ٹرمپ–پوپ نزاع، سیاسی اختلاف یا عالمی نقشے کی نئی تشکیل؟

ٹرمپ–پوپ نزاع، سیاسی اختلاف یا عالمی نقشے کی نئی تشکیل؟ دنیا نے شاید پہلی بار ڈونلڈ ٹرمپ کو اس شدت کے ساتھ مذہب کے دائرے میں دیکھا جب اُس نے خود کو مسیحی کہہ کر پاپائے روم کی توہین کی۔ یہ محض ایک سیاسی شعبدہ بازی اور بیان نہیں تھا، اس بیان نے عیسائی برادری کے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ عقیدے کے دائرے میں جب کوئی دراڑ پڑتی ہے تو معمولی بات بھی طوفان بن جاتی ہے۔ یہی ٹویٹ ایک بڑے عالمی مباحثے کا نقطۂ آغاز بن گیا [1].
مقدمہ
دنیا نے شاید پہلی بار ڈونلڈ ٹرمپ کو اس شدت کے ساتھ مذہب کے دائرے میں دیکھا جب اُس نے خود کو مسیحی کہہ کر پاپائے روم کی توہین کی۔
یہ محض ایک سیاسی شعبدہ بازی اور بیان نہیں تھا، اس بیان نے عیسائی برادری کے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ عقیدے کے دائرے میں جب کوئی دراڑ پڑتی ہے تو معمولی بات بھی طوفان بن جاتی ہے۔ یہی ٹویٹ ایک بڑے عالمی مباحثے کا نقطۂ آغاز بن گیا۔
ایک ایسا دروازہ جو ایران و امریکہ کی کشمکش کے پسِ پردہ مذہب، تہذیب اور شناخت کی گہرائیوں تک کھلتا چلا گیا۔
سالہا سال سے مغربی میڈیا کی پروپیگنڈا مشینری نے اسلام اور مسلمانوں کی ایسی تصویر تراشی تھی کہ عام آدمی کے ذہن میں مسلمان اور دہشتگرد تقریبا ہم معنی ہو کر رہ گئے تھے۔ داعش کو اسلام کا حقیقی نمائندہ بنا کر پیش کیا گیا،
اور بعض عرب حکمران — جو صہیونی مفادات کے محافظ اور مغربی ایجنڈے کے تابع ہیں — اس مسخ سازی میں شریکِ جرم رہے۔ انہوں نے اپنے طرز حکومت، اپنی خاموشی سے اسلام کے نورانی چہرے کو مزید داغدار کیا۔
لیکن اسی تاریکی میں ایران اسلامی ایک بالکل مختلف چہرہ لے کر سامنے آیا۔ داعش کے مقابلے میں عملی میدان میں اتر کر، خون دے کر، قربانی دے کر ایران نے دنیا کو دکھایا کہ اصل اسلام کیا ہے۔
یہ وہ اسلام ہے جو مظلوموں اور مستضعفین کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، جو ظالم کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے۔ یوں ایران نے نہ صرف داعش کو پسپا کیا بلکہ اسلام کے مسخ شدہ تصور کی ترمیم و تعمیر کا عمل بھی شروع کیا۔ رفتہ رفتہ دنیا کے مختلف طبقات، اس فرق کو محسوس کرنے لگے۔
جب وعدۂ صادق کے نام پر اسرائیل کے خلاف حملات شروع ہوئے تو ابتدا میں دنیا کے زیادہ ایکٹیو، باخبر اور میڈیا سے جڑے طبقات کی توجہ ایران کی طرف مبذول ہوئی۔ جس سے ایک سوال پوری شدت سے ابھرا ۔کہ کون لوگ اور کون سا ملک ہے جو کھلم کھلا صہیونی ریاست کو چیلنج کر رہا ہے؟
وعدۂ صادق ۲ کے بعد یہ توجہ مزید بڑھنے لگی، نگاہیں پلٹ پلٹ کر ایران کی طرف آنے لگیں۔ مغربی میڈیا کے برسوں کے زہر نے جو تاثر بنایا تھا، اس کی سم کَشی شروع ہوئی۔
ایک طرف ایران کی غزہ کے مظلوموں کے لیے کھلی حمایت تھی؛ دوسری طرف عرب دنیا کے وہ حکمران یا تو خاموش تماشائی بنے رہے، یا پسِ پردہ اُن ہی قوتوں سے جڑے رہے جو اس خون میں شریک ہیں۔
یہی وہ لمحہ تھا جب عالمی رائے عامہ نے پہلی بار واضح خط کھینچنے شروع کیے۔ اسلام ناب — جو ظلم کے خلاف کھڑا ہے
بمقابلہ
اسلامِ حکامِ عرب — جو ظلم کے سامنے سر جھکائے کھڑا ہے یوں ہر مرحلے کے ساتھ دنیا کے مزید طبقات بیدار ہونے لگے۔ کچھ کے لیے یہ بیداری سیاسی تھی، کچھ کے لیے فکری اور کچھ کے لیے اعتقادی۔
غزہ، آتش و خون اور ایران کا کردار
غزہ پر جنگ نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ معصوم بچوں کی لاشیں، ملبوں کے ڈھیر، ہسپتالوں کی تباہی، صحافیوں کا قتل — یہ سب وہ منظرنامے تھے جنہوں نے اسرائیل کے خلاف نفرت کو عالمی سطح پر بڑھایا۔
لیکن نفرت کے باوجود، دنیا کی جری سے جری طاقتیں بھی اسرائیل کو کھلے عام چیلنج کرنے کی ہمت نہ کر سکیں۔ “شپ آف ہوپ” جیسے امن کارواں تو غزہ چلے، مگر اسرائیل پر اصل ضرب کوئی نہ لگا سکا۔
یہ خلا جنگ ۱۲ روزہ میں کسی حد تک پُر ہوا، جب ایران کی طرف سے اسرائیل پر بھاری اور خطرناک میزائلی حملے ہوئے۔ اب وہ ساری دبی ہوئی نفرتیں، رنجشیں اور بے بسی کے آنسو ایک نئے رخ پر بہنے لگے — وہ ایران کی حمایت میں بدلنے لگے۔
اور رمضان جنگ میں یہ منظر مزید واضح ہوا دنیا بھر میں عوامی سطح پر ایران کے حق میں آوازیں بلند ہونے لگیں، بہت سے ممالک نے پہلی بار امریکہ و اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف کھل کر اعتراض کرنا شروع کیا۔
در حقیقت یہ ایک نئی عالمی تقسیم تھی، جس کی قیادت کوئی سرمایہ دار بلاک نہیں، بلکہ مظلومین جہاں کے حامی جس کا بیانیہ ایران آگے لیکر چل رہا تھا۔
اسی پس منظر میں ایران کے صدر، مسعود پزشکیان، کا ایک ٹوئٹ سامنے آیا جس نے ایک اور گہری حقیقت کو عیاں کر دیا۔ ٹرمپ کی جانب سے حضرت عیسیٰ اور پوپ کی توہین کے جواب میں انہوں نے لکھا:
مسلمانوں کا عیسیٰ مسیح کا دفاع کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں… غیر معمولی بات یہ ہے کہ اب تک بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے۔ اسلام میں وہ ایک مرکزی اور لازم الاحترام پیغمبر ہیں اور اُن کا احترام ایمان سے جڑا ہوا ہے۔
اس ٹوئٹ کے جواب میں آنے والے تبصروں نے ایک اور المیہ کھول کر رکھ دیا:
دنیا کے بہت سے عیسائی حتی کہ عام لوگ یہ سوال کرتے دکھائی دیے کہ کیا مسلمان حضرت عیسیٰ مسیح کو مانتے بھی ہیں؟ عجب
یہ سوال محض جہالت نہیں، بلکہ پس پردہ استکباری میڈیا کے بنائے ہوئے پروپیگنڈے کا نتیجہ تھا۔ مجھے وہ تاریخی روایت یاد آتی ہے جب شام میں لوگوں نے حضرت علی ع کی شہادت کی خبر سنی تو حیران ہو کر پوچھا:کیا علی ع نماز بھی پڑھتے تھے؟
معاویہ کی پروپیگنڈا مشینری نے سالوں سال کی کوششوں سے ایک ایسی تصویر بنائی تھی کہ علی ع کو دین سے جدا کر پیش کیا؛ یہاں تک کہ عام شامی عوام کے ذہن میں اسے ایک حقیقت سمجھنے لگا تھا۔
آج مغرب کے میڈیا نے اسلام کو اس طرح اجنبی بنا دیا کہ عیسائی دنیا کے بہت سے لوگ یہ جان کر ہکا بکا رہ جاتے ہیں کہ مسلمان عیسیٰ کو نبی خدا مانتے ہیں، ان کی ولادتِ معجز نما کا اعتراف کرتے ہیں، اور اُن کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کو طہارت و عصمت کی علامت سمجھتے ہیں۔
یہ وہ جھٹکا تھا جس نے مسیحی دنیا کے ایک حصے کو گہرے طور پر چونکایا — یقینا یہی انسانی شعور کے لیے بیداری کی پہلی سیڑھی بنتی ہے۔
دنیا کے آخری سوئے ہوئے حلقے بھی اب آہستہ جاگنے لگے ہیں۔ مغرب کی یونیورسٹیوں سے لے کر افریقہ کے گلی کوچوں تک، لاطینی امریکہ کے آزاد فکر نوجوانوں سے لے کر ایشیا کے پڑھ لکھے طبقوں تک، ایک سوال گردش کر رہا ہے:
دنیا کا وہ کون سا ملک ہے جو کھل کر اسرائیل اور امریکہ کو چیلنج کر رہا ہے، آخر کون ہے؟
اور پھر وہ ملک کون سا مکتب و مذہب کا پیروکار ہے؟
جو نہ صرف یہ کہ مظلوم کا ساتھ دیتا ہے، بلکہ خود کو ہر قسم کی قربانی کے لیے بھی پیش کر دیتا ہے؟
یہاں سے رفتہ رفتہ نگاہیں ایران کی طرف، اور ایران سے آگے مکتب عاشورہ کی طرف اٹھنے لگتی ہیں۔ کربلا کی داستان، امام حسین ع کا خون، اصحاب کی قربانیاں — یہ سب اب صرف کتابوں کے صفحات نہیں، بلکہ عصر حاضر کے سیاسی و فکری منظرنامے میں ایک زندہ استعارہ بن کر ابھر رہے ہیں۔
حضرت امام خمینی نے جس انقلاب کی بنیاد رکھی، اس نے اسی کربلائی فکر کو عسکری و سیاسی سطح پر ایک نظامی شکل دی۔
آج جس محورِ مقاومت کو آپ دمشق سے غزہ، بغداد سے صنعا اور بیروت سے تہران تک پھیلا ہوا دیکھتے ہیں، وہ دراصل اسی خون حسین ع کا تسلسل ہے۔
ظہور کا پس منظر اور ایک بدلتی ہوئی دنیا
یہ تمام واقعات محض اتفاقات کا سلسلہ نہیں، بلکہ بہت سے صاحبان ایمان کی نظر میں یہ ظہور منجی کے پسِ منظر کی تدریجی تشکیل ہے۔ ظلم کی نظاموں کا رسوا ہونا، اسلامِ امریکی کا بے نقاب ہونا،
عرب اور مسلم حکمرانوں کی خاموشی کا تاریخی طور پر ثبت ہو جانا، اور اس کے مقابلے میں اسلامِ مقاومت کا ابھرنا ، یہ سب اس بڑے الٰہی منظرنامے کا حصہ ہیں ۔
اب دنیا بڑی تبدیلیوں کی دہلیز پر ہے۔ اور یہ سچ ہے، اب کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہے گا۔
ایران، جو کبھی مغربی میڈیا کی نظر میں خطرہ تھا، اب کروڑوں انسانوں کے دلوں میں امید، عزت اور استقامت کی علامت بنتا جا رہا ہے۔
آج ایران دنیا کے محبوب ترین ممالک میں سے ایک ہے، اور یہ مقبولیت ابھی اپنے اوج تک نہیں پہنچی — یہ سفر جاری ہے، اور قُلّہ ابھی باقی ہے۔
بے شک، اس راستے میں خود ایران کے اندر بھی کچھ کام ابھی باقی ہیں۔ لیکن اس وقت ملت ایران ہی ہے جو صبر، قربانی اور استقامت کے ساتھ گلیوں اور سڑکوں پر کھڑی رہی، یہ وہ قوم ہے
جس نے فلسطین کے پرچم کو اپنا پرچم سمجھا، یہ وہ امتِ مقاومت ہے جسے آنے والے دور میں شاید واقعی اللہ کے محبوب ترین بندے ہونے کا شرف ملے۔
باقی ماندہ نظام، باقی ماندہ حکومتیں، وہ طرز فکر جس کا سرمایہ ظلم، فریب اور استحصال ہے — وقت کے ساتھ تاریخ کے حاشیے میں دھکیلے جائیں گے۔
دنیا کے نئے باب میں مرکزی سطر ان لوگوں کے نام سے لکھی جائے گی جو ظلم کے سامنے جھکے نہیں، بلکہ ڈٹ گئے۔ شاید یہی وہ لمحہ ہے کہ جب ہم دل سے کہہ سکیں:
یہ سب، خونِ حسین ع کی برکت سے ہے؛ یہ سب، امام خمینی رہ کے لگائے ہوئے اس شجر طیبہ کا ثمر ہے؛ خون امام امت شہید کی برکت ہے۔
اور یہ سب، اس منجی عالم کے ظہور کی تمہید ہے جس کے آنے سے عدل زمین پر ویسے ہی چھا جائے گا جیسے ظلم نے کبھی قبضہ جما رکھا تھا۔ دنیا بدل رہی ہے، کیونکہ ضرور بدلنا ہے ۔۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ[2]۔
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ تحریر: مولانا صادق الوعد
- ↑ ٹرمپ–پوپ نزاع، سیاسی اختلاف یا عالمی نقشے کی نئی تشکیل؟ -شائع شدہ از: 15 اپریل 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 15 اپریل 2026ء