مندرجات کا رخ کریں

سید محسن حکیم

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 01:05، 20 اگست 2026ء از Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) («{{Infobox person | title = سید محسن حکیم | image = سیدمحسن حکیم 1.jpg | name = آیت اللہ سید محسن طباطبائی حکیم | other names = حکیم، ضیاء الصالحین | brith year= عید الفطر | brith date = ۱۳۰۶ ہ، ۱۲۶۷ ش، ۱۸۸۹ء | birth place = نجف، عراق | death year = ۱۳۹۰ ہ، ۱۳۴۸ ش، ۱۹۷۰ ء | death da...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
سید محسن حکیم
پورا نامآیت اللہ سید محسن طباطبائی حکیم
دوسرے نامحکیم، ضیاء الصالحین
ذاتی معلومات
پیدائشعید الفطر
یوم پیدائش۱۳۰۶ ہ، ۱۲۶۷ ش، ۱۸۸۹ء
پیدائش کی جگہنجف، عراق
وفات۱۳۹۰ ہ، ۱۳۴۸ ش، ۱۹۷۰ ء
یوم وفات۲۷ ربیع الاول
وفات کی جگہنجف
اساتذہاساتذہ محمد کاظم خراسانی
شاگردحسین وحید خراسانی، سید محمد باقر صدر، محمد تقی جعفری اور سید مصطفی خمینی
مذہباسلام، شیعہ
اثراتتصانیف مستمسک العروة الوثقی، حقائق الاصول، نہج الفقاہة اور منہاج الصالحین
مناصبنجف اشرف میں جماعت العلماء کا قیام

سید محسن حکیم، آیت اللہ سید محسن طباطبائی حکیم ۱۳۰۶ سے ۱۳۹۰ ہجری تک کے ایک مجاہد شیعہ عالم، فقیہ، اصولی، امامیہ شیعہ کے مرجع تقلید اور حوزہ علمیہ نجف کے مدیر تھے۔ وہ میرزا محمد حسین نائینی کے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔ سید حسین بروجردی کے انتقال کے بعد ۱۳۴۰ ہجری میں انہوں نے نو سال سے زیادہ عرصے تک شیعیان عالم کی عمومی مرجعیت کی ذمہ داری سنبھالی۔ انہوں نے اپنی بابرکت زندگی اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی اور عراق میں مدارس، کتب خانوں، مساجد اور دیگر علمی و دینی مراکز کی تعمیر و تاسیس پر خصوصی توجہ دی۔

آیت اللہ حکیم سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں ایک بہادر شخصیت تھے۔ اپنے علمی نظریات کے اظہار میں صراحت اور فتوے دینے میں ان کی جرأت کم نظیر تھی۔ وہ ایران کے حالات پر بھی گہری نظر رکھتے تھے اور خطوط، اعلانات اور ٹیلی گرام کے ذریعے امام خمینی کی قیادت میں ایران کے علما کی ان کوششوں کی حمایت کرتے تھے جو شاہی حکومت کے ظلم و جبر کے مقابلے میں جاری تھیں۔

سید محسن حکیم کی زندگی

سید محسن حکیم ۱۳۰۶ ہجری میں نجف میں ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید مہدی حکیم نجف کے علما میں شمار ہوتے تھے۔ محسن حکیم نے چھ سال کی عمر میں اپنے والد کو کھو دیا۔ ان کے دس بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔ ان کے بیٹوں کے نام یوسف، محمد رضا، محمد مہدی، کاظم، محمد باقر، عبدالہادی، عبدالصاحب، علاء الدین، عبدالعزیز اور محمد حسین تھے۔

سید محسن حکیم کی زندگی کے آخری سال گھریلو نظر بندی، حوزہ علمیہ اور عراق کے شیعوں پر سختیوں اور ان کے مسلسل مزاحمت کے ساتھ گزرے۔ حسن البکر کی بغاوت کے بعد بعث پارٹی کی جانب سے سید محسن حکیم پر دباؤ مزید بڑھ گیا اور بعث پارٹی نے انہیں اپنے سامنے جھکانے کی کوشش کی۔

سید محسن طباطبائی حکیم بالآخر ۲۷ ربیع الاول ۱۳۹۰ ہجری کو ۸۴ سال کی عمر میں بغداد میں بیماری کے باعث وفات پا گئے۔ ان کے جسد خاکی کو بغداد سے کربلا اور پھر نجف تک بڑے شاندار انداز میں لے جایا گیا اور مسجد ہندی میں ان کی لائبریری کے قریب سپرد خاک کیا گیا۔

حکیم کہلانے کی وجہ

دسویں صدی ہجری میں سید علی، شاہ عباس صفوی کے خصوصی طبیب تھے۔ وہ بادشاہ کے ہمراہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے نورانی روضے کی زیارت کے لیے نجف گئے۔

اس آسمانی شہر کی روحانی فضا نے دربار کے اس پاکیزہ دل طبیب کو اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے اہل نجف کی درخواست کو بے اختیار قبول کر لیا اور ہمیشہ کے لیے حضرت علی علیہ السلام کے آستانے کے خادم اور اس امام برحق کے حرم کے باشندوں کے طبیب بن گئے۔ اس طرح سید علی حکیم کے نام سے مشہور ہوئے اور یہ نام ہمیشہ کے لیے ان کی اولاد کے نام کے ساتھ یادگار بن گیا۔

حوالہ جات