مندرجات کا رخ کریں

بہاء الدین زکریا

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 21:47، 17 جون 2026ء از Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (Saeedi نے رجوع مکرر ہٹا کر صفحہ مسودہ:بہاء الدین زکریا کو بہاء الدین زکریا کی جانب منتقل کیا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
بہاء الدین زکریا
پورا نامالشیخ الکبیر شیخ الاسلام مخدوم بہاؤ الدین ابو محمد زکریا الاسدی
دوسرے نامحضرت شیخ ( غوث العالمین)
ذاتی معلومات
پیدائش1182 ء
پیدائش کی جگہکٹ کرور ، پنجاب (موجودہ پاکستان )
وفات1262ء
یوم وفات21 دسمبر
وفات کی جگہسلطنت دہلی
مذہباسلام، سنی

بہاؤالدین زکریا، (c.1170 - 1262)، جسے بہاء الحق بھی کہا جاتا ہے ، ایک سنی ، مسلمان عالم، بزرگ اور شاعر تھے جنہوں نے قرون وسطیٰ کے جنوبی ایشیا میں بغداد کے سہروردیہ حکم کو قائم کیا ، جو بعد میں اپنے عہد کے سب سے زیادہ بااثر روحانی رہنماؤں میں سے ایک بن گئے۔

ولادت

ملتان کے ضلع لیہ کے ایک قصبہ کوٹ کروڑ ضلع لیّہ میں 27 رمضان المبارک شب جمعہ آپ کی ولادت ہوئی۔ آپ کے جد امجد مخدوم کمال الدین علی شاہ مکہ مکرمہ سے خوارزم ہوتے ہوئے ملتان میں مقیم ہوئے۔ یہ عہد خسرو ملک غزنوی کا عہد تھا [1]۔

حسب و نسب

آپ کے والد کی جانب سے قریشی اور والدہ کی جانب سے حسنی ہیں ۔

تحصیل علم

آپ چھوٹی ہی عمر میں یتیم ہو گئے۔ بارہ سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا پھر بخارا میں تحصیلِ علم کی۔ بعد ازاں حرمین شریفین پہنچے، حج و زیارت سے فارغ ہو کر بیت المقدس میں بھی علم حاصل کیا اور علم حدیث کی خاطر یمن بھی گئے۔

والد گرامی کے انتقال کے بعد آپ نے محض حصول علم و فن کے لیے پیادہ پا خراسان کا سفر کیا۔ اس کے بعد بلخ، بخارا ،بغداد اور مدینہ منورہ کے شہرہ آفاق مدارس میں رہ کر تعلیم حاصل کی۔

پانچ سال تک مدینہ منورہ میں رہے جہاں حدیث پڑھی بھی اور پڑھائی بھی۔ غرض پندرہ سال اسلام کے مشہور مدارس و جامعات میں رہ کر معقولات و منقولات کی تکمیل کی۔ مدینہ منورہ ہی میں حضرت کمال الدین محمد یمنی محدث رحمة اللہ علیہ سے احادیث کی تصحیح کرتے رہے۔

جب پورا تجربہ حاصل ہو گیا تو آپ مکہ معظمہ حاضر ہوئے اور یہاں سے بیت المقدس پہنچ کر انبیاءکرام علیہم السلام کے مزارات کی زیارات کیں۔ اس عرصہ میں آپ نہ صرف علوم ظاہر کی تکمیل میں مصروف رہے بلکہ بڑے بڑے بزرگان دین اور کاملین علوم باطنی کی صحبتوں سے بھی فیض یاب ہوئے۔

بڑے بڑے مشائخ سے ملے۔ 15 سال کی عمر میں حفظِ قرآن، حسنِ قرأت، علومِ عقلیہ و نقلیہ اور ظاہری و باطنی علوم سے مرصع ہو گئے تھے۔ آپ کی یہ خصوصیت تھی کہ آپ قرآن مجید کی ساتوں قرأت (سبعہ قرأت) پر مکمل عبور رکھتے تھے۔

آپ نے حصول علم کے لیے خراسان، بخارا، یمن، مدینہ، مکہ، حلب، دمشق، بغداد، بصرہ، فلسطین اور موصل کے سفر کر کے مختلف ماہرین علومِ شرعیہ سے اکتساب کیا۔ شیخ طریقت کی تلاش میں آپ، اپنے معاصرین حضرت بابا فرید الدین گنج شکر، حضرت جلال الدین سرخ بخاری اورحضرت لعل شہباز قلندر کے ساتھ سفر کرتے رہے۔

بیعت و خلافت

یمن سے آپ بغداد تشریف لائے اور ابو الفتوح شہاب الدین سہروردی کی خانقاہ پہنچے۔ آپ نے صرف 17 دنوں میں بیعت و خلافت عطا فرما دی۔ بیت المقدس سے مختلف بلاد مشائخ اور مزارات کی زیارت کرتے ہوئے مدینۃ العلم بغداد میں آئے تو اس وقت حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی کا طوطی بول رہا تھا۔

ان کی ذات گرامی مرجع خلائق بنی ہوئی تھی۔ بڑا دربار تھا ‘ بڑا تقدس۔ آپ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھتے ہی فرمایا باز سفید آگیا۔ جو میرے سلسلہ کا آفتاب ہو گا اور جس سے میرا سلسلہ بیعت وسعت پزیر ہوگا۔ آپ نے ادب سے گردن جھکائی۔ شیخ نے اسی روز حلقہ ارادت میں لے لیا اور تمام توجہات آپ کی طرف مرکوز تھیں۔

ملتان آمد

15 سال تک مختلف علاقوں میں تبلیغ اسلام کرتے آخر کار 1222ء میں واپس ملتان تشریف لائے۔ آپ کی مساعی جمیلہ سے سہروردی سلسلہ پاک و ہند میں خوب جاری ہوا۔

اولاد و خلفاء

بہاؤ الدین زکریا ملتانی کے سات بیٹے تھے جنھوں نے بطور صوفیا شہرت حاصل کی۔

  • مخدوم صدر الدین عارف
  • مخدوم برہان الدین
  • مخدوم ضیاؤالدین
  • مخدوم علاؤ الدین
  • مخدوم قدرت الدین
  • مخدوم شہاب الدین
  • مخدوم شمس الدین

مخدوم صدرالدین عارف کے بیٹے شیخ عبد الفتح رکن الدین المعروف شاہ رکن عالم مشہور بزرگ ہوئے ہیں۔

سوانح عمری

زکریا کی پیدائش 1161 یا 1182 میں ہوئی تھی۔ ان کا خاندان ہاشمی نسب سے تھا، اور اس طرح ان کی نسل کا پتہ اسعد بن ہاشم سے ملا ، جو اسلامی پیغمبر محمد کے آباؤ اجداد میں سے ایک تھے ۔

بہاء الدین کا خاندان اصل میں وسطی ایشیا کے خوارزم کے علاقے سے تھا ، لیکن وہ ملتان شہر کے قریب پنجاب کے علاقے کوٹ کرور میں آباد ہوا تھا ۔ ان کے والد وجیہہ الدین محمد تھے جبکہ والدہ حسام الدین ترمذی کی بیٹی تھیں۔

پندرہ سالوں تک، زکریا نے جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں کا سفر کیا، جہاں یہ آرڈر بڑی تعداد میں ہندو مذہب سے مذہب تبدیل کرنے والوں کو راغب کرنے میں کامیاب رہا ۔ زکریا آخر کار 1222 میں ملتان میں آباد ہو گئے ۔

ان کے زیر اثر ملتان کو " مشرق کا بغداد " کہا جانے لگا اور زکریا نے اپنی فارسی شاعری میں اس کا حوالہ دیا ہے:

ملتان ما با جنت الابرابرہ

اہستہ پا بہ نہ کے ملک سجدہ می کناد۔

ترجمہ:

ہمارا ملتان اونچی جنت کے برابر ہے

دھیرے دھیرے چلو، یہاں فرشتے سجدے میں ہیں۔

زکریا اس وقت ملتان کے حکمران ناصرالدین قباچہ کا ایک بھرپور نقاد بن گیا اور 1228 میں جب اس نے قباچہ کا تختہ الٹ دیا تو دہلی کے مملوک سلطان التمش کا ساتھ دیا ۔ شیخ الاسلام بذریعہ التمش ریاست کے روحانی معاملات کی نگرانی کے لیے، ان کی حمایت کے لیے شکرگزار ہیں۔ زکریا کو سلطان نے سرکاری سرپرستی بھی عطا کی تھی۔

اپنی زندگی کے دوران، زکریا نے لعل شہباز قلندر سے دوستی کی - جو سندھ کے ایک وسیع پیمانے پر قابل احترام صوفی بزرگ تھے، اور آوارہ درویشوں کے قلندریہ حکم کے بانی تھے ۔ شیخ الاسلام کے طور پر ، زکریا راسخ العقیدہ مسلمانوں کو مطمئن کرنے میں کامیاب رہے، جو لال شہباز قلندر کی تعلیمات سے ناراض تھے۔

زکریا ، شہباز قلندر، بابا فرید اور سید جلال الدین بخاری ، ایک ساتھ مل کر افسانوی حق چار یار ، یا "فور فرینڈ" گروپ بن گئے، جو کہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں میں انتہائی قابل احترام ہے۔

روحانی فلسفہ

زکریا کی طریقت ، یا صوفی فلسفیانہ رجحان، بغداد کے مشہور فارسی صوفی استاد شہاب الدین ابو حفص عمر سہروردی کی طرف تھا ۔ سہروردی آرڈر نے غربت کی زندگی کو مسترد کر دیا، جیسا کہ چشتی حکم کی تائید کرتا تھا جو کہ لاہور کے علاقے میں زیادہ رائج تھا ۔

اس کے بجائے ، سہروردی عام کھانے اور لباس پر یقین رکھتے تھے، اور چشتیوں کے اس دعوے کو رد کرتے تھے کہ روحانیت کی بنیاد غربت پر ہے۔ سہروردیوں نے سیاسی ریاست سے علیحدگی کے ابتدائی چشتی رواج کو بھی مسترد کر دیا.

زکریا کی تبلیغات نے روزہ اور صدقہ دینے ( زکوۃ ) جیسے معمول کے اسلامی طریقوں کے مطابق ہونے کی ضرورت پر زور دیا ، لیکن روحانیت کے ساتھ مل کر علمی فلسفہ ( علم ) کی بھی وکالت کی۔

تمام انسانوں کو تعلیم دینے پر اس کا زور، قطع نظر طبقے یا نسلی، نے اسے اپنے ہم عصر ہندو صوفیاء سے الگ کر دیا۔

اس نے روایتی روحانی موسیقی کو رد نہیں کیا جس پر چشتی عبادت میں بہت زیادہ زور دیا جاتا تھا، بلکہ صرف موقع پر ہی اس میں حصہ لیتے تھے۔ اس نے مذہبی رہنماؤں کے سامنے جھکنے کی چشتی روایت کو مسترد کر دیا - ایک ایسا عمل جو شاید ہندو مت سے لیا گیا ہو۔

اثر

زکریا کی تعلیمات پورے جنوبی پنجاب اور سندھ میں وسیع پیمانے پر پھیل گئیں ، اور بڑی تعداد میں ہندو مذہب سے مذہب تبدیل کرنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

اس کے جانشینوں نے اگلی کئی صدیوں تک جنوبی پنجاب پر مضبوط اثر ڈالنا جاری رکھا، جب کہ اس کا حکم مشرق سے شمالی ہندوستان کے علاقوں، خاص طور پر گجرات اور بنگال میں پھیل گیا ۔

وفات

ملتان میں ہی آپ کا وصال ہوا اور اسی شہر میں آپ کا مزار پُر انوار زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔ مزار بہاؤ الدین زکریا ملتانی فنِ تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ کی وفات ِحسرت آیات 7 صفر 661 ھ/21دسمبر 1261ء کو ہوئی۔

مزار

آپ کا مزار شریف قلعہ محمد بن قاسم کے آخر میں مرجع خلائق ہے، مزار کی عمارت پرنقاشی کا کام قابل دید ہے اور سینکڑوں اشعار یاد رکھنے کے لائق ہیں، مزار کا احاطہ ہر قسم کی خرافات سے پاک ہے۔ عرس کے موقع پر علما کرام کی تقاریر خلق خدا کی ہدایت کاسامان بنتی ہیں، اندرون سندھ سے مریدین و معتقدین کے قافلے پا پیادہ حاضر ہوتے ہیں۔

بہاء الدین زکریا کا انتقال 1268 میں ہوا اور ان کا مزار ( دربار ) ملتان میں ہے۔ مقبرہ 51 فٹ 9 انچ (15.77 میٹر) کا مربع ہے ، جس کی اندرونی پیمائش کی جاتی ہے۔

اس کے اوپر ایک آکٹگن ہے ، مربع کی نصف اونچائی، جس کے اوپر ایک نصف کرہ دار گنبد ہے ۔ یہ مقبرہ 1848 میں انگریزوں کی طرف سے ملتان کے محاصرے کے دوران تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا لیکن جلد ہی مقامی مسلمانوں نے اسے بحال کر دیا تھا۔

ان کے عرس

شیخ الاسلام بہاؤ الحق و الدین زکریا ملتانی سُہروردی سلسلہ سہروردیہ کے بڑے بزرگ اور عارف کامل گذرے ہیں۔ سلسلہ سہروردیہ کے صاحبِ کمال بزرگ جن کا پورا نام الشیخ الکبیر شیخ الاسلام مخدوم بہاؤ الدین ابو محمد زکریا الاسدی ہے۔

حافظ‘ قاری‘ محدث‘ مفسر‘ عالم‘ فاضل‘ عارف‘ ولی سب کچھ تھے‘۔ شیخ الشیوخ ابوحفص شہاب الدین سہروردی کے خلیفہ تھے۔ ساتویں صدی ہجری کے مجدد تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ظاہری و باطنی علوم میں یکتائے روزگار تھے، اسلام کے عظیم مبلغ تھے۔ آپ کے جد امجد مکہ معظمہ سے پہلے خوارزم آئے، پھر ملتان میں مستقل سکونت اختیار کی۔ آپ یہیں 578ھ میں پیدا ہوئے، ہیں۔

بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی

آپ ہی کی نسبت سے ملتان یونیورسٹی کا نام جامعہ بہاؤالدین زکریا رکھا گیا۔

نصیحتیں

بندے پرواجب ہے کہ سچائی اور اخلاص سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے۔ اس کی عبادت و اذکار میں غیر اللہ کی نفی ہو۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے احوال کو درست اور اقوال میں اپنے نفس کا محاسبہ کرے۔

ضرورت کے سوا کوئی بات نہ کہے اور نہ ہی کوئی کام سرانجام دے۔ اپنے ہر قول و فعل سے پہلے اللہ تبارک و تعالیٰ سے التجا کرے اور اس سے نیک عمل کی توفیق طلب کرے[2]۔

آپؒ نے صوفی کے بارے میں فرمایا:’’صوفی وہ ہے جس کا دل کدورت سے پاک ہو۔ صوفی کے بعد عارف کا درجہ آتا ہے ۔ عارف ،خدا کا دوست اور دنیا کا دشمن ہوتا ہے‘‘۔

ایک مرید کو نصیحت فرماتے ہوئے کہاکہ:’’انسان میں اصل چیزدل ہے اور جب اس دل کی اصلاح ہوجاتی ہے تو انسان کے ہرعضو کی اصلاح ہونے لگتی ہے۔ دل کی موت اورزندگی بھی اسی طرح کی ہے۔اگر حق کا پرستار نہیں تو مردہ ہے اور اگر ذکر الٰہی میں مشغول ہے تو اس کا دل زندہ ہے‘‘۔

حضرت بہاء الدین زکریا ؒ نے 7صفر المظفر سن 661ہجری میں وصال فرمایا ۔آپؒ کاسالانہ عرس 5تا7صفر المظفر میں درگاہ عالیہ غوثیہ سہروردیہ قاسم باغ ملتان میں سابقہ روایات کے مطابق عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے [3]۔

حضرت بہاء الدین زکریاؒ، خدمات اور تعلیمات

حضرت غوث بہاء الدین زکریا سہروردی ملتانی ان عظیم بزرگان دین اور صلحائے امت میں سے ہیں جنہوں نے برصغیر میں کفر، جہالت اور گمراہی کے اندھیروں میں توحید و رسالت اور علم و ہدایت کے وہ چراغ روشن کیے جن کی شعاعوں سے یہ خطہ ارضی منور ہو گیا۔

کلمہ حق ان کا پیغام، صلح جوئی ان کا مسلک، محبت ان کا اثاثہ، عشق رسولؐ ان کا ایمان اور خدمت خلق ان کا شعار تھا۔ آپ نے انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے آزاد کیا۔ انہیں کفر سے ایمان، ظلمت سے نور، سرکشی سے اطاعت اور مادہ پرستی سے روحانیت کی طرف بلایا۔ آپؒ نے نفرتوں کی جگہ محبتوں کی تعلیم دی، آویزشوں کو صلح و آشتی میں بدلا اور ایک جنت نظیر معاشرہ تشکیل دیا۔

حضرت بہاء الدین زکریا سہروردی کا عہد ایک صدی پر محیط ہے۔ اس عرصے میں آپؒ نے علوم ظاہر و باطن اور مختلف فنون وہنر کو فروغ بخشا۔ ملتان مذہبی، تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے اسلام کا مرکز بن گیا۔ مساجد کی تعمیر، مدارس عربیہ کا قیام، لنگر خانوں کا اہتمام اور اسلامی فن تعمیر کی حامل روایات اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

برصغیر کے ہندو قبائل جن میں متمول تاجر اور بعض والیان ریاست بھی تھے، نے آپؒ کے دست حق پرست پر اسلام قبول کیا۔ دیگر سلسلہ ہائے تصوف کی طرح سلسلہ سہروردیہ کے شیخ کامل نے تبلیغ کے ساتھ عمل پیہم، جہد مسلسل، انسانی فلاح اور خدمت خلق کا درس دیا۔

مخلوق خدا کی خدمت کے لیے تجارت و زراعت کو فروغ بخشا۔ افتادہ جنگلوں کو آباد کرایا۔ کنوئیں اور نہریں کھدوائیں، اور تجارت پر خاص توجہ دی۔ قریہ قریہ اور گائوں گائوں پہنچ کر لوگوں کو تجارت کی ترغیب دی اور اس طرح ان میں رزق حلال کے حصول کا جذبہ بیدار کیا اور ترک دنیا کی بجائے مال و دولت کے جائز حصول میں بھی حیات اخروی کو منزل مقصود قرار دیا۔

آپؒ نے اسلام کی اخلاقی اور روحانی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کے ذریعے پیش کیا۔ ذہنی انتشار اور اخلاقی پستی کے مہیب غار میں گر کر تباہ ہونے والی قوم کو بچایا۔ آپؒ نے اتباع رسول پر خاص زور دیا اور اپنی عملی زندگی سے اس کا بہترین نمونہ پیش کیا۔

حضرت بہاء الدین زکریا ملتانیؒ نے تقریباً 850 برس پیشتر سرزمین ملتان کو تبلیغ دین اور اشاعت علوم اسلامیہ کا مرکز ومنبع بنایا اور ملتان میں علوم اسلامی کی عظیم درسگاہ قائم کی جسے برصغیر کی پہلی اقامتی درسگاہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ یہ ایک عظیم اخلاقی اور روحانی درسگاہ بھی تھی۔

شاگرد اور خلفاء

اس میں مختلف علوم و فنون سکھائے جاتے تھے۔ آپ کی درسگاہ سے 70ہزار علم کے طالب اور سالکان راہ طریقت فیض یاب ہوئے۔ آپ کے خلفاء میں مخدوم سید جلال الدین بخاری اوچوی، مخدوم سید محمد عثمان مروندی المعروف لال شہباز قلندر، میر سادات حسینیؒ، مولانا فخرالدین عراقی، خواجہ حسن افغانؒ،شیخ موسیٰ نواب اورآپؒ کے صاحبزادے شیخ صدر الدین عارفؒ شامل ہیں۔

آپ کے خلفاء اور تلامذہ نے بنگال، کشمیر، جاوا، سماٹرا، انڈونیشیائ، ملائیشیا اور نو آزاد مسلم ریاستوں میں پھیل کر تبلیغ دین اور اشاعت اسلام میں بھرپور کردار ادا کیا۔ مساجد و مدارس اور مقابر تعلیم و تدریس کا ذریعہ بن گئے۔

آپ کی تعلیمات کا عکس ان علاقوں کے لوگوں کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی میں نمایاں نظر آتا ہے۔ آپ کے ارشادات و فرموات اور تعلیمات محض آپ کے ارادت مندوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے اسلامی معاشرے کے لیے ہیں۔ ان تعلیمات میں مستقل روحانی علاج اور رہتی دنیا تک تازگی کا احساس باقی رہنے والا ہے۔

ارشادات

1 آپ ارشاد فرماتے ہیں:’’بدن کی سلامتی قلت طعام میں، روح کی سلامتی ترک گناہ میں اور دین کی سلامتی حضرت خیر الانام محمد مصطفیٰ پر درود بھیجنے میں ہے‘‘۔

2 محبت ایسی آگ ہے جو تمام میل کچیل کو جلاڈالتی ہے جب محبت الٰہی راسخ ہوجاتی ہے تو نفرتوں کی کثافت خودبخود ختم ہوجاتی ہے۔ اس طرح باہمی اختلافات ختم ہوجائیں گے اور ہم یک جہتی واخوت اور امن و آشتی کے ماحول میں اپنی منزل کی طرف بڑھ سکیں گے۔

3 خدا کی رضابندے اور بندے کی رضا خداسے ہے۔ بندہ اگر خدا کی رضا پر راضی ہو تو خالق و مخلوق کے درمیان سے پردے اٹھنے لگتے ہیں۔بندوں سے خدا کی رضایہ ہے کہ وہ ان کو ثواب و بزرگی اور نعمتیں عطاکرتا ہے اور خدا سے بندوں کی رضایہ ہے کہ وہ اس کے احکام کی تعمیل کریں۔

حضرت زکریا ملتانی کی فلاحی خدمات

حضرت زکریا ملتانی مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تربیت کا الگ الگ اہتمام فرماتے تھے۔یہ روحانی تحریک Scientificاور جدید خطوط پر استوار تھی قدرت نے حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی کوفلاحی ذہن عطا کیا تھا۔

آپ نے جنگلوں کو آباد کروایا، کنویں کھدوائے، نہریں تعمیر کروائیں اور زراعت پر بھرپور توجہ دی۔ انہیں ہر وقت عوام کی خوشحالی کی فکر دامن گیر رہتی تھی۔ اﷲتعالیٰ کی مخلوق کی خدمت ان کے لئے سرمایۂ آخرت تھی۔

آپ عوام الناس کے خادم تھے اور عوام آپ سے محبت کرتے تھے۔ یہی حسن اخلاق اور محبت تھی کہ لوگ جوق درجوق مراقبوں میں شریک ہوتے تھے۔ لوگوں نے اﷲتعالیٰ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے عرفان کیلئے ایمانداری اور خلوص نیت کو زندگی کا معیار بنالیا تھا۔

روح کی تقویت کیلئے درودشریف اور اذکار کی محفلیں سجتی تھیں لوگ خود غرضی اور خود پرستی کے ہولناک عذاب سے بچنے کی ہر ممکن تدبیر کرتے تھے۔ شیخ زکریا ملتانیؒ ڈولی میں جارہے تھے کہ انہوں نے ایک آواز سنی۔


اے اہلِ ملتان! میرا سوال پورا کرو ورنہ میں ملتان شہر الٹ دوں گا۔حضرت نے ڈولی رکواکرکچھ دیرتوقف کیا۔اور کہاروں سے کہا چلو……دوسری آواز پر کہاروں سے کہا ڈولی زمین پر رکھدو۔تھوڑی دیر بعد فرمایا……چلو کچھ نہیں۔۔تیسری آواز پر کہاروں سے فرمایا ڈولی کندھوں سے اتاردو……اور ڈولی سے باہر آکر……کہا……اس فقیر کا سوال جس قدرجلد ممکن ہو پوراکردو……

لوگوں نے پوچھا……یا حضرت آپ نے دو مرتبہ ڈولی رکوائی اور کچھ نہیں فرمایا……تیسری دفعہ فرمایا کہ جتنی جلد ممکن ہو فقیر کا سوال پورا کردو……اس کے پس منظر میں کیا حکمت ہے؟

فرمایا……پہلی دفعہ فقیر نے سوال کیا تو میں نے اس کی استعداد دیکھی ؒمجھے کچھ نظر نہیں آیا…… دوسری مرتبہ میں نے اس کے مرشد کریم کی استعداد پر نظر ڈالی۔۔وہاں بھی کوئی خاص بات نظر نہیں آئی۔تیسری دفعہ آواز کا میرے دل پر اثر ہوا۔

میں نے توجہ کی تو۔۔۔۔۔دیکھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس فقیر کے سلسلہ کے داداپیر سیدنا حضور علیہ الصواۃ والسلام کے دربار اقدس میں باادب کھڑے ہیں۔ حضرت شیخ بہاؤالدین زکریاملتانی ایک روز اپنے حجرہ میں عبادت میں مشغول تھے کہ ایک نورانی چہرہ بزرگ آئے اور ایک سربر مہر خط حضرت صدر الدین کو دے کر چلے گئے انہوں نے خط والد بزرگوں کی خدمت میں پیش کردیا۔

والد بزرگوار نے فرمایا: بزرگ سے میرا سلام کہو۔ اور عرض کرو کہ آدھے گھنٹہ کے بعد آئیں۔حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ نے امانتیں واپس کیں بیٹوں سے کہا کہ درود شریف پڑھیں۔

آواز سنائی دی ’’دوست بدست دوست رسید ‘‘یہ آواز سن کر حضرت شیخ صدرالدین دوڑے ہوئے حجرے میں گئے، دیکھا کہ والد صاحب کا انتقال ہوچکا تھا۔ تدفین کے بعد صاحبزادہ کو خیال آیا کہ وہ کون بزرگ تھے جن سے ابّا نے کہا تھا آدھے گھنٹہ بعد آنا۔ صاحبزادے کو خط کی تلاش ہوئی۔ تکئے کے نیچے رکھے ہوئے خط میں تحریر تھا: ’’ اﷲ تعالی ٰ نے آپ کو حضوری میں طلب فرمایا ہے میرے لئے کیا حکم ہے[4]۔

سرچشمہ علوم خفی و جلی شیخ الا سلام سیدنا حضرت غوث بہا ء الدین زکریا ملتانی سہروردی رحمتہ اللہ علیہ

آپ کے سالانہ سہ روزہ783ویں عرس مبارک کی تقریبات5,6,7 صفر بروز کو درگاہ عالیہ میں ملتان شریف شروع ہو رہی ہیں جن میں دنیا بھر سے عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔

شیخ الاسلام سیدنا حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی برصغیر کے اکابر صوفیائے کرام میں سے ہیں آپ کامل درویش اور طریقت اور معرفت کے تاجدار ہیں سلسلہ سہروردیہ کے پیشوا اور اپنے وقت کے عارف کامل تھے۔

آپ شیخ الشیوخ عالم سیدنا حضرت مخدوم شہاب الدین سہروردی کے خلیفہ مجاز تھے اور ہندوستان کے صوفیاء کرام میں سفید باز کے نا م سے مشہور تھے ۔

آپ کا شمارساتویں صدی ہجری کے مجدددین میں بھی ہوتا ہے۔ آپ ساتوں قرات میں مکمل عبور رکھتے تھے اور ظاہری وباطنی علوم میں یکتائے روزگار قاری،محدث،مفسراور اسلام کے عظیم مبلغ تھے ۔

آپ کے جد امجد مکہ معظمہ سے پہلے خوارزم آئے پھر ملتان میں مستقل سکونت اختیار فرمائی آپ کی ولادت باسعادت ملتان کے قریب ایک علاقے کوٹ کروڑ ضلع لیہ میں ۵۷۸ھ ر ۲۷مضان المبارک جمعہ کی شب کو ہوئی۔

آپ نسبا ًقریشی تھے یہ خسرو ملک غزنوی کا دور تھا آپ کی والدہ ماجدہ نے رمضان المبارک کے دنوں میں آپ کو ہر چند دودھ پلانا چاہا مگر آپ نے نہ پیا یہ آپ کی پیدائشی کرامت ہے۔

بارہ سال کی عمر تک آپ ملتان میں ہی تعلیم حاصل کرتے رہے اس عمر کو پہنچ کر آپ حافظ و قاری ہو گئے تھے۔ والد گرامی کے وصال کے بعد آپ نے محض حصول علم وفنون کے لئے پا پیادہ خراسان کا سفر کیا اس کے بعد بلخ،بخارا بغداد اور مدینہ منورہ کے شہرہ آفاق مدارس میں رہ کر سند فضیلت حاصل کی پانچ برس تک مدینہ منورہ میں رہے۔

جہاں آپ نے حدیث پاک پڑھی بھی اور پڑھائی بھی پندرہ برس اسلام کے مشہور مدارس و جامعات میں رہ کر معقولات در منقولات کی تکمیل فرمائی مدینہ منورہ میں ہی حضرت کمال الدین محمد یمنی محدث وقت سے علم احادیث سیکھتے رہے۔

جب پورا تجربہ حاصل ہو گیا آپ مکہ معظمہ میں حاضر ہوئے اور یہاں سے بیت المقدس پہنچ کر انبیائے کرام کے مزارات مقدسہ کی زیارات فرمائی اس عرصہ میں ناصرف آپ علوم ظاہری کی تکمیل میں مصروف رہے بلکہ بڑے بڑے بزرگان دین اور کاملین علوم کی صحبت پائی اور حلب ، دمشق،بغداد،بصرہ،موصل اور فلسطین کے سفر کرکے مختلف ماہرین شرعیہ سے اکتساب کیا۔

مرشد کامل کی تلاش میں

مرشد کامل کی تلاش میں آپ اپنے زمانہ کے معاصرین حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ،حضرت جلال الدین شاہ بخاری،اور حضرت عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر کے ہمراہ سفر کرتے رہے بعد ازاں مخدوم جہانیاں جہاں گشت،اور حضرت لعل شہباز قلندر آپ کے مرید وخلیفہ بنے آپ بیت المقدس۔آپ سے مختلف بزرگان دین کے مزارات اور مشائخ کی زیارت کرتے ہوئے۔

مدینۃ العلم بغداد معلی میں تشریف لائے تو اس وقت یہاں سیدنا حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کا طوطی بول رہا تھا ان کی ذات گرامی قدر جامع کمالات تھی آپ جب ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے آپ کو دیکھتے ہی فرمایا کہ باز سفید آگیا جومیرے سلسلہ کا آفتاب ہو گا جس سے میرا سلسلہ سہروردی پورے برصغیر میں پھیلے گا۔

خانقاہ شیخ الشیوخ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی روحانی یونیورسٹی تھی جہاں ہر وقت درویشوں طریقت سیکھنے والوں کا ہجوم لگا رہتا تھا اور مدت سے خرقہ خلافت کا انتظار کر رہے ہوتے تھے۔ انھوں نے دیکھا کہ حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی کو صرف سترہ دن کے بعد ہی خرقہ خلافت مل گیا ہے

اور ہم تو یہاں برسوں سے خدمت کر رہے ہیں اور ہم کو یہ مقام حاصل نہیں ہو سکا اور یہ نوجوان چند ہی ایام میں کامل تک پہنچ گیا۔ حضرت شہاب الدین نے نور باطن سے معلوم کر کے ان سے فرمایا کہ کیا تم بہاء الدین زکریا کی حالت پر رشک کرتے ہو وہ تو چوب خشک تھا جسے فورا آگ لگ گئی ا ور بھڑک اٹھی

اور تم سب چوب تر کی مانند ہو جو سلگ سلگ کر جل رہی ہے اور جلتے جلتے ہی جلے گی پھر یہ لوگ سمجھ گئے کہ یہ تمام امور محض فضل الہی پر منحصر ہیں وہ جسے چاہے جیسے نواز دے سترھویں شب کو ہی مخدوم صاحب نے خواب میں دیکھا

کہ ایک بہت بڑا مکان آراستہ ہے جو انوارات وتجلیات سے جگمگا رہا ہے درمیان پر تخت پر آقائے کائنات جلوہ گر ہیں دائیں جانب حضرت شیخ الشیوخ دست بستہ مؤدب کھڑے ہیں اور قریب ہی چند خرقے آویزاں ہیں حضور نبی کریم ؐنے مخدوم شہاب الدین کو بلایا اور ہاتھ پکڑ کر ان کو شیخ الشیوخ کے ہاتھ میں دے دیا۔

اور فرمایا کہ میں اسے تمہارے سپرد کرتا ہوں ان خرقوں میں سے ایک خرقہ بہاء الدین زکریا کو پہنا دو چنانچہ انھوں نے تعمیل حکم کے طور پر آپ کو ایک خرقہ پہنا دیا صبح ہوتی ہے حضرت شیخ الشیوخ نے آپ کو بلا یا اور فرمایا کہ رات کو جو خرقہ عطا ہوا ہے۔

وہ تجھے رسول کریمؐ کی طرف سے عطا ہوا ہے آپ نے ان کو وہ عظیم خرقہ پہنایا اور حکم دیا کہ اب ملتان پہنچ کر ہدایت خلق کے لئے مصروف ہو جاؤ ۔ اپنے مرشد کامل کے حکم پر آپ ملتان پہنچے اور یہاں لوگوں کی ہدایت و اسلام کی تبلیغ واشاعت کا ایک سلسلہ آپ نے شروع فرمایا آج صدیاں بیت جانے کے بعد بھی ارض ملتان آپ کی عظمت کو سلام عقیدت پیش کر رہی ہے۔

جس میں آپ جلوہ گر ہیں اور آپ کے نورانی قدم رنجہ فرمانے کی بدولت یہ خطہ پوری دنیا میں اولیاء کرام کی مقدس سرزمین ہونے کا اعزاز رکھتا ہے[5]۔

یوں تو برصغیر پاک وہند میں تمام سلاسل طریقت میں سلسلہ

نقشبندیہ، مجددیہ، قادریہ،چشتیہ،سہروردیہ کے اکابر صوفیاء نے بت پرستی،آتش پرستی،کفر والحادو بے راہ روی کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو اسلام کے نور سے منور فرمایا اور لاکھوں ہندو،بدھ مت کے پیروکاروں اور دیگر اقوام کے لوگوں کو حلقہ بگوش اسلام کیا جن عظیم ہستیوں کے کردار و عمل سے متاثر ہو کر یہ لوگ اسلام میں داخل ہوئے [6]۔

سہروردی سلسلہ کی اشاعت

ان کاملین کی جماعت میں شیخ الاسلام حضرت غوث بہاء الدین زکریا ملتانی کی شخصیت بہت بلند اور نمایاں ہے۔ آپ نے یہ فیض شیخ الشیوخ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی سے لیا جنہوں نے سہروردی سلسلہ کی اشاعت عام کی اور اس کو بام عروج تک پہنچایا پھر برصغیر میں اس سلسلہ سہروردیہ کو ان کے خلفاء حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی،اور قاضی حمید الدین ناگوری نے پروان چڑھایا اور اسلام کی اشاعت فرمائی ۔

آپ اور آپ کے خلفاء کی وجہ سے سلسلہ سہروردیہ سندھ،بلوچستان،اور پنجاب میں بہت مقبول ہو اس سلسلے میں شریعت کی پابندی پر بہت زور دیا جاتا سماع اور وجد و حال کا رواج کم ہے۔

اس سلسلہ کے بزرگوں نے علم کے حصول پر بہت زور دیا اور تبلیغ اسلام کے لئے بہت سفر کئے حضرت غوث بہاء الدین زکریا نے اپنے کام کو بہت آگے تک بڑھایا اور سلاسل طریقت کی تاریخ میں اپنے دور حیات کے عرصہ میں خطہ میں روحانیت اور تبلیغی جدوجہد سے انسانیت کیلئے ایک نئے روشن باب کاا ضافہ ہوا۔

آپ برصغیر میں سلسلہ سہروردیہ کے مؤسس و بانی شمار کئے جاتے ہیں ملتان جو گرما،گرد،اور گورستان کے لئے مشہور ہے مگر حقیقت میں اس کی تمام ترشہرت اور عزت آپ کی وجہ سے ہے اور آپ کے فیض قدم کی بدولت صدیوں سے تجلیات ربانی اور انوار رحمانی کا محیط و مرکز ہے

اور یہ آپ کا مرہون منت ہے کہ آپ نے اسے اسلام کی برکتوں فقہ کی رحمتوں اور علم وعرفان کی تابانیوں سے سیراب کیا اور بڑے بڑے عظیم مردان حق آپ سے تربیت پاکر نکلے۔ برصغیر میں آپ کی مذہبی خدمات کے ساتھ ساتھ سماجی خدمات کے اثرات نہایت گہرے اور وسیع ہیں۔

آپ کے عہد کو خیر الاعصار کہا جاتا ہے آپ نے اپنی علمی روحانی سیاحت کے دوران ۲۴ سال میں تزکیہ نفس کے لئے ایک چھٹا نک پانی اور ایک چھٹانک طعام سے روزہ رکھا اور افطار کیا مدینہ منورہ قیام ہر قدم پر دوگانہ ادا کرتے ہوئے پہنچے۔

آپ انتہائی عبادت گزار،روزہ دار،صوفی منش درویش تھے ملتان پہنچ کر آپ نے اپنی چچا زاد سے عقد کیا اور حضرت شیخ صدرالدین عارف اور حضرت علاؤالدین یحییٰ کی ولادت ہوئی آپ کی ایک صاحبزادی کی شادی حضرت فخر الدین عراقی سے او دوسری کی حمید الدین حاکم سے ہوئی۔

آپ کے دوسرے نکاح میں بی بی شہر بانو داخل ہوئیں ان کے بطن سے حضرت شمس الدین،ضیاء الدین،قطب الدین او ر ایک بیٹی تھی آپ کے دستر خوان پر تین قسم کے کھانے لگتے مگرآپ کو ان نعمتوں کو کھانے میں لذت قلب تب ملتی جب فقرائ مسافر،درویش،مہمان،یتیم،مسکین یہ کھانے آپ کے ساتھ مل کر تناول فرماتے

آپ نے اپنی ساری زندگی تبلیغ و اشاعت اسلام میں بسر فر ما دی وقت آخر حجرہ میں عبادت کر رہے تھے کہ حجرہ کے باہر ایک نورانی چہرہ کے مقدس بزرگ نمودار ہوئے اور آپ کے صاحب زادے حضرت شیخ صدر الدین عارف کے ہاتھ ایک سر بمہر خط دیا حضرت صدرالدین خط کا عنوان دیکھ کر حیران رہ گئے

والد محترم کی خدمت میں پیش کر کے جب باہر آئے تو قاصد کو نہ پایا خط پڑھتے ہی حضرت غوث بہاء الدین زکریا رحلت فرماگئے اور آواز بلند ہوئی دوست بدوست رسید یہ آواز سن کر شیخ صدر الدین دوڑتے ہوئے حجرے میں گئے دیکھا تو آواز حقیقت بن چکی تھی۔

حضرت غوث بہاء الدین زکریا ان عظیم اولیائے کاملین میں سے تھے جنہوں نے برصغیر میں فکر جہالت اور گمراہی میں توحید ورسالت اورہدایت کے چراغ روشن کئے ۔کلمہ حق کے پیغام کے ساتھ،صلح جوئی آپ کا مسلک اورنگاہ بلند سخن دلنوازاور جاں پر سوز آپ کا رخت سفر تھا ۔جس کے ذریعے لاکھوں خوش نصیب فیض پا کراسلام لائے ۔

جس وقت آپ کاوصال ہوا حضرت بابا فرید پاک پتن میں بے ہوش ہوگئے کافی دیر کے بعد جب ہوش آیا تو فرمایا کہ میرے بھائی حضرت غوث دنیا سے رخصت فرما گئے ۔وقت وصال آپ کی عمر مبارک ۹۴برس تھی۔ آپ کے سہ روزہ783ویں سالانہ عرس مبارک کی تقریبات کا آغاز ۵ صفر سے درگاہ عالیہ غوث العالمین قاسم باغ ملتان میں پاکستان زکریا اکیڈمی اور محکمہ اوقاف کے زیر اہتمام ہو رہا ہے جس میں ملک بھر سے جید علماء و مشائخ شرکت فرما رہے ہیں عر س کی تقریبات کی صدارت مخدوم شاہ محمود حسین قریشی سجادہ نشین فرمائیں گے۔

سلاسل طریقت میں حضرت غوث بہاء الدین زکریا سلسلہ سہروردیہ کے آفتاب کی حثیت سے چمکتے ہیں آپ نے رشد وہدایت اور علم ومعرفت کی جو قندیلیں روشن کیں اس سے پورا یشیاء جگمگا اٹھا اور آپ کے آستانے سے کوئی خالی نہ لوٹا آپ کا رائج کردہ نظام تعلیم تقریبا ۲صدی تک جاری رہا آپ کی روحانی علمی خدمات کی بناء پرکڑوروں دلوں کی باطنی صفائی ہوئی اور لاکھوں غیر مسلم ایمان کے دائرے میں داخل ہوئے[7]۔

اور انہوں نے جہنم سے امان پائی حضرت عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر جیسی مشہور زماں ہستی بھی آپ کی فیض یافتہ ہے اور یہ آپ کے خاص خلیفہ ہیں جن سے ایک دنیا نے فیض لیا آپ کے صاحبزادے حضرت صدر الدین عارف اور آپ کے پوتے حضرت شاہ رکن عالم نوری حضوری نے بھی جو کہ آپ ہی کے فیض یافتہ ہیں سلسلہ سہروردیہ کے لئے انمٹ کام کئے اور آگے چل کر ان کے کام کی بدولت لاکھوں غیر مسلموں نے ایمان کی دولت ان سے حاصل کی الغرض دین اسلام کی ترویج و اشاعت و آبیاری کے لئے

نہ صرف آپ نے جدوجہد کی بلکہ آپ نے جدوجہد سے ایک پوری جماعت تیار کی جنہوں نے دین کو پوری دنیا میں عام کیا اور اللہ رسول کا پیغام بھٹکی ہو ئی انسانیت کو پہنچایا راحت القلوب میں ۶۵۶ھ،اخبار الاخیار میں ۶۶۱ھ،ہفتہ الاولیاء میں ۶۶۶ھ، اور مراز الاسرار میں ۶۶۵درج ہے آپ کے سہ روزہ سالانہ عرس مبار783ویں تقریبات کا آغاز ۵ صفر سے درگاہ عالیہ غوث العالمین قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان میں پاکستان زکریا اکیڈمی اور محکمہ اوقاف کے زیر اہتمام ہو رہا ہے

جس میں ملک بھر سے جید علماء و مشائخ اہل سنت شرکت فرما رہے ہیں عر س کی تقریبات کی صدارت مخدوم شاہ محمود حسین قریشی سجادہ نشین فرمائیں گے اللہ ہمیں ان مقدس آستانوں پر حاضری کی توفیق عطا فرمائے اور ام کاملین کے صدقے ملک پاکستان پر اپنا خصوصی فضل فرمائے آمین۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ دنیا بھرمیں اسلام پھیلنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ وہ بندگانِ خدا ہیں جنہیں صوفیائے کرام اور اولیائے عظام کے طبقےمیں شمار کیا جاتا ہے۔ ان ہی عظیم ہستیوں میں سے ایک بلند پایہ روحانی شخصیت شیخُ الشُّیوخ،غوثِ زمانہ شیخُ الاسلام بہاؤالدین زکریا ملتانی سہروردی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کی بھی ہے، آپ صحابیِ رسول حضرت سیّدنا ہَبّار بن اَسْوَد ہاشمی قرشی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی اولاد سے ہیں۔

(تذکرہ حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی،ص25)

ولادت باسعادت آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بروز جمعہ کوٹ کروڑ (ضلع مظفر گڑھ، پنجاب پاکستان) میں 27 رمضانُ المبارک 566ھ مطابق 3 جون 1171ء کو پیدا ہوئے۔(احوال وآثار حضرت بہاؤالدین ، ص26)

حصولِ علم اور شرفِ بیعت کے لئے سفر آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے علومِ ظاہری و باطنی کےحصول کے لئے خراسان، بخارا اور حجازِ مقدسہ وغیرہ کا سفر فرمایا۔ جب بغداد پہنچے تو وہاں شیخ المشائخ حضرت سیّدنا شیخ شہاب الدین عمر سہروردی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی بارگاہ میں حاضر ہو کر بیعت کا شرف حاصل کیا۔

خلافت کےحصول پر پیر بھائیوں کا تعجب مرشدِکامل نے مریدِ کامل کو اپنی صحبت سے نوازا اور صر ف 17دن بعد خلافت عطا فرما دی، دیگر مریدین کے لئے یہ بات تعجب انگیز تھی کہ شیخ اتنی جلدی کسی کو خلافت عطا نہیں فرماتے تو بہاؤالدین زکریا پر یہ لطفِ خاص کیوں؟ مرشدِ کریم نے فراستِ مؤمنانہ سے مریدوں کی یہ بات جان لی اور فرمایا: تم سب گیلی لکڑی کی طرح ہو، جس پر عشقِ الٰہی کی آگ جلدی اَثَر نہیں کرتی، گیلی لکڑی کو جلانے کے لئے شدید محنت چاہئے، جبکہ بہاؤالدین زکریا سوکھی لکڑی کی طرح تھا کہ ایک ہی پھونک سے محبتِ الٰہی سے بھڑک اٹھا اسی لئے اسے میں نے اتنی جلدی خلافت دےدی۔ (گلزارِ ابرار، ص،55،56ملخصاً)

لوگوں کی اِصلاح کے لئے تدابیر ظاہری و باطنی علوم سے آراستہ ہوکر جب آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ملتان تشریف لائے تو یہاں پرآپ نے دعوت وتبلیغ کا کام شروع فرمایا، فرد اور معاشرے کی اِصلاح کے لئے مثالی خدمات سَر اَنجام دیں۔

فرد کی اِصلاح اس کے لئے خانقاہ کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں لوگ آکر ٹھہرتے اور آپ کی صحبتِ بابرکت سے فیض یاب ہوتے، اپنے قلوب کی پاکیزگی کا اہتمام کرتے، اس خانقاہ میں ہر ایک کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا۔

معاشرے کی اِصلاح اس کے لئے آپ نے ایک مُنَظَّم ادارہ قائم فرمایا، جسے آج کی اِصطلاح میں جامعہ (University) کہا جاتا ہے، اس میں تدریس کے لئےمناسب تنخواہ و رہائش کی سہولیات دے کر مختلف زبانوں کے ماہرین عُلَما و فُضلاکو مقرر فرمایا۔

یہ ایک اِقامتی (رہائشی) ادارہ تھا، دور دراز سے طلبہ آکر یہاں ٹھہرتے اور اپنی علمی پیاس بجھاتے، ان کے لئے طعام کا اہتمام بھی آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی طرف سے ہوتا۔ طالبانِ علومِ نبویہ کو اس وقت کے مُرَوَّجہ مختلف علوم و فنون سکھائے جاتے۔

اس ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے برِّعظیم کےساتھ عراق، شام اور سر زمینِ حجاز سے بھی آکر طلبہ داخلہ لیتے۔ اس ادارے میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی دی جاتی تھی، طلبہ کو علم و عمل کا پیکر بنایا جاتا، تاکہ وہ اپنے وطن واپس جاکر اسلام کی تَروِیج و اشاعت کا فریضہ احسن طریقے سے سرانجام دے سکیں[8]۔

تبلیغِ دین کے لئے ایک انقلابی سرگرمی اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے مبلغین کی تربیت کا ایک باقاعدہ شعبہ تھا جہاں مختلف علاقوں کی زبانیں اُنہیں سکھائی جاتیں، جس مبلغ کو جہاں بھیجنا ہوتا اسے وہاں کے رہن سہن اور تہذیب و ثقافت سےآگاہی دی جاتی۔

پھر اسے وہاں بھیجا جاتا تاکہ وہاں جاکر اسلام کا پیغام بہترین اندازمیں عام کر سکے، سال میں ایک مرتبہ یہ تمام مبلغین جمع ہوتے اور اپنی سال بھر کی کاوشوں کی کارکردگی پیش کرتے [9]۔

معاشی طور پر خودکفیل کرنے کے لئے ان مبلغین کو سامان ِ تجارت دے کر روانہ کیا جاتا، ان کی ایسی تربیت کی جاتی کہ خریدار ان کے حسنِ کردار اور حسنِ معاشرت سے متأثر ہوکر دامنِ اسلام سے وابستہ ہوجاتا، ان مبلغین نےجن علاقوں میں اسلام کی روشنی کو پہنچایا ان میں سرِفہرست افغانستان، انڈونیشیا، فلپائن، خراسان اور چین کا ذکر ہے[10]۔

دعوتِ اسلامی فیضانِ انبیا و اولیا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ! موجودہ دور میں دعوتِ اسلامی حضرت سیّدنا بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اور دیگر بزرگان ِ دین کا فیضان اور ان کی دینی خدمات کو جاری رکھنے والی ایک عالمگیر مدنی تحریک ہے۔

شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت حضرت مولانا محمد الیاس عطّارقادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا فرمودہ مدنی مقصد ”مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے“ کے حصول کے لئے 104 سے زائد شعبہ جات قائم ہیں، ہرشعبہ اپنے اپنے انداز میں دینِ متین کی خدمت کے لئے شب و روز کوششوں میں مصروفِ عمل ہے،

نیکی کی دعوت کو عام کرنے اور بُرائی سے منع کرنے کے لئے ایک شہر سے دوسرے شہر، ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں ایک ملک سے دوسرے ملک تربیت یافتہ مبلّغین کا مدنی قافلوں کے ذریعے سفر، پوری دنیا میں فیضانِ انبیا و اولیا کو عام کرنے میں مدنی چینل کا کردار اور لوگوں کی دینی، دنیاوی اور معاشرتی راہنمائی کے لئے ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ کا اِجرا اپنی مثال آپ ہے۔

وصالِ باکمال حضرت بہاؤالدین زکریا رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ 7 صفر المظفر 661ھ مطابق 21 دسمبر 1262ء کو حسبِ معمول اپنے وظائف میں مشغول تھے کہ آپ کے صاحبزادے شیخ صدرُ الدّین عارف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ایک نورانی شخص کو دیکھا، اُنہوں نے ایک رُقْعَہ آپ کے والد ماجد کو دینے کے لئے کہا، صاحبزادے حجرہ میں داخل ہوئے اور رُقْعَہ پیش کرکے باہر آگئے۔ تھوڑی دیر بعد اندر سے آواز آئی: وَصَلَ الْحَبِیْبُ اِلَی الْحَبِیْبِ یعنی دوست دوست سے مل گیا۔ صاحبزادے جلدی سے اندر گئے تو دیکھا کہ والدِ محترم وصال فرما چکے ہیں [11]۔

مزارِ مبارک مدینۃ الاولیاء ملتان شریف پنجاب پاکستان میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔ اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مدرِّس جامعۃ المدینہ ،ماریشس۔

== ضرت شیخ الاسلام غوث بہاؤ الحق و الدین سیدنا زکریا ملتانی سُہروردی علیہ الرحمة خاندانی حالات و علم و فضل == حضرت مخدوم شیخ بہاﺅالدین زکریا ملتانی رحمة اللہ علیہ خاندان سہروردیہ کے بڑے بزرگ اور عارف کامل گزرے ہیں۔ حافظ‘ قاری‘ محدث‘ مفسر‘ عالم‘ فاضل‘ عارف‘ ولی سب کچھ تھے‘ ۔

شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین سہروردی رحمة اللہ علیہ کے خلیفہ تھے۔ ہندوستان کے اندر آپ ولیوں میں باز سفید کے نام سے مشہور تھے۔ حضرت شیخ بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمة اللہ علیہ ساتویں صدی ہجری کے مجدددین میں شمار کئے جاتے ہیں آپ ظاہری و باطنی علوم میں یکتائے روزگار تھے ، اسلام کے عظیم مبلغ تھے.

آپ کے جد امجد

مکہ معظمہ سے پہلے خوارزم آئے ، پھر ملتان میں مستقل سکونت اختیار کی۔ آپ یہیں پیدا ہوئے۔ آپ رحمة اللہ علیہ نسبتاً قریشی ہیں۔ آپ 578ھ میں پیدا ہوئے۔ یہ عہد خسرو ملک غزنوی کا عہد تھا۔ آپ کی ولادت ملتان سے قریب ایک علاقے کوٹ کہرور ضلع لیّہ میں ٢٧ رمضان المبارک شب جمعہ کو ہوئی۔

آپ کی والدہ نے رمضان کے دنوں میں آپ کو ہر چند دودھ پلانا چاہا مگر آپ نے نہ پیا جو آپ کی کرامت ہے۔ بارہ سال کی عمر تک آپ رحمة اللہ علیہ ملتان میں ہی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ اس کے بعد آپ رحمة اللہ علیہ خراسان تشریف لے گئے۔

اسی عمر میں آپ رحمة اللہ علیہ حافظ و قاری ہو گئے تھے۔والد گرامی کے انتقال کے بعد آپ رحمة اللہ علیہ نے محض حصول علم و فن کیلئے پیادہ پا خراسان کا سفر کیا۔ اس کے بعد بلخ بخارا و بغداد اور مدینہ منورہ کے شہرہ آفاق مدارس میں رہ کر سند فضیلت حاصل کی۔

پانچ سال تک مدینہ منورہ ہی میں رہے جہاں حدیث پڑھی بھی اور پڑھائی بھی۔ غرض پندرہ سال اسلام کے مشہور مدارس و جامعات میں رہ کر مقعولات اور منقولات کی تکمیل کی۔ مدینہ منورہ ہی میں حضرت کمال الدین محمد یمنی محدث رحمة اللہ علیہ سے احادیث کی تصحیح کرتے رہے۔

جب پورا تجربہ حاصل ہو گیا تو آپ رحمة اللہ علیہ مکہ معظمہ میں حاضر ہوئے اور یہاںسے بیت المقدس پہنچ کر انبیاءکرام علیہم السلام کے مزارات کی زیارات کیں۔ اس عرصہ میں نا صرف یہ کہ آپ علوم ظاہر کی تکمیل میں مصروف رہے بلکہ بڑے بڑے بزرگان دین اور کاملین علوم باطنی کی صحبتوں سے بھی فیض یاب ہوئے۔

بڑے بڑے مشائخ سے ملے۔ فیوض باطنی حاصل کئے اور پاکبازانہ و متقیانہ زندگی بسر کرتے رہے۔ جس وقت آپ بغداد شریف وارد ہوئے تو ایک جید عالم تھے۔ ١٥ سال کی عمر میں حفظِ قرآن ، حسنِ قرأت، علومِ عقلیہ و نقلیہ اور ظاہری و باطنی علوم سے بھی مرصع ہوگئے تھے ۔

آپ کی یہ خصوصیت تھی کہ آپ قرآن مجید کی ساتوں قرأت (سبعہ قرأت) پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ آپ نے حصول علم کیلئے خراسان ، بخارا ، یمن، مدینة المنورة ، مکة المکرمة ، حلب، دمشق، بغداد، بصرہ، فلسطین اور موصل کے سفر کر کے مختلف ماہرین علومِ شرعیہ سے اکتساب کیا۔

شیخ طریقت کی تلاش میں آپ ، اپنے زمانہ کے معاصرین حضرت ِ خواجہ فرید الدین مسعود گنجِ شکر، حضرت سید جلال الدین شاہ بخاری (مخدوم جہانیاں جہاں گشت) اور حضرت سید عثمان لعل شاہباز قلندر رحمہم اللہ کے ساتھ سفر کرتے رہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خرقہ خلافت دلایا

بیت المقدس سے مختلف بلاد مشائخ اور مزارات کی زیارت کرتے ہوئے مدینة العلم بغداد میں آئے تو اس وقت حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمة اللہ علیہ کا طوطی بول رہا تھا۔ ان کی ذات گرامی مرجع خلائق بنی ہوئی تھے۔ بڑا دربار تھا ‘ بڑا تقدس ۔

آپ رحمة اللہ علیہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھتے ہی فرمایا باز سفید آ گیا۔ جو میرے سلسلہ کا آفتاب ہو گا اور جس سے میرا سلسلہ بیعت وسعت پذیر ہوگا۔ آپ رحمة اللہ علیہ نے ادب سے گردن جھکائی۔ شیخ رحمة اللہ علیہ نے اسی روز حلقہ ارادت میں لے لیا اور تمام توجہات آپ کی طرف مرکوز تھیں۔ صرف سترہ روز بعد درجہ ولایت کو پہنچا کر باطنی دولت سے مالا مال اور خرقہ خلافت عطا کر کے رخصت کر دیا۔

خانقاہ شیخ الشیوخ تو اس وقت دنیا کی سب سے بڑی روحانی یونیورسٹی تھی جس میں ہر وقت اور ہمیشہ درویشوں اور طریقت والوں کا ہجوم رہتا تھا۔ اس وقت اور بھی بہت سے بزرگ ان کی خدمت میں موجود تھے۔ جو مدت سے خرقہ خلافت کا انتظار کر رہے تھے۔

انہوں نے جو دیکھا کہ مخدو م بہاﺅالدین رحمة اللہ علیہ کو آتے ہی خلافت بھی مل گئی اورہم تو برسوں سے خدمت کر رہے ہیں‘ اب تک یہ مرتبہ حاصل نہ ہوا اور یہ نوجوان چند روز ہی میں کمال کو پہنچ گیا۔

حضرت شہاب الدین سہروردی رحمة اللہ علیہ نے الحمد للہ نور باطن سے معلوم کر کے فرمایا کہ تم بہاﺅ الدین رحمة اللہ علیہ کی حالت پر کیا رشک کرتے ہو وہ تو چوبِ خشک تھا جسے فوراً آگ لگ گئی اور بھڑک اٹھی۔ تم چوبِ تَر کی مانند ہو جو سلگ سلگ کر جل رہی ہے اور جلتے جلتے ہی جلے گی۔ پھر سب لوگ سمجھ گئے کہ یہ تمام امور‘ فضل الٰہی پر منحصر ہیں۔

سترھویں شب ہی کو مخدوم صاحب نے خواب میں دیکھا کہ ایک بڑا آراستہ مکان ہے جو انوار تجلیات سے جگمگا رہا ہے ‘ درمیان میں تخت پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ افروز ہیں۔ دائیں جانب حضرت شیخ الشیوخ دست بستہ مودب کھڑے ہیں اور قریب ہی چند خرقے آویزاں ہیں۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخدوم صاحب کو سامنے بلایا اور ہاتھ پکڑ کر اسے حضرت شیخ الشیوخ کے ہاتھ میں دے دیا اور فرمایا کہ میں اسے تمہارے سپرد کرتا ہوں۔ ان خرقوں میں سے ایک خرقہ بہاﺅالدین کو پہنا دو۔ چنانچہ انہوںنے تعمیل حکم کے طور پر آپ کو ایک خرقہ پہنا دیا۔

صبح ہوتی ہے حضرت شیخ الشیوخ نے آپ کو بلایا اور فرمایا کہ رات کو جو خرقہ عطا ہوا ہے وہ تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عطا ہوا ہے۔ آپ نے وہ خرقہ پہنایا اور حکم دیا

کہ اب ملتان پہنچ کر ہدایت خلق میں مصروف ہو جاﺅ ۔ یہ تھا حضرت مخدوم صاحب کا مرتبہ کہ ستر ہ روز میں خلافت ملی ‘ حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی‘ سب کچھ دکھا کر ملی ‘ گویا آپ کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملتان میں پنجاب ‘ سندھ اور سرحد میں روشنی پھیلانے کیلئے متعین کیا تھا۔

شیخ کے حکم پر آپ ہندوستان کے علاقہ ملتان میں تبلیغِ دین میں مصروف ہوئے ۔ آپ کے ذریعے ہزاروں ہندو ،مسلمان ہوئے جبکہ لاکھوں مسلمان راہ یاب اور کامیاب ہوئے۔ آپ کے ملفوظات اور مکتوبات طبع ہوچکے ہیں ، جن میں سے یہ ایک جملہ مکمل اسلامی زندگی کا احاطہ کرتا ہے ۔

جسم کی سلامتی کم کھانے میں ، روح کی سلامتی گناہوں کے ترک میں اور دین کی سلامتی نبی کریم صاحبِ لولاک علیہ الصلوٰة والسلام پر درود بھیجنے میں ہے ۔

دار الاسلام ملتان کا سہروردی مدرسہ

ملتان دارالسلام تھا۔ اتنے عرصہ میں فضا اور بدل چکی تھی۔ حالانکہ آپ یہیں کے رہنے والے تھے مگر پھر بھی چونکہ آپ صاحب ولایت اور بااقتدار اور باکمال ہو کر آرہے تھے اس لئے مشائخین ملتان کو آپ کا ملتان آنا ناگوار گزرا۔

انہوں نے دودھ کا پیالہ آپ کے پاس بھیجا جس کا مقصد یہ اشارہ تھا کہ یہاں کا میدان پہلے ہی سرسبز ہے اور ملتان میں آپ کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ آپ نے اشارہ سمجھ کر دودھ کے بھرے پیالے میں ایک گلاب کاپھول ڈال کر بھیج دیا۔ جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ گو کہ یہ پیالہ لبالب ہے، یہاں جگہ نہیں

مگر میں مثل اس پھول کے یہاں رہوں گا اور میرے رہنے سے نہ کسی کی جگہ پر اثر پڑے گا نہ کسی پر بار رہوں گا۔ آپ 614ھ میں ملتان پہنچے اس وقت آپ کی عمر 36‘37 برس کی تھی۔ آپ نے ملتان پہنچ کر ملتان کا نقشہ ہی بدل دیا۔

اس کی شہرت کو ہمدوش ثریا بنا دیا۔ آپ نے عظیم الشان مدرسہ رفیع المنزلت خانقاہ و عریض لنگر خانہ ‘ پر شکوہ مجلس خانہ اور خوبصورت عالی شان سرائیں اور مساجد تعمیر کرائیں۔

اس وقت ملتان کا مدرسہ ہندوستان کی مرکزی اسلامی یونیورسٹی کی حیثیت رکھتا تھا جس میں جملہ علوم منقول کی تعلیم ہوتی تھی ۔ بڑے بڑے لائق اور وحید العصر معلم پروفیسر اس میں فقہ و حدیث، تفسیر قرآن ‘ ادب‘ فلسفہ و منطق ریاضی و ہیت کی تعلیم دیتے تھے۔

نہ صرف ہندوستان بلکہ بلاد ایشیاءعراق شام تک کے طلباءاس مدرسہ میں زیر تعلیم تھے۔ طلباءکی ایسی کثرت تھی کہ ہندوستان میں اس کی کوئی نظیر نہیں تھی۔ لنگر خانہ سے دونوں وقت کھانا ملتا تھا ۔ ان کے قیام کیلئے سینکڑوں حجرے بنے ہوئے تھے۔ اس جامعہ اسلامیہ نے ایشیا کے بڑے بڑے نامور علماءو فضلا پیدا کئے ‘ ملتان کی علمی و لٹریری شہرت کو فلک الافلاک تک پہنچا دیا [12]۔

سیاسیات پر گہر اثر و رسوخ

حضرت صاحب علیہ الرحمة کا قرونِ وسطیٰ کی سیاسیات پر گہر اثر و رسوخ تھا چنانچہ ملتان پر اقتدار قائم رکھنے میں ــ”التمش ” (٦٠٧ ھ /١٢١٠ء تا ٦٣٣ھ /١٢٣٥ء) نے آپ سے ہمیشہ مدد چاہی اور حضرت شیخ نے بھی اس کی دین داری اور رعایا پر وری کو ملاحظہ فرما کر اسے بڑی مدد دی ، ٦٤٤ھ /١٢٤٦ء میں منگولوں کے حملوں سے ملتان کو محفوظ رکھنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔

آپ بابا گنج شکر کے خالہ زاد بھائی تھے۔ مشہور شاعر عراقی آپ کا داماد تھا۔ والی سندھ اور ملتان ناصر الدین قباچہ کو آپ سے بہت عقیدت تھی۔

آپ کی وفات ِحسرت آیات ٧ صفر ٦٦١ ھ/٢١ دسمبر ١٢٦١ء کو ہوئی۔ آپ کا مزار شریف قلعہ محمد بن قاسم کے آخر میں مرجع خلائق ہے، مزار کی عمارت پر کاشی کا کام قابل دید ہے اور سینکڑوں اشعار یاد رکھنے کے لائق ہیں، مزار کا احاطہ ہر قسم کی خرافات سے پاک ہے ۔ عرس کے موقع پر علماء کرام کی تقاریر خلق خدا کی ہدایت کاسامان بنتی ہیں، اندرون سندھ سے مریدین اور معتقدین کے قافلے پا پیادہ حاضر ہوتے ہیں۔

آپ کا وصال ٦٦١ھ میں اٹھاسی سال کی عمر میں ہوا۔ حضرت خواجہ غریب نواز ٦٦٦ھ حضرت قطب الاقطاب ٦٣٣ھ حضرت بابا صاحب ٦٦٦ھ اور حضرت مخدوم صاحب ٦٦٦ھ میں وصال پا گئے، یہ عہد کتنا مبارک عہد تھا۔

[13]۔

مسلم دنیا کے علمی و روحانی مراکز سے اپنی پیاس بُجھاتے ہوئے بغداد پہنچے، توسلسلۂ سہروردیہ کے عظیم بزرگ، شیخ شہاب الدّین سہروردیؒ کے ہاں بھی حاضر ہوئے اور اُن سے کچھ ایسے متاثر ہوئے کہ اپنا ہاتھ اُن کے ہاتھ میں دے دیا۔

حضرت شیخ نے بھی گرم جوشی سے استقبال کیا،گویا مدّتوں سے اُن کے منتظر ہوں۔خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کے مطابق، مرشد کی نگرانی میں سلوک کی منازل محض 17 روز میں طے کرلیں اور خلافت سے سرفراز ہوئے۔اس پر پرانے مریدین کی جانب سے چہ میگوئیاں ہوئیں،

تو شیخ شہاب الدین سہروردیؒ نے فرمایا،’’تم تر لکڑی کی مانند ہو،جسے بڑی مشکل اور دیر سے آگ پکڑتی ہے، جب کہ بہاء الدّین خشک لکڑی کی طرح ہیں، جو جلد آگ پکڑلیتی ہے۔‘‘

آپؒ طالبِ علمی کے زمانے ہی سے کثرت سے ذکر و اذکار کرتے آرہے تھے اور مجاہدات میں مصروف رہتے، معمولی سے سحر و افطارکے ساتھ مسلسل بیس برس تک روزے رکھے۔ یوں بیعت سے قبل ایک طرف حافظ، قاری، عالم، مفسّر، محدث، مدرّس کی صفات سے خود کو آراستہ کر چُکے تھے، تو دوسری طرف، عبادات و مجاہدات کے ذریعے باطن بھی اُجلا ہو چُکا تھا،

یوں چراغ مکمل طور پر تیار تھا، جسے مرشد نے روشن کردیا۔شیخ شہاب الدّینؒ نے مریدین کو ایک ایک کبوتر دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اسے ایسی جگہ ذبح کرکے لائیں،جہاں کوئی نہ دیکھ رہا ہو۔کچھ دیر بعد سب ذبح کیے ہوئے کبوترلے آئے،

جب کہ ایک طرف سے شیخ بہاء الدّینؒ زندہ کبوتر لیے واپس آ رہے تھے۔ مرشد نے وجہ پوچھی تو فرمایا،’’ کوئی ایسی جگہ ملی ہی نہیں،جہاں اللہ نہ دیکھ رہا ہو۔‘‘یہ سُن کر اعتراض کرنے والوں نے شرم سے گردن جُھکا لی۔

ملتان میں مدرسے کی بنیاد

مرشد نے خلافت سے نوازنے کے بعد آبائی علاقے،یعنی ملتان جانے کی ہدایت فرمائی ،جس پر آپؒ گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ابھی راستے ہی میں تھے کہ ملتان کے حکم ران، ناصر الدّین قباچہ اور خلجیوں کے درمیان لڑائی کے سبب راستوں کے غیر محفوظ ہونے کی اطلاع ملی،

جس پر ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب ایک گاؤں میں ٹھہر گئے،جو اَب ’’شیخ بودین‘‘ کے نام سے معروف ہے۔کچھ دنوں بعد حالات بہتر ہوئے،تو ملتان تشریف لے گئے۔ یہ 615 ہجری کا واقعہ ہے۔ ابتدا میں کچھ دن گوشہ نشین رہ کر عبادت میں مصروف رہے، پھر مجلسِ وعظ کا آغاز کیا، جو دیکھتے ہی دیکھتے عوام میں مقبول ہوگئی۔

مسلمانوں کے ساتھ ہندو بھی آپؒ کی مجالس میں آتے اور دِلوں کو نورِ ایمان سے منوّر کرکے لَوٹتے۔ آپؒ نے ملتان میں ایک مدرسے کی بھی بنیاد ڈالی،جسے خطّے کا قدیم ترین مدرسہ کہا جاسکتا ہے۔ آپؒ اس مدرسے کے مہتمم اور استاد تھے۔

یہ ایک اقامتی ادارہ تھا،یعنی وہاں طلبہ کو باقاعدہ رہائش کی سہولت حاصل تھی اوراُن کے کھانے پینے وغیرہ کا انتظام آپؒ کی جانب سے ہوتا۔ اس مدرسے نے ایسی شہرت پائی کہ عراق، شام اورحجاز تک سے طلبہ وہاں آنے لگے، جن کے لیے ماہر اساتذہ کا انتخاب کیا گیا، جنھیں مناسب تن خواہ، خوراک اور رہائش کی سہولتیں دی گئیں۔

اِن اساتذہ میں حضرت عثمان مروندی ؒ(شہاز قلندر) بھی شامل تھے،جن کی عربی گرائمر پر لکھی گئی کتاب مدرسے کے نصاب کا حصّہ تھی۔ اِس مدرسے کی ایک خاص بات یہ بھی تھی

کہ اس میں طلبہ کو دینی علوم کے ساتھ دیگر علوم و فنون بھی سِکھائے جاتے تاکہ وہ ایک کارآمد شہری بن کر معاشرے میں کردارادا کرسکیں۔ علمی حلقوں میں اس کے کتب خانے کو بھی بہت شہرت حاصل ہوئی اور علماء دور دراز سے استفادے کے لیے وہاں آتے۔

یہ مدرسہ اور کتب خانہ لنگاہ خاندان کے زمانے میں ارغوانی کے حملے میں تباہ ہوگیا اوراگر کچھ باقی رہ گیا تھا، تو اُسے سِکھوں نے مِٹا ڈالا۔

تبلیغی جماعتوں کی تشکیل

آپؒ کا ملتان آنے کا مقصد اسلامی تعلیمات کی اشاعت اور عوام کے باطن کی صفائی تھا،لہٰذا روزِ اوّل سے اِس مقصد کے حصول کے لیے سرگرم رہے۔ایک طرف وعظ کا سلسلہ شروع کیا،

تو دوسری طرف معیاری مدرسے کی بنیاد ڈال کر اسلام کے مبلغین تیار کیے اور پھر مدرسے کے فاضلین کے ذریعے تبلیغِ دین کا ایک انقلابی اور منظّم نظام وضع کیا۔ یہ مبلغین دینی علوم کے ماہر ہوتے، اُنھیں جہاں بھیجنا ہوتا پہلے وہاں کی زبانیں سِکھائی جاتیں،

وہاں کی تہذیب و ثقافت پر بریف کیا جاتا، ضروری فوجی تربیت دی جاتی تاکہ بوقتِ ضرورت اپنا دفاع کرسکیں، تجارت کے گُر سکھائے جاتے اور پھر مالِ تجارت دے کر روانہ کردیا جاتا۔اِس مال کا بندوبست حضرت بہاء الدین زکریاؒ خود کرتے۔

حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ

کمال الدّین شاہ ابوبکر مکّہ معظمہ سے خوارزم منتقل ہوئے اور پھر تاتاریوں کی یلغار کے سبب وہاں سے اپنے خاندان کو کوٹ کروڑ( اب کروڑ لعل عیسن، ضلع لیّہ، پنجاب) لے آئے۔وہاں سے کچھ عرصے بعد ملتان جابسے، وہیں اُن کے ہاں وجیہہ الدّین محمّد کی ولادت ہوئی [14]۔

بوجیہہ الدّین نے والد کی نگرانی میں تعلیمی مراحل طے کیے۔ بعدازاں، اُن کی مولانا حسام الدّین ترمذی کی صاحب زادی،بی بی فاطمہ سے شادی ہوئی۔ مولانا ترمذی بھی، جو علمی، حکومتی اور عوامی حلقوں میں بلند مقام کے حامل تھے، منگولوں کے حملوں کے سبب ترکِ وطن پر مجبور ہوئے تھے اور اُن دنوں کوٹ کروڑ قلعے میں رہائش پذیر تھے،لہٰذا، وہ بھی سُسر کے پاس رہنے لگے، وہیں اُن کے ہاں اُس فرزند نے آنکھ کھولی،جن کے ذکر سے آج ہم اپنے قلب و نظرکو جِلا بخش رہے ہیں۔

خاندان،ابتدائی تعلیم

مخدوم جلال الدّین بخاری نے اپنے مرشد کے خاندان سے متعلق فرمایا،’’ میرے مرشد کے آباء و اجداد عرب کے رؤسا اورشرفاء میں سے تھے اورحسب و نسب کے اعتبار سے لوگوں میں ممتاز اورمنفرد تھے کہ قریشی النسل تھے۔‘‘

حقیقت بھی یہی ہے۔ گو کہ مؤرخین نے حضرت بہاء الدّینؒ کے حسب و نسب پر بہت بحث کی ہے،تاہم بیش تر کا اِس پر اتفاق ہے کہ آپؒ قریشی اسدی ہاشمی تھے۔27رمضانُ المبارک 566 ہجری،3 جون 1171ء،بروز جمعہ پیدا ہوئے۔

مؤرخین میں اِس امر پر اختلاف ہے کہ آپؒ کا اصل نام کیا تھا،بعض نے بہاءالدّین تو کئی ایک نے زکریا تحریر کیا ہے۔

کنیت ابو محمد تھی،جب کہ سرکاری طورپر شیخ الاسلام کے منصب پر فائز تھے۔بعض روایات کے مطابق، آپؒ کی والدہ حضرت شیخ عیسیٰ کی صاحب زادی تھیں،جو شیخ عبدالقادر جیلانی کی اولاد میں سے تھے اورحضرت فرید الدین گنج شکر آپ کے خالہ زاد تھے،

تاہم یہ دونوں روایتیں درست نہیں۔بہت ذہین اورمضبوط حافظے کے مالک تھے،لہٰذا چھوٹی عُمر ہی میں قرأت سبعہ کے ساتھ قرآن پاک حفظ کرلیا اور پھر مقامی علماء کے پاس کتب پڑھنے لگے۔

ابھی تعلیم کا سلسلہ جاری تھا کہ والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا، مگر اِن حالات میں بھی حصولِ علم کا شوق برقرار رہا، جس کی تسکین کے لیے خراسان پہنچ گئے اور7 برس تک علماء سے استفادہ کرتے رہے، مگر طلب اب بھی باقی تھی، سو، بخارا جا پہنچے۔

وہاں کے علمی حلقوں سے 8 برس تک مستفید ہوتے رہے۔اِس دوران درس و تدریس سے بھی وابستہ رہے۔ اُن دنوں آپؒ کے پاس دو ہزارسے زاید کتب تھیں۔ یہ وہ زمانہ تھا،جب قلمی نسخے ہی ہوا کرتے تھے اور اِس قدر کتابیں جمع کرنا آسان نہ تھا۔

وہاں نوجوان عالم کے ساتھ متّقی و پرہیزگار نوجوان کے طورپر بھی مشہورتھے اور لوگ آپؒ کو’’ بہاءالدّین فرشتہ‘‘ کہا کرتے تھے۔

بخارا کا آٹھ سالہ علمی سفراختتام کو پہنچا، تو مکۃ المکرّمہ کے مبارک سفر پر روانہ ہوئے اور حج کی ادائی کے بعد مدینہ منوّرہ حاضرہوئے،جہاں پانچ برس تک شیخ کمال الدّین محمد یمنیؒ جیسے نام وَرعالم سے حدیث پڑھی۔ اِس دوران اُن کے ساتھ ہر سال حج پر بھی جاتے رہے۔

ایک حج کے موقعے پر حضرت خضر علیہ السّلام کی زیارت اورصحبت بھی میّسر آئی۔ حصولِ علم کے ساتھ اپنا بیش تر وقت روضۂ رسول پر گزارتے۔ بعدازاں، بیتُ المقدِس گئے اور انبیائے کرامؑ کے مزارات کی زیارت کے ساتھ علماء کے ساتھ بھی نشستیں رہیں،

پھر پانچ برس دمشق میں مقیم رہے، جس کے بعد سمرقند کا سفر کیا۔بعض روایات میں یمن اور موصل کے سفرکا بھی ذکر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپؒ نے ساڑھے چارسو سے زاید اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمّذ طے کیا۔

بیعت و خلافت

نوّے برس سے زاید عُمر ہونے کے باوجود مسجد میں جاکر باجماعت نماز ادا کرتے۔ رات کے آخری حصّے میں بیدارہوکر فجر تک عبادت میں مشغول رہتے۔نماز کے بعد کافی دیر تک تلاوت کرتے رہتے،بعدازاں، تجارت، زراعت اور لنگر وغیرہ کا حساب کتاب دیکھتے، ذمّے داران کو ضروری ہدایات دیتے اور پھر گھر تشریف لے جاتے۔

کھانا تناول کرکے کچھ دیر آرام کرتے اور اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارتے۔ ظہر کی اذان پر مسجد آجاتے، نماز کے بعد حجرے میں کافی دیر وظائف میں مشغول رہتے، پھر مجلسِ عام منعقد ہوتی۔

مریدین کی روحانی رہنمائی کرتے، عام افراد کے مسائل سُنتے، تبلیغی وفود اپنی کارکردگی سے آگاہ کرتے۔ عصر کی اذان پر مجلس اختتام کو پہنچتی اور آپؒ حجرے سے مسجد تشریف لے آتے۔

نماز کے بعد منبر پر بیٹھ کر وعظ فرماتے، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے۔ سورج غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے چہل قدمی کے لیے قریبی جنگل کی طرف چلے جاتے۔ مغرب سے عشاء تک ذکر و اذکار میں مصروف رہتے۔

نمازِ عشاء کے بعد بھی کافی دیر تک عبادت میں مشغول رہتے، پھر گھر تشریف لے جاتے۔ بے حد نرم طبیعت پائی تھی، لوگوں سے خوش مزاجی اور تعظیم سے پیش آتے، پوری توجّہ سے اُن کی بات سُنتے، عام لوگوں میں بیٹھتے۔

شریعت پر سختی سے عمل کرتے اور متعلقین سے عمل کرواتے۔ سماع کی مجالس سے گریز کرتے، البتہ فنِ موسیقی پر کافی دسترس حاصل تھی۔ شعرو شاعری سے بھی رغبت تھی۔ کم لیکن اچھا کھانے کی ترغیب دیتے اور خود بھی ایسا ہی کرتے۔

فرماتے تھے،’’ بدن کی سلامتی کم کھانے میں،روح کی سلامتی ترکِ گناہ میں اور دین کی سلامتی درود شریف پڑھنے میں ہے۔‘‘اپنا مال دینی کاموں، ضرورت مندوں اور عوامی فلاح کے کاموں پر دل کھول کر خرچ کرتے۔

وفات، اولاد،تصانیف

7 صفر661 ہجری،21 دسمبر 1261ء کو ملتان میں96 برس کی عُمر میں وفات پائی۔ آپؒ کا مزار فنِ تعمیر کا شاہ کار ہے۔

دو شادیاں کیں، جن سے سات بیٹے اور تین بیٹیاں ہوئیں۔ بیٹوں میں مخدوم صدر الدّین عارف اور اُن کے صاحب زادے، شاہ رکن عالمؒ نے بہت شہرت پائی۔ گو کہ آپؒ کی کئی کتب کا ذکر کیا جاتا ہے، مگر اب صرف ایک ہی کتاب’’الاوراد‘‘ دست یاب ہے، جو فقہہ سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ اعتکاف سے متعلق ایک رسالہ بھی ہے۔

یہ مبلغین طے کردہ مقامات پر دُکانیں کھولتے اور اسلامی اصولوں کے مطابق منافع کم لیتے،کسی سے دھوکا نہ کرتے، ناقص اشیاء نہ بیچتے، دیانت داری اورخوش اخلاقی سے کام لیتے،یوں جب عوام کا اعتماد حاصل کرلیتے ،

تو اُن کے سامنے اسلام کی دعوت رکھتے۔ چوں کہ لوگ اُن کا اعلیٰ اخلاق و کردار دیکھ چُکے ہوتے تھے، اِس لیے وہ اسلام قبول کرلیتے۔ یہ مبلغین سال میں ایک بارملتان میں جمع ہوکر آپؒ کو اپنی کار گزاری سے آگاہ کرتے۔

سندھ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر، افغانستان، بنگال سے لے کر چین، انڈونیشیا، ملائیشیا، جاوا، سماٹرا، فلپائن، برما تک ان مبلغین اور تبلیغی جماعتوں کے ذریعے اسلام کی روشنی پہنچی۔

لاکھوں افراد آپؒ کی کوششوں سے اسلام کے حلقے میں داخل ہوئے،جب کہ جو ہندو مسلمان نہیں ہوئے، وہ بھی آپؒ سے نہایت عقیدت رکھتے تھے۔ آج بھی سندھ کے لاکھوں ہندو خود کو آپؒ کا مرید قرار دینے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔گو کہ محمود غزنوی اورپھر شہاب الدّین غوری نے سیاسی طور پر ملتان سے قرامطیوں کا تقریباً صفایا کردیا تھا،

تاہم اُن کے پیروکار علاقے میں خفیہ سرگرمیاں کسی نہ کسی طور جاری رکھے ہوئے تھے،آپؒ نے اپنی حکمتِ عملی سے ان سرگرمیوں کا بھی قلع قمع کیا۔آپؒ کی ذات بابرکات سے اِس خطّے میں سہروردی سلسلے کو فروغ حاصل ہوا اور آپؒ کو بجا طور پر برّصغیر میں اِس سلسلے کا بانی کہا جاسکتا ہے۔

بطور سماجی رہنما

آپؒ محض صوفی یا دینی مبلغ ہی نہیں تھے،بلکہ عوام کی فلاح و بہبود پر بھی بہت توجّہ دیتے۔ عوام کی معاشی حالت میں بہتری کے لیے زراعت اور تجارت کو ترقّی دی۔ اِس مقصد کے لیے مختلف علاقوں میں نہریں کھدوائیں اور کنوئیں بنوائے۔بڑے پیمانے پر درخت لگوائے۔

نیز، عوام، خاص طور پر اپنے متعلقین کو کسی پر بوجھ بننے کی بجائے تجارت کی طرف مائل کیا اور صرف ترغیب ہی نہیں دی، اُنھیں اپنی طرف سے بنیادی سرمایہ اور مالِ تجارت فراہم کرکے شراکت داری کی بنیاد پر کاروبار کا آغاز بھی کروایا۔

سیاسی اثر و رسوخ

اُس دور کے صوفیا کے مزاج کے برعکس آپؒ سیاسی اور حکومتی معاملات میں بھی خاصی دل چسپی لیتے تھے۔سلطان التمش سے اچھے تعلقات تھے اوراُن کی درخواست پر شیخ الاسلام کا منصب قبول کیا، جو حکومتی سطح پر سب سے بڑا مذہبی عُہدہ تصوّر کیا جاتا تھا۔

جب حاکمِ ملتان،ناصرالدین قباچہ نے سلطان التمش کے خلاف بغاوت کا منصوبہ بنایا، تو ملتان کے قاضی مولانا اشرف الدین اصفہانی اور آپؒ نے الگ الگ خطوط کے ذریعے سلطان کو اس سے آگاہ کیا، مگر دونوں خطوط منزل پر پہنچنے سے قبل ہی پکڑے گئے، جس پر قاضی صاحب اور آپؒ کو قباچہ کے دربار میں طلب کیا گیا۔

قباچہ نے قاضی صاحب کے سامنے خط رکھا تو وہ خاموش رہے،جس پر اُن کی گردن اُتار دی گئی،تاہم آپؒ نے کسی خوف کے بغیر خط کو تسلیم کیا اور قباچہ خواہش کے باوجود آپؒ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکا۔آپؒ کی ایک بڑی سفارتی کام یابی یہ بھی ہے کہ جب منگول ملتان پر حملہ آور ہوئے تو آپؒ نے شہر سے باہر جاکر اُن سے ملاقات کی اور حملہ نہ کرنے پر ایک لاکھ درہم کی پیش کش کی، جو اُنھوں نے قبول کرلی، کہا جاتا ہے کہ یہ رقم آپؒ نے اپنی طرف سے ادا کرکے شہریوں کے قتلِ عام کوروکا۔

آپؒ نے حکم رانوں سے تعلقات کو ذاتی فوائد سمیٹنے کی بجائے خلقِ خدا کی خدمت کے لیے استعمال کیا۔ جب دہلی کے لیے روانہ ہوتے، تو راستے میں لوگ اپنے مسائل سے متعلق درخواستیں دیتے جاتے،جن سے تھیلے بَھر جاتے اور آپؒ بادشاہ کے پاس جاکر پہلے ان درخواستوں کے معاملات حل کرواتے۔

امیری میں فقیری

آپؒ کو وراثت میں بہت دولت حاصل ہوئی تھی اورپھر آپؒ نے اس مال کو تجارت میں لگایا،تو آمدنی میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ آپؒ بادشاہوں جیسی زندگی گزارتے تھے،رہائش کے لیے محل نُما مکان تھا،جس کی قیمتی پردوں، قالینوں وغیرہ سے آرائش کی گئی تھی۔ بہترین لباس پہنتے۔

مالی کشادگی کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ایک بارقحط پڑا، تو آپؒ نے حکومت کو بڑے پیمانے پر گندم فراہم کی اور گندم کی بوریوں میں سونے کے سکّے بھی ڈال دیے۔

تاہم اس سب کچھ کے باوجود، مزاج میں بہت تواضع اورانکساری تھی۔مدرسے کے سیکڑوں طلبہ اور اساتذہ کے تمام اخراجات خود برداشت کرتے، خانقاہ میں مریدین اور عام افراد کا ہجوم رہتا، جن کے لیے آپؒ کی طرف سے دسترخوان بچھائے جاتے، جو بہترین کھانوں سے آراستہ ہوتے[15]۔

حوالہ جات

  1. احوال وآثار حضرت بہاؤالدین ، ص26
  2. حضرت بہاء الدین زکریاؒ، خدمات اور تعلیمات-شائع شدہ از:16 اکتوبر 2018ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 جون 2026ء
  3. تحریر: ڈاکٹر محمد صدیق خان قادری
  4. خواجہ شمس الدین عظیمی، حضرت زکریا ملتانی کی فلاحی خدمات-اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 جون 2026ء
  5. صاحب زادہ ذیشان کلیم معصومی، غوث بہاﺅالدین ذکریا ملتانی-شائع شدہ از:2 ستمبر 2022ء
  6. تذکرہ حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی،ص25
  7. گلزارِ ابرار، ص،55،56ملخصاً
  8. احوال و آثار حضرت بہاؤالدین،ص 85مفہوماً
  9. اللہ کے ولی،ص470ملخصاً
  10. احوال وآثار حضرت بہاؤالدین، ص 85مفہوماً
  11. سیرت بہاؤ الدین زکریا، ص189مفہوماً
  12. [1]-اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 جون 2025ء
  13. ماخوذ ”دائرہ معارف اسلامیہ ” جلد ٥، ص ٩٤، ٩٥۔۔۔۔۔۔ ”نزہة الخواطر” جلد ١ ص ١٢٠، ١٢١ ۔۔۔۔۔۔ ”تذکرہ اولیائے سندھ ” ص ١٠٩ تا ١١١
  14. تحریر: محمّد احمد غزالی
  15. محمّد احمد غزالی، حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ-26 جون 2022ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 جون 2026ء