مندرجات کا رخ کریں

ابراہیم قبیسی

ویکی‌وحدت سے
ابراہیم قبیسی
پورا نامابراہیم محمد قبیسی
دوسرے نامحاج ابو موسی
ذاتی معلومات
پیدائش1962 ء
یوم پیدائش10 اکتوبر
پیدائش کی جگہمنطقہ زبدین در جنوب لبنان
وفات2024 ء
وفات کی جگہضاحیہ جنوبی بیروت
مذہباسلام، شیعہ
مناصباز فرماندہان یگان میزائلی حزب‌اللہ لبنان، مسئول واحد نظامی بدر (شمال رودخانہ لیتانی)

ابراہیم محمد قبیسی جہادی نام «حاج ابو موسی» کے ساتھ حزب‌اللہ لبنان کے سینئر کمانڈروں میں سے تھے، جو 24 ستمبر 2024 عیسوی، بمطابق 3 مہر 1403 ہجری شمسی، جنوبی بیروت کے ضاحیہ میں واقع «الغبیری» محلے کی ایک عمارت پر رژیم صیہونی کے لڑاکا طیاروں کے حملے میں شہید ہو گئے۔ لبنان کی مزاحمت کی جانب سے اسرائیلی قابضین کے خلاف بہت سے آپریشنز کی منصوبہ بندی اور کمانڈنگ، حزب‌اللہ لبنان کے میزائلی یونٹ کی قیادت، اور واحد نظامی بدر (شمال رودخانہ لیتانی) کی ذمہ داری، اسرائیل کے خلاف جنگ میں ان کی سرگرمیوں اور اقدامات میں شامل ہیں۔

سوانح حیات

ابراہیم محمد قبیسی، بدھ 10 اکتوبر 1962 عیسوی، بمطابق 18 مہر 1341 ہجری شمسی کو جنوبی لبنان کے علاقہ زبدین میں پیدا ہوئے۔

مبارزتی سرگرمیاں

قبیسی 1982 عیسوی میں اسلامی مزاحمت کی صفوں میں شامل ہوئے اور مزاحمتی تنظیم میں تنظیمی ذمہ داریوں پر فائز ہوئے۔

آپریشنز کی منصوبہ بندی اور کمانڈنگ

انہوں نے 1998 عیسوی سے 2000 عیسوی تک کے دوران لبنان کی مزاحمت کی جانب سے اسرائیلی قابضین کے خلاف بہت سے آپریشنز کی منصوبہ بندی اور کمانڈنگ میں اہم کردار ادا کیا۔

واحد نظامی بدر کی ذمہ داری

ابراہیم نے 2001 عیسوی سے 2018 عیسوی تک واحد نظامی بدر (شمال رودخانہ لیتانی) کی ذمہ داری سنبھالی اور حزب اللہ کے میزائلی ڈھانچے کے بعض حصوں کا انتظام بھی کیا۔

حزب‌اللہ کے میزائلی کمانڈر

قبیسی نے اسلامی مزاحمت کے کئی میزائلی ڈھانچوں کی قیادت کی[1]۔

شہادت

ابراہیم قبیسی بالآخر 24 ستمبر 2024 عیسوی، بمطابق 3 مہر 1403 ہجری شمسی کو، جنوبی بیروت کے ضاحیہ میں واقع «الغبیری» محلے کی ایک عمارت پر رژیم صیہونی کے لڑاکا طیاروں کے حملے میں شہید ہو گئے۔

ابراہیم قبیسی کے قتل کا آپریشن، لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیل کی فوجی طیاروں کا پانچواں دہشت گرد حملہ ہے۔ صیہونیوں نے اس حملے سے قبل حماس کے سیاسی بیورو کے نائب صدر صالح العاروری اور حزب اللہ کے سینئر کمانڈروں بشمول فؤاد شکر، ابراہیم عقیل اور علی کرکی کو شہید کیا تھا،

جبکہ علی کرکی کو شہید کرنے کی کوشش ناکام رہی تھی۔ لبنان میں دہشت گرد حملے کرنے کا اسرائیل کا مقصد حزب اللہ پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ جنوبی لبنان سے شمالی فلسطین تک کے محاذ پر آپریشنز روکے جا سکیں[2]۔

ردعمل

اسلامی مزاحمت

اسلامی مزاحمت کے بیان کے متن میں کہا گیا ہے:

بِسْمِ اللَـهِ الرَحْمَـٰنِ الرَحِيمِ۔ سانچہ:متن قرآن صَدَقَ الله العَلي العَظِيم۔

اسلامی مزاحمت شہید مجاہد کمانڈر ابراہیم محمد قبیسی «حاج ابوموسی»، پیدائش 1962، جنوبی لبنان کے شہر زبدین سے، جو بیت المقدس کی راہ میں شہید ہوئے، پر فخر اور سربلندی کے ساتھ خراج تحسین پیش کرتی ہے[3]۔

حزب‌اللہ لبنان

حزب اللہ لبنان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ: مجاہد کمانڈر ابراہیم محمد قبیسی جنوبی بیروت کے ضاحیہ علاقے پر دشمن صیہونی کے حملے کے نتیجے میں اپنے شہید ساتھیوں سے جا ملے۔ حزب اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے شہداء کا خون صیہونی دشمن سے ضرور لے گا[4]۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

ماخذ