مندرجات کا رخ کریں

"عبد اللہ حاجی صادقی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 10: سطر 10:
| death year = ۱۹۸۹ ء   
| death year = ۱۹۸۹ ء   
| death dat =   
| death dat =   
| death place = پاکستان
| death place =
| teachers =  آیت‌الله مظاهری، آیت‌الله ستوده، آیت‌الله اعتمادی[[عبد اللہ جوادی آملی|آیت اللہ جوادی آملی]]، [[محمد فاضل لنکرانی|آیت اللہ مرحوم فاضل لنکرانی]]، [[محمد تقی مصباح یزدی|آیت اللہ مصباح یزدی]]
| teachers =  آیت‌الله مظاهری، آیت‌الله ستوده، آیت‌الله اعتمادی[[عبد اللہ جوادی آملی|آیت اللہ جوادی آملی]]، [[محمد فاضل لنکرانی|آیت اللہ مرحوم فاضل لنکرانی]]، [[محمد تقی مصباح یزدی|آیت اللہ مصباح یزدی]]
| students =  
| students =  

نسخہ بمطابق 19:56، 7 اکتوبر 2026ء

عبد اللہ حاجی صادقی
پورا نامعبد اللہ حاجی صادقی
ذاتی معلومات
پیدائش1349 ش
پیدائش کی جگہاصفہان
وفات۱۹۸۹ ء
اساتذہآیت‌الله مظاهری، آیت‌الله ستوده، آیت‌الله اعتمادیآیت اللہ جوادی آملی، آیت اللہ مرحوم فاضل لنکرانی، آیت اللہ مصباح یزدی
مذہباسلام، شیعہ
اثراتفلسفہ و نظام سیاسی اسلام، سیمای یہود در قرآن، اصول الگوی مصرف اسلامی.
مناصبمختلف صوبوں میں سپاہ کے نمائندگی دفاتر کے مسئول، سپاہ قم کے کمانڈر، جامعہ امام حسین میں ولی فقیہ کے نمائندے کے دفتر کے مسئول، ۱۳۹۰ سے سپاہ میں ولی فقیہ کے نمائندے کے جانشین، سپاہ پاسداران میں ولی فقیہ کے نمائندے.

حجت الاسلام والمسلمین عبد اللہ حاجی صادقی سال ۱۳۳۹ میں صوبہ اصفہان کے شہرستان دہاقان میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم دہاقان میں حاصل کی اور پھر سال ۱۳۵۳ میں دینی علوم کی تحصیل کے لیے حوزہ علمیہ اصفہان میں داخل ہوئے۔ وہ سال ۱۳۵۸ میں مزید تعلیم کے لیے قم ہجرت کر گئے اور قم کے بزرگ اساتذہ سے فیض یاب ہوئے۔ ایران عراق جنگ کے آغاز میں انہیں کئی بار طلبہ کی حیثیت سے محاذ پر بھیجا گیا، خاص طور پر خرمشہر، اور بہمن ماہ ۱۳۵۹ میں حضرت حجت الاسلام والمسلمین میثمی کی درخواست پر، جو مجاہد روحانیوں کے سینئر تھے، باقاعدہ طور پر سپاہ پاسداران میں شامل ہو گئے اور مختلف صوبوں میں سپاہ میں امام خمینی (رح) کے نمائندگی دفتر کی مسئولیت سنبھالی۔

سوانح حیات

حجت الاسلام والمسلمین عبد اللہ حاجی صادقی دوم تیر ماہ سال ۱۳۳۹ کو صوبہ اصفہان کے شہرستان دہاقان میں پیدا ہوئے، ان کے والد محترم حاج آقا جواد حاجی صادقی دہاقانی ہیں، انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم دہاقان میں حاصل کی اور پھر سال ۱۳۵۳ میں دینی علوم کی تحصیل کے لیے حوزہ علمیہ اصفہان میں داخل ہوئے اور مدرسہ ذوالفقار میں تعلیم حاصل کی اور مقدماتی اور بنیادی دروس آیت اللہ سید حسن امامی اور آیت اللہ علی اکبر فقیہ جیسے بزرگ اساتذہ سے حاصل کیے۔

وہ سال ۱۳۵۸ میں مزید تعلیم کے لیے بارگاہ ملکوتی حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا) میں حاضر ہوئے اور شہر فقاہت یعنی قم میں تعلیم میں مشغول ہو گئے اور قم کے بزرگ اساتذہ سے فیض یاب ہوئے، انہوں نے فقہ اور اصول میں آیت اللہ مظاهری، آیت اللہ ستودہ اور آیت اللہ اعتمادی کے دروس میں شرکت کی اور فائدہ اٹھایا اور دس سال تک حضرت آیت اللہ جوادی آملی، آیت اللہ مرحوم فاضل لنکرانی اور آیت اللہ مصباح یزدی اور دیگر کے دروس خارج میں شاگردی کی۔

حاجی صادقی جنگ کے آغاز سے کئی بار طلبہ کی حیثیت سے محاذ پر بھیجے گئے، خاص طور پر خرمشہر، اور بہمن ماہ ۱۳۵۹ میں حضرت حجت الاسلام والمسلمین میثمی کی درخواست پر، جو مجاہد روحانیوں کے پیش کسوت تھے، باقاعدہ سپاہ میں شامل ہو گئے اور مختلف صوبوں میں سپاہ میں دفتر نمائندگی حضرت امام (رح) کی مسئولیت سنبھالی جیسے صوبوں بوشہر، ہرمزگان منطقہ ۴ نوح، قرارگاہ نوح اور سپاہ سوم قدس کی جو جنگی علاقوں میں مستقر تھی اور جنگ کے پچاس مہینے ایران اسلامی کے دفاع کے محاذ میں گزارے۔

جنگ کے بعد

جنگ تحمیلی کے خاتمے کے بعد وہ مزید تعلیم کے لیے قم واپس آئے اور حوزوی دروس کے علاوہ یونیورسٹی میں بھی تعلیم حاصل کی اور معارف اسلامی اور الہیات میں گریجویشن کیا، اس دوران انہوں نے سپاہ قم کی کمانڈری بھی سنبھالی۔ حاجی صادقی نے چار سال سپاہ قم کی کمانڈری کے بعد اس وقت کے سپاہ میں ولی فقیہ کے محترم نمائندے حضرت آیت اللہ موحدی کرمانی کی درخواست پر چار سال تک جامعہ امام حسین (علیہ السلام) میں ولی فقیہ کے نمائندگی دفتر کے مسئول کا عہدہ بھی قبول کیا اور اسی دوران علوم قرآن و حدیث کے شعبے میں پی ایچ ڈی کے کورس میں داخل ہوئے اور پی ایچ ڈی حاصل کرنے کے بعد قم واپس آئے اور اسلامی تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ کے صدر اور شہید محلاتی یونیورسٹی کے الہیات گروپ کے مسئول کے طور پر مقرر ہوئے۔

انہیں سال ۱۳۹۰ میں کمانڈر ان چیف کی تائید اور موافقت اور سپاہ میں ولی فقیہ کے محترم نمائندے کے حکم سے سپاہ میں ولی فقیہ کے نمائندے کے جانشین کے طور پر مقرر کیا گیا؛ اس دوران سالوں کی مسئولیت، چاہے دفاع مقدس کے دوران محاذوں پر ہو یا انتظامی مسئولیتوں اور عملی میدانوں میں موجودگی کی وجہ سے ان کی صلاحیت اور اہلیت کو دیکھتے ہوئے، رہبر انقلاب اور کمانڈر ان چیف کی طرف سے رہبر معظم کے نمائندے کے طور پر مقرر کیا گیا۔

تحصیلات

  • حوزہ علمیہ (خارج فقہ اور اصول فقہ
  • یونیورسٹی (پی ایچ ڈی علوم قرآن و حدیث – ایسوسی ایٹ پروفیسر اور شہید محلاتی ایجوکیشنل کمپلیکس کے فیکلٹی ممبر)。

تصانیف

  1. فلسفہ و نظام سیاسی اسلام (جو عربی میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے)؛
  2. سیمای یہود در قرآن؛
  3. بصیرت، چیستی، چرایی و چگونگی (قرآن کی آیات کا استعمال کرتے ہوئے)؛
  4. آسیب شناسی ارکان انقلاب اسلامی؛
  5. راهبردهای جہاد اکبر (قرآن کے نقطہ نظر سے) عربی میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے؛
  6. ولایت محوری، چیستی، چرایی و چگونگی؛
  7. اصول الگوی مصرف اسلامی؛
  8. امر بالمعروف و نہی عن المنکر؛
  9. تکلیف گرایی، چیستی، چرایی و چگونگی。

سرگرمیاں اور مناصب

  1. مختلف صوبوں کی سپاہ میں حضرت امام کے نمائندگی دفتر کے مسئول؛
  2. قرارگاہ اور سپاہ سوم قدس میں حضرت امام کے نمائندگی دفتر کے مسئول (جنگ کے دوران)؛
  3. سپاہ قم کی کمانڈری؛
  4. حوزوی خدمات کے مرکز کے سیکرٹری اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن؛
  5. دفتر مقام معظم رہبری کے حوزوی امور کے معاونت کے نخبگان یونٹ کے مسئول؛
  6. جامعہ امام حسین (علیہ‌السّلام) میں ولی فقیہ کے نمائندے کے مسئول؛
  7. سپاہ میں ولی فقیہ کے نمائندے کے مشیر اور تعلیمی و تحقیقی مراکز کے ساتھ رابطہ؛
  8. سال ۱۳۹۰ سے سپاہ میں ولی فقیہ کے نمائندے کے جانشین。

یہ مضمون اسلامی وحدت کے حوالے سے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی میں ولی فقیہ کے نمائندے کے دیدگاهات پر مبنی ہے، جو اتحاد بین المسلمین اور مذاہب اسلامی کے درمیان تقریب کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

اسلامی وحدت کے بارے میں نقطہ نظر

استکبار کا مقصد

«عبد اللہ حاجی صادقی» سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی میں ولی فقیہ کے نمائندے نے پینتیسویں بین الاقوامی کنفرانس برائے وحدت اسلامی میں پیغمبر اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی ولادت کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے، بعثت کو اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت قرار دیا۔

انہوں نے بیان کیا کہ امسال کا کنفرانس اس لیے منعقد ہو رہا ہے کہ اللہ کے فضل اور مجاہدتوں و بیداریوں کی برکت سے عالم اسلام میں، استکبار کا محاذ تدریجی موت کا شکار ہو گیا ہے اور مسلمان قوموں کی ارادے کے سامنے پیچھے ہٹنے اور شکست قبول کرنے پر مجبور ہو گیا ہے، انہوں نے اتحاد اور بیداری اسلامی کو استکباری محاذ کی اس شکست کا عامل قرار دیا۔

حاجی صادقی نے دشمنوں کی جانب سے خطرناک «نائبانہ جنگ» کی منصوبہ بندی کے حوالے سے انتباہ کرتے ہوئے وضاحت کی: اس کا مطلب مسلمان کے ذریعے مسلمان کو مارنا اور دین کا استعمال دین کے خلاف کرنا ہے۔

انہوں نے موجودہ حالات میں عالم اسلام کے علماء اور نخبگان کے کردار کو اجاگر کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا: اب ہمیں اس میدان میں قدم رکھنا چاہیے اور نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی فرد، مذہب یا گروہ کسی بہانے مسلمانوں کو آپس میں لڑوا دے۔

سپاہ میں ولی فقیہ کے نمائندے نے بیان کیا کہ اگرچہ کچھ اختلافات کی بنیاد تعصبات، پسندیدگی، برداشتوں اور داخلی غفلتوں پر ہو سکتی ہے، لیکن انہوں نے وضاحت کی: جو شخص اس اختلاف سے پورا فائدہ اٹھاتا ہے وہ تفرقہ کا ڈیزائنر ہے نہ وہ شیعہ چاہتا ہے نہ سنی کو، بلکہ وہ اسلام کو ختم کرنے آیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: استکبار جانتا ہے کہ اگر مسلمان حقیقی قوت اور طاقت حاصل کر لیں، تو کوئی بھی طاقت ان کے سامنے مقاومت نہیں کر سکتی۔

وحدت کے حوالے سے

حاجی صادقی نے قرآن کی اس آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اللہ فرماتا ہے: سانچہ:متن قرآن (اور ان کے مقابلے کے لیے جو کچھ طاقت اور توانائی رکھتے ہو، تیار رکھو) کہا: اسلامی وحدت سے بہتر کون سا عامل یا طاقت ہو سکتی ہے، کیونکہ قرآن وحدت کو خدا کی باطنی نعمت قرار دیتا ہے۔

انہوں نے مزید امام خمینی (رح) اور ان کے صالح جانشین آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے اسلامی وحدت پر زور کا حوالہ دیتے ہوئے، جو چار دہائیوں سے وحدت کے علمبردار رہے ہیں، کہا: اسلامی انقلاب گزشتہ سے زیادہ کوشش اور خرچ کرتا ہے تاکہ مسلمانوں کے درمیان یہ ہم آہنگی اور یکجہتی روز بروز مضبوط ہو۔

فلسطین کا مسئلہ

سپاہ میں ولی فقیہ کے نمائندے نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں فلسطین کے مسئلے کی طرف اشارہ کیا اور اسے عالم اسلام کی جان اور کفر کے محاذ اور اسلام کے محاذ کے ٹکراؤ کا مرکز قرار دیا۔

انہوں نے بیان کیا کہ آج تمام آوازیں فلسطین کی نجات اور اس قبضہ کار رژیم کے خاتمے کے لیے ہونی چاہیے جو غاصبانہ طریقے سے آیا ہے، لوگوں پر ظلم کیا ہے اور انہیں ان کے گھروں سے بے دخل کیا ہے، انہوں نے اظہار کیا: اللہ کے فضل سے اسی ہم آہنگی اور وحدت اور فلسطین کے محاذ میں قبضہ کار رژیم کے خلاف لڑنے والوں کی حمایت سے، ہم جلد قبضہ کار رژیم کے خاتمے اور مسلمانوں کی سربلندی اور کامیابی کے گواہ بنیں گے۔

حاجی صادقی نے زور دے کر کہا: ہم فخر کے ساتھ کہتے ہیں جو کوئی [[صیہونی رژیم سے لڑتا ہے، جو کوئی فلسطین کی حمایت کرتا ہے، اس کے پیچھے اسلامی انقلاب کی حمایت ہے اور ہم اس حمایت کے لیے تیار ہیں۔

وحدت کے علمبرداروں کے ساتھ عہد و پیمان

انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں حاج قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المهندس اور ان کے ساتھیوں کا ذکر کیا اور عالم اسلام کی وحدت کی کوشش کو ان شہداء کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ سپاہ میں ولی فقیہ کے نمائندے نے بیان کیا کہ وہ جانتے تھے کہ عالم اسلام اور مسلمانوں میں کتنی بڑی صلاحیت موجود ہے، انہوں نے کہا: استکبار ان صلاحیتوں کو آپس میں خرچ کرتا ہے اور اجازت نہیں دیتا کہ یہ صلاحیتیں کفر کے خلاف استعمال ہوں۔

انہوں نے آیت اللہ تسخیری کو وحدت کے علمبرداروں کی زبان قرار دیا اور ان سے مخاطب ہو کر کہا: ہم آپ کے ساتھ عہد کرتے ہیں کہ ہم آپ کا پرچم زمین پر نہیں گرنے دیں گے اور دشمن کے تفرقہ انگیز منصوبوں کے خاتمے تک پوری کوشش سے مجاہدت کریں گے۔


مزید دیکھیے


مآخذ