مندرجات کا رخ کریں

احتسابِ ناصبیت(کتاب)

ویکی‌وحدت سے
احتسابِ ناصبیت(کتاب)
ناماحتسابِ ناصبیت
مؤلفین/ مصنفیناللہ وسایا
زباناردو
زبان اصلیاردو
ناشرالمکتبۂ السراجیہ للکتب الاسلامیۂ ملتان، پاکستان
موضوعاتاہل بیت اور صحابہ شابک =

احتسابِ ناصبیت، اہلِ بیتِ اطہارؑ اور صحابۂ کرام سے بغض و عداوت، ان کی فضیلت کے انکار یا تحریف کے حوالے سے کیے جانے والے اعتراضات کا علمی و تحقیقی جائزہ اور تحریروں پر مشتمل ایک عظیم علمی مجموعہ ہے۔ ناصبیت کے فکری و اعتقادی مبانی، اس کے مظاہر و اسباب، اہلِ بیتِ اطہارؑ و صحابۂ کرام کے فضائل و مناقب سے متعلق روایات و شواہد کی تحقیق، اعتراضات کے مدلل جوابات اور اسلامی وحدت و احترامِ مقدسات کے تناظر میں ایک جامع مطالعہ، برصغیر کے جلیل القدر علماء، محققین اور اکابرین کی نایاب، مستند اور علمی تحریروں پر مشتمل عظیم تحقیقی مجموعہ ہے۔

مجموعۂ کتب کا تعارف

احتسابِ ناصبیت بارہ جلدوں پر مشتمل ایک عظیم علمی و تحقیقی مجموعہ ہے، جس میں برصغیر کے جلیل القدر اکابرین، علماء اور محققین کی نایاب اور قیمتی تصانیف و تحریریں شامل کی گئی ہیں۔

اس مجموعے میں اہلِ بیتِ اطہارؑ کے فضائل، مناقب اور دینی مقام و مرتبے کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے بغض و عداوت پر مبنی افکار، فضائلِ اہلِ بیتؑ کے انکار یا تحریف اور تاریخ و کلام کے نام پر پیش کیے جانے والے مختلف اعتراضات و شبہات کا علمی، نقلی اور عقلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

یہ مجموعہ بالخصوص ایسے قارئین، محققین اور علماء کے لیے مفید ہے جو تاریخِ اسلام، مناقبِ اہلِ بیتؑ و صحابہ اور علمِ کلام کے مباحث کا گہرا اور تخصصی مطالعہ رکھتے ہیں۔ بارہ جلدوں پر مشتمل اس مجموعے میں اسلامی مصادر سے استدلال کرتے ہوئے مختلف تاریخی اور اعتقادی مباحث کو علمی، تحقیقی، مدلل اور متوازن اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔

مجموعے کی نمایاں خصوصیات

اس بارہ جلدی مجموعے کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تاریخ، حدیث، فقہ اور علمِ کلام کے ممتاز علماء اور برصغیر کے جلیل القدر اکابرین کی اہم تحریریں اور تصانیف شامل ہیں۔ ان میں درج ذیل علماء و محققین نمایاں ہیں:

  • علامہ جلال الدین سیوطی
  • مولانا محمد قاسم نانوتوی
  • مولانا اشرف علی تھانوی
  • مولانا مفتی محمد شفیعؒ
  • مولانا محمد زکریا کاندھلوی
  • مولانا قاری محمد طیب
  • حضرت سید نفیس الحسینی
  • مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید
  • مولانا عبدالرشید نعمانی
  • حضرت مولانا عبدالشکور ندوی
  • حضرت مولانا محمد اسماعیل ریحان
  • جناب علی طحاوی صاحب
  • مولانا محمد یوسف لدھیانوی (ٹوبہ)
  • جناب ڈاکٹر محسن عثمانی ندوی
  • حضرت مولانا مفتی محمد زاید
  • حضرت مولانا مفتی شیر محمد علوی
  • مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی
  • حضرت مولانا قاضی مظهر حسین
  • حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی
  • جناب علامہ ڈاکٹر خالد محمود۔

علمی اہمیت

احتسابِ ناصبیت کا بنیادی مقصد اہلِ بیتِ اطہارؑ اور صحابۂ کرام کے فضائل و مناقب سے متعلق مختلف تاریخی و کلامی مباحث کا علمی اور تحقیقی مطالعہ پیش کرنا ہے۔ اس مجموعے میں برصغیر کے معروف علماء و محققین کی تحریروں کو یکجا کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ مجموعہ تاریخِ اسلام، علمِ کلام، مناقب اور فرق و مذاہب کے مطالعات سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے ایک اہم علمی ذخیرے کی حیثیت رکھتا ہے۔

12 جلدوں پر مشتمل کتاب

جلد اول

  • یزید کی شخصیت علامہ ابن جوزی کی نظر میں — علامہ ابن جوزی
  • احیاء المیت فضائلِ اہلِ بیت — علامہ جلال الدین سیوطی
  • شہادتِ امام حسین و کردارِ یزید — حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی
  • امہات المؤمنین و بناتِ رسول — حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی
  • اسوۂ حسینی یعنی شہیدِ کربلا — مفتیِ اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع
  • خلافتِ معاویہ و یزید، ایک جائزہ — حکیم الاسلام قاری محمد طیب قاسمیؒ
  • فتنۂ خارجیت — شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ
  • حدیثِ غزوۂ قسطنطنیہ اور مغفرتِ یزید — شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ
  • ایک سوال اور اس کا جواب: حقیقتِ یزید — مولانا مفتی سید مہدی حسن شاہجہان پوریؒ

جلد دوم

  • شہیدِ کربلا اور یزید — مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ
  • خلافتِ معاویہ و یزید پر ایک طائرانہ نظر — مولانا عزیز احمدؒ
  • خلافتِ معاویہ و یزید پر تبصرہ — مولانا ابو منظور شیخ احمدؒ
  • سیدنا علی اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما — سید نفیس الحسینی شاہ صاحبؒ
  • فتنۂ ناصبیت سے متعلق منتخب مسائل — مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ
  • یزید کے بارے میں مسلکِ اعتدال (بجواب شرحِ حدیثِ مغفور) — مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ
  • ناصبیت اور خارجیت — مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ
  • ناصبیت کی تردید یا دعوت — مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ

جلد سوم

  • علامہ عبدالرشید نعمانی رحمہ اللہ کی ۳ اہم تحریرات)
  • ناصبیت، تحقیق کے بھیس میں
  • حضرت علی رضی اللہ عنہ اور قصاصِ عثمان
  • اکابر صحابہؓ: شہادتِ سیدنا عثمان ذوالنورین کے بارے میں خود ساختہ فسانے کا تحقیقی جائزہ

جلد چہارم

  • شہدائے کربلا پر افترا — مولانا عبدالرشید نعمانیؒ
  • یزید کی شخصیت اہلِ سنت کی نظر میں — مولانا عبدالرشید نعمانیؒ
  • حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علومِ نبوی — مولانا عبدالرشید نعمانیؒ
  • محمود احمد عباسی کے نظریات کا تحقیقی جائزہ — مفتی سید عبدالشکور ترمذیؒ
  • یزید کے متعلق مسلکِ اعتدال، مسئلۂ فسقِ یزید اور اکابر علمائے امت — مفتی سید عبدالشکور ترمذیؒ
  • عباسی صاحب حقیقتاً کیا تھے؟ — حکیم سید محمود احمد برکاتیؒ
  • فاطمہ بنتِ رسول کی توہین — مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ
  • عباسی صاحب حضرت عثمان غنی کو خلیفۂ ثالث بھی نہیں مانتے تھے — جناب موسیٰ حسن

جلد پنجم

  • دیباچہ مکتوب — حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ
  • مولانا محمد اسحاق سندیلوی کا مسلک اور خارجی فتنہ — مولانا قاضی مظہر حسینؒ

جلد ششم

مولانا محمد اسحاق سندیلوی کا مسلک اور خارجی فتنہ (بحثِ فسقِ یزید، جلد دوم) — مولانا قاضی مظہر حسینؒ

جلد ہفتم

  • (مولانا قاضی مظہر حسین رحمہ اللہ کی ۲ معرکۃ الآرا کتب)
  • کشفِ خارجیت (مولانا محمد علی سعید آبادی کے کتابچہ "اصل حقیقت" کا جواب)
  • واقعۂ کربلا اور اس کا پس منظر (مولانا عتیق الرحمن اسبلی کی کتاب کا ناقدانہ جائزہ)

جلد ہشتم

  • سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت — مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ
  • سیدنا حسین رضی اللہ عنہ — مولانا محمد امین صفدر اوکاڑویؒ
  • یزید کے بارے میں کھلا خط (بنام مولانا ضیاء الرحمن صدیقی ہزاروی) — مولانا محمد امین صفدر اوکاڑویؒ
  • یزید کے بارے میں کھلا خط (بنام مولانا محمد امین اور قضائی ہنگو) — مولانا محمد امین صفدر اوکاڑویؒ
  • مسئلۂ فسقِ یزید — مولانا محمد انور صفدر اوکاڑویؒ
  • سیدنا حسین اور یزید — مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ
  • عقیدۃ الاسلام فی مناقب اہل البیت الکرام — ڈاکٹر علامہ خالد محمودؒ
  • اہلِ بیت رضوان اللہ عنہم کے شخصی فضائل و مناقب — مولانا ڈاکٹر مفتی عبدالواحد

جلد نہم

  • فی دفاع مولانا محمد امین — مولانا منیر احمد منور (علماء و مفتیانِ کرام کی تائید کے ساتھ)
  • یزید: شخصیت اور کردار — مولانا نعیم الدین (جامعہ مدنیہ)
  • سیدنا حسین بن علی (حصہ اول: حیات، حصہ دوم: کربلا پس منظر و نتائج، حصہ سوم: اعتراضات و جوابات) — مولانا محمد الیاس گھمن
  • حادثۂ کربلا کا پس منظر — ڈاکٹر محسن عثمان ندوی

جلد دہم

  • التمہید فی بیانِ فسقِ یزید — مولانا مفتی شیر محمد علوی
  • کردارِ مروان بن حکم، تحقیق کے آئینے میں — مولانا محمد اسماعیل ریحان

جلد یازدہم

  • خلافتِ علی — مولانا مفتی محمد زاہد
  • دفاعِ حضرت حسین رضی اللہ عنہ — مولانا عبدالجبار سلفی

جلد دوازدہم

  • یزید: اکابر علمائے اہلِ سنت دیوبند کی نظر میں — مولانا قاری ضیاء الحق
  • مروان بن حکم اور اس کے کارنامے — مولانا مجیب الرحمن دیروی
  • مقدمۂ امام حسین — جناب علی طحاوی

رد عمل

احتساب ِناصبیّت کے متعلق مجلہ ’’صفدر‘‘ کا موقف

(1)ہم الحمدللہ اہل السنۃ والجماعۃ(سنی مسلمان) ہیں، ہمارے لیے اصل معیار قرآن و سنت ہیں، اور قرآن و سنت نے صحابہ و اہل بیت کو ’’معیارِ حق‘‘ قرار دیا ہے، لہٰذا صحابہ و اہل بیت قرآن وسنت کی عملی صورت ہیں۔ گویا جوکچھ قرآن و سنت ہے وہی کچھ صحابہ و اہل بیت ہیں اور جو کچھ صحابہ و اہل بیت ہیں وہی کچھ قرآن و سنت ہے.

(2)دَورِ اول کے خوش نصیب مسلمانوں(حضرات تابعین) نے تو صحابہ و اہل بیت کو خود دیکھا؍ سنا، لہٰذا اُن کو براہِ راست قرآن و سنت کی عملی تصاویر دیکھنے کی سعادت مل گئی۔ مگر بعد کے لوگ جنہوں نے صحابہ و اہل بیت کو نہیں دیکھا، اُن کے‘ صحابہ و اہل بیت تک پہنچنے کے لیے بھی کوئی یقینی معیار ہونا چاہیے،

چنانچہ قرآن و سنت نے یہ معیار بھی مقرر کردیا اور وہ ہے’’جمہور اہل السنۃ والجماعۃ‘‘۔ گویا قرآن و سنت تک پہنچنے کے لیے معیار صحابہ و اہل بیت ہیں اور صحابہ و اہل بیت تک پہنچنے کے لیے معیار’’ اُمت کا سوادِ اَعظم‘‘ ہے۔ جیسے قرآن و سنت اور صحابہ و اہل بیت کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہوسکتا ایسے ہی اُمت کے سوادِ اَعظم اور صحابہ و اہل بیت کے درمیان کوئی مخالفت نہیں ہوسکتی۔

جو صحابہ و اہل بیت کے عقائد و افکار ہیں وہی جمہور اہل سنت کے نظریات ہیں اور جو جمہور اہل سنت کے خیالات ہیں وہی صحابہ و اہل بیت کی تعلیمات ہیں۔(یادرہے کہ جمہور سے مراد مروجہ فرنگی جمہوریت نہیں کہ بس افراد کی گنتی دیکھی جائے، بلکہ ہرزمانے کی :[۱]-صحیح العقیدہ [۲]-متبع سنت [۳]-مسلمہ علمی شخصیات، کی اکثریت مراد ہے۔)

(3) برصغیر میں قرآن و سنت، صحابہ و اہل بیت اور اہل سنت کے سوادِ اعظم کے صحیح ترجمان جمہور اکابر اہل سنت دیوبند ہیں۔ خصوصا ًمولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشیداحمد گنگوہی، مولانا محمود حسن ، مولانا خلیل احمد سہارنپوری، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا قاری محمد طیب اور ماضی قریب میں مولانا قاضی مظہر حسین، مولانا محمد سرفرازخان صفدر، مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہم اللہ!

(4)’’احتساب ِ ناصبیت‘‘ نامی مجموعہ اکابر اہل سنت کی تحریرات پر مشتمل ہے ، جس میں مذکور اَفکار و خیالات قرآن و سنت، صحابہ و اہل بیت اور جمہور اہل سنت کے مطابق ہیں۔

(چند ایک عبارات جو جمہور سے ہٹی ہوئی ہیں، اُن کی تردید کتاب میں اُسی مقام پر[حاشیہ میں] یا دوسری جگہ موجود ہے۔)اُسلوب ِ تحریر اور اندازِ بیان ہر مزاج کا مختلف ہوتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ جو اندازِ بیان ہمیں اپنے خیال کے مطابق نامناسب لگے وہ واقعی نامناسب بھی ہو!خصوصاً جب وہ حد ِ جواز میں ہو۔

لہٰذا محض اُسلوب ِ تحریر کی وجہ سے کسی کو ناقد، بے ادب اور گستاخ قرار دینا غلط ہے۔(البتہ عوام الناس کی خاطر بعض دیگر مقامات پر وضاحتی حواشی کا مطالبہ درست ہوسکتا ہے۔)

جب ’’احتساب ِ ناصبیت‘‘ میں درج اَفکار قرآن و سنت ، صحابہ و اہل بیت اور اُمت کے سوادِ اعظم کے عین مطابق ہیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر یہ سب ٹھیک ہیں تو احتساب ِ ناصبیت نامی مجموعہ میں درج اَفکار بھی ٹھیک ہیں، اور جن لوگوں کے نزدیک احتساب ِ ناصبیت میں درج اَفکار درست نہیں تو گویا اُن کے نزدیک پوری اُمت ہی غلط ہے.

(3) قاطع قادیانیت مولانا اللہ وسایاصاحب سے ہمیں اُن تمام چیزوں میں اختلاف ہے، جن میں وہ جمہور اُمت خصوصاً اس میدان کے ماہرین کی اکثریت سے الگ رائے یا عمل اختیار کیے ہوئے ہیں، مثلاً: [۱]-عقیدہ اِمامت کو ختم نبوت کے منافی سمجھنے کو غلط قرار دینا۔

[۲]-بعض اہل تشیع (جیسے اسماعیل گوجروی) کے نام کے ساتھ جگہ جگہ ’’ؒ‘‘ کا نشان لگانا۔وغیرہ

اور ہم اسے شائع بھی کرچکے ہیں، لیکن ’’احتساب ِ ناصبیت‘‘ کی حد تک چونکہ مولانا اللہ وسایا صاحب اُمت کے سوادِ اعظم بلکہ اجماع کے ساتھ کھڑے ہیں، اِس لیے اِس معاملے میں اُن سے اختلاف کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے.

(6) مولانا اللہ وسایا صاحب نے ’’احتساب ِناصبیت‘‘ میں تعارفی کلمات کے سوا کچھ نہیں لکھا، لہٰذا دیگر حضرات کی تحریرات نشان زد کرکے صاحب ِ تحریر کا نام لیے بغیر صرف مولانا اللہ وسایا صاحب کا نام لینا دیانت و انصاف کے خلاف ہے اور ناقدین کی اخلاقی جرأت کو بھی خوب واضح کر رہا ہے.

(7)حضرت نانوتویؒ کی جس عبارت پر اعتراض کیا جارہا ہے، علامہ خالد محمود ؒ اُس کا جواب برسوں پہلے ’’معیارِ صحابیت‘‘ میںدے چکے ہیں اور مولانا ضیاء الرحمن فاروقی شہیدؒ مولانا اعظم طارق شہیدؒ اس پر مطمئن ہیں.

(8)…باغی، خاطی، جائر وغیرہ الفاظ پر اعتراض کی حقیقت مجلہ صفدر کے تازہ شمارہ کے اِداریہ میں ملاحظہ فرمائیں، خلاصہ یہ ہے کہ بعض جگہ اِن الفاظ کا اصطلاحی معنی اور بعض جگہ ظاہری صورت مراد ہے مشہور معنی مراد نہیں، جیسا کہ قرآن میں انبیاء کی طرف منسوب الفاظ: عصیان، ظلم، غوی اور ضل وغیرہ کا مشہور معنی مراد نہیں ہے.

(9)نیز یہ الفاظ سیدنا معاوؓیہ کی پوری زندگی یا آخری وقت کے اعتبار سے نہیں بلکہ اُن کی ۵۳؍ سالہ اسلامی زندگی کے صرف دَورِ مرتضوی والے پانچ سال کے اعتبار سے ہیں ۔

اور صلح حسنؓ کے بعد ان الفاظ کی نسبت بھی ختم ہے۔ اور یہ الفاظ محمود عباسی، مولانا اسحاق سندیلوی، ابوریحان مولانا عبدالغفور سیالکوٹی، عظیم الدین صدیقی اور قاضی طاہر ہاشمی کے جواب میں لکھے گئے جنہوں نے دَورِ مرتضوی میں سیدنا علیؓ کو نعوذباللہ ناکارہ و ناکام اور سیدنا معاوؓیہ کو درست ، اَحق بالخلافہ یا قیادت کے زیادہ قابل باورکرایا۔

تو مجبوراً اُنہیں بتایا گیا کہ احادیث ِ مبارکہ میں اور اُن کی تشریح میں جمہور اُمت کے ہاں حضرت معاوؓیہ کے لیے یہ یہ الفاظ (اصطلاحی یا ظاہری معنی میں)استعمال ہوئے ہیں۔ لہٰذا سیدنا علی ؓ کے مقابل اُن کو درست یا زیادہ قابل کہنا مسلک ِ اہل سنت کے خلاف ہے.

فرمانِ قائد اہل سنتؒ: اگر کوئی حضرت علیؓ کوحضرت ابوبکرؓ سے زیادہ قیادت کے قابل کہے تو ہم حضرت ابوبکرؓ کا دِفاع کریں گے، لیکن حضرت علیؓ کا شرعی مقام مد نظر رکھیں گے۔ اِسی طرح اگر کوئی سیدنا معاوؓیہ کو سیدنا علیؓ سے زیادہ قابل و حق دار کہے تو ہم سیدنا علیؓ کا دفاع کریں گے لیکن سیدنا معاوؓیہ کی عظمت و شان کا پورا خیال رکھیں گے.

(10)’’احتسابِ ناصبیت ‘‘کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے تین قسم کے لوگ ہیں:

  • ناصبی یا ناصبی اثرات سے متأثر لوگ۔
  • شرعی و علمی اصطلاحات سے ناواقف سادہ لوگ۔
  • مولانا اللہ وسایا سے کسی بھی وجہ سے اختلاف رکھنے والے لوگ!

گزارش یہ ہے کہ: اپنا غصہ مولانا اللہ وسایا کے بجائے اکابر اہل سنت اور مسلک ِ اہل سنت پر نکالنے سے پرہیز کیجیے! واللہ المؤفق![1]۔

مولانا اللہ وسایا کی 12 جلدوں پر مشتمل معرکۃ الآراء کتاب احتساب ناصبیت کی اشاعت، تکفیری و ناصبی آگ بگولا

مکتبِ دیوبند سے تعلق رکھنے والےصاحب نظر اور جید عالم دین مولانا اللہ وسایا صاحب کہ جن کی ختم نبوت کے حوالے سے بھی بہت زیادہ خدمات ہیں ان دنوں تکفیریوں اور ناصبیوں کے ہاں شدید تنقید کی زد میں ہیں فقط تنقید کی زد میں نہیں انہیں،، گستاخ صحابہ،، قرار دیا جا رہا ہے یعنی،، گستاخ گستاخ ،، والے معاملے نے دیوبند کے بزرگ علماء کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،معاملہ یہ ہے کہ انہوں نےاسلام میں ناصبیت کےرد پر 12جلدوں پہ مشتمل کتاب تالیف کی ہے جس کا نام احتساب ناصبیت ہے۔

​جہاں آلِ محمدؑ کی عظمت اور مناقب کی بات آتی ہے، وہاں یہ تصویر خود ایک روشن تاریخ اور زندہ حقیقت کی گواہ ہے کہ سید سلیمان ندوی اور مولانا اسحاق مدنی جیسے عظیم اہل سنت اکابرین کا جو علمی کام باقی رہ گیا تھا، اللہ پاک نے وہ عظیم خدمت مولانا اللہ وسایا صاحب کے مبارک ہاتھوں سے مکمل کروا کر 12 عظیم الشان جلدوں کی صورت میں امت کے سامنے پیش کر دی ہے۔

سبحان اللہ !اگر آپ غور کریں تو یہ عظیم علمی کاوش کسی معجزے سے کم نہیں! آلِ رسولؑ کی محبت اور دینِ اسلام کی پاسداری کا یہ پیغام ہر سچے عاشقِ رسولؐ کے دل کو چھو لینے والا ہے۔

الله وسایا صاحب کی مرتب کردہ “ احتساب ناصبیت “ کی اشاعت کے بعد اٹھنے والے طوفانِ بدتمیزی نے یہ بات ایک دفعہ پھر ثابت کر دی ہے کہ یہ معاشرہ اخلاقیات کی انتہائی پستی میں گر چکا ہے، اور سب سے زیادہ پستی میں وہ گرے ہیں جو اپنے آپ کو بزعم خود اہل علم گردانتے ہیں،یہی کچھ اس سے قبل زاہد الراشدی صاحب کے معاملے میں دیکھنے کو ملا۔

اچھا نام کے ساتھ اپنے تئیں علامہ، مفتی اور تو اور خود ہی مولانا بھی لکھ رکھا ہے لیکن زبان اتنی غلیظ کہ پناہ بہ خدا۔اور اعتراضات اتنے بودے اور سطحی کہ حد ہی ہے۔طلقاء کو طلقاء نہ لکھا جائے گا تو کیا ان کی آزاد کردہ غلاموں کی حیثیت ختم ہو جائے گی،خاطی کو خاطی نہ کہیں تو کیا ان کی خطا ختم ہو جائے گی،باغی کو باغی نہ لکھیں تو کیا ان کی بغاوت پر پردہ پڑ جائے گا۔

الله تعالیٰ ان کی قبروں کو نور سے بھر دے جنہوں نے ناصبیت کا پردہ چاک کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔اور الله وسایا صاحب کو صحت والی زندگی عطا کرے تاکہ وہ ناصبیت کے ایوانوں میں اس طرح زلزلے برپا کرتے رہیں[2]۔

کتاب احتساب ناصبیت پر چند سطریں

چند ہفتوں سے کتاب احتساب ناصبیت کی شھرت عروج کو پہنچی ھوئی ہے، موافق اور مخالف سب تبصروں پر لگے ہوے ہیں ، ناصبی مخالفین کو شکایت ہے کہ مولانا اللہ وسایا نے معاویہ ابن ابی سفیان کے خلاف اھل سنت اور بالخصوص دیوبندی اکابر کے ھاں موجود لٹریچر میں پھیلے ھوے پراکندہ مواد کو یکجا کرکے اس کتاب کی شکل میں بنی امیہ اور معاویہ کے مخالفین کو علمی مواد فراھم کرنے کا جرم کیا ہے [3] ۔

جبکہ کتاب کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ دیوبندی مکتب کا اصولی موقف ہے اور اسی کو پیش کیا گیا ھے جوابا ناصبی مخالفین کا کہنا ہے کہ اس کتاب سے شیعوں کو فایدہ پہنچتا ھے لھذا اس کتاب کو نھیں چھاپنا چاھئیے تھا۔

جبکہ ستم ظریفی یہ ھےکہ احتساب ناصبیت کی ان بارہ جلدوں میں شیعہ علماء اور مصنفین کا معاویہ کے بارے میں علمی موقف یا انکی کسی کتاب کا ایک لفظ اور پیراگراف تک شامل نہیں ہے۔

اور اسی موقف کے تحت اب وکلاء کی کمیٹی کے ذریعے اس کتاب پر پابندی لگانے کے لئے باقائدہ قدم اٹھایا جارھا ہے تو کیا پابندی لگنے سے حق چھپ جائےگا؟ کیا اس سے پہلے بزور طاقت اور بندوق، مختلف قوانین بنواکر تم حق بولنے سے کسی کو روک سکے؟

یہ ڈیجیٹل دور ہے، جتنا چھپاوگے حق اتنا آشکار ھوتا چلا جائےگا اب دوھزار پرنٹ شدہ کتب پر پابندی کا کوئی فایدہ نھیں لاکھوں کی تعداد میں دنیا بھر میں پھیلی ھوئی کتاب کی pdf فائلز کو کہاں چھپاوگے، لوگ اب ڈیجیٹلائز ھوگئے ہیں۔

تم نے جس بات کولوگوں سےچھپانا چاھا

آج وہ کوچہ و بازار میں آ نکلا ھے

عجیب بات یہ ہے کہ نہ اس کتاب میں مولانا اللہ وسایا نے معاویہ ابن ابی سفیان کے خلاف اپنے قلم سے ایک لفظ تحریر کیا ھے اور نہ ہی ان بارہ جلدوں میں موجود مواد میں کسی مصنف کے پیش نظر معاویہ کی مخالفت مقصود تھی بلکہ ان تمام کتب کا اصل ھدف ہی معاویہ کا دفاع تھا۔

حقیقت یہ ھے کہ گذشتہ پچاس سالوں میں پاکستانی اھل سنت بالخصوص دیوبندیت میں معاویہ کو باغی اور خاطی کہنا ہی جرم بنادیاگیا ہے جبکہ اہلسنت کا ہمیشہ اس پر اتفاق رہا ہے کہ معاویہ باغی و خاطی تھا۔

اھل سنت ہی کی عربی کتب میں تو اس وقت بھی بہت کچھ موجود ہے لیکن علماء دیوبند کی اردو کتابیں زیر زمین کردی گئی تھیں شیعوں کے تعصب اور دشمنی میں عام دیوبندیوں کو اھل بیت سے دور اور اھل بیت کے دشمنوں کے قریب کردیا گیا اور لوگوں کو جاھلانہ تعصب میں مبتلا کیا گیا۔

اور پانچ دھائیاں منبروں سے معاویہ کے فضائل پرمبنی موضوع اور جعلی گڑھی گئی احادیث کو بیان کیا جارہاتھا،احتساب ناصبیت میں شامل کتابوں کے اندر باغی و خاطی کے الفاظ موجود ہیں، اور یہی الفاظ ناصبیوں کے نزدیک گالی شمار ہوتے ہیں چاہے یہ الفاظ بخاری و مسلم میں حضرت رسول کریم کی بیان کردہ احادیث میں آئے ہوں،

لیکن اسی کتاب میں اکابر کے قلم سے دفاع معاویہ کے ضمن میں ایسے حقائق کا اعتراف بھی سامنے آگیا جس سے احادیث اور تاریخ کے صفحات پر پڑے پردے قاری کی نگاھوں کے سامنے کھلتے چلے جاتےھیں کہ کوئی بھی صاحب عقل، صاحب علم و فراست شخص اصل حقائق کا اعتراف کئےبغیر نھیں رہ سکتا،

البتہ اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے نتیجے میں معاویہ کا بے دین فاسق فاجر اور آلِ محمد کا سفاک قاتل بیٹا یزید ابن معاویہ بھی مکمل ننگا ضرور ھوگیا ہے گذشتہ چھے دھائیوں سے منبروں محرابوں اور جلسوں میں معاویہ کے دفاع میں جتنا جھوٹ بولا گیا ھے اس کتاب کو پڑھنے سے جھوٹ کا وہ پردہ چاک ھوجاتا ھے اور یہ انکے اپنے ہی بزرگوں کے رشحات قلم کا نتیجہ ہے۔

کیا یہ عجیب نہیں ہے کہ گذشتہ پچاس سال سے برصغیر بالخصوص پاکستان میں معاویہ کے دفاع میں جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانے کی جو فیکٹریاں لگائی گئیں اور ان سے جو محصولات اس مظلوم مسلمان قوم کو نصیب ھوئیں وہ سوائے جھالت تعصب اور دین کے نام پر جھوٹ کے فروغ کے کچھ نہ تھا!!!

اور نواصب کے بڑے بڑے خطیب اب بھی بڑی ڈھٹائی سے سوشل میڈیا پر یہ کہتے نظر آتے ھیں کہ ان کی پچاس سالہ کمائی اس کتاب کے آنے سے ڈوب گئی جی ھاں جھوٹ گمراہی ظلمت اور نجاست ھے پاکیزہ پانی اور علم کی روشنی ان کو ملیامیٹ کردیتی ہے۔

مزھب کے نقاب کے پیچھے چھپ کر کب تک اور کتنا جھوٹ بولوگے امویوں کی باطل بادشاھت، راج اور جھوٹے پروپیگنڈوں کا سارا عروج ۸۰ سال تھا اسکے بعد؟

جبکہ محمد اور آل محمد کی سچائی حقیقت ابدی ہے، ھر دور میں اللہ ایسے ہی لوگوں کے ذریعے ایک چھوٹی سی محنت کے نتیجے میں ۵۰/۶۰ سال کی باطل محنت کا جنازہ نکال کر اپنے گمراہ بندوں پر حجت تمام کرتا ھے اور حق کا چہرہ آشکار کردیتا ہے۔

متعلقہ موضوعات

حوالہ جات

  1. ↑ احتساب ِناصبیّت کے متعلق مجلہ ’’صفدر‘‘ کا موقف-شائع شدہ از: 5 اکتوبر 2026ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 5 اکتوبر 2026ء
  2. ↑ مولانا اللہ وسایا کی 12 جلدوں پر مشتمل معرکۃ الآراء کتاب احتساب ناصبیت کی اشاعت، تکفیری و ناصبی آگ بگولا-شائع شدہ از:2 اکتوبر 2026ء-اخذ شدہ بہ تاریخ:4 اکتوبر 2026ء
  3. ↑ علامہ محمد آمین شہیدی صاحب