ماہ رمضان کے چوبیسویں دن کی دعا تشریح کے ساتھ
ماہ رمضان کے چوبیسویں دن کی دعا
﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾
﴿اللهمّ إنّي أسْألُكَ فيه ما يُرْضيكَ وأعوذُ بِكَ ممّا يؤذيك وأسألُكَ التّوفيقَ فيهِ لأنْ أطيعَكَ ولا أعْصيكَ يا جَوادَ السّائلين﴾
اے اللہ! آج کے دن تجھ سے ان چیزوں کے بارے میں سوال کرتا ہوں جو تجھے راضی کرتی ہیں اور اس چیز سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو تجھے ناپسند ہیں اور اس میں تجھ سے توفیق مانگتا ہوں تاکہ میں فرمانبرداری کروں اور نافرمانی نہ کروں ،اے سائلوں کو بہت عطا کرنے والے۔
الفاظ کے معانی اور مختصر شرح
اللهم إنی أسألک فیه ما یرضیک
اللهم:پروردگارا!
إنی أسألک: میں تجھے سے درخواست کرتا ہوں.
فیه:اس دن
ما یرضیک: جو تجھے راضی کریں.
خدایا اس مہینے میں جو چیز تجھے پسند ہے، تجھ سے درخواست کرتا ہوں۔ اب یہ دیکھیں گے کس چیز میں رضاۓ پروردگار ہے؟ ہر وہ عمل جس کا خداوند متعال نے انجام دینے کا حکم دیا ہے، عمل کرے تو پروردگار کی خوشنودی اور رضا کا سبب بنتا ہے۔
و أعوذ بک مما یؤذیک
وأعوذبک:اور تجھے سے پناہ مانگتا ہوں.
مما:اس چیز سے
یؤذیک:تجھے ناپسند ہے.
خدایا اس چیز سے جو تجھے ناپسند ہے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۔اب دیکھیں گے کونسی چیز خداوند متعال کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے؟ہر وہ عمل جس سے خداوند متعال نے ہمیں اس کے انجام دینے سے روکا ہے، اللہ تعالی کی ناراضگی ، عذاب اور عقوبت الہی کا سبب بنتی ہے۔امام کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں: خداوند متعال نے جنت کو ان لوگوں کے لیےحرام قرار دیا ہے جن کی زبانیں گندی اور بے حیاء ہیں، ان کو اس چیز کی پروا نہیں ہے کہ خود کیا کہہ رہا ہے اور ان کے بارے میں کیا کہا جا رہا ہے۔
و أسألک التوفیق فیه لأن أطیعک و لا اعصیک
وأسألک:اور تجھے سے مانگتا ہوں
التوفیق:توفیق
فیه:اس دن
لأن أطیعک:تیری فرمانبرداری کروں
ولاأعصیک: اور تیری نافرمانی نہ کروں
اے میرے اللہ!اس مہینے میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے اس بات کی توفیق دے کہ تیری اطاعت کرو اور نافرمانی نہ کرو ۔امام جواد علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ(ع) فرماتے ہیں مؤمن میں تین صفات ہونی چاہیے۔ پہلی توفیق رکھتا ہو،دوسری خود کو نصیحت کرے اور تیسری دوسروں کی نصیحت کو قبول کرے۔
یا جواد السائلین
یاجواد:اے عطا کرنے والے
السائلین:سائلوں کی
ہم بعض اوقات سائلوں کو جواب نہیں دیتے ہیں لیکن خداوند متعال سب کو جواب دیتا ہے اور کسی کو خالی ہاتھ نہیں چھوڑتا۔لیکن کبھی کبھار ہم خدا سے ایسی چیزوں کی درخواست کرتے ہیں جو ہمارے فائدے میں نہیں اس لیے خدا اس دعا کو رد کردتیا ہے ۔ اے سائلوں کو بخشنے والے ،ہماری دعاؤں کو قبول فرما [1]۔
حواله جات
- ↑ فرمان علی سعیدی شگری، راز بندگی،جی بی گرافکس اسلام آباد، 2022ء ص46 تا 49