محمد باقر قرشی
| محمد باقر قرشی | |
|---|---|
| دوسرے نام | آیت اللہ محمد شریف قرشی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1344 ھ |
| پیدائش کی جگہ | واسط عراق |
| وفات | 2012ء |
| یوم وفات | 17 جنوری |
| وفات کی جگہ | نجف |
| اساتذہ | حسین احسائی، بشیر عاملی ، علی شُبّر و محمد طہٰ آل راضی |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| اثرات | العمل وحقوق العامل في الإسلام، حياة الرسول الأعظم،موسوعة أهل البيت،الإمام أمير المؤمنين علي بن أبي طالب، حياة سيدة نساء العالمين فاطمة الزهراء |
| مناصب | مؤرخ، سیرت نگار اور محقق |
محمد باقر قرشی ، باقر بن شریف بن مہدی بن ناصر القرشی (1344ھ–1433ھ) ایک شیعہ عالمِ دین اور عراقی مؤرخ تھے۔ وہ واحد عراقی شخصیت ہیں جن کے لیے امریکی کانگریس کی لائبریری میں ایک خصوصی شعبہ مختص کیا گیا ہے۔ وہ "مکتبۃ الامام الحسن العامۃ" کے بانی بھی تھے۔
ولادت اور نشوونما
باقر قرشی اپنے بھائی ہادی کے ساتھ پلے بڑھے، جو خود بھی عالمِ دین تھے۔ ان دونوں کی والدہ کا انتقال اس وقت ہوگیا تھا جب وہ کم سن تھے، چنانچہ ان کے والد نے ان کی پرورش کی ذمہ داری سنبھالی۔ ان کے والد ناحیہ القاسم میں، جو حلّہ کے اضلاع میں سے ایک تھا، دینی رہنما تھے۔
اس زمانے میں باقاعدہ اسکول موجود نہیں تھے، بلکہ ایسے مکتب ہوتے تھے جہاں طلبہ کو پڑھنا لکھنا سکھایا جاتا تھا۔ قرشی نے باقر قفطان کے پاس پڑھنا اور لکھنا سیکھا۔ اس کے بعد وہ حوزۂ علمیہ میں داخل ہوئے اور علمِ نحو کا نہایت تفصیلی اور جامع مطالعہ کیا۔
تقریباً آٹھ سال تک وہ جامع ہندی میں نحو کی تعلیم حاصل کرتے رہے، یہاں تک کہ خود علمِ نحو کے ماہرین میں شمار ہونے لگے۔ اس کے بعد انہوں نے حوزۂ علمیہ کے بعض اساتذہ، مثلاً حسین احسائی، بشیر عاملی اور علی شُبّر سے دیگر علومِ مقدمات کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں وہ محمد طہٰ آل راضی کے خصوصی شاگرد بن گئے۔
وفات
باقر شریف قرشی کا انتقال عراق کے شہر نجف میں 26 رجب 1433ھ، بمطابق 17 جون 2012ء، ایک طویل اور مہلک بیماری کے باعث ہوا۔ ان کی تشییع جنازہ نجف میں ہوئی اور انہیں اسی مکتبۃ الامام الحسن العامۃ میں دفن کیا گیا جسے انہوں نے خود قائم کیا تھا۔ ان کی وفات پر مسجد حنانہ میں تین دن تک مجلسِ فاتحہ منعقد کی گئی۔
تصانیف
قرشی نے تاریخ، فقہ، اصول، عقائد اور دیگر متعلقہ علوم کے میدان میں متعدد کتابیں اور تصانیف تحریر کیں۔ ان کی بعض تصانیف کا دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔ ان کی اہم تصانیف میں درج ذیل شامل ہیں:
- العمل وحقوق العامل في الإسلام. ترجم إلى اثنتي عشر لغة.
- حياة الرسول الأعظم يقع في ثلاثة مجلدات.
- موسوعة أهل البيت. يقع في 42 مجلدا.
- الإمام أمير المؤمنين علي بن أبي طالب. يقع في 11 مجلداً.
- حياة سيدة نساء العالمين فاطمة الزهراء.
- " حياة الإمام الحسن. يقع في مجلدين.
- حياة الإمام الحسين. يقع في ثلاثة مجلدات.
- حياة الإمام زين العابدين. يقع في مجلدين.
- حياة الإمام الباقر. يقع في مجلدين.
- موسوعة الإمام الصادق. تقع في سبعة مجلدات.
- حياة الإمام موسى بن جعفر. يقع في مجلدين.
- حياة الإمام الرضا. يقع في مجلدين.
- حياة الإمام الجواد.
- حياة الإمام الهادي.
- حياة الإمام العسكري.
- حياة الإمام المهدي.
- الإمام الصادق في رحاب القرآن.
- العباس بن علي رائد الكرامة والفداء في الإسلام.
- مسلم بن عقيل البطل الخالد في الإسلام.
- نغمات عن مسيرة أئمة أهل البيت.
- هذه هي الشيعة.
- الشيعة والصحابة.
- النظام التربوي في الإسلام.
- النظام السياسي في الإسلام.
- نظام الحكم والإدارة في الإسلام.
- العمل وحقوق العامل في الإسلام.
- الفقه الإسلامي..تأسيسه..أصالته..مداركه.
- براءة الشيعة من الغلو والغلاة.
- سلامة القرآن من التحريف.
- السجود على التربة الحسينية.
- أهل البيت في رحاب القرآن.
- أهل البيت في ظلال السنة النبوية.
- أبو طالب حامي الإسلام.
- تقرير أبحاث السيد الخوئي في الفقه. يقع في اثني عشر مجلداً.
- تقرير أبحاث الشيخ محمد طاهر آل راضي في الأصول.
- إيضاح الكفاية. يقع في ثلاثة مجلّدات.
- قاعدة لا ضرر ولا ضرار في الإسلام.
- النظام الاجتماعي في الإسلام.
- الإسلام وحقوق الإنسان.
- المرأة في رحاب الإسلام.
- الإسلام أم الديمقراطية.
- في رحاب العقيدة.
- إيمان أبو طالب.
- نزاهة القرآن من التحريف.
- السجود على التربة الحسينية عند الشيعة.
- قاعدة الفراغ والتجاوز.
- مؤتمر السقيفة.
- مؤتمر الشورى.
- شرح الرسالة الذهبية في طب الإمام الرضا.
- نصائح وتجارب للحوزة العلمية.
- أضواء على زيارة القبور۔
باقر شریف قرشی کی تصانیف کی چند خصوصیات
1۔ اس اعتبار سے شیخ باقر شریف قرشی کی کاوشیں نہایت اہمیت کی حامل ہیں کہ انہوں نے عراق میں، خصوصاً صدام حکومت کے دور میں، دینی کتابوں کی طباعت پر عائد شدید پابندیوں اور سخت نگرانی کے باوجود اہلِ بیتؑ، تشیع اور اسلامی عقائد کے موضوعات پر کتابیں تصنیف اور شائع کیں۔ وہ خود فرماتے ہیں:
"کتابوں کی اشاعت کے لیے سنسرشپ اور مطابع پر سخت نگرانی کی وجہ سے… شیعہ دینی آثار کی اشاعت کے لیے بعض مطابع کو رقم دیتے تھے تاکہ وہ ان آثار کو شائع کریں، اور ہم لبنان، دمشق، قاہرہ وغیرہ کے اشاعتی اداروں کے نام درج کرتے تھے، تاکہ شائع شدہ آثار ضبط نہ کیے جائیں۔"
2۔ ان کی تصانیف کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ کتابیں لکھتے وقت اپنے عہد کے مسائل اور ضروریات کو پیشِ نظر رکھتے تھے۔ اہلِ بیتؑ اور اسلامی نظام کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں ان کی تصانیف اسی خصوصیت کی عکاس ہیں۔
وہ ائمہ طاہرینؑ کی سیرت لکھنے کا بنیادی محرک اس واقعے کو قرار دیتے ہیں جب شہید محمد باقر صدر کے ساتھ ایک گفتگو میں شہید نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ اہلِ بیتؑ کے بارے میں علمی، موضوعاتی اور منہجی انداز میں خاطر خواہ کام نہیں ہوا ہے۔
اسی طرح عبدالکریم قاسم کے دور میں جب کمیونسٹ افکار تیزی سے پھیل رہے تھے، تو انہوں نے اس سلسلے میں مطالعات کیے اور متعدد کتابیں تحریر کیں، جن میں "العمل وحقوق العامل في الإسلام" اور "في أنظمة الحكم والإدارة" قابلِ ذکر ہیں۔
3. ان کی تصانیف کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے **شیعہ اور سنی دونوں مکاتبِ فکر کی کتابوں** سے استفادہ کیا اور ان کے حوالے پیش کیے۔ وہ صرف شیعہ مصادر تک محدود نہیں رہے، بلکہ مختلف اسلامی مصادر سے رجوع کیا۔
4۔ اہلِ بیتؑ کے بارے میں ان کی تصانیف کا مطالعہ کرنے سے تاریخ نگاری کا ایک مخصوص اسلوب سامنے آتا ہے۔ وہ تاریخ لکھتے ہوئے صرف تاریخی کتابوں سے استفادہ کرنے پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ اہلِ بیتؑ کی تاریخ کی تدوین میں ان سے منقول احادیث و روایات کو بنیادی ماخذ قرار دیتے ہیں۔
پھر انہیں رواں اور سادہ نثر میں بیان کرتے ہوئے انہی روایات سے تاریخی واقعات کو اخذ کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی کتابیں مختلف فقہی، علمی، سیاسی اور دیگر موضوعات سے متعلق ائمہؑ کی احادیث تک رسائی کے لیے ایک اہم ذریعہ بن جاتی ہیں۔
مؤلف نے مختلف حالات میں معصومینؑ سے منقول دعاؤں کو بھی اپنی تصانیف میں شامل کیا ہے۔
5. اہلِ بیتؑ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے متعلق احادیث کو ان کی اپنی زبان میں نقل اور تجزیہ کرنے کے علاوہ، مؤلف نے اس دور کے سیاسی، علمی، سماجی، اقتصادی، مذہبی اور دیگر حالات پر بھی توجہ دی ہے۔ وہ قارئین کو ضروری تاریخی معلومات فراہم کرتے ہوئے ان حالات کے تناظر میں روایات کی روشنی میں معصومینؑ کے مقام و کردار کا تجزیہ کرتے ہیں۔
6. موضوعاتی اعتبار سے مؤلف نے معصومینؑ کی تاریخ کے ایسے نئے اور کم زیرِ بحث پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے امام سجادؑ کی زندگی کے اس پہلو پر روشنی ڈالی ہے کہ آپؑ صرف زہد و تقویٰ کے پیکر ہی نہیں تھے بلکہ اسلامی تہذیب و تمدن کے معمار اور اسلام کی تجدید و احیا کرنے والے بھی تھے۔
انہوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ امام سجادؑ نے مدینہ منورہ کو ایک علمی مرکز بنایا۔ اسی طرح رسالۃ الحقوق اور صحیفۂ سجادیہ میں امامؑ کے اثرات، نیز آپؑ کی علمی زندگی اور علمی خدمات بھی ان کی تحقیقات کا حصہ ہیں۔
وہ امام سجادؑ کی علمی حیات کے بارے میں لکھتے ہیں: "امام سجادؑ نے مسجدِ رسولؐ کو اپنے مدرسے کا مرکز قرار دیا اور مسجد کے شبستان میں علماء اور فقہاء کے سامنے اپنے مباحث اور گفتگو پیش فرماتے تھے۔ یہ مباحث علمِ فقہ، تفسیر، حدیث، فلسفہ، علمِ کلام، نیز آدابِ سلوک اور اخلاق پر مشتمل تھے…"
7. ان کی تصانیف جہاں ائمہؑ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرتی ہیں، وہیں ائمہؑ کے اصحاب اور شاگردوں کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کرتی ہیں۔ یہ امر علمِ رجال اور راویوں کی شناخت کے میدان میں ان کی خصوصی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔
8. اس مؤلف کی تاریخی کتابوں کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اگرچہ تاریخی معلومات پیش کرتے وقت وہ ائمہؑ سے منقول احادیث و روایات پر خصوصی توجہ دیتے ہیں، لیکن صرف روایات نقل کرنے پر اکتفا نہیں کرتے۔ احادیث کی صحت و سقم جانچنے کے لیے وہ **شیعہ علمِ حدیث کے اصول** سے استفادہ کرتے ہیں، جس میں راوی اور روایت دونوں کا سندی اور عقلی اعتبار سے جائزہ لیا جاتا ہے۔
9. جہاں تاریخی مباحث میں مختلف بلکہ بعض اوقات متضاد آراء سامنے آتی ہیں، وہاں وہ ان تمام آراء کو پیش کرتے ہیں اور پھر مختلف نظریات کا تنقیدی اور تحقیقی جائزہ لیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اس رائے کو اختیار کرتے ہیں جسے ان کے نزدیک زیادہ صحیح سمجھا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر امام حسنؑ کی ازواج کی تعداد، امام رضاؑ کی ولی عہدی اور شہادت اور دیگر مختلف تاریخی مسائل کے بارے میں انہوں نے مختلف اقوال پیش کرکے ان کا تجزیہ کیا ہے۔
10. تاریخ کے اہم مباحث میں سے ایک سوال یہ ہے کہ کیا کوئی مؤرخ مکمل طور پر غیر جانب دار ہوسکتا ہے یا نہیں؟ چونکہ ہر شخص کے عقائد کسی نہ کسی حد تک اس کے نقطۂ نظر اور طرزِ بیان پر اثر انداز ہوتے ہیں—اگرچہ کسی خاص نقطۂ نظر کا حامل ہونا متعصبانہ حمایت سے مختلف ہے۔
اس لیے شیخ باقر شریف قرشی کی تصانیف میں، اس حقیقت کے باوجود کہ وہ ایک شیعہ عالم تھے اور اپنی تاریخ نگاری میں ائمہؑ کی احادیث سے استناد کرتے تھے، ایک خاص خصوصیت نمایاں نظر آتی ہے۔
بعض افراد اور مکاتبِ فکر کے برعکس، جو پہلے اپنا موقف متعین کرتے ہیں اور پھر مخصوص دلائل پیش کرکے اپنے موقف کو حق ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، شیخ باقر شریف قرشی نے تاریخی واقعات اور معصومینؑ کی تاریخ کو ائمہؑ کی احادیث اور عقلی دلائل کی روشنی میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور انہی دلائل کے ذریعے ان کی حقانیت کو ثابت کیا ہے۔
ہارون الرشید اور امام کاظمؑ
اب ہم اس قابلِ احترام مؤلف کی تحریر کا ایک نمونہ امام کاظمؑ کی زندگی کے ایک حصے کے بارے میں نقل کرتے ہیں۔ یہ اقتباس کتاب "تحلیلی از زندگانی امام کاظمؑ" جلد اول، صفحہ 192 سے لیا گیا ہے:
"بیٹے! یہ شخص لوگوں کا پیشوا، اللہ کی مخلوق پر اس کی حجت اور اس کے بندوں پر اس کا خلیفہ ہے۔ جبکہ میں بظاہر، طاقت اور زور کے ذریعے لوگوں کا حکمران ہوں۔ خدا کی قسم! اگر وہ خلافت کے معاملے میں مجھ سے ٹکر لے گا تو میں اس کے اس عضو کو، جس میں اس کی دونوں آنکھیں ہیں، اس سے لے لوں گا—یعنی میں اس کا سر تن سے جدا کر دوں گا۔
سلطنت بانجھ ہوتی ہے اور رشتہ داری کو نہیں پہچانتی… بیٹے! یہ شخص انبیاء کے علم کا وارث ہے۔ یہ موسیٰ بن جعفر ہیں۔ اگر تم صحیح علم و دانش چاہتے ہو تو وہ یہیں ہے۔"
آخر میں قارئین کے مزید استفادے اور باقر شریف قرشی سے زیادہ واقفیت کے لیے ان کے ساتھ کیے گئے دو انٹرویوز بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ پہلا انٹرویو روزنامہ کیہان نے کیا تھا، جس میں رسول اکرمؐ، ان کی سیرت پر لکھی گئی کتاب "سیرۃ النبی اکرمؐ"جو ان کی آخری تصانیف میں سے ایک ہے—اور ان کی کتابوں کے طرزِ تحریر کے بارے میں گفتگو شامل ہے۔
اس میں خود انہوں نے اپنے اسلوبِ نگارش کی وضاحت کی ہے۔ دوسرا انٹرویو "کتاب ماہِ دین" میں شائع ہوا، جس میں ان کی سوانح، کتابوں کی تصنیف کے طریقۂ کار اور دیگر موضوعات کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
دونوں عالم اسی کے چہرے کی ایک تجلی ہیں
اشارہ:17 ربیع الاول اس عظیم انسانی وجود کے ظہور کا آغاز ہے جسے خلقت کا گلِ سرسبد کہا گیا ہے اور جو حقیقتاً آسمانوں اور زمین کی آفرینش کا مقصد اور سبب قرار دیے گئے ہیں۔ وہی ہستی جن کے بارے میں مولا علیؑ نے فرمایا: "لولاک لما خلقت الافلاک"۔ محمدؐ، وہ یگانہ، بے مثال اور تمام انبیاء و رسولوں کے سردار، ایسے دن دنیا میں تشریف لائے تاکہ انسانیت کی نامردمیوں اور مشکلات سے تھکے ہوئے دلوں میں امید کی روشنی پیدا کریں۔
یہ مبارک اور تاریخی مناسبت ہمیں اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ علامہ حجۃ الاسلام باقر شریف القرشی کی خدمت میں حاضر ہوں اور چند سوالات کے ذریعے ولادتِ رسول اکرمؐ سے متعلق بعض پہلوؤں سے آگاہی حاصل کریں۔
باقر شریف القرشی اہلِ بیتؑ کے علوم اور تاریخ کے تمام محققین اور دانشوروں کے درمیان ایک معروف نام ہیں۔ انہوں نے تقریباً ساٹھ سال کے عرصے میں ائمہ طاہرینؑ کی سیرت و زندگی اور اسلامی مسائل و موضوعات کے بارے میں 70 سے زائد آثار تصنیف کرکے اسلام اور اہلِ دین کے لیے پوری دنیا میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
علامہ قرشی نجف اشرف میں مقیم ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ایران کا سفر کیا اور ملک کی مختلف علمی شخصیات اور اہلِ دانش سے ملاقاتیں کیں۔ شہر قم میں ان کی موجودگی ہمارے لیے اس بات کا ایک بہترین موقع تھا کہ اہلِ بیتؑ کی سیرت کے بارے میں ان کی تازہ ترین تحقیقی مجموعۂ کتب، یعنی رسول اکرمؐ کی زندگی کی اشاعت کے موقع پر ان سے ولادتِ خاتم النبیینؐ سے متعلق گفتگو کریں، جسے ہم قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔
سوال:
رسول اکرمؐ کی ولادت کے زمانے میں معاشرے میں کون سا دین اور مذہب رائج تھا؟ اور آپؐ نے اپنی جوانی اور بعثت سے قبل کس دین کی پیروی کی؟
جواب:
رسول اکرمؐ اور معزز خاندانِ ہاشم دینِ خلیلؑ کی پیروی کرتے تھے۔ اہلِ بیتؑ سے منقول روایات اور اخبار کے مطابق پورا خاندانِ بنی ہاشم شیخ الانبیاء حضرت ابراہیمؑ کے دین پر قائم تھا۔
لیکن عرب کے دیگر علاقوں، بالخصوص مکہ اور مدینہ میں، عام طور پر لوگ بت پرستی اور مختلف بتوں کی عبادت میں مبتلا تھے۔ یہاں تک کہ خانۂ کعبہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے، جن میں سب سے بڑا ہبل تھا، جسے ابوسفیان کا خدا کہا جاتا تھا۔
یہ بت کعبہ کی دیواروں سے لٹکائے گئے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اکرمؐ کو رسالت پر مبعوث فرمایا اور آپؐ نے مکہ فتح کیا تو آپؐ نے حضرت علیؑ کے ساتھ مل کر ان بتوں کو گرا کر تباہ کیا۔
اس موقع پر حضرت علیؑ رسول اکرمؐ کے دوشِ مبارک پر سوار ہوئے اور بتوں کو گرانے لگے۔ حضرت علیؑ نے ہبل، یعنی ابوسفیان کے اسی خدا کو اٹھا کر زمین پر دے مارا اور اسے توڑ دیا، پھر اسے بابِ شیبہ کے مقام پر دفن کر دیا۔
اسی وجہ سے مستحب ہے کہ حاجی جب مسجد الحرام میں داخل ہونا چاہے تو باب بنی شیبہ کے راستے، جوتوں سمیت، داخل ہو؛ یعنی اسی مقام سے جہاں وہ بت دفن کیے گئے تھے، تاکہ ان بتوں سے اپنی نفرت کا اظہار کیا جا سکے۔
اس زمانے میں ایک اور رواج سود اور سود خوری کا تھا، جو قریش کے تاجروں میں عام تھا۔ وہ اپنی بیٹیوں، عورتوں اور بچوں کو ان لوگوں کے پاس گروی رکھ دیتے تھے جن سے وہ سامان یا رقم حاصل کرتے تھے۔
اسی طرح بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا بھی اس دور کی ایک اور انتہائی قبیح رسم تھی۔ منقول ہے کہ رسول اکرمؐ کے ایک صحابی نے اسلام سے قبل اپنی آٹھ بیٹیوں کو زندہ دفن کیا تھا۔
ایسے حالات میں طاقتور کمزور کو لوٹ لیتا تھا اور پورا جزیرۂ عرب جہالت کے تاریک ماحول اور غلط جاہلی رسوم میں گھرا ہوا تھا۔ فکر، آگاہی اور ترقی کی کوئی روشنی دکھائی نہیں دیتی تھی۔
یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت پر احسان فرمایا اور اپنے رسولؐ کو مبعوث کیا تاکہ ایسا نظام پیش کریں جو انسانی زندگی کی ترقی، نشوونما اور تابانی کا باعث بنے؛ ایسا نظام جس میں نہ ریا ہو، نہ غرور، نہ سود، نہ لوٹ مار، نہ ظلم و حق تلفی اور نہ کوئی دوسری اخلاقی برائی۔ رسول اکرمؐ نے ان تمام برائیوں کا خاتمہ فرمایا۔
بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تاریخ میں آیا ہے کہ رسول اسلامؐ کی ولادت کے ساتھ ہی دنیا میں بعض غیر معمولی واقعات پیش آئے، مثلاً طاقِ کسریٰ کا شگافتہ ہونا، مدائن کے محل کے 14 کنگروں کا گرنا، دریائے ساوہ کا خشک ہونا، زرتشتی آتش کدے کی آگ کا بجھ جانا اور اسی نوعیت کے دوسرے واقعات۔
سوال:
آپ نے سیرتِ رسولؐ کا مطالعہ کیا ہے۔ آپ کی نظر میں کیا یہ واقعات حقیقت میں پیش آئے تھے؟ اور اگر پیش آئے تھے تو ان کا راز اور مقصد کیا تھا؟
جواب:
بعض مؤرخین اور سیرت نگاروں، مثلاً واقدی، ابن کثیر اور خصوصاً ابن ہشام نے ان حوادث اور واقعات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہ واقعات حقیقت رکھتے ہیں اور ان کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا تھا کہ دنیا کے آسمان پر ایک ایسا ستارہ طلوع ہوا ہے، جو خود رسول اللہؐ کا وجودِ مبارک ہے۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ ایک ایسی ہستی دنیا میں آئی ہے جو زندگی کا راستہ بدل دے گی۔ ان واقعات کا رونما ہونا اس عظیم نور کے ظہور کی خبر دے رہا تھا جو کفر اور جہالت کا خاتمہ کرنے والا تھا۔ آپؐ اس لیے آئے تھے کہ انسانی فکر و شعور کا پرچم بلند کریں۔
فکر، آگاہی اور تحول کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے، جو اس کائنات کا خالق اور تمام موجودات کو زندگی عطا کرنے والا ہے۔ جب انسان اپنے پروردگار کو پہچان لیتا ہے اور آسمانی دین کو قبول کر لیتا ہے تو پھر ظلم، زیادتی، جور، لوٹ مار اور چپہاول کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔
انسان اس حقیقت کا احساس کرنے لگتا ہے کہ ایک عظیم طاقت موجود ہے جو اس کے امور کی نگرانی کرتی ہے اور اس کے ہر برے عمل اور ظلم کے بارے میں اس سے بازپرس کرے گی۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں انسان اپنے ہم نوع اور اپنے دینی بھائی کے ساتھ کسی بھی قسم کے ظلم اور حق تلفی سے اجتناب کرے گا۔
سوال:
مورخین کے درمیان عظیم ترین آسمانی پیغمبر اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت کے دن کے بارے میں اختلاف کیوں پایا جاتا ہے؟
جواب:
اگر آپ یہ جان لیں کہ بنی امیہ اور خاندانِ اموی نے اسلام کے ساتھ کیا سلوک کیا تو آپ کو اس سوال کا جواب مل جائے گا۔ رسول اکرم ﷺ کی تاریخِ ولادت کے بارے میں مختلف اقوال اور روایات کا بنیادی سبب بعض ایسے راویوں اور حدیث گھڑنے والوں کا وجود ہے جنہوں نے مختلف روایات نقل کیں۔
تدفین اور تکفینِ رسول اکرم ﷺ کے بارے میں بھی یہی اختلاف پایا جاتا ہے، یہاں تک کہ راویوں نے اس سلسلے میں دس مختلف قسم کی روایات نقل کی ہیں۔
جو لوگ اسلامی تاریخ سے واقف ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اموی حکومت نے رسول خدا ﷺ کے ساتھ مقابلہ کرنے اور رسالت کے نور کو خاموش کرنے کی پوری کوشش کی۔
یہاں تک کہ معاویہ کے دورِ خلافت میں جب اہلِ شام کا ایک گروہ اس کے پاس آیا تاکہ شام میں قرآن کی تعلیم کا انتظام کیا جائے تو اس نے کہا: "تم جاہلی اشعار کی تبلیغ اور ترویج کرو، کیونکہ یہ اشعار میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہیں۔"
میری نظر میں اسلامی تاریخ کا واحد واقعہ جس کی تاریخ کے بارے میں مورخین اور راویوں کے درمیان تقریباً اتفاقِ نظر پایا جاتا ہے، امام حسینؑ کی دسویں محرم کو شہادت ہے۔
لیکن دیگر اسلامی حوادث و واقعات کے بارے میں راویوں اور مورخین کے درمیان بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ جھوٹے راویوں اور حدیث گھڑنے والوں کا وجود ہے، جنہیں عباسی، اموی اور دیگر حکمرانوں نے اس کام پر مامور کیا تھا۔
اسی سلسلے میں آپ روائی اور تاریخی کتابوں میں صحابہ کے فضائل کے بارے میں بے شمار جعلی احادیث دیکھتے ہیں جن کی اسلام میں کوئی بنیاد نہیں۔ ان میں سے ایک حدیث وہ ہے جس کا مجھے حال ہی میں قم میں سامنا ہوا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ سے فرمایا: "میں تم سے بہترین لہجے اور بہترین آواز میں گفتگو کروں گا، پھر اللہ نے ابوبکر کی آواز میں رسول اکرم ﷺ سے گفتگو کی۔"
سوال:
حضرت خاتم المرتبت کی جوانی کے دور کے بارے میں مختصراً کچھ بیان فرمائیں۔
جواب:
تمام مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپؐ قریش کے نوجوانوں کے ساتھ میل جول اور وقت گزاری نہیں کرتے تھے، بلکہ اپنا زیادہ تر وقت آسمانوں کی وسعتوں پر غور و فکر اور مظاہرِ خلقت کے مشاہدے میں گزارتے تھے۔
آپؐ اپنی جوانی ہی میں محمدِ صادق اور امین کے نام سے مشہور تھے اور لوگ آپؐ کو ایک شریف اور بزرگوار انسان کے طور پر یاد کرتے تھے۔ اسی طرح آپؐ کو اپنی مبارک زندگی کے آغاز ہی سے مکہ کے مختلف مقامات پر موجود بتوں سے شدید نفرت تھی۔
یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ بعثت سے قبل آپؐ حضرت علیؑ کے ساتھ، جو اس وقت کم سن تھے، رات کے وقت بت خانوں میں جاتے اور اہلِ مکہ کے بتوں کو توڑ دیتے تھے۔ لیکن بعثت تک لوگوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ یہ کام کون کرتا ہے۔ جب اسلام کی آسمانی رسالت ظاہر ہوئی تو سب کو معلوم ہوگیا کہ بتوں کو رسول اکرم اور حضرت علیؑ توڑا کرتے تھے۔
سوال:
تاریخ میں آیا ہے کہ رسول خدا نے اپنے والد کو اپنی ولادت سے پہلے ہی کھو دیا تھا اور تقریباً چھ سال کی عمر میں اپنی والدہ ماجدہ سے بھی محروم ہوگئے اور مکمل طور پر یتیم ہوگئے۔ اس واقعے میں کیا راز پوشیدہ تھا؟
جواب:
راویوں کے مطابق اس کے دو اسباب تھے۔ ایک یہ کہ آپؐ پر والدین کی طرف سے کسی قسم کا احسان نہ ہو، اور دوسرا یہ کہ اس مصیبت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپؐ کا اجر زیادہ ہو۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو آپؐ کی والدہ کے بدلے فاطمہ، امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی والدہ عطا فرمائیں، تاکہ وہ ایک شفیق ماں کی طرح آپؐ کی دیکھ بھال، توجہ، شفقت اور محبت کریں۔
مورخین کے مطابق اس خاتون نے خانۂ کعبہ میں اللہ تعالیٰ سے ایک ایسے فرزند کی دعا کی جو حضرت محمد کے لیے بھائی کی مانند ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں حضرت علیؑ عطا کیے۔
سوال:
آپ اہلِ بیتِ رسول کی سیرت کے محقق کی حیثیت سے کن سیرت نگاروں کو زیادہ قابلِ اعتماد اور معتبر سمجھتے ہیں؟
جواب:
سیرت کی سب سے زیادہ معتبر کتابوں میں سیرت ابن ہشام اور واقدی کی کتابیں ہیں، اس کے بعد طبری اور ابن اثیر کی کتابیں آتی ہیں۔
البتہ شیعہ امامیہ کے نزدیک روایات اور تاریخی نقلوں کو قبول کرنے کے لیے ایک متعین اصول موجود ہے۔ ہر تاریخی خبر اور روایت کو محض اس وجہ سے قبول نہیں کیا جاسکتا کہ اسے راویوں نے نقل کیا ہے، بلکہ اسے دو معیاروں پر پرکھنا ضروری ہے۔
پہلا معیار راوی کی صحت اور وثاقت کا اطمینان ہے۔ اگر روایت کے راوی اور ناقل قابلِ اعتماد ہوں اور نفاق، فریب اور جھوٹ سے پاک ہوں تو دوسرے معیار کی طرف جایا جاتا ہے، اور وہ ہے روایت کے متن اور مضمون کی جانچ۔
اس طریقے میں خبر کے متن کو قرآن، سنت، انسانی فطرت اور عقل کے ساتھ مطابقت کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ اگر خبر ان چاروں معیاروں کے مطابق ہو تو اسے قبول کیا جاتا ہے، اور اگر وہ ان میں سے کسی ایک یا تمام معیاروں سے مطابقت نہ رکھتی ہو تو اسے رد کردیا جاتا ہے، خواہ اس کا راوی قابلِ اعتماد ہی کیوں نہ ہو۔ قرآن کریم بھی رسول اکرم کو اسوۂ حسنہ اور بہترین نمونہ قرار دیتا ہے۔
سوال:
آپ کی نظر میں اس نمونے اور اسوۂ رسول کی پیروی کس طرح ہونی چاہیے؟
جواب:
آپؐ کی مقدس سیرت فکر و اندیشہ کے افق پر ایک روشن نمونے کے طور پر جلوہ گر ہے۔ یہ سیرت الٰہی فیض، نورانیت اور تمام اعلیٰ انسانی اقدار سے معمور ہے۔ اعلیٰ اخلاق، پسندیدہ صفات اور زندگی کے مختلف مراحل میں آپؐ کا کوئی ثانی نہیں تھا اور نہ ہے۔
آپؐ کی مبارک زندگی کا ہر لمحہ حق کی ترجمانی، فکر و شعور، تحول، ترقی اور انسانیت کا مظہر ہے۔
سوال:
ہم نے سنا ہے کہ آپ نے حال ہی میں رسول اللہ کی سیرت کے بارے میں تین جلدوں پر مشتمل ایک کتاب تحریر کی ہے۔ اس کتاب کی خصوصیات اور اپنے طریقۂ کار کے بارے میں کچھ وضاحت فرمائیں۔
جواب:
اس کتاب کی تیاری میں مجھے بہت وقت صرف ہوا۔ میں نے اس میں ایسی خبریں اور روایات جمع کی ہیں جو قارئین کے لیے اطمینان بخش ہیں، اور ان میں مبالغہ، غلو اور غیر معمولی و غیر متعارف مسائل کے بیان سے پرہیز کیا ہے۔
اس کتاب کی تدوین میں میں نے شیعہ اور سنی دونوں مکاتبِ فکر کے معتبر ترین مصادر سے استفادہ کیا ہے۔ اس کتاب میں رسول اکرم کی شخصیت، آپؐ کی منفرد صفات و خصوصیات، آپؐ کی حلم و بردباری، اعلیٰ اخلاق، مضبوط ارادے، شجاعت، خیر خواہی، وفائے عہد اور دیگر اخلاقی محاسن پر گفتگو کی گئی ہے۔
جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں، رسول اکرم کی سیرت سے متعلق روایات اور اخبار کی تحقیق میں، میں نے شیعہ مکتبِ فکر کے تسلیم شدہ معیار و اصول کو اختیار کیا ہے۔ اگر کسی روایت میں سنتِ الٰہی یا طرزِ زندگی سے انحراف، یا ائمہ اہلِ بیتؑ کی سیرت اور تعلیمات سے مغایرت محسوس ہوئی تو میں نے اسے ترک کردیا۔
البتہ یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ اس کتاب اور رسول اکرم و اہلِ بیتؑ کی سیرت کے بارے میں میری دیگر تصانیف میں میرا طریقۂ کار تاریخی واقعات کو نقل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا جائزہ، تجزیہ اور تحلیل کرنا ہے۔
استاد باقر شریف القرشی کے ساتھ کتاب ماہِ دین کا انٹرویو
سوال:
اگر اجازت ہو تو پہلا سوال آپ کے بچپن، تعلیم اور اساتذہ کے بارے میں ہے۔
جواب:
اللہ کے نام سے، اور محمد اور ائمہ اطہارؑ پر سلام۔ میں ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوا۔ میرے والد شہر القاسم میں دینی علوم کے معلم تھے[1]۔
بچپن ہی میں مجھے اور میرے بھائی، فقیہِ بزرگ حجۃ الاسلام شیخ ہادی قرشی کو اپنی والدہ کی وفات کا صدمہ برداشت کرنا پڑا، جو ہمارے لیے بہت بڑا سانحہ تھا۔
چونکہ اس زمانے میں باقاعدہ اسکول موجود نہیں تھے، اس لیے میں نے مکتب میں اور ان علماء و دینی اساتذہ کے پاس تعلیم حاصل کی جو نوجوانوں اور بچوں کو دینی و مذہبی علوم پڑھاتے تھے۔ میرے پہلے استاد مرحوم شیخ کریم قفطان تھے۔
میں نے اور میرے بھائی نے ابتدائی تعلیم کے بعد بعض فضلاء اور علماء سے علمِ نحو حاصل کیا۔ ہم نے قطر الندیٰ اور اس کے بعد الفیہ ابن مالک کو حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ حسین الخلیفہ الاحسائی کی نگرانی میں پڑھا، جو الفیہ ابن مالک کی تدریس میں مہارت رکھتے تھے۔
ہم نے تقریباً آٹھ سال صرف و نحو کے مطالعے میں گزارے۔ بعض لوگ میرے بھائی کی اس علم میں مہارت اور تخصص کی وجہ سے انہیں اخفش اور سیبویہ کے القاب دیتے تھے۔
اسی دوران میں نے علمِ نحو کے بارے میں دو کتابیں بھی تصنیف کیں۔ ایک علمِ نحو کی شرح کے بارے میں تھی اور دوسری ان اشعار کی شرح سے متعلق تھی جنہیں ابن مالک نے اپنی الفیہ میں بطور استشہاد پیش کیا تھا۔
علمِ نحو میں آخری کتاب جو میں نے پڑھی، وہ المغنی، ابن ہشام تھی۔ اس مرحلے کے بعد میں نے نجف کے علماء میں سے شیخ محمد علی دمشقی سے علمِ منطق پڑھا اور ان کی اہم تصنیف الحاشیہ کا مطالعہ کیا۔
اس کے بعد مختصر البیان علامہ کبیر شیخ عباس مظفر سے، علمِ اصول شیخ بشیر عاملی سے اور اللمعہ سید موسیٰ البعاج سے حاصل کی۔
اس مرحلے کی تکمیل کے بعد میں نے مرحوم آیت اللہ العظمیٰ سید محمود مرعشی نجفی، جو اپنے زمانے کے بڑے اساتذہ اور علماء میں شمار ہوتے تھے، کے حضور فرائد الاصول پڑھا۔ وہ عملی اخلاق کے استاد بھی تھے۔
اس سلسلے میں ان کی ایک یاد مجھے آتی ہے۔ ایک دن میں ایک پاکستانی طالب علم کے ساتھ ان کے پاس فرائد الاصول کا درس پڑھ رہا تھا۔ درس ختم ہونے کے بعد وہ اٹھے، ہمارے جوتے ترتیب سے رکھے اور ہمارے سامنے لاکر رکھ دیے۔ ہم نے بہت شرمندگی اور ندامت کے ساتھ ان سے کہا: استاد! آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟
انہوں نے جواب دیا: آپ سادات، ہمارے سردار اور ہمارے دین کے بزرگ علماء ہیں، یہ ہمارا فرض ہے۔
پھر انہوں نے فرمایا: میں نے یہ کام اس لیے کیا ہے تاکہ آپ کو دکھا سکوں کہ اگر طالبِ علم اچھے اخلاق کا حامل نہ ہو تو وہ معاشرے کی اصلاح نہیں کرسکتا، کیونکہ علمِ اخلاق بنیادی رکن ہے۔ دینی علوم کے طلبہ، خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے، انہیں اخلاق سے آراستہ ہونا چاہیے اور لوگوں کو بھی اس سلسلے میں عملی تعلیم دینی چاہیے۔
فرائد الاصول مکمل کرنے کے بعد میں نے کفایۃ الاصول کی دو جلدیں آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد طاہر آل شیخ راضی کے حضور درسِ خارج کے طور پر پڑھیں۔
ان دروس کے اختتام کے بعد میں نے شیخ محمد طاہر آل شیخ راضی کے دروس اور اپنے سابقہ دروس کو تحریری شکل دینا شروع کیا۔ مجھے ان علوم کی تدریس سے بھی دلچسپی تھی، جنہیں میں نے بڑے شوق اور محبت سے حاصل کیا تھا، چنانچہ کبھی کبھار تدریس بھی کرتا تھا۔
جب میں نے سطح کی تعلیم مکمل کرلی تو آیت اللہ خوئیؒ، جو مجتہدین اور بڑے علماء کے استاد تھے، کی شاگردی اختیار کی۔ میں نے بیس سال تک ان کے دروس میں شرکت کی اور ان کے فقہی و اصولی اہم علمی مباحث کو تحریر کیا، جو آج بھی نجف میں مکتبۃ الامام الحسنؑ میں قلمی نسخوں کی صورت میں محفوظ ہیں۔
سوال:
ایک ضمنی سوال ہے۔ ایران میں بعض دوستوں نے آپ کے لقب **قرشی** کو غلطی سے قریشی کہا ہے، حتیٰ کہ میں نے بھی ایسا کیا۔ براہِ کرم لقب قرشی اور اس کے صحیح تلفظ کے بارے میں وضاحت فرمائیں۔
جواب:
ہمارے خاندانی نام میں موجود لقب قرشی کے بارے میں مجھے یہ کہنا ہے کہ ہم شمس شہر کوت کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور جعافرہ کے ایک قبیلے سے منسوب ہیں۔ اسی لیے جو شخص ان علاقوں سے نجف آتا تھا، اسے قرشی کہا جاتا تھا۔
سوال:
اپنی سرگرمیوں اور آثار کے بارے میں کچھ بتائیے۔ کیا جوانی کے زمانے میں آپ کی سیاسی اور سماجی سرگرمیاں بھی رہی ہیں اور کیا آپ سیاسی میدان میں بھی فعال تھے؟
جواب:
عبدالکریم قاسم کے دور میں کمیونسٹ افکار تیزی سے پھیل رہے تھے۔ اس مکتبِ فکر کے حامی سیمینار اور مختلف پروگرام منعقد کرتے تھے، تمام محافل اور اجتماعات میں شریک ہوتے تھے اور تمام گلیوں اور محلوں کی دیواروں پر کمیونسٹ نعرے لکھتے تھے۔
میں نے بعض علماء اور طلبہ، مثلاً محمد حسین حرزالدین کے ساتھ مل کر کمیونزم اور اس کے پیروکاروں کا مقابلہ کیا۔ ہم نے مختلف تقاریر اور اعلانات کے ذریعے عوام اور مختلف طبقات کو آگاہ کرنے کی کوشش کی۔
اسی دوران میں نے کمیونزم اور سوشلزم کے مکتبِ فکر کے بارے میں مطالعہ اور تحقیق کرتے ہوئے کتاب "العمل وحقوق العامل في الإسلام" تحریر کی، جسے اچھا ردِعمل ملا۔ دوسرے ممالک میں بھی اسے پذیرائی حاصل ہوئی اور اس کا بارہ زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ ایران، عراق اور لبنان میں بھی یہ کتاب کئی مرتبہ شائع ہوئی۔
اس کے بعد میں نے "في أنظمة الحكم والإدارة" تصنیف کرکے شائع کی، جسے علماء اور دانشوروں کی جانب سے بہت توجہ اور پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی ہوا اور اس وقت بعض جامعات اور علمی مراکز میں اسے پڑھایا جاتا ہے۔
اس کے بعد میں نے "النظام التربوي في الإسلام" تحریر کی۔ اس کتاب کا بھی مختلف زبانوں میں ترجمہ اور اشاعت ہوئی اور اس وقت سعودی عرب کی ریاض یونیورسٹی میں اسے پڑھایا جاتا ہے۔
دیگر آثار میں "نظام الأسرة في الإسلام" اور "النظام السياسي في الإسلام" کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔ دوسری کتاب میرے اس تحقیقی اور مطالعاتی سلسلے کا حصہ ہے جو میں نے "سیرۃ الائمۃ الطاہرین" کی تصنیف کے دوران انجام دیا۔
"سیرۃ الائمۃ الطاہرین"، جس پر میری زندگی کا ایک طویل عرصہ صرف ہوا، 43 جلدوں پر مشتمل ہے۔ یہ میری تصانیف کا تقریباً مختصر تعارف تھا۔ شاید میں نے جتنی کتابوں کے نام گنوائے ہیں، ان سے زیادہ کتابوں کے مقدمات تحریر کیے ہیں، جنہیں "هنا و هناك" کے عنوان سے دو یا تین جلدوں میں شائع کیا جاسکتا ہے۔
سوال:
آپ کی گراں قدر تصنیف سیرۃ الائمۃ الطاہرین شیعہ ائمہ کی زندگی کے بارے میں ایک نیا اور اہم اثر ہے۔ آپ نے یہ کتاب کیوں تحریر کی؟ جبکہ عراق کے سیاسی اور سماجی حالات بھی ایسی کتاب لکھنے کی زیادہ اجازت نہیں دیتے تھے۔
جواب:
مجموعی طور پر ائمہ اطہارؑ کی سیرت کے بارے میں جدید اور قیمتی آثار و مصادر بہت کم ہیں اور اس موضوع پر بہت کم سنجیدہ کام ہوا ہے۔
البتہ قرآن کریم کے بارے میں یہ بات درست نہیں، کیونکہ تفسیر سے لے کر علومِ قرآن تک مختلف موضوعات پر متعدد قیمتی آثار تحریر کیے جاچکے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ائمہؑ کی سیرت، رسول اکرم کی سیرت سے ماخوذ ہے اور شیعہ امامیہ ہمیشہ ائمہؑ کی سیرت سے گہری دلچسپی اور وابستگی رکھتے آئے ہیں۔
ایک دن میں اپنے بھائی شیخ ہادی قرشی کے ساتھ شہید بزرگوار سید محمد باقر صدر کی خدمت میں تھا۔ وہاں اہلِ بیتؑ کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ انہوں نے فرمایا کہ اہلِ بیتؑ کے بارے میں ایسے علمی آثار تحریر نہیں ہوئے جو علمی، موضوعاتی اور منہجی انداز کے حامل ہوں، اور اب تک جو آثار شائع ہوئے ہیں وہ اس اعتبار سے کافی منظم نہیں ہیں۔
ان مسائل اور ائمہ اطہارؑ سے میری ذاتی محبت و عقیدت نے مجھے ان کے بارے میں تحقیق و پژوهش پر آمادہ کیا۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ ایسا اثر تحریر کرسکوں جو آج کی نسل کے لیے مفید اور سودمند ہو۔
اس کتاب کے بعض حصوں کا فارسی اور اردو میں ترجمہ ہوچکا ہے اور قم میں شائع بھی کیا گیا ہے۔ اس کے کچھ حصوں کا انگریزی زبان میں بھی ترجمہ اور اشاعت ہوئی ہے۔
سوال:
النظام السياسي في الإسلام اور النظام الاجتماعي في الإسلام دو کتابوں کے موضوعات اور مباحث کن محوروں کے گرد گھومتے ہیں؟ آپ نے اپنی ابتدائی تصانیف میں اسلام کے سیاسی، سماجی اور دیگر پہلوؤں پر گفتگو کی ہے۔ اگر ممکن ہو تو اس بارے میں کچھ بیان فرمائیں۔
جواب:
اس زمانے میں جب عراق میں کمیونزم پھیل رہا تھا اور کمیونسٹ افکار عوام اور معاشرے میں عام ہورہے تھے، میں نے فیصلہ کیا کہ منطق اور استدلال کی روشنی میں اسلام کے اثرات اور اس کے مختلف جہتوں کے بارے میں ایک کتاب تحریر کروں۔
میں نے ان دونوں کتابوں اور اپنی دیگر تصانیف میں یہ مقصد پیشِ نظر رکھا کہ یہ واضح کیا جائے کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی زندگی کے تمام امور اور مختلف پہلوؤں پر توجہ دیتا ہے اور انسان کو مختلف جہات سے دیکھتا ہے۔ اسی طرح اسلام ایسا دین ہے جو وحدت اور اتحاد کی فکر کرتا ہے، نہ کہ تفرقہ اور اختلاف کی۔
اسی مقصد کے تحت میں نے اسلامی مفاہیم کو ان کے سیاسی اور سماجی پہلوؤں کے ساتھ موردِ تحقیق قرار دیا۔ ان کتابوں کو علمی و ثقافتی حلقوں میں اچھی پذیرائی حاصل ہوئی اور عوام نے بھی ان کے مطالعے میں خاص دلچسپی دکھائی۔
اسی طرح اسلامی ممالک کی سطح پر بھی انہیں پذیرائی ملی اور عالمِ اسلام کے علماء، محققین اور مفکرین نے کمیونسٹ آراء و نظریات کے رد اور اسلامی افکار کی پیش کش کے حوالے سے ان آثار کو کامیاب قرار دیا۔
س: لوگوں کی سب سے زیادہ توجہ آپ کی کن تصانیف کی طرف رہی؟
جواب: کتاب العمل و حقوق العامل في الإسلام اپنی موضوعاتی نوعیت کے اعتبار سے، کمیونزم کے پھیلاؤ کے زمانے میں، سب سے زیادہ قارئین کی توجہ کا مرکز بنی۔ عراق کے علمی و اسلامی حلقوں میں بھی اس کتاب کا بہت زیادہ اثر اور چرچا ہوا۔ اس کے بعد کتاب النظام التربوي في الإسلام بھی اشاعت کے وقت سے ہی محققین اور اہلِ تحقیق کی توجہ کا مرکز رہی۔
ان کتابوں کی تصنیف سے پہلے میں نے کمیونزم کے بارے میں بہت مطالعہ کیا تھا اور کوشش کی کہ تعصب اور یک طرفہ پن سے پرہیز کرتے ہوئے یہ واضح کروں کہ یہ مکتبِ فکر مستقبل میں زوال اور انہدام سے دوچار ہوگا۔
کتاب العمل و حقوق العامل في الإسلام کو ایران اور پاکستان میں بھی خاصی توجہ حاصل ہوئی۔ اس کے بعض ابواب جرمنی سے شائع ہونے والے رسالے برید الشرق میں شائع ہوئے اور ان پر بحث و تجزیہ بھی کیا گیا۔
اپنی ان تصانیف کے حوالے سے ایک بات کہنا بے فائدہ نہیں ہوگا کہ میں نے اور مرحوم مصری مفکر علی محمود عباس العقاد نے کمیونسٹ افکار اور نظریات پر تنقید کے سلسلے میں بعض آثار شائع کیے۔
اس کے نتیجے میں اس موضوع پر مزید کتابیں بھی لکھی گئیں۔ ریڈیو ماسکو نے ہماری تصانیف اور نظریات پر تنقید کرتے ہوئے مجھے مرتجع اور رجعت پسند کا لقب دیا، جبکہ عباس العقاد کو امریکی بھیڑیا قرار دیا۔
لیکن ایک طرف کی یہ تعریفیں اور دوسری طرف بعض لوگوں کی یہ توہینیں اور حملے میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے۔ میری اصل ترجیح اسلام اور اہل بیت (ع) کی خدمت اور ان کی طرف توجہ تھی۔
س: جناب قرشی صاحب! عالمِ عرب میں آپ کی کن تصانیف کو زیادہ قارئین میسر آئے اور انہیں زیادہ توجہ حاصل ہوئی؟
جواب: قیمتی کتاب "حياة الإمام الحسين (ع)"، جو تین جلدوں پر مشتمل ہے، پانچ مرتبہ دوبارہ شائع ہو چکی ہے۔ میں نے اس کتاب میں امام حسین (ع) کے قیام کے بارے میں ایسے مباحث پیش کرنے کی کوشش کی ہے جن پر اس سے پہلے توجہ نہیں دی گئی تھی یا جو نظر انداز ہو گئے تھے۔
ان مباحث میں سے ایک امام (ع) کی عراق کی طرف ہجرت کی وجہ ہے، اور یہ کہ امام (ع) یمن، ایران یا کسی دوسرے علاقے کی طرف کیوں نہیں گئے۔
اسی طرح اس قیام میں امام (ع) کے باطنی اور داخلی محرکات پر بھی بحث کی گئی ہے۔ دیگر مباحث میں یزید اور اس کے والد معاویہ کے اقتدار میں آنے کے طریقۂ کار اور ان کے سابقہ حالات کا جائزہ بھی شامل ہے، جن کی حقیقت پر عموماً کم توجہ دی گئی ہے۔
یہ دونوں اور ان کے والد ابوسفیان اسلام کے سب سے بڑے دشمنوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے اسلام کے مقابلے میں کھڑے ہو کر اس کی ترقی اور وسعت کو روکنے کی کوشش کی۔
میں نے واقعۂ عاشورا کے آثار اور امام (ع) کے دشمنوں کے مقاصد کا مطالعہ اور تحقیق کرنے کے بعد یہ کتاب تصنیف کی۔ اس میں امام (ع) کی زندگی، حالات، شہادت اور آپ کے زمانے کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ اور تجزیہ کیا ہے۔ اس کتاب کے ساتھ تقریباً دو سو صفحات یا اس سے زیادہ کا ایک ضمیمہ بھی ہے، جو عنقریب شائع ہوگا۔
س: براہِ کرم مجموعۂ «سیرۃ الائمۃ الطاہرین (ع)» کی دیگر جلدوں کے بارے میں بھی کچھ وضاحت فرمائیں
جواب: اس مجموعے کی سات جلدیں امام جعفر صادق (ع) کے لیے مختص ہیں۔ لندن ریڈیو نے بھی اس کتاب کے بارے میں میرا ایک انٹرویو کیا تھا۔ اس کتاب میں امام صادق (ع) کی زندگی، علمی حیات اور ان علوم کے بارے میں بحث کی گئی ہے جن میں آپ کو مہارت اور تخصص حاصل تھا، جیسے کیمیا، طبیعیات، فقہ، طب، حدیث وغیرہ۔
اسی طرح امام صادق (ع) کی یونیورسٹی کے بارے میں بھی گفتگو کی گئی ہے، جس میں چار ہزار طلبہ اور علما موجود تھے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ امام صادق (ع) کے مکتب کے طلبہ و شاگردوں کی تعداد شمار سے باہر ہے۔ میں نے امام صادق (ع) کے شاگردوں کی تعداد کے بارے میں تحقیق و جستجو کی اور تقریباً دو سال تک علمِ رجال کی کتابوں کا گہرا مطالعہ کیا۔
اس دوران میں نے آپ کے شاگردوں کی ایک عظیم تعداد کی شناخت کی، جن میں 3652 علماء شامل تھے۔ البتہ یہ تعداد بھی آپ کے تمام شاگردوں کا صرف ایک حصہ تھی۔
حیات و روزگار امام موسیٰ بن جعفر (ع) بھی اسی مجموعے کی ایک اور جلد ہے، جو تقریباً دو ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔
اسی طرح امام زین العابدین (ع) کی زندگی کے بارے میں بھی میں نے اس مجموعے کی ایک کتاب شائع کی ہے۔ آپ کی حیات کا مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بعض نظریات کے برخلاف، جو امام (ع) کی زندگی کو شب زندہ داری، عبادت اور واقعۂ کربلا پر گریہ تک محدود سمجھتے ہیں، آپ ان خصوصیات کے علاوہ
اسلامی تہذیب کے بانی اور اسلام کی تجدید و تعمیرِ نو کرنے والے بھی تھے۔ آپ نے مدینہ منورہ میں علم و فکر کا ایک مرکز قائم کیا اور نوجوانوں کو اس مرکز میں حاضر ہو کر علم و اخلاق حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ اس مرکز سے تقریباً دو سو علماء فارغ ہوئے۔ اس کتاب میں اس علمی مرکز، امام (ع) کی اس میں موجودگی اور آپ کی علمی زندگی کے بارے میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔
اس حصے کے دیگر مباحث میں امام (ع) کے گراں قدر اثر سالۃ الحقوق کا تجزیہ بھی شامل ہے، جو اسلام اور اسلامی حقوق کے حوالے سے اہم ترین اسلامی آثار میں شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح صحیفۂ سجادیہ بھی زیرِ بحث آئی ہے، جسے انجیلِ آلِ محمد (ص) کے نام سے معروف کیا جاتا ہے۔
حیات امام حسن (ع) اس مجموعے کا پہلا حصہ ہے، جس میں آپ کی زندگی، اس دور کی تاریخ و حوادث اور امام حسن (ع) کی بیعت کے مسئلے پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔
اسی طرح گیارہ جلدوں میں امام امیرالمؤمنین علی (ع) کی زندگی کو بیان کیا ہے اور کوشش کی ہے کہ اس عظیم ہستی کی زندگی کے ان تمام پہلوؤں اور جہتوں کا جائزہ لیا جائے جو دنیا بھر کے مفکرین کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔
س: اس وقت آپ کی کون سی تصانیف زیرِ تألیف یا زیرِ اشاعت ہیں؟
جواب: رسولِ اکرم (ص) کی سیرت اور حیاتِ مبارکہ کے بارے میں ایک کتاب زیرِ تألیف ہے، جو مستقبل قریب میں شائع ہوگی۔ اس کے علاوہ امام حسین (ع) کی حیات اور قیام کے بارے میں ایک ضمیمہ اور تکملہ بھی، جس کا پہلے ذکر کر چکا ہوں، طباعت کے لیے تیار ہے۔ مزید برآں، میں نے صحیفۂ سجادیہ کی شرح اور حاشیہ بھی تحریر کیا ہے، جو جلد ہی شائع ہوگا۔
س: عراق میں مستقل قیام اور دوسرے ممالک کا سفر نہ کرنے کے باوجود آپ نے اپنی تصانیف کی تیاری کے لیے کن ماخذ اور کتب خانوں سے استفادہ کیا؟
جواب: مجموعۂ سیرۃ الائمۃ الطاہرین علیہم السلام میں استعمال ہونے والے مصادر اور مراجع کتاب کے آخر میں فہرست کی صورت میں درج ہیں، جن کی تعداد سیکڑوں تک پہنچتی ہے۔
اس کتاب کی تصنیف کے دوران، اپنا ذاتی کتب خانہ قائم کرنے سے پہلے، میں نے نجف اشرف کے کتب خانۂ امام حسن (ع) سے استفادہ کیا، جو ایک بڑا کتب خانہ ہے اور نجف کے جدید اہم ترین کتب خانوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں بہت سے قلمی نسخے موجود ہیں۔
اس کے علاوہ دوسرے کتب خانوں، مثلاً کتب خانۂ امیرالمؤمنین (ع) ، اور کام کے آخری مرحلے میں کتب خانۂ سید حکیم اور کتب خانۂ امام شیخ محمد حسین آل کاشف الغطاء سے بھی استفادہ کیا۔
میرا مقصد یہ تھا کہ غلو، افراط اور تفریط سے بچتے ہوئے موجود تمام آثار اور مصادر کا مطالعہ کروں، تمام آرا اور نظریات کو ان کی صحت و سقم کے اعتبار سے سامنے رکھوں اور اس کے بعد ان سے فیشیں تیار کرکے تصنیف کا کام انجام دوں۔
س: صدام کے دور میں عراق کے کتب خانوں کی کیا صورتِ حال تھی اور صدام کے سقوط کے بعد ان کی حالت کیا ہے، بالخصوص دینی اور شیعہ آثار کے حوالے سے؟
جواب: عراق کے کتب خانے، خصوصاً صدام کے دورِ حکومت میں، زیادہ ترقی یافتہ حالت میں نہیں تھے، کیونکہ دینی آثار، خصوصاً شیعہ آثار کی اشاعت پر بہت سی پابندیاں عائد تھیں، اور یہی چیز کتب خانوں کی ترقی میں رکاوٹ تھی۔ تاہم ان کتب خانوں میں بہت سے قیمتی قلمی نسخے اور قدیم مطبوعہ آثار موجود تھے۔
عراق کا سب سے بڑا کتب خانہ کتب خانۂ صدام تھا، جس میں ہزاروں قلمی نسخے اور نادر آثار موجود تھے، جو عالمِ عرب و اسلام میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے بے نظیر تھے۔ صدام کے سقوط کے بعد یہ کتب خانہ لوٹ لیا گیا اور اس کا بیشتر سرمایہ ضائع ہوگیا۔
نجف، جو شیعہ علمی مرکز تھا، وہاں کے کتب خانوں پر بھی سخت نگرانی کی جاتی تھی، اگرچہ وہاں موجود قلمی اور مطبوعہ آثار سے استفادہ کیا جاتا تھا۔
س: آپ کی کن علما اور دینی دانشوروں سے مراودات رہے اور دوسرے لوگوں کے ساتھ آپ کے تعلقات کیسے تھے؟
جواب: نجف میں استاد محمد طاہر شیخ الراضی میرے ہم نشینوں اور قریبی دوستوں میں سے تھے۔ انہوں نے چالیس سال گھر میں بیٹھ کر فقہ، قدیم و جدید فلسفہ، اصول اور عربی ادب کے میدان میں تحقیق و مطالعہ کیا اور قیمتی آثار تصنیف کیے۔ وہ نہایت متقی انسان تھے اور ہر شخص ان کے کردار اور طرزِ عمل سے متاثر ہو جاتا تھا۔
شہید محمد باقر صدر کے ساتھ بھی اپنے بھائی شیخ ہادی کے ذریعے مراودہ رہا اور میں نے اپنی بعض تصانیف میں ان کے نظریات سے استفادہ کیا ہے۔
ہماری سید حسن امین سے بھی وابستگی رہی، جو گزشتہ سال وفات پا گئے۔ انہوں نے دائرۃ المعارف الاسلامیہ میں میرے بعض مقالات شائع کیے تھے۔
اسی طرح نجف میں علما اور طلبہ سے بھی ہمارا رابطہ تھا اور ہم دینی مباحث میں خفیہ طور پر شرکت کیا کرتے تھے۔
س: عراق کو عالمِ عرب میں شعر و ادب کے حوالے سے ایک ممتاز مقام حاصل ہے اور عراق کے بیشتر علما و دینی شخصیات نے اس شعبے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ کیا آپ بھی ادب اور شعر کے میدان میں سرگرم رہے ہیں؟
جواب: میں نے اپنی زندگی میں ایک شعر بھی نہیں کہا، لیکن بہت سے اشعار مجھے زبانی یاد ہیں اور میں نے ادبی موضوعات پر بہت سے آثار کا مطالعہ کیا ہے۔
جن شخصیات کے آثار، نظریات اور آرا کا میں نے ہمیشہ مطالعہ کیا ہے، ان میں عباس محمود العقاد، طہ حسین اور احمد حسن الزیات شامل ہیں۔
س: صدام کی حکومت کے زمانے میں عراق میں اشاعت و نشر کا ماحول کیسا تھا؟
جواب: جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا، عراق کے مطابع اور اشاعتی اداروں پر سخت سنسرشپ اور نگرانی مسلط تھی۔ اس صورتِ حال کے باعث ادیب اور دینی علما یا تو عراق سے باہر چلے جاتے اور بیرونِ ملک علمی سرگرمیاں انجام دیتے، یا مختلف وجوہات کی بنا پر عراق میں رہتے ہوئے کھلی علمی سرگرمیوں سے گریز کرتے تھے۔
یہ مسئلہ صرف دینی آثار تک محدود نہیں تھا، بلکہ عراقی ادیب اور مصنفین بھی عموماً اپنی کتابیں دوسرے ممالک میں شائع کرتے تھے، اگرچہ دوسرے علوم اور شعبوں پر نگرانی نسبتاً کم تھی۔
لیکن شیعہ دینی آثار کی اشاعت تقریباً ناممکن تھی۔ ہم اپنی کتابیں شائع کروانے کے لیے بعض مطابع کو رقم دیتے تھے اور اپنی مطبوعہ کتابوں پر لبنان، دمشق، قاہرہ وغیرہ کے اشاعتی اداروں کے نام درج کرواتے تھے تاکہ کتابیں ضبط نہ کی جائیں۔
عراق کے بڑے مطابع بعث پارٹی کے اختیار میں تھے اور وہ اسی پارٹی اور حکومت کی کتابیں اور آثار شائع کرتے تھے۔
نجف کے حوزۂ علمیہ پر بھی سخت نگرانی تھی۔ صدام اس مرکز پر خاص توجہ دیتا تھا اور تقریباً 180 پولیس اہلکار اور صدام کے جاسوس اس حوزے میں تعینات تھے، جو علما اور دینی شخصیات کی آمد و رفت اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے تھے۔
آج صدام کے سقوط کے بعد بہت سے عراقی نوجوان حوزۂ علمیہ نجف کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ مشکلات کے باوجود ہمیں امید ہے کہ یہ حوزہ، جو کبھی شیعہ دینی علوم کا سب سے بڑا مرکز تھا، دوبارہ اپنا مقام حاصل کرے گا۔
اس وقت اساتذہ اور علما پہلے کی نسبت زیادہ آزادی کے ساتھ اس حوزے میں آتے جاتے اور طلبہ کو تعلیم دیتے ہیں۔
ماضی میں مراجع تدریس و تعلیم کی طرف زیادہ توجہ نہیں دے سکتے تھے، کیونکہ اس کا انجام یا تو ان کا قتل ہوتا یا انہیں قید کر دیا جاتا۔
س: حوزۂ علمیہ قم کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا نجف کے کمزور ہونے کے باعث یہ مرکز لوگوں کی ضروریات پوری کرنے میں کامیاب رہا ہے یا نہیں؟
جواب: حوزۂ علمیہ قم علمی اعتبار سے ایران، عالمِ اسلام اور عالمِ عرب میں ایک پیش رو مرکز ہے اور شیعہ دینی علوم کی ترقی اور پیش رفت میں اس کا ناقابلِ انکار کردار ہے۔
نجف واپس جانے کے بعد میں اس موضوع پر ایک مضمون اور یادداشت تحریر کروں گا۔ یہ بھی بتا دوں کہ میرے بیٹے شیخ مہدی گزشتہ 23 سال سے حوزۂ علمیہ قم میں علم حاصل کر رہے ہیں۔ مختلف وجوہات کی بنا پر میں اس وقت سے اب تک ان سے ملاقات نہیں کر سکا تھا[2]۔
حوالہ جات
- ↑ کتاب ماہِ دین، سال ششم، شمارہ 12، مہر 1382، ص 39
- ↑ استاد باقر شريف القرشي ، زندگي نامه نويس معصومان (ع) به دیار باقی شتافت-شائع شدہ از:28 خرداد 1391ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 18 اگست 2026ء