دین
دین سے مراد خداوند متعال کے اپنے بندوں کے لیے وہ تمام احکام و قوانین ہیں جو اس کے بھیجے ہوئے رسولوں کے ذریعے صادر اور بیان کیے جاتے ہیں۔
لغوی تعریف
دین عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی اطاعت، جزا اور فرمانبرداری کے ہیں۔ [1]
اصطلاحی تعریف
اصطلاح میں دین سے مراد کائنات اور انسان کے لیے ایک خالق پر اعتقاد رکھنا اور اس عقیدے کے مطابق عملی و اخلاقی احکام پر عمل پیرا ہونا ہے۔ اسی مناسبت سے جو لوگ سرے سے کسی خالق کے قائل نہیں ہیں اور کائنات کے وجود کو محض اتفاقی یا طبیعی و مادی تبدیلیوں کا نتیجہ سمجھتے ہیں، انہیں "بے دین" (ملحد) کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ کائنات کے لیے خالق کے قائل ہیں، خواہ ان کے مذہبی عقائد اور رسومات انحرافات اور خرافات سے ہی کیوں نہ آلودہ ہوں، انہیں "دین دار" شمار کیا جاتا ہے۔ [2]
ادیانِ حق اور باطل
انسانوں کے درمیان رائج ادیان کو "حق" اور "باطل" میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ دینِ حق سے مراد وہ آئین ہے جس کے عقائد درست اور حقیقت کے مطابق ہوں اور وہ ایسے اعمال و افعال کی سفارش کرے جن کی صحت اور اعتبار کی کافی ضمانت موجود ہو۔ [3] ظاہر ہے کہ ایسے جامع نظامِ حیات کی تدوین انسان کے خالق کے سوا کسی اور کے بس کی بات نہیں ہے۔[4]
انسانوں کے خود ساختہ بعض مذاہب، جنہیں دین کا نام دیا جاتا ہے، اصولِ دین میں بھی نقائص اور انحرافات کا شکار ہیں۔ یہ تمام ادیان یا تو ناقص ہیں یا تضاد اور عدمِ جامعیت کا شکار ہیں۔ آسمانی ادیان میں ہونے والی تحریفات میں سے ایک اہم تحریف دین کو صرف انسان اور خدا کے باہمی تعلق تک محدود کرنا اور احکامِ دین کو مخصوص مذہبی رسومات میں منحصر کرنا ہے۔ حالانکہ ہر آسمانی دین معاشرے کے افراد کی دنیوی اور اخروی سعادت کے لیے تمام ضروری امور کو بیان کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسی لیے آخری اور کامل ترین دین یعنی اسلام کی تعلیمات کا ایک بڑا حصہ سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل سے متعلق ہے۔[5]
توحیدی اور غیر توحیدی ادیان
توحیدی ادیان
توحیدی ادیان (جو کہ حقیقی اور آسمانی ادیان ہیں) تین مشترکہ بنیادی اصولوں پر استوار ہیں: خدائے واحد پر ایمان، آخرت کی ابدی زندگی اور اعمال کی جزا و سزا پر یقین، اور نسلِ انسانی کی ہدایت و کمال کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کی بعثت پر ایمان۔ [6]
توحیدی ادیان میں دینِ زرتشت، دینِ صابئین، یہودیت، مسیحیت اور اسلام شامل ہیں۔ اگرچہ ماضی کے آسمانی ادیان کی کتب میں تحریفات رونما ہوئیں، لیکن دینِ اسلام کی کتاب قرآن کریم ہر قسم کی تحریف سے محفوظ ہے۔ اس عدمِ تحریف پر عقلی دلائل کے ساتھ ساتھ نقلی دلائل بھی موجود ہیں، جیسے سورہ حجر کی آیت: «حإِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ» [7] (بے شک ہم نے ہی اس ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں)۔ دنیا کی نصف سے زائد آبادی ان الہی ادیان کی پیروکار ہے۔
غیر توحیدی ادیان
غیر توحیدی اور غیر آسمانی ادیان (اگر انہیں حقیقی معنی میں دین کہا جا سکے) تعداد میں بہت زیادہ ہیں، جن میں سے اہم درج ذیل ہیں:
- مانی مذہب: اس کا بانی "مانی" نامی شخص تھا۔ یہ دین زرتشتی، بودھ اور مسیحی عقائد کا مجموعہ ہے۔ [8]
- مزدکیت: اس کا بانی "مزدک بن پوندس" تھا۔ [9]
- ہندو مت (برہمنیت): یہ تقریباً ۱۵۰۰ قبل مسیح پرانا مذہب ہے، جو دنیا کا قدیم ترین زندہ مذہب اور کثیر تعداد میں مانے جانے والے ادیان میں سے ایک ہے۔ [10]
- جین مت: اس کا بانی "مہاویر" ہے اور اس کا اصل وطن ہندوستان ہے۔ [11]
- سکھ مت: اس کے بانی "بابا گرو نانک" ہیں۔ یہ دنیا کے زندہ ادیان میں سب سے جدید مذہب ہے، جو ہندو مت اور اسلام کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی ایک دانستہ کوشش کا نتیجہ ہے۔ [12]
- بدھ مت: یہ مذہب "مہاتما بدھ" سے منسوب ہے۔ [13]
- تاؤ مت: یہ چین کے تین سرکاری مذاہب میں سے ایک ہے اور اس کا بانی "لاؤ تسے" ہے۔ [14]
- کنفیوشس مت: یہ چین کا قدیم اور بنیادی مذہب ہے جس کے بانی "کنفیوشس" ہیں۔ [15]
- شنٹو مذہب: یہ جاپان کا قومی مذہب رہا ہے جو بنیادی طور پر مظاہرِ فطرت کی پرستش پر مبنی ہے۔ [16]
حوالہ جات
- ↑ دہخدا، لغتنامہ، ص۵۷۲-۵۷۴؛ قرشی، قاموس قرآن، ج۲، ص۳۸۰-۳۸۱؛ طریحی، مجمع البحرین، ص۷۶-۷۷؛ راغب اصفہانی، مفردات، ص۱۷۵۔
- ↑ مصباح یزدی، آموزش عقاید، ص۱۱۔
- ↑ مصباح یزدی، آموزش عقاید، ص۱۱۔
- ↑ حسن زادہ آملی، ہزار و یک کلمہ، قم، ۱۳۸۱ش۔
- ↑ مصباح یزدی، آموزش عقاید، ص۱۴۔
- ↑ مصباح یزدی، آموزش عقاید، ص۱۴۔
- ↑ سورہ حجر، آیت ۹۔
- ↑ مبلغی آبادانی، تاریخ ادیان و مذاہب جہان، ج۲، ص۴۰۸۔
- ↑ مبلغی آبادانی، تاریخ ادیان و مذاہب جہان، ج۲، ص۵۰۰۔
- ↑ ہوم، رابرٹ، ادیان زندہ جہان، ص۳۷-۳۸۔
- ↑ ہوم، رابرٹ، ادیان زندہ جہان، ص۶۷۔
- ↑ ہوم، رابرٹ، ادیان زندہ جہان، ص۱۲۷-۱۲۸۔
- ↑ ناش، جان، تاریخ جامع ادیان، ص۱۹۴۔
- ↑ ہوم، رابرٹ، ادیان زندہ جہان، ص१८४۔
- ↑ ہوم، رابرٹ، ادیان زندہ جہان، ص۱۵۹۔
- ↑ ہوم، رابرٹ، ادیان زندہ جہان، ص۲۱۲ و ۲۱۸۔
مآخذ
- ابن فارس، احمد بن فارس، معجم مقاییس اللغة، قم، مکتب الاعلام الاسلامی، ۱۴۱۸ھ۔
- دہخدا، علی اکبر، لغتنامہ دہخدا، تہران، دانشگاه تہران، ۱۳۷۷ش۔
- راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات الفاظ القرآن، بیروت، دار القلم، بی تا۔
- طریحی، فخر الدین بن محمد، مجمع البحرین، تہران، مرتضوی، ۱۳۷۵ش۔
- قرشی، علی اکبر، قاموس قرآن، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، ۱۳۷۱ش۔
- مبلغی آبادانی، عبد اللہ، تاریخ ادیان و مذاہب جہان، مشہد، بنیاد پژوهشہای اسلامی، ۱۳۷۳ش۔
- مصباح یزدی، محمد تقی، آموزش عقاید، تہران، بین الملل، ۱۳۸۸ش۔
- ناش، جان، تاریخ جامع ادیان، ترجمہ علی اصغر حکمت، تہران، علمی و فرهنگی، ۱۳۷۰ش۔
- ہوم، رابرٹ، ادیان زندہ جہان، ترجمہ عبد الرحیم گواہی، تہران، دفتر نشر فرهنگ اسلامی، ۱۳۶۹ش۔