مندرجات کا رخ کریں

انقلاب کا ققنوس دشمن کے سر پر منڈلاتا ہوا سایہ(نوٹس)

ویکی‌وحدت سے

انقلاب کا ققنوس دشمن کے سر پر منڈلاتا ہوا سایہ، مہر کے مہینے کے ابتدائی ایام ہر سال اس عظیم حماسے کی یاد تازہ کرتے ہیں جسے ایرانی قوم نے اپنے خون اور ایمان سے رقم کیا [1]۔ یہ مقدس دفاع صرف ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ تک محدود نہیں تھا بلکہ اس نے عالمی استکبار کی سازشوں کے مقابلے میں ایک قوم کی شناخت اور عزت کو بھی مستحکم کیا۔

ہفتۂ مقدس دفاع اور شہید حسن نصر اللہ کی شہادت کی دوسری برسی کی مناسبت سے رہبر انقلاب

اس مقالہ کو پڑھنے سے پہلے رہبر انقلاب کے بیانیے کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جار ہے۔ وہ ملک جس کے لوگ حق کے قیام کے لیے کسی خوف کا شکار نہیں ہیں، الہی حساب کتاب کے مطابق دنیا کی پہلی طاقت ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ہفتۂ مقدس دفاع اور شہید سید حسن نصر اللہ کی شہادت کی دوسری برسی کی مناسبت سے اپنے پیغام میں زور دے کر کہا ہے کہ ایران کے عزیز عوام کے خادم کی حیثیت سے میں اعلان کرتا ہوں کہ وہ سابقہ دور، جس میں ہمارے واپس جانے کا ہمارا دشمن خواہش مند ہے، گزر چکا ہے اور اب کبھی واپس نہیں آئےگا۔

رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ہفتۂ مقدس دفاع اور شہید سید حسن نصر اللہ کی شہادت کی دوسری برسی کی مناسبت سے اپنے پیغام میں زور دے کر کہا ہے کہ ایران کے عزیز عوام کے خادم کی حیثیت سے میں اعلان کرتا ہوں کہ وہ سابقہ دور، جس میں ہمارے واپس جانے کا ہمارا دشمن خواہش مند ہے، گزر چکا ہے اور اب کبھی واپس نہیں آئےگا۔

رہبر انقلاب کا پیغام حسب ذیل ہے؛

بسم اللہ الرحمن الرحیم

"وَ لَقَدْ اَرسَلنْا موسی بِایاتِنا اَنْ اَخرِجْ قَومَکَ مِنَ الظُّلُماتِ اِلی‌ النّورِ وَ ذَکِّرْھُم بِاَیّامِ اللہ" (اور بے شک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تھا (اور حکم دیا) کہ اپنی قوم کو (کفر کے) اندھیروں سے نکال کر (ایمان کی) روشنی میں لاؤ اور انھیں اللہ کے مخصوص دن یاد دلاؤ۔" (قرآن کریم، سورۂ ابراہیم، آیت 5)

مہر (ستمبر-اکتوبر) کے مہینے کے ابتدائی ایام، ایام اللہ اور پہلی مسلط کردہ جنگ میں ایرانی قوم کے آٹھ سالہ شجاعانہ دفاع کی عظیم اور پائیدار داستان کی یاد دلاتے ہیں۔ اُن دنوں ایران کی سرزمین پر انقلاب کے سورج کی کرنیں قومی یکجہتی اور انقلابی اسلام کے مکتب و مسلک سے وفاداری کا ایک خوشگوار احساس پھیلا رہی تھیں، جس کے اثر سے تسلط پسندی اور قدیم و جدید سامراج کا رعب و دبدبہ زائل ہو رہا تھا۔

اُن دنوں ایران کے بعض لوگوں کے ذہن میں اس سے بیس پچیس سال پہلے کے سامراجی پٹھوؤں کی بدنیتی، تیل کی صنعت کو قومیانے سے متعلق واقعات اور امریکی بغاوت کی یادیں محفوظ تھیں۔

بعض دوسروں نے ان واقعات کی خبریں سنی تھیں اور ان میں سے بہت سے لوگوں نے اس حقیقت کو اچھی طرح محسوس کیا تھا کہ ملک کے امور پر اغیار کے تسلط نے اس کے ساتھ کیا کیا تھا۔

تاہم اس سے پہلے کے دن تاریک اور سیاہ دن تھے، جب سامراجی حکومتوں کے سفیر، ملک کے شاہ کو احکامات دیا کرتے تھے اور وہ بھی برضا و رغبت یا بے دلی سے ان پر عمل کرتا تھا،

یہاں تک کہ امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی قیادت میں ایران کی عظیم قوم کے انقلاب نے اس بساط کو الٹ دیا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں وہ تاریک دن اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام کے پُرنور دنوں میں تبدیل ہو گئے۔

یہ بات ان تسلط پسندوں کو بہت گراں گزری جن کی نظریں اس سرزمین کی دولت و ثروت پر لگی ہوئی تھیں اور جو برسوں سے اسے اپنے قبضے میں لینے کے لیے اس کے لوگوں پر ہر طرح کا ظلم و زیادتی کرتے آئے تھے۔

بنابریں اس کے بعد انھوں نے انقلابی قوم کے دریا کے تیز بہاؤ کو سابقہ سمت میں واپس موڑنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں صرف کر دیں اور پہلی مسلط کردہ جنگ، اسلامی جمہوریہ کی مبارک زندگی کے پہلی عشرے میں ان کی سب سے اہم کارروائی تھی۔

اس جنگ کی آگ سے، جو عوام دشمن بعث پارٹی کے ہاتھوں چند روزہ جنگ اور بآسانی حاصل ہونے والی فتح کے وہم کے ساتھ بھڑکائی گئی تھی، اسلامی نظام پہلے سے زیادہ بارآور اور طاقتور ہو کر شاہین کی مانند پہلے سے زیادہ بلند آواز اور بلند پرواز کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا اور دشمن کے پیدا کردہ بعد کے ہر واقعے میں بھی اس نظام کی مستقل یہی خصوصیت رہی۔

وہ ایام، جب اس قوم کے دشمن نے اپنے پٹھوؤں کو اس پر مسلط کر رکھا تھا اور ایک نئے انداز میں نوآبادیاتی منصوبہ نافذ کر رہا تھا، انقلاب اور مسلط کردہ جنگ کے محاذ سے اسلام اور جہاد کا پرچم بلند کرنے کی برکت سے، ایسے پرافتخار دنوں میں بدل گئے کہ 38 سال گزرنے کے باوجود ان کے ایک ایک واقعے اور ان میں شامل لوگوں کی سچی روایتوں کو دیکھنے سے ایسے انمول نمونے سامنے آتے ہیں جو عبادت، شجاعت، استقامت، اخلاق اور انسانیت کا سبق دیتے ہیں اور ہمارے ملک کی تاریخ کی پیشانی پر روشن ستاروں کی طرح جگمگاتے ہیں۔

وہ ایام کہ جب تسلط پسندانہ نظام کے پٹھوؤں کے حملوں کے آغاز میں ہمارے ملک کے پاس بہت سے خطروں سے اپنے دفاع کے لیے، طاغوتی نظام سے ورثے میں ملنے والے خالی ہاتھوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا، حق کے قیام اور امداد الہی کی برکت سے اب ایسے دنوں میں بدل چکے ہیں کہ اب جارحین کے پٹھو نہیں بلکہ خود جارح، اسلام کے مجاہدین کے حملوں سے بچنے کے لیے پناہ گاہ تلاش کرتے ہیں اور جنگ ختم کرنے کے لیے ہاتھ جوڑ کر التجا کرتے ہیں۔

وہ دن جن کی طرف وہ ہمارے ملک کو واپس لے جانے کی خواہش رکھتے ہیں، پسماندگی، ذلت و خواری، محتاجی اور عالم اسلام میں ایران کی بدنامی سے بھرے ہوئے تھے اور یہ دن جن میں ہم زندگی گزار رہے ہیں، ترقی، عزت، خود مختاری اور عالم اسلام بلکہ پوری دنیا میں حیثیت و اعتبار کے عروج کے دن ہیں۔

آج کچھ لوگ ہمیں دنیا کی چوتھی سپر پاور سمجھتے ہیں۔ البتہ وہ دنیوی حساب کتاب کی بنیاد پر ایسا کہتے ہیں لیکن الہی حساب کتاب کے مطابق وہ ملک، جو خود کو عترت طاہرہ صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین سے وابستہ سمجھتا ہے، جس کے اکثر افراد ان بزرگ ہستیوں سے دلی لگاؤ رکھتے ہیں اور حق کے قیام کے لیے کسی خوف کا شکار نہیں ہیں، دنیا کی پہلی طاقت ہے۔

اُس وقت ایران کے دو جنوبی سمندری علاقے دشمن افواج کی جولان گاہ بنے ہوئے تھے لیکن آج وہ، بہادر مجاہدین اور آبنائے ہرمز کے محافظوں کے مہلک وار کی وجہ سے بحیرۂ عرب سے آگے نہیں بڑھتے اور جب بھی انھوں نے یہ خطرہ مول لیا، خود کو نقصان پہنچایا اور عنقریب ہی بحیرۂ عرب بھی ان کو نکال باہر کرے گا۔

کبھی ایسے دن بھی تھے جب تسلط پسند طاقتوں نے نفسیاتی کارروائیوں کے ذریعے اور خوف کا ماحول پیدا کرکے دارالحکومت کی سڑکوں کو سنسان کر دیا تھا اور اس قوم کی حریت پسندی کے خلاف بغاوت برپا کی اور اس کے بعد 25 سال تک اس ملک کی دولت لوٹتی رہیں لیکن اِن دنوں سات ماہ سے ہمارے ہم وطن پورے ملک میں چوراہوں اور سڑکوں کو اپنی ذمہ دارانہ اور پُرجوش موجودگی سے زینت بخش رہے ہیں تاکہ اسلام کے مجاہدین کے حوصلے بلند رہیں اور دشمن خوف میں ڈوبا رہے۔

اسی طرح تین کروڑ سے زیادہ ایرانیوں نے وطن پر اپنی جان نثار کرنے کا اعلان کیا اور جب انھیں منظم کرنے کے لیے دعوت دی گئی تو صرف ابتدائی 100 منٹ میں ہی پانچ لاکھ سے زیادہ افراد نے مطلوبہ گنجائش پوری کر دی۔ اِس وقت پورے اسلامی ایران میں، جو مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے ایرانیوں کی موجودگی سے مزین ہے، مختلف نوعیت کی آمادگی، خاص طور پر مسلحانہ کارروائی کی تیاریاں جاری ہیں تاکہ ایسا میدان کارزار بنایا جائے جو ایرانی عوام کو عزت و وقار اور دشمن کو رسوائی و شرمساری دے۔

ایسے دن بھی تھے جب اس سرزمین کے لوگوں کی شجاعت و دلیری، اس کے مردوں سے پہچانی جاتی تھی لیکن اب ہم ایسے دنوں میں ہیں کہ بعض میدانوں میں خواتین اپنی شجاعانہ موجودگی سے مردوں سے آگے نکل رہی ہیں۔

ایسے دن بھی تھے جب دشمن نے مسلسل کوشش کی تھی کہ نظام کی سماجی پشت پناہی کو کمزور سے کمزور تر کر دے لیکن ان دنوں مختلف سماجی طبقے، اختلافات کے باوجود خیر و برکت سے مالامال آبنائے ہرمز سمیت اپنے برحق موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

ماضی کے دنوں اور موجودہ دنوں کے درمیان اس موازنے کو پھیلایا جا سکتا ہے لیکن ایک جملے میں، ایران کے عزیز عوام کے خادم کی حیثیت سے میں اعلان کرتا ہوں کہ وہ سابقہ دور، جس میں ہمارے واپس جانے کا ہمارا دشمن خواہش مند ہے، گزر چکا ہے اور اب کبھی واپس نہیں آئےگا۔

البتہ مجھے درد و غم کے ساتھ یاد دہانی کرانی چاہیے کہ اِن دنوں خمینی کبیر اور شہید عظیم الشان خامنہ‌ای اعلیٰ اللہ مقامہما کی جگہ بہت خالی ہے، آج ملک کی عزّت جن کی قیادت کی مرہون منت ہے۔ تاہم ان کی شاندار اور راہ گشا کارکردگی اور بیانات کے گرانقدر خزینے کی برکت سے، جو ان کے پیروکاروں کے لیے چھوڑا گیا ہے، آنے والے دن، ان دنوں سے کہیں زیادہ پرشکوہ ہوں گے۔

اس لیے کہ وہ شاہین، جو پہلی مسلط کردہ جنگ کی آگ سے نکلا تھا، اب دشمن کے دباؤ اور بالخصوص حالیہ دو مسلط کردہ جنگوں کے نتیجے میں اس قدر بڑا ہو چکا ہے کہ اس کی پرواز کا سایہ دشمن کی سرزمینوں پر بھی پڑ چکا ہے۔

اس موقع پر عرب دنیا کے عظیم ہیرو اور مزاحمتی محاذ کے عظیم آئیڈیل، شہید عالی قدر جناب سید حسن نصر اللہ قدس اللہ نفسہ الزکیہ کی شہادت کی دوسری برسی کی مناسبت سے ان کا ذکر کرنا نہایت موزوں ہے۔

وہ شخص جو اپنی قوم اور اپنے مکتب کے لیے ایک سچا خیرخواہ تھا اور جس کے سچے اور شیریں خطبے اور اس کے شجاعانہ اقدامات اس کے لوگوں بلکہ دنیا کے آزاد انسانوں کے دلوں کو مضبوط کرتے تھے۔ وہ شخص جس نے لبنان کے نام کو، جو ایک چھوٹا سا ملک ہے اور برسوں تک بعض طاقتوں کا آنگن بنا ہوا تھا، عظمت کے ساتھ بلندیوں تک پہنچایا۔

وہ شخص جس کے ہمیشہ کے ساتھی نصرت اور فتح تھے اور وہ شخص کہ اس جیسی عظمت رکھنے والا کوئی مرد، انبیاء اور ان کے اوصیاء کے بعد، خطۂ شام کے قدیمی علاقے کی پوری تاریخ میں اب تک پیدا نہیں ہوا تھا۔ اور اب اس کا پرافتخار پرچم جناب شیخ نعیم قاسم، حفظہ اللہ کے ہاتھوں میں ہے، جو پوری شجاعت سے حزب اللہ کی مضبوط اور عاشورائی صفوں میں پیش پیش رہتے ہوئے اس کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

لبنان کے یہ دن تاریخ میں بلکہ اسی وقت سے، ان کے لیے اور مزاحمت کے تمام مجاہدین کے لیے نمایاں اور پرافتخار دن ہیں اور ان لوگوں کے لیے ذلت و رسوائی پیدا کرنے والے اور شرمندگی پر منتج ہونے والے دن ہیں، جو صہیونی دشمن کے سامنے اپنے تسلط پسند آقاؤں اور بدخواہوں کے جھوٹے وعدوں سے امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں۔

وہ لوگ جو مزاحمت کے سید شہید اور سید ہاشم صفی الدین اور مزاحمت کے موجودہ مجاہدین کے برخلاف، جو زمانے کے ساتھ روشن ستاروں کی مانند ضو فشانی کریں گے اور بھٹکے ہوئے لوگوں کی رہنمائی کریں گے، تاریخ کے صفحات کے پہلے ہی ورق میں بہت جلد دفن اور فراموش کر دیے جائیں گے اور جب بھی مستقبل میں ان کا ذکر ہوگا، تو برائی، بدتدبیری اور شاید خیانت کرنے والوں کے طور پر ہوگا۔

آخر میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے مسلسل فضل و کرم اور ہمارے آقا حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف و ارواحنا فداہ کی خصوصی دعا کے تسلسل سے ایران کی قوم اور مزاحمت کے تمام ساتھیوں کا سامنا نصرت، فتح اور عزّت کے سوا کسی چیز سے نہ ہو اور ان کے دشمنوں کو شکست اور ذلت کے سوا کسی چیز کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہو، اللہ کے فضل اور اس کے کرم سے۔

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ‌ای

28 ستمبر 2026[2]۔

مقدمہ

ہفتۂ دفاع مقدس اور سید حسن نصر اللہ کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر اسلامی انقلاب کے رہبر کا حالیہ پیغام ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کبھی ذلت اور وابستگی کے دور کی طرف واپس نہیں جائے گا۔

ایرانی قوم کے سامنے دو مختلف ادوار کی تصویر

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس پیغام میں واضح اور دوٹوک انداز میں ایرانی قوم کے سامنے دو مختلف ادوار کی تصویر پیش کی۔

ایک وہ دور تھا جب مستکبر طاقتوں کے سفیر شاہ کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، یہ حکم دیتے تھے اور قومی دولت لوٹی جاتی تھی۔ دوسرا وہ دور ہے جس کا آج ہم مشاہدہ کر رہے ہیں؛ ایسا دور جس میں ایران نے اپنی داخلی طاقت اور عوام کے ایمان پر بھروسا کرتے ہوئے ایسا مقام حاصل کیا ہے کہ دنیاوی حساب کتاب کرنے والے بعض مبصرین بھی اسے دنیا کی چوتھی سپر پاور قرار دیتے ہیں۔

تاہم رہبر انقلاب نے اس بات پر زور دیا کہ الٰہی حساب کتاب کے مطابق وہ ملک جو خود کو عترت طاہرہ سے وابستہ سمجھتا ہے اور جس کے عوام حق کے قیام کے لیے کسی خوف کو خاطر میں نہیں لاتے، دنیا کی پہلی طاقت ہے۔

یہ نقطۂ نظر آٹھ سالہ دفاع مقدس کے تجربے میں اپنی جڑیں رکھتا ہے۔ وہ جنگ جس کا دشمن نے چند دنوں میں فتح حاصل کرنے کے وہم کے ساتھ آغاز کیا تھا، لیکن اسی آگ کے اندر سے اسلامی نظام ققنوس کی مانند ابھرا؛ زیادہ توانا، زیادہ مضبوط اور زیادہ بلند آواز کے ساتھ۔

میدان کی حقیقت اس کی گواہی دیتی ہے

آج مسلسل دشمنی کے دباؤ اور حالیہ دو مسلط کردہ جنگوں کے نتیجے میں اس ققنوس نے اپنے پر اس قدر پھیلا لیے ہیں کہ اس کی پرواز کا سایہ دشمن کی سرزمینوں تک جا پہنچا ہے۔ رہبر انقلاب کے پیغام کا یہ بنیادی جملہ نہ محض نعرہ ہے اور نہ مبالغہ۔

میدان کی حقیقت اس کی گواہی دیتی ہے۔ بحیرہ عرب، جو کبھی غیر ملکی افواج کی جولان گاہ ہوا کرتا تھا، اب آبنائے ہرمز کے محافظوں کی سرخ لکیر بن چکا ہے اور دشمن مزید آگے بڑھنے سے خوف زدہ ہے۔

ملک کی وہ سڑکیں اور میدان جہاں کبھی نفسیاتی کارروائیوں کے ذریعے لوگوں کو گھروں تک محدود کر دیا جاتا تھا، آج سات ماہ سے عوام کی پُرجوش موجودگی سے آباد ہیں تاکہ مجاہدین کے حوصلے بلند رہیں اور دشمن خوف و اضطراب میں مبتلا ہو۔

تیس ملین سے زائد ایرانیوں کی آمادگی کا اعلان اور مسلح افواج کی استعداد کو دو گھنٹے سے بھی کم عرصے میں مکمل کرنا، نظام کے لیے معاشرتی حمایت کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ وہ حمایت ہے جسے دشمن ہمیشہ کمزور کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، لیکن ناکام رہا ہے۔

عرب دنیا کے عظیم مجاہد اور محاذ مقاومت کی ایک بڑی علامت

ان کامیابیوں کے ساتھ ساتھ رہبر انقلاب نے شہید سید حسن نصر اللہ کو بھی یاد کیا، جو عرب دنیا کے عظیم مجاہد اور محاذ مقاومت کی ایک بڑی علامت تھے۔

اس طرح انہوں نے ایران کے دفاع مقدس اور خطے کی مزاحمت کے درمیان ناقابلِ انقطاع تعلق کو نمایاں کیا۔ وہ شخصیت جنہوں نے اپنے سچے خطبات اور بہادرانہ اقدامات کے ذریعے چھوٹے سے لبنان کے نام کو عظمت کی بلندی عطا کی اور دنیا بھر کے آزاد انسانوں کے دلوں کو استوار کیا۔ آج ان کا قابل فخر پرچم شیخ نعیم قاسم اور حزب اللہ کے عاشورائی مجاہدین کے ہاتھوں میں ہے۔

لبنان کے یہ ایام محاذ مقاومت کے مجاہدین کے لیے افتخار کے دن اور ان لوگوں کے لیے ذلت کے دن ہیں جنہوں نے تسلط پسند طاقتوں کے جھوٹے وعدوں پر بھروسا کیا۔ تاریخ سید حسن نصر اللہ اور ان کے ساتھیوں کے نام کو روشن ستاروں کی طرح زندہ رکھے گی، جبکہ ان لوگوں کے نام جو صہیونیت کے مقابلے میں پسپا ہوئے، فراموشی اور ندامت کے حوالے کر دے گی۔

اسلامی انقلاب نے نہ صرف سخت آزمائشوں کو عبور کیا ہے بلکہ ہر آزمائش کے بعد مزید مضبوط ہوا ہے

رہبر انقلاب کا یہ پیغام ایک تاریخی انتباہ بھی اپنے اندر رکھتا ہے: وہ تاریک اور دشوار دن گزر چکے ہیں جن کی طرف دشمن ایران کو دوبارہ لوٹتا دیکھنا چاہتا ہے، اور وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔

یہ اعلان غرور کی بنیاد پر نہیں بلکہ قوم اور نظام کی صلاحیتوں کی درست شناخت کی بنیاد پر ہے۔ ایسی قوم جو معاشرے کے مختلف طبقات، بہادر خواتین سمیت، اپنے جائز مؤقف، بالخصوص آبنائے ہرمز کے بارے میں اپنے اصولی موقف پر مضبوطی سے قائم ہے، اب غیر ملکی طاقتوں کی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گی۔

امام خمینی، شہید رہبر اور ان بلند مرتبہ شہداء کی جگہ، جن کی قیادت اور جدوجہد کی بدولت آج ملک کی عزت قائم ہے، ان دنوں خالی محسوس ہوتی ہے۔

تاہم ان کے اقوال اور عملی کردار کا خزانہ مستقبل کے لیے مشعل راہ ہے۔ ایسا مستقبل جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور حضرت ولی عصر عج کی دعاؤں کی برکت سے ایرانی قوم اور محاذ مقاومت کے ساتھیوں کے لیے نصرت، فتح اور عزت کے سوا کچھ نہیں لائے گا، جبکہ دشمنوں کے لیے شکست اور ذلت کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

یہ پیغام آج اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک دستاویز ہے؛ ایسی دستاویز جو بتاتی ہے کہ اسلامی انقلاب نے نہ صرف سخت آزمائشوں کو عبور کیا ہے بلکہ ہر آزمائش کے بعد مزید مضبوط ہوا ہے۔ وہ ققنوس جو پہلی مسلط کردہ جنگ کی آگ سے ابھرا تھا، آج خطے کے آسمان پر پرواز کر رہا ہے اور اس کی طاقت و عزت کا سایہ دشمنوں کو خوف زدہ کر رہا ہے۔ یہ سفر جاری ہے اور ایرانی قوم ایمان اور بصیرت کے ساتھ انقلاب کے اہداف کی مکمل تکمیل تک اس راستے کو جاری رکھے گی[3]۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. ↑ تحریر: ہادی رضائی
  2. ↑ وہ ملک جس کے لوگ حق کے قیام کے لیے کسی خوف کا شکار نہیں ہیں، الہی حساب کتاب کے مطابق دنیا کی پہلی طاقت ہے-شائع شدہ از: 29 ستمبر 2026ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 30 ستمبر 2026ء
  3. ↑ ققنوس انقلاب؛ سایه‌ای که بر سر دشمن افتاده است-شائع شدہ از:29 ستمبر 2026ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 29 ستمبر 2026ء