مندرجات کا رخ کریں

ضرورت کے وقت ساتھ نہ دینے والوں کا برا انجام!(نوٹس اور تجزیے)

ویکی‌وحدت سے

ضرورت کے وقت ساتھ نہ دینے والوں کا برا انجام!حدیث میں آیا ہے جو بندہ ضرورت کے وقت اپنے مولا اور آقا کی نصرت نہیں کرتا اور خواب غفلت میں پڑا رہتا ہے، غفلت کی نیند سو جاتا ہے تو ایسا شخص اس وقت تک بیدار نہیں ہوگا جب تک دشمن کے قدموں تلے پیس نہ جائے اور جب دشمن اسے روند ڈالے گا تو اس وقت وہ نیند سے بیدار ہوگا، لیکن ایسی بیداری کا کوئی فائدہ نہیں ہے[1]۔

دشمن کے تسلط و غلبہ کے بعد جاگنا، ایک نئی غلامانہ زندگی کا آغاز ہوگا ایسے بندے کو کبھی حقیقی آزادی نہیں مل سکتی۔یہ ہمیشہ ضمیر کا سودا کرتا رہے گا۔ یہی زندہ لاش کی طرح معاشرے میں بدبو پھیلاتا رہے گا

اب اس جاگنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے نہ اس کے امام کے لیے کوئی فائدہ ہوگا اور نہ ہی اس کے اپنے لیے کوئی فائدہ ملے گا اسی لیے ضرورت کے وقت میدان نہ چھوڑنے کی سفارش ہوئی ہے۔

ایرانی عوام نے دھماکوں کی آوازوں میں بھی میدان نہیں چھوڑا، بلکہ نعرہ تکبیر کے ساتھ میدان میں چٹان کی طرح یہ لوگ کھڑے رہیں جس کے نتیجے میں دنیا کی دو ایٹمی طاقتوں اور ان کے چمچوں اور منافقین کو ہی میدان سے بھاگنا پڑا،

لہٰذا ضروری ہے نصرت کے وقت، لبیک کہے ورنہ دشمن کی سازش کامیاب ہونے کے بعد کی بیداری کا کوئی فائدہ نہیں ہے جب ضرورت تھی اس نے ٹال مٹول سے کام لیا اور حق کا ساتھ نہیں دیا

اب دشمن غالب آیا تو اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اس پشیمانی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ مولا امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: «مَنْ نَامَ عَنْ نُصْرَةِ وَلِيِّهِ انْتَبَهَ بِوَطْأَةِ عَدُوِّهِ.» جو اپنے ولی (اپنے وقت کے امام) کی مدد کے وقت سوتا ہے وہ اپنے دشمن کے قدموں تلے جاگتا ہے![2]۔

کوئی بھی ملک ہو یا قوم یا شخص، وہ دشمن شناس ہونا چاہیے اگر دشمن کا ہی پتہ نہ ہو تو وہ مقابلہ کیسے کرے گا؟ایران اور رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای مدظله‌العالی اس وقت حق اور مسلم امہ کی عزت اور عظمت کی علامت بن چکے ہیں۔

آج دنیا کو امریکی درندہ صفت مکار حکومت کا حقیقی چہرہ دکھایا ہے اور بہت سارے لوگوں کے لیے اب دنیا میں حق کی علامت بن چکے ہیں اب چودہ سو سال بعد یہ موقع حق پرستوں کو ملا ہے کہ وہ حقیقی اسلام اور مزاحمتی بلاک کا ساتھ دیں۔

علامہ اقبال نے شاید آج کے دور کے لیے کہا ہوگا :

تہران ہو گر عالم مشرق کا جینوا

شاید کہ کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے ۔

مسلم امہ کو آج علامہ اقبال کے اس شعر کا حقیقی مفہوم سمجھ میں آیا ہوگا جن کو یہ لوگ سپر پاور سمجھ کر اربوں ڈالر ان کے قدموں میں ڈال دیتے تھے آج وہ کاغذی شیر نکلے!یہ کاغذی مکار لومڑی دم دبا کر بھاگنے کے چکر میں ہے یہ فقط دجالی میڈیا کے سہارے زندہ ہے

اور باجگیری کرتا ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دوست اور دشمن کی پہچان ہو ۔ مسلم امہ توہمات اور سوء ظن سے نکل کر قرآن مجید کی تعلیمات اور سیرہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پلٹیں۔قرآن، کتاب انقلاب ہے انسان کو آزادی دلانے کے لیے اترا ہے اس پر عمل کریں۔

بقول علامہ اقبال:

جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی

رُوحِ اُمم کی حیات کشمکشِ انقلاب

اسلامی دنیا میں استعمار نے اتنا زیادہ دین کے خلاف کام کیا ہے کہ آج بظاہر اسلامی نام لیوا ملکوں میں قرآنی تعلیمات کے ساتھ مقابلہ ہے۔یہی در اصل زوال کی وجہ ہے اللہ تعالٰی ہمیں حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطاء فرمائے آمین[3]۔

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. تحریر: ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی
  2. لیثی، عيون الحكم و المواعظ، ج۱، ص:441
  3. ضرورت کے وقت ساتھ نہ دینے والوں کا برا انجام!- شائع شدہ از: 2 اپریل 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 2 اپریل 2026ء