مندرجات کا رخ کریں

حامد بیتاوری

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 14:36، 1 اکتوبر 2026ء از Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
حامد بیتاوری
پورا نامحامد سلیمان جبر خضیر بیتاوی
دوسرے نامشیخ حامد البیتاوی، ابوحاتم
ذاتی معلومات
پیدائش1944 ء
یوم پیدائش6 ستمبر
پیدائش کی جگہبیتا، نابلس، فلسطین
وفات2012 ء
یوم وفات۴ اپریل
وفات کی جگہقدس
مذہباسلام، اہل السنۃ والجماعت
اثراتخطب داعیة، ذكريات الإبعاد في مرج الزهور، ذكرياتي في جماعة الإخوان المسلمين، حقوق المرأة في الإسلام
مناصبروحانی، فقیہ، شرعی قاضی، مسجد الاقصیٰ کے خطیب اور سیاسی کارکن

حامد بیتاوی، روحانی فقیہ شرعی قاضی خطیب اور فلسطینی سیاسی کارکن تھے۔ وہ مسجد الاقصی کے خطیب فلسطینی علماء رابطہ کے سربراہ اور فلسطین کی قانون ساز کونسل کے رکن تھے۔ بیتاوی 2006 میں حماس سے وابستہ تبدیلی اور اصلاح کے انتخابی فہرست سے فلسطین کی قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ فلسطین کے مسئلے کی حمایت اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی مخالفت میں اپنے سیاسی اور مذہبی مؤقف کے باعث انہیں کئی مرتبہ گرفتار کیا گیا سفر سے روکا گیا اور 1992 میں جنوبی لبنان کے مرج الزہور میں جلاوطن کر دیا گیا[1]۔

سوانح حیات

حامد بیتاوی 6 دسمبر 1944 کو نابلس کے جنوب مشرق میں واقع گاؤں بیتا میں ایک دیہی اور کسان خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا مکمل نام حامد سلیمان جبر خضیر بیتاوی تھا اور وہ ابوحاتم کی کنیت سے معروف تھے۔ انہوں نے ابتدائی اور مڈل کی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی اور ثانوی تعلیم نابلس کے الجاحظ اسکول سے مکمل کی۔ 1964 میں انہوں نے ادبی شعبے میں ڈپلومہ حاصل کیا۔

تعلیم

بیتاوی نے 1968 میں اردن کی یونیورسٹی کے کلیہ شریعت سے فارغ التحصیل ہوئے۔ اس کے بعد 1991 میں انہوں نے نابلس کی النجاح نیشنل یونیورسٹی کے کلیہ شریعت سے فقہ اور شریعت کے شعبے میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

عدالتی اور تدریسی سرگرمیاں

بیتاوی نے 1968 میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد مغربی کنارے کے شرعی عدالتی نظام میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے ابتدا میں شرعی عدالتوں میں ملازم اور کاتب کی حیثیت سے کام کیا اور بعد میں عدالت کے دفتر کے سربراہ مقرر ہوئے[2]۔ اس کے بعد انہیں شرعی قاضی مقرر کیا گیا اور پھر انہوں نے شرعی اپیل عدالت کی سربراہی کی اور فلسطین کی اعلیٰ شرعی عدالتی کونسل کے رکن بھی بنے۔

عدالتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ وہ تدریس سے بھی وابستہ رہے۔ انہوں نے نابلس کے اسلامی اسکول الروضہ کالج اور النجاح یونیورسٹی کے کلیہ شریعت میں تدریس اور خطابات انجام دیے۔

دینی سرگرمیاں

حامد بیتاوی مسجد الاقصی کے معروف خطیبوں میں شمار ہوتے تھے۔ سوانحی ذرائع کے مطابق انہوں نے 1985 سے مسجد الاقصی میں خطبہ دینا شروع کیا۔ اس سے قبل بھی وہ نابلس کی مختلف مساجد کے خطیب رہے اور فلسطینی عوام کی دینی اور سماجی سرگرمیوں میں کردار ادا کرتے رہے[3]۔

وہ فلسطینی علماء رابطہ کے بانیوں میں شامل تھے اور اس ادارے کی سربراہی بھی کی۔ انہوں نے متعدد سماجی اور دینی اداروں میں بھی خدمات انجام دیں جن میں القدس کی اعلیٰ اسلامی کمیٹی خیراتی یکجہتی انجمن نابلس کی زکوٰۃ کمیٹی اور مساجد کی تعمیر سے متعلق کمیٹیاں شامل تھیں۔

سیاسی سرگرمیاں

ابوحاتم دوران تعلیم اخوان المسلمین سے متعارف ہوئے اور 1962 میں اس تحریک میں شامل ہوگئے۔ سوانحی ذرائع کے مطابق حسن البنا سید قطب اور یوسف قرضاوی کے افکار نے ان کی فکری سمت کی تشکیل میں اثر ڈالا۔ وہ فلسطینی اسلامی تحریک کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور مغربی کنارے میں حماس کی ابتدائی قیادت کی نسل کے ارکان میں شامل تھے۔

2006 میں فلسطین کی قانون ساز کونسل کے انتخابات میں بیتاوی نے حماس سے وابستہ تبدیلی اور اصلاح کے انتخابی فہرست سے امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا اور قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔

سیاسی مؤقف

وہ اپنے خطبات اور سرگرمیوں میں اسرائیلی قبضے اور القدس اور مقدس مقامات سے متعلق پالیسیوں کی مخالفت میں واضح مؤقف اختیار کرتے تھے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی مختلف صورتوں کے مخالف تھے اور مقدس مقامات کی یہودیانے کی پالیسی کے بارے میں خبردار کرتے تھے۔

ان مؤقف کی وجہ سے انہیں مسجد الاقصیٰ میں خطابت جاری رکھنے سے روک دیا گیا اور کچھ عرصے کے لیے جبری نظر بندی میں رکھا گیا۔

گرفتاری اور جلاوطنی

انہیں اسرائیلی فورسز نے کئی مرتبہ گرفتار کیا اور ان سے تفتیش کی گئی۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 1982 میں ان کے سفر پر پابندی عائد کی گئی اور 1990 میں تقریباً ایک سال تک نقب اور الفارعہ کی جیلوں میں قید رکھا گیا۔ 1992 میں اسرائیل نے انہیں دیگر 415 فلسطینیوں کے ساتھ جن میں زیادہ تر اسلامی تحریک کے رہنما اور کارکن شامل تھے جنوبی لبنان کے مرج الزہور میں جلاوطن کردیا۔

1998 میں بھی فلسطینی اتھارٹی کے سکیورٹی اداروں نے انہیں کئی ماہ تک حراست میں رکھا۔ صفا نیوز ایجنسی نے اس گرفتاری کو مذاکرات کی مخالفت اور اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون کے خلاف ان کے مؤقف سے متعلق قرار دیا ہے۔ 2006 میں قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہونے کے بعد 2007 میں انہیں ایک بار پھر اسرائیلی حکام نے گرفتار کرلیا۔ وہ ان ارکان پارلیمنٹ اور وزرا میں شامل تھے جنہیں اس دور میں گرفتار کیا گیا۔

2009 میں فائرنگ کا واقعہ

مارچ 2009 میں حامد بیتاوی نابلس میں مسجد الانبیاء سے باہر نکلتے وقت فائرنگ کا نشانہ بنے اور ان کی بائیں ٹانگ زخمی ہوگئی۔ صفا نیوز ایجنسی نے ان کے زخم کو درمیانے درجے کا قرار دیا تھا

تصانیف

حامد بیتاوی نے دینی اور سماجی موضوعات پر متعدد تصانیف اور مجموعے چھوڑے۔ ان سے منسوب بعض تصانیف درج ذیل ہیں:

  • خطب داعیة
  • ان کے خطبات کا دو جلدوں پر مشتمل مجموعہ
  • ذكريات الإبعاد في مرج الزهور
  • ذكرياتي في جماعة الإخوان المسلمين
  • رجال عرفتهم
  • اليهود والمنافقون في القرآن الكريم
  • انتفاضة الأقصى أسبابها ونتائجها
  • حقوق المرأة في الإسلام
  • ولا تقربوا الزنى
  • التدخين حرام
  • التوبة
  • مولد النور
  • التفريق بين الزوجين في الشريعة الإسلامية وحسب المعمول به في المحاكم الشرعية في الأردن وفلسطين

بیماری اور وفات

زندگی کے آخری برسوں میں بیتاوی بیماری اور جسمانی مشکلات کا شکار رہے اور ان کے کئی آپریشن ہوئے۔ صفا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق وہ ذیابیطس اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث زیر علاج تھے اور آخری قلبی آپریشن سے قبل بھی ان کے کئی دیگر آپریشن ہوچکے تھے۔ وہ 4 اپریل 2012 کو القدس کے المقاصد اسپتال میں انتقال کرگئے۔ شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ان کی وفات قلب کے آپریشن کے بعد جسمانی حالت بگڑنے کے باعث ہوئی۔ ان کی میت تدفین کے لیے نابلس منتقل کی گئی

متعلقہ موضوعات

حوالہ جات

  1. ↑ حامد البيتاوي.. المشرّع والقاضي والخطيب-29 جون 2026ء-اخذ شدہ بہ تاریخ:21ستمبر 2026ء
  2. ↑ البيتاوي العلامة والنائب.. يصارع المرض-شائع شدہ از:14 مارچ 212ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 1اکتوبر 2026ء
  3. ↑ حامد البيتاوي -شائع شدہ 6 اگست 2020ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 1 اکتوبر 2026ء