"ابراہیم امین السید" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 15: | سطر 15: | ||
| religion = [[اسلام]] | | religion = [[اسلام]] | ||
| faith = [[شیعہ]] | | faith = [[شیعہ]] | ||
| works = | | works = صدر سیاسی کونسل [[حزب اللہ لبنان]]، رکن مرکزی کونسل حزب اللہ لبنان| | ||
}} | | known for = | ||
}} | |||
'''ابراہیم امین السید'''، [[حزب اللہ لبنان|حزب اللہ لبنان]] کی مرکزی کونسل کے رکن اور اس کی سیاسی کونسل کے صدر ہیں، جو پارٹی کی عمومی پالیسیوں اور لبنانی و بین الاقوامی سیاسی قوتوں کے ساتھ تعلقات کے عمل کی نگرانی اور انتظام کے ذمہ دار ہیں۔ صیہونی رژیم کے اپنے مستقبل سے خدشات، دشمن صیہونی کے خلاف مزاحمت کے فیصلہ کن ہتھیار کی بازدارندگی، [[لبنان]] کی مزاحمت، ناقابلِ شکست مزاحمت، [[حزب اللہ لبنان|حزب اللہ]] کا عوام کے حق میں ریاست کے قیام کا تعاقب، یومِ قدس عالمی کا [[محور مزاحمت]] سے ربط، [[رژیم صهیونیستی|اسرائیل]] اور [[ایالات متحدہ امریکہ|امریکہ]] کے خوف کے دور کا اختتام؛ ان خیالات اور نظریات میں شامل ہیں۔ | '''ابراہیم امین السید'''، [[حزب اللہ لبنان|حزب اللہ لبنان]] کی مرکزی کونسل کے رکن اور اس کی سیاسی کونسل کے صدر ہیں، جو پارٹی کی عمومی پالیسیوں اور لبنانی و بین الاقوامی سیاسی قوتوں کے ساتھ تعلقات کے عمل کی نگرانی اور انتظام کے ذمہ دار ہیں۔ صیہونی رژیم کے اپنے مستقبل سے خدشات، دشمن صیہونی کے خلاف مزاحمت کے فیصلہ کن ہتھیار کی بازدارندگی، [[لبنان]] کی مزاحمت، ناقابلِ شکست مزاحمت، [[حزب اللہ لبنان|حزب اللہ]] کا عوام کے حق میں ریاست کے قیام کا تعاقب، یومِ قدس عالمی کا [[محور مزاحمت]] سے ربط، [[رژیم صهیونیستی|اسرائیل]] اور [[ایالات متحدہ امریکہ|امریکہ]] کے خوف کے دور کا اختتام؛ ان خیالات اور نظریات میں شامل ہیں۔ | ||
نسخہ بمطابق 14:04، 12 مئی 2026ء
| ابراہیم امین السید | |
|---|---|
![]() | |
| دوسرے نام | ابراہیم امین السید |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1955 ء |
| پیدائش کی جگہ | علاقہ بقاع، لبنان |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| اثرات | صدر سیاسی کونسل حزب اللہ لبنان، رکن مرکزی کونسل حزب اللہ لبنان |
ابراہیم امین السید، حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن اور اس کی سیاسی کونسل کے صدر ہیں، جو پارٹی کی عمومی پالیسیوں اور لبنانی و بین الاقوامی سیاسی قوتوں کے ساتھ تعلقات کے عمل کی نگرانی اور انتظام کے ذمہ دار ہیں۔ صیہونی رژیم کے اپنے مستقبل سے خدشات، دشمن صیہونی کے خلاف مزاحمت کے فیصلہ کن ہتھیار کی بازدارندگی، لبنان کی مزاحمت، ناقابلِ شکست مزاحمت، حزب اللہ کا عوام کے حق میں ریاست کے قیام کا تعاقب، یومِ قدس عالمی کا محور مزاحمت سے ربط، اسرائیل اور امریکہ کے خوف کے دور کا اختتام؛ ان خیالات اور نظریات میں شامل ہیں۔
سوانح حیات
ابراہیم امین السید 1955 ع میں لبنان کے علاقہ بقاع میں پیدا ہوئے۔
تعلیم
انہوں نے حوزہ ہائے علمیہ میں وسیع دینی تعلیم حاصل کی، جس نے انہیں شیعہ نقطہ نظر کی بنیاد پر اسلامی قوانین کی گہری سمجھ عطا کی۔
جنگی سرگرمیاں
السید 1980ء کی دہائی کے اوائل میں حزب اللہ لبنان کی تاسیس کے وقت سے ہی حزب اللہ سے منسلک ہو گئے اور اس پارٹی کی سیاسی و فوجی تحریک کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا۔
قیادت کے عہدے
ابراہیم امین نے اب تک حزب اللہ کی مختلف سطحوں پر کئی عہدے سنبھالے ہیں، اور ان کی موجودہ ذمہ داری حزب اللہ کی سیاسی کونسل کی صدارت ہے، جہاں پارٹی کی عمومی پالیسیوں اور لبنانی و بین الاقوامی سیاسی قوتوں کے ساتھ تعلقات کے عمل کی نگرانی اور انتظام ان کے ذمہ ہے۔ حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے پہلے صدر کے طور پر ان کی ذمہ داری داخلی و خارجی پالیسیوں کی رہنمائی رہی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ علاقائی تنازعات، خاص طور پر قابض اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور سوریہ کی صورتحال کے حوالے سے سیاسی مباحث میں ایک بااثر شخصیت بن گئے ہیں۔
سیاسی سرگرمیاں
ابراہیم امین السید حزب اللہ کے لبنان کی حکومت کے اندر اور باہر موجود مختلف سیاسی قوتوں کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہیں۔ وہ فلسطین کے مسئلے پر خاص توجہ دیتے ہوئے عربی و اسلامی مسائل کی حمایت میں اپنے مواقف کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں۔ وہ علاقائی تنازعات سے متعلق سیاسی مباحث میں ایک مرکزی شخصیت کے طور پر بھی شمار ہوتے ہیں، کیونکہ انہوں نے لبنان میں سیاسی تعلقات کے جال بچھانے، خاص طور پر تحریک امل اور آزاد وطنی تحریک جیسی دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ، میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہیں حزب اللہ کی عمومی پالیسیوں کی رہنمائی میں اپنے مرکزی کردار کی وجہ سے جانا جاتا ہے، جس نے انہیں لبنان کی سیاسی زندگی کی اہم شخصیات میں سے ایک بنا دیا ہے[1]۔
خیالات اور نظریات
صیہونی رژیم کا اپنے مستقبل سے خوف
ابراہیم امین السید نے مزاحمت کی حمایت کے لیے عالمی اجتماع کے گیارہویں کانفرنس میں اپنی تقریر میں اضافہ کیا: خطے کا مستقبل شکست خوردگان طے نہیں کرتے، انہوں نے زور دیا کہ رژیم صهیونیستی اپنے مستقبل سے فکر مند ہے اور ہمیں خود کو اس قابل بنانا چاہیے کہ ہم خطے کا مستقبل طے کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا: دشمن نئے خاورمیانه کے قیام کے لیے مختلف دروازوں سے خطے میں داخل ہوا لیکن ہمارے خطے نے دشمنوں کے تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ ہم خطے کی تمام جنگوں میں فتح یاب ہو سکے۔ امین السید نے واضح کیا: ہمیں دشمنوں کے مقابلے کا سلسلہ جاری رکھنا ہے اور استقامت کا مظاہرہ کرنا ہے۔
لبنان میں صدر کا انتخاب ترجیح ہے
سید ابراہیم امین السید، حزبالله لبنان کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے چیئرمین نے اس ملک کے صدر کے انتخاب کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا۔ انہوں نے مزید کہا: نئے صدر کا انتخاب ایک ترجیح ہے اور یہ جلد از جلد ہونا چاہیے۔ حزب اللہ لبنان کے اس سینئر عہدیدار نے زور دیا: لبنان کے صدر کا انتخاب پارلیمنٹ میں ممکنہ حد تک زیادہ ووٹوں سے ہونا چاہیے۔ حزب اللہ لبنان کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے چیئرمین نے مزید کہا: کوئی بھی شخص تنازعہ انگیز صدر کے برسر اقتدار آنے کا حامی نہیں ہے اور ایسا شخص کہیں نہیں پہنچ سکتا۔ انہوں نے پارلیمانی جماعتوں کے درمیان حقیقی اور سنجیدہ مکالمے کا مطالبہ کیا۔ سید ابراہیم امین السید، حزب اللہ لبنان کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے چیئرمین نے کہا: یہ بہترین راستہ ہے اور شاید صدر کے انتخاب کے لیے ہمارے سامنے موجود واحد راستہ یہی ہے، سب کو اس سمت میں آگے بڑھنا چاہیے۔
بازدارندگی، صیہونی دشمن کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ کن ہتھیار
سید ابراہیم امین السید، حزبالله لبنان کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ صیہونی دشمن کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ کن ہتھیار بازدارندگی پیدا کرتا ہے اور اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ہمارے حقوق کو تسلیم کرے، اور اس بازدارندگی کے قیام کے بعد مزاحمت کو لبنان کی قوم کے حقوق اور اہداف تک پہنچنے کے لیے جنگ کی ضرورت نہیں رہتی۔ انہوں نے مزید کہا: اگر یہ ہتھیار اور سیاسی فیصلوں میں بہادرانہ موقف ہمارے ساتھ ہو، تو ہم بغیر ہتھیار استعمال کیے فتح حاصل کر لیں گے۔ حزب اللہ کے اس عہدیدار نے زور دیا: فی الحال مزاحمت کے پاس ایک حکمت عملی اور فیصلہ کن ہتھیار ہے جو دنیا کے ظالموں اور متکبروں کا مقابلہ کر سکتا ہے، اور اس ہتھیار کی اہمیت اتنی ہے کہ صیہونی دشمن اب لبنان کے خلاف جنگ کا سوچتا بھی نہیں ہے، اور ہم نے بغیر کوئی گولی چلائے فتح حاصل کی ہے۔ امین السید نے مزید کہا: ماضی میں بہت سے لوگوں نے کوشش کی اور اب بھی کوشش کر رہے ہیں کہ مزاحمت کو غیر مسلح کیا جائے، اور اس مقصد کے لیے انہوں نے سیاسی بلاکس اور داخلی، علاقائی اور بین الاقوامی جماعتیں بنائیں، 33 روزہ جنگ میں انہیں لگا کہ یہ جنگ مسلح مزاحمت اور حزب اللہ کے وجود کا خاتمہ ہوگی، لیکن وہ ناکام ہو گئے۔ حزب اللہ کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے چیئرمین نے کہا: 33 روزہ جنگ کے نتائج میں سے ایک یہ تھا کہ یہ منصوبہ ناکام ہو گیا اور مزاحمت کی فتح جاری ہے، جس کا تازہ ترین نمونہ رژیم صهیونیستی کے ساتھ سمندری سرحدوں کی ترسیم کے مذاکرات تھے، جس کے نتیجے میں لبنان کے تیل اور گیس کے وسائل محفوظ ہوئے اور اس ملک کی قوم کے مفادات کے مطابق ان سے استفادہ کیا گیا۔
لبنان کی مزاحمت، ایک ناقابلِ تنقید مزاحمت
ابراہیم امین السید، حزبالله لبنان کی پولیٹیکل کونسل کے چیئرمین نے اپنی تقریر میں اس ملک کے پارلیمانی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے، جو عنقریب منعقد ہونے والے ہیں، کہا: انتخابات ایک جنگ کی مانند ہیں اور لبنانی ایک بار پھر اس میں فتح یاب ہوں گے۔ اس رپورٹ کے مطابق، انہوں نے "سمیر جعجع"، "لبنانی فورسز" پارٹی کے سربراہ کے حالیہ بیانات پر تنقید کرتے ہوئے، جنہوں نے پارلیمانی انتخابات کو "سیاسی آزادی کی جنگ" قرار دیا تھا، کہا: جعجع سے پوچھا جانا چاہیے کہ وہ لبنان کو کن لوگوں سے آزاد کرانا چاہتے ہیں؟ حزب اللہ کے اس عہدیدار نے یاد دلایا: کوئی بھی شخص لبنان کی مزاحمت اور اس کے ہتھیاروں کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ امریکہ، مغرب اور خلیج فارس کے کنارے کے ممالک لبنان کے پارلیمانی انتخابات کو مزاحمت اور اس کے ہتھیاروں کے خلاف جنگ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اس صورت حال میں ہے کہ کوئی بھی مزاحمت اور اس کے ہتھیاروں کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
لبنان کی عوام صیہونی رژیم کے حامیوں کا شکار
حزبالله لبنان کی پولیٹیکل کونسل کے چیئرمین نے واضح کیا: لبنان کی موجودہ صورتحال ناقابلِ تصور ہے۔ بلاشبہ، یہ صورتحال غلط مالیاتی اور معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ حزب اللہ کے اس عہدیدار نے مزید یاد دلایا: لبنان ان پالیسیوں کا شکار ہے جن کی عمر کبھی کبھی 30 سال تک پہنچ جاتی ہے۔ ملک میں فاسد مجرم موجود ہیں جو عوامی املاک اور بیت المال کو لوٹ رہے ہیں اور اس کے باوجود ان سے کوئی بازپرس نہیں کی جاتی۔ ابراہیم امین السید نے یاد دلایا: لبنان کی عوام ان لوگوں کا شکار ہیں جنہوں نے ملک کو اس مرحلے تک پہنچانے کے لیے رژیم صهیونیستی کے ساتھ تعاون کیا اور کر رہے ہیں۔ لبنان کی عوام ان لوگوں کا شکار ہیں جنہوں نے مزاحمت کے خلاف سازشیں کیں اور کر رہے ہیں۔
حزب اللہ عوام کے حق میں حکومت کی تشکیل کا خواہاں ہے
حزبالله لبنان کی پولیٹیکل کونسل کے چیئرمین نے اپنی تقریر میں کہا کہ حزب اللہ سیاستدانوں کے بجائے عوام کے حق میں حکومت کی تشکیل کا خواہاں ہے۔ ابراہیم امین السید نے مزید کہا: حزب اللہ کے لیے یہ اہمیت نہیں رکھتا کہ حکومت کی تشکیل کے لیے کسے وزیر اعظم مقرر کیا جاتا ہے، بلکہ وہ سیاستدانوں کے بجائے عوام کے فائدے کے لیے حکومت کی تشکیل کا خواہاں ہے۔ حزب اللہ کی پولیٹیکل کونسل کے چیئرمین نے 2006 میں تموز کی فتح کی سالگرہ کے موقع پر بعلبک میں امام خمینی ثقافتی مرکز میں منعقدہ تقریب میں زور دیا: حزب اللہ عوام کی بے عزتی اور توہین کو دور کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کرے گا اور کسی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا: تموز کی جنگ میں مزاحمت کے اقدامات رژیم صهیونیستی کی تباہی کے لیے تھے، اور جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مزاحمت اپنے حکمت عملی کے مواقف سے دستبردار ہو جائے گی، وہ وہم میں مبتلا ہے۔ تموز کی جنگ میں مزاحمت کی فتح کی عظمت صیہونی رژیم کی شکست کی بنیاد تھی۔ ابراہیم امین السید نے واضح کیا: تموز کی فتح کی وجہ سے قبضہ کار رژیم کو اپنے مستقبل اور انجام کے بارے میں سوال پیدا ہو گیا اور اس نے کھل کر اپنے خدشات کا اظہار کیا[2]۔
یومِ قدسِ عالمی، محورِ مزاحمت کو جوڑنے والا
حجت الاسلام سید ابراہیم امین السید، حزبالله لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن نے یومِ قدسِ عالمی کے موقع پر یرموک کیمپ میں منعقدہ تقریب میں محورِ مزاحمت کے ممالک کے اجزاء کے درمیان فلسطین کے مسئلے کے حوالے سے بہت زیادہ ہم آہنگی کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا: یومِ قدسِ عالمی ان سرگرمیوں میں سے ایک ہے جو محور مقاومت کو آپس میں جوڑتی ہے اور عرب اور اسلامی اقوام کے بیٹوں اور دنیا کے آزاد لوگوں کے دلوں میں قدس شریف کی اہمیت کی تصدیق کرتی ہے۔
اسرائیل اور امریکہ سے خوف کے دور کا خاتمہ
حجت الاسلام والمسلمین سید ابراہیم امین السید نے اس تقریب میں انقلاب اسلامی ایران کی 45ویں سالگرہ کے جشن کا ذکر کرتے ہوئے، جس میں حجت الاسلام والمسلمین سید ابراہیم امین السید، حزب اللہ کی پولیٹیکل کونسل کے چیئرمین، شیخ محمد یزبک، حزب اللہ کی شرعی کونسل کے چیئرمین، سید حسین الموسوی، حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کے سیاسی معاون، حسین الحاج حسن، بعلبک ہرمل فرنٹ کے چیئرمین، علی مقداد، ابراہیم الموسوی، ملحم الحجیری اور ینال صلح، پارلیمنٹ کے اراکین، حسین النمر، بقاع کے علاقے کے انچارج، ڈاکٹر ایمن زعیتر، امل تحریک کے نمائندے، لبنان کی قومی اور نسلی جماعتوں کے نمائندے، فلسطینی گروپس اور مذہبی اور سماجی کارکنان موجود تھے، کہا: یہ اسلامی انقلاب ہی ہے جس کے بطن سے اسلامی جمہوریہ کا نظام وجود میں آیا، ایک ایسا نظام جس نے عملی طور پر اس تصور کو ختم کر دیا کہ ایک ایسا سیاسی نظام قائم کرنا ناممکن ہے جو مذہبی احکامات کو معاشرتی تبدیلیوں کے ساتھ ملا سکے، جس کی ترویج مغرب نے طویل عرصے سے کی تھی۔ انہوں نے کہا: امام خمینی کا یہ قول کہ "اب ایران اور کل فلسطین" بے بنیاد نہیں تھا، اور اسی لیے فلسطین کی عوام کے ساتھ یکجہتی کی سطح بہت زیادہ ہے، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج کی نسل کے پاس لڑنے اور مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ حجت الاسلام والمسلمین امین السید نے بیان کیا: طوفانالاقصی میں یہ واضح ہوا کہ 75 سال کی کوششیں اس سیکیورٹی ادارے کے لیے ایک دن میں ختم ہو گئیں، اور اسرائیلی کہتے ہیں کہ ہمارا وجود خطرے میں ہے اور آج وہ امن کو بحال کرنے کے لیے جنگ شروع کر رہے ہیں۔ نیز یہ بھی واضح ہوا کہ اسرائیلیوں کے پاس تباہی اور قتل عام کے لیے ہوائی جہاز تو ہیں، لیکن لڑنے کے لیے فوج نہیں ہے[3]۔
مزید دیکھیے
بیرونی روابط
حوالہ جات
ماخذ
- حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے صدر کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں.. امین عام کے عہدے کے امیدوار، عربی 21، اشاعت کی تاریخ: 24 اکتوبر 2024ء، مشاہدے کی تاریخ: 16 مہر 1403 ہجری شمسی۔
- سید ابراہیم امین السید، خبر رساں ایجنسی مہر، اشاعت کی تاریخ: 16 مہر 1403 ہجری شمسی، مشاہدے کی تاریخ: 16 مہر 1403 ہجری شمسی۔
- سید ابراہیم امین السید، خبر رساں ایجنسی حوزہ، اشاعت کی تاریخ: 16 مہر 1403 ہجری شمسی، مشاہدے کی تاریخ: 16 مہر 1403 ہجری شمسی۔
