جعفر بن علی
| جعفر بن علی(ع) | |
|---|---|
| پورا نام | جعفر بن علی بن ابیطالب |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 39 یا 41 ق |
| وفات | 61 ق |
| وفات کی جگہ | کربلا، عراق |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| مناصب | شهدای کربلا |
جعفر بن علی بن ابیطالب حضرت علی (علیہ السلام) کے فرزند اور کربلا کے شہیدوں میں سے ایک ہیں[1].
جعفر کی والدہ
جعفر کی والدہ فاطمہ ام البنین بنت حزام بن خالد ہیں[2][3][4].
امام کی جعفر سے محبت
امام حسین (علیہ السلام) نے اپنے بھائی جعفر سے بہت زیادہ محبت کی وجہ سے اپنے بیٹے کا نام جعفر رکھا[5][6].
جعفر کی عمر
بہت سے لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ شہادت کے وقت ان کی عمر انیس سال تھی[7][8][9]۔ لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں: انہوں نے دو سال اپنے والد کے ساتھ، بارہ سال اپنے بھائی امام حسن (علیہ السلام) کے ساتھ، 21 سال امام حسین (علیہ السلام) کے ساتھ زندگی گزاری[10]۔
بعض روایات کے مطابق ان کی عمر 29 سال تھی۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ امیر المومنین (علیہ السلام) چالیسویں ہجری میں شہید ہوئے، انہیں واقعہ عاشورا میں کم از کم بیس سال کا ہونا چاہیے، سوائے اس کے کہ امام علی (علیہ السلام) کی شہادت کے وقت ان کی والدہ ان سے حاملہ ہوں، تو اس صورت میں ان کا انیس سال کا ہونا بھی قابل قبول ہوگا[11].
کربلا میں موجودگی
یوم عاشورا حضرت عباس نے اپنے مادری بھائیوں - جعفر، عبداللہ اور عثمان - سے خطاب کرتے ہوئے کہا: آگے بڑھو تاکہ میں دیکھوں کہ تم خدا کے لیے خیر خواہی کرتے ہو[12][13][14]۔ جعفر میدان میں قدم رکھا۔
رجز خوانی
جعفر بن علی میدان میں گئے جبکہ یہ رجز پڑھ رہے تھے:
انّی أَنَا جَعْفَرُ ذُوالْمَعالی • ابْنُ عَلِیّ الْخَیْرِ ذُوالنَّوالِ ذاکَ الْوَصِیُّ ذُوالسِّنا وَالْوالی • حَسْبی بِعَمّی جَعْفَرُ وَالْخالِ أَحْمی حُسَیْناً ذَی النَّدَی الْمِفْضالِ[15].
(متن مناقب میں «ذی الندی» آیا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ «ذالندی» درست ہے)۔
میں، جعفر، بلند مرتبہ والا ہوں، علی نیکوکار اور سخی کا بیٹا ہوں وہ علی جو وصی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، بلند مرتبہ اور ولایت والے ہیں؛ میرے چچا جعفر اور میرے ماموں شرافت کے لحاظ سے میرے لیے کافی ہیں۔ میں حسین (علیہ السلام) کی حمایت کروں گا جو فضیلت کے مالک ہیں۔
بعض لوگوں نے پہلے شعر کے بعد یوں نقل کیا ہے:
أَحْمی حُسَيْناً بالقنا العسال • وبالحُسامِ الواضِحِ الصِّقالِ[16].
شہادت
ایک روایت کے مطابق رجز کے بعد خولی بن یزید اصبحی کی طرف سے ایک تیر پھینکا گیا جو ان کی پیشانی یا آنکھ پر لگا[17][18] اور ایک دیگر روایت کے مطابق ہانی بن ثبیت حضرمی نے انہیں شہید کیا، [19][20][21][22][23][24][25][26].
لہذا شاید تیر مارنے والے خولی تھے لیکن سر جدا کرنے والے ہانی تھے[27].
زیارت ناموں میں جعفر کا نام
زیارت ناحیہ میں یوں آیا ہے:
«السَّلامُ عَلی جَعْفَرِ بْنِ أَمیرِ الْمُؤْمِنینَ، الصَّابِرِ بِنَفْسِهِ مُحْتَسِباً، وَالنَّائی عَنِ الْاوْطانِ مُغْتَرِباً، الْمُسْتَسْلِمِ لِلْقِتالِ، الْمُسْتَقْدِمِ لِلنِّزالِ، الْمَکْثُورِ بِالرِّجالِ، لَعَنَ اللَّهُ قاتِلَهُ هانِیَ ابْنَ ثُبیْتِ الْْحَضْرَمیَّ.»[28][29].
جعفر بن امیر المومنین (علیہ السلام) پر سلام و درود ہو، جنہوں نے مصیبت پر صبر کیا، اور جہاد و دفاع کے لیے قیام کیا، اور وطن سے بے گھر ہوئے اور دشمن سے جنگ کی یہاں تک کہ ان کا بدن بلا کے تیروں کا سپر بن گیا، خدا کی لعنت ہو ان کے قاتل ہانی بن ثبیت حضرمی پر۔
حوالہ جات
- ↑ جعفر بن علی (علیہماالسلام)
- ↑ خوارزمی، موفق بن احمد، مقتل الحسین علیہ السلام، ج۲، ص۳۳
- ↑ شمس الدین، محمد مہدی، انصار الحسین علیہ السلام، ص۱۳۰
- ↑ حسینی جلالی، محمدرضا، تسمیة من قتل مع الحسین علیہ السلام، ص۲۳، شماره۳
- ↑ سماوی، محمد بن طاہر، ابصار العین فی أنصار الحسین علیہ السلام، ص۶۹
- ↑ امین، محسن، اعیان الشیعہ، ج۴، ص۱۲۹
- ↑ امین، محسن، اعیان الشیعہ، ج۴، ص۱۲۹
- ↑ ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۵۴
- ↑ شمس الدین، محمد مہدی، انصار الحسین علیہ السلام، ص۱۳۰
- ↑ سماوی، محمد بن طاہر، ابصار العین فی أنصار الحسین علیہ السلام، ص۶۹
- ↑ جعفر بن علی کون ہیں؟
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الارشاد، ج۲، ص۱۰۹
- ↑ ابن اثیر، ابوالحسن، الکامل فی التاریخ، ج۳، ص۱۸۱
- ↑ زبیری، مصعب بن عبداللہ، نسب قریش، ص۴۳
- ↑ ابن شہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب علیہم السلام، ج۳، ص۲۵۵
- ↑ خوارزمی، موفق بن احمد، مقتل الحسین علیہ السلام، ج۲، ص ۳۴
- ↑ ابن شہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب علیہم السلام، ج۳، ص۲۵۵
- ↑ شمس الدین، محمد مہدی، انصار الحسین علیہ السلام، ص۱۳۰
- ↑ ابن اثیر، ابوالحسن، الکامل فی التاریخ، ج۳، ص۱۸۱
- ↑ امین، محسن، اعیان الشیعہ، ج۴، ص۱۲۹
- ↑ شمس الدین، محمد مہدی، انصار الحسین علیہ السلام، ص۱۳۰
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الارشاد، ج۲، ص۱۰۹
- ↑ ابن طاووس، علی بن موسی، الاقبال بالاعمال الحسنه، ج۳، ص۷۴
- ↑ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج۴۵، ص۶۶
- ↑ حسینی جلالی، محمدرضا، تسمیة من قتل مع الحسین علیہ السلام، ص۲۳، شماره۳
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۴۹
- ↑ امین، محسن، اعیان الشیعہ، ج۴، ص۱۲۹
- ↑ ابن طاووس، علی بن موسی، الاقبال بالاعمال الحسنه، ج۳، ص۷۴
- ↑ مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، ج۴۵، ص۶۶