ڈونلڈ ٹرمپ
| ڈونلڈ ٹرمپ | |
|---|---|
| پورا نام | ڈونلڈ جان ٹرمپ |
| ذاتی معلومات | |
| یوم پیدائش | 14 جون |
| پیدائش کی جگہ | امریکا، نیویارک کے علاقے کوئنز میں |
| مناصب | امریکہ کے 47ویں اور 45ویں صدر |
ڈونلڈ جان ٹرمپ ایک امریکی سیاست دان، ماہرِ اقتصادیات اور تاجر ہیں۔ وہ 5 نومبر 2024 ء کو ہونے والے امریکہ کے صدارتی انتخابات میں 277 الیکٹورل ووٹ حاصل کر کے امریکہ کے صدر منتخب ہوئے۔ اس سے قبل وہ 8 نومبر 2016 ء کو ہونے والے انتخابات میں 306 الیکٹورل ووٹ حاصل کر کے، ہیلری کلنٹن کے 232 ووٹوں کے مقابلے میں کامیاب ہوئے تھے۔
امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی مذاکرات کی تجدید، آزاد تجارتی معاہدوں (جیسے ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ) کی مخالفت، امریکہ کے امیگریشن قوانین کو سخت بنانا اور مکزیک ـ ریاستہائے متحدہ امریکا سرحد پر دیوار کی تعمیر، سابق فوجیوں کی نگہداشت میں اصلاحات، ’’افورڈ ایبل کیئر ایکٹ‘‘ کی جگہ متبادل قانون، ٹیکسوں میں کمی اور خارجہ پالیسی میں عدم مداخلت کی حمایت، ٹرمپ کے سیاسی مؤقف میں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ برجام سے امریکہ کا انخلا، ایران کے خلاف وسیع پابندیوں کا نفاذ، سردار شہید حاج قاسم سلیمانی کے قتل کا حکم دینا اور ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی اختیار کرنا، ایران کے عوام کے خلاف ان کے اقدامات میں شمار ہوتا ہے اور اسپسٹین فائلز میں ان کا نام سب سے زیاده آیا هے۔
سوانح عمری
ڈونلڈ جان ٹرمپ 14 جون 1946 ء کو نیویارک شہر کے علاقے کوئنز میں پیدا ہوئے۔
تعلیم
ٹرمپ نے دو سال برانکس میں واقع فورڈھم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی، اس کے بعد وہ یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے وارٹن اسکول منتقل ہوگئے، کیونکہ وارٹن امریکہ کی ان چند جامعات میں سے ایک تھی جہاں رئیل اسٹیٹ کی تعلیم دی جاتی تھی۔ انہوں نے 1968 ء میں معاشیات میں بیچلر ڈگری حاصل کی۔[1]
ذاتی زندگی
ٹرمپ نے 1977 ء میں نیویارک میں چیک نژاد ماڈل ایوانا ٹرمپ سے شادی کی۔ ان کے تین بچے ہیں: ڈونلڈ جونیئر، ایوانکا ٹرمپ اور ایرک۔ ایوانا نے 1988 ء میں امریکی شہریت حاصل کی اور 1991 ء میں دونوں میں طلاق ہوگئی۔
1993 ء میں ٹرمپ نے اداکارہ مارلا میپلز سے شادی کی، جن سے ان کی ایک بیٹی ٹفنی ہے۔ دونوں 1999 ء میں الگ ہوگئے۔
1998 ء میں ٹرمپ کی ملاقات سلووینیا سے تعلق رکھنے والی ماڈل میلانیا کناوس سے ہوئی اور 2005 ء میں فلوریڈا کے پام بیچ میں ان سے شادی کی۔ میلانیا نے 2006 ء میں امریکی شہریت حاصل کی اور اسی سال ان کے بیٹے بیرن کی پیدائش ہوئی۔[2]
سرگرمیاں
اقتصادی سرگرمیاں
ٹرمپ تقریباً 45 سال تک ’’ٹرمپ آرگنائزیشن‘‘ کے سربراہ رہے، جو کہ رئیل اسٹیٹ کی تعمیراتی کمپنی ہے اور جس کی بنیاد ان کے خاندان نے رکھی تھی۔ ان کی سرگرمیوں میں تجارتی عمارتوں، ہوٹلوں، کیسینو اور گالف کورسز کی تعمیر شامل تھی۔
وہ 2004 ء سے 2015 ء تک NBC کے مشہور ریئلٹی شو ’’دی اپرنٹس‘‘ کے میزبان بھی رہے، جس کے باعث انہیں ہالی ووڈ واک آف فیم میں ایک ستارہ دیا گیا۔ فوربس میگزین نے 2017 ء میں ان کی دولت کا تخمینہ 3.5 ارب ڈالر لگایا اور انہیں دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل کیا۔
سیاسی سرگرمیاں
ٹرمپ نے وقت کے ساتھ مختلف سیاسی مؤقف اختیار کیے اور کبھی ریپبلکن، کبھی ڈیموکریٹ اور کبھی آزاد سیاسی وابستگی ظاہر کی۔ انہوں نے مختلف ادوار میں دونوں بڑی جماعتوں کے امیدواروں کو مالی مدد بھی فراہم کی۔
صدارتی انتخابات میں شرکت
16 جون 2015 ء کو ٹرمپ نے نیویارک کے ٹرمپ ٹاور سے 2016 ء کے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی کے لیے اپنی امیدواری کا اعلان کیا۔ ان کی انتخابی مہم کا مرکزی نعرہ تھا: ’’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں‘‘۔
ابتدائی انتخابات
ریپبلکن پارٹی کے ابتدائی انتخابات میں 17 امیدوار شریک تھے جو امریکی تاریخ کا سب سے بڑا ابتدائی انتخاب تھا۔ ٹرمپ نے اس مرحلے میں زیادہ تر ڈیلیگیٹس حاصل کیے اور بالآخر پارٹی کے متوقع امیدوار بن گئے۔
عام انتخابات
عام انتخابات میں ٹرمپ کا مقابلہ ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن سے ہوا۔ ابتدائی سروے میں کلنٹن کو برتری حاصل تھی، لیکن جولائی 2016 ء میں دونوں کے درمیان مقابلہ برابر ہوگیا۔
45ویں صدارتی انتخابات میں کامیابی
8 نومبر 2016 ء کو ٹرمپ نے 306 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے جبکہ کلنٹن کو 232 ووٹ ملے۔ اگرچہ عوامی ووٹوں میں کلنٹن کو زیادہ ووٹ ملے، لیکن الیکٹورل کالج کی بنیاد پر ٹرمپ صدر منتخب ہوگئے۔
مواخذہ (Impeachment)
19 دسمبر 2019 ء کو امریکی ایوان نمائندگان نے ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا اور ان پر اختیارات کے غلط استعمال اور کانگریس کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا۔ بعد ازاں امریکی سینیٹ نے انہیں ان الزامات سے بری قرار دے دیا۔[3]
47ویں صدارتی انتخابات میں کامیابی
5 نومبر 2024 ء کو ہونے والے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے 277 الیکٹورل ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی جبکہ ان کی حریف کامالا ہیرس کو 224 ووٹ ملے۔[4]
متنازعہ مؤقف
ٹرمپ کے سیاسی مؤقف میں چین کے ساتھ تجارتی مذاکرات کی تجدید، آزاد تجارتی معاہدوں کی مخالفت، امیگریشن قوانین کو سخت کرنا، اور میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر شامل ہے۔ اسی طرح مسلمانوں اور تارکین وطن کے بارے میں ان کے بیانات نے صدارتی انتخابی مہم کے دوران وسیع تنازع پیدا کیا۔[5]
ایران کے خلاف ٹرمپ کے اقدامات
ایرانیوں کے امریکہ داخلے پر پابندی
ٹرمپ کے ابتدائی اقدامات میں سے ایک چند ممالک کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے کی پابندی تھی جس میں ایران بھی شامل تھا۔
قانون CAATSA
11 مرداد 1396 ھ ش کو ٹرمپ نے ’’قانون مقابله با دشمنان آمریکا از طریق تحریم‘‘ (CAATSA) پر دستخط کیے جس کے تحت ایران، روس اور شمالی کوریا پر نئی پابندیاں عائد کی گئیں۔
برجام سے امریکہ کا انخلا
18 اردیبهشت 1397 ھ ش کو ٹرمپ نے باضابطہ طور پر امریکہ کو برجام سے نکالنے کا اعلان کیا اور ایران کے خلاف نئی پابندیاں نافذ کیں۔
سپاہ پاسداران کو دہشت گرد قرار دینا
19 فروردین 1398 ھ ش کو ٹرمپ نے سپاه پاسداران انقلاب اسلامی کو امریکی فہرست میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔
ایران کی تیل برآمدات کو صفر کرنے کی کوشش
ٹرمپ حکومت نے ایران کی تیل برآمدات کو صفر تک پہنچانے کی پالیسی اپنائی اور اس مقصد کے لیے متعدد اقتصادی پابندیاں عائد کیں۔
زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی
ٹرمپ دور میں ایران پر 1500 سے زیادہ پابندیاں لگائی گئیں جن میں بینکنگ، تیل، پیٹروکیمیکل، نقل و حمل اور مختلف صنعتی شعبے شامل تھے۔
سرکاری دہشت گردی
13 دی 1398 ھ ش کو ٹرمپ کے براہ راست حکم پر شہید حاج قاسم سلیمانی اور ابو مهدی المهندس کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی ڈرون حملے میں شہید کیا گیا۔
ایران کے خلاف مسلسل دھمکیاں
ٹرمپ نے ایران کے خلاف متعدد سیاسی اور فوجی دھمکیاں بھی دیں، جن میں ایران کے 52 مقامات کو نشانہ بنانے کی دھمکی شامل تھی۔[6]
دباؤ میں مذاکرات سے ایران کے انکار نے ٹرمپ کی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا اور امریکہ کو ایک بار پھر پسپائی اختیار کرنا پڑی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے بارے میں حالیہ موقف کسی ایک وقتی فیصلے یا کسی مخصوص صورتحال کا نتیجہ نہیں ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں جو کچھ ہوا، وہ دراصل ٹرمپ کے ایک پرانے اور بار بار دہرائے جانے والے انداز کو ظاہر کرتا ہے۔
اس طریقہ کار میں سخت دھمکیاں دی جاتی ہیں، دباؤ بڑھایا جاتا ہے، اور پھر جب فیصلہ کن وقت آتا ہے تو عقب نشینی کی جاتی ہے۔ ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع کا معاملہ بھی اسی رویے کی واضح مثال ہے۔
حالیہ دنوں میں ٹرمپ بار بار سخت لہجے میں یہ کہتا رہا کہ جنگ بندی اب ختم ہونے والی ہے۔ اس نے مسلسل ڈیڈ لائنیں دے کر ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی کہ ایران دباؤ میں آ کر امریکہ کی شرائط مان لے اور اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے آمادہ ہو جائے۔
اسی مقصد کے تحت سمندری محاصرہ بھی جاری رکھا گیا تاکہ ایران پر دباؤ مزید بڑھایا جاسکے۔ امریکی منصوبہ یہ تھا کہ ایران کے سامنے صرف دو راستے رہ جائیں: یا دباؤ میں مذاکرات کرے یا پھر بحران میں مزید شدت برداشت کرے۔
امریکہ کا دباؤ اور ایران کا دو ٹوک جواب
لیکن کچھ ہی وقت بعد امریکہ کے اندازے ایران کی حقیقت پسندانہ حکمت عملی سے ٹکرا گئے۔ ایران نے واضح اعلان کیا کہ جب تک بحری محاصرہ ختم نہیں ہوگا، کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ یہ موقف ایران کی مستقل پالیسی کا حصہ ہے کہ دباؤ اور دھمکی کے ماحول میں بات چیت قبول نہیں کی جائے گی۔
اسی وجہ سے امریکہ کی وہ کوشش ناکام ہو گئی جس کے ذریعے وہ دھمکیوں سے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتا تھا۔
اس کے بعد ٹرمپ کا وہی پرانا انداز ایک بار پھر سامنے آگیا۔ جب دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہونے کے قریب پہنچی تو ٹرمپ کے سامنے دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ وہ اپنی دھمکی پر عمل کرے اور کشیدگی بڑھا دے، جس کے نتائج غیر یقینی اور امریکہ کے لیے مہنگے ہو سکتے تھے۔
دوسرا راستہ یہ تھا کہ وہ اپنے سخت بیانات سے پیچھے ہٹ جائے۔ آخرکار ٹرمپ نے پھر وہی کیا جو اکثر کرتا ہے، یعنی جنگ بندی میں یک طرفہ توسیع کا اعلان کر دیا۔
ٹرمپ کی پسپائی اور جنگ بندی میں توسیع کی وجہ
اسی رویے کو سیاسی حلقوں میں ایک مشہور جملے کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے کہ ٹرمپ ہمیشہ آخری وقت میں پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ پہلے سخت باتیں کرتا ہے، بڑا دباؤ بناتا ہے،
لیکن جب حقیقی فیصلہ اور قیمت ادا کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ قدم پیچھے کر لیتا ہے۔
اس رویے کی بنیادی وجہ ٹرمپ کی سوچ میں چھپی ہے۔ وہ خارجہ پالیسی کو ایک پیچیدہ سفارتی عمل نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک اسٹیج کی طرح دیکھتا ہے، جہاں صرف سخت بیانات اور دھمکیاں بھی کامیابی تصور کی جاتی ہیں۔
اسی لیے وہ ڈیڈ لائنیں دیتا ہے، جارحانہ زبان استعمال کرتا ہے اور طاقت کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر جب حقیقت میں خطرات اور نقصانات بڑھنے لگتے ہیں تو وہ ٹکراؤ کے بجائے اپنا راستہ بدل لیتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایران کے ساتھ جنگ بندی میں یک طرفہ توسیع کا اعلان کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ ایران کے مضبوط مؤقف نے امریکی دباؤ کی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا۔
اس واقعے نے ایک بار پھر ظاہر کر دیا کہ ٹرمپ چاہے جتنی سخت باتیں کرے، لیکن جب فیصلہ کن وقت آتا ہے تو وہ اکثر اپنی ہی دھمکیوں پر قائم نہیں رہ پاتا۔
ایران اور دیگر ممالک میں فرق
ایران کا معاملہ بھی اسی نوعیت کا ہے۔ دنیا میں کچھ ممالک ایسے ہوتے ہیں جو نفسیاتی دباؤ یا معاشی پابندیوں کے سامنے جلدی جھک جاتے ہیں، لیکن ایران نے گزشتہ برسوں میں ایسی مضبوط ڈیٹرنس پیدا کر لی ہے کہ اس کے خلاف کسی بھی جلد بازی یا غیر سوچے سمجھے اقدام کی قیمت بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔
یہ صلاحیت صرف فوجی طاقت تک محدود نہیں، بلکہ کئی عوامل کا مجموعہ ہے، جیسے خطے میں ایران کا اثر و رسوخ، اس کی معاشی طاقت، اور توانائی کے شعبے میں اس کی اہمیت۔ یہی چیزیں مل کر امریکہ جیسے فریق کے لیے فیصلہ کرنا مشکل اور خطرناک بنا دیتی ہیں۔
ایسی صورتحال میں دھمکی اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب اس کے پیچھے واقعی عمل کرنے کا ارادہ اور طاقت موجود ہو۔ اگر یہ ارادہ نہ ہو تو دھمکی آہستہ آہستہ بے اثر ہو جاتی ہے اور پھر وہی دھمکی خود کمزوری بن جاتی ہے۔ ٹرمپ کے رویے میں یہی بات صاف نظر آتی ہے۔
جب وہ بار بار ڈیڈ لائن دیتا ہے اور پھر آخر میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتا تو اس کی دھمکی کی ساکھ کمزور پڑ جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دوسرا فریق پہلے سے زیادہ اعتماد کے ساتھ اس کے سامنے ڈٹ جاتا ہے۔
حالیہ جنگ بندی کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی واضح مثال ہے۔ ٹرمپ نے یہ کہہ کر کہ جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی، دباؤ کو آخری حد تک پہنچانے کی کوشش کی۔ لیکن جب ایران نے اس کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا تو واشنگٹن کے پاس راستے محدود ہو گئے۔
اگر امریکہ کشیدگی بڑھاتا تو اس کے نتائج اس کے کنٹرول سے باہر جا سکتے تھے، جیسے عالمی توانائی منڈی میں بڑا بحران، تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ، یا خطے میں جنگ کا پھیل جانا۔ اس کے مقابلے میں جنگ بندی میں توسیع اگرچہ سیاسی طور پر امریکہ کے لیے شرمندگی کا باعث تھی، مگر اس میں خطرہ نسبتاً کم تھا۔
ٹرمپ کی متلون مزاجی اور اس کے نتائج
آخر میں ٹرمپ کے فیصلے نے یہ ثابت کر دیا کہ اس کے لیے طاقت کا مظاہرہ کرنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ بڑے نقصانات اور خطرات سے بچا جائے۔ یعنی وہ اتنا ہی آگے بڑھتا ہے جہاں تک اسے لگے کہ حالات قابو میں رہیں گے، لیکن جیسے ہی خطرات حد سے بڑھنے لگتے ہیں،
وہ اپنا موقف بدل لیتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہ طرزعمل مستقبل میں بھی کئی اہم اثرات چھوڑ سکتا ہے۔
پہلی بات یہ کہ بار بار پیچھے ہٹنے سے امریکہ کی دھمکیوں کی ساکھ کمزور پڑسکتی ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں اعتبار بہت بڑی چیز ہے۔
اگر دنیا کے دوسرے ممالک یہ سمجھنے لگیں کہ امریکی دھمکیاں ہمیشہ عملی کارروائی میں تبدیل نہیں ہوتیں تو وہ اپنی حکمت عملی اسی بنیاد پر ترتیب دیں گے۔
دوسری بات یہ کہ اس سے ایران جیسے ممالک کی مزاحمتی حکمت عملی مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔ جب ایران دیکھتا ہے کہ دباؤ کے سامنے ڈٹ جانے سے آخرکار امریکہ پیچھے ہٹ جاتا ہے
تو اس کے اندر مزید ثابت قدم رہنے کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔ یوں ایک ایسا سلسلہ بن جاتا ہے جس میں جتنا زیادہ مقابلہ کیا جائے، اتنا ہی زیادہ عقب نشینی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
تیسری بات یہ ہے کہ ٹرمپ کا یہ انداز صرف ایران تک محدود نہیں رہتا، بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک بھی اس سے اپنے نتائج نکال سکتے ہیں۔ جو ملک حالات کو غور سے دیکھ رہے ہیں،
وہ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ امریکہ کی اس پالیسی یعنی انتہائی دباؤ ڈال کر خطرناک صورتحال تک لے جانا، دراصل جنگ یا بڑے اقدام کی حقیقی تیاری نہیں بلکہ زیادہ تر ایک سودے بازی کا طریقہ ہے تاکہ دوسرے فریق سے رعایتیں لی جا سکیں۔
اگر دنیا میں یہ تاثر مضبوط ہوگیا تو دوسرے بین الاقوامی مسائل میں بھی ممالک امریکہ کی دھمکیوں کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔
لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ امریکہ بالکل بے اختیار ہے یا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن کے پاس دباؤ ڈالنے کے کئی ذرائع آج بھی موجود ہیں، جیسے پابندیاں، سفارتی دباؤ اور دوسرے سیاسی اقدامات۔
تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ان کو استعمال کرنے کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے ایسی صورتحال میں امریکہ کو ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا پڑتا ہے، تاکہ وہ اپنے مقاصد بھی حاصل کرے اور بڑے نقصان سے بھی بچ سکے۔
ٹرمپ کے انداز سے یہی لگتا ہے کہ وہ زیادہ تر بڑے خطرات مول لینے کے بجائے پیچھے ہٹنے کو ترجیح دیتا ہے۔
حاصل سخن
آخر میں کہا جاسکتا ہے کہ جنگ بندی میں دوبارہ توسیع کا واقعہ دراصل ٹرمپ کے اسی پرانے طریقہ کار کی ایک واضح مثال ہے جو پہلے بھی کئی بار سامنے آچکا ہے۔ پہلے وہ سخت دھمکیاں دیتا ہے اور دباؤ بڑھاتا ہے، پھر جب حقیقت کا سامنا ہوتا ہے اور خطرات بڑھنے لگتے ہیں تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
یہی وہ رویہ ہے جسے مختصر الفاظ میں کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ ہمیشہ آخری وقت پر پلٹ جاتا ہے اور جب تک طاقت دکھانے اور قیمت ادا کرنے کے درمیان یہی فرق باقی رہے گا، امکان یہی ہے کہ ٹرمپ کا یہ انداز مستقبل میں بھی بار بار دہرایا جاتا رہے گا[7]۔
منابع
- زندگینامہ، تابناک، تاریخ درج مطلب: بیتا، تاریخ مشاہدہ:28/ مارچ/2026۔
- نتیجہ انتخابات ریاستجمهوری 2024 آمریکا/ ترامپ با کسب حدنصاب آرای الکترال رئیسجمهور آمریکا شد، خبرگزاری میزان، تاریخ درج مطلب:6/نومبر/2024، تاریخ مشاہدہ: 28/مارچ/2026۔
- دونالد ترامپ کیست؟، شبکه العالم، تاریخ درج مطلب: 9/ نومبر/2016، تاریخ مشاہدہ:28/ مارچ/ 2026۔
- کارنامه ضد ایرانی پیمان شکن ترین سیاستمدار جهان، همشهری آنلاین، تاریخ درج مطلب:6/ نومبر/ 2024، تاریخ مشاہدہ:28/مارچ /2026ء
ٹرمپ کی دھمکیاں بے نتیجہ؛ جنگ بندی ختم کرنے کے دعوے بے اثر، توسیع کا فیصلہ ٹرمپ کی دھمکیاں بے نتیجہ؛ جنگ بندی ختم کرنے کے دعوے بے اثر، توسیع کا فیصلہ
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ زندگینامہ، تابناک
- ↑ ڈونلڈ ٹرمپ کون ہے؟، العالم
- ↑ زندگینامہ، تابناک
- ↑ نتیجہ انتخابات 2024 امریکہ، خبرگزاری میزان
- ↑ ڈونلڈ ٹرمپ کون ہے؟، العالم
- ↑ ٹرمپ کا ایران مخالف ریکارڈ، همشهری آنلاین
- ↑ ٹرمپ کی دھمکیاں بے نتیجہ؛ جنگ بندی ختم کرنے کے دعوے بے اثر، توسیع کا فیصلہ- شائع شدہ از:23 اپریل 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 23 اپریل 2026ء