عز الدین البیک
| عز الدین البیک | |
|---|---|
![]() | |
| پورا نام | عزالدین البیک |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1981 ء |
| پیدائش کی جگہ | فلسطین |
| وفات | 2026 ء |
| یوم وفات | 27 مئی |
| وفات کی جگہ | غزہ |
| مذہب | اسلام، سنی |
| مناصب | قسام بریگیڈز کی مرکزی شوریٰ کے رکن، شہید عماد عاقل بٹالین کے کمانڈر اور قسام بریگیڈز کی شمالی بریگیڈ کے کمانڈر، فوجی کارروائیوں کے منصوبہ ساز اور طوفان الاقصی آپریشن کے فوجی انٹیلی جنس کمانڈر اور اسرائیلی فوج کے جرنیلوں کے اُس منصوبے کو ناکام بنانے والے |
عزالدین البیک ، قسام بریگیڈز کی مرکزی شوریٰ کے رکن، شہید عماد عاقل بٹالین کے کمانڈر اور قسام بریگیڈز کی شمالی بریگیڈ کے کمانڈر تھے۔ وہ فوجی کارروائیوں کے منصوبہ ساز اور طوفان الاقصی آپریشن کے فوجی انٹیلی جنس کمانڈر بھی تھے۔ 2024ء میں اسرائیلی فوج کے جرنیلوں کے اُس منصوبے کو ناکام بنانے کے باعث، جس کا مقصد غزہ کی پٹی کے شمال پر قبضہ کرنا اور وہاں کے باشندوں کو بے گھر کرنا تھا، حماس نے انہیں "جرنیلوں کے منصوبے کو تباہ کرنے والے کمانڈر" کے لقب سے یاد کیا۔ وہ اپنے نائب، زیتون بٹالین کے کمانڈر عماد اسلیم کے ہمراہ، بدھ 27 مئی 2026ء کی شام، جو 10 ذی الحجہ 1447ھ کے مطابق تھی، غزہ شہر کے وسط میں ایک گھر پر اسرائیلی جنگی طیاروں کے شدید فضائی حملے میں شہید ہوگئے۔
سوانحِ حیات
عزالدین البیک 1981ء میں شمالی غزہ کی پٹی کے جبالیا پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے۔
حماس میں شمولیت
انہوں نے کم عمری میں ہی حماس میں شمولیت اختیار کی۔ وہ جبالیا پناہ گزین کیمپ کی مسجد العودہ میں پروان چڑھے، اور پھر 2000ء میں، سہیل زیاد اور ابو انس الغندور — جو قسام بریگیڈز کی شمالی بریگیڈ کے سابق کمانڈر تھے — کے ساتھ مل کر قسام بریگیڈز میں شامل ہوگئے۔
انہوں نے مسلسل دس سال تک جبالیا پناہ گزین کیمپ کے مغرب میں واقع قسام بریگیڈز سے وابستہ شہید عماد عاقل بٹالین کی کمان سنبھالے رکھی۔ احمد الغندور، جو قسام بریگیڈز کی شمالی بریگیڈ کے کمانڈر تھے،
کی 26 نومبر 2023ء کو شہادت کے بعد، انہوں نے جنگ کے دوسرے ماہ کے آغاز میں اس بریگیڈ کی کمان سنبھالی اور بیت حانون، بیت لاہیا، جبالیا پناہ گزین کیمپ اور جبالیا شہر میں عسکری کارروائیوں کی نگرانی کی۔
فوجی کارروائیوں کے منصوبہ ساز
عزالدین البیک اپنی عملی صلاحیتوں کی وجہ سے تیزی سے عسکری شعبے میں نمایاں مقام تک پہنچے اور ان بٹالینز کی جانب سے اعلان کردہ خصوصی مشنز اور کمانڈو کارروائیوں کی نگرانی کرتے رہے۔
انہوں نے 2004ء میں شمالی غزہ پر اسرائیلی حملے کے دوران، جسے اسرائیل نے "ایامِ ندامت" (Days of Penitence) کا نام دیا تھا، قسام بریگیڈز کی فوجی کارروائیوں کی قیادت میں مرکزی کردار ادا کیا۔
فلسطینی گروہوں نے اس حملے کا 17 روزہ "ایامِ غضب" (Days of Wrath) آپریشن کے ذریعے جواب دیا، جس میں درجنوں جھڑپیں، گھات لگا کر حملے اور راکٹ فائرنگ شامل تھیں، اور یہ مہم بالآخر اسرائیلی افواج کے اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل کیے بغیر پسپائی پر ختم ہوئی۔
انہوں نے 2008ء میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے کے دوران بھی نمایاں کردار ادا کیا، جسے فلسطینی گروہوں نے "آپریشن پگھلا ہوا سیسہ" اور "معرکہ الفرقان" کے نام سے یاد کیا۔ اسی طرح 2012ء کی جنگ کے دوران، جسے اسرائیل نے "آپریشن ستونِ دفاع" اور مزاحمت نے "آپریشن سنگِ سجیل" کا نام دیا، انہوں نے اس کی کمان میں حصہ لیا۔
طوفان الاقصیٰ آپریشن کے فوجی انٹیلی جنس کمانڈر
وہ اپنی قیادتی ذمہ داریوں کے ایک حصے کے طور پر شمالی بریگیڈ میں فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ اسرائیلی فوج کے اہداف سے متعلق معلومات جمع کرنے کے ذمہ دار تھے اور 7 اکتوبر 2023ء کو طوفان الاقصیٰ آپریشن کے تحت حملے کے لیے انٹیلی جنس اور عملی منصوبوں کی تیاری میں ان کا نمایاں کردار تھا۔
اسرائیلی جرنیلوں کے منصوبے کو ناکام بنانے والے
انہوں نے ایک دفاعی منصوبے کی قیادت کی، جس کے تحت قسام بریگیڈز کی جانب سے اعلان کردہ سلسلہ وار کارروائیوں نے اسرائیلی قابض افواج کو بھاری نقصان پہنچایا اور اسرائیلی فوج کو اپنے مقاصد حاصل کرنے سے روکا۔
انہی کارروائیوں نے 2024ء میں اسرائیلی فوج کے جرنیلوں کے اس منصوبے کو ناکام بنایا، جس کا مقصد شمالی غزہ کی پٹی پر قبضہ کرنا اور وہاں کے باشندوں کو بے گھر کرنا تھا۔ اسی بنا پر حماس انہیں "جرنیلوں کے منصوبے کو تباہ کرنے والے" کے لقب سے یاد کرتی تھی۔
اسرائیل نے ان پر "شمشیرِ یروشلم" کے واقعات کے دوران مشرقی غزہ میں ایک فوجی جیپ کو کورنیٹ میزائل سے نشانہ بنانے میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب قسام بریگیڈز نے خان یونس کے مشرق میں اسرائیلی خصوصی دستوں کے ایک یونٹ، سایرت متکل، کی دراندازی کا انکشاف کیا۔
اس کارروائی کے نتیجے میں اس شہر میں قسام بریگیڈز کے ایک کمانڈر نور برکہ شہید ہوئے۔
شہادت
آخرکار عزالدین البیک اپنے نائب، زیتون بٹالین کے کمانڈر عماد اسلیم کے ساتھ، بدھ 27 مئی 2026ء کی شام، جو 10 ذی الحجہ 1447ھ کے مطابق تھی، غزہ شہر کے وسط میں ایک گھر پر اسرائیلی جنگی طیاروں کے شدید فضائی حملے میں شہید ہوگئے[1]۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ "كاسر خطة الجنرالات".. معلومات تُنشر لأول مرة عن عز الدين البيك قائد القسام بشمال قطاع غزة-شائع شدہ از: 28 مئی 2026ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 31 مئی 2026ء
