"اصحاب امام حسین علیہ السلام" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ شہداء کربلا کو مسودہ:شہداء کربلا کی جانب منتقل کیا |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
[[فائل:شہدای کربلا.jpg|تصغیر|بائیں|]] | |||
'''شہداء کربلا''' ،ابنِ شہر آشوب نے پہلے حملہ میں شہید ہونے والے [[حسین بن علی|امام حسینؑ]] کے اصحاب کی تعداد چالیس بیان کی ہے، جن میں سے اٹھائیس افراد کے نام ذکر کیے ہیں۔ پھر فرماتے ہیں کہ ان میں سے دس افراد امام حسینؑ کے آزاد کردہ غلاموں (موالی) میں سے تھے اور دو افراد [[علی ابن ابی طالب|امیرالمؤمنین حضرت علیؑ]] کے موالی میں سے تھے۔ ہم یہاں کتاب "ابصار العین" (سماوی) کے مطابق ان حضرات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔ بعض کے بارے میں دیگر مورخین نے یہ ذکر کیا ہے کہ وہ پہلے حملہ میں شہید نہیں ہوئے تھے، اور اختلافی موارد کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ | '''شہداء کربلا''' ،ابنِ شہر آشوب نے پہلے حملہ میں شہید ہونے والے [[حسین بن علی|امام حسینؑ]] کے اصحاب کی تعداد چالیس بیان کی ہے، جن میں سے اٹھائیس افراد کے نام ذکر کیے ہیں۔ پھر فرماتے ہیں کہ ان میں سے دس افراد امام حسینؑ کے آزاد کردہ غلاموں (موالی) میں سے تھے اور دو افراد [[علی ابن ابی طالب|امیرالمؤمنین حضرت علیؑ]] کے موالی میں سے تھے۔ ہم یہاں کتاب "ابصار العین" (سماوی) کے مطابق ان حضرات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔ بعض کے بارے میں دیگر مورخین نے یہ ذکر کیا ہے کہ وہ پہلے حملہ میں شہید نہیں ہوئے تھے، اور اختلافی موارد کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ | ||
1- ادہم بن اُمیہ: | == 1- ادہم بن اُمیہ: == | ||
وہ بصرہ کے شیعوں میں سے تھے جو ماریہ کے گھر میں جمع ہوتے تھے۔ وہ یزید بن ثبیط کے ساتھ بصرہ سے مکہ آئے اور امام حسینؑ کے ساتھ شامل ہوگئے۔ | وہ بصرہ کے [[شیعہ|شیعوں]] میں سے تھے جو ماریہ کے گھر میں جمع ہوتے تھے۔ وہ یزید بن ثبیط کے ساتھ بصرہ سے مکہ آئے اور امام حسینؑ کے ساتھ شامل ہوگئے۔ | ||
2- اُمَیّ بن سعد: | == 2- اُمَیّ بن سعد: == | ||
وہ حضرت امیرالمؤمنینؑ کے اصحاب اور تابعین میں سے تھے اور کوفہ میں رہتے تھے۔ جب انہیں امام حسینؑ کی کربلا آمد کی خبر ملی تو جنگ سے پہلے کے ایام میں امامؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ | وہ [[علی ابن ابی طالب|حضرت امیرالمؤمنینؑ]] کے اصحاب اور تابعین میں سے تھے اور کوفہ میں رہتے تھے۔ جب انہیں [[حسین بن علی|امام حسینؑ]] کی [[کربلا]] آمد کی خبر ملی تو [[جنگ]] سے پہلے کے ایام میں امامؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ | ||
== 3- بشر بن عمر: == | |||
3- بشر بن عمر: | |||
وہ تابعین میں سے تھے اور ان کے بیٹوں کی شجاعت جنگوں میں مشہور تھی۔ ایامِ مهادنہ میں امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ | وہ تابعین میں سے تھے اور ان کے بیٹوں کی شجاعت جنگوں میں مشہور تھی۔ ایامِ مهادنہ میں امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ | ||
4- جابر بن حجاج: | == 4- جابر بن حجاج: == | ||
وہ امام حسینؑ کے بہادر ساتھیوں میں سے تھے اور عاشورا کے دن ظہر سے پہلے شہادت پائی۔ | وہ امام حسینؑ کے بہادر ساتھیوں میں سے تھے اور [[عاشورا]] کے دن ظہر سے پہلے شہادت پائی۔ | ||
5- حباب بن عامر: | == 5- حباب بن عامر: == | ||
وہ کوفہ کے رہنے والے اور شیعہ تھے۔ انہوں نے مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور راستے میں امام حسینؑ سے آ ملے۔ | وہ کوفہ کے رہنے والے اور شیعہ تھے۔ انہوں نے [[مسلم بن عقیل]] کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور راستے میں امام حسینؑ سے آ ملے۔ | ||
6- جبلہ بن علی: | == 6- جبلہ بن علی: == | ||
وہ کوفہ کے بہادر افراد میں شمار ہوتے تھے۔ ابتدا میں مسلم بن عقیل کے ساتھ تھے، پھر امام حسینؑ کی خدمت میں پہنچ گئے۔ | وہ کوفہ کے بہادر افراد میں شمار ہوتے تھے۔ ابتدا میں مسلم بن عقیل کے ساتھ تھے، پھر امام حسینؑ کی خدمت میں پہنچ گئے۔ | ||
== 7- جنادہ بن کعب: == | |||
وہ [[مکه|مکہ]] سے ہی امام حسینؑ کے ہمراہ تھے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ کربلا تک امامؑ کے ساتھ رہے۔ | |||
== 8- جندب بن حجیر کندی: == | |||
وہ | وہ شیعوں کے ممتاز افراد اور حضرت امیرالمؤمنینؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ امام حسینؑ اور حر بن یزید کی ملاقات سے پہلے راستے میں امامؑ سے جا ملے اور کربلا پہنچے۔ | ||
بعض مورخین کے مطابق وہ جنگ کے آغاز میں شہید ہوئے۔ بعض نے ان کے بیٹے حجیر بن جندب کی شہادت کا ذکر کیا ہے، لیکن یہ ثابت نہیں کہ باپ اور بیٹا دونوں ایک ساتھ شہید ہوئے ہوں۔ | |||
9- جوین بن مالک: | == 9- جوین بن مالک: == | ||
وہ بنی تمیم میں رہنے والے ایک شیعہ تھے۔ ابتدا میں اپنی قوم کے ساتھ امام حسینؑ کے خلاف جنگ کے لیے نکلے تھے، لیکن جب عمر بن سعد نے امامؑ کی شرائط قبول نہ کیں تو دوسرے افراد کی طرح لشکرِ کوفہ کو چھوڑ کر رات کے وقت امام حسینؑ کے خیموں میں آ گئے۔ | وہ بنی تمیم میں رہنے والے ایک شیعہ تھے۔ ابتدا میں اپنی قوم کے ساتھ امام حسینؑ کے خلاف جنگ کے لیے نکلے تھے، لیکن جب عمر بن سعد نے امامؑ کی شرائط قبول نہ کیں تو دوسرے افراد کی طرح لشکرِ کوفہ کو چھوڑ کر رات کے وقت امام حسینؑ کے خیموں میں آ گئے۔ | ||
10- حارث بن امرئ القیس: | == 10- حارث بن امرئ القیس: == | ||
وہ ایک نامور بہادر تھے اور جنگوں میں بڑی شہرت رکھتے تھے۔ ابتدا میں عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے تھے، لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ امام حسینؑ کی بات قبول نہیں کی جا رہی تو امامؑ سے جا ملے۔ | وہ ایک نامور بہادر تھے اور جنگوں میں بڑی شہرت رکھتے تھے۔ ابتدا میں عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے تھے، لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ امام حسینؑ کی بات قبول نہیں کی جا رہی تو امامؑ سے جا ملے۔ | ||
11- حارث بن نبہان: | == 11- حارث بن نبہان: == | ||
ان کے والد نبہان، حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؑ کے غلام اور ایک بہادر شہسوار تھے۔ حارث، حضرت علیؑ اور امام حسنؑ کے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور امام حسینؑ کے ساتھ کربلا آئے اور شہادت پائی۔ | ان کے والد نبہان، حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؑ کے غلام اور ایک بہادر شہسوار تھے۔ حارث، حضرت علیؑ اور [[حسن بن علی|امام حسنؑ]] کے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور امام حسینؑ کے ساتھ کربلا آئے اور شہادت پائی۔ | ||
12- حجاج بن بدر: | == 12- حجاج بن بدر: == | ||
وہ بصرہ کے رہنے والے تھے اور وہی شخص تھے جو بصرہ سے امام حسینؑ کا خط مسعود بن عمرو کے نام لے کر کربلا پہنچے تھے۔ وہ امامؑ کے ساتھ رہے یہاں تک کہ عاشورا کے دن پہلی یورش میں ظہر سے پہلے شہید ہوگئے، اگرچہ بعض نے ان کی شہادت کو ظہر کے بعد انفرادی جنگ کے دوران ذکر کیا ہے۔ | وہ بصرہ کے رہنے والے تھے اور وہی شخص تھے جو بصرہ سے امام حسینؑ کا خط مسعود بن عمرو کے نام لے کر کربلا پہنچے تھے۔ وہ امامؑ کے ساتھ رہے یہاں تک کہ عاشورا کے دن پہلی یورش میں ظہر سے پہلے شہید ہوگئے، اگرچہ بعض نے ان کی شہادت کو ظہر کے بعد انفرادی جنگ کے دوران ذکر کیا ہے۔ | ||
== 13- حلاس بن عمرو: == | |||
وہ اور ان کے بھائی نعمان، حضرت امیرالمؤمنینؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ حلاس کوفہ میں حضرت علیؑ کی فوج کے ایک کمانڈر تھے۔ ابتدا میں عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے، لیکن جب عمر بن سعد نے امام حسینؑ کی شرائط مسترد کر دیں تو وہ رات کے وقت امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہوگئے۔ | |||
== 14- زاہر بن عمرو: == | |||
وہ اور | وہ ایک تجربہ کار، مشہور اور دلیر مجاہد تھے اور اہلِ بیتؑ کے معروف دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ عمرو بن الحمق، جو ایک معروف صحابی تھے، کے ساتھی تھے۔ جب زیاد بن ابیہ نے عمرو بن الحمق کی تلاش شروع کی تو زاہر بھی ان کے ساتھ تھے۔ | ||
بعد میں جب معاویہ نے عمرو بن الحمق کا تعاقب کیا تو زاہر بھی اس کی نگرانی میں تھے۔ آخرکار عمرو بن الحمق کو معاویہ کے حکم سے شہید کر دیا گیا، جبکہ زاہر روپوش ہوگئے۔ سن 60 ہجری میں حج کی ادائیگی کے بعد ان کی ملاقات امام حسینؑ سے ہوئی اور وہ امامؑ کے ساتھ کربلا روانہ ہوئے۔ | |||
یہ رہا مذکورہ متن کا اردو ترجمہ: | یہ رہا مذکورہ متن کا اردو ترجمہ: | ||
== 15- زہیر بن سلیم: == | |||
جب لشکرِ کوفہ نے امام حسینؑ سے جنگ کا فیصلہ کر لیا تو زہیر بن سلیم ان افراد میں شامل تھے جو شبِ عاشور امامؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؑ کے اصحاب میں شامل ہو گئے۔ | جب لشکرِ کوفہ نے امام حسینؑ سے جنگ کا فیصلہ کر لیا تو زہیر بن سلیم ان افراد میں شامل تھے جو شبِ عاشور امامؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؑ کے اصحاب میں شامل ہو گئے۔ | ||
عبداللہ بن عمیر کہا کرتے تھے: "خدا کی قسم! میں اہلِ شرک کے خلاف جہاد کا مشتاق ہوں، | انہوں نے انتہائی شوق و جذبے کے ساتھ جنگ کی، یہاں تک کہ پہلی یورش میں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔ | ||
[[شہادت]] کے بعد انہیں ایک اور فضیلت حاصل ہوئی، وہ یہ کہ زیارتِ ناحیہ مقدسہ میں ان پر سلام بھیجا گیا ہے۔ | |||
عبداللہ بن عمیر کہا کرتے تھے: "خدا کی قسم! میں اہلِ شرک کے خلاف جہاد کا مشتاق ہوں، | |||
اور مجھے امید ہے کہ ان لوگوں سے جنگ کرنا جو اپنے نبیؐ کی دختر کے فرزند سے جنگ کر رہے ہیں، ثواب کے اعتبار سے مشرکین سے جہاد سے کم نہ ہوگا۔" پھر وہ اپنی زوجہ امِّ وہب کے پاس گئے اور اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔ ان کی اہلیہ نے کہا: "آپ نے درست فیصلہ کیا ہے، خدا آپ کو بہترین راہوں کی ہدایت فرمائے۔ یہی کام کیجیے اور مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلیے۔" | |||
== 16- سالم (عامر بن مسلم کے غلام): == | |||
وہ عامر بن مسلم کے غلام تھے اور بصرہ میں رہتے تھے۔ عامر بصرہ کے شیعوں میں شمار ہوتے تھے۔ جب یزید بن ثبیط اپنے بیٹوں اور چند دیگر افراد کے ساتھ مکہ میں امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سالم بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور امامؑ کے ہمراہ کربلا آئے۔ | وہ عامر بن مسلم کے غلام تھے اور بصرہ میں رہتے تھے۔ عامر بصرہ کے شیعوں میں شمار ہوتے تھے۔ جب یزید بن ثبیط اپنے بیٹوں اور چند دیگر افراد کے ساتھ مکہ میں امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سالم بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور امامؑ کے ہمراہ کربلا آئے۔ | ||
== 17- سالم بن عمرو: == | |||
وہ کوفہ کے رہنے والے اور شیعہ تھے۔ جنگ کے آغاز سے پہلے، ایامِ مهادنہ میں کربلا پہنچے اور امام حسینؑ کے اصحاب میں شامل ہو گئے۔ | وہ کوفہ کے رہنے والے اور شیعہ تھے۔ جنگ کے آغاز سے پہلے، ایامِ مهادنہ میں کربلا پہنچے اور امام حسینؑ کے اصحاب میں شامل ہو گئے۔ | ||
== 18- سوار بن ابی حمیر: == | |||
وہ بھی جنگ شروع ہونے سے پہلے امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہوئے۔ پہلی یورش میں زخمی ہو گئے اور لشکرِ کوفہ نے انہیں گرفتار کرکے عمر بن سعد کے پاس پہنچایا۔ عمر بن سعد انہیں قتل کرنا چاہتا تھا، مگر ان کے رشتہ داروں نے، جو لشکرِ کوفہ میں موجود تھے، ان کی رہائی کی درخواست کی۔ چنانچہ انہیں آزاد کر دیا گیا، لیکن زخموں کی شدت کے باعث چھ ماہ بعد شہید ہو گئے۔ زیارتِ ناحیہ میں ان کے بارے میں آیا ہے: | وہ بھی جنگ شروع ہونے سے پہلے امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہوئے۔ پہلی یورش میں زخمی ہو گئے اور لشکرِ کوفہ نے انہیں گرفتار کرکے عمر بن سعد کے پاس پہنچایا۔ | ||
عمر بن سعد انہیں قتل کرنا چاہتا تھا، مگر ان کے رشتہ داروں نے، جو لشکرِ کوفہ میں موجود تھے، ان کی رہائی کی درخواست کی۔ چنانچہ انہیں آزاد کر دیا گیا، لیکن زخموں کی شدت کے باعث چھ ماہ بعد شہید ہو گئے۔ زیارتِ ناحیہ میں ان کے بارے میں آیا ہے: | |||
"السلام علی الجریح المأسور سوار بن ابی حمیر الفہمی" | "السلام علی الجریح المأسور سوار بن ابی حمیر الفہمی" | ||
| سطر 62: | سطر 70: | ||
"سلام ہو اس زخمی اور اسیر سوار بن ابی حمیر فہمی پر۔" | "سلام ہو اس زخمی اور اسیر سوار بن ابی حمیر فہمی پر۔" | ||
== 19- شبیب بن عبداللہ: == | |||
وہ ایک دلیر اور بہادر مجاہد تھے۔ سیف اور مالک، جو سریع کے بیٹے تھے، کے ساتھ امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہوئے اور عاشورا کے دن ظہر سے پہلے پہلی یورش میں شہادت پائی۔ | وہ ایک دلیر اور بہادر مجاہد تھے۔ سیف اور مالک، جو سریع کے بیٹے تھے، کے ساتھ امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہوئے اور عاشورا کے دن ظہر سے پہلے پہلی یورش میں شہادت پائی۔ | ||
== 20- عائذ بن مجمع: == | |||
وہ اپنے والد مجمع بن عبداللہ کے ساتھ راستے میں امام حسینؑ سے آ ملے۔ حر بن یزید نے انہیں روکنا چاہا، مگر امام حسینؑ نے فرمایا: | وہ اپنے والد مجمع بن عبداللہ کے ساتھ راستے میں امام حسینؑ سے آ ملے۔ حر بن یزید نے انہیں روکنا چاہا، مگر امام حسینؑ نے فرمایا: | ||
| سطر 72: | سطر 80: | ||
ان کے راہنما طرماح تھے۔ کتاب "حدائق" کے مصنف نے انہیں پہلی یورش کے شہداء میں شمار کیا ہے، جبکہ بعض دیگر مورخین کے مطابق وہ اپنے والد کے ساتھ جنگ کے آغاز ہی میں شہید ہوئے تھے۔ | ان کے راہنما طرماح تھے۔ کتاب "حدائق" کے مصنف نے انہیں پہلی یورش کے شہداء میں شمار کیا ہے، جبکہ بعض دیگر مورخین کے مطابق وہ اپنے والد کے ساتھ جنگ کے آغاز ہی میں شہید ہوئے تھے۔ | ||
== 21- عامر بن مسلم: == | |||
وہ بصرہ کے رہنے والے اور شیعہ تھے۔ اپنے غلام سالم کے ساتھ یزید بن ثبیط کے ہمراہ بصرہ سے مکہ آئے اور وہاں امام حسینؑ سے مل کر آپؑ کے ساتھ کربلا روانہ ہوئے۔ | وہ بصرہ کے رہنے والے اور شیعہ تھے۔ اپنے غلام سالم کے ساتھ یزید بن ثبیط کے ہمراہ بصرہ سے مکہ آئے اور وہاں امام حسینؑ سے مل کر آپؑ کے ساتھ کربلا روانہ ہوئے۔ | ||
== 22- عبداللہ بن بشیر: == | |||
وہ نامور بہادروں اور حق کے حامیوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا اور ان کے والد کا نام جنگوں میں مشہور تھا۔ | وہ نامور بہادروں اور حق کے حامیوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا اور ان کے والد کا نام جنگوں میں مشہور تھا۔ | ||
وہ ابتدا میں عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے، لیکن جنگ شروع ہونے سے پہلے امام حسینؑ سے جا ملے اور عاشورا کے دن ظہر سے پہلے پہلی یورش میں شہادت پائی۔ | |||
== 23- عبداللہ بن یزید: == | |||
وہ اپنے والد کے ساتھ بصرہ سے مکہ آئے اور امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر آپؑ کے ہمراہ کربلا پہنچے۔ | وہ اپنے والد کے ساتھ بصرہ سے مکہ آئے اور امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر آپؑ کے ہمراہ کربلا پہنچے۔ | ||
== 24- عبیداللہ بن یزید: == | |||
وہ بھی اپنے والد یزید بن ثبیط، اپنے بھائی اور بصرہ کے چند دیگر افراد کے ساتھ مکہ میں امام حسینؑ سے جا ملے۔ | وہ بھی اپنے والد یزید بن ثبیط، اپنے بھائی اور بصرہ کے چند دیگر افراد کے ساتھ مکہ میں امام حسینؑ سے جا ملے۔ | ||
== 25- عبدالرحمن بن عبدِ رب: == | |||
وہ رسول خداؐ کے اصحاب اور امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے مخلص ساتھیوں میں سے تھے۔ جب حضرت علیؑ نے رحبہ کوفہ میں لوگوں سے فرمایا کہ جو غدیرِ خم میں موجود تھا اور حدیثِ غدیر سنی تھی وہ کھڑا ہو کر گواہی دے، تو عبدالرحمن بن عبد رب بھی چند دیگر افراد کے ساتھ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: | وہ رسول خداؐ کے اصحاب اور امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے مخلص ساتھیوں میں سے تھے۔ جب حضرت علیؑ نے رحبہ کوفہ میں لوگوں سے فرمایا کہ جو [[غدیرخم|غدیرِ خم]] میں موجود تھا اور حدیثِ غدیر سنی تھی وہ کھڑا ہو کر گواہی دے، تو عبدالرحمن بن عبد رب بھی چند دیگر افراد کے ساتھ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: | ||
"ہم نے رسول خداؐ سے سنا کہ آپؐ فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ میرا ولی ہے اور میں مؤمنوں کا ولی ہوں، پس جس کا میں مولا ہوں، علیؑ اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو علیؑ سے محبت کرے تو اس سے محبت فرما، اور جو علیؑ سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔" | "ہم نے رسول خداؐ سے سنا کہ آپؐ فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ میرا ولی ہے اور میں مؤمنوں کا ولی ہوں، پس جس کا میں مولا ہوں، علیؑ اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو علیؑ سے محبت کرے تو اس سے محبت فرما، اور جو علیؑ سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔" | ||
حضرت علیؑ نے ان کی تربیت فرمائی تھی اور انہیں قرآن کی تعلیم دی تھی۔ وہ مکہ سے ہی امام حسینؑ کے ساتھ تھے اور کربلا تک آپؑ کے ہمراہ رہے۔ | حضرت علیؑ نے ان کی تربیت فرمائی تھی اور انہیں قرآن کی تعلیم دی تھی۔ وہ مکہ سے ہی امام حسینؑ کے ساتھ تھے اور کربلا تک آپؑ کے ہمراہ رہے۔ | ||
== 26- عبدالرحمن بن مسعود: == | |||
وہ اور ان کے والد معروف شیعہ اور مشہور بہادر تھے۔ وہ عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے، لیکن جنگ شروع ہونے سے پہلے امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا اور آپؑ کے ساتھ رہ گئے۔ دونوں باپ بیٹا پہلی یورش میں شہید ہوئے۔ | وہ اور ان کے والد معروف شیعہ اور مشہور بہادر تھے۔ وہ عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے، لیکن جنگ شروع ہونے سے پہلے امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا اور آپؑ کے ساتھ رہ گئے۔ دونوں باپ بیٹا پہلی یورش میں شہید ہوئے۔ | ||
== 27- عمر بن ضبیعہ: == | |||
وہ ایک ممتاز شہسوار تھے۔ ابتدا میں عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے، پھر امام حسینؑ کے اصحاب میں شامل ہو گئے۔ ابن حجر نے "الإصابة" میں لکھا ہے کہ عمرو بن ضبیعہ جنگوں کے نامور افراد میں سے تھے، نہایت بہادر تھے اور انہیں رسول خداؐ کی زیارت کا شرف بھی حاصل تھا۔ | وہ ایک ممتاز شہسوار تھے۔ ابتدا میں عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے، پھر امام حسینؑ کے اصحاب میں شامل ہو گئے۔ ابن حجر نے "الإصابة" میں لکھا ہے کہ عمرو بن ضبیعہ جنگوں کے نامور افراد میں سے تھے، نہایت بہادر تھے اور انہیں رسول خداؐ کی زیارت کا شرف بھی حاصل تھا۔ | ||
== 28- عمار بن حسان: == | |||
وہ مخلص شیعوں اور معروف بہادروں میں سے تھے۔ ان کے والد حسان، حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے تھے اور جنگِ جمل اور صفین میں آپؑ کے دفاع میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ عمار مکہ سے ہی امام حسینؑ کے ہمراہ تھے اور عاشورا کے دن پہلی یورش میں شہادت پانے تک آپؑ سے جدا نہ ہوئے۔ | وہ مخلص شیعوں اور معروف بہادروں میں سے تھے۔ ان کے والد حسان، حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے تھے اور جنگِ جمل اور صفین میں آپؑ کے دفاع میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ عمار مکہ سے ہی امام حسینؑ کے ہمراہ تھے اور عاشورا کے دن پہلی یورش میں شہادت پانے تک آپؑ سے جدا نہ ہوئے۔ | ||
== 29- عمار بن سلامہ: == | |||
وہ رسول خداؐ کے صحابی اور حضرت علیؑ کے ساتھیوں میں سے تھے۔ جب جنگِ جمل کے لیے روانگی کے دوران انہوں نے امیرالمؤمنینؑ سے پوچھا کہ جب آپ اصحابِ جمل کے مقابل آئیں گے تو کیا کریں گے؟ حضرت علیؑ نے فرمایا: | وہ رسول خداؐ کے صحابی اور حضرت علیؑ کے ساتھیوں میں سے تھے۔ جب جنگِ جمل کے لیے روانگی کے دوران انہوں نے امیرالمؤمنینؑ سے پوچھا کہ جب آپ اصحابِ جمل کے مقابل آئیں گے تو کیا کریں گے؟ حضرت علیؑ نے فرمایا: | ||
| سطر 106: | سطر 115: | ||
عمار بن سلامہ نے عرض کیا: | عمار بن سلامہ نے عرض کیا: | ||
"جو شخص لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہے، وہ کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔" | "جو شخص لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہے، وہ کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔" | ||
بعد میں وہ کربلا میں امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جنگ میں شہادت پائی۔ | بعد میں وہ کربلا میں امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جنگ میں شہادت پائی۔ | ||
== 30- قاسم بن حبیب اَزدی: == | |||
وہ کوفہ کے شیعوں میں سے تھے۔ ابتدا میں عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے، لیکن جنگ شروع ہونے سے پہلے امام حسینؑ کے خیموں میں آ کر آپؑ کے اصحاب میں شامل ہو گئے۔ | وہ کوفہ کے شیعوں میں سے تھے۔ ابتدا میں عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے، لیکن جنگ شروع ہونے سے پہلے امام حسینؑ کے خیموں میں آ کر آپؑ کے اصحاب میں شامل ہو گئے۔ | ||
== 31- قاسط بن زہیر: == | |||
وہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے اصحاب اور امام حسنؑ کے ساتھیوں میں سے تھے۔ کوفہ میں مقیم رہے اور بالخصوص جنگِ صفین سمیت مختلف معرکوں میں شریک ہوئے۔ جب امام حسینؑ کربلا تشریف لائے تو وہ رات کے وقت آپؑ سے آ ملے۔ | وہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے اصحاب اور امام حسنؑ کے ساتھیوں میں سے تھے۔ کوفہ میں مقیم رہے اور بالخصوص جنگِ صفین سمیت مختلف معرکوں میں شریک ہوئے۔ جب امام حسینؑ کربلا تشریف لائے تو وہ رات کے وقت آپؑ سے آ ملے۔ | ||
| سطر 123: | سطر 130: | ||
اسی دوران شمر نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ اپنے گرز سے امِّ وہب کے سر پر ضرب لگائے۔ اس وار کے نتیجے میں امِّ وہب بھی اپنی آرزو کے مطابق اپنے شہید شوہر کے پہلو میں جان بحق ہو گئیں۔ | اسی دوران شمر نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ اپنے گرز سے امِّ وہب کے سر پر ضرب لگائے۔ اس وار کے نتیجے میں امِّ وہب بھی اپنی آرزو کے مطابق اپنے شہید شوہر کے پہلو میں جان بحق ہو گئیں۔ | ||
== 32- کردوس بن زہیر: == | |||
وہ حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے تھے اور اپنے دو بھائیوں کے ساتھ رات کے وقت امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہوئے۔ | وہ حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے تھے اور اپنے دو بھائیوں کے ساتھ رات کے وقت امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہوئے۔ | ||
== 33- کنانہ بن عتیق: == | |||
وہ کوفہ کے بہادر افراد میں سے تھے اور زہد، عبادت اور قراءتِ قرآن کے لیے معروف تھے۔ کربلا میں امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پہلی یورش میں شہید ہوئے، اگرچہ بعض مورخین نے ان کی شہادت کو پہلی یورش کے بعد بیان کیا ہے۔ | وہ کوفہ کے بہادر افراد میں سے تھے اور زہد، عبادت اور قراءتِ قرآن کے لیے معروف تھے۔ کربلا میں امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پہلی یورش میں شہید ہوئے، اگرچہ بعض مورخین نے ان کی شہادت کو پہلی یورش کے بعد بیان کیا ہے۔ | ||
== 34- مسلم بن کثیر: == | |||
وہ کوفہ کے تابعین اور حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ ایک جنگ میں ان کا ایک پاؤں زخمی ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ معذور ہو گئے تھے، اور غالباً اسی وجہ سے انہیں "اعرج" کہا جاتا تھا۔ جب امام حسینؑ کربلا پہنچے تو وہ کوفہ سے آپؑ کی مدد کے لیے روانہ ہوئے اور آپؑ کے ساتھ شہادت پائی۔ | وہ کوفہ کے تابعین اور حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ ایک جنگ میں ان کا ایک پاؤں زخمی ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ معذور ہو گئے تھے، اور غالباً اسی وجہ سے انہیں "اعرج" کہا جاتا تھا۔ جب امام حسینؑ کربلا پہنچے تو وہ کوفہ سے آپؑ کی مدد کے لیے روانہ ہوئے اور آپؑ کے ساتھ شہادت پائی۔ | ||
== 35- مسعود بن حجاج: == | |||
وہ اور ان کے بیٹے معروف شیعوں اور مشہور بہادروں میں شمار ہوتے تھے۔ ایامِ مهادنہ میں کربلا پہنچے، امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؑ کے ساتھ رہ گئے۔ دونوں باپ بیٹا پہلی یورش میں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔ | وہ اور ان کے بیٹے معروف شیعوں اور مشہور بہادروں میں شمار ہوتے تھے۔ ایامِ مهادنہ میں کربلا پہنچے، امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؑ کے ساتھ رہ گئے۔ دونوں باپ بیٹا پہلی یورش میں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔ | ||
| سطر 138: | سطر 145: | ||
وہ اور ان کے دو بھائی حضرت علیؑ کے اصحاب اور جنگِ جمل، صفین اور نہروان میں آپؑ کے ممتاز مجاہدین میں سے تھے۔ جب امام حسینؑ کربلا پہنچے تو یہ رات کے وقت آپؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جامِ شہادت نوش کیا۔ | وہ اور ان کے دو بھائی حضرت علیؑ کے اصحاب اور جنگِ جمل، صفین اور نہروان میں آپؑ کے ممتاز مجاہدین میں سے تھے۔ جب امام حسینؑ کربلا پہنچے تو یہ رات کے وقت آپؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جامِ شہادت نوش کیا۔ | ||
== 37- نصر بن ابی نیزر: == | |||
ان کے والد یا تو ایرانی بادشاہوں کی نسل سے تھے یا نجاشی کی اولاد میں سے تھے۔ نصر، امام علیؑ اور امام حسنؑ کے بعد امام حسینؑ کی خدمت میں رہے۔ وہ مدینہ سے امام حسینؑ کے ساتھ مکہ آئے اور وہاں سے کربلا پہنچے۔ ابتدا میں وہ سوار تھے، لیکن دشمن نے ان کے گھوڑے کو زخمی کر کے ناکارہ بنا دیا۔ وہ پہلی یورش میں شہید ہوئے۔ | ان کے والد یا تو ایرانی بادشاہوں کی نسل سے تھے یا نجاشی کی اولاد میں سے تھے۔ نصر، امام علیؑ اور امام حسنؑ کے بعد امام حسینؑ کی خدمت میں رہے۔ وہ مدینہ سے امام حسینؑ کے ساتھ مکہ آئے اور وہاں سے کربلا پہنچے۔ ابتدا میں وہ سوار تھے، لیکن دشمن نے ان کے گھوڑے کو زخمی کر کے ناکارہ بنا دیا۔ وہ پہلی یورش میں شہید ہوئے۔ | ||
== 38- نعمان بن عمرو الراسبی: == | |||
وہ اور ان کے بھائی کوفہ کے باشندے اور حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ جب عمر بن سعد نے امام حسینؑ کی بات قبول نہ کی تو وہ رات کے وقت امامؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؑ کے ساتھ شہادت پائی۔ | وہ اور ان کے بھائی کوفہ کے باشندے اور حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ جب عمر بن سعد نے امام حسینؑ کی بات قبول نہ کی تو وہ رات کے وقت امامؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؑ کے ساتھ شہادت پائی۔ | ||
== 39- نعیم بن عجلان: == | |||
وہ اور ان کے دو بھائی، نضر اور نعمان، تینوں حضرت علیؑ کے اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔ جنگِ صفین میں امیرالمؤمنینؑ کے ساتھ شریک رہے۔ وہ بہادر اور شاعر بھی تھے۔ نضر اور نعمان اس سے پہلے وفات پا چکے تھے، جبکہ نعیم کوفہ میں باقی رہے۔ جب امام حسینؑ عراق کی طرف روانہ ہوئے تو نعیم آپؑ سے جا ملے اور عاشورا کے دن میدانِ جنگ میں اتر کر پہلی یورش میں شہادت پائی۔ | وہ اور ان کے دو بھائی، نضر اور نعمان، تینوں حضرت علیؑ کے اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔ جنگِ صفین میں امیرالمؤمنینؑ کے ساتھ شریک رہے۔ وہ بہادر اور شاعر بھی تھے۔ | ||
نضر اور نعمان اس سے پہلے وفات پا چکے تھے، جبکہ نعیم کوفہ میں باقی رہے۔ جب امام حسینؑ عراق کی طرف روانہ ہوئے تو نعیم آپؑ سے جا ملے اور عاشورا کے دن میدانِ جنگ میں اتر کر پہلی یورش میں شہادت پائی۔ | |||
== 40- زہیر بن بشر خزعمی: == | |||
کتاب "مناقب" کے مصنف نے انہیں پہلی یورش کے شہداء میں شمار کیا ہے، لیکن دیگر تاریخی مصادر میں ان کا نام مذکور نہیں ملتا۔ | کتاب "مناقب" کے مصنف نے انہیں پہلی یورش کے شہداء میں شمار کیا ہے، لیکن دیگر تاریخی مصادر میں ان کا نام مذکور نہیں ملتا۔ | ||
== دیگر شہداء کے نام == | |||
جب امام حسینؑ کے وہ اصحاب، جن کے نام پہلے ذکر کیے جا چکے ہیں، پہلی یورش میں جامِ شہادت نوش کر چکے، تو اس کے بعد دوسرے اصحاب اور پھر بنی ہاشم سے تعلق رکھنے والے اہلِ بیتؑ کی قربانیوں کی باری آئی۔ | جب امام حسینؑ کے وہ اصحاب، جن کے نام پہلے ذکر کیے جا چکے ہیں، پہلی یورش میں جامِ شہادت نوش کر چکے، تو اس کے بعد دوسرے اصحاب اور پھر بنی ہاشم سے تعلق رکھنے والے [[اہل بیت|اہلِ بیتؑ]] کی قربانیوں کی باری آئی۔ | ||
ان میں سے ہر ایک میدانِ جنگ میں اترا، تلواروں اور نیزوں کا استقبال کیا، لباسِ شہادت زیب تن کیا، رضائے الٰہی اور لقائے پروردگار سے سرفراز ہوا اور رحمتِ خداوندی کے جوار میں جا بسا۔ پہلے اصحاب اور پھر اہلِ بیتؑ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ | |||
عبداللہ بن | == 1۔ عبداللہ بن عمیر == | ||
عبداللہ بن عمیر، وہب کے والد، ایک شریف اور بہادر انسان تھے۔ کوفہ میں "بئر الجعد" کے قریب ان کا گھر تھا اور ان کی زوجہ کا نام امِّ وہب تھا۔ ایک دن وہ نخیلہ میں لشکرِ کوفہ کے پڑاؤ پر پہنچے اور دیکھا کہ فوج کربلا کی طرف روانہ ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔ | |||
انہوں نے دریافت کیا کہ یہ لشکر کہاں جا رہا ہے؟ جواب ملا: | |||
"یہ لشکر رسول خداؐ کی دختر کے فرزند، حسینؑ، سے جنگ کرنے جا رہا ہے۔" | "یہ لشکر رسول خداؐ کی دختر کے فرزند، حسینؑ، سے جنگ کرنے جا رہا ہے۔" | ||
عبداللہ بن عمیر نے کہا: | عبداللہ بن عمیر نے کہا: | ||
| سطر 164: | سطر 175: | ||
پھر وہ اپنی زوجہ امِّ وہب کے پاس آئے اور اپنا ارادہ بیان کیا۔ امِّ وہب نے کہا: | پھر وہ اپنی زوجہ امِّ وہب کے پاس آئے اور اپنا ارادہ بیان کیا۔ امِّ وہب نے کہا: | ||
"آپ نے درست فیصلہ کیا ہے۔ خدا آپ کو بہترین راستے کی ہدایت فرمائے۔ یہی کام کیجیے اور مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلیے۔" | "آپ نے درست فیصلہ کیا ہے۔ خدا آپ کو بہترین راستے کی ہدایت فرمائے۔ یہی کام کیجیے اور مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلیے۔" | ||
| سطر 174: | سطر 184: | ||
"میرا خیال ہے کہ تم اپنے حریفوں کو زیر کر لو گے، اگر چاہو تو میدان میں جاؤ۔" | "میرا خیال ہے کہ تم اپنے حریفوں کو زیر کر لو گے، اگر چاہو تو میدان میں جاؤ۔" | ||
عبداللہ بن عمیر میدان میں گئے۔ سالم اور یسار نے ان کا نسب پوچھا۔ جب انہوں نے اپنا تعارف کرایا تو دونوں نے کہا: | عبداللہ بن عمیر میدان میں گئے۔ سالم اور یسار نے ان کا نسب پوچھا۔ جب انہوں نے اپنا تعارف کرایا تو دونوں نے کہا: | ||
"ہم تمہیں نہیں جانتے، حبیب، بریر یا زہیر میں سے کسی کو بھیجو۔" | "ہم تمہیں نہیں جانتے، حبیب، بریر یا زہیر میں سے کسی کو بھیجو۔" | ||
یسار، سالم سے آگے کھڑا تھا۔ عبداللہ بن عمیر نے کہا: | یسار، سالم سے آگے کھڑا تھا۔ عبداللہ بن عمیر نے کہا: | ||
| سطر 193: | سطر 201: | ||
"اگر تم مجھے نہیں پہچانتے تو میں قبیلہ کلب کا فرزند ہوں، | "اگر تم مجھے نہیں پہچانتے تو میں قبیلہ کلب کا فرزند ہوں، | ||
میرے لیے میرا خاندانی شرف ہی کافی ہے۔ | میرے لیے میرا خاندانی شرف ہی کافی ہے۔ | ||
میں عزم و ہمت والا انسان ہوں، | میں عزم و ہمت والا انسان ہوں، | ||
جنگ کے وقت بزدل نہیں بنتا۔ | جنگ کے وقت بزدل نہیں بنتا۔ | ||
| سطر 225: | سطر 234: | ||
اسی اثنا میں شمر نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ وہ اپنے گرز سے امِّ وہب کے سر پر ضرب لگائے۔ اس ضرب کے نتیجے میں امِّ وہب بھی اپنی آرزو کو پہنچ گئیں اور اپنے شہید شوہر کے پہلو میں جان دے دی۔ | اسی اثنا میں شمر نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ وہ اپنے گرز سے امِّ وہب کے سر پر ضرب لگائے۔ اس ضرب کے نتیجے میں امِّ وہب بھی اپنی آرزو کو پہنچ گئیں اور اپنے شہید شوہر کے پہلو میں جان دے دی۔ | ||
== 2 اور 3۔ سیف بن حارث اور مالک بن عبداللہ == | |||
یہ دونوں سوتیلے بھائی اپنے غلام شبیب کے ساتھ عاشورا کے دن اس وقت، جب انہوں نے امام حسینؑ کو اس حالت میں دیکھا، روتے ہوئے آپؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؑ کے لشکر میں شامل ہو گئے۔ | یہ دونوں سوتیلے بھائی اپنے غلام شبیب کے ساتھ عاشورا کے دن اس وقت، جب انہوں نے امام حسینؑ کو اس حالت میں دیکھا، روتے ہوئے آپؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؑ کے لشکر میں شامل ہو گئے۔ | ||
| سطر 251: | سطر 260: | ||
پھر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے لڑتے رہے، ایک دوسرے کے پیچھے پیچھے بڑھتا تھا، یہاں تک کہ دونوں جامِ شہادت نوش کر گئے۔ | پھر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے لڑتے رہے، ایک دوسرے کے پیچھے پیچھے بڑھتا تھا، یہاں تک کہ دونوں جامِ شہادت نوش کر گئے۔ | ||
== 4۔ عمرو بن خالد صیداوی == | |||
== 5۔ سعد، غلامِ عمرو == | |||
== 6۔ جابر بن حارث == | |||
== 7۔ مجمع بن عبداللہ == | |||
یہ چاروں بزرگوار ایک ساتھ اہلِ کوفہ پر حملہ آور ہوئے۔ جب وہ دشمن کے درمیان پہنچ گئے تو لشکرِ کوفہ نے انہیں گھیر لیا اور امام حسینؑ کے دوسرے اصحاب سے جدا کر دیا۔ | یہ چاروں بزرگوار ایک ساتھ اہلِ کوفہ پر حملہ آور ہوئے۔ جب وہ دشمن کے درمیان پہنچ گئے تو لشکرِ کوفہ نے انہیں گھیر لیا اور امام حسینؑ کے دوسرے اصحاب سے جدا کر دیا۔ | ||
| سطر 265: | سطر 273: | ||
راستے میں دشمن نے دوبارہ ان پر حملہ کیا۔ اگرچہ وہ زخمی تھے، مگر بہادری سے لڑتے رہے، یہاں تک کہ سب ایک دوسرے کے پہلو میں شہید ہو گئے۔ | راستے میں دشمن نے دوبارہ ان پر حملہ کیا۔ اگرچہ وہ زخمی تھے، مگر بہادری سے لڑتے رہے، یہاں تک کہ سب ایک دوسرے کے پہلو میں شہید ہو گئے۔ | ||
اسی اثنا میں عمرو بن حجاج نے اپنے لشکر کے ساتھ امام حسینؑ کے اصحاب کے دائیں بازو پر دوبارہ حملہ کیا۔ جب وہ امامؑ کے قریب پہنچے تو اصحابِ امامؑ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور اپنے نیزے دشمن کی طرف تان دیے، | اسی اثنا میں عمرو بن حجاج نے اپنے لشکر کے ساتھ امام حسینؑ کے اصحاب کے دائیں بازو پر دوبارہ حملہ کیا۔ جب وہ امامؑ کے قریب پہنچے تو اصحابِ امامؑ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور اپنے نیزے دشمن کی طرف تان دیے، | ||
جس کے باعث عمرو بن حجاج کے لشکر کے گھوڑے آگے نہ بڑھ سکے۔ جب دشمن واپس پلٹا تو اصحابِ امامؑ نے ان پر تیروں کی بارش کی، جس سے ان کے کئی افراد مارے گئے اور بہت سے زخمی ہوئے۔ | |||
== 8۔ بریر بن خضیر == | |||
جب جنگ شدت اختیار کر گئی تو لشکرِ کوفہ کا ایک شخص، یزید بن معقل، میدان میں آیا اور بریر کو آواز دے کر کہا: | جب جنگ شدت اختیار کر گئی تو لشکرِ کوفہ کا ایک شخص، یزید بن معقل، میدان میں آیا اور بریر کو آواز دے کر کہا: | ||
| سطر 333: | سطر 343: | ||
نقل کیا گیا ہے کہ کعب بن جابر اپنے اس فعل پر بہت پشیمان ہوا اور اس نے کچھ اشعار کہے جن میں اس عظیم جرم کے ارتکاب پر اپنے غم و افسوس کا اظہار کیا۔ | نقل کیا گیا ہے کہ کعب بن جابر اپنے اس فعل پر بہت پشیمان ہوا اور اس نے کچھ اشعار کہے جن میں اس عظیم جرم کے ارتکاب پر اپنے غم و افسوس کا اظہار کیا۔ | ||
== 9۔ عمرو بن قرظہ بن کعب انصاری == | |||
ان کے والد، قرظہ بن کعب، رسول خداؐ کے صحابی اور امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ وہ حضرت علیؑ کے ساتھ مختلف جنگوں میں شریک رہے اور امیرالمؤمنینؑ نے انہیں فارس کا گورنر مقرر فرمایا تھا۔ ان کا انتقال 51 ہجری میں ہوا۔ ان کے کئی بیٹے تھے، جن میں عمرو اور علی زیادہ مشہور ہیں۔ | ان کے والد، قرظہ بن کعب، رسول خداؐ کے صحابی اور امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ وہ حضرت علیؑ کے ساتھ مختلف جنگوں میں شریک رہے اور امیرالمؤمنینؑ نے انہیں فارس کا گورنر مقرر فرمایا تھا۔ | ||
ان کا انتقال 51 ہجری میں ہوا۔ ان کے کئی بیٹے تھے، جن میں عمرو اور علی زیادہ مشہور ہیں۔ | |||
عمرو بن قرظہ ایامِ مهادنہ میں امام حسینؑ کی خدمت میں کربلا پہنچے تھے۔ امام حسینؑ انہیں عمر بن سعد کے پاس نصیحت اور گفت و شنید کے لیے بھیجتے تھے، اور یہ سلسلہ شمر کے کربلا پہنچنے تک جاری رہا۔ شمر کی آمد کے بعد یہ رابطہ ختم ہو گیا۔ | عمرو بن قرظہ ایامِ مهادنہ میں امام حسینؑ کی خدمت میں کربلا پہنچے تھے۔ امام حسینؑ انہیں عمر بن سعد کے پاس نصیحت اور گفت و شنید کے لیے بھیجتے تھے، اور یہ سلسلہ شمر کے کربلا پہنچنے تک جاری رہا۔ شمر کی آمد کے بعد یہ رابطہ ختم ہو گیا۔ | ||
| سطر 380: | سطر 392: | ||
چنانچہ اس نے اپنے ساتھ موجود کپڑے میں امام حسینؑ کے جسمِ مبارک کو لپیٹا اور زہیر بن قین کو ایک پھٹے ہوئے کپڑے میں کفن دیا۔ | چنانچہ اس نے اپنے ساتھ موجود کپڑے میں امام حسینؑ کے جسمِ مبارک کو لپیٹا اور زہیر بن قین کو ایک پھٹے ہوئے کپڑے میں کفن دیا۔ | ||
== 10 اور 11۔ سعد بن حارث اور ابو الحتوف بن حارث == | |||
یہ دونوں بھائی عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے تھے۔ عاشورا کے دن جب امام حسینؑ کی یہ صدا بلند ہوئی: | یہ دونوں بھائی عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے تھے۔ عاشورا کے دن جب امام حسینؑ کی یہ صدا بلند ہوئی: | ||
| سطر 391: | سطر 402: | ||
بعض مورخین نے لکھا ہے کہ ان دونوں بھائیوں نے امام حسینؑ کے آخری لمحات میں، تمام اصحاب کی شہادت کے بعد، جامِ شہادت نوش کیا۔ | بعض مورخین نے لکھا ہے کہ ان دونوں بھائیوں نے امام حسینؑ کے آخری لمحات میں، تمام اصحاب کی شہادت کے بعد، جامِ شہادت نوش کیا۔ | ||
== 12۔ نافع بن ہلال == | |||
وہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے، ایک شریف، بہادر، قاریِ قرآن اور راویِ حدیث تھے۔ جنگِ جمل، صفین اور نہروان میں حضرت علیؑ کے ہمراہ تلوار چلا چکے تھے۔ | وہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے، ایک شریف، بہادر، قاریِ قرآن اور راویِ حدیث تھے۔ جنگِ جمل، صفین اور نہروان میں حضرت علیؑ کے ہمراہ تلوار چلا چکے تھے۔ | ||
| سطر 428: | سطر 439: | ||
"اے نافع! افسوس تم پر، تم نے اپنے ساتھ یہ کیا کیوں؟" | "اے نافع! افسوس تم پر، تم نے اپنے ساتھ یہ کیا کیوں؟" | ||
نافع بن ہلال | |||
نافع بن ہلال نے جواب دیا: | نافع بن ہلال نے جواب دیا: | ||
| سطر 456: | سطر 467: | ||
اس کے بعد شمر نے انہیں شہید کر دیا۔ اللہ کی رضوان ان پر نازل ہو۔ | اس کے بعد شمر نے انہیں شہید کر دیا۔ اللہ کی رضوان ان پر نازل ہو۔ | ||
== 13۔ ابو الشعثاء کندی == | |||
ان کا اصل نام یزید بن زیاد تھا۔ وہ عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے تھے، لیکن جب جنگ شروع ہوئی اور لوگوں نے امام حسینؑ کی بات قبول نہ کی تو وہ امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہو گئے۔ | ان کا اصل نام یزید بن زیاد تھا۔ وہ عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے تھے، لیکن جب جنگ شروع ہوئی اور لوگوں نے امام حسینؑ کی بات قبول نہ کی تو وہ امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہو گئے۔ | ||
| سطر 476: | سطر 485: | ||
"میں یزید ہوں اور میرے والد مہاجر تھے، میں غار میں بیٹھے شیر سے بھی زیادہ دلیر ہوں۔ اے میرے پروردگار! میں حسینؑ کا مددگار ہوں اور ابن سعد سے بیزار اور اس سے جدا ہوں۔" | "میں یزید ہوں اور میرے والد مہاجر تھے، میں غار میں بیٹھے شیر سے بھی زیادہ دلیر ہوں۔ اے میرے پروردگار! میں حسینؑ کا مددگار ہوں اور ابن سعد سے بیزار اور اس سے جدا ہوں۔" | ||
== 14۔ مسلم بن عوسجہ == | |||
مسلم بن عوسجہ ایک نہایت معزز، عبادت گزار اور زاہد شخصیت تھے اور رسول خداؐ کے اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔ اسلامی فتوحات اور جنگوں میں ان کی شجاعت زبان زد عام تھی۔ | مسلم بن عوسجہ ایک نہایت معزز، عبادت گزار اور زاہد شخصیت تھے اور رسول خداؐ کے اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔ اسلامی فتوحات اور جنگوں میں ان کی شجاعت زبان زد عام تھی۔ | ||
| سطر 485: | سطر 492: | ||
عاشورا کے دن وہ نہایت بہادری سے لڑتے ہوئے یہ رجز پڑھ رہے تھے: | عاشورا کے دن وہ نہایت بہادری سے لڑتے ہوئے یہ رجز پڑھ رہے تھے: | ||
"اگر تم میرے بارے میں پوچھو تو میں بنی اسد کی شاخ سے تعلق رکھنے والا ایک بہادر انسان ہوں، اور جو مجھ سے دشمنی کرے وہ راہِ حق سے بھٹکا ہوا اور خدائے یکتا کے دین کا منکر ہے۔" | "اگر تم میرے بارے میں پوچھو تو میں بنی اسد کی شاخ سے تعلق رکھنے والا ایک بہادر انسان ہوں، اور جو مجھ سے دشمنی کرے وہ راہِ حق سے بھٹکا ہوا اور خدائے یکتا کے دین کا منکر ہے۔" | ||
| سطر 493: | سطر 499: | ||
"اے مسلم بن عوسجہ! خدا تم پر رحمت نازل فرمائے۔" | "اے مسلم بن عوسجہ! خدا تم پر رحمت نازل فرمائے۔" | ||
پھر آپؑ نے قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی: | پھر آپؑ نے قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی: | ||
"فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا" | |||
"ان میں سے بعض اپنی نذر پوری کر چکے اور بعض انتظار میں ہیں، اور انہوں نے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔" | "ان میں سے بعض اپنی نذر پوری کر چکے اور بعض انتظار میں ہیں، اور انہوں نے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔" | ||
اس موقع پر حبیب بن مظاہر ان کے قریب آئے اور فرمایا: | اس موقع پر حبیب بن مظاہر ان کے قریب آئے اور فرمایا: | ||
"اے مسلم بن عوسجہ! تمہاری شہادت مجھ پر بہت گراں گزری ہے، میں تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں۔" | "اے مسلم بن عوسجہ! تمہاری شہادت مجھ پر بہت گراں گزری ہے، میں تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں۔" | ||
| سطر 507: | سطر 510: | ||
"اللہ تمہیں بھی خیر کی بشارت دے۔" | "اللہ تمہیں بھی خیر کی بشارت دے۔" | ||
حبیب بن مظاہر نے فرمایا: | حبیب بن مظاہر نے فرمایا: | ||
| سطر 513: | سطر 515: | ||
مسلم بن عوسجہ نے امام حسینؑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: | مسلم بن عوسجہ نے امام حسینؑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: | ||
"میں تمہیں اس ہستی (امام حسینؑ) کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ اپنی جان ان پر قربان کر دینا۔" | "میں تمہیں اس ہستی (امام حسینؑ) کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ اپنی جان ان پر قربان کر دینا۔" | ||
حبیب بن مظاہر نے جواب دیا: | حبیب بن مظاہر نے جواب دیا: | ||
"ربِ کعبہ کی قسم! میں ایسا ہی کروں گا۔" | "ربِ کعبہ کی قسم! میں ایسا ہی کروں گا۔" | ||
| سطر 539: | سطر 539: | ||
تاریخی روایات کے مطابق، مسلم بن عوسجہ کو دو افراد، مسلم بن عبداللہ ضبابی اور عبدالرحمن بن ابی خشکارہ بجلی نے شہید کیا۔ | تاریخی روایات کے مطابق، مسلم بن عوسجہ کو دو افراد، مسلم بن عبداللہ ضبابی اور عبدالرحمن بن ابی خشکارہ بجلی نے شہید کیا۔ | ||
== حبیب بن مظاہر == | |||
حبیب بن مظاہر رسول خداؐ کے اصحاب میں سے تھے۔ وہ کوفہ میں رہتے تھے اور امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے خاص اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔ آپؑ کے تمام معرکوں میں شریک رہے اور حضرت علیؑ کے علوم کے حاملین اور خواص اصحاب میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ | حبیب بن مظاہر رسول خداؐ کے اصحاب میں سے تھے۔ وہ کوفہ میں رہتے تھے اور امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے خاص اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔ آپؑ کے تمام معرکوں میں شریک رہے اور حضرت علیؑ کے علوم کے حاملین اور خواص اصحاب میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ | ||
| سطر 548: | سطر 545: | ||
جب امام حسینؑ نے قیام فرمایا تو حبیب بن مظاہر ان خوش نصیب افراد میں شامل تھے جو نہایت اشتیاق اور اخلاص کے ساتھ آپؑ کی نصرت کے لیے کربلا پہنچے۔ | جب امام حسینؑ نے قیام فرمایا تو حبیب بن مظاہر ان خوش نصیب افراد میں شامل تھے جو نہایت اشتیاق اور اخلاص کے ساتھ آپؑ کی نصرت کے لیے کربلا پہنچے۔ | ||
== 15۔ حُر بن یزید ریاحی == | |||
[[حر بن یزید ریاحی|حُر بن یزید ریاحی]] اپنی قوم میں ایک معزز اور باوقار شخصیت تھے۔ آخرکار انہوں نے ندائے حق پر لبیک کہا، خوش دلی کے ساتھ شہادت کا استقبال کیا اور فرزندِ رسولؐ کی نصرت کا شرف حاصل کیا۔ | |||
حُر بن یزید ریاحی اپنی قوم میں ایک معزز اور باوقار شخصیت تھے۔ آخرکار انہوں نے ندائے حق پر لبیک کہا، خوش دلی کے ساتھ شہادت کا استقبال کیا اور فرزندِ رسولؐ کی نصرت کا شرف حاصل کیا۔ | |||
وہ نہایت بہادری سے جنگ کرتے ہوئے یہ رجز پڑھ رہے تھے: | وہ نہایت بہادری سے جنگ کرتے ہوئے یہ رجز پڑھ رہے تھے: | ||
"میں حُر ہوں اور مہمانوں کو پناہ دینے والا ہوں، | |||
میں اپنی تلوار سے تمہارے چہروں پر ضرب لگاتا ہوں، | |||
اس ہستی کی خاطر جو سرزمین خیف میں اترنے والوں میں سب سے بہتر ہے، | اس ہستی کی خاطر جو سرزمین خیف میں اترنے والوں میں سب سے بہتر ہے، | ||
میں تم سے جنگ کرتا ہوں اور اس میں کسی ظلم کو نہیں دیکھتا۔" | میں تم سے جنگ کرتا ہوں اور اس میں کسی ظلم کو نہیں دیکھتا۔" | ||
حُر بن یزید اور زہیر بن قین ایک دوسرے کے ساتھ مل کر دشمن سے نبرد آزما تھے۔ جب ان میں سے کوئی ایک دشمن کے محاصرے میں آ جاتا تو دوسرا اسے نجات دلاتا۔ کچھ دیر تک اسی طرح جنگ جاری رہی۔ | حُر بن یزید اور زہیر بن قین ایک دوسرے کے ساتھ مل کر دشمن سے نبرد آزما تھے۔ جب ان میں سے کوئی ایک دشمن کے محاصرے میں آ جاتا تو دوسرا اسے نجات دلاتا۔ کچھ دیر تک اسی طرح جنگ جاری رہی۔ | ||
| سطر 566: | سطر 562: | ||
پھر ابن سعد کی پیادہ فوج نے ان پر اجتماعی حملہ کیا اور انہیں شہید کر دیا۔ | پھر ابن سعد کی پیادہ فوج نے ان پر اجتماعی حملہ کیا اور انہیں شہید کر دیا۔ | ||
امام حسینؑ کے اصحاب جلدی سے ان کے پاس پہنچے اور انہیں اس خیمے کے سامنے لے آئے جہاں جنگ جاری تھی۔ امام حسینؑ ان کے سرہانے تشریف لائے، ان کے چہرے سے خون صاف کیا اور فرمایا: | امام حسینؑ کے اصحاب جلدی سے ان کے پاس پہنچے اور انہیں اس خیمے کے سامنے لے آئے جہاں جنگ جاری تھی۔ امام حسینؑ ان کے سرہانے تشریف لائے، ان کے چہرے سے خون صاف کیا اور فرمایا: | ||
"تم واقعی حُر (آزاد) ہو، جیسے تمہاری ماں نے تمہارا نام رکھا تھا۔ تم دنیا اور آخرت دونوں میں آزاد ہو۔" | |||
حُر کی مرثیہ میں امام حسینؑ کے ایک صحابی نے یہ اشعار کہے: | حُر کی مرثیہ میں امام حسینؑ کے ایک صحابی نے یہ اشعار کہے: | ||
"قبیلہ بنی ریاح کا حُر بہترین انسان تھا، | |||
جو نیزوں کی ہنگامہ خیزی میں صبر کرنے والا تھا۔ | جو نیزوں کی ہنگامہ خیزی میں صبر کرنے والا تھا۔ | ||
کتنا اچھا حُر تھا، جب اس نے حسینؑ پر اپنی جان قربان کی | کتنا اچھا حُر تھا، جب اس نے حسینؑ پر اپنی جان قربان کی | ||
اور صبح کے وقت اپنی جان نثار کر دی۔" | اور صبح کے وقت اپنی جان نثار کر دی۔" | ||
بعض مؤرخین نے ان اشعار کو امام زین العابدین حضرت علی بن الحسینؑ کی طرف منسوب کیا ہے، جبکہ بعض نے انہیں خود امام حسینؑ کا کلام قرار دیا ہے۔ | بعض مؤرخین نے ان اشعار کو امام زین العابدین حضرت علی بن الحسینؑ کی طرف منسوب کیا ہے، جبکہ بعض نے انہیں خود امام حسینؑ کا کلام قرار دیا ہے۔ | ||
محبت سے بلند کیا نصرت کا پرچم، | |||
دین داری کی راہ میں سرخرو ہو گیا۔ | دین داری کی راہ میں سرخرو ہو گیا۔ | ||
حُر بن کر ظلمت کے پردے چاک کر دیے، | حُر بن کر ظلمت کے پردے چاک کر دیے، | ||
اور بیداری کا نغمہ گاتے ہوئے سرمست ہو گیا۔ | اور بیداری کا نغمہ گاتے ہوئے سرمست ہو گیا۔ | ||
== 16۔ حبیب بن مظاہر == | |||
حبیب بن مظاہر رسول خداؐ کے اصحاب میں سے تھے۔ وہ کوفہ میں مقیم تھے اور امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے خاص ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپؑ کے تمام معرکوں میں شریک رہے اور حضرت علیؑ کے علوم کے حاملین اور مخصوص اصحاب میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ وہ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جو شوق و اخلاص کے ساتھ امام حسینؑ کی نصرت کے لیے کربلا پہنچے۔ | حبیب بن مظاہر رسول خداؐ کے اصحاب میں سے تھے۔ وہ کوفہ میں مقیم تھے اور امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے خاص ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپؑ کے تمام معرکوں میں شریک رہے اور حضرت علیؑ کے علوم کے حاملین اور مخصوص اصحاب میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ وہ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جو شوق و اخلاص کے ساتھ امام حسینؑ کی نصرت کے لیے کربلا پہنچے۔ | ||
| سطر 594: | سطر 586: | ||
جب امام حسینؑ کربلا پہنچے تو یہ دونوں بزرگ چھپتے چھپاتے، دن میں پوشیدہ رہتے اور رات کے وقت سفر کرتے ہوئے امامؑ کے لشکر میں جا ملے۔ | جب امام حسینؑ کربلا پہنچے تو یہ دونوں بزرگ چھپتے چھپاتے، دن میں پوشیدہ رہتے اور رات کے وقت سفر کرتے ہوئے امامؑ کے لشکر میں جا ملے۔ | ||
جب امام حسینؑ نے ظہر کی نماز ادا کرنے کے لیے دشمن سے مہلت طلب کی تو حصین بن تمیم نے گستاخی کرتے ہوئے کہا: | جب امام حسینؑ نے ظہر کی نماز ادا کرنے کے لیے دشمن سے مہلت طلب کی تو حصین بن تمیم نے گستاخی کرتے ہوئے کہا: | ||
"تمہاری نماز قبول نہیں ہوگی!" | "تمہاری نماز قبول نہیں ہوگی!" | ||
اس پر حبیب بن مظاہر نے جواب دیا: | اس پر حبیب بن مظاہر نے جواب دیا: | ||
| سطر 609: | سطر 598: | ||
اس کے بعد حبیب بن مظاہر دشمن پر حملہ آور ہوئے اور یہ رجز پڑھنے لگے: | اس کے بعد حبیب بن مظاہر دشمن پر حملہ آور ہوئے اور یہ رجز پڑھنے لگے: | ||
"میں حبیب ہوں اور میرے والد مظہر ہیں، | |||
میں میدانِ جنگ کا شہسوار ہوں جب جنگ بھڑک اٹھتی ہے۔ | میں میدانِ جنگ کا شہسوار ہوں جب جنگ بھڑک اٹھتی ہے۔ | ||
تم تعداد میں ہم سے زیادہ ہو، | تم تعداد میں ہم سے زیادہ ہو، | ||
لیکن ہم تم سے زیادہ وفادار اور زیادہ صبر کرنے والے ہیں۔" | لیکن ہم تم سے زیادہ وفادار اور زیادہ صبر کرنے والے ہیں۔" | ||
انہوں نے دشمن کے کئی افراد کو قتل کیا، یہاں تک کہ بدیل بن صریم نے تلوار کا وار کیا اور ایک تمیمی شخص نے نیزہ مارا۔ حبیب بن مظاہر گھوڑے سے زمین پر گر پڑے۔ | انہوں نے دشمن کے کئی افراد کو قتل کیا، یہاں تک کہ بدیل بن صریم نے تلوار کا وار کیا اور ایک تمیمی شخص نے نیزہ مارا۔ حبیب بن مظاہر گھوڑے سے زمین پر گر پڑے۔ | ||
| سطر 619: | سطر 608: | ||
اللہ تعالیٰ کی رضوان اور جنت ان پر مبارک ہو۔ | اللہ تعالیٰ کی رضوان اور جنت ان پر مبارک ہو۔ | ||
حصین بن تمیم نے اس تمیمی شخص سے کہا: | حصین بن تمیم نے اس تمیمی شخص سے کہا: | ||
| سطر 638: | سطر 624: | ||
محمد بن قیس روایت کرتے ہیں کہ حبیب بن مظاہر کی شہادت امام حسینؑ پر بہت گراں گزری۔ آپؑ کا دل غم سے بھر آیا اور آپؑ نے فرمایا: | محمد بن قیس روایت کرتے ہیں کہ حبیب بن مظاہر کی شہادت امام حسینؑ پر بہت گراں گزری۔ آپؑ کا دل غم سے بھر آیا اور آپؑ نے فرمایا: | ||
"میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ میرے مددگاروں اور ساتھیوں کو بہترین اجر عطا فرمائے۔" | |||
ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ امام حسینؑ نے فرمایا: | ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ امام حسینؑ نے فرمایا: | ||
"اے حبیب! تم کتنے بہترین انسان تھے۔ اللہ نے تمہیں یہ توفیق عطا فرمائی تھی کہ تم ہر رات قرآن مجید ختم کرتے تھے۔" | |||
ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حبیب بن مظاہرؓ ظہر کی نماز سے پہلے جامِ شہادت نوش کر چکے تھے۔ | ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حبیب بن مظاہرؓ ظہر کی نماز سے پہلے جامِ شہادت نوش کر چکے تھے۔ | ||
== آخری نماز == | |||
جب ظہر کی نماز کا وقت آیا تو امام حسینؑ کے ایک صحابی ابو ثمامہ صیداوی نے عرض کیا: اے اباعبداللہ! میری جان آپ پر قربان ہو، یہ لوگ ہمارے قریب آ پہنچے ہیں، خدا کی قسم! آپ سے پہلے مجھے شہید ہونا چاہیے، اور میری خواہش ہے کہ جب میں اپنے پروردگار سے ملاقات کروں تو آپ کے ساتھ نماز ادا کر چکا ہوں۔ | جب ظہر کی نماز کا وقت آیا تو امام حسینؑ کے ایک صحابی ابو ثمامہ صیداوی نے عرض کیا: اے اباعبداللہ! میری جان آپ پر قربان ہو، یہ لوگ ہمارے قریب آ پہنچے ہیں، خدا کی قسم! آپ سے پہلے مجھے شہید ہونا چاہیے، اور میری خواہش ہے کہ جب میں اپنے پروردگار سے ملاقات کروں تو آپ کے ساتھ نماز ادا کر چکا ہوں۔ | ||
| سطر 653: | سطر 638: | ||
پھر امام حسینؑ نے زہیر بن قین اور سعید بن عبداللہ سے فرمایا کہ وہ آپ کے سامنے کھڑے ہو جائیں تاکہ آپ نماز ادا کریں۔ چنانچہ امامؑ نے اپنے اصحاب کے ایک گروہ کے ساتھ نمازِ خوف ادا فرمائی۔ | پھر امام حسینؑ نے زہیر بن قین اور سعید بن عبداللہ سے فرمایا کہ وہ آپ کے سامنے کھڑے ہو جائیں تاکہ آپ نماز ادا کریں۔ چنانچہ امامؑ نے اپنے اصحاب کے ایک گروہ کے ساتھ نمازِ خوف ادا فرمائی۔ | ||
== 17۔ سعید بن عبداللہ حنفی == | |||
سعید بن عبداللہ امام کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے اور دشمن کے تیروں کا نشانہ بنتے رہے، یہاں تک کہ وہ زمین پر گر پڑے۔ اس حالت میں عرض کر رہے تھے: | سعید بن عبداللہ امام کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے اور دشمن کے تیروں کا نشانہ بنتے رہے، یہاں تک کہ وہ زمین پر گر پڑے۔ اس حالت میں عرض کر رہے تھے: | ||
| سطر 683: | سطر 668: | ||
اور یہ بھی فرمایا: | اور یہ بھی فرمایا: | ||
== 18۔ ابو ثمامہ صائدی == | |||
ان کا نام عمرو بن عبداللہ بن کعب تھا۔ وہ تابعین میں سے تھے اور شیعہ شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ امیرالمؤمنین علیؑ کے اصحاب میں سے تھے اور آپؑ کے ساتھ جنگوں میں شریک رہے۔ بعد میں امام حسن مجتبیٰؑ کے اصحاب میں شامل ہوئے اور کوفہ میں مقیم رہے۔ | ان کا نام عمرو بن عبداللہ بن کعب تھا۔ وہ تابعین میں سے تھے اور شیعہ شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ امیرالمؤمنین علیؑ کے اصحاب میں سے تھے اور آپؑ کے ساتھ جنگوں میں شریک رہے۔ بعد میں امام حسن مجتبیٰؑ کے اصحاب میں شامل ہوئے اور کوفہ میں مقیم رہے۔ | ||
| سطر 701: | سطر 684: | ||
پھر وہ دشمن سے شدید جنگ کرتے رہے، یہاں تک کہ شدید زخمی ہو گئے۔ آخرکار ان کے چچازاد بھائی قیس بن عبداللہ صائدی، جس سے ان کی پرانی دشمنی تھی، نے انہیں شہید کر دیا۔ ان کی شہادت حر بن یزید ریاحیؑ کی شہادت کے بعد واقع ہوئی۔ | پھر وہ دشمن سے شدید جنگ کرتے رہے، یہاں تک کہ شدید زخمی ہو گئے۔ آخرکار ان کے چچازاد بھائی قیس بن عبداللہ صائدی، جس سے ان کی پرانی دشمنی تھی، نے انہیں شہید کر دیا۔ ان کی شہادت حر بن یزید ریاحیؑ کی شہادت کے بعد واقع ہوئی۔ | ||
== 19۔ سلمان بن مضارب == | |||
وہ زہیر بن قین کے چچازاد بھائی تھے۔ دونوں حج کے لیے گئے تھے۔ جب راستے میں زہیر بن قین امام حسینؑ کے قافلے سے ملحق ہوئے تو سلمان بن مضارب بھی امامؑ کے ہمراہ ہو گئے اور کربلا پہنچے۔ | وہ زہیر بن قین کے چچازاد بھائی تھے۔ دونوں حج کے لیے گئے تھے۔ جب راستے میں زہیر بن قین امام حسینؑ کے قافلے سے ملحق ہوئے تو سلمان بن مضارب بھی امامؑ کے ہمراہ ہو گئے اور کربلا پہنچے۔ | ||
عاشورا کے دن نمازِ ظہر کے بعد، زہیر بن قین سے پہلے شرفِ شہادت حاصل کیا۔ | عاشورا کے دن نمازِ ظہر کے بعد، زہیر بن قین سے پہلے شرفِ شہادت حاصل کیا۔ | ||
== 20۔ زہیر بن قین بجلی == | |||
زہیر بن قین اپنی قوم کے معزز، بہادر اور نامور شخصیت تھے۔ وہ کوفہ میں رہتے تھے اور جنگوں میں ان کی شجاعت مشہور تھی۔ ابتدا میں عثمان کے حامی تھے، لیکن امام حسینؑ سے ملاقات کے بعد ہدایتِ الٰہی سے ان کے عقائد میں تبدیلی آئی اور وہ اہلِ بیتؑ کے مخلص پیروکار بن گئے۔ پھر امام حسینؑ کے ساتھ کربلا پہنچے۔ | زہیر بن قین اپنی قوم کے معزز، بہادر اور نامور شخصیت تھے۔ وہ کوفہ میں رہتے تھے اور جنگوں میں ان کی شجاعت مشہور تھی۔ ابتدا میں عثمان کے حامی تھے، لیکن امام حسینؑ سے ملاقات کے بعد ہدایتِ الٰہی سے ان کے عقائد میں تبدیلی آئی اور وہ اہلِ بیتؑ کے مخلص پیروکار بن گئے۔ پھر امام حسینؑ کے ساتھ کربلا پہنچے۔ | ||
روزِ عاشورا نماز ادا کرنے کے بعد انہوں نے امام حسینؑ کے شانۂ مبارک پر ہاتھ رکھا اور رجز پڑھتے ہوئے میدانِ جنگ کی طرف روانہ ہوئے۔ | روزِ عاشورا نماز ادا کرنے کے بعد انہوں نے امام حسینؑ کے شانۂ مبارک پر ہاتھ رکھا اور رجز پڑھتے ہوئے میدانِ جنگ کی طرف روانہ ہوئے۔ | ||
زہیر بن قینؓ نے میدانِ جنگ کی طرف بڑھتے ہوئے یہ رجز پڑھا: | زہیر بن قینؓ نے میدانِ جنگ کی طرف بڑھتے ہوئے یہ رجز پڑھا: | ||
"میں آج تمہارے جدّ رسولِ خدا ﷺ سے ملاقات کروں گا، پھر تمہارے والد علی مرتضیٰؑ سے، نیز دو پروں والے جوان جعفر طیارؑ سے، اور اللہ کے شیر، زندہ شہید حمزہؓ سے۔" | "میں آج تمہارے جدّ رسولِ خدا ﷺ سے ملاقات کروں گا، پھر تمہارے والد علی مرتضیٰؑ سے، نیز دو پروں والے جوان جعفر طیارؑ سے، اور اللہ کے شیر، زندہ شہید حمزہؓ سے۔" | ||
| سطر 736: | سطر 717: | ||
چنانچہ اس نے اپنے پاس موجود کپڑے میں امام حسینؑ کے جسدِ مبارک کو لپیٹ دیا اور زہیر بن قینؓ کو ایک پھٹے ہوئے کپڑے میں کفن دیا۔ | چنانچہ اس نے اپنے پاس موجود کپڑے میں امام حسینؑ کے جسدِ مبارک کو لپیٹ دیا اور زہیر بن قینؓ کو ایک پھٹے ہوئے کپڑے میں کفن دیا۔ | ||
== 21۔ حجاج بن مسروق جعفیؓ == | |||
حجاج بن مسروقؓ شیعانِ علیؑ اور امیرالمؤمنینؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ وہ کوفہ میں رہتے تھے۔ جب امام حسینؑ مکہ تشریف لائے تو وہ بھی کوفہ سے مکہ پہنچے اور امامؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ نماز کے وقت امامؑ کے لیے اذان دیا کرتے تھے۔ | حجاج بن مسروقؓ شیعانِ علیؑ اور امیرالمؤمنینؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ وہ کوفہ میں رہتے تھے۔ جب امام حسینؑ مکہ تشریف لائے تو وہ بھی کوفہ سے مکہ پہنچے اور امامؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ نماز کے وقت امامؑ کے لیے اذان دیا کرتے تھے۔ | ||
| سطر 742: | سطر 723: | ||
روزِ عاشورا جب جنگ بھڑک اٹھی تو انہوں نے امامؑ سے اجازت طلب کی، میدان میں گئے اور کچھ دیر جنگ کرنے کے بعد زخمی حالت میں واپس آئے، جبکہ ان کا بدن خون سے تر تھا۔ وہ یہ رجز پڑھ رہے تھے: | روزِ عاشورا جب جنگ بھڑک اٹھی تو انہوں نے امامؑ سے اجازت طلب کی، میدان میں گئے اور کچھ دیر جنگ کرنے کے بعد زخمی حالت میں واپس آئے، جبکہ ان کا بدن خون سے تر تھا۔ وہ یہ رجز پڑھ رہے تھے: | ||
"آج میں تمہارے جدّ رسول اللہ | "آج میں تمہارے جدّ رسول اللہ سے ملاقات کروں گا، پھر تمہارے والد علیؑ سے، جنہیں ہم حقیقی وصی مانتے ہیں۔" | ||
امام حسینؑ نے فرمایا: | امام حسینؑ نے فرمایا: | ||
| سطر 750: | سطر 731: | ||
اس کے بعد حجاج بن مسروقؓ دوبارہ میدان میں گئے اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ | اس کے بعد حجاج بن مسروقؓ دوبارہ میدان میں گئے اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ | ||
== 22۔ یزید بن مغفل جعفیؓ == | |||
وہ ایک اچھے شاعر، دلیر شیعہ اور جنگِ صفین میں حضرت علیؑ کے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ مکہ میں حجاج بن مسروقؓ کے ساتھ امام حسینؑ سے ملحق ہوئے۔ | وہ ایک اچھے شاعر، دلیر شیعہ اور جنگِ صفین میں حضرت علیؑ کے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ مکہ میں حجاج بن مسروقؓ کے ساتھ امام حسینؑ سے ملحق ہوئے۔ | ||
| سطر 760: | سطر 741: | ||
انہوں نے اس قدر شجاعت سے جنگ کی کہ دشمن حیران رہ گیا، اور متعدد افراد کو ہلاک کرنے کے بعد شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔ | انہوں نے اس قدر شجاعت سے جنگ کی کہ دشمن حیران رہ گیا، اور متعدد افراد کو ہلاک کرنے کے بعد شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔ | ||
== 23۔ حنظلہ بن اسعد شبامیؓ == | |||
حنظلہ بن اسعدؓ شیعوں کے بزرگ، فصیح خطیب، بہادر اور قاریِ قرآن تھے۔ امام حسینؑ کے کربلا پہنچنے کے بعد وہ آپؑ کے لشکر میں شامل ہوئے اور بعض اوقات امامؑ کے نمائندے کی حیثیت سے عمر بن سعد کے پاس بھی جاتے تھے۔ | حنظلہ بن اسعدؓ شیعوں کے بزرگ، فصیح خطیب، بہادر اور قاریِ قرآن تھے۔ امام حسینؑ کے کربلا پہنچنے کے بعد وہ آپؑ کے لشکر میں شامل ہوئے اور بعض اوقات امامؑ کے نمائندے کی حیثیت سے عمر بن سعد کے پاس بھی جاتے تھے۔ | ||
| سطر 790: | سطر 771: | ||
پھر وہ میدان میں گئے اور دشمن کے حملوں کے درمیان جامِ شہادت نوش کیا۔ | پھر وہ میدان میں گئے اور دشمن کے حملوں کے درمیان جامِ شہادت نوش کیا۔ | ||
== 24۔ عابس بن ابی شبیبؓ == | |||
عابس بن ابی شبیبؓ قبیلہ بنی شاکر سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ شیعوں کے ممتاز رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ نہایت بہادر، فصیح خطیب، عبادت گزار اور شب زندہ دار تھے۔ | عابس بن ابی شبیبؓ قبیلہ بنی شاکر سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ شیعوں کے ممتاز رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ نہایت بہادر، فصیح خطیب، عبادت گزار اور شب زندہ دار تھے۔ | ||
| سطر 815: | سطر 796: | ||
عابس بار بار مبارز طلب کرتے رہے، لیکن ان کی ہیبت اور شجاعت کے باعث کسی میں اتنی جرأت نہ تھی کہ ان کے مقابلے میں میدان میں اترتا۔" | عابس بار بار مبارز طلب کرتے رہے، لیکن ان کی ہیبت اور شجاعت کے باعث کسی میں اتنی جرأت نہ تھی کہ ان کے مقابلے میں میدان میں اترتا۔" | ||
== 25۔ شوذب بن عبداللہ == | |||
وہ شیعہ اکابر میں سے تھے، نہایت بہادر اور حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے احادیث کے حافظ تھے۔ ان کی ایک مجلسِ حدیث ہوتی تھی جہاں شیعیانِ اہل بیت آ کر ان سے احادیث حاصل کرتے تھے۔ | وہ شیعہ اکابر میں سے تھے، نہایت بہادر اور حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے احادیث کے حافظ تھے۔ ان کی ایک مجلسِ حدیث ہوتی تھی جہاں شیعیانِ اہل بیت آ کر ان سے احادیث حاصل کرتے تھے۔ | ||
وہ عابس بن ابی شبیب کے ساتھ کوفہ سے مکہ آئے اور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ رہے۔ عاشورا کے دن جب جنگ شروع ہوئی تو میدان میں اترے۔ عابس نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ امام کی نصرت اور راہِ خدا میں شہادت کے لیے آمادہ ہیں؟ انہوں نے اپنے عزم کا اظہار کیا اور بہادروں کی طرح جنگ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ | |||
== 26۔ جون بن ابی مالک == | |||
وہ حضرت ابوذر غفاریؓ کے سیاہ فام غلام تھے۔ امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر جہاد کی اجازت طلب کی۔ امام نے فرمایا: | وہ حضرت ابوذر غفاریؓ کے سیاہ فام غلام تھے۔ امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر جہاد کی اجازت طلب کی۔ امام نے فرمایا: | ||
| سطر 833: | سطر 816: | ||
"اے اللہ! اس کے چہرے کو نورانی، اس کی خوشبو کو معطر فرما، اسے نیک لوگوں کے ساتھ محشور فرما اور محمد و آل محمد علیہم السلام کی رفاقت عطا فرما۔" | "اے اللہ! اس کے چہرے کو نورانی، اس کی خوشبو کو معطر فرما، اسے نیک لوگوں کے ساتھ محشور فرما اور محمد و آل محمد علیہم السلام کی رفاقت عطا فرما۔" | ||
امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ چونکہ جون کا کوئی رشتہ دار نہ تھا جو ان کے جسد کو اٹھاتا، اس لیے دس دن بعد ان کا جسم دیکھا گیا تو اس سے مشک کی خوشبو آ رہی تھی۔ | [[محمدبن علی|امام باقر علیہ السلام]] سے منقول ہے کہ چونکہ جون کا کوئی رشتہ دار نہ تھا جو ان کے جسد کو اٹھاتا، اس لیے دس دن بعد ان کا جسم دیکھا گیا تو اس سے مشک کی خوشبو آ رہی تھی۔ | ||
== 27۔ عبدالرحمن ارحبی == | |||
وہ تابعین میں سے ایک دلیر اور شجاع انسان تھے۔ قیس بن مسہر کے ساتھ کوفیوں کے خطوط لے کر رمضان المبارک کی بارہویں شب مکہ میں امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ امام نے انہیں مسلم بن عقیل کے ساتھ کوفہ بھیجا، پھر وہ واپس آئے اور امام کے اصحاب میں شامل رہے۔ عاشورا کے دن اجازت لے کر میدان میں گئے اور یہ رجز پڑھتے رہے: | وہ تابعین میں سے ایک دلیر اور شجاع انسان تھے۔ قیس بن مسہر کے ساتھ کوفیوں کے خطوط لے کر رمضان المبارک کی بارہویں شب مکہ میں امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ امام نے انہیں مسلم بن عقیل کے ساتھ کوفہ بھیجا، پھر وہ واپس آئے اور امام کے اصحاب میں شامل رہے۔ عاشورا کے دن اجازت لے کر میدان میں گئے اور یہ رجز پڑھتے رہے: | ||
| سطر 843: | سطر 826: | ||
آخرکار وہ شہید ہو گئے۔ | آخرکار وہ شہید ہو گئے۔ | ||
== 28۔ ترکی غلام == | |||
وہ امام حسین علیہ السلام کے غلام اور قرآن کے قاری تھے۔ اجازت لے کر میدان میں اترے اور رجز پڑھتے ہوئے دشمن سے لڑتے رہے۔ متعدد دشمنوں کو قتل کیا لیکن شدید زخموں کی وجہ سے زمین پر گر پڑے۔ امام حسین علیہ السلام ان کے پاس آئے، گریہ فرمایا اور اپنا رخسار ان کے رخسار پر رکھا۔ غلام نے آنکھیں کھولیں، امام کو اپنے سرہانے دیکھا تو مسکرا اٹھا اور جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی۔ | وہ امام حسین علیہ السلام کے غلام اور قرآن کے قاری تھے۔ اجازت لے کر میدان میں اترے اور رجز پڑھتے ہوئے دشمن سے لڑتے رہے۔ متعدد دشمنوں کو قتل کیا لیکن شدید زخموں کی وجہ سے زمین پر گر پڑے۔ امام حسین علیہ السلام ان کے پاس آئے، گریہ فرمایا اور اپنا رخسار ان کے رخسار پر رکھا۔ غلام نے آنکھیں کھولیں، امام کو اپنے سرہانے دیکھا تو مسکرا اٹھا اور جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی۔ | ||
== 29۔ انس بن حارث == | |||
وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی تھے اور غزواتِ بدر و حنین میں شریک رہے تھے۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی تھی: | وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی تھے اور غزواتِ بدر و حنین میں شریک رہے تھے۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی تھی: | ||
| سطر 859: | سطر 842: | ||
انہوں نے بڑھاپے کے باوجود دشمن کے اٹھارہ افراد کو قتل کیا اور پھر شہید ہو گئے۔ | انہوں نے بڑھاپے کے باوجود دشمن کے اٹھارہ افراد کو قتل کیا اور پھر شہید ہو گئے۔ | ||
== 30 اور 31۔ عبداللہ بن عروہ اور عبدالرحمن بن عروہ == | |||
یہ دونوں بھائی تھے۔ ان کے دادا حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے۔ کربلا میں امام حسین علیہ السلام سے آ ملے اور عاشورا کے دن عرض کیا: | یہ دونوں بھائی تھے۔ ان کے دادا حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے۔ کربلا میں امام حسین علیہ السلام سے آ ملے اور عاشورا کے دن عرض کیا: | ||
| سطر 871: | سطر 854: | ||
یہ دونوں بھائی امام کے قریب رہتے ہوئے دشمن سے لڑے اور آخرکار شہادت سے سرفراز ہوئے۔ | یہ دونوں بھائی امام کے قریب رہتے ہوئے دشمن سے لڑے اور آخرکار شہادت سے سرفراز ہوئے۔ | ||
== 32۔ عمرو بن جنادہ == | |||
والد جنادہ بن حارث انصاری کی شہادت کے بعد گیارہ سالہ عمرو امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ امام نے کم عمری کی وجہ سے اجازت نہ دی اور فرمایا کہ شاید ان کی والدہ راضی نہ ہوں۔ | والد جنادہ بن حارث انصاری کی شہادت کے بعد گیارہ سالہ عمرو امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ امام نے کم عمری کی وجہ سے اجازت نہ دی اور فرمایا کہ شاید ان کی والدہ راضی نہ ہوں۔ | ||
| سطر 881: | سطر 864: | ||
امام نے اجازت عطا فرمائی۔ وہ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے اور دشمن نے ان کا سر کاٹ کر امام کی طرف پھینک دیا۔ ان کی والدہ نے سر مبارک کو اٹھایا، خون صاف کیا اور اسے دشمن کے ایک سپاہی پر دے مارا جس سے وہ ہلاک ہو گیا۔ پھر خیمے کا ستون اٹھا کر دشمن پر حملہ کیا اور دو افراد کو قتل کیا۔ بعد ازاں امام حسین علیہ السلام نے انہیں واپس خیمے میں بھیج دیا۔ | امام نے اجازت عطا فرمائی۔ وہ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے اور دشمن نے ان کا سر کاٹ کر امام کی طرف پھینک دیا۔ ان کی والدہ نے سر مبارک کو اٹھایا، خون صاف کیا اور اسے دشمن کے ایک سپاہی پر دے مارا جس سے وہ ہلاک ہو گیا۔ پھر خیمے کا ستون اٹھا کر دشمن پر حملہ کیا اور دو افراد کو قتل کیا۔ بعد ازاں امام حسین علیہ السلام نے انہیں واپس خیمے میں بھیج دیا۔ | ||
== 33۔ واضح ترکی == | |||
وہ بہادر، ترک زبان اور قرآن کے قاری تھے۔ عاشورا کے دن دشمن کے مقابل پیدل تلوار سے لڑتے رہے۔ جب زخمی ہو کر زمین پر گرے تو امام حسین علیہ السلام کو پکارا۔ امام ان کے سرہانے آئے اور ان کی گردن کو سہارا دیا۔ وہ فخر سے کہہ رہے تھے: | وہ بہادر، ترک زبان اور قرآن کے قاری تھے۔ عاشورا کے دن دشمن کے مقابل پیدل تلوار سے لڑتے رہے۔ جب زخمی ہو کر زمین پر گرے تو امام حسین علیہ السلام کو پکارا۔ امام ان کے سرہانے آئے اور ان کی گردن کو سہارا دیا۔ وہ فخر سے کہہ رہے تھے: | ||
| سطر 889: | سطر 872: | ||
پھر وہ عالمِ بالا کی طرف روانہ ہو گئے۔ | پھر وہ عالمِ بالا کی طرف روانہ ہو گئے۔ | ||
== 34۔ رافع بن عبداللہ == | |||
وہ اپنے آقا مسلم بن کثیر کے ساتھ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نمازِ ظہر کے بعد میدان میں گئے اور شہید ہو گئے۔ | وہ اپنے آقا مسلم بن کثیر کے ساتھ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نمازِ ظہر کے بعد میدان میں گئے اور شہید ہو گئے۔ | ||
== 35۔ یزید بن ثبیط == | |||
وہ بصرہ کے معزز شیعوں میں سے تھے۔ اپنے دو بیٹوں کے ساتھ مکہ آئے اور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کربلا پہنچے۔ دشمن سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ | وہ بصرہ کے معزز شیعوں میں سے تھے۔ اپنے دو بیٹوں کے ساتھ مکہ آئے اور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کربلا پہنچے۔ دشمن سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ | ||
== 36۔ بکر بن حی == | |||
وہ ابتدا میں عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ آئے تھے، لیکن عاشورا کے دن حق کو پہچان کر توبہ کی اور لشکرِ کوفہ سے الگ ہو کر امام حسین علیہ السلام کا ساتھ اختیار کیا اور شہادت پائی۔ | وہ ابتدا میں عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ آئے تھے، لیکن عاشورا کے دن حق کو پہچان کر توبہ کی اور لشکرِ کوفہ سے الگ ہو کر امام حسین علیہ السلام کا ساتھ اختیار کیا اور شہادت پائی۔ | ||
== 37۔ ضرغامہ بن مالک == | |||
وہ کوفہ کے شیعہ اور مسلم بن عقیل کے بیعت کنندگان میں سے تھے۔ جب لوگوں نے مسلم کا ساتھ چھوڑ دیا تو وہ بھی لشکرِ عمر بن سعد کے ساتھ کربلا پہنچے، لیکن بعد میں امام حسین علیہ السلام سے جا ملے اور نمازِ ظہر کے بعد دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ | وہ کوفہ کے شیعہ اور مسلم بن عقیل کے بیعت کنندگان میں سے تھے۔ جب لوگوں نے مسلم کا ساتھ چھوڑ دیا تو وہ بھی لشکرِ عمر بن سعد کے ساتھ کربلا پہنچے، لیکن بعد میں امام حسین علیہ السلام سے جا ملے اور نمازِ ظہر کے بعد دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ | ||
== 38۔ مجمع بن زیاد == | |||
وہ مدینہ کے اطراف میں امام کے قافلے میں شامل ہوئے اور مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر کے باوجود امام کا ساتھ نہ چھوڑا، یہاں تک کہ کربلا میں شہید ہو گئے۔ | وہ مدینہ کے اطراف میں امام کے قافلے میں شامل ہوئے اور مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر کے باوجود امام کا ساتھ نہ چھوڑا، یہاں تک کہ کربلا میں شہید ہو گئے۔ | ||
== 39۔ عباد بن مہاجر == | |||
انہوں نے بھی راستے میں امام حسین علیہ السلام کا ساتھ اختیار کیا اور کربلا میں شہادت پائی۔ | انہوں نے بھی راستے میں امام حسین علیہ السلام کا ساتھ اختیار کیا اور کربلا میں شہادت پائی۔ | ||
== 40۔ وہب بن حباب کلبی == | |||
انہوں نے میدان میں شجاعت کا مظاہرہ کیا اور پھر اپنی والدہ سے پوچھا: | انہوں نے میدان میں شجاعت کا مظاہرہ کیا اور پھر اپنی والدہ سے پوچھا: | ||
| سطر 927: | سطر 910: | ||
وہ لڑتے رہے یہاں تک کہ دونوں ہاتھ کٹ گئے اور آخرکار شہید ہو گئے۔ | وہ لڑتے رہے یہاں تک کہ دونوں ہاتھ کٹ گئے اور آخرکار شہید ہو گئے۔ | ||
== 41۔ حبشی بن قیس بن سلمہ == | |||
ان کے دادا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی تھے۔ وہ جنگ شروع ہونے سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے ساتھ شہادت پائی۔ | ان کے دادا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی تھے۔ وہ جنگ شروع ہونے سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے ساتھ شہادت پائی۔ | ||
== 42۔ زیاد بن عریب (ابو عمرہ حنظلی) == | |||
وہ نہایت عبادت گزار اور شجاع انسان تھے۔ میدانِ جنگ میں دشمن پر حملہ کرتے اور پھر امام حسین علیہ السلام کے پاس آ کر بشارت دیتے۔ آخرکار عامر بن نہشل نے انہیں شہید کر دیا اور ان کا سر تن سے جدا کر دیا۔ | وہ نہایت عبادت گزار اور شجاع انسان تھے۔ میدانِ جنگ میں دشمن پر حملہ کرتے اور پھر امام حسین علیہ السلام کے پاس آ کر بشارت دیتے۔ آخرکار عامر بن نہشل نے انہیں شہید کر دیا اور ان کا سر تن سے جدا کر دیا۔ | ||
== 43۔ عقبہ بن صلت == | |||
وہ مکہ سے کربلا کے راستے میں امام حسین علیہ السلام سے ملے اور آخر تک ساتھ رہے، یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ | وہ مکہ سے کربلا کے راستے میں امام حسین علیہ السلام سے ملے اور آخر تک ساتھ رہے، یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ | ||
== 44۔ قعنب بن عمر == | |||
وہ بصرہ کے شیعوں میں سے تھے۔ حجاج بن بدر کے ساتھ مکہ آئے اور امام حسین علیہ السلام کے اصحاب میں شامل ہوئے۔ عاشورا کے دن شہادت پائی۔ | وہ بصرہ کے شیعوں میں سے تھے۔ حجاج بن بدر کے ساتھ مکہ آئے اور امام حسین علیہ السلام کے اصحاب میں شامل ہوئے۔ عاشورا کے دن شہادت پائی۔ | ||
== 45۔ انیس بن معقل == | |||
وہ ایک دلیر انسان تھے۔ سخت جنگ کے بعد شہادت کی عظیم سعادت حاصل کی۔ | وہ ایک دلیر انسان تھے۔ سخت جنگ کے بعد شہادت کی عظیم سعادت حاصل کی۔ | ||
== 46۔ قرۃ بن ابی قرۃ == | |||
انہوں نے فرزندانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع میں جنگ کی اور دشمن کے چھیاسٹھ افراد کو ہلاک کرنے کے بعد شہید ہو گئے۔ | انہوں نے فرزندانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع میں جنگ کی اور دشمن کے چھیاسٹھ افراد کو ہلاک کرنے کے بعد شہید ہو گئے۔ | ||
== 47۔ عبدالرحمن بن عبداللہ یزنی == | |||
وہ بھی شہادت کی آرزو لیے میدان میں اترے اور امام حسین علیہ السلام کے دیگر وفادار اصحاب کی طرح جامِ شہادت نوش کیا۔ | وہ بھی شہادت کی آرزو لیے میدان میں اترے اور امام حسین علیہ السلام کے دیگر وفادار اصحاب کی طرح جامِ شہادت نوش کیا۔ | ||
== 48۔ یحییٰ مازنی == | |||
یہ بہادر مجاہد بھی رجز پڑھتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑے اور آخرکار امام حسین علیہ السلام کے سامنے شہید ہو گئے۔ | یہ بہادر مجاہد بھی رجز پڑھتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑے اور آخرکار امام حسین علیہ السلام کے سامنے شہید ہو گئے۔ | ||
== 49۔ منجح == | |||
شیخ طوسی نے انہیں امام حسین علیہ السلام کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔ وہ اپنی والدہ حسنیہ کے ساتھ کربلا آئے اور جنگ کے آغاز میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔ | شیخ طوسی نے انہیں امام حسین علیہ السلام کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔ وہ اپنی والدہ حسنیہ کے ساتھ کربلا آئے اور جنگ کے آغاز میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔ | ||
== 50۔ سوید بن عمرو == | |||
وہ نہایت شریف، کثرتِ نماز کے پابند اور شیر دل مجاہد تھے۔ اصحابِ امام حسین علیہ السلام میں سب سے آخر میں شہید ہونے والے فرد تھے۔ شدید زخمی ہونے کے بعد کچھ دیر بے ہوش رہے۔ جب ہوش آیا اور سنا کہ امام حسین علیہ السلام شہید ہو چکے ہیں تو خنجر لے کر دوبارہ دشمن پر ٹوٹ پڑے اور کچھ دیر جنگ کرنے کے بعد عروہ بن بکار اور زید بن ورقاء کے ہاتھوں شہید ہو گئے<ref>[https://www.imamalicenter.se/fa/content/%D8%A8%D8%A7-%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86-%D8%B9-%D8%A8%DB%8C%D8%B4%D8%AA%D8%B1-%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7-%D8%B4%D9%88%DB%8C%D9%85 با یاران امام حسین (ع) بیشتر آشنا شویم.]-اخذ شدہ بہ تاریخ: 17جون 2026ء</ref>۔ | |||
== حوالہ جات == | |||
{{حوالہ جات}} | |||
[[زمرہ:عراق]] | |||
نسخہ بمطابق 21:40، 17 جون 2026ء

شہداء کربلا ،ابنِ شہر آشوب نے پہلے حملہ میں شہید ہونے والے امام حسینؑ کے اصحاب کی تعداد چالیس بیان کی ہے، جن میں سے اٹھائیس افراد کے نام ذکر کیے ہیں۔ پھر فرماتے ہیں کہ ان میں سے دس افراد امام حسینؑ کے آزاد کردہ غلاموں (موالی) میں سے تھے اور دو افراد امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے موالی میں سے تھے۔ ہم یہاں کتاب "ابصار العین" (سماوی) کے مطابق ان حضرات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔ بعض کے بارے میں دیگر مورخین نے یہ ذکر کیا ہے کہ وہ پہلے حملہ میں شہید نہیں ہوئے تھے، اور اختلافی موارد کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
1- ادہم بن اُمیہ:
وہ بصرہ کے شیعوں میں سے تھے جو ماریہ کے گھر میں جمع ہوتے تھے۔ وہ یزید بن ثبیط کے ساتھ بصرہ سے مکہ آئے اور امام حسینؑ کے ساتھ شامل ہوگئے۔
2- اُمَیّ بن سعد:
وہ حضرت امیرالمؤمنینؑ کے اصحاب اور تابعین میں سے تھے اور کوفہ میں رہتے تھے۔ جب انہیں امام حسینؑ کی کربلا آمد کی خبر ملی تو جنگ سے پہلے کے ایام میں امامؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
3- بشر بن عمر:
وہ تابعین میں سے تھے اور ان کے بیٹوں کی شجاعت جنگوں میں مشہور تھی۔ ایامِ مهادنہ میں امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
4- جابر بن حجاج:
وہ امام حسینؑ کے بہادر ساتھیوں میں سے تھے اور عاشورا کے دن ظہر سے پہلے شہادت پائی۔
5- حباب بن عامر:
وہ کوفہ کے رہنے والے اور شیعہ تھے۔ انہوں نے مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور راستے میں امام حسینؑ سے آ ملے۔
6- جبلہ بن علی:
وہ کوفہ کے بہادر افراد میں شمار ہوتے تھے۔ ابتدا میں مسلم بن عقیل کے ساتھ تھے، پھر امام حسینؑ کی خدمت میں پہنچ گئے۔
7- جنادہ بن کعب:
وہ مکہ سے ہی امام حسینؑ کے ہمراہ تھے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ کربلا تک امامؑ کے ساتھ رہے۔
8- جندب بن حجیر کندی:
وہ شیعوں کے ممتاز افراد اور حضرت امیرالمؤمنینؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ امام حسینؑ اور حر بن یزید کی ملاقات سے پہلے راستے میں امامؑ سے جا ملے اور کربلا پہنچے۔
بعض مورخین کے مطابق وہ جنگ کے آغاز میں شہید ہوئے۔ بعض نے ان کے بیٹے حجیر بن جندب کی شہادت کا ذکر کیا ہے، لیکن یہ ثابت نہیں کہ باپ اور بیٹا دونوں ایک ساتھ شہید ہوئے ہوں۔
9- جوین بن مالک:
وہ بنی تمیم میں رہنے والے ایک شیعہ تھے۔ ابتدا میں اپنی قوم کے ساتھ امام حسینؑ کے خلاف جنگ کے لیے نکلے تھے، لیکن جب عمر بن سعد نے امامؑ کی شرائط قبول نہ کیں تو دوسرے افراد کی طرح لشکرِ کوفہ کو چھوڑ کر رات کے وقت امام حسینؑ کے خیموں میں آ گئے۔
10- حارث بن امرئ القیس:
وہ ایک نامور بہادر تھے اور جنگوں میں بڑی شہرت رکھتے تھے۔ ابتدا میں عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے تھے، لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ امام حسینؑ کی بات قبول نہیں کی جا رہی تو امامؑ سے جا ملے۔
11- حارث بن نبہان:
ان کے والد نبہان، حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؑ کے غلام اور ایک بہادر شہسوار تھے۔ حارث، حضرت علیؑ اور امام حسنؑ کے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور امام حسینؑ کے ساتھ کربلا آئے اور شہادت پائی۔
12- حجاج بن بدر:
وہ بصرہ کے رہنے والے تھے اور وہی شخص تھے جو بصرہ سے امام حسینؑ کا خط مسعود بن عمرو کے نام لے کر کربلا پہنچے تھے۔ وہ امامؑ کے ساتھ رہے یہاں تک کہ عاشورا کے دن پہلی یورش میں ظہر سے پہلے شہید ہوگئے، اگرچہ بعض نے ان کی شہادت کو ظہر کے بعد انفرادی جنگ کے دوران ذکر کیا ہے۔
13- حلاس بن عمرو:
وہ اور ان کے بھائی نعمان، حضرت امیرالمؤمنینؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ حلاس کوفہ میں حضرت علیؑ کی فوج کے ایک کمانڈر تھے۔ ابتدا میں عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے، لیکن جب عمر بن سعد نے امام حسینؑ کی شرائط مسترد کر دیں تو وہ رات کے وقت امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہوگئے۔
14- زاہر بن عمرو:
وہ ایک تجربہ کار، مشہور اور دلیر مجاہد تھے اور اہلِ بیتؑ کے معروف دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ عمرو بن الحمق، جو ایک معروف صحابی تھے، کے ساتھی تھے۔ جب زیاد بن ابیہ نے عمرو بن الحمق کی تلاش شروع کی تو زاہر بھی ان کے ساتھ تھے۔
بعد میں جب معاویہ نے عمرو بن الحمق کا تعاقب کیا تو زاہر بھی اس کی نگرانی میں تھے۔ آخرکار عمرو بن الحمق کو معاویہ کے حکم سے شہید کر دیا گیا، جبکہ زاہر روپوش ہوگئے۔ سن 60 ہجری میں حج کی ادائیگی کے بعد ان کی ملاقات امام حسینؑ سے ہوئی اور وہ امامؑ کے ساتھ کربلا روانہ ہوئے۔ یہ رہا مذکورہ متن کا اردو ترجمہ:
15- زہیر بن سلیم:
جب لشکرِ کوفہ نے امام حسینؑ سے جنگ کا فیصلہ کر لیا تو زہیر بن سلیم ان افراد میں شامل تھے جو شبِ عاشور امامؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؑ کے اصحاب میں شامل ہو گئے۔
انہوں نے انتہائی شوق و جذبے کے ساتھ جنگ کی، یہاں تک کہ پہلی یورش میں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔ شہادت کے بعد انہیں ایک اور فضیلت حاصل ہوئی، وہ یہ کہ زیارتِ ناحیہ مقدسہ میں ان پر سلام بھیجا گیا ہے۔ عبداللہ بن عمیر کہا کرتے تھے: "خدا کی قسم! میں اہلِ شرک کے خلاف جہاد کا مشتاق ہوں،
اور مجھے امید ہے کہ ان لوگوں سے جنگ کرنا جو اپنے نبیؐ کی دختر کے فرزند سے جنگ کر رہے ہیں، ثواب کے اعتبار سے مشرکین سے جہاد سے کم نہ ہوگا۔" پھر وہ اپنی زوجہ امِّ وہب کے پاس گئے اور اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔ ان کی اہلیہ نے کہا: "آپ نے درست فیصلہ کیا ہے، خدا آپ کو بہترین راہوں کی ہدایت فرمائے۔ یہی کام کیجیے اور مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلیے۔"
16- سالم (عامر بن مسلم کے غلام):
وہ عامر بن مسلم کے غلام تھے اور بصرہ میں رہتے تھے۔ عامر بصرہ کے شیعوں میں شمار ہوتے تھے۔ جب یزید بن ثبیط اپنے بیٹوں اور چند دیگر افراد کے ساتھ مکہ میں امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سالم بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور امامؑ کے ہمراہ کربلا آئے۔
17- سالم بن عمرو:
وہ کوفہ کے رہنے والے اور شیعہ تھے۔ جنگ کے آغاز سے پہلے، ایامِ مهادنہ میں کربلا پہنچے اور امام حسینؑ کے اصحاب میں شامل ہو گئے۔
18- سوار بن ابی حمیر:
وہ بھی جنگ شروع ہونے سے پہلے امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہوئے۔ پہلی یورش میں زخمی ہو گئے اور لشکرِ کوفہ نے انہیں گرفتار کرکے عمر بن سعد کے پاس پہنچایا۔
عمر بن سعد انہیں قتل کرنا چاہتا تھا، مگر ان کے رشتہ داروں نے، جو لشکرِ کوفہ میں موجود تھے، ان کی رہائی کی درخواست کی۔ چنانچہ انہیں آزاد کر دیا گیا، لیکن زخموں کی شدت کے باعث چھ ماہ بعد شہید ہو گئے۔ زیارتِ ناحیہ میں ان کے بارے میں آیا ہے:
"السلام علی الجریح المأسور سوار بن ابی حمیر الفہمی"
"سلام ہو اس زخمی اور اسیر سوار بن ابی حمیر فہمی پر۔"
19- شبیب بن عبداللہ:
وہ ایک دلیر اور بہادر مجاہد تھے۔ سیف اور مالک، جو سریع کے بیٹے تھے، کے ساتھ امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہوئے اور عاشورا کے دن ظہر سے پہلے پہلی یورش میں شہادت پائی۔
20- عائذ بن مجمع:
وہ اپنے والد مجمع بن عبداللہ کے ساتھ راستے میں امام حسینؑ سے آ ملے۔ حر بن یزید نے انہیں روکنا چاہا، مگر امام حسینؑ نے فرمایا:
"یہ میرے ساتھی ہیں، انہیں اس کام سے نہ روکو۔"
ان کے راہنما طرماح تھے۔ کتاب "حدائق" کے مصنف نے انہیں پہلی یورش کے شہداء میں شمار کیا ہے، جبکہ بعض دیگر مورخین کے مطابق وہ اپنے والد کے ساتھ جنگ کے آغاز ہی میں شہید ہوئے تھے۔
21- عامر بن مسلم:
وہ بصرہ کے رہنے والے اور شیعہ تھے۔ اپنے غلام سالم کے ساتھ یزید بن ثبیط کے ہمراہ بصرہ سے مکہ آئے اور وہاں امام حسینؑ سے مل کر آپؑ کے ساتھ کربلا روانہ ہوئے۔
22- عبداللہ بن بشیر:
وہ نامور بہادروں اور حق کے حامیوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا اور ان کے والد کا نام جنگوں میں مشہور تھا۔
وہ ابتدا میں عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے، لیکن جنگ شروع ہونے سے پہلے امام حسینؑ سے جا ملے اور عاشورا کے دن ظہر سے پہلے پہلی یورش میں شہادت پائی۔
23- عبداللہ بن یزید:
وہ اپنے والد کے ساتھ بصرہ سے مکہ آئے اور امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر آپؑ کے ہمراہ کربلا پہنچے۔
24- عبیداللہ بن یزید:
وہ بھی اپنے والد یزید بن ثبیط، اپنے بھائی اور بصرہ کے چند دیگر افراد کے ساتھ مکہ میں امام حسینؑ سے جا ملے۔
25- عبدالرحمن بن عبدِ رب:
وہ رسول خداؐ کے اصحاب اور امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے مخلص ساتھیوں میں سے تھے۔ جب حضرت علیؑ نے رحبہ کوفہ میں لوگوں سے فرمایا کہ جو غدیرِ خم میں موجود تھا اور حدیثِ غدیر سنی تھی وہ کھڑا ہو کر گواہی دے، تو عبدالرحمن بن عبد رب بھی چند دیگر افراد کے ساتھ کھڑے ہوئے اور عرض کیا:
"ہم نے رسول خداؐ سے سنا کہ آپؐ فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ میرا ولی ہے اور میں مؤمنوں کا ولی ہوں، پس جس کا میں مولا ہوں، علیؑ اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو علیؑ سے محبت کرے تو اس سے محبت فرما، اور جو علیؑ سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔"
حضرت علیؑ نے ان کی تربیت فرمائی تھی اور انہیں قرآن کی تعلیم دی تھی۔ وہ مکہ سے ہی امام حسینؑ کے ساتھ تھے اور کربلا تک آپؑ کے ہمراہ رہے۔
26- عبدالرحمن بن مسعود:
وہ اور ان کے والد معروف شیعہ اور مشہور بہادر تھے۔ وہ عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے، لیکن جنگ شروع ہونے سے پہلے امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا اور آپؑ کے ساتھ رہ گئے۔ دونوں باپ بیٹا پہلی یورش میں شہید ہوئے۔
27- عمر بن ضبیعہ:
وہ ایک ممتاز شہسوار تھے۔ ابتدا میں عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے، پھر امام حسینؑ کے اصحاب میں شامل ہو گئے۔ ابن حجر نے "الإصابة" میں لکھا ہے کہ عمرو بن ضبیعہ جنگوں کے نامور افراد میں سے تھے، نہایت بہادر تھے اور انہیں رسول خداؐ کی زیارت کا شرف بھی حاصل تھا۔
28- عمار بن حسان:
وہ مخلص شیعوں اور معروف بہادروں میں سے تھے۔ ان کے والد حسان، حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے تھے اور جنگِ جمل اور صفین میں آپؑ کے دفاع میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ عمار مکہ سے ہی امام حسینؑ کے ہمراہ تھے اور عاشورا کے دن پہلی یورش میں شہادت پانے تک آپؑ سے جدا نہ ہوئے۔
29- عمار بن سلامہ:
وہ رسول خداؐ کے صحابی اور حضرت علیؑ کے ساتھیوں میں سے تھے۔ جب جنگِ جمل کے لیے روانگی کے دوران انہوں نے امیرالمؤمنینؑ سے پوچھا کہ جب آپ اصحابِ جمل کے مقابل آئیں گے تو کیا کریں گے؟ حضرت علیؑ نے فرمایا:
"میں انہیں اللہ اور اس کی اطاعت کی طرف دعوت دوں گا، اگر قبول نہ کریں گے تو ان سے جنگ کروں گا۔"
عمار بن سلامہ نے عرض کیا: "جو شخص لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہے، وہ کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔" بعد میں وہ کربلا میں امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جنگ میں شہادت پائی۔
30- قاسم بن حبیب اَزدی:
وہ کوفہ کے شیعوں میں سے تھے۔ ابتدا میں عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے، لیکن جنگ شروع ہونے سے پہلے امام حسینؑ کے خیموں میں آ کر آپؑ کے اصحاب میں شامل ہو گئے۔
31- قاسط بن زہیر:
وہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے اصحاب اور امام حسنؑ کے ساتھیوں میں سے تھے۔ کوفہ میں مقیم رہے اور بالخصوص جنگِ صفین سمیت مختلف معرکوں میں شریک ہوئے۔ جب امام حسینؑ کربلا تشریف لائے تو وہ رات کے وقت آپؑ سے آ ملے۔
جب میدانِ جنگ کا غبار بیٹھ گیا تو عبداللہ بن عمیر کی زوجہ، امِّ وہب، اپنے شوہر کی لاش کے پاس آئیں، ان کے چہرے سے خاک صاف کی اور کہا:
"جنت تمہیں مبارک ہو! میں اس خدا سے، جس نے تمہیں جنت عطا فرمائی، دعا کرتی ہوں کہ مجھے بھی جنت میں تمہارا ساتھی بنائے۔"
اسی دوران شمر نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ اپنے گرز سے امِّ وہب کے سر پر ضرب لگائے۔ اس وار کے نتیجے میں امِّ وہب بھی اپنی آرزو کے مطابق اپنے شہید شوہر کے پہلو میں جان بحق ہو گئیں۔
32- کردوس بن زہیر:
وہ حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے تھے اور اپنے دو بھائیوں کے ساتھ رات کے وقت امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہوئے۔
33- کنانہ بن عتیق:
وہ کوفہ کے بہادر افراد میں سے تھے اور زہد، عبادت اور قراءتِ قرآن کے لیے معروف تھے۔ کربلا میں امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پہلی یورش میں شہید ہوئے، اگرچہ بعض مورخین نے ان کی شہادت کو پہلی یورش کے بعد بیان کیا ہے۔
34- مسلم بن کثیر:
وہ کوفہ کے تابعین اور حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ ایک جنگ میں ان کا ایک پاؤں زخمی ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ معذور ہو گئے تھے، اور غالباً اسی وجہ سے انہیں "اعرج" کہا جاتا تھا۔ جب امام حسینؑ کربلا پہنچے تو وہ کوفہ سے آپؑ کی مدد کے لیے روانہ ہوئے اور آپؑ کے ساتھ شہادت پائی۔
35- مسعود بن حجاج:
وہ اور ان کے بیٹے معروف شیعوں اور مشہور بہادروں میں شمار ہوتے تھے۔ ایامِ مهادنہ میں کربلا پہنچے، امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؑ کے ساتھ رہ گئے۔ دونوں باپ بیٹا پہلی یورش میں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔
- 36- مقسط بن زہیر:**
وہ اور ان کے دو بھائی حضرت علیؑ کے اصحاب اور جنگِ جمل، صفین اور نہروان میں آپؑ کے ممتاز مجاہدین میں سے تھے۔ جب امام حسینؑ کربلا پہنچے تو یہ رات کے وقت آپؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جامِ شہادت نوش کیا۔
37- نصر بن ابی نیزر:
ان کے والد یا تو ایرانی بادشاہوں کی نسل سے تھے یا نجاشی کی اولاد میں سے تھے۔ نصر، امام علیؑ اور امام حسنؑ کے بعد امام حسینؑ کی خدمت میں رہے۔ وہ مدینہ سے امام حسینؑ کے ساتھ مکہ آئے اور وہاں سے کربلا پہنچے۔ ابتدا میں وہ سوار تھے، لیکن دشمن نے ان کے گھوڑے کو زخمی کر کے ناکارہ بنا دیا۔ وہ پہلی یورش میں شہید ہوئے۔
38- نعمان بن عمرو الراسبی:
وہ اور ان کے بھائی کوفہ کے باشندے اور حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ جب عمر بن سعد نے امام حسینؑ کی بات قبول نہ کی تو وہ رات کے وقت امامؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؑ کے ساتھ شہادت پائی۔
39- نعیم بن عجلان:
وہ اور ان کے دو بھائی، نضر اور نعمان، تینوں حضرت علیؑ کے اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔ جنگِ صفین میں امیرالمؤمنینؑ کے ساتھ شریک رہے۔ وہ بہادر اور شاعر بھی تھے۔
نضر اور نعمان اس سے پہلے وفات پا چکے تھے، جبکہ نعیم کوفہ میں باقی رہے۔ جب امام حسینؑ عراق کی طرف روانہ ہوئے تو نعیم آپؑ سے جا ملے اور عاشورا کے دن میدانِ جنگ میں اتر کر پہلی یورش میں شہادت پائی۔
40- زہیر بن بشر خزعمی:
کتاب "مناقب" کے مصنف نے انہیں پہلی یورش کے شہداء میں شمار کیا ہے، لیکن دیگر تاریخی مصادر میں ان کا نام مذکور نہیں ملتا۔
دیگر شہداء کے نام
جب امام حسینؑ کے وہ اصحاب، جن کے نام پہلے ذکر کیے جا چکے ہیں، پہلی یورش میں جامِ شہادت نوش کر چکے، تو اس کے بعد دوسرے اصحاب اور پھر بنی ہاشم سے تعلق رکھنے والے اہلِ بیتؑ کی قربانیوں کی باری آئی۔
ان میں سے ہر ایک میدانِ جنگ میں اترا، تلواروں اور نیزوں کا استقبال کیا، لباسِ شہادت زیب تن کیا، رضائے الٰہی اور لقائے پروردگار سے سرفراز ہوا اور رحمتِ خداوندی کے جوار میں جا بسا۔ پہلے اصحاب اور پھر اہلِ بیتؑ کا ذکر کیا جاتا ہے۔
1۔ عبداللہ بن عمیر
عبداللہ بن عمیر، وہب کے والد، ایک شریف اور بہادر انسان تھے۔ کوفہ میں "بئر الجعد" کے قریب ان کا گھر تھا اور ان کی زوجہ کا نام امِّ وہب تھا۔ ایک دن وہ نخیلہ میں لشکرِ کوفہ کے پڑاؤ پر پہنچے اور دیکھا کہ فوج کربلا کی طرف روانہ ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔
انہوں نے دریافت کیا کہ یہ لشکر کہاں جا رہا ہے؟ جواب ملا: "یہ لشکر رسول خداؐ کی دختر کے فرزند، حسینؑ، سے جنگ کرنے جا رہا ہے۔" عبداللہ بن عمیر نے کہا:
"خدا کی قسم! میں مشرکین کے خلاف جہاد کا شوق رکھتا ہوں، اور مجھے امید ہے کہ ان لوگوں کے خلاف جنگ، جو اپنے نبیؐ کے نواسے سے برسرِ پیکار ہیں، ثواب کے لحاظ سے مشرکین کے خلاف جہاد سے کم نہ ہوگی۔"
پھر وہ اپنی زوجہ امِّ وہب کے پاس آئے اور اپنا ارادہ بیان کیا۔ امِّ وہب نے کہا: "آپ نے درست فیصلہ کیا ہے۔ خدا آپ کو بہترین راستے کی ہدایت فرمائے۔ یہی کام کیجیے اور مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلیے۔"
چنانچہ وہ رات کے وقت اپنی زوجہ کے ساتھ روانہ ہوئے اور کربلا میں امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔
جب عمر بن سعد نے امام حسینؑ کی طرف پہلا تیر پھینکا اور لشکرِ کوفہ نے خیمہ گاہِ حسینی پر تیروں کی بارش شروع کی، تو زیاد بن ابیہ کا غلام "یسار" اور عبیداللہ بن زیاد کا غلام "سالم" میدان میں آئے اور مقابلے کے لیے کسی کو طلب کیا۔
حبیب بن مظاہر اور بریر بن خضیر میدان میں جانے کے لیے کھڑے ہوئے، مگر امام حسینؑ نے انہیں روک دیا۔ اس وقت عبداللہ بن عمیر نے اجازت طلب کی۔ امامؑ نے ان کی طرف دیکھا اور انہیں گندمی رنگ، بلند قامت، مضبوط بازوؤں اور کشادہ سینے والا پایا اور فرمایا:
"میرا خیال ہے کہ تم اپنے حریفوں کو زیر کر لو گے، اگر چاہو تو میدان میں جاؤ۔" عبداللہ بن عمیر میدان میں گئے۔ سالم اور یسار نے ان کا نسب پوچھا۔ جب انہوں نے اپنا تعارف کرایا تو دونوں نے کہا:
"ہم تمہیں نہیں جانتے، حبیب، بریر یا زہیر میں سے کسی کو بھیجو۔" یسار، سالم سے آگے کھڑا تھا۔ عبداللہ بن عمیر نے کہا:
"کیا تم لوگوں سے لڑنے میں شرم محسوس کرتے ہو؟ جو شخص تم سے جنگ کرے گا، وہ تم سے بہتر ہوگا۔"
پھر انہوں نے یسار پر حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا۔ اسی دوران سالم نے ان پر حملہ کیا۔ امامؑ کے اصحاب نے آواز دی:
"سالم تمہاری طرف بڑھ رہا ہے!"
لیکن عبداللہ بن عمیر نے اس کی پروا نہ کی۔ سالم نے تلوار سے حملہ کیا، عبداللہ بن عمیر نے اپنا ہاتھ آگے کیا، جس کے نتیجے میں ان کے بائیں ہاتھ کی انگلیاں کٹ گئیں، لیکن انہوں نے سالم کو مہلت نہ دی اور اسے بھی قتل کر دیا۔
اس کے بعد وہ امام حسینؑ کی طرف متوجہ ہوئے اور یہ رجز پڑھا:
"اگر تم مجھے نہیں پہچانتے تو میں قبیلہ کلب کا فرزند ہوں، میرے لیے میرا خاندانی شرف ہی کافی ہے۔
میں عزم و ہمت والا انسان ہوں، جنگ کے وقت بزدل نہیں بنتا۔ اے امِّ وہب! میں تمہارا ضامن ہوں، کہ دشمنوں پر نیزے اور تلوار سے پیش قدمی کروں گا۔"
اس دوران امِّ وہب خیمے کا ستون ہاتھ میں لے کر اپنے شوہر کے پاس آئیں اور کہا:
"میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! رسول خداؐ کی اس پاک نسل کے دفاع میں جنگ کیجیے۔"
عبداللہ بن عمیر نے انہیں عورتوں کے خیموں کی طرف واپس کرنا چاہا، لیکن امِّ وہب نے ان کا لباس پکڑ لیا اور کہا:
"میں ہرگز آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گی، یہاں تک کہ آپ کے ساتھ شہید ہو جاؤں۔"
عبداللہ بن عمیر کے دائیں ہاتھ پر مقتولین کا خون اس طرح جم چکا تھا کہ وہ تلوار کی قبضے سے چپک گیا تھا، اور بائیں ہاتھ کی انگلیاں بھی کٹ چکی تھیں، اس لیے وہ اپنی زوجہ کو واپس نہ کر سکے۔
امام حسینؑ تشریف لائے اور فرمایا:
"خدا تم اہلِ خانہ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ عورتوں کے پاس واپس جاؤ، خدا تم پر رحم فرمائے، عورتوں پر جنگ واجب نہیں ہے۔"
چنانچہ امِّ وہب واپس چلی گئیں۔
ادھر عمرو بن حجاج زبیدی نے امامؑ کے لشکر کے دائیں بازو پر حملہ کیا، لیکن اصحابِ امامؑ ثابت قدم رہے۔ شمر نے بائیں بازو پر حملہ کیا، مگر وہاں بھی اصحابِ امامؑ استقامت سے کھڑے رہے اور نیزوں کے ذریعے دشمن کا مقابلہ کرتے رہے۔
عبداللہ بن عمیر، جو بائیں جانب ایک شیر دل مجاہد کی طرح لڑ رہے تھے، دشمن کے کئی افراد کو قتل کر چکے تھے کہ ہانی بن ثبیت حضرمی اور بکیر بن حی تیمی نے ان پر حملہ کیا اور انہیں شہید کر دیا۔
اس کے بعد عمر بن سعد کی فوج نے سوار اور پیادہ دونوں طرف سے یکبارگی حملہ کر دیا اور شدید جنگ شروع ہو گئی، جس میں امام حسینؑ کے بیشتر اصحاب زمین پر گر پڑے۔
جب میدان کی گرد بیٹھ گئی تو امِّ وہب اپنے شوہر کی لاش کے پاس آئیں، ان کے چہرے سے خاک صاف کی اور کہا:
"تم پر خدا کی جنت مبارک ہو۔ میں اس خدا سے دعا کرتی ہوں جس نے تمہیں جنت عطا کی، کہ مجھے بھی جنت میں تمہارا ساتھی بنائے۔"
اسی اثنا میں شمر نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ وہ اپنے گرز سے امِّ وہب کے سر پر ضرب لگائے۔ اس ضرب کے نتیجے میں امِّ وہب بھی اپنی آرزو کو پہنچ گئیں اور اپنے شہید شوہر کے پہلو میں جان دے دی۔
2 اور 3۔ سیف بن حارث اور مالک بن عبداللہ
یہ دونوں سوتیلے بھائی اپنے غلام شبیب کے ساتھ عاشورا کے دن اس وقت، جب انہوں نے امام حسینؑ کو اس حالت میں دیکھا، روتے ہوئے آپؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؑ کے لشکر میں شامل ہو گئے۔
امام حسینؑ نے ان سے فرمایا:
"اے میرے بھائی کے بیٹو! تم کیوں رو رہے ہو؟ خدا کی قسم! ایک گھنٹے کے بعد تمہاری آنکھیں روشن ہو جائیں گی۔"
انہوں نے عرض کیا:
"ہم آپ پر قربان ہوں، ہم اپنے لیے نہیں رو رہے، بلکہ اس لیے گریہ کر رہے ہیں کہ ہم آپ کو ان لوگوں کے محاصرے میں دیکھ رہے ہیں اور ہمارے پاس آپ کی مدد کے لیے اپنی جانوں کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہے۔"
امام حسینؑ نے فرمایا:
"خدا تمہیں اس ہمدردی اور نصرت کے بدلے وہ بہترین اجر عطا فرمائے جو متقین کو عطا کرتا ہے۔"
اسی دوران حنظلہ بن اسعد اہلِ کوفہ کو نصیحت کر رہے تھے اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ اس کے بعد یہ دونوں بھائی لشکرِ کوفہ کی طرف بڑھے اور امام حسینؑ کی طرف رخ کر کے عرض کیا:
"السلام علیک یا ابن رسول اللہ!"
امامؑ نے فرمایا:
"تم پر اللہ کی رحمت، سلام اور برکتیں ہوں۔"
پھر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے لڑتے رہے، ایک دوسرے کے پیچھے پیچھے بڑھتا تھا، یہاں تک کہ دونوں جامِ شہادت نوش کر گئے۔
4۔ عمرو بن خالد صیداوی
5۔ سعد، غلامِ عمرو
6۔ جابر بن حارث
7۔ مجمع بن عبداللہ
یہ چاروں بزرگوار ایک ساتھ اہلِ کوفہ پر حملہ آور ہوئے۔ جب وہ دشمن کے درمیان پہنچ گئے تو لشکرِ کوفہ نے انہیں گھیر لیا اور امام حسینؑ کے دوسرے اصحاب سے جدا کر دیا۔
امام حسینؑ نے اپنے بھائی حضرت عباسؑ کو بھیجا تاکہ وہ انہیں محاصرے سے نکال لائیں۔ حضرت عباسؑ نے اپنی تلوار کے ذریعے انہیں دشمن کے گھیرے سے آزاد کرایا، لیکن اس وقت تک وہ شدید زخمی ہو چکے تھے۔
راستے میں دشمن نے دوبارہ ان پر حملہ کیا۔ اگرچہ وہ زخمی تھے، مگر بہادری سے لڑتے رہے، یہاں تک کہ سب ایک دوسرے کے پہلو میں شہید ہو گئے۔
اسی اثنا میں عمرو بن حجاج نے اپنے لشکر کے ساتھ امام حسینؑ کے اصحاب کے دائیں بازو پر دوبارہ حملہ کیا۔ جب وہ امامؑ کے قریب پہنچے تو اصحابِ امامؑ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور اپنے نیزے دشمن کی طرف تان دیے،
جس کے باعث عمرو بن حجاج کے لشکر کے گھوڑے آگے نہ بڑھ سکے۔ جب دشمن واپس پلٹا تو اصحابِ امامؑ نے ان پر تیروں کی بارش کی، جس سے ان کے کئی افراد مارے گئے اور بہت سے زخمی ہوئے۔
8۔ بریر بن خضیر
جب جنگ شدت اختیار کر گئی تو لشکرِ کوفہ کا ایک شخص، یزید بن معقل، میدان میں آیا اور بریر کو آواز دے کر کہا:
"تم اپنے بارے میں خدا کے فیصلے کو کیسا پاتے ہو؟"
بریر نے جواب دیا:
"خدا کی قسم! اس نے میرے حق میں بھلائی کی ہے اور تیرے انجام کو شر میں قرار دیا ہے۔"
یزید بن معقل نے کہا:
"تم جھوٹ بولتے ہو، حالانکہ پہلے تم جھوٹے نہ تھے! اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تم گمراہوں میں سے ہو۔"
بریر نے فرمایا:
"کیا تم مباہلہ کرنا چاہتے ہو؟ تاکہ ہم اللہ سے دعا کریں کہ وہ جھوٹے پر لعنت کرے اور جو باطل پر ہو اسے قتل کر دے۔"
اس نے یہ بات قبول کر لی۔ دونوں میں مقابلہ ہوا۔ یزید بن معقل نے ایک ضرب لگائی، مگر اس سے بریر کو کوئی نقصان نہ پہنچا۔ پھر بریر نے اس کے سر پر ایسی تلوار ماری کہ اس کا خود پھٹ گیا اور ضرب اس کے دماغ تک پہنچ گئی، وہ زمین پر گر پڑا۔
اس دوران ایک اور کوفی سپاہی، رضی بن منقذ، بریر پر حملہ آور ہوا۔ دونوں کچھ دیر تک لڑتے رہے، یہاں تک کہ بریر نے اسے زمین پر گرا دیا اور اس کے سینے پر بیٹھ گئے۔
رضی بن منقذ نے چیخ کر کہا:
"میرے ساتھی کہاں ہیں؟ آ کر مجھے بچاؤ!"
روایت ہے کہ امام محمد باقرؑ نے فرمایا:
"ہر شہید کو اس کے عزیز میدان سے اٹھا کر دفن کر دیتے تھے، لیکن جون کے لیے کوئی نہ تھا جو اسے اٹھاتا، اسی لیے دس دن بعد اس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے حالت میں دیکھا گیا، مگر اس کے جسم سے مشک کی خوشبو آ رہی تھی۔"
اسی دوران کعب بن جابر، رضی بن منقذ کی مدد کے لیے پہنچا۔ لوگوں نے اس سے کہا:
"یہ بریر بن خضیر قاری ہیں، جو مسجد کوفہ میں بیٹھ کر ہمیں قرآن سکھایا کرتے تھے۔"
لیکن اس نے کوئی توجہ نہ دی اور اپنا نیزہ بریر کی پشت میں مار دیا۔
جب بریر نے نیزے کی نوک اپنی پشت میں محسوس کی تو انہوں نے خود کو رضی بن منقذ پر گرا دیا، اس کے چہرے کو دانتوں سے کاٹا اور اس کی ناک کا ایک حصہ نوچ لیا۔
کعب بن جابر نے نیزہ زور سے دبایا اور بریر کو رضی بن منقذ سے الگ کر دیا، پھر تلوار کے وار سے انہیں شہید کر دیا۔ خدا کی رحمت ان پر نازل ہو۔
عفیف کہتے ہیں:
"گویا میں اب بھی رضی بن منقذ کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اٹھا، اپنے کپڑوں سے گرد جھاڑتے ہوئے کعب بن جابر سے کہہ رہا تھا:
'اے میرے ازدی بھائی! تم نے مجھ پر ایسا احسان کیا ہے جسے میں کبھی نہیں بھولوں گا۔'"
یوسف بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے عفیف سے پوچھا:
"کیا تم نے خود بریر اور یزید بن معقل کے مباہلے کو دیکھا تھا؟"
عفیف نے جواب دیا:
"ہاں، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا تھا۔"
کعب بن جابر، جو بریر کے قاتل تھے، جب کربلا سے واپس آئے تو ان کی بیوی اور بہن نوار نے ان سے کہا:
"تم نے فاطمہؑ کے فرزند کے دشمنوں کی مدد کی اور قرآن کے عظیم قاری بریر کو قتل کر دیا۔ تم نے ایک بہت بڑا گناہ کیا ہے۔ خدا کی قسم! اب ہم تم سے کبھی بات نہیں کریں گی۔"
کعب کے چچا زاد بھائی عبیداللہ بھی ان پر غضبناک ہوئے اور کہا:
"ہلاکت ہو تم پر! کیا تم نے بریر کو قتل کر دیا؟
تم کس امید پر خدا سے ملاقات کرو گے؟"
نقل کیا گیا ہے کہ کعب بن جابر اپنے اس فعل پر بہت پشیمان ہوا اور اس نے کچھ اشعار کہے جن میں اس عظیم جرم کے ارتکاب پر اپنے غم و افسوس کا اظہار کیا۔
9۔ عمرو بن قرظہ بن کعب انصاری
ان کے والد، قرظہ بن کعب، رسول خداؐ کے صحابی اور امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ وہ حضرت علیؑ کے ساتھ مختلف جنگوں میں شریک رہے اور امیرالمؤمنینؑ نے انہیں فارس کا گورنر مقرر فرمایا تھا۔
ان کا انتقال 51 ہجری میں ہوا۔ ان کے کئی بیٹے تھے، جن میں عمرو اور علی زیادہ مشہور ہیں۔
عمرو بن قرظہ ایامِ مهادنہ میں امام حسینؑ کی خدمت میں کربلا پہنچے تھے۔ امام حسینؑ انہیں عمر بن سعد کے پاس نصیحت اور گفت و شنید کے لیے بھیجتے تھے، اور یہ سلسلہ شمر کے کربلا پہنچنے تک جاری رہا۔ شمر کی آمد کے بعد یہ رابطہ ختم ہو گیا۔
عاشورا کے دن عمرو بن قرظہ نے امام حسینؑ سے اجازت لی اور میدان میں اترتے ہوئے یہ رجز پڑھا:
"انصار کا لشکر جانتا ہے کہ میں اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کرنے والا ہوں۔ میں ایک غیر بزدل نوجوان ہوں، اور حسین بن علیؑ کی خاطر اپنی جان اور اپنا گھر قربان کرنے والا ہوں۔"
انہوں نے کچھ دیر جنگ کی، پھر واپس آ کر امام حسینؑ کے سامنے کھڑے ہو گئے تاکہ دشمن کے حملوں سے آپؑ کا دفاع کریں۔
ابن نما کے مطابق، وہ اپنے چہرے اور سینے کو تیروں کے سامنے ڈھال بنائے ہوئے تھے اور کسی تیر کو امام حسینؑ تک پہنچنے نہیں دیتے تھے۔ جب ان کے جسم پر بہت سے زخم لگ چکے تو انہوں نے عرض کیا:
"اے فرزندِ رسولؐ! کیا میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا؟"
امام حسینؑ نے فرمایا:
"ہاں، تم مجھ سے پہلے جنت میں پہنچو گے۔ رسول خداؐ کو میرا سلام پہنچانا اور کہنا کہ میں بھی جلد تمہارے پاس آنے والا ہوں۔"
یہ بشارت سن کر عمرو بن قرظہ زمین پر گر پڑے اور جامِ شہادت نوش کیا۔ خدا کا سلام ان پر ہو۔
لیکن ان کے بھائی علی بن قرظہ، جو عمر بن سعد کے لشکر میں تھے، جب اپنے بھائی کی شہادت سے آگاہ ہوئے تو لشکرِ کوفہ سے نکل کر پکارنے لگے:
"اے حسین! تم نے میرے بھائی کو دھوکا دیا اور اسے قتل کرا دیا!"
امام حسینؑ نے فرمایا:
"میں نے اسے دھوکا نہیں دیا، بلکہ اللہ نے اسے ہدایت دی اور تم گمراہی میں پڑ گئے ہو۔"
علی بن قرظہ نے کہا:
"خدا مجھے ہلاک کرے اگر میں تمہیں قتل نہ کروں یا تمہارے ہاتھوں قتل نہ ہو جاؤں!"
اور امامؑ کی طرف حملہ آور ہوا۔ نافع بن ہلال نے نیزے کے ایک وار سے اسے زمین پر گرا دیا۔ اس کے ساتھی اسے میدان سے باہر لے گئے اور اس کا علاج کیا، یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو گیا۔
---
جب امام حسینؑ کے جاں نثار صحابی زہیر بن قین کی شہادت کی خبر ان کی وفادار زوجہ تک پہنچی تو انہوں نے اپنے غلام سے کہا:
"جاؤ، اپنے آقا زہیر کو کفن دو۔"
غلام زہیر جب قتل گاہ میں امام حسینؑ کے مطہر جسم کو بے کفن حالت میں دیکھتا ہے تو اپنے دل میں کہتا ہے:
"میں اپنے آقا زہیر کو کیسے کفن دوں اور حسینؑ بن علیؑ کو اس حال میں چھوڑ دوں؟ خدا کی قسم! ایسا ہرگز نہیں کروں گا۔"
چنانچہ اس نے اپنے ساتھ موجود کپڑے میں امام حسینؑ کے جسمِ مبارک کو لپیٹا اور زہیر بن قین کو ایک پھٹے ہوئے کپڑے میں کفن دیا۔
10 اور 11۔ سعد بن حارث اور ابو الحتوف بن حارث
یہ دونوں بھائی عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے تھے۔ عاشورا کے دن جب امام حسینؑ کی یہ صدا بلند ہوئی:
"کیا کوئی ہے جو ہماری مدد کرے؟"
اور خواتین اور بچے امامؑ کی آواز سن کر گریہ و زاری کرنے لگے، تو یہ منظر ان دونوں بھائیوں سے برداشت نہ ہوا۔ انہوں نے اپنی تلواریں لشکرِ کوفہ اور امام حسینؑ کے دشمنوں کے خلاف اٹھا لیں اور مسلسل لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
بعض مورخین نے لکھا ہے کہ ان دونوں بھائیوں نے امام حسینؑ کے آخری لمحات میں، تمام اصحاب کی شہادت کے بعد، جامِ شہادت نوش کیا۔
12۔ نافع بن ہلال
وہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے اصحاب میں سے، ایک شریف، بہادر، قاریِ قرآن اور راویِ حدیث تھے۔ جنگِ جمل، صفین اور نہروان میں حضرت علیؑ کے ہمراہ تلوار چلا چکے تھے۔
جب امام حسینؑ عراق کی طرف روانہ ہوئے تو نافع بن ہلال اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ راستے میں آپؑ سے جا ملے۔
جب عمرو بن قرظہ شہید ہوئے اور ان کے بھائی علی بن قرظہ خون خواہی کے لیے میدان میں آئے، تو نافع بن ہلال نے ان پر حملہ کیا اور انہیں زخمی کر دیا۔ ان کے ساتھی مدد کے لیے آئے، مگر نافع بن ہلال ان سے بھی لڑتے رہے اور رجز پڑھتے ہوئے کہتے تھے:
"اگر تم مجھے نہیں پہچانتے تو جان لو کہ میں قبیلہ جمل کا فرد ہوں، اور میرا دین حسین بن علیؑ کا دین ہے۔"
اس کے جواب میں مزاحم بن حریث نامی شخص نے کہا:
"میں فلاں کے دین پر ہوں!"
نافع بن ہلال نے فرمایا:
"بلکہ تو شیطان کے دین پر ہے۔"
اور اس پر حملہ کر دیا۔ مزاحم واپس پلٹنا چاہتا تھا، لیکن نافع کے وار نے اسے مہلت نہ دی اور وہ مارا گیا۔
اس موقع پر عمرو بن حجاج نے اپنے سپاہیوں سے پکار کر کہا:
"کیا تم جانتے ہو کہ تم کن لوگوں سے لڑ رہے ہو؟ حسینؑ کے اصحاب میں سے کسی کے مقابلے میں تنہا نہ جانا!"
ابو مخنف روایت کرتے ہیں کہ نافع بن ہلال اپنے تیروں پر اپنا نام لکھتے تھے اور ان پر زہر لگا کر انہیں چلاتے تھے۔ انہوں نے عمر بن سعد کے لشکر کے بارہ افراد کو قتل کیا اور بہت سے لوگوں کو زخمی کر دیا۔
جب ان کے تیر ختم ہو گئے تو انہوں نے تلوار کھینچ لی اور حملہ کرتے ہوئے یہ رجز پڑھا:
"میں جملی قبیلے کا شیر ہوں، اور علیؑ کے دین پر قائم ہوں۔"
دشمن نے دیکھا کہ ان کا مقابلہ انفرادی طور پر ممکن نہیں، اس لیے سب نے مل کر ان پر حملہ کیا۔ چاروں طرف سے تیروں اور پتھروں کی بارش کی گئی، یہاں تک کہ ان کے دونوں بازو ٹوٹ گئے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
شمر اور اس کے چند ساتھی انہیں عمر بن سعد کے پاس لے آئے۔
عمر بن سعد نے ان سے کہا:
"اے نافع! افسوس تم پر، تم نے اپنے ساتھ یہ کیا کیوں؟" نافع بن ہلال
نافع بن ہلال نے جواب دیا:
"میرا پروردگار میرے ارادے اور نیت سے خوب واقف ہے۔"
اس وقت ان کی داڑھی خون سے تر ہو چکی تھی۔ لوگوں نے کہا:
"کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم نے اپنے ساتھ کیا کیا ہے؟"
انہوں نے فرمایا:
"میں تمہارے بارہ آدمیوں کو قتل کر چکا ہوں اور مجھے اپنے کیے پر کوئی افسوس نہیں۔ اگر میرے بازو سلامت ہوتے تو تم مجھے ہرگز گرفتار نہ کر سکتے۔"
شمر نے عمر بن سعد سے کہا:
"اسے قتل کر دو!"
عمر بن سعد نے کہا:
"تم اسے یہاں لائے ہو، اگر چاہتے ہو تو خود ہی قتل کرو۔"
شمر نے اپنی تلوار نیام سے نکالی۔ جب وہ نافع بن ہلال کو شہید کرنے لگا تو نافع نے فرمایا:
"خدا کی قسم! اگر تم مسلمان ہوتے تو تمہارے لیے خدا سے ملاقات بہت سخت ہوتی اور ہمارا خون تمہاری گردن پر بہت بھاری ہوتا۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہماری موت کو اپنی بدترین مخلوق کے ہاتھوں مقدر فرمایا۔"
اس کے بعد شمر نے انہیں شہید کر دیا۔ اللہ کی رضوان ان پر نازل ہو۔
13۔ ابو الشعثاء کندی
ان کا اصل نام یزید بن زیاد تھا۔ وہ عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ کربلا آئے تھے، لیکن جب جنگ شروع ہوئی اور لوگوں نے امام حسینؑ کی بات قبول نہ کی تو وہ امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہو گئے۔
وہ ایک ماہر تیرانداز تھے۔ امام حسینؑ کے سامنے زانو کے بل بیٹھ کر انہوں نے دشمن پر سو تیر چلائے، اور امام حسینؑ ان کے لیے دعا کرتے ہوئے فرماتے تھے:
"اے اللہ! ان کے تیروں کو نشانے تک پہنچا اور جنت کو ان کا اجر قرار دے۔"
جب ان کے تیر ختم ہو گئے تو کھڑے ہو کر کہا:
"میں نے عمر بن سعد کے لشکر کے پانچ آدمیوں کو قتل کیا ہے۔"
اس کے بعد انہوں نے دشمن پر حملہ کیا اور انیس افراد کو قتل کرنے کے بعد شہادت حاصل کی۔
حملے کے وقت وہ یہ رجز پڑھ رہے تھے:
"میں یزید ہوں اور میرے والد مہاجر تھے، میں غار میں بیٹھے شیر سے بھی زیادہ دلیر ہوں۔ اے میرے پروردگار! میں حسینؑ کا مددگار ہوں اور ابن سعد سے بیزار اور اس سے جدا ہوں۔"
14۔ مسلم بن عوسجہ
مسلم بن عوسجہ ایک نہایت معزز، عبادت گزار اور زاہد شخصیت تھے اور رسول خداؐ کے اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔ اسلامی فتوحات اور جنگوں میں ان کی شجاعت زبان زد عام تھی۔
وہ کوفہ میں حضرت مسلم بن عقیلؑ کے نمائندے تھے اور ان کے ذمے مالی وسائل جمع کرنا، اسلحہ خریدنا اور لوگوں سے بیعت لینا تھا۔
عاشورا کے دن وہ نہایت بہادری سے لڑتے ہوئے یہ رجز پڑھ رہے تھے: "اگر تم میرے بارے میں پوچھو تو میں بنی اسد کی شاخ سے تعلق رکھنے والا ایک بہادر انسان ہوں، اور جو مجھ سے دشمنی کرے وہ راہِ حق سے بھٹکا ہوا اور خدائے یکتا کے دین کا منکر ہے۔"
عمرو بن حجاج، جو عمر بن سعد کے لشکر کے بائیں بازو کا سالار تھا، فرات کے قریب امام حسینؑ کے دائیں بازو پر حملہ آور ہوا، جس کی قیادت زہیر بن قین کر رہے تھے۔ اس شدید جنگ کے دوران مسلم بن عوسجہ اسدی زمین پر گر پڑے اور مقامِ شہادت پر فائز ہوئے۔
راوی کہتے ہیں کہ جب میدانِ جنگ کی گرد بیٹھ گئی تو دیکھا گیا کہ مسلم بن عوسجہ آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ امام حسینؑ ان کے سرہانے تشریف لائے اور فرمایا:
"اے مسلم بن عوسجہ! خدا تم پر رحمت نازل فرمائے۔" پھر آپؑ نے قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
"فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا" "ان میں سے بعض اپنی نذر پوری کر چکے اور بعض انتظار میں ہیں، اور انہوں نے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔"
اس موقع پر حبیب بن مظاہر ان کے قریب آئے اور فرمایا: "اے مسلم بن عوسجہ! تمہاری شہادت مجھ پر بہت گراں گزری ہے، میں تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں۔"
مسلم بن عوسجہ نے کمزور آواز میں فرمایا:
"اللہ تمہیں بھی خیر کی بشارت دے۔" حبیب بن مظاہر نے فرمایا:
"اگر میں بھی جلد تم سے آ ملنے والا نہ ہوتا تو میں چاہتا کہ تم مجھے اپنی وصیت کرو تاکہ میں اس پر عمل کروں۔"
مسلم بن عوسجہ نے امام حسینؑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "میں تمہیں اس ہستی (امام حسینؑ) کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ اپنی جان ان پر قربان کر دینا۔"
حبیب بن مظاہر نے جواب دیا: "ربِ کعبہ کی قسم! میں ایسا ہی کروں گا۔"
اس کے بعد مسلم بن عوسجہ نے جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی اور رحمتِ الٰہی میں جا آرام کیے۔
ان کی کنیز بلند آواز سے پکارنے لگی:
"اے میرے آقا! اے ابنِ عوسجہ!"
ادھر عمرو بن حجاج کے لشکر والے خوشی سے کہنے لگے:
"ہم نے مسلم بن عوسجہ کو قتل کر دیا!"
یہ سن کر شبث بن ربعی نے اپنے ساتھیوں سے کہا:
"تمہاری مائیں تم پر روئیں! تم نے خود اپنے آپ کو رسوا کر لیا ہے۔ کیا تم اس بات پر خوشی منا رہے ہو کہ تم نے مسلم بن عوسجہ جیسے مردِ میدان کو قتل کیا ہے؟"
پھر اس نے کہا:
"خدا کی قسم! میں نے انہیں مسلمانوں میں ایک نہایت باعزت مقام پر دیکھا تھا۔ آذربائیجان کی سرزمین میں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ تمام سواروں کے پہنچنے سے پہلے انہوں نے چھ آدمیوں کو قتل کر دیا تھا۔ کیا تم ایسے انسان کے قتل پر خوشی منا رہے ہو؟"
تاریخی روایات کے مطابق، مسلم بن عوسجہ کو دو افراد، مسلم بن عبداللہ ضبابی اور عبدالرحمن بن ابی خشکارہ بجلی نے شہید کیا۔
حبیب بن مظاہر
حبیب بن مظاہر رسول خداؐ کے اصحاب میں سے تھے۔ وہ کوفہ میں رہتے تھے اور امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے خاص اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔ آپؑ کے تمام معرکوں میں شریک رہے اور حضرت علیؑ کے علوم کے حاملین اور خواص اصحاب میں ان کا شمار ہوتا تھا۔
جب امام حسینؑ نے قیام فرمایا تو حبیب بن مظاہر ان خوش نصیب افراد میں شامل تھے جو نہایت اشتیاق اور اخلاص کے ساتھ آپؑ کی نصرت کے لیے کربلا پہنچے۔
15۔ حُر بن یزید ریاحی
حُر بن یزید ریاحی اپنی قوم میں ایک معزز اور باوقار شخصیت تھے۔ آخرکار انہوں نے ندائے حق پر لبیک کہا، خوش دلی کے ساتھ شہادت کا استقبال کیا اور فرزندِ رسولؐ کی نصرت کا شرف حاصل کیا۔
وہ نہایت بہادری سے جنگ کرتے ہوئے یہ رجز پڑھ رہے تھے: "میں حُر ہوں اور مہمانوں کو پناہ دینے والا ہوں، میں اپنی تلوار سے تمہارے چہروں پر ضرب لگاتا ہوں،
اس ہستی کی خاطر جو سرزمین خیف میں اترنے والوں میں سب سے بہتر ہے، میں تم سے جنگ کرتا ہوں اور اس میں کسی ظلم کو نہیں دیکھتا۔"
حُر بن یزید اور زہیر بن قین ایک دوسرے کے ساتھ مل کر دشمن سے نبرد آزما تھے۔ جب ان میں سے کوئی ایک دشمن کے محاصرے میں آ جاتا تو دوسرا اسے نجات دلاتا۔ کچھ دیر تک اسی طرح جنگ جاری رہی۔
آخرکار حُر کے گھوڑے کو زخم لگے، لیکن وہ بدستور سوار ہو کر لڑتے اور اشعار پڑھتے رہے، یہاں تک کہ یزید بن سفیان، جس کی ان سے پرانی دشمنی تھی، حصین بن نمیر کے اکسانے پر ان کے مقابلے میں آیا۔ لیکن حُر نے اسے مہلت نہ دی اور تلوار کے وار سے ہلاک کر دیا۔
اس کے بعد ایوب بن شرح نامی شخص نے حُر کے گھوڑے پر تیر مارا، جس سے گھوڑا گر پڑا۔ حُر مجبوراً پیادہ ہو گئے اور پیادہ ہی لڑتے رہے، یہاں تک کہ چالیس سے زیادہ دشمنوں کو قتل کر دیا۔
پھر ابن سعد کی پیادہ فوج نے ان پر اجتماعی حملہ کیا اور انہیں شہید کر دیا۔ امام حسینؑ کے اصحاب جلدی سے ان کے پاس پہنچے اور انہیں اس خیمے کے سامنے لے آئے جہاں جنگ جاری تھی۔ امام حسینؑ ان کے سرہانے تشریف لائے، ان کے چہرے سے خون صاف کیا اور فرمایا:
"تم واقعی حُر (آزاد) ہو، جیسے تمہاری ماں نے تمہارا نام رکھا تھا۔ تم دنیا اور آخرت دونوں میں آزاد ہو۔"
حُر کی مرثیہ میں امام حسینؑ کے ایک صحابی نے یہ اشعار کہے: "قبیلہ بنی ریاح کا حُر بہترین انسان تھا، جو نیزوں کی ہنگامہ خیزی میں صبر کرنے والا تھا۔ کتنا اچھا حُر تھا، جب اس نے حسینؑ پر اپنی جان قربان کی اور صبح کے وقت اپنی جان نثار کر دی۔"
بعض مؤرخین نے ان اشعار کو امام زین العابدین حضرت علی بن الحسینؑ کی طرف منسوب کیا ہے، جبکہ بعض نے انہیں خود امام حسینؑ کا کلام قرار دیا ہے۔
محبت سے بلند کیا نصرت کا پرچم، دین داری کی راہ میں سرخرو ہو گیا۔ حُر بن کر ظلمت کے پردے چاک کر دیے، اور بیداری کا نغمہ گاتے ہوئے سرمست ہو گیا۔
16۔ حبیب بن مظاہر
حبیب بن مظاہر رسول خداؐ کے اصحاب میں سے تھے۔ وہ کوفہ میں مقیم تھے اور امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے خاص ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپؑ کے تمام معرکوں میں شریک رہے اور حضرت علیؑ کے علوم کے حاملین اور مخصوص اصحاب میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ وہ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جو شوق و اخلاص کے ساتھ امام حسینؑ کی نصرت کے لیے کربلا پہنچے۔
حبیب بن مظاہر اور مسلم بن عوسجہ کوفہ میں امام حسینؑ کے لیے لوگوں سے بیعت لیتے تھے۔ جب عبیداللہ بن زیاد کوفہ آیا اور اہل کوفہ نے حضرت مسلم بن عقیلؑ کو تنہا چھوڑ دیا تو حبیب بن مظاہر اور مسلم بن عوسجہ کے قبیلے والوں نے انہیں پناہ دی تاکہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔
جب امام حسینؑ کربلا پہنچے تو یہ دونوں بزرگ چھپتے چھپاتے، دن میں پوشیدہ رہتے اور رات کے وقت سفر کرتے ہوئے امامؑ کے لشکر میں جا ملے۔
جب امام حسینؑ نے ظہر کی نماز ادا کرنے کے لیے دشمن سے مہلت طلب کی تو حصین بن تمیم نے گستاخی کرتے ہوئے کہا:
"تمہاری نماز قبول نہیں ہوگی!" اس پر حبیب بن مظاہر نے جواب دیا:
"کیا تم سمجھتے ہو کہ آلِ رسولؐ کی نماز قبول نہیں ہوگی اور تم جیسے جاہل اور احمق کی نماز قبول ہو جائے گی؟"
یہ سن کر حصین بن تمیم نے حملہ کیا، اور حبیب بن مظاہر بھی اس کی طرف بڑھے۔ انہوں نے اس کے گھوڑے کے چہرے پر ایسی ضرب لگائی کہ حصین گھوڑے سے زمین پر گر پڑا۔ اس کے ساتھی دوڑے اور اسے بچا کر لے گئے۔
اس کے بعد حبیب بن مظاہر دشمن پر حملہ آور ہوئے اور یہ رجز پڑھنے لگے:
"میں حبیب ہوں اور میرے والد مظہر ہیں، میں میدانِ جنگ کا شہسوار ہوں جب جنگ بھڑک اٹھتی ہے۔ تم تعداد میں ہم سے زیادہ ہو، لیکن ہم تم سے زیادہ وفادار اور زیادہ صبر کرنے والے ہیں۔"
انہوں نے دشمن کے کئی افراد کو قتل کیا، یہاں تک کہ بدیل بن صریم نے تلوار کا وار کیا اور ایک تمیمی شخص نے نیزہ مارا۔ حبیب بن مظاہر گھوڑے سے زمین پر گر پڑے۔
جب انہوں نے اٹھنے کی کوشش کی تو حصین بن تمیم نے ان کے سر پر ایک اور ضرب لگائی، اور اس تمیمی شخص نے ان کا سر تن سے جدا کر دیا۔
اللہ تعالیٰ کی رضوان اور جنت ان پر مبارک ہو۔ حصین بن تمیم نے اس تمیمی شخص سے کہا:
"میں بھی حبیب کے قتل میں تمہارا شریک ہوں!"
لیکن وہ شخص کہتا تھا:
"میں نے اکیلے ہی حبیب کو قتل کیا ہے۔"
حصین نے کہا:
"مجھے ان کا سر دے دو تاکہ میں اسے اپنے گھوڑے کی گردن میں لٹکا کر لشکر میں گھوموں، تاکہ لوگ جان لیں کہ میں بھی ان کے قتل میں شریک تھا۔ بعد میں میں اسے تمہیں واپس دے دوں گا تاکہ تم عبیداللہ بن زیاد کے پاس لے جا کر انعام حاصل کر سکو۔"
ابتدا میں اس نے انکار کیا، لیکن لوگوں کی مداخلت کے بعد حصین بن تمیم نے کچھ دیر کے لیے سر مبارک کو اپنے گھوڑے کی گردن میں لٹکا کر لشکر میں گھمایا، پھر اسے واپس کر دیا۔
محمد بن قیس روایت کرتے ہیں کہ حبیب بن مظاہر کی شہادت امام حسینؑ پر بہت گراں گزری۔ آپؑ کا دل غم سے بھر آیا اور آپؑ نے فرمایا:
"میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ میرے مددگاروں اور ساتھیوں کو بہترین اجر عطا فرمائے۔"
ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ امام حسینؑ نے فرمایا: "اے حبیب! تم کتنے بہترین انسان تھے۔ اللہ نے تمہیں یہ توفیق عطا فرمائی تھی کہ تم ہر رات قرآن مجید ختم کرتے تھے۔"
ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حبیب بن مظاہرؓ ظہر کی نماز سے پہلے جامِ شہادت نوش کر چکے تھے۔
آخری نماز
جب ظہر کی نماز کا وقت آیا تو امام حسینؑ کے ایک صحابی ابو ثمامہ صیداوی نے عرض کیا: اے اباعبداللہ! میری جان آپ پر قربان ہو، یہ لوگ ہمارے قریب آ پہنچے ہیں، خدا کی قسم! آپ سے پہلے مجھے شہید ہونا چاہیے، اور میری خواہش ہے کہ جب میں اپنے پروردگار سے ملاقات کروں تو آپ کے ساتھ نماز ادا کر چکا ہوں۔
امام حسینؑ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا: تم نے نماز کی یاد دلائی، خدا تمہیں نماز گزاروں میں شمار فرمائے۔
پھر امام حسینؑ نے زہیر بن قین اور سعید بن عبداللہ سے فرمایا کہ وہ آپ کے سامنے کھڑے ہو جائیں تاکہ آپ نماز ادا کریں۔ چنانچہ امامؑ نے اپنے اصحاب کے ایک گروہ کے ساتھ نمازِ خوف ادا فرمائی۔
17۔ سعید بن عبداللہ حنفی
سعید بن عبداللہ امام کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے اور دشمن کے تیروں کا نشانہ بنتے رہے، یہاں تک کہ وہ زمین پر گر پڑے۔ اس حالت میں عرض کر رہے تھے:
"اے پروردگار! ان لوگوں پر اسی طرح لعنت فرما جیسے قومِ عاد اور ثمود پر لعنت فرمائی۔ میرے سلام اپنے رسول تک پہنچا دے، اور ان زخموں کو میرے لیے اس ثواب کا ذریعہ قرار دے جو تیرے نبی کے فرزند کی نصرت میں مجھے حاصل ہو رہا ہے۔"
پھر امام حسینؑ کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا:
"اے فرزندِ رسول! کیا میں نے اپنے عہد کو پورا کر دیا؟"
امامؑ نے فرمایا:
"ہاں، تم جنت میں مجھ سے پہلے پہنچو گے۔"
وہ اس حال میں شہید ہوئے کہ ان کے جسم پر تیرہ تیروں کے علاوہ نیزوں اور تلواروں کے زخم بھی موجود تھے۔
نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام حسینؑ نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
"اے میرے انصار! یہ جنت ہے جس کے دروازے تمہارے لیے کھول دیے گئے ہیں، اس کی نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل آمادہ ہیں۔ یہ رسولِ خدا ﷺ ہیں اور وہ شہداء جو راہِ خدا میں قتل ہوئے، تمہارے منتظر ہیں اور تمہیں جنت کی بشارت دے رہے ہیں۔ پس دینِ خدا اور دینِ رسول کی حمایت کرو اور حرمِ رسول کا دفاع کرو۔"
اصحاب نے عرض کیا:
"ہماری جانیں آپ پر قربان ہوں، ہمارا خون آپ کے خون کی حفاظت کے لیے حاضر ہے۔ خدا کی قسم! جب تک ہم میں سے ایک بھی زندہ ہے، آپ اور اہلِ حرم تک کوئی گزند نہیں پہنچنے دیں گے۔"
محمد بن قیس روایت کرتے ہیں کہ حبیب بن مظاہر کی شہادت امام حسینؑ پر بہت گراں گزری۔ آپؑ نے فرمایا:
"میں خدا سے امید رکھتا ہوں کہ وہ میرے مددگاروں اور ساتھیوں کو بہترین اجر عطا فرمائے۔"
اور یہ بھی فرمایا:
18۔ ابو ثمامہ صائدی
ان کا نام عمرو بن عبداللہ بن کعب تھا۔ وہ تابعین میں سے تھے اور شیعہ شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ امیرالمؤمنین علیؑ کے اصحاب میں سے تھے اور آپؑ کے ساتھ جنگوں میں شریک رہے۔ بعد میں امام حسن مجتبیٰؑ کے اصحاب میں شامل ہوئے اور کوفہ میں مقیم رہے۔
معاویہ کی وفات کے بعد انہوں نے امام حسینؑ کو خط لکھا اور کوفہ آنے کی دعوت دی۔ مسلم بن عقیل کے اہم کمانڈروں میں سے تھے اور عبیداللہ بن زیاد کے خلاف دارالامارہ کا محاصرہ کرنے والوں میں شامل تھے۔ جب لوگ مسلم بن عقیل کا ساتھ چھوڑ گئے تو ابو ثمامہ روپوش ہو گئے اور ابن زیاد ان کی تلاش میں رہا۔
وہ نافع بن ہلال کے ساتھ راستے میں امام حسینؑ سے آ ملے۔ عاشورا کے دن نماز ادا کرنے کے بعد عرض کیا:
"اے اباعبداللہ! اب میں اپنے شہید ساتھیوں سے جا ملنا چاہتا ہوں، اور یہ پسند نہیں کرتا کہ زندہ رہوں اور آپ کو شہید ہوتے دیکھوں۔"
امامؑ نے انہیں اجازت دی اور فرمایا:
"ہم بھی بہت جلد تم سے آ ملیں گے۔"
پھر وہ دشمن سے شدید جنگ کرتے رہے، یہاں تک کہ شدید زخمی ہو گئے۔ آخرکار ان کے چچازاد بھائی قیس بن عبداللہ صائدی، جس سے ان کی پرانی دشمنی تھی، نے انہیں شہید کر دیا۔ ان کی شہادت حر بن یزید ریاحیؑ کی شہادت کے بعد واقع ہوئی۔
19۔ سلمان بن مضارب
وہ زہیر بن قین کے چچازاد بھائی تھے۔ دونوں حج کے لیے گئے تھے۔ جب راستے میں زہیر بن قین امام حسینؑ کے قافلے سے ملحق ہوئے تو سلمان بن مضارب بھی امامؑ کے ہمراہ ہو گئے اور کربلا پہنچے۔ عاشورا کے دن نمازِ ظہر کے بعد، زہیر بن قین سے پہلے شرفِ شہادت حاصل کیا۔
20۔ زہیر بن قین بجلی
زہیر بن قین اپنی قوم کے معزز، بہادر اور نامور شخصیت تھے۔ وہ کوفہ میں رہتے تھے اور جنگوں میں ان کی شجاعت مشہور تھی۔ ابتدا میں عثمان کے حامی تھے، لیکن امام حسینؑ سے ملاقات کے بعد ہدایتِ الٰہی سے ان کے عقائد میں تبدیلی آئی اور وہ اہلِ بیتؑ کے مخلص پیروکار بن گئے۔ پھر امام حسینؑ کے ساتھ کربلا پہنچے۔
روزِ عاشورا نماز ادا کرنے کے بعد انہوں نے امام حسینؑ کے شانۂ مبارک پر ہاتھ رکھا اور رجز پڑھتے ہوئے میدانِ جنگ کی طرف روانہ ہوئے۔
زہیر بن قینؓ نے میدانِ جنگ کی طرف بڑھتے ہوئے یہ رجز پڑھا:
"میں آج تمہارے جدّ رسولِ خدا ﷺ سے ملاقات کروں گا، پھر تمہارے والد علی مرتضیٰؑ سے، نیز دو پروں والے جوان جعفر طیارؑ سے، اور اللہ کے شیر، زندہ شہید حمزہؓ سے۔"
اس کے بعد وہ میدان میں اترے اور نہایت بہادری سے جنگ کی، یہاں تک کہ دشمن کے ایک سو بیس افراد کو ہلاک کر دیا۔
وہ امام حسینؑ کے نہایت وفادار اصحاب میں سے تھے اور مسلسل امامؑ کے سامنے رہ کر جنگ کرتے رہے، یہاں تک کہ جامِ شہادت نوش کیا۔
بشیر بن عبداللہ شعبی اور مہاجر بن اوس تمیمی نے ان پر حملہ کیا اور انہیں شہید کر دیا۔ ان کی شہادت کے بعد امام حسینؑ نے فرمایا:
"اے زہیر! خدا تمہیں اپنی رحمت سے دور نہ کرے، اور تمہارے قاتلوں کو انہی مسخ شدہ ملعون لوگوں کی طرح اپنی دائمی لعنت میں گرفتار کرے۔"
جب زہیر بن قینؓ کی شہادت کی خبر ان کی وفادار زوجہ کو ملی تو انہوں نے اپنے غلام سے کہا:
"جاؤ، اپنے آقا زہیر کو کفن دو۔"
غلام جب میدانِ کربلا میں پہنچا تو اس نے امام حسینؑ کے مقدس جسم کو بے کفن دیکھا۔ اس نے اپنے دل میں کہا:
"میں اپنے آقا زہیر کو کیسے کفن دوں جبکہ حسینؑ کو بے کفن چھوڑ دوں؟ خدا کی قسم! ایسا ہرگز نہیں کروں گا۔"
چنانچہ اس نے اپنے پاس موجود کپڑے میں امام حسینؑ کے جسدِ مبارک کو لپیٹ دیا اور زہیر بن قینؓ کو ایک پھٹے ہوئے کپڑے میں کفن دیا۔
21۔ حجاج بن مسروق جعفیؓ
حجاج بن مسروقؓ شیعانِ علیؑ اور امیرالمؤمنینؑ کے اصحاب میں سے تھے۔ وہ کوفہ میں رہتے تھے۔ جب امام حسینؑ مکہ تشریف لائے تو وہ بھی کوفہ سے مکہ پہنچے اور امامؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ نماز کے وقت امامؑ کے لیے اذان دیا کرتے تھے۔
روزِ عاشورا جب جنگ بھڑک اٹھی تو انہوں نے امامؑ سے اجازت طلب کی، میدان میں گئے اور کچھ دیر جنگ کرنے کے بعد زخمی حالت میں واپس آئے، جبکہ ان کا بدن خون سے تر تھا۔ وہ یہ رجز پڑھ رہے تھے:
"آج میں تمہارے جدّ رسول اللہ سے ملاقات کروں گا، پھر تمہارے والد علیؑ سے، جنہیں ہم حقیقی وصی مانتے ہیں۔"
امام حسینؑ نے فرمایا:
"میں بھی جلد تم سے آ ملوں گا اور ان بزرگ ہستیوں سے ملاقات کروں گا۔"
اس کے بعد حجاج بن مسروقؓ دوبارہ میدان میں گئے اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔
22۔ یزید بن مغفل جعفیؓ
وہ ایک اچھے شاعر، دلیر شیعہ اور جنگِ صفین میں حضرت علیؑ کے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ مکہ میں حجاج بن مسروقؓ کے ساتھ امام حسینؑ سے ملحق ہوئے۔
عاشورا کے دن انہوں نے امامؑ سے اجازت لی اور میدان میں جا کر یہ رجز پڑھا:
"میں یزید بن مغفل ہوں، میرے ہاتھ میں چمکتی ہوئی تلوار ہے، میں اس کے ذریعے دشمنوں کے سروں کو دو نیم کرتا ہوں، اور حسینؑ، جو رسول اللہ ﷺ کے برگزیدہ فرزند ہیں، ان کی حمایت کرتا ہوں۔"
انہوں نے اس قدر شجاعت سے جنگ کی کہ دشمن حیران رہ گیا، اور متعدد افراد کو ہلاک کرنے کے بعد شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔
23۔ حنظلہ بن اسعد شبامیؓ
حنظلہ بن اسعدؓ شیعوں کے بزرگ، فصیح خطیب، بہادر اور قاریِ قرآن تھے۔ امام حسینؑ کے کربلا پہنچنے کے بعد وہ آپؑ کے لشکر میں شامل ہوئے اور بعض اوقات امامؑ کے نمائندے کی حیثیت سے عمر بن سعد کے پاس بھی جاتے تھے۔
عاشورا کے دن انہوں نے میدان میں جانے سے پہلے اہلِ کوفہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
"مجھے تمہارے انجام سے خوف ہے، جیسا کہ قومِ نوح، عاد، ثمود اور احزاب کے انجام سے ہوا۔ اے لوگو! میں قیامت کے دن تمہاری رسوائی سے ڈرتا ہوں۔ حسینؑ کو قتل نہ کرو، ورنہ خدا تمہیں اپنے عذاب میں مبتلا کر دے گا۔"
امام حسینؑ نے فرمایا:
"جب تم نے انہیں حق کی دعوت دی اور انہوں نے قبول نہ کیا، بلکہ تمہارے اور تمہارے نیک ساتھیوں کے خون کے پیاسے ہو گئے، تو وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔"
حنظلہؓ نے عرض کیا:
"میری جان آپ پر قربان ہو، کیا مجھے اجازت ہے کہ میں اپنے پروردگار سے جا ملوں اور اپنے شہید بھائیوں سے ملحق ہو جاؤں؟"
امامؑ نے فرمایا:
"جاؤ، اس ابدی نعمت کی طرف جو دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے، ایسی بادشاہی کی طرف جسے کبھی زوال نہیں۔"
حنظلہؓ نے عرض کیا:
"السلام علیک یا اباعبداللہ، اللہ آپ اور آپ کے اہلِ بیت پر رحمت نازل فرمائے، ہماری ملاقات جنت میں ہو گی۔"
امامؑ نے فرمایا:
"آمین، آمین۔"
پھر وہ میدان میں گئے اور دشمن کے حملوں کے درمیان جامِ شہادت نوش کیا۔
24۔ عابس بن ابی شبیبؓ
عابس بن ابی شبیبؓ قبیلہ بنی شاکر سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ شیعوں کے ممتاز رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ نہایت بہادر، فصیح خطیب، عبادت گزار اور شب زندہ دار تھے۔
روزِ عاشورا فرمایا کرتے تھے:
"آج عمل کا دن ہے، ہمیں اپنی سعادت کے لیے پوری کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ اس کے بعد صرف حساب ہوگا اور عمل کا موقع باقی نہیں رہے گا۔"
پھر امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:
"اے اباعبداللہ! خدا کی قسم! روئے زمین پر کوئی شخص آپ سے زیادہ میرے نزدیک محبوب نہیں۔ اگر میری جان اور خون سے زیادہ کوئی قیمتی چیز ہوتی جسے آپ پر قربان کر سکتا، تو ضرور پیش کرتا۔"
پھر عرض کیا:
"السلام علیک یا اباعبداللہ، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں آپ اور آپ کے والد کے راستے پر قائم ہوں۔"
اس کے بعد تلوار لے کر دشمن کی طرف بڑھے۔
ربیع بن تمیم بیان کرتے ہیں:
"جب میں نے عابس کو میدان کی طرف آتے دیکھا تو انہیں پہچان لیا، کیونکہ میں ان کی جنگی بہادری سے واقف تھا۔ میں نے لشکرِ عمر بن سعد سے کہا:
'یہ شیرِ بیشہ ہے، یہ شبیب کا فرزند ہے، خبردار! کوئی تنہا اس کے مقابلے میں نہ جائے۔'
عابس بار بار مبارز طلب کرتے رہے، لیکن ان کی ہیبت اور شجاعت کے باعث کسی میں اتنی جرأت نہ تھی کہ ان کے مقابلے میں میدان میں اترتا۔"
25۔ شوذب بن عبداللہ
وہ شیعہ اکابر میں سے تھے، نہایت بہادر اور حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے احادیث کے حافظ تھے۔ ان کی ایک مجلسِ حدیث ہوتی تھی جہاں شیعیانِ اہل بیت آ کر ان سے احادیث حاصل کرتے تھے۔
وہ عابس بن ابی شبیب کے ساتھ کوفہ سے مکہ آئے اور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ رہے۔ عاشورا کے دن جب جنگ شروع ہوئی تو میدان میں اترے۔ عابس نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ امام کی نصرت اور راہِ خدا میں شہادت کے لیے آمادہ ہیں؟ انہوں نے اپنے عزم کا اظہار کیا اور بہادروں کی طرح جنگ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
26۔ جون بن ابی مالک
وہ حضرت ابوذر غفاریؓ کے سیاہ فام غلام تھے۔ امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر جہاد کی اجازت طلب کی۔ امام نے فرمایا:
"تم ہماری طرف سے آزاد ہو، تم تو عافیت کے لیے ہمارے ساتھ آئے ہو، خود کو مشقت میں نہ ڈالو۔"
انہوں نے عرض کیا:
"کیا میں آرام میں رہوں اور آپ کو مصیبت میں تنہا چھوڑ دوں؟ خدا کی قسم! اگرچہ میرے جسم کی بو اچھی نہیں اور میرا نسب بلند نہیں، لیکن آپ جیسے امام میرے بدن کو پاک، میری خوشبو کو معطر اور میرے چہرے کو سفید فرما دیں گے اور مجھے جنت کی بشارت دیں گے۔ خدا کی قسم! میں آپ سے جدا نہ ہوں گا یہاں تک کہ میرا سیاہ خون آپ کے پاک خون کے ساتھ مل جائے۔"
پھر رجز پڑھتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑے اور پچیس افراد کو ہلاک کرنے کے بعد شہید ہو گئے۔ امام حسین علیہ السلام ان کے سرہانے تشریف لائے اور دعا فرمائی:
"اے اللہ! اس کے چہرے کو نورانی، اس کی خوشبو کو معطر فرما، اسے نیک لوگوں کے ساتھ محشور فرما اور محمد و آل محمد علیہم السلام کی رفاقت عطا فرما۔"
امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ چونکہ جون کا کوئی رشتہ دار نہ تھا جو ان کے جسد کو اٹھاتا، اس لیے دس دن بعد ان کا جسم دیکھا گیا تو اس سے مشک کی خوشبو آ رہی تھی۔
27۔ عبدالرحمن ارحبی
وہ تابعین میں سے ایک دلیر اور شجاع انسان تھے۔ قیس بن مسہر کے ساتھ کوفیوں کے خطوط لے کر رمضان المبارک کی بارہویں شب مکہ میں امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ امام نے انہیں مسلم بن عقیل کے ساتھ کوفہ بھیجا، پھر وہ واپس آئے اور امام کے اصحاب میں شامل رہے۔ عاشورا کے دن اجازت لے کر میدان میں گئے اور یہ رجز پڑھتے رہے:
"تلواروں اور نیزوں پر صبر کرو، کیونکہ یہی صبر جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔"
آخرکار وہ شہید ہو گئے۔
28۔ ترکی غلام
وہ امام حسین علیہ السلام کے غلام اور قرآن کے قاری تھے۔ اجازت لے کر میدان میں اترے اور رجز پڑھتے ہوئے دشمن سے لڑتے رہے۔ متعدد دشمنوں کو قتل کیا لیکن شدید زخموں کی وجہ سے زمین پر گر پڑے۔ امام حسین علیہ السلام ان کے پاس آئے، گریہ فرمایا اور اپنا رخسار ان کے رخسار پر رکھا۔ غلام نے آنکھیں کھولیں، امام کو اپنے سرہانے دیکھا تو مسکرا اٹھا اور جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی۔
29۔ انس بن حارث
وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی تھے اور غزواتِ بدر و حنین میں شریک رہے تھے۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی تھی:
"میرا یہ فرزند حسین سرزمینِ کربلا میں شہید کیا جائے گا، جو اس وقت وہاں موجود ہو، اسے چاہیے کہ اس کی مدد کرے۔"
عاشورا کے دن انہوں نے اجازت لی، عمامہ کمر سے باندھا اور اپنی بھنوؤں کو کپڑے سے اوپر باندھ لیا۔ امام حسین علیہ السلام نے انہیں اس حالت میں دیکھا تو گریہ فرمایا اور کہا:
"اے بزرگوار! خدا تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔"
انہوں نے بڑھاپے کے باوجود دشمن کے اٹھارہ افراد کو قتل کیا اور پھر شہید ہو گئے۔
30 اور 31۔ عبداللہ بن عروہ اور عبدالرحمن بن عروہ
یہ دونوں بھائی تھے۔ ان کے دادا حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے۔ کربلا میں امام حسین علیہ السلام سے آ ملے اور عاشورا کے دن عرض کیا:
"ہم چاہتے ہیں کہ آپ کے سامنے جنگ کریں اور آپ کے حریم کا دفاع کریں۔"
امام علیہ السلام نے فرمایا:
"مرحبا! تم دونوں پر آفرین ہو۔"
یہ دونوں بھائی امام کے قریب رہتے ہوئے دشمن سے لڑے اور آخرکار شہادت سے سرفراز ہوئے۔
32۔ عمرو بن جنادہ
والد جنادہ بن حارث انصاری کی شہادت کے بعد گیارہ سالہ عمرو امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ امام نے کم عمری کی وجہ سے اجازت نہ دی اور فرمایا کہ شاید ان کی والدہ راضی نہ ہوں۔
بچے نے عرض کیا:
"مجھے میری ماں نے میدان میں جانے کا حکم دیا ہے۔"
امام نے اجازت عطا فرمائی۔ وہ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے اور دشمن نے ان کا سر کاٹ کر امام کی طرف پھینک دیا۔ ان کی والدہ نے سر مبارک کو اٹھایا، خون صاف کیا اور اسے دشمن کے ایک سپاہی پر دے مارا جس سے وہ ہلاک ہو گیا۔ پھر خیمے کا ستون اٹھا کر دشمن پر حملہ کیا اور دو افراد کو قتل کیا۔ بعد ازاں امام حسین علیہ السلام نے انہیں واپس خیمے میں بھیج دیا۔
33۔ واضح ترکی
وہ بہادر، ترک زبان اور قرآن کے قاری تھے۔ عاشورا کے دن دشمن کے مقابل پیدل تلوار سے لڑتے رہے۔ جب زخمی ہو کر زمین پر گرے تو امام حسین علیہ السلام کو پکارا۔ امام ان کے سرہانے آئے اور ان کی گردن کو سہارا دیا۔ وہ فخر سے کہہ رہے تھے:
"مجھ جیسا خوش نصیب کون ہے کہ رسول خدا کے فرزند اپنا چہرہ میرے چہرے پر رکھے ہوئے ہیں!"
پھر وہ عالمِ بالا کی طرف روانہ ہو گئے۔
34۔ رافع بن عبداللہ
وہ اپنے آقا مسلم بن کثیر کے ساتھ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نمازِ ظہر کے بعد میدان میں گئے اور شہید ہو گئے۔
35۔ یزید بن ثبیط
وہ بصرہ کے معزز شیعوں میں سے تھے۔ اپنے دو بیٹوں کے ساتھ مکہ آئے اور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کربلا پہنچے۔ دشمن سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔
36۔ بکر بن حی
وہ ابتدا میں عمر بن سعد کے لشکر کے ساتھ آئے تھے، لیکن عاشورا کے دن حق کو پہچان کر توبہ کی اور لشکرِ کوفہ سے الگ ہو کر امام حسین علیہ السلام کا ساتھ اختیار کیا اور شہادت پائی۔
37۔ ضرغامہ بن مالک
وہ کوفہ کے شیعہ اور مسلم بن عقیل کے بیعت کنندگان میں سے تھے۔ جب لوگوں نے مسلم کا ساتھ چھوڑ دیا تو وہ بھی لشکرِ عمر بن سعد کے ساتھ کربلا پہنچے، لیکن بعد میں امام حسین علیہ السلام سے جا ملے اور نمازِ ظہر کے بعد دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔
38۔ مجمع بن زیاد
وہ مدینہ کے اطراف میں امام کے قافلے میں شامل ہوئے اور مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر کے باوجود امام کا ساتھ نہ چھوڑا، یہاں تک کہ کربلا میں شہید ہو گئے۔
39۔ عباد بن مہاجر
انہوں نے بھی راستے میں امام حسین علیہ السلام کا ساتھ اختیار کیا اور کربلا میں شہادت پائی۔
40۔ وہب بن حباب کلبی
انہوں نے میدان میں شجاعت کا مظاہرہ کیا اور پھر اپنی والدہ سے پوچھا:
"کیا آپ مجھ سے راضی ہوئیں؟"
والدہ نے فرمایا:
"میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک تم حسین علیہ السلام کے سامنے شہید نہ ہو جاؤ۔"
ان کی زوجہ نے انہیں واپس بلانا چاہا، لیکن والدہ نے نصیحت کی کہ امام حسین علیہ السلام کی نصرت کرو تاکہ قیامت کے دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو۔
وہ لڑتے رہے یہاں تک کہ دونوں ہاتھ کٹ گئے اور آخرکار شہید ہو گئے۔
41۔ حبشی بن قیس بن سلمہ
ان کے دادا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی تھے۔ وہ جنگ شروع ہونے سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے ساتھ شہادت پائی۔
42۔ زیاد بن عریب (ابو عمرہ حنظلی)
وہ نہایت عبادت گزار اور شجاع انسان تھے۔ میدانِ جنگ میں دشمن پر حملہ کرتے اور پھر امام حسین علیہ السلام کے پاس آ کر بشارت دیتے۔ آخرکار عامر بن نہشل نے انہیں شہید کر دیا اور ان کا سر تن سے جدا کر دیا۔
43۔ عقبہ بن صلت
وہ مکہ سے کربلا کے راستے میں امام حسین علیہ السلام سے ملے اور آخر تک ساتھ رہے، یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
44۔ قعنب بن عمر
وہ بصرہ کے شیعوں میں سے تھے۔ حجاج بن بدر کے ساتھ مکہ آئے اور امام حسین علیہ السلام کے اصحاب میں شامل ہوئے۔ عاشورا کے دن شہادت پائی۔
45۔ انیس بن معقل
وہ ایک دلیر انسان تھے۔ سخت جنگ کے بعد شہادت کی عظیم سعادت حاصل کی۔
46۔ قرۃ بن ابی قرۃ
انہوں نے فرزندانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع میں جنگ کی اور دشمن کے چھیاسٹھ افراد کو ہلاک کرنے کے بعد شہید ہو گئے۔
47۔ عبدالرحمن بن عبداللہ یزنی
وہ بھی شہادت کی آرزو لیے میدان میں اترے اور امام حسین علیہ السلام کے دیگر وفادار اصحاب کی طرح جامِ شہادت نوش کیا۔
48۔ یحییٰ مازنی
یہ بہادر مجاہد بھی رجز پڑھتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑے اور آخرکار امام حسین علیہ السلام کے سامنے شہید ہو گئے۔
49۔ منجح
شیخ طوسی نے انہیں امام حسین علیہ السلام کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔ وہ اپنی والدہ حسنیہ کے ساتھ کربلا آئے اور جنگ کے آغاز میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔
50۔ سوید بن عمرو
وہ نہایت شریف، کثرتِ نماز کے پابند اور شیر دل مجاہد تھے۔ اصحابِ امام حسین علیہ السلام میں سب سے آخر میں شہید ہونے والے فرد تھے۔ شدید زخمی ہونے کے بعد کچھ دیر بے ہوش رہے۔ جب ہوش آیا اور سنا کہ امام حسین علیہ السلام شہید ہو چکے ہیں تو خنجر لے کر دوبارہ دشمن پر ٹوٹ پڑے اور کچھ دیر جنگ کرنے کے بعد عروہ بن بکار اور زید بن ورقاء کے ہاتھوں شہید ہو گئے[1]۔
حوالہ جات
- ↑ با یاران امام حسین (ع) بیشتر آشنا شویم.-اخذ شدہ بہ تاریخ: 17جون 2026ء