں یورپی اور مشرق وسطیٰ دونوں کے عناصر شامل ہیں۔ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ فہرست میں شامل مقامات میں استنبول کے تاریخی علاقے، پاموکالے، کاپادوکیہ اور آیا صوفیہ مسجد شامل ہیں۔
بازنطینی سلطنت کے دور میں اناطولیہ قسطنطنیہ کے زیر اثر تھا۔ بعد میں ترکوں کی آمد کے ساتھ یہ علاقہ اسلامی دنیا کا حصہ بن گیا۔ عثمانی سلطنت ایک کثیر الثقافتی اور کثیر النسلی سلطنت تھی جبکہ جدید ترکی جو مصطفیٰ کمال اتاترک نے قائم کیا، لسانی اور مذہبی طور پر نسبتاً زیادہ ہم آہنگ تھا۔
اتاترک اور ان کے پیروکاروں کی نگرانی میں ترکی بتدریج زیادہ سیکولر اور مغرب نواز بنتا گیا۔ یہ رجحان ترکی زبان کی اصلاحات، روایتی عربی رسم الخط کی جگہ ترمیم شدہ رومی (لاطینی) حروف تہجی کے استعمال، اور اسلام کو ریاست سے جدا کرنے (مذہب کو سیاست سے الگ کرنے) میں نمایاں ہوا۔ اس کے باوجود اسلام نے مرد و زن کے باہمی تعلقات اور خاندانی زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اس اثر کی شدت ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں، شہری و دیہی آبادیوں اور مختلف سماجی طبقات میں مختلف ہوتی ہے۔
ترکی میں مذہب
ملک کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی مسلمان ہے، تاہم ترکی ایک سیکولر ریاست ہے۔ 1928ء میں آئینی ترمیم کے ذریعے اسلام کو سرکاری مذہب کی حیثیت سے ختم کر دیا گیا اور اس کے بعد سے مذہب اور سیاست کی علیحدگی کے اصول کے تحت ترکی کو ایک لادین ریاست کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ قانون آج تک نافذ ہے۔ مسلح افواج بھی ہمیشہ ترکی میں سیکولرزم کے نفاذ پر زور دیتی رہی ہیں۔
اسی دوران ترکی کے مضبوط سیکولر نظام نے بعض معاملات میں ایسی صورتحال پیدا کی جسے کچھ لوگ مذہبی آزادی پر پابندی سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر طویل عرصے تک بعض سرکاری مقامات پر سر پر اسکارف پہننے پر پابندی رہی۔ مذہبی آزادی سے متعلق ان پابندیوں نے اکیسویں صدی میں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (Adalet ve Kalkınma Partisi; AKP) کے ابھرنے میں کردار ادا کیا۔ اسی سلسلے میں فروری 2008ء میں آئینی ترمیم منظور کی گئی جس کے تحت خواتین کو یونیورسٹی کیمپس میں اسکارف پہننے کی اجازت دی گئی۔
مسلمان اکثریت کے علاوہ ترکی میں یہودی اور عیسائی اقلیتیں بھی موجود ہیں۔ تقریباً 0.4 فیصد آبادی غیر مسلموں پر مشتمل ہے۔ ترکی میں تقریباً 180,854 عیسائی اور قریب 20,000 یہودی رہتے ہیں۔ ملک میں 435 عبادت گاہیں موجود ہیں جن میں صدیوں پرانے گرجا گھر اور کنیسائیں شامل ہیں۔ عیسائی مختلف فرقوں میں تقسیم ہیں جیسے یونانی آرتھوڈوکس، آرمینیائی آرتھوڈوکس، رومن کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور دیگر۔
ترکی میں مذاہب
حنفیانِ اناطولیہ (اکثریت ترک)
حنفی فقہ اور ماتریدی کلام کا ترکی کے موجودہ علاقے میں داخلہ سلجوقیوں کی آمد کے ساتھ ہوا۔ سلجوقیوں کے بعد سنہ 699 ہجری میں عثمان بن ارطغرل، جو سلجوقیوں کی نسل سے تھے، اقتدار میں آئے اور ایشیائے کوچک میں عثمانی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اس سلطنت میں فقہ حنفی کو سرکاری فقہ قرار دیا گیا۔ چنانچہ عثمانیوں نے بھی سلجوقیوں کی طرح فقہی مسائل میں امام ابو حنیفہ اور عقائد میں امام ماتریدی کی پیروی کی۔
تمام قاضی، مفتی، خطیب اور مدارس کے سربراہ ماتریدی علما میں سے ہوتے تھے اور انہیں اپنے افکار و آراء آزادانہ طور پر نشر کرنے کی اجازت بلکہ حوصلہ افزائی بھی ملتی تھی۔ اسی طویل دور میں ماتریدیہ کی فکر مشرق و مغرب عالم اسلام میں پھیل گئی اور اس مکتب فکر نے اپنے عروج کو پہنچا۔
ماتریدیہ چونکہ ایک کلامی مکتب ہے اس لیے عام لوگوں کے شعور میں براہ راست نمایاں نہیں ہوتا اور زیادہ تر علما ہی اس سے واقف ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ترکی کے عوام غیر شعوری طور پر ماتریدی عقائد رکھتے ہیں لیکن اگر ان سے پوچھا جائے تو وہ خود کو اہل سنت کہتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں مذہب دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے: عقائدی پہلو جس سے علما کا تعلق ہوتا ہے اور عملی و عبادتی پہلو جسے عوام سمجھتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ ترکی میں عوام کے عقائد براہ راست واضح نہیں ہوتے بلکہ درسی کتب سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مدارس، دینی اداروں اور جامعات میں پڑھائے جانے والے نصاب کا تعلق بھی ماتریدی مکتب سے ہے۔[4]
شافعی
شافعی اہل سنت کی ایک شاخ ہے جس کے پیروکاروں میں زیادہ تر کرد شامل ہیں۔
علوی
علوی مختلف قومیتوں پر مشتمل ایک گروہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 12 ملین افراد اس مسلک سے وابستہ ہیں اور انہیں مختلف ذیلی گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جیسے رافی، باطنی، روفی اور بکتاشی۔
شیعہ
ترکی میں شیعوں کی آبادی مجموعی مسلم آبادی کا تقریباً 15 سے 20 فیصد بتائی جاتی ہے۔ اس میں مختلف گروہ شامل ہیں جیسے باطنی، علوی، بکتاشی، نصیری، اسماعیلی، زیدی، بہائی اور دوازده امامی شیعہ۔ ترکی میں جعفری یا اثنا عشری شیعوں کی تعداد تقریباً تین ملین بتائی جاتی ہے جن میں سے نصف سے ڈیڑھ ملین کے درمیان افراد استنبول میں رہتے ہیں، جن میں بعض ایران سے ہجرت کر کے آئے ہیں۔
ترکی کے شیعوں کو عمومی طور پر دو بنیادی گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: پہلا گروہ نسلی یا ثقافتی شیعوں کا ہے جن کی بڑی تعداد آذری نسل سے تعلق رکھتی ہے اور یہ زیادہ تر آغری، ایغدیر اور کارس کے شہروں میں آباد ہیں جبکہ استنبول، انقرہ، ازمیر، بورسا، مانیسا، ازمیت اور یالووا میں بھی ان کی آبادی موجود ہے۔
دوسرا گروہ نظریاتی شیعوں کا ہے جس کی تعداد نسبتاً کم ہے۔ اس گروہ میں زیادہ تر وہ افراد شامل ہیں جو پہلے سنی یا علوی تھے لیکن ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد اسلامی نظریات سے متاثر ہو کر جعفری مسلک کی طرف مائل ہوئے۔[5]
ترکی میں اسلامی تحریکیں
ترکی میں اسلامی فکر کے تین بڑے رجحانات پائے جاتے ہیں جن کا مرکزی محور اسلام ہے جبکہ سیکولرزم اور جمہوریت کے عناصر بھی ان میں شامل ہیں۔
سیاسی اسلام
سیاسی اسلام ایک اشرافی یا فکری تحریک ہے جو اتاترک کی غیر مذہبی پالیسیوں کے بعد اسلام کو دوبارہ سیاسی اور سماجی میدان میں لانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس تحریک کو زیادہ تر نجم الدین اربکان سے منسوب کیا جاتا ہے جو ترکی میں جمہوری نظام کے اندر سیاسی اسلام کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔
اسلام کو دوبارہ سیاسی و سماجی میدان میں لانے کی پہلی بڑی کوشش 1970ء سے 1980ء کے درمیان کی گئی جسے اسلامیت کی پہلی لہر یا سیاسی اسلام کہا جاتا ہے۔ اس دور میں اسلام پسندوں نے دس سال تک معاشرے کے حاشیے پر رہنے کے بعد ریاستی نظام کو قبول کرتے ہوئے بتدریج سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔
لبرل اسلام
1997ء کی فوجی مداخلت، جسے پوسٹ ماڈرن بغاوت بھی کہا جاتا ہے اور جس کے نتیجے میں اربکان کی حکومت ختم ہو گئی، کے بعد اسلام پسندوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی۔ اربکان کے فکری شاگردوں جیسے رجب طیب اردوغان اور عبداللہ گل نے جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی قائم کی اور 2002ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد ترکی کی سیاست میں ایک نیا مرحلہ شروع ہوا۔
اس جماعت نے اپنے نظریات میں تبدیلی لاتے ہوئے ایک طرف جمہوری ثقافت کو مضبوط بنانے اور دوسری طرف اسلام کو ترک ثقافت کے ایک عنصر کے طور پر سماجی زندگی میں نمایاں کرنے کی کوشش کی اور مذہبی آزادی کی حمایت کی۔
ترکی کا سماجی اسلام
یہ رجحان آج کل فتح اللہ گولن کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے نورسی تحریک کی توسیع سمجھا جاتا ہے۔ یہ تحریک اسلام کی ثقافتی اور سماجی تشریح پر زور دیتی ہے اور روایتی سیاسی اسلام یا شدت پسند سلفی نظریات سے مختلف ہے۔ اس کا زور شناخت، محدود شریعت، خدمت اور بین المذاہب مکالمے پر ہے۔[6]
طریقہ در ترکی
اہل سنت ترکی میں دو بہت مشہور طریقے (صوفی سلسلے) ہیں، جن میں سے ایک کو نورجی اور دوسرے کو نقشبندی کہا جاتا ہے۔ نوجوان اہل سنت میں نورجی زیادہ بااثر ہیں، جبکہ عام لوگ نقشبندی طریقہ کی طرف زیادہ مائل ہیں۔ دیگر گروہ بھی اہل سنت میں موجود ہیں، جن میں یازجیلر، کائلانجیلر، سامی آفندی گروپ اور محمود آفندی گروپ شامل ہیں، جن کے زیادہ پیروکار نہیں ہیں۔ اب ہم نورجی اور نقشبندی طریقوں کے بارے میں کچھ بات کریں گے۔
نورجی
اس طریقہ کے بانی سعید نورسی ہیں، جن کا انتقال 1960ء میں ہوا۔ سعید نورسی کی وفات کے بعد یہ طریقہ مختصر عرصے کے لیے مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گیا، لیکن بعد میں فتح اللہ گولن نامی شخص نے اسے دوبارہ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ فتح اللہ گولن کو 1917ء میں بنیاد پرستی اور لبرل حکومت کے خلاف سرگرمیوں کی بنا پر تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔
نورجی اپنے اصل رہنما کو رسول اکرم (ص)، جماعت کے فکری رہنما کو سعید نورسی اور موجودہ رہنما کو فتح اللہ گولن مانتے ہیں۔ گولن اپنی تقریریں ہمیشہ روتے ہوئے کرتے تھے اور اس طرح لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتے تھے۔ ان کے ٹیلی ویژن نیٹ ورک، STV، پر روزانہ ان کی تقریریں اور خطبے نشر کیے جاتے ہیں۔ نورجی جماعت فتح اللہ گولن کو «مہدی موعود» اور «عیسیٰ» کہتی ہے۔
نقشبندی طریقہ
نقشبندیہ سلسلہ تصوف کے ان سلسلوں میں سے ایک ہے جسے خواجہ بہاء الدین محمد بن محمد بخاری نے 8ویں صدی ہجری قمری میں قائم کیا۔ وہ بخارا میں 718ق یا 728 ق میں پیدا ہوئے اور 791 ق میں وفات پائی۔
نقشبند نام اور نقشبندیہ کی تسمیہ کے بارے میں کئی وجوہات بیان کی گئی ہیں:
- نقشبند بخارا میں ایک گاؤں کا نام ہے جس سے شیخ بہاء الدین منسوب ہیں۔
- بعض کہتے ہیں کہ اللہ کے ذکر کے کثرت سے ورد کی وجہ سے ان کے دل پر نقش بیٹھ گیا تھا، اس لیے انہیں نقشبندی کہا گیا۔
- بعض نے کہا ہے کہ وہ اپنے والد کی طرح کیمخا (کیمخاف) نام کا کپڑا بنتے تھے اور ان کپڑوں پر پھولوں کے نقش بناتے تھے، اسی وجہ سے وہ شاہ نقشبند کے نام سے مشہور ہوئے اور نقشبندی کہلائے۔
صوفی فرقے اپنی اہمیت حاصل کرنے کے لیے اپنے سلسلے کے اقطاب (بزرگان) کے سلسلے کو (بعض ائمہ اطہار (ع) کے ذریعے اور بعض اس کے علاوہ) نبی اکرم (ص) تک پہنچاتے ہیں۔ نقشبندیہ فرقہ نے بھی سلمان فارسی کے ذریعے اور اس کے بعد پہلے خلیفہ ابوبکر کے ذریعے اپنے اقطاب کا سلسلہ اور شجرہ نامہ نبی اکرم (ص) تک پہنچایا ہے۔
انہوں نے اپنے سلسلے میں امام جعفر صادق (ع) کو پانچویں قطب کے طور پر شامل کیا ہے اور ان کا عقیدہ ہے کہ ان کے بعد درویشی کا خرقہ بایزید بسطامی کو منتقل ہوا اور ان سے اگلے اقطاب تک منتقل ہوتا رہا۔ عجیب بات یہ ہے کہ خود بہاء الدین نقشبند کا نام، جو خواجہ عبدالخالق عجودوانی، جو اس فرقے کے دسویں قطب تھے، کے شاگرد تھے، اقطاب کے سلسلے میں نظر نہیں آتا۔ یہ فرقہ چین کے ہانسو صوبے، ترکی، وسطی ایشیا، ہندوستان، افغانستان اور ایران جیسے مختلف علاقوں میں پیروکار رکھتا ہے، جن کے پیروکار عام طور پر اہل سنت سے منسوب ہوتے ہیں اور شیعوں میں ان کے پیروکار کم ہیں۔
دیگر صوفی فرقوں کے مشترکہ عقائد اور آراء کے علاوہ جیسے وحدت الوجود، حلول، خانقاہی سیر وسلوک وغیرہ، اس فرقے کے اپنے مخصوص عقائد بھی ہیں جو اسے دیگر فرقوں سے ممتاز کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کا ذکر ذیل میں کیا گیا ہے۔ ن
- قشبندیہ طریقہ خانقاہوں میں اجتماعی زندگی کی بنیاد پر قائم ہے اور گوشہ نشینی اور زہد کو رد کرتا ہے اور ذکر خفی (پوشیدہ ذکر) کو معمول بناتا ہے۔
- اس فرقے کے درویشوں کا خرقہ زرد اور خاکستری رنگ کا ہوتا ہے، جو اس سلسلے کے درویشوں کی ظاہری شناخت سمجھی جاتی ہے۔
- نقشبندیہ فرقے کے عقائد کی بنیاد آٹھ اصولوں پر قائم ہے، جو یہ ہیں: دم کی خبر (سانس کا خیال رکھنا)، قدم پر نظر (ماضی پر نظر رکھنا)، وطن میں سفر (ذہنی سفر)، انجمن میں خلوت (لوگوں میں رہتے ہوئے خلوت)، یاد کرنا، واپس آنا، حفاظت کرنا، یادداشت یا خود داری۔
- نقشبندی مکتب کے پیروکار کو تین مقامات پر عمل کرنا چاہیے، جو یہ ہیں:
- الف: اعداد کے مقام کا مشاہدہ۔
- ب: دقت کے مقام کا مشاہدہ۔
- ج: دل کے مقام کا مشاہدہ۔
لہذا نقشبندیہ فرقہ، رکنیت اور عقائد کے اعتبار سے قادریہ، گنابادیہ، ذہبیہ وغیرہ جیسے دیگر صوفی فرقوں سے کوئی فرق نہیں رکھتا، اور یہ سب اپنے اپنے حصے کے مطابق، خاص طور پر نوجوان مسلمانوں میں اختلاف اور انحراف کا باعث بنے ہیں، اور دشمنان دین نے اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا ہے۔ جیسا کہ موجودہ دور میں ان طریقوں کے بیشتر مرکزی مراکز اور اقطاب مغربی ممالک جیسے امریکہ، انگلینڈ اور کچھ یورپی ممالک میں موجود ہیں۔[7]
1970ء کے بعد نقشبندی طریقہ اہل سنت ترکی میں بہت پھیل گیا۔ یہ لوگ آج، اگرچہ نور طریقہ جتنے نہیں، لیکن اپنے حصے کے مطابق فعال ہیں۔ نقشبندیوں، خاص طور پر ان کے ایک گروپ «اشیکلار» کا سب سے مثبت کام ملک میں وہابیت کی تبلیغات اور اثر و رسوخ کو بے اثر کرنا ہے۔ اس سلسلے کے مرید گھر گھر گئے اور «سعادت ابدیہ» نامی کتاب تقسیم کی جس میں وہابیت کے عقائد پر تنقید کی گئی تھی۔ آج اخلاص کمپنی اور TGRT ٹیلی ویژن نیٹ ورک ان کے زیر انتظام ہے<19>، جسے اثنا عشری شیعہ افکار کا سب سے بڑا دشمن سمجھا جا سکتا ہے۔
طریقہ اسماعیل آغا
یہ ایک طریقہ ہے جسے عرفانی طریقہ «نقشبندیہ» کے ایک بڑے ذیلی گروپ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اسماعیل آغا ایک طاقتور اور بااثر طریقہ ہے جو گزشتہ 40 سالوں میں ایک مضبوط سماجی اور مذہبی مرکز بن گیا ہے اور اس کے زیر انتظام بہت سے دینی مدارس اور تکیا (خانقاہیں) ہیں۔ احمد عثمان اوستا اوغلو، محمود آفندی، جو اسماعیل آغا کے روحانی پیشوا ہیں، کے بیٹے ہیں۔
اسماعیل آغا طریقہ 1980ء سے، یعنی کنعان اورن کی فوجی بغاوت کے وقت سے، ایک مرکز اور مذہبی مقام کے طور پر ابھرا ہے، اور اس کے کچھ بزرگ اور نمایاں چہرے پراسرار اور نامعلوم طریقے سے، کچھ خنجر اور چھریوں سے اور کچھ پستول سے قتل بھی ہو چکے ہیں۔
اسماعیل آغائیوں کا استنبول کے کچھ حصوں میں خاص اثر و رسوخ ہے، لیکن دوسرے صوبوں میں بھی ان کے بہت سے مرید اور وابستہ افراد ہیں۔ اس طریقہ کے مرد حضرات داڑھی اور مونچھیں رکھتے ہیں اور لمبی جبہ پہنتے ہیں، جبکہ خواتین اور لڑکیاں مکمل حجاب، برقع اور نقاب اختیار کرتی ہیں۔[8]
ترکی میں مذہبی شاخیں
علوی
ترکی کے علوی یا اناطولیائی علوی، ترکی میں شیعہ سے منسوب گروہوں میں سے ایک ہیں جو عقائد کے لحاظ سے اثنا عشری شیعہ ہیں، لیکن باطنی عقائد سے متاثر ہونے اور فقہ جعفری سے دور ہونے کی وجہ سے عملی طور پر اثنا عشری سے دور ہو گئے ہیں۔ کچھ نظریات کے مطابق، علوی نام تقریبا 250 سال پہلے عثمانیوں نے ترکی کے علویوں پر رکھا تھا تاکہ انہیں شیعوں سے الگ کیا جا سکے۔ چونکہ اناطولیہ (ترکی کے ایشیائی حصے کا تاریخی نام) علویوں کا مسکن رہا ہے، اس لیے بعض اوقات انہیں اناطولیائی علوی بھی کہا جاتا ہے۔ کچھ اعداد و شمار کے مطابق، علوی ترکی کی آبادی کا تقریبا 30 فیصد ہیں۔
کچھ ذرائع میں، ترکی کے علویوں کی تعریف یوں کی گئی ہے: «علوی وہ ہے جو قلبی، قولی اور عملی طور پر کلمہ لا الہ الا اللہ، محمد رسول اللہ، علی ولی اللہ کی تصدیق کرتا ہے اور اپنے عمل کو اس کلمہ کے مطابق انجام دیتا ہے۔» ایک علوی مصنف کی طرف سے ترکی کے علویوں کی تعریف میں کہا گیا ہے: «جو شخص مضبوطی سے اللہ کی رسی (قرآن کریم) اور چودہ معصومین (ع) سے تمسک کرے اور محمد (ص) اور علی (ع) کے نور سے فیض یاب ہو اور کلمہ لا الہ الا اللہ، محمد رسول اللہ، علی ولی اللہ کی تصدیق کرے اور اپنے عمل کو اس کلمہ کے مطابق انجام دے۔»
علویوں کے اہم مذہبی احکام روحانی طبقہ، یعنی ددوں (Dede) کے ذریعے زبانی طور پر منتقل ہوتے ہیں۔ یہ زبانی ذرائع مناقب ناموں اور نفس (اشعار جن میں بکتاشی علویوں کے عقائد بیان کیے گئے ہیں) کی شکل میں ہیں۔ علویوں کے تحریری معارف «بویروکلار» (احکامات) نامی مجموعے میں جمع ہیں۔ یہ ذرائع محدود ہیں، سب کے پاس دستیاب نہیں ہیں، اور یکساں نوعیت کے نہیں ہیں۔ مزید برآں، یہ ذرائع بعد کے ادوار میں لکھے گئے ہیں، جن میں سب سے قدیم 18ویں صدی کا ہے۔ لہذا، یہ تمام علویوں کے لیے رجوع کا ذریعہ نہیں بن سکتے اور علوی معاشرے کو متحد نہیں کر سکتے۔ ترکی کے علوی نسلی لحاظ سے تین گروہوں میں تقسیم ہیں: ترکمن، کرد اور زازا۔
ترکمن
ترکمن علویوں کی سب سے بڑی تعداد ہیں۔ ترکمن ترک نسل کی ایک شاخ ہیں جنہیں تاریخی طور پر اوغوز کہا جاتا ہے۔ اوغوز جو 10ویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں اسلام لائے، ترکمن کہلائے، لیکن جو مسلمان نہیں ہوئے وہ اوغوز کے نام سے مشہور رہے۔ ترکمن خود تین قسم کے ہیں:
چینی
یہ گروہ اوغوز کے اوچ اوک (تین تیر) شاخ سے منسوب ہے۔ ولایت نامہ حاج بکتاش ولی، جو علویوں کی تاریخی شخصیات میں سے ہیں، میں اس گروہ کا ذکر ہے۔ چینی سلجوقیوں کے اناطولیہ پر ابتدائی تسلط کے دوران ان علاقوں میں ہجرت کر گئے۔ انہیں سلجوقی حکومت نے سرحدی علاقوں کے حکمران مقرر کیا۔ 13ویں صدی عیسوی کے آخر میں صفویوں سے ہم آہنگی اور قریبی تعلق کی وجہ سے انہیں قزلباش کہا جانے لگا۔ قزلباش صفوی فوجیوں کا لقب تھا۔
آج بہت سے چینی ترکی کے شمال میں گیرسون، تیرے بولو، گورلو اور واقی کبیر شہروں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے اہل سنت کے بزرگوں اور ان علاقوں کے حکمرانوں کے زیر اثر علویت کو ترک کر کے اہل سنت کی طرف رجوع کیا۔ تاہم، شمال مغربی ترکی کے بالیکسیر صوبے میں رہنے والے کچھ چینیوں نے اپنی علوی شناخت برقرار رکھی۔
تختچی
ترکمنوں کا یہ گروہ آج ترکی کے جنوب سے جنوب مغرب تک وسیع علاقوں، ماراش سے توروس پہاڑوں تک اور توروس پہاڑوں کے آخر سے بحیرہ ایجین (شمال مغرب سے جنوب مغرب تک ترکی کے ساحل کے ساتھ سمندر) تک آباد ہیں۔ تختچیوں کو عدنہ، ماراش، ایچل، بوردور، اسپارتا، دنیزلی، موغلا، آیدین، ازمیر، بالیکسیر اور تراکیا (ترکی کا یورپی حصہ) کے جنگلات والے علاقوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
بیدی
یہ گروہ بوزوک ترکمنوں کی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے صفوی سلطنت کے قیام میں حصہ لیا تھا۔ موجودہ دور میں، وسط اناطولیہ میں رہنے والے علوی بیدیوں سے منسوب ہیں۔ انقرہ، توقات، کرشہر، قیصری، نوشہیر اور ان کے اطراف کے شہر اس ترکمن علوی گروہ کے مسکن ہیں۔
کرد
بعض استنبولی محققین کا خیال ہے کہ ترکی میں مقیم ایک تہائی کرد علوی ہیں۔ علوی کرد بینگول، تونجلی، ارزنجان، سیواس، یوزگات، الازگ، مالاتیا، قہرمان ماراش اور قیصری کے شہروں میں پراگندہ طور پر رہتے ہیں۔
زازا
زازا علویوں کی ایک نسل تشکیل دیتے ہیں۔ ان کی زبان کردش اور لری زبانوں سے بہت ملتی جلتی ہے۔ تقریبا آدھے زازا سنی اور آدھے علوی ہیں۔ علوی زازا شمالی ترکی کے مونزور پہاڑوں کے علاقوں، ارزنجان شہر کے مرکز اور ارزروم شہر میں رہتے ہیں۔
نصیری علوی (عرب)
ترکی میں علویوں کا ایک اور گروہ ہے جو عرب نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ جنوبی ترکی میں شام کی سرحد کے قریب حاتائے اور عدنہ شہروں میں رہتے ہیں۔ یہ گروہ وہی شامی علوی یا نصیری ہیں اور ترکی کے علویوں سے، جنہیں اناطولیائی علوی بھی کہا جاتا ہے، کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ عرب علوی ترکی کے علویوں سے کم آبادی رکھتے ہیں۔ حاتائے شہر میں ہزاروں افراد کی شرکت کے ساتھ عید غدیر کا انعقاد علویوں کی اہم اور شاندار تقریبات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس تقریب میں اہل سنت کے مفتی اور سرکاری عہدیدار بھی شرکت کرتے ہیں۔
بکتاشیہ
بکتاشی طریقہ ترکی کے اہم طریقوں میں سے ایک ہے۔ بکتاشیہ وہ طریقہ ہے جو خود کو خراسانی زاہد حاجی بکتاش ولی سے منسوب کرتا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس مذہب کی بنیاد انہوں نے رکھی ہو۔ بہت سے لوگ اس مذہب کا ظہور بالم سلطان نامی شخص سے مانتے ہیں۔ یہ طریقہ اناطولیہ سے شروع ہوا اور سلطنت عثمانیہ کی سرکاری حمایت اور اس کی فتوحات کے نتیجے میں بالکن جزیرہ نما تک پہنچا اور وہاں سے البانیہ تک پھیل گیا اور بعد میں وہاں بکتاشی خانقاہیں تعمیر ہوئیں۔
اس فرقے کا بالکن جزیرہ نما تک پہنچنا وہاں کے باشندوں کے اسلام قبول کرنے میں ایک اہم کردار تھا۔ آج البانیہ میں اور محدود پیمانے پر ترکی میں، شام، مصر، یورپ میں مقیم ترکوں اور مقدونیہ اور کوسوو کے البانوی بولنے والے اور مسلمان علاقوں میں بکتاشی رائج ہیں۔ اس فرقے کے بانی سید محمود رضوی المعروف بہ حاجی بکتاش ولی (وفات 669 ق) ہیں، جن کی زندگی مختلف ذرائع میں مبالغہ آمیز افسانوں اور حکایات سے ملی ہوئی ہے۔ مختصراً یہ کہ وہ خراسانی ترکمن صوفیاء میں سے تھے، جو بابا کے نام سے جانے جاتے تھے اور احمد یسوی (وفات 562 ق) کے پیروکار تھے۔[9]۔ ممکن ہے کہ وہ 6ویں صدی ہجری میں ترکمنوں کی مشرقی ہجرت کے ساتھ اناطولیہ آئے ہوں۔
بعض ذرائع نے حاجی بکتاش کے تاریخی وجود پر شک کیا ہے اور بکتاشی طریقہ کا حقیقی بانی بالیم سلطان یا بالیم بابا المعروف بہ پیر دوم (وفات 922 ق) کو ٹھہرایا ہے (معصومی، دائرة المعارف ادب فارسی، 6/190؛ انوشہ، دائرة المعارف تشیع، 3/388)۔ بعض یہ بھی اصرار کرتے ہیں کہ ان کا تعلق عیسائی پس منظر سے تھا۔ تاہم، غالب رائے یہ ہے کہ حاجی بکتاش بانی تھے، لیکن بالیم سلطان نے فرقے کو یہ خاص شکل دی، اس کے اصولوں کو واضح اور متعین کیا، اور بکتاشی طریقہ میں نئی رسومات اور درجہ بندی قائم کی۔
حاجی بکتاش ولی کے عقائد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان پر توحید اور تجرید کا مشرب غالب تھا اور وہ اکثر حال میں مغلوب ہو جاتے تھے، اور جب ہوش میں آتے تو مخالفین کو لعن طعن کرتے اور کثرت اور ازدحام کے باوجود اپنی رائے کو چھپاتے نہیں تھے (شیرازی، طرائق الحقائق، 2/347)۔
اس بات کے پیش نظر کہ کتاب المقالات میں، جو اصل میں عربی میں لکھی گئی ہے، حاجی بکتاش کے خفیہ رسومات اور تعلیمات واضح طور پر ذکر نہیں ہیں، یہ نظریہ تائید کرتا ہے۔ حاجی بکتاش، عثمانی حکمران اورخان کے ہم عصر تھے اور ان کے ساتھ ان کی قربت تھی۔ (معصومی، وہی ماخذ، 191)۔
اگرچہ علوی اور بکتاشی الگ الگ ہیں، لیکن آج تاریخی اور سماجی لحاظ سے انہیں ایک دوسرے سے آزاد قرار دینا ممکن نہیں ہے۔ علویوں کے عقائد بکتاشیوں کے عقائد کے مماثل ہیں۔ ادبیات، اخلاقیات اور عقیدے کے لحاظ سے ان میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے اور ان کے اصول مشترک ہیں ــ ان کا بنیادی فرق سماجی ہے، اور وہ یہ کہ بکتاشی اکثر شہروں میں رہتے تھے اور علوی خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش زندگی گزارتے تھے۔
اس لیے بکتاشی ایک منظم گروہ ہیں، لیکن علوی، جو دیہات میں رہتے ہیں، اب بھی کسی حد تک غیر منظم ہیں۔ اور بکتاشی ایک ناقابل تغیر رسم کے پیروکار ہیں، جبکہ علوی ان اساطیر پر یقین رکھتے ہیں جن میں مقامی ثقافت کے ساتھ کہانیاں ملی ہوئی ہیں۔ ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ بکتاشی طریقہ میں داخلہ سب کے لیے ممکن ہے، لیکن علوی معاشرہ ایک بند معاشرہ ہے اور وہ اپنے اندر غیر علویوں کو قبول نہیں کرتے۔
دوسرے الفاظ میں، علوی ہونا موروثی ہے، اور اگر کوئی علوی پیدا نہ ہو تو وہ علوی نہیں ہو سکتا۔ لیکن بکتاشی ہونا اکتسابی (اختیاری) ہے، اور جو کوئی چاہے، بکتاشی بن سکتا ہے۔ علویوں میں «ددہ» کا سید ہونا شرط ہے، لیکن بکتاشیوں میں «بابا» بننے کے لیے سید ہونے کی ضرورت نہیں۔ آج ترکی میں «علوی» اور «بکتاشی» الفاظ بہت زیادہ جڑے ہوئے ہیں اور انہیں «علوی-بکتاشی» کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
اس طریقہ کے عقائدی بنیادیں تصوف اور تشیع سے ماخوذ ہیں۔ اگرچہ بعض لوگ غلطی سے بکتاشی کو سنی اسلام سے سمجھتے ہیں، لیکن ان کے فکری بنیادوں کو دیکھتے ہوئے انہیں شیعوں کے ایک فرقے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ جیسے کہ وہ ایرانی اثنا عشری شیعوں کی طرح بارہ اماموں پر یقین رکھتے ہیں اور امام جعفر صادق کو اپنا سب سے اہم امام مانتے ہیں۔ بکتاشی، دیگر شیعوں کی طرح، اللہ تعالی، محمد (ص)، خدیجہ (س)، فاطمہ (س)، حسن (ع) اور حسین (ع) پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ بارہ اماموں پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے عرفانی طریقہ کا تعلق امام موسی کاظم (ع) سے بتاتے ہیں۔ اور حاجی بکتاش ولی کو ان اماموں کا فرزند بتایا جاتا ہے۔ بکتاشی، دیگر شیعوں کی طرح، امام حسین (ع) اور شہداء کربلا کا ماتم کرتے ہیں۔ عزاداری کا خصوصی دور «ماتم» کہلاتا ہے۔
نورسی (نورجی)
نورجی، جن کی آبادی ایک ملین سے زیادہ ہے، ترکی کے ایک مشہور عالم "شیخ سعید نورسی" المعروف بہ "بدیع الزمان نورسی" کے پیروکار ہیں، جو عطا ترک کے ہم عصر تھے۔ نورسی کی سب سے اہم کتاب "کلیات رسالہ نور" ہے، جو اس طریقہ کے بنیادی اصولوں کو بیان کرتی ہے۔ اس رسالہ میں کہا گیا ہے کہ معاصر مسلمانوں کا سب سے اہم فرض علم اور فلسفہ کے مقابلے میں اپنے ایمان کی حفاظت کرنا ہے۔ " اس رسالہ میں کہا گیا ہے کہ معاصر مسلمانوں کا سب سے اہم فرض علم اور فلسفہ کے مقابلے میں اپنے ایمان کی حفاظت کرنا ہے۔
اس طریقہ کے پیروکار تنظیم اور ڈھانچے جیسے مسائل کو اہمیت نہیں دیتے، لیکن ان کے درمیان دوست، بھائی، طالب علم وغیرہ جیسے درجات ہیں۔ ان کے نقطہ نظر سے "دوست" وہ شخص ہے جس نے خود کو نورجی طریقہ سے قریب کر لیا ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ ظلم اور بدعتوں کا سختی سے مقابلہ کرے۔ وہ افراد جو رسالہ نور کی اشاعت اور تبلیغ کے لیے کوشاں ہیں، سات گناہوں سے دور رہتے ہیں اور اپنی فرض نمازیں ادا کرتے ہیں، وہ بھائیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ طلباء رسالہ نور کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں اور اسے پھیلانا اپنا سب سے اہم فرض سمجھتے ہیں۔ نورجیوں کے بنیادی اصولوں میں سیاسی سرگرمیوں میں براہ راست حصہ لینے سے گریز اور ان کاموں سے پرہیز کرنا ہے جو معاشرے کو نقصان پہنچائیں۔
تاہم، اس طریقہ کے پیروکاروں کا فرض ہے کہ وہ دوسروں کو بھی ایسا کرنے سے روکیں، لیکن اس کے باوجود، سعید نورسی نے خود زندگی کے طریقے اور جماعتوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ہمیشہ عملی (مصلحت پسندی) کے طریقوں کو اپنایا۔ ان کے خیال میں، ہمیشہ اس جماعت کی حمایت کرنی چاہیے جو طریقہ کے پیروکاروں کے لیے سب سے سازگار حالات فراہم کر سکے۔
نورجیوں نے اشاعتی مسائل کو خاص اہمیت دی ہے اور "الذوالفقار"، "اخوت" جیسے رسائل شائع کیے ہیں، لیکن ان کا سب سے اہم ذریعہ اخبار "ینی آسیا" سمجھا جاتا ہے۔ یہ طریقہ ہمیشہ حکومت کا حامی رہا ہے اور خود کو جمہوریت کے مبلغ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اسلامی انقلاب ایران کے آغاز سے ہی اخبار ینی آسیا نے اس معاملے سے بے رخی برتی، جو اس طریقہ کے نقطہ نظر کو دیکھتے ہوئے کوئی غیر متوقع بات نہیں تھی۔ اس طریقہ کے رہنماؤں میں سے ایک، "صفا مورسل" نے اس بارے میں کہا: "ہم ایرانی انقلاب کو اسلامی انقلاب کے طور پر قبول نہیں کر سکتے۔ اسلام امن اور امید کا مذہب ہے، لیکن ایران میں اسلامیت کو نفرت اور دشمنی کے نظریے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ اس لیے، ایرانی انقلاب کو دیکھ کر اسلام کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ مغربی دنیا ایران کے غلط طریقوں اور غلطیوں کا استعمال کر کے اسلام سے لوگوں کی دلچسپی کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔"
ایرانی انقلاب نے اسلام کو ایک خوفناک اور بری شکل میں پیش کیا ہے جو اس کے شایان شان نہیں ہے۔ "کپرو" میگزین نے جون 1987ء میں اپنے سرورق پر بڑے حروف میں لکھا "خمینی یا اسلام"؟ اس عنوان کے تحت لکھا ہے؛ ایرانی انقلاب "شیعہ عقائد کی بنیاد پر ہے اور "سنت" کی دنیا کی فتح کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کے خیال میں امام خمینی قرآن کو ایک سیاسی کتاب سمجھتے ہیں۔ امام خمینی اسلام کی تعریف ایک ایسے دین کے طور پر کرتے ہیں جو جہاد اور جدوجہد سے متعلق ہے اور اپنے بنیادی فرض کو اسلام کی حفاظت سمجھتے ہیں۔ امام خمینی نے اپنے نظریے کو بغاوت اور سرکشی کے الفاظ کے پیچھے چھپا دیا ہے۔
کپرو میگزین کہیں اور لکھتا ہے کہ امام خمینی کے خیالات میں ایمانی کاموں کے بارے میں کوئی بات نہیں ملتی۔ یہ میگزین شیعوں کے خیالات اور عقائد کے بارے میں تفصیل بیان کرتے ہوئے، ترکی میں اسلامی انقلاب کے اثرات کو اس طرح بیان کرتا ہے: "ابتداء میں، خمینی کے مترجموں نے وسیع پیمانے پر سرگرمیاں انجام دیں، لیکن اب وہ خود بھی ان افکار کی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں اور مسائل کے بارے میں اپنے خیالات بدل چکے ہیں۔"
میگزین "کپرو" کے اسلامی انقلاب کے مخالفت کی اصل کو ان جملوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے کہ "بدیع الزمان" نے اپنی بے مثال تصنیف "رسالہ نور" میں، جو ایمان اور ثقافت کا خزینہ ہے، ہمیشہ اقتدار حاصل کرنے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ آج ایمان کو بچانے کا وقت ہے۔
نورجی کی شاخیں؛ نورجیوں کے اندر مختلف شاخیں اور تقسیمیں ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں نورجی طریقہ دو بڑی شاخوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔ پہلی شاخ کو "آسیا جی" کہا جاتا ہے اور اس کی قیادت اسد جوشان کرتے ہیں، اور دوسری شاخ، جو نورجی کی سب سے اہم شاخ ہے، "فتح اللہ جی" کہلاتی ہے۔ البتہ "عجز مندی" اور "قادری" نامی دو گروہ بھی حقیقی سعید نورسی کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
گولنیستها (خدمت گروہ)
یہ تحریک ایک غیر ملکی تحریک ہے جو فتح اللہ گولن کے نظریات سے اثر پذیر ہے۔ فتح اللہ گولن ایک ترک نژاد عالم اور ترکی کے اخلاقیات و الٰہیات کے استاد ہیں جو امریکہ میں قیام پزیر ہیں۔ یہ تحریک حالیہ دنوں میں ترکی، وسطی ایشیا اور دنیا کے دیگر خطوں میں بہت مقبول ہے۔ یہ تحریک، ترکی کی سب سے بڑی عوامی تحریک ہے، جو اخلاقیات کو سیاست پر فوقیت دیتی ہے اور تعلیم کے کردار پر زور دیتی ہے تاکہ ایک ایسے نسل کی تربیت کی جا سکے جو نبی کی صفات سے سرشار ہو (مرادیان، 1285، :574و592)۔
اس گروہ کے حمایتی عموماً تاجر، صحافی، اساتذہ اور طالب علم ہیں۔
گولن اپنی قومیت کے ورثے کے حوالے سے زبردست جذبات رکھتے ہیں اور اپنے ترک ہونے پر فخر کرتے ہیں، اور مسلسل ترک نسل، عثمانی ترکی اور دنیا کے بڑے تاریخی پس منظر کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ لہٰذا، عثمانی-اسلامی ورثہ، گولن کی شناخت کی بنیاد ہے۔ گولن کا قوم پرستی شامل ہونے کے بجائے، خون اور نسل پر مبنی نہیں بلکہ مشترکہ تاریخی تجربات اور سیاسی حقائق پر انحصار کرتی ہے۔ گولن کا اعتقاد ہے کہ اسلام قوم کا دین ہے اور اسے ایک جماعت کے ہویت تک محدود کرنا غلط ہے۔ ان کے نزدیک، اسلام کوئی سیاسی منصوبہ نہیں ہے جس کو نافذ کیا جائے، بلکہ یہ معرفت و عمل کا خزانہ ہے جو ایک عادل اور اخلاقی معاشرے کے فروغ کے لیے ہے (قہرمان پور، 1390: ص105)۔ گولن صوفی ازم کا حامی ہیں، اور ان کے نزدیک صوفی ازم روح کی ہمیشہ ترقی کا راستہ ہے۔
گولن کا ہدف، ترکی کی قوم پرستی نظریہ کو اسلامی بنا کر اور اسلام کو ترک قومیت کے ساتھ ہم عصر کرنا ہے۔ انہوں نے خود کو امن و امان کا علمبردار قرار دیا ہے اور اس کے قیام کے لیے دو اہم تجاویز پیش کی ہیں: برداشت اور گفت و شنید۔
ان کے تصور کے تین بنیادی اصول ہیں: مساوات، عدل اور مشورہ — یہ نظریہ اور اس کے اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں جو اسلام کا حصہ ہیں۔
یہ جماعت ترکی میں تعلیمی میدان میں 3500 تعلیمی ہالز، 3864 اسکول، اور 65 ہزار سے زائد اساتذہ و محققین کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ دنیا کے 140 سے زیادہ ممالک میں مدارس، تربیتی کورسز اور یونیورسٹیاں چلا رہی ہے، جو نابغہ طلبہ اور رہنماؤں کے بچوں کی توجہ کا مرکز ہیں (فلاح، 1395: ص135)۔ ترکی کے علاوہ، یہ دنیا بھر میں 2600 سے زیادہ اسکول اور یونیورسٹی چلاتی ہے۔
یہ گروہ ایک بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورک، روزنامہ "زمان"، عالمی ٹی وی چینل (STV) اور ایک بین الاقوامی مجلہ کے مالک ہے (Kur, 2007: 1449)۔ خدمت گروہ اور گولن، اپنے تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کے تین بنیادی و اہم ہدف ہیں:
- مسلمانوں میں خود آگاہی پھیلانا
- علم و مذہب کے درمیان تعلق کو نوے انداز میں نظر ثانی کرنا اور عوامی بیانیہ جیسے مادی پرستی اور مثبتیت کو تنقید کا نشانہ بنانا
- اسلام کی مشترکہ یادداشت کو دوبارہ تعمیر کرنا، جس میں معاشرے کے مشترکہ عنصر پر زور دیا جاتا ہے، اور وہ ہے اسلام (Yavuz & Esposito، 2003: پی 57)۔
ترکی میں اہم و فعال ادارے
ادارہ مذہبی امور
سب سے اہم اور مرکزی مذہبی اور سرکاری تنظیم، "ادارہ مذہبی امور" ہے۔ عثمانی سلطنت میں، مذہبی امور کے لیے ایک ادارہ "شیخ الاسلام" کے ماتحت "مشیخت" کے نام سے تھا۔ 1920ء میں، وزارتِ شریعت، اوقاف اور مشیخت کا ادارہ قائم ہوا۔ 3 مارچ 1924ء کو عثمانی خلافت کے خاتمے اور جمہوریہ کے اعلان کے بعد، "ادارہ مذہبی امور" کے نام سے ایک ادارہ تشکیل دیا گیا، جس کا بنیادی کام ملک کے مسلمانان پر نگاہ رکھنا تھا اور درحقیقت، مذہبی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس ادارے میں اہم بڑے اصلاحات عمل میں آئیں گے۔
یہ ادارہ، ترکی میں، حنفی فقہ کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور تبلیغی سرگرمیاں بھی انجام دیتا ہے، جن میں اعتقادی، سیاسی اور مذہبی پہلو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، پانترکی ازم کے خیالات بھی اس میں بیان کیے جاتے ہیں۔ اب، یہ ادارہ، "ادارہ مذہبی امور" ایک اہم فکری و ثقافتی مرکز ہے جو حنفی اور ماتریدی عقائد کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے اور ترکی و بیرون ملک سرگرم عمل ہے۔
ترکی کے اندر، یہ ادارہ سیاسی تنگ نظری سے بچتے ہوئے، تبلیغ اور مذہبی اصولوں کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ہے۔ یہ ادارہ، لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے، مثلاً اتحاد، مساوات، قربانی، تعاون، بھائی چارہ، محبت، عزت، خوشگوار نظریہ، حمایت اور معاشرے میں کمزوری جیسے امور سے خبردار کرتا ہے، جیسا کہ شراب، قمار بازی، منشیا، غیر اخلاقی روابط وغیرہ۔ مذہبی سرگرمیاں، مساجد کے علاوہ، اسکولوں، ہسپتالوں، جیلوں، کارخانوں، طلبہ مرکزوں، بزرگ ہاؤسز، بچوں کے مراکز وغیرہ میں بھی انجام دی جاتی ہیں۔ رمضان، عیدین اور حضرت رسول (ص) کی ولادت کے مواقع پر وعظ و نصیحت کے پروگرام بھی اس ادارے کی طرف سے منعقد کیے جاتے ہیں۔
مزید یہ، یہ ادارہ، افغانستان، ازبکستان اور تاجیکستان جیسے ممالک کے ساتھ مل کر، بیرون ملک فعال ہے، اور یہاں اپنی شاخیں قائم کی ہیں۔ ترکی کے اندر، یہ ادارہ، مذکورہ ممالک کے ترکوں کے اتحاد کے لیے کام کرتا ہے۔ وسط ایشیائی اور قفقاز کے مسلم طلبہ، اور افغانستان کے حنفی ترک (ازبک اور دیگر قومیں)، تعلیم حاصل کرنے کے لیے ترکی آ رہے ہیں، اور یہ ادارہ انہیں، حنفی- ماتریدی علم سے بھی روشناس کراتا ہے۔
تحقیقی و ثقافتی ادارے
- انصار فاونڈیشن
- ایلک ساو فاونڈیشن
- جم (جمہوریہ طلبہ، ثقافتی و تعلیمی ادارہ، سب سے اہم ادارہ علویوں کا) رئاسة پروفیسر عزالدین دوغان کے زیر صدارت۔
- آل بیت دنیاوی فاونڈیشن (علویوں کا!)، فیمن فرمانی آلتون کے زیرِانتظام۔
- حاک یولی فاونڈیشن (حق کا راستہ)
- حاج بکتاش فاونڈیشن
- ادارہ مذہبی امور (دیانت)
یہ ادارہ، جو ایک نجی انسانی ادارہ ہے، 1975ء میں قائم ہوا تاکہ اسلام کے صحیح چہرہ سے آگاہی، لوگوں میں اسلام کو سمجھانے، مساجد بنانے، فلاحی ادارے قائم کرنے، اور معاشرتی خدمات انجام دینے کے ساتھ، زکات و فطرہ وغیرہ کی مدد سے فقرا کی مدد کرے۔
- سلیمانیہ فاونڈیشن (اس کے اہم فعال افراد میں پروفیسر عبدالعزیز بایندر شامل ہیں)۔
- عقبه فاونڈیشن(مصطفیٰ اسلام اوغلو ایک اہم اور صاحبِ علم شخصیت ہیں؛ ان کا ایک ٹیلی ویژن نیٹ ورک بھی ہے اور وہ نہج البلاغہ کی تدریس کرتے ہیں)۔
- علم و ثقافت فاونڈیشن استنبول (یہ نورچی طریقت کی بنیادوں میں سے ہے جو 1979ء میں قائم ہوئی)۔
- صفا فاونڈیشن(انقرہ)
- علم و فن فاونڈیشن(علم و صنعت وقف)
- سائنسی و ثقافتی فاونڈیشن کوجاو
- نشر دانش فاونڈیشن (پہلے امام خطیب مدرسے کے بانی)
- حکیم فاونڈیشن (حدیث کا علمی و تعلیمی ادارہ)
- علوی بکتاشی فیڈریشن (علویوں کی یونین کے خاتمے کے بعد 2002ء میں 30 سے زائد اداروں اور انجمنوں کی شرکت سے قائم ہوئی)
- مرکز دائرۃ المعارف ایسام (ادارہ دیانت سے وابستہ؛ ایک اہم اور معتبر مرکز)
- ترک دائرۃ المعارف انسٹی ٹیوٹ؛ جہاں توپال اوغلو، علی آروسی اور دیگر اہم مصنفین نے کام کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ یہ مرکز عالم اسلام کے اہم فکری مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
- امام خطیب مدارس
ترکی کے تعلیمی نظام میں امام خطیب مدارس وہ مڈل اور ہائی اسکول ہیں جو عام اسکولوں کے برعکس مخلوط تعلیمی نظام نہیں رکھتے اور لڑکے اور لڑکیاں ایک ہی کلاس میں تعلیم حاصل نہیں کرتے۔
ان مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد خطباء اور دینی علما کی تربیت تھا تاکہ وہ ترکی کے بڑے مذہبی ادارے میں خدمات انجام دے سکیں۔ تاہم اب اس مقصد کو وسیع کر دیا گیا ہے اور ان مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ جامعات میں کسی بھی شعبے میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی پسند کا پیشہ اختیار کر سکتے ہیں۔
اس وقت دینی مڈل اسکولوں اور ہائی اسکولوں میں مجموعی طور پر تقریباً پندرہ لاکھ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جو ایک اہم اور قابلِ توجہ تعداد ہے اور آئندہ دس برسوں میں ترکی میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہے۔
ان مدارس میں عام دروس کے علاوہ اہل سنت کے فقہ حنفی کے مصادر بھی پڑھائے جاتے ہیں اور مذہبی اخلاق و ثقافت کی تربیت اس انداز میں دی جاتی ہے کہ اس کے فارغ التحصیل افراد عام طور پر لائیک اور کمالسٹ نظریات کے حامی سماجی طبقے کا حصہ نہیں بنتے بلکہ سماجی و انتخابی سرگرمیوں اور انتظامی ذمہ داریوں میں ان کی سرگرمی عموماً حکمران جماعت کے حق میں ہوتی ہے۔
ترکی کے ادارہ امور دینی کے اعلیٰ کونسل کے نئے اراکین کی تعارفی تقریب
ادارہ امور دینی ترکیہ میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں اعلیٰ کونسل کے نئے اراکین نے اپنے عہدے سنبھال لیے۔ امیدواروں میں سے 24 میں سے منتخب 12 اراکین کو 15 جون 2020ء کو اور الٰہیات کے فیکلٹیوں سے 4 علمی اراکین کو پانچ سال کے لیے اعلیٰ کونسل امور دینی کا رکن مقرر کیا گیا۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن هاچکالی کو اعلیٰ کونسل امور دینی کا نیا سربراہ منتخب کیا گیا اور مصطفیٰ بولنت داداش کو نائب سربراہ مقرر کیا گیا۔
علی ارباش، جو ادارہ دیانت کے سربراہ ہیں، نے اس تقریب میں کہا کہ اعلیٰ کونسل امور دینی مذہبی معاملات میں سب سے اعلیٰ فیصلہ ساز اور مشاورتی ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کونسل کی ذمہ داریوں میں اسلامی نقطۂ نظر سے معاشرے کے روزمرہ مسائل کا جائزہ لینا، فتاویٰ جاری کرنا، قرآن کے مختلف تراجم کا جائزہ لینا اور مذہبی تصنیفات کی نگرانی شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کونسل ترکی میں دینی مسائل پر تحقیق کے نتائج کی روشنی میں تعلیمی سرگرمیوں کی رہنمائی کرتی ہے اور ان نتائج کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی مسائل میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اعلیٰ کونسل امور دینی ماضی سے آج تک ملت کے مذہبی زندگی میں سب سے قابل اعتماد سہارا رہی ہے اور اس نے مشکل ترین ادوار میں بھی اسلام کی حقیقت کو مجروح نہیں ہونے دیا۔ اس کونسل نے اپنے فیصلوں، شائع شدہ کتب، فتاویٰ، مذہبی کمیٹیوں، مشاورتی نشستوں، تربیتی ورکشاپس، کانفرنسوں اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے بڑی خدمات انجام دی ہیں اور آئندہ بھی انجام دیتی رہے گی۔
شیعہ ادارے، تنظیمیں اور گروہ
زینبیہ مرکز
یہ ترکی میں شیعوں کا قدیم ترین گروہ ہے جس کی قیادت شیخ صلاح الدین اوزگوندوز کرتے ہیں۔ اس گروہ کے زیادہ تر افراد ترکی کے مشرقی علاقوں سے استنبول ہجرت کرنے والے مسلمان ہیں جو معاشی سرگرمیوں کے لیے وہاں آئے تھے۔ انہوں نے اپنی سرگرمی مسجد زینبیہ کے قیام سے شروع کی اور اسی وجہ سے اس نام سے مشہور ہوئے۔
اس مسجد کے امام جماعت شیخ حمید توران ہیں جنہیں ایران کے اسلامی انقلاب کی حمایت کی وجہ سے لائیک حکومت کی طرف سے ابتدائی انقلاب کے زمانے میں قید کی سزا دی گئی تھی۔ اس گروہ کی ایک کثیر لسانی ویب سائٹ بھی ہے: www.Zeynebiye.com
علمی و ثقافتی ادارہ کوثر
ادارہ کوثر ترکی کے شیعوں کا پہلا علمی و ثقافتی ادارہ ہے جس نے 1992ء میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اس ادارے کی مرکزی قیادت آذری زبان بولنے والے ترک علما پر مشتمل ہے جو قم میں تعلیم یافتہ بارہ افراد کے ایک گروہ کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ اس کی قیادت موسیٰ آیدین اور غدیر آک آراز (مسجد مہدیہ استنبول کے امام جماعت) کرتے ہیں۔
اس ادارے کا مرکزی دفتر استنبول میں ہے اور انقرہ، انطالیہ اور ازمیر میں بھی اس کی شاخیں ہیں۔
انتشارات کوثر، جو ترکی میں شیعوں کا سب سے منظم اشاعتی ادارہ ہے، اسی ادارے سے وابستہ ہے۔ اس نے اب تک ساٹھ سے زیادہ کتابیں شائع کی ہیں جن میں تفسیر المیزان کا ترجمہ، امام خمینیؒ کی کتابیں اور شہید مطہری کی تصانیف شامل ہیں۔
یہ ادارہ "قبلہ" کے نام سے ایک مجلہ بھی شائع کرتا ہے جس کے مدیر غدیر آک آراز ہیں۔ ادارہ کوثر کا رجحان علمی اور ثقافتی ہے اور اس کے زیادہ تر اراکین امام خمینیؒ اور آیت اللہ خامنہ ای کے مقلد ہیں۔
اس ادارے کا ایک خبری و تجزیاتی ویب سائٹ بھی ہے: rasthaber.com جو ترکی میں شیعوں کی ایک اہم اور کثیر دیکھے جانے والی ویب سائٹ ہے۔
انجمن تایدر
انجمن تایدر (TAYDER) یعنی "انجمن تحقیقات و سماجی تعاون" 2006ء میں ترکی کے شیعہ طلبہ کی شناخت، تنظیم اور تربیت کے مقصد سے قائم ہوئی۔
اس انجمن کی سرگرمیوں کو تین بنیادی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
الف) شیعہ طلبہ کی تنظیم: مختلف جامعات میں شیعہ طلبہ کی شناخت، ان سے رابطہ، انہیں منظم کرنا، یونیورسٹیوں کے قریب کرائے کے ہاسٹل فراہم کرنا اور مالی معاونت کرنا۔
ب) شیعہ طلبہ کی تعلیم و تربیت: فکری و عقیدتی تربیت، کتابوں کی فراہمی، ہفتہ وار علمی نشستیں اور سالانہ تعلیمی کیمپ۔
ج) ثقافتی و سیاسی پروگرام: بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس، محرم کے دوران عاشورا پروگرام، اور ترکی کے مختلف شہروں میں یوم القدس کی تقریبات۔
انجمن تایدر کا مرکزی دفتر استنبول میں ہے اور اس کے دفاتر ترکی کے پندرہ شہروں میں موجود ہیں۔
آل البیت تحریک (آیت اللہ سیستانی کے دفتر کی نگرانی میں)
آل البیت (ع) لإحیاء التراث انسٹی ٹیوٹ آیت اللہ العظمیٰ سیستانی کے دفتر سے وابستہ مراکز میں سے ایک ہے۔ یہ 1380 شمسی میں استنبول میں حضرت فاطمہ زہراؑ کی ولادت کے دن قائم ہوا۔
اس ادارے کے اہم مقاصد میں اہل بیتؑ کی ثقافت کا احیا، لوگوں کو مکتب اہل بیتؑ سے روشناس کرانا اور ترکی میں اسلامی اقدار کا تحفظ شامل ہے۔
اس ادارے کے سربراہ انورشان رحمانی ہیں جو ایران میں حوزوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ترکی واپس آئے اور مذہبی و ثقافتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
اس ادارے کی سرگرمیوں میں شامل ہیں:
- قرآنی اور عقیدتی کلاسیں
- مذہبی تقریبات
- ترکی میں اہل بیتؑ کی پہلی تخصصی لائبریری کا قیام
- علمی و مذہبی سیمینار
- مذہبی کتابوں اور مجلات کا ترجمہ و اشاعت
مؤسسه آل طه
یہ ادارہ ترکی کے شیعوں نے قائم کیا ہے اور اس کے ذمہ دار شیخ عبداللہ ہیں۔ یہ ادارہ ترکی کے شیعوں کو نمایاں خدمات فراہم کرتا رہا ہے۔
مؤسسه اهلادر (اتحادیہ علمائے اہل البیت)
یہ اتحاد تقریباً ایک دہائی قبل قائم ہوا اور اس وقت ترکی اور مغربی یورپ سے اس کے 200 سے زیادہ ارکان ہیں۔ اس کے سربراہ حجت الاسلام شیخ قدیر آک آراز ہیں۔
اس اتحاد کا ایک انٹرنیٹ ٹی وی چینل بھی ہے جس کا نام "محراب ٹی وی" ہے۔ اور یہ انٹرنیٹ ٹی وی مواد کے اعتبار سے نمایاں اور بھرپور آن لائن ٹیلی ویژن چینلز میں شمار ہوتا ہے۔
ترکی کے پورے ملک میں تبلیغی سرگرمیوں کو منظم کرنا اور قرآن کریم کی تعلیم پر سنجیدہ توجہ دینا اس اتحاد کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس وقت دارالقرآن علامہ طباطبائی اس اتحاد کے زیرِ نگرانی سرگرم ہے اور ترکی کے شہروں استنبول اور ایغدیر میں قرآن کی تعلیمی کلاسیں جاری ہیں۔
مؤسسه جابر
(اتحاد علمائے شیعہ اہلی در؛ جبکہ اتحاد علمائے جابر زینبیہ سے وابستہ ہے)
مؤسسه تحقیقاتی و انتشاراتی عصر
یہ ادارہ آیت اللہ سیستانی کے تنظیمی ڈھانچے کے ذیلی اداروں میں سے ہے اور اس کی نگرانی آتام اور سید مختار قرہ قوش کرتے ہیں۔
مؤسسه قرآن و عترت
استنبول کا مؤسسه قرآن و عترت 2007ء میں اس شہر کے شیعوں کی جانب سے شیخ شیرعلی بیات (ایک شیعہ عالم) کی کوششوں سے قائم کیا گیا۔ قیام کے بعد سے اس ادارے کے مقاصد میں اہل بیتؑ کی تعلیمات کی ترویج، شیعہ، علوی اور اہل سنت کے درمیان ان معارف کی اشاعت، عقیدتی، فقہی اور ثقافتی میدان میں تشیع کے دفاع اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو فروغ دینا شامل ہے۔
استنبول کے علاقے ہالکالی میں قائم اس ادارے میں تعلیمی سرگرمیوں کے تحت قرآن کی تعلیم، فارسی اور عربی زبان کی تدریس، نیز تجوید اور قرأت کی کلاسیں منعقد کی جاتی ہیں۔
مؤثر شیعہ شخصیات
- شیخ صلاح الدین اوزگوندوز (استنبول)
- حاج موسیٰ آیدین
- قدیر آک آراز
- چتین آک یوز (عباس کاظمی)
- موسیٰ گونش
- شیخ عبداللہ توران
- سید سجاد قرہ قوش (ایک فاضل شخصیت؛ حالیہ عرصے میں انہیں آیت اللہ کہا جاتا ہے)
- رحمی انورشان (رحمی)
- پروفیسر حسین خاتمی (ایرانی نژاد قانون دان)
- حسن قناعتلی
- قائمی واراول
- مہدی آک سو
- جعفر دربندی
- اصلان باشاران
- محمد مجاہد
- یوسف توره (انقرہ)
- شیخ بہرام گلی (شہر قارس)
- سید قاسم اردم (قارس)
- شیخ ولی بدر (ایغدیر)
- لطیف یلماز تکین (ایغدیر)
- علی تقوی (ایغدیر)
- بختیار کاماچی (ایغدیر)
- ابوالفضل قوجه داغ (ایغدیر)
- شیخ بولنت آی یلدوز (شہر بورسا)
- رحمان کارانلک (ازمیر)
- عبداللہ صادقی (ازمیر)
- عبداللہ شباہت (ازمیر)
- حسین کربلائی (ازمیر)
- علی اورمیش (ازمیر)
- مہدی عرب (ازمیر)
مؤثر دینی علمی شخصیات (شیعہ و سنی)
- خیرالدین کارامان
- ابوبکر سفیل
- سلیمان آتیش
پروفیسر حسین حاتمی
پروفیسر حسین حاتمی ترکی کے ممتاز اساتذہ اور محققین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی اصل ایرانی ہے۔ ان کے دادا تجارت کے لیے ایران کے شہر سلماس سے استنبول آئے اور وہیں مقیم ہو گئے۔ ان کے والد نے بھی ایک ایسی خاتون سے شادی کی جس کی اصل بھی ایرانی تھی۔ اس طرح حسین حاتمی استنبول میں پیدا ہوئے۔
وہ کئی برس تک فارسی زبان سے واقف نہیں تھے، یہاں تک کہ ایران میں رہنے والے ان کے ایک رشتہ دار علاج کے لیے ترکی آئے اور تین ماہ کے دوران انہوں نے انہیں اور ان کے خاندان کو فارسی زبان سے متعارف کرایا۔ اس کے بعد پروفیسر حاتمی نے فارسی سیکھنا جاری رکھا اور آخرکار اس زبان پر عبور حاصل کر لیا اور کچھ کتابوں کا ترجمہ بھی کیا۔
جن کتابوں کا انہوں نے ترکی زبان میں ترجمہ کیا ان میں ایران کے اسلامی جمہوریہ کا آئین، کتاب ’’ولایت فقیہ‘‘ اور امام خمینیؒ کی بعض تقاریر شامل ہیں۔ یہی کام ان کی جامعہ سے برطرفی کا سبب بنا کیونکہ ترک حکام کے مطابق یہ کتابیں تشیع کی تبلیغ اور لائیک نظام کے خلاف تصور کی جاتی تھیں۔
پروفیسر حاتمی امام خمینیؒ کو معاصر دور کی ایک عظیم اور مؤثر شخصیت سمجھتے ہیں اور اپنے اس اقدام پر انہیں کوئی پشیمانی نہیں ہے۔[11]
- پروفیسر بارداک اوغلو (دیانت کے سابق سربراہ)
- بایراکتار بایراکلی
پروفیسر محمد گورمز
پروفیسر محمد گورمز ادارہ دیانت کے سابق سربراہ ہیں جنہوں نے 2017ء میں اپنے عہدے سے استعفا دیا۔ ان کی اہم تصانیف میں ترکی زبان میں ’’عقائد اسلامی‘‘ اور عربی زبان میں ’’المشاکل المنہجیہ فی فهم و تفسیر السنہ و الاحادیث‘‘ اور ’’المصادر الاساسیہ فی الدین الاسلامی: السنہ والحدیث‘‘ شامل ہیں۔
پروفیسر علی ارباش
وہ ترکی کے موجودہ سربراہ ادارہ دیانت اور ممتاز علما میں سے ہیں۔ انہوں نے فرانس کی سوربن یونیورسٹی میں مذاہب کے شعبے میں تعلیم حاصل کی اور مصر میں بھی تعلیم پائی۔ ان کی اہم کتابوں میں ’’مسیحیت کا تاریخی جائزہ‘‘، ’’عالمِ فرشتگان‘‘، ’’مسیحیت میں عبادت‘‘ اور ’’دنیا کے زندہ مذاہب‘‘ شامل ہیں۔
پروفیسر سونمز کوتلو
سونمز کوتلو انقرہ یونیورسٹی کے شعبہ الٰہیات کے استاد ہیں اور ان کی اہم کتاب ’’امام ماتریدی اور ماتریدیہ‘‘ ہے۔
- جبلی احمد (احمد محمود اونولی)
- احمد واراول
- عمر دونگلو اوغلو
پروفیسر عبدالعزیز بایندر
پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز بایندر مؤسسه سلیمانیہ کے سربراہ ہیں اور تفسیر اور علومِ قرآن میں تخصص رکھتے ہیں۔ انہوں نے 21 سال تک استنبول کے مفتی کے طور پر خدمات انجام دیں اور استنبول میں فتویٰ کمیٹی کے سربراہ بھی رہے۔ وہ استنبول یونیورسٹی کے شعبہ الٰہیات میں تدریسی خدمات بھی انجام دیتے رہے ہیں۔
- عبدالرحمن دیلی پاک
- پروفیسر یاشار نوری اوزترک
- نیہات خطیب اوغلو
- مصطفیٰ اسلام اوغلو
- علیرضا دمیرجان
- فتح اللہ گولن
- علی پولاچ
- عدنان اوکتار
- امینہ شنلیک اوغلو (شنلیک کا معنی ’’خوشی‘‘ ہے)
پروفیسر احمد آک
وہ ترکی کے صوبہ ملطیہ میں واقع انونو یونیورسٹی میں تاریخ مذاہب اسلامی کے شعبہ کے سربراہ ہیں۔ ان کی ایک اہم کتاب ’’بڑا ترک عالم: ماتریدی اور ماتریدیہ‘‘ ہے۔
احمد صائم کیلاووز
ایک ممتاز متکلم جن کی متعدد تصانیف ہیں جن میں ’’عقائد ابو سالم سمرقندی‘‘، ’’اسلامی عقائد کا اجمالی جائزہ‘‘، ’’ایمان کے دائرے میں اسلام‘‘، ’’علم کلام کا تعارف‘‘ اور ’’ایمان و کفر کی حد‘‘ شامل ہیں۔
حوالہ جات
- ↑ https://www.iribnews.ir
- ↑ http://fa.ankara.icro.ir/index.aspx?pageid=8303&p=1
- ↑ http://eslahe.com/11040 اور https://www.iribnews.ir/fa/news
- ↑ http://shabestan.ir/detail/News/1004012
- ↑ نورالدین اکبری، شیعیان ترکیه، مجله پانزده خرداد، شماره 40، سال 1393
- ↑ گفتمانهای اسلامی در ترکیه نوین، مهدی فیروزفر و غلامرضا خواجه سروی، 1397
- ↑ https://www.andisheqom.com/fa/question/view/867
- ↑ https://rasanews.ir/fa/news/635129/روابط-خاص-حزب-حاکم-تر
- ↑ لاجوردی، فاطمہ، دائرة المعارف بزرگ اسلامی، 12/397)
- ↑ www.alulbeyt.com.tr
- ↑ http://www.negahmedia.ir/media/show_podcast/115255
