"جماعت الدعوة الإسلامیة" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:جماعت الدعوة الإسلامیة کو جماعت الدعوة الإسلامیة کی جانب منتقل کیا |
(کوئی فرق نہیں)
| |
حالیہ نسخہ بمطابق 21:07، 26 جنوری 2026ء
جماعت الدعوة الإسلامیة، عراق میں شیعہ اسلام پسندوں کی ایک اہم سیاسی جماعت ہے، جس کی بنیاد 1957ء میں رکھی گئی۔ اس جماعت کے بانیان میں نامور عالم دین علامہ سید مرتضی عسکری اور شہید سید محمد باقر صدر کے شاگرد اور پیروکار شامل تھے۔
حزب دعوت اسلامی کو عراق میں شیعہ سیاسی تحریکوں کے آغاز اور اسلامی تشخص کو مضبوط بنانے میں مرکزی کردار حاصل ہے۔ اس جماعت نے مختلف ادوار میں سیاسی جدوجہد کی اور عراق کے سیاسی منظرنامے پر نمایاں اثر چھوڑا ہے۔ [1]
بنیاد
1920ء میں عراق کے شیعوں کی جانب سے برطانوی استعمار کے خلاف ہونے والی بغاوت کی ناکامی کے بعد، زیادہ تر شیعہ حلقوں میں سیاست سے عدم مداخلت کا رجحان مضبوط ہو گیا۔ اس صورتِ حال نے قوم پرست اور مارکسی نظریات رکھنے والی تحریکوں کے لیے میدان مزید ہموار کر دیا۔
تاہم، عراق کے شیعوں نے مصر کی اخوان المسلمین تحریک کے تجربے سے فائدہ اٹھایا، اور 1958ء میں عبدالکریم قاسم کی قیادت میں ہونے والی فوجی بغاوت اور عراقی بادشاہت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی نسبتاً آزاد سیاسی فضا نے ملک میں جماعتی سرگرمیوں اور اسلامی تنظیموں کی تشکیل کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔ [2].
اس سے پہلے، یعنی 1956ء کے اواخر میں ہی ایک شیعہ سیاسی جماعت کے قیام کا خیال جنم لے چکا تھا۔ سید مہدی حکیم (آیت اللہ سید محسن حکیم کے فرزند) نے اپنے ہم خیال افراد جیسے سید محمد حسین فضل اللہ، عبدالصاحب دخیل، شیخ سلیمان یحفوفی، طالب رفاعی اور محمد صادق قاموسی کے ساتھ شیعہ جماعت کے قیام کے طریقۂ کار پر غور و خوض کیا۔ بعد ازاں سید مہدی حکیم نے سید محمد باقر صدر کی حمایت حاصل کی اور پارٹی کے قیام کی تیاری کے لیے متعدد نشستیں منعقد کیں۔
مختلف تاریخی ماخذ جماعت دعوتِ اسلامی کے قیام کی تاریخ 1956ء سے 1959ء کے درمیان، کربلا یا نجف میں ہونے والی کسی نشست سے منسوب کرتے ہیں، تاہم حزبِ دعوت نے اپنی سرکاری تاریخِ قیام 12 اکتوبر 1957ء قرار دی ہے۔ اس اجلاس میں سید محمد باقر صدر، سید محمد باقر حکیم، محمد صادق قاموسی اور چار دیگر افراد شریک تھے۔ [3]
1958ء کے موسمِ گرما میں، سید محمد باقر صدر کے مشورے سے سید مرتضیٰ عسکری (متوفی 1386ھ ش) بغداد سے آ کر حزبِ دعوت میں شامل ہوئے۔ اس کے بعد، 14 جولائی 1958ء کی فوجی بغاوت کے چند ماہ بعد، حزبِ دعوت کے بانیان کا ایک اور اجلاس کربلا میں منعقد ہوا، جس میں سید محمد باقر صدر، سید مرتضیٰ عسکری، سید محمد مہدی حکیم اور محمد صادق قاموسی کو جماعت کی قیادت کونسل کے ارکان منتخب کیا گیا۔[4].
مقاصد
جماعت دعوتِ اسلامی کے منشور کے مطابق، جسے بعد میں 1981ء میں مرتب کیا گیا، لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دینا ارکان پر ایک شرعی فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ جماعت کے بنیادی اہداف میں ایک مکمل اسلامی معاشرہ تشکیل دینا، اس کے تمام سماجی پہلوؤں میں اسلامی اقدار رائج کرنا، اور انسانی وضع شدہ قوانین کی جگہ اسلامی شریعت پر مبنی قوانین نافذ کرنا شامل ہے۔
منشور کے مطابق، یہ مقاصد اس وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب مسلمان افراد اور معاشرے میں تدریجی روحانی و اخلاقی اصلاح لائی جائے، اسلامی تعلیمات کی طرف واپسی ہو، مغربی نظریات اور افکار کو دور کیا جائے، ایک اسلامی حکومت قائم کی جائے تاکہ بعد میں ایک جامع اسلامی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو، اسلامی سرزمینوں کو استعمار کے تسلط سے آزاد کرایا جائے اور انہیں اسلامی حکومت میں شامل کیا جائے، نیز دنیا کے تمام حصوں میں اسلام کی دعوت دی جائے۔ [5].
حزبِ دعوت نے اپنے منشور میں اپنی پالیسی کو انقلابی قرار دیا اور اہداف کے حصول کے لیے چار مراحل بیان کیے:
مرحلۂ تبدیلی: اس مرحلے میں جماعت کے اراکین اپنی فکر اور طرزِ عمل میں تبدیلی لا کر روحانی و اخلاقی بلندی حاصل کرتے ہیں، تاکہ وہ عوام کی ہدایت اور شعور بیداری میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
مرحلۂ سیاسی: اس مرحلے میں جماعت سیاسی اور مسلح دونوں طریقوں سے بعث پارٹی کے حکومتی نظام کے خلاف جدوجہد کرتی ہے۔
مرحلۂ انقلابی: اس مرحلے کا بنیادی مقصد مسلح جدوجہد کے ذریعے بعثی حکومت کا خاتمہ اور اسلامی حکومت کا قیام ہے۔
مرحلۂ اقتدار: اس مرحلے میں جماعت کو اسلامی نظام کے ارکان تشکیل دینے، شریعتِ اسلامی کے احکام نافذ کرنے اور ان پر نگرانی رکھنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ حکومت کی نوعیت اور اس کا ڈھانچہ اسلامی شریعت پر مبنی ہوتا ہے، جس کا مقصد مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ ہے۔ اسی مرحلے میں شریعتِ اسلامی سے الہام یافتہ ایک نیا آئین بھی مرتب کیا جاتا ہے۔[6].
لبنان میں عراقی سفارت خانے پر بم دھماکا
15 دسمبر 1981ء کو حزبِ دعوت نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں واقع عراقی سفارت خانے کو ایک خودکش حملہ آور ابو مریم کی جانب سے بارودی مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے نشانہ بنایا۔ اس حملے کے نتیجے میں عراقی سفارت خانہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
اس دھماکے میں 61 افراد ہلاک ہوئے، جن میں لبنان میں عراق کے سفیر عبدالرزاق لفتہ بھی شامل تھے، جبکہ 110 افراد زخمی ہوئے۔ اس حملے میں بلقیس الراوی بھی جاں بحق ہوئیں، جو معروف شامی شاعر نزار قبانی کی عراقی اہلیہ تھیں اور عراقی سفارت خانے کے ثقافتی شعبے میں ملازمہ تھیں۔
بلقیس الراوی کی موت نے نزار قبانی کی شاعری پر گہرا اثر ڈالا، اور ان کے کلام کا ایک بڑا حصہ بلقیس کی یاد میں تخلیق کیا گیا۔
جماعت الدعوة الاسلامیة کا تنظیمی ڈھانچہ
حزبِ دعوت کے تنظیمی ڈھانچے میں رہبرِ کل (القیادہ العامہ) سب سے اعلیٰ منصب ہوتا ہے۔ قیادتِ کل کے ارکان کی تعداد 7 افراد پر مشتمل ہوتی ہے، جنہیں ہر دو سال بعد پارٹی کے عمومی کانگریس کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے۔ قیادتِ کل کے اراکین اپنے درمیان سے ایک فرد کو اپنا سربراہ منتخب کرتے ہیں۔
حزب کی ہر تنظیمی اکائی کو حلقہ کہا جاتا ہے۔ سب سے نچلا حلقہ 5 ارکان پر مشتمل ہوتا ہے، جنہیں داعیہ (دعوت دینے والے) کہا جاتا ہے۔ یہ ارکان ایک نگران داعیہ (داعیۂ مشرف) کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔ ہر حلقے کا نگران، پارٹی اور اپنے حلقے کے ارکان کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتا ہے۔
محلہ کمیٹی (لجنة المحلة) ایک مخصوص جغرافیائی علاقے میں موجود متعدد حلقوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ محلہ کمیٹیاں علاقائی کمیٹی (لجنة المنطقة) کے تحت کام کرتی ہیں، جن کے اراکین کا انتخاب اقلیمی قیادت (قیادة الاقلیم) کرتی ہے۔
اقلیمی قیادت کا انتخاب اقلیمی دعوت کانگریس (مؤتمر الدعوة الاقلیمی) کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اقلیمی قیادت اور قیادتِ کل کے اراکین ہر دو سال بعد منتخب ہوتے ہیں اور آپس میں مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔
اقلیمی دعوت کانگریس، جو ہر اقلیم میں حزب کے ذمہ داران پر مشتمل ہوتی ہے، اس اقلیم میں پارٹی کا سب سے اعلیٰ تنظیمی ادارہ ہے اور یہ سالانہ منعقد کی جاتی ہے۔[7]
عمومی کانفرنس
حزبِ دعوت کی عمومی کانگریس (مؤتمر الدعوة العام) سال میں ایک مرتبہ منعقد ہوتی ہے، اور بعض ہنگامی حالات میں اس کا غیر معمولی اجلاس بھی بلایا جا سکتا ہے۔ اس کانگریس میں مختلف اقلیموں کے جماعتی ذمہ داران شرکت کرتے ہیں۔
عمومی کانفرنس کی اہم ترین ذمہ داریاں درج ذیل ہیں:
- قیادتِ کل کا انتخاب کرنا۔
- حزب کی عمومی پالیسیوں اور حکمتِ عملیوں کی تدوین کرنا۔
- پارٹی کے آئین میں ترمیم کرنا، بشرطیکہ دو تہائی ارکان کی منظوری حاصل ہو اور فقہی کونسل کی بھی توثیق موجود ہو۔
- قیادتِ کل کے اراکین کے استعفوں پر غور کرنا اور ان کے لیے متبادل اراکین کا انتخاب کرنا۔[8]
فقہی کونسل
جماعت کے آئین میں ولایتِ فقیہ کے بارے میں درج ہے کہ اگر امتِ اسلامی کسی مجتہدِ جامع الشرائط، جیسے امام خمینی، کو قبول کرے تو ان کی ولایت جماعت پر بھی نافذ ہوگی اور جماعت کو ان کی آراء سے منحرف نہیں ہونا چاہیے۔ جہاں ولیِ فقیہ نے کوئی حکم صادر نہیں کیا ہو، وہاں جماعت کی قیادت کو جماعت کی فقہی کونسل کے احکام کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ یہ کونسل تین سے سات مجتہدین یا فقہی امور کے ماہرین پر مشتمل ہوتی ہے جنہیں عمومی کانگریس منتخب کرتی ہے۔ اس کونسل میں کم از کم ایک مجتہد ہونا ضروری ہے۔[9].
نام گذاری
سنه 1959ء کی ابتدا میں حزبِ الدعوہ نے اپنا پہلا کانگریس خفیہ طور پر کربلا میں منعقد کیا، جس میں جماعت کے 16 ارکان شریک تھے۔ اس اجلاس میں سیاسی حالات اور تنظیمی امور پر بحث ہوئی اور سید محمد باقر صدر نے اس جماعت کا نام "الدعوة الاسلامیة" رکھا۔[10]
سید محمدباقر صدر کی جماعت سے کنارہ کشی
1960ء میں عراقی حکومت نے حزب الدعوہ کے سرگرمیوں کو، جن کی قیادت سید محمدباقر صدر کر رہے تھے، دریافت کر لیا۔ اس کے بعد آیت اللہ حکیم، جو کہ عراق میں شیعیان کے مرجع تقلید تھے اور مراجع کی سیاسی سرگرمیوں کے مخالف تھے، نے سید محمدباقر صدر اور ان کے فرزندان سید مہدی اور سید محمدباقر حکیم سے کہا کہ وہ حزب میں سرگرمیوں اور کسی خاص سیاسی جماعت سے منسلک ہونے سے اجتناب کریں۔ ان حضرات نے ان کی درخواست قبول کی اور حزب الدعوہ سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ [11]
ان کے بعد سید مرتضی عسکری کو حزب الدعوہ کا رہنما مقرر کیا گیا، لیکن 1963ء میں آیت اللہ سید محسن حکیم نے انہیں تبلیغی مشن کی ذمہ داری دی جس کی وجہ سے انہوں نے بھی پارٹی رکنیت سے استعفا دے دیا، اور محمدہادی سبیتی کو رہنما منتخب کیا گیا۔[12].
ایران کے 15 خرداد کی تحریک کی حمایت
ایران میں 15 خرداد 1342ھ ش / 5 جون 1963ء کی تحریک کے بعد حزبِ دعوت نے ایک اعلامیہ جاری کر کے اس کی حمایت کی۔ جب امام خمینی کو عراق جلا وطن کیا گیا اور وہ 13 مہر 1344ھ ش / 15 اکتوبر 1965ء کو ترکی سے کاظمین پہنچے تو حزبِ دعوت کے بعض اراکین نے ان کا استقبال کیا۔[13].
جماعت الدعوة کے اراکین کی گرفتاری
1966ء میں عبدالرحمن عارف کے صدر بننے اور سیاسی فضا میں قدرے کھلاؤ آنے کے بعد، حزبِ دعوت کا اثر و رسوخ پورے عراق میں، بالخصوص جامعات میں، بڑھنے لگا۔ تاہم، بعث پارٹی کے انتہا پسند جماعت کے اقتدار میں آنے اور 1968ء میں احمد حسن البکر کے صدر بننے کے بعد، شیعہ اسلام پسند جماعتوں، بشمول حزبِ دعوت، کی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں اور بہت سے سیاسی کارکن گرفتار اور قید کر لیے گئے۔[14]
ستمبر 1971ء میں بعثی حکومت نے حزبِ دعوت کے دوسرے اہم رہنما عبدالصاحب دخیل کو گرفتار کر کے شدید تشدد کے بعد قتل کر دیا۔ ایک سال بعد بعثی حکومت نے محمد صالح ادیب (کربلا شاخ کے سربراه ) اور چند دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا، تاہم محمد ہادی سبیتی اور شیخ محمد مہدی آصفی (نجف شاخ کے سربراه) عراق سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔[15]
اس کے بعد عراق اور لبنان میں موجود حزبِ دعوت کے نمایاں اراکین نے عراق میں دوبارہ سرگرمیوں کے آغاز کے لیے نئی قیادت منتخب کی، جس کی سربراہی شیخ عارف بصری کے سپرد کی گئی۔ تاہم 17 جولائی 1974ء کو شیخ عارف بصری اور قیادت کے چند دیگر اراکین گرفتار کر لیے گئے اور ایک نمائشی عدالت میں سزا سنائے جانے کے بعد 25 دسمبر 1974ء کو بغداد میں انہیں پھانسی دے دی گئی، جبکہ بعض دیگر کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔[16].
قیادتِ کل
1975ء میں حزبِ دعوت کی نئی قیادت عراق میں دوبارہ تشکیل دی گئی، جس میں عدنان سلمان کعبی، مہدی عبد مہدی اور ابراہیم مالک شامل تھے۔ یہ قیادت کمیٹیٔ عراق (لجنة العراق) کے نام سے معروف ہوئی۔ اس کمیٹی نے حزب کے سابق رہنما محمد ہادی سبیتی سے رابطہ قائم کیا، جو اس وقت اردن میں مقیم تھے۔
سبیتی نے حزب کے ایک رکن علی کورانی کو، جو لبنان میں حزب کی شاخ کے ذمہ دار تھے، قیادتِ کل کا رکن مقرر کیا۔ یوں علی کورانی، سید مرتضیٰ عسکری، سید کاظم حائری اور محمد مہدی آصفی کے ساتھ مل کر حزبِ دعوت کی قیادتِ کل (القیادة العامة) تشکیل پائی۔[17].
ایران کے اسلامی انقلاب کی حمایت
اکتوبر 1978ء میں حزبِ دعوت نے ایک بیان جاری کر کے ایران کے اسلامی انقلاب کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر محمد مہدی آصفی پیرس گئے اور امام خمینی سے ملاقات کر کے انہیں حزبِ دعوت کی جانب سے مکمل تائید و حمایت سے آگاہ کیا۔[18]
انتفاضۂ 17 رجب
12 جون 1979 کو سید محمد باقر صدر کی گرفتاری کے بعد، حزبِ دعوت نے پورے عراق میں وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے۔ ان عوامی احتجاجات کو بعد میں انتفاضۂ 17 رجب کے نام سے جانا گیا۔
ان مظاہروں کے نتیجے میں سیکڑوں افراد گرفتار ہوئے۔ بعثی حکومت نے تقریباً 1200 گرفتار شدگان کا مقدمہ چلایا، جن میں سے 86 افراد کو سزائے موت سنائی گئی۔ اس شدید سرکوبی کے بعد حزبِ دعوت نے مسلح جدوجہد کی راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک باقاعدہ عسکری شاخ قائم کی، جس کی نگرانی پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے کی۔
چونکہ اس عرصے میں پارٹی کے کئی رہنما یا تو گرفتار کر لیے گئے تھے یا ملک سے فرار ہو چکے تھے، اس لیے عبدالامیر منصوری نے حزبِ دعوت کی ازسرِنو تشکیل کی اورجون 1979 میں پارٹی کی قیادت سنبھال لی۔[19].
مرکزِ فعالیت کا ایران منتقل ہونا
جب صدام حسین نے 16 جولائی 1979ء کو عراق میں اقتدار سنبھالا تو حزبِ دعوت پر سرکوبی کی لہر مزید تیز ہو گئی۔ اس دباؤ کے جواب میں حزب نے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ صدامی حکومت نے حزب کے ارکان کو گرفتار کیا اور سیکڑوں افراد کو نمائشی عدالتوں کے ذریعے سزائے موت دی۔
ایسی سنگین صورتحال میں حزبِ دعوت نے اپنا مرکزِ فعالیت ایران منتقل کر دیا۔ محمد مہدی آصفی موسمِ گرما 1979ء میں ایران آئے۔ انہوں نے اور دیگر رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ حزب کا تنظیمی ڈھانچه ازسرِنو مرتب کیا جائے اور قیادت کو شخصی طرزِ قیادت سے نکالا جائے جو ماضی میں محمد ہادی سبیتی کے گرد مرکوز تھی۔ چنانچہ جماعت کی قیادت کو اجتماعی بنیاد پر منظم کرتے ہوئے ایک مرکزی کونسل تشکیل دی گئی جس میں محمد ہادی سبیتی، علی کورانی، محمد مہدی آصفی، سید مرتضی عسکری اور سید کاظم حائری (فقیہ الدعوة) شامل تھے۔ تاہم سبیتی اور ان کے ہمفکر افراد نے اس فیصلے کو اپنے خلاف تصور کر کے مخالفت کی، لیکن انہیں کامیابی نہ ملی۔
بعد ازاں، حزبِ دعوت کے رہنماؤں اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں، اہواز کے قرب میں ایک فوجی کیمپ حزب کو حوالہ کیا گیا جو اردوگاہِ شہید صدر کہلایا۔ یہ حزب کا ایران میں سب سے اہم تربیتی مرکز بن گیا جہاں تقریباً 7000 فوجی ارکان عسکری تربیت حاصل کرتے تھے۔
جب عراق و ایران کی جنگ کا آغاز ہوا تو اسی تربیت یافتہ حزبِ دعوت کے مجاہدین نے عراقی فوج کے خلاف محاذ سنبھالا۔ سنه 1980ء میں محمد مہدی آصفی کو حزبِ دعوت کا رسمی ترجمان مقرر کیا گیا۔[20]
شہادتِ سید محمد باقر صدر اور بنت الہدی
بعثی حکومت نے 8 اپریل 1980ء کو سید محمد باقر صدر اور ان کی بہن بنت الہدی کو بغداد میں گرفتاری اور تشدد کے بعد قتل کر دیا۔ اس سانحے کے ساتھ حزبِ دعوت اپنے معنوی رہبر اور بانیانِ اوّلین میں سے ایک سے محروم ہو گئی۔
جون 1980ء میں عراق میں حزب کے صدر علی ناصر محمود کی گرفتاری کے بعد عراق میں قیادی ڈھانچہ بکھر گیا۔ اس کے بعد ایران میں موجود پارٹی قیادت کی نگرانی میں عراق شاخ کی نئی قیادت کے اراکین منتخب کیے گئے۔
فروری 1981ء میں نئے آئین نامے کے مطابق قیادت کی اعلیٰ کونسل کے 12 ارکان کے انتخاب کے لیے انتخابات کرائے گئے۔ سبیتی، کورانی اور ان کے ہم خیال جو اس نفاذ کے مخالف تھے، انہوں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ منتخب ہونے والوں میں سید کاظم حائری، محمد مہدی آصفی، محمد صالح ادیب، ابراہیم جعفری اور حسن شُبّر شامل تھے۔
9 مئی 1981ء کو حزب کے سابق رہبر محمد ہادی سبیتی، جو اردن میں تھے، گرفتار کیے گئے اور حکومتِ عراق کے حوالے کیے جانے کے بعد انہیں سزائے موت دے دی گئی۔[21].
جماعت دعوت میں اختلافات
جماعت دعوت نے 1981ء میں تہران میں اپنا عمومی کانگریس منعقد کیا۔ اس کانگریس میں حزب کے آئین نامے کی تدوین کے لیے 12 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی نے آئین نامے کا مسودہ تیار کیا جو بعد میں حزب کی قیادت کی منظوری سے نافذ ہوا۔
تاہم، بصرہ شاخ کے اراکین، جو حزب کے سابق سربراه محمد ہادی سبیتی کے حامی تھے اور ایران میں موجود مرکزی قیادت سے اختلاف رکھتے تھے، اس کانگریس میں شریک نہیں ہوئے۔ اس عدم شرکت کے نتیجے میں حزب کے اندر ان دونوں شاخوں کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے۔
جولائی 1982ء میں، دُجَیل شہر میں صدام حسین پر ہونے والی ایک ناکام قاتلانہ کارروائی کے بعد حزبِ دعوت کی فوجی شاخ بے نقاب ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں حزب کے 117 ارکان کو یا تو سزائے موت دی گئی یا طویل قید کی سزائیں سنائی گئیں، جس سے حزب کو شدید تنظیمی اور انسانی نقصان اٹھانا پڑا۔[22]
تشکیلِ مجلسِ اعلٰی انقلابِ اسلامیِ عراق
سید محمد باقر حکیم نے 17 نومبر 1982ء کو ایران کی حمایت سے تہران میں مجلسِ اعلٰی انقلابِ اسلامیِ عراق قائم کی، جو مختلف شیعہ جماعتوں اور گروہوں پر مشتمل تھی۔ حزبِ دعوت بھی اس اتحاد میں شامل ہوئی اور اس کی ایگزیکٹو کمیٹی کی ذمہ داری حزبِ دعوت کے رہنما ابراہیم جعفری کو سونپی گئی۔[23]
جماعت دعوت الاسلامیہ اور ولایتِ فقیہ کا مسئلہ
فروری 1984ء کے اواخر میں حزبِ دعوت کا عمومی کانگریس منعقد ہوا۔ اس کانگریس میں حزب کے آئین نامے سے فقیہ الدعوة کا منصب ختم کر دیا گیا اور اس کی جگہ ایک فقہی کمیٹی قائم کی گئی جس کے سربراہ سید کاظم حائری تھے، جبکہ محمد مہدی آصفی اور محمد علی تسخیری اس کے رکن تھے۔
کچھ عرصے بعد فقہی کمیٹی اور حزب کی قیادت کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔ سید کاظم حائری کا موقف تھا کہ شورائے فقہی کو حزب کی قیادت اپنے ہاتھ میں لینی چاہیے، جبکہ حزب کی سیاسی قیادت اس شورا کو صرف شرعی و دینی مسائل کے حل کا مرجع سمجھتی تھی۔[24].
ان اختلافات کے حل کے لیے 1 جنوری 1988ء کو تہران میں ایک اور کانگریس منعقد کی گئی۔ اس کانگریس میں اکثریت نے شورائے فقہی کے خاتمے کے حق میں ووٹ دیا۔ چنانچہ شورائے فقہی کے بقا کے حامی، سید کاظم حائری کی قیادت میں حزب سے الگ ہو گئے اور حزبِ دعوت الاسلامیہ – المجلس الفقہی کے نام سے ایک نئی جماعت قائم کی، جو بعد میں حزبِ دعوت الاسلامیہ ولایتِ فقیہ کہلائی۔
ان اندرونی اختلافات کے نتیجے میں، 1989ء میں منعقد ہونے والے عمومی کانگریس میں محمد مہدی آصفی نے حزب کے ترجمان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اسی موقع پر حزب نے ترجمان کا منصب ختم کر کے اس کی جگہ سیاسی دفتر قائم کیا، جس میں تین ترجمان شامل تھے: ایران میں علی ادیب، لندن میں ابراہیم جعفری، اور شام میں نوری المالکی۔[25]
عراق قومی کانگریس کی تاسیس
حزبِ دعوت نے بعثی حکومت کے مخالف دیگر عراقی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر مختلف اہم اجلاسوں میں شرکت کی۔ ان میں دمشق اجلاس (27 دسمبر 1990)، بیروت اجلاس (11 مارچ 1991) اورصلاحالدین اجلاس (27 تا 31 اکتوبر 1992) شامل تھے۔
صلاحالدین اجلاس کے نتیجے میں عراق قومی کانگریس (المؤتمر الوطنی العراقی) قائم ہوئی، جو بعثی حکومت کے مخالف سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا اتحاد تھا اور جس کا بنیادی مقصد صدام حسین کے اقتدار کا خاتمہ تھا۔
تاہم، 1997ء میں حزبِ دعوت نے لندن میں منعقد ہونے والے کانگریسِ ملیِ عراق کے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا اور واضح کیا کہ وہ اس اتحاد کو حاصل مغربی حمایت کو قبول نہیں کرتی۔ اسی سال فقہا کے سیاسی و تنظیمی کردار کے حوالے سے اختلافات شدت اختیار کر گئے اور حزب اندرونی بحران کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں حزب کے اندر متعدد شاخیں وجود میں آ گئے:
محمد مہدی آصفی اور ان کے ہم خیالوں کی شاخ، جو اس بات کے قائل تھے کہ فقہا پر مشتمل ایک ہیئت حزبِ دعوت کے امور کی نگرانی کرے؛
خُضَیر موسی جعفر الخُزاعی اور ان کے حامیوں کی شاخ، جو سخت گیر اور انتہا پسندانہ مؤقف رکھتا تھا۔ یہ گروہ حزب سے الگ ہو گیا اور حزبِ دعوت الاسلامیہ – تنظیمِ عراق کے نام سے نئی جماعت قائم کی؛
حزب کا مرکزی اور نمایاں شاخ، جس کی نمائندگی حسن شُبّر، محسن ادیب اور مہدی العطار کر رہے تھے اور جس کی قیادت عبدالحلیم جواد الزُهَیری کے ہاتھ میں تھی۔ یہ شاخ فقہا کی براہِ راست مداخلت کے خلاف تھا۔
اسی سال بصرہ شاخ بھی عزالدین سلیم (ابو یاسین) کی قیادت میں باضابطہ طور پر حزبِ دعوت سے الگ ہو گئی اور اس نے حرکة الدعوة الاسلامیة کے نام کو اختیار کیا۔
بعد ازاں، حزبِ دعوت نے 30 اکتوبر 1999ء کو نیویارک اور 14 نومبر 2002ء کو لندن میں منعقد ہونے والے کانگریسِ ملیِ عراق کے اجلاسوں میں بھی شرکت نہیں کی، کیونکہ حزب کی قیادت ان اجلاسوں کو عراق کے خلاف فوجی کارروائی کی تمہید سمجھتی تھی اور حزب کسی بھی بیرونی فوجی حملے کی مخالف تھی۔[26]
سقوطِ صدام کے بعد
2003ء میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد حزبِ دعوت کے ارکان جلاوطنی سے واپس عراق آئے اور کربلا اور بغداد میں اپنے دفاتر قائم کیے۔ اسی سال عراق کے نئے سیاسی نظام کی بنیاد رکھنے کے لیے شورائے حکومتی (مجلس الحکم) تشکیل دیا گیا، جس کا مقصد نئے آئین کی تیاری اور عبوری حکومت کی تشکیل تھا۔ اس شورا میں عراق کی اہم سیاسی جماعتوں کے 25 نمائندے شامل تھے۔ حزبِ دعوت کے رہنما ابراہیم جعفری اس شورا کے رکن بنے اور بعد ازاں اس کے سربراہ مقرر ہوئے۔
30 جون 2004ء کو شورائے حکومتی کی جگہ عبوری حکومتِ عراق قائم کی گئی۔ اس حکومت میں غازی مشعل عجیـل الیاور صدرِ جمہوریہ اور ایاد علاوی وزیرِ اعظم تھے، جبکہ ابراہیم جعفری کو نائب صدر بنایا گیا۔
30 جنوری 2005ء کو عبوری پارلیمنٹ کے انتخابات ہوئے۔ ان انتخابات میں حزبِ دعوت نے دیگر شیعہ جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحادِ یکپارچۂ عراق (الائتلاف العراقی الموحّد) کے نام سے مشترکہ فہرست پیش کی اور 275 میں سے 133 نشستیں حاصل کر کے واضح کامیابی حاصل کی۔
اسی پارلیمنٹ نے 3 مئی 2005ء کو انتقالی حکومت کا انتخاب کیا، جس میں ابراہیم جعفری وزیرِ اعظم اور جلال طالبانی صدرِ جمہوریہ منتخب ہوئے۔
بعد ازاں، 15 دسمبر 2005ء کو ہونے والے مستقل عراقی پارلیمانی انتخابات میں بھی حزبِ دعوت نے اسی اتحاد کے تحت حصہ لیا اور 275 میں سے 128 نشستیں حاصل کیں۔
2006ء میں عراقی پارلیمنٹ نے حزبِ دعوت کے ممتاز رہنما نوری المالکی کو وزیرِ اعظم منتخب کیا۔ اگلے ہی سال 2007ء میں حزبِ دعوت کے عمومی کانگریس میں دبیرِ جنرل کا نیا منصب قائم کیا گیا اور نوری المالکی کو اس عہدے پر فائز کیا گیا۔ اسی کانگریس کے بعد ابراہیم جعفری حزبِ دعوت سے الگ ہو گئے اور انہوں نے جریانِ اصلاحِ ملی (تیار الاصلاح الوطنی) کے نام سے نئی سیاسی جماعت قائم کی۔
عراق کے اگلے پارلیمانی انتخابات 7 مارچ 2010ء کو منعقد ہوئے۔ انتخابات سے قبل اتحادِ یکپارچۂ عراق میں شامل شیعہ جماعتوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے، جس کے نتیجے میں نوری المالکی نے سات جماعتوں پر مشتمل ایک نیا اتحاد ائتلافِ دولتِ قانون (دولة القانون) کے نام سے تشکیل دیا۔
ان انتخابات میں ائتلافِ دولتِ قانون نے 89 نشستیں حاصل کیں اور ایاد علاوی کی قیادت میں قائمة العراقیة کے بعد دوسرے نمبر پر رہا، جس نے 91 نشستیں حاصل کی تھیں۔ اس کے باوجود، نئی پارلیمنٹ نے ایک بار پھر نوری المالکی کو عراق کا وزیرِ اعظم منتخب کر لیا۔[27].
میڈیا کی سرگرمیاں
حزب الدعوة ایک سیٹلائٹ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی مالک ہے جس کا نام آفاق ہے، جو ۲۰۰۶ء میں قائم ہوا۔ اس نیٹ ورک کے مختلف ممالک میں ۹ بیرونی دفاتر ہیں۔ حزب کی ملکیت میں دو ریڈیو اسٹیشن بھی ہیں جن کے نام آفاق اور بنت الہدیٰ ہیں۔ حزب مطبوعاتی سرگرمیاں بھی انجام دیتی ہے۔ ۱۹۶۰ء میں الدعوة الاسلامیة کے نام سے ایک رسالہ شائع کیا گیا جو ۱۰ شماروں کے بعد بند کر دیا گیا۔ ۱۹۶۳ء میں صوت الدعوة کے نام سے ایک نیا رسالہ شائع کیا گیا جو اب تک شائع ہو رہا ہے۔ موجودہ وقت میں (۱۳۹۱ ش / ۲۰۱۲) یہ حزب البیان اور الدعوة کے نام سے اخبارات اور قبضة الہدیٰ کے نام سے ایک مجلہ شائع کرتی ہے۔[28].
جماعت کے مالی وسائل
حزب الدعوة کے اساسنامے کے مطابق، حزب کے مالی وسائل ارکان کی ماہانہ ادائیگیوں، فلاحی اداروں اور صاحبِ حیثیت افراد کی مالی معاونت، نیز خود حزب کے اقتصادی منصوبوں سے فراہم ہوتے ہیں۔[29].
متعلقه تلاشیں
- عراق
- اخوان المسلمین
- انقلاب اسلامی ایران
- ایران اور عراق کی آٹھ ساله جنگ(مقدس دفاع)
- سید محمد باقر صدر
- مجلس اعلای اسلامی عراق
حوالہ جات
- ↑ مرزدار مکتب اهل بیت؛ محمدباقر ادیبی لاریجانی؛ ص 138
- ↑ ادیب موسوی، ص۷ - ۱۰؛ شبّر ج۳، ص۱۱۲ - ۱۱۳
- ↑ علی مؤمن، ۲۰۰۴، ص۳۵، ۱۶۹، ۲۰۰؛ حسینی، ص۷۲ - ۷۴؛ الاحزاب و الحرکات و الجماعات الاسلامیة، ج۲، ص۳۳۷ - ۳۳۸؛ عاملی، ج۱، ص۲۴۵- ۲۴۶
- ↑ حسینی، ص۶۸ - ۷۴؛ خرسان، ص۵۵ - ۵۶، ۶۳ - ۶۴؛ عاملی، ج۱، ص۲۵۵ - ۲۵۶
- ↑ حزب الدعوة الاسلامیة، ۱۴۱۹، ص۵۴۱ - ۵۴۲
- ↑ همان، ص۵۵۳ – ۵۶۰؛ همو، المرحلیة فی جهاد الدعوة، ص۱۷ - ۲۱
- ↑ همو، ۱۴۱۹، ص۵۹۰ - ۶۰۲؛ شبّر، ج۲، ص۴۲۳ - ۴۲۶
- ↑ حزب الدعوة الاسلامیة، ۱۴۱۹، ص۶۰۲ – ۶۰۷؛ شبّر، ج۳، ص۴۲۷ - ۴۲۹
- ↑ حزب الدعوة الاسلامیة، ۱۴۱۹، ص۶۰۲ – ۶۰۷؛ همو، ۱۴۰۵ – ۱۴۰۹، ج۲، ص۳۸۸ -۳۹۲
- ↑ علی مؤمن، ۲۰۰۴، ص۳۶۴؛ عاملی، ج۱، ص۳۳۱؛ ویلی، ص۵۴
- ↑ عاملی، ج۱، ص۴۲۰ – ۴۲۵؛ حسینی، ص۹۹ - ۱۰۰
- ↑ علی مؤمن، ۲۰۰۴، ص۸۵ - ۸۶؛ خرسان، ص۱۲۱، ۱۳۵ - ۱۳۸؛ حزب الدعوة الاسلامیة، ۱۴۰۵ – ۱۴۰۹، ج۳، ص۲۳۰
- ↑ علی مؤمن، ۲۰۰۴، ص۷۶؛ شبّر، ج۳، ص۳۲۵ - ۳۲۸
- ↑ علی مؤمن، ۲۰۰۴، ص۷۸، ۸۶ - ۸۷؛ عجلی، ص۱۱۶ - ۱۱۷
- ↑ عادل رؤوف، ص۲۵؛ خرسان، ص۱۷۷ – ۱۷۹؛ علی مؤمن، ۲۰۰۴، ص۱۳۹ - ۱۴۲
- ↑ ادیب و موسوی، ص۴۶؛ علی مؤمن، ۲۰۰۴، ص۱۴۳ – ۱۵۰؛ شامی، ص۱۵۰
- ↑ علی مؤمن، ۲۰۰۴، ص۱۶۱ – ۱۶۲، ۲۰۳؛ خرسان، ص۲۱۱ - ۲۱۷
- ↑ علی مؤمن، ۲۰۰۴، ص۱۸۴؛ خرسان، ص۲۵۷
- ↑ علی مؤمن، ۲۰۰۴، ص۱۳۹ – ۱۴۲؛ خرسان، ص۲۹۷
- ↑ عجلی، ص۱۴۶؛ شامی، ص۱۷۶ – ۱۷۷؛ خرسان، ص۳۱۶ – ۳۱۷، ۳۴۲ - ۳۴۵
- ↑ علی مؤمن، ۲۰۰۴، ص۳۰۴؛ عادل رؤوف، ص۳۶
- ↑ زهیر کاظم عبود، ص۱۵ – ۱۶؛ طحّان، ص۳۶۲، ۳۶۹؛ علی مؤمن، ۲۰۰۴، ص۴۵۱ - ۴۵۳
- ↑ جعفری، ۱۳۹۰ش ب، ص۲۵۷؛ آندرسون و استنزفیلد، ص۲۳۱
- ↑ علی مؤمن، ۲۰۰۴، ص۳۶۱ – ۳۶۲؛ خرسان، ص۴۰۹ – ۴۱۳؛ عادل رؤوف، ص۴۳
- ↑ خرسان، ص۴۱۹
- ↑ صمانجی، ص۴۱۰ – ۴۱۷، ۵۲۷ – ۵۲۸ و پانویس؛ جعفری، ۱۳۹۰ش الف، ص۴۶ - ۴۷
- ↑ «ائتلاف دولة القانون بزعامة نوری المالکی»، ۲۰۱۲، عباس عبود سالم، ۲۰۱۰؛ «قائمة علاوی تحتلّ الموقع الاول فی الانتخابات العراقیة»، ۲۰۱۰
- ↑ قناة آفاق الفضائیة و جریدة البیان و جریدة الدعوة... ، ۲۰۱۱
- ↑ حزب الدعوة الاسلامیة، ۱۴۱۹، ص۵۹۱، ۶۱۹