مندرجات کا رخ کریں

"سید محسن حکیم" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
«{{Infobox person | title = سید محسن حکیم | image = سیدمحسن حکیم 1.jpg | name = آیت اللہ سید محسن طباطبائی حکیم | other names = حکیم، ضیاء الصالحین | brith year= عید الفطر | brith date = ۱۳۰۶ ہ، ۱۲۶۷ ش، ۱۸۸۹ء | birth place = نجف، عراق | death year = ۱۳۹۰ ہ، ۱۳۴۸ ش، ۱۹۷۰ ء | death da...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 33: سطر 33:


اس آسمانی شہر کی روحانی فضا نے دربار کے اس پاکیزہ دل طبیب کو اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے اہل نجف کی درخواست کو بے اختیار قبول کر لیا اور ہمیشہ کے لیے حضرت علی علیہ السلام کے آستانے کے خادم اور اس امام برحق کے حرم کے باشندوں کے طبیب بن گئے۔ اس طرح سید علی حکیم کے نام سے مشہور ہوئے اور یہ نام ہمیشہ کے لیے ان کی اولاد کے نام کے ساتھ یادگار بن گیا۔
اس آسمانی شہر کی روحانی فضا نے دربار کے اس پاکیزہ دل طبیب کو اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے اہل نجف کی درخواست کو بے اختیار قبول کر لیا اور ہمیشہ کے لیے حضرت علی علیہ السلام کے آستانے کے خادم اور اس امام برحق کے حرم کے باشندوں کے طبیب بن گئے۔ اس طرح سید علی حکیم کے نام سے مشہور ہوئے اور یہ نام ہمیشہ کے لیے ان کی اولاد کے نام کے ساتھ یادگار بن گیا۔
== آیت اللہ سید محسن حکیم کی تعلیم و تربیت ==
نجف کے اس یتیم بچے، سید محسن حکیمؒ کے والد کے انتقال کے بعد ان کے بڑے بھائی سید محمود نے ان کی سرپرستی اور تربیت کی۔ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کے چہرے سے یتیمی کے غم کو کم کرنے کی کوشش کی اور انہیں قرآنِ کریم حفظ کرنے اور اس کی قراءت کی طرف راغب کیا۔
سید محسن حکیمؒ نے نو سال کی عمر میں حوزۂ علمیہ کی تعلیم کا آغاز کیا۔ سید محمود ان کے اولین استاد تھے اور انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو ادب، منطق اور فقہ و اصول کے بعض ابتدائی مباحث پڑھائے۔
اس کے بعد سید محسن حکیمؒ نے شیخ صادق بن حاج مسعود بہبہانی اور شیخ صادق جواہر کے حلقۂ درس میں شرکت کی۔ وہ آخوند خراسانیؒ کی وفات سے تقریباً تین سال قبل اس عظیم فقیہ کے درسِ خارج میں حاضر ہونے میں کامیاب ہوئے۔
سن ۱۲۸۷ شمسی میں، آخوند خراسانیؒ کے انتقال کے زمانے میں، انہوں نے آقا ضیاء الدین عراقیؒ کے درس میں شرکت شروع کی اور ان کے اصولِ فقہ کے دو مکمل دوروں سے استفادہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے شیخ علی باقر جواہریؒ کے درسِ فقہ میں شرکت کی اور تقریباً پانچ سال تک اس بزرگ فقیہ کے علمی بحر سے فیض یاب ہوتے رہے۔
بعد ازاں سید محسن حکیمؒ، میرزا محمد حسین نائینیؒ کے شاگردوں میں شامل ہوئے۔ روحانی اور اخلاقی تربیت کے لیے انہوں نے عراق کے معروف حکیم و عارف سید محمد سعید حبوبیؒ سے بھی استفادہ کیا۔
سید محمد سعید حبوبیؒ، سید محسن حکیمؒ کی شخصیت میں ایک روشن اور تابناک مستقبل دیکھتے تھے، اسی لیے مختلف مواقع پر ان کی محنت، استقامت اور علمی صلاحیتوں کو سراہتے اور ان کے درخشاں مستقبل کی نوید دیتے تھے۔ وہ انہیں اپنی معنوی اور روحانی حمایت سے بھی نوازتے تھے۔
== آیت اللہ سید محسن حکیم کے اساتذہ ==
آیت اللہ سید محسن حکیمؒ نے سن ۱۳۲۷ ہجری قمری میں حوزۂ علمیہ کے اعلیٰ دروس، یعنی  درسِ خارج کا آغاز کیا۔ انہوں نے فقہ، اصول اور علمِ رجال جیسے علوم کو متعدد جلیل القدر علماء اور فقہاء سے حاصل کیا۔ ان کے اہم اساتذہ میں درج ذیل شخصیات شامل ہیں:
* آخوند ملا محمد کاظم خراسانی
* آقا ضیاء الدین عراقی
* شیخ علی جواہری
* میرزا محمد حسین نائینی
* ابو تراب خوانساری
ان بزرگ اساتذہ سے علمی استفادے کے نتیجے میں سید محسن حکیم نے فقہ و اصول کے میدان میں بلند مقام حاصل کیا اور درجۂ اجتہاد پر فائز ہوئے۔
اخلاق، عرفان اور روحانی تربیت کے سلسلے میں بھی انہوں نے متعدد بزرگ علماء اور عرفاء سے فیض حاصل کیا، جن میں:
* سید محمد سعید حبوبی
* باقر قاموسی
* سید علی قاضی طباطبائی
* ملا حسینقلی ہمدانی
* شیخ علی قمی شامل ہیں۔
== آیت اللہ سید محسن حکیم کے شاگرد ==
آیت اللہ سید محسن حکیمؒ نے سن ۱۳۳۳ ہجری قمری میں جہاد سے واپسی کے بعد حوزۂ علمیہ کے دروسِ سطح  کی تدریس شروع کی۔ پھر سن ۱۳۳۷ یا ۱۳۳۸ ہجری قمری سے فقہ و اصول کے  درسِ خارج  کا آغاز کیا۔
انہوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ تدریس کے میدان میں گزارا اور اس دوران بے شمار علماء، فقہاء اور مجتہدین کی تربیت کی۔ ان کے بعض مشہور شاگرد درج ذیل ہیں:
* ان کے فرزند سید یوسف حکیم
* محمد تقی آل الفقیہ، لبنان کے معروف عالم
* سید اسماعیل صدر
* سید محمد تقی بحر العلوم
* شہید سید محمد باقر صدر
* محمد علی قاضی طباطبائی
* آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی
* آیت اللہ سید اسد اللہ مدنی
* علامہ محمد مہدی شمس الدین
* سید محمد حسین فضل اللہ
* آیت اللہ حسین وحید خراسانی
* امام موسیٰ صدر
* سید حسن خرسان
* سید حسین مکی عاملی
* محمد تقی تبریزی
* نصر اللہ شبستری
* آیت اللہ سید سعید حکیم
* خلیل قبلہ ای خوئی
یہ نام اس عظیم علمی مکتب کے اثر و رسوخ اور آیت اللہ حکیمؒ کی طویل علمی و تدریسی خدمات کی نمایاں دلیل ہیں۔
== آیت اللہ سید محسن حکیم کی تصانیف ==
آیت اللہ سید محسن حکیم نے فقہ و اصول کی تدریس، حوزۂ علمیہ کی انتظامی ذمہ داریوں، دینی زعامت اور مرجعیت کے باوجود چالیس سے زیادہ علمی آثار تصنیف کیے۔ ان میں بعض مستقل تصانیف، بعض شروح اور بعض اہم فقہی کتابوں پر حواشی ہیں۔ ان کی چند اہم تصانیف درج ذیل ہیں:
=== مستمسک العروۃ الوثقیٰ ===
مستمسک العروۃ الوثقیٰ، کتاب العروۃ الوثقیٰ کی پہلی استدلالی شرح شمار ہوتی ہے۔ آیت اللہ حکیمؒ نے ابتدا میں اس کتاب کے مباحث کو اپنے درسِ خارجِ فقہ میں بیان کیا، جہاں العروۃ الوثقیٰ کو درس کا بنیادی محور بنایا گیا تھا، اور بعد میں ان مباحث کو مرتب کرکے کتابی شکل دی۔
اس کتاب میں آیت اللہ حکیم نے فقہی احکام کے دلائل کو نہایت سادہ، جامع اور مختصر انداز میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے مختلف فقہی دلائل کا دقیق جائزہ لیا، ان کی تشریح کی اور جہاں ضروری ہوا وہاں ان پر علمی نقد بھی کیا۔
مستمسک العروۃ الوثقیٰ معاصر فقہاء کے نزدیک ایک اہم علمی مرجع شمار ہوتی ہے اور فقہی تحقیقات اور دروس میں اس سے کثرت سے استفادہ کیا جاتا ہے۔
=== حقائق الاصول ===
آیت اللہ سید محسن حکیم کی ایک اہم تصنیف  حقائق الاصول  ہے۔ یہ ان کے استاد آخوند خراسانیؒ کی معروف اور بنیادی اصولی کتاب  کفایۃ الاصول کی شرح ہے۔
اس کتاب میں فقہ کے اصولی مباحث کو علمی اور تحقیقی انداز میں زیرِ بحث لایا گیا ہے، اور اس کے ذریعے آیت اللہ حکیمؒ کی اصولِ فقہ میں گہری بصیرت اور علمی مہارت نمایاں ہوتی ہے۔
=== نہج الفقاہۃ ===
نہج الفقاہۃ، شیخ مرتضیٰ انصاریؒ کی معروف فقہی کتاب  المکاسب  کی شرح اور حاشیہ ہے۔
اس کتاب کی پہلی جلد میں آیت اللہ حکیم نے بیع  کے مباحث کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے مبحث  عقدِ مُکرَہ  تک کتاب  المکاسب  کی عبارتوں کی وضاحت اور تشریح کے ساتھ ان پر حواشی تحریر کیے ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے اصل کتاب کی عبارتوں کو نقل کیے بغیر اس کے علمی اور فقہی مطالب کا تجزیہ اور تحقیق پیش کی ہے۔
اس کتاب کی دوسری جلد  خیارات  کے مباحث پر مشتمل ہے اور اس میں شیخ انصاریؒ کی علمی آراء پر تحقیق و حاشیہ نگاری کی گئی ہے۔
=== منہاج الصالحین ===
منہاج الصالحین آیت اللہ سید محسن حکیمؒ کی مفصل رسالۂ عملیہ ہے، جس میں فقہ کے مختلف ابواب سے متعلق ان کے فتاویٰ جمع کیے گئے ہیں۔
یہ کتاب عبادات، معاملات اور زندگی کے مختلف فقہی مسائل پر مشتمل ہے اور مقلدین اور دینی مسائل کے طالبین کے لیے ایک اہم فقہی مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔
== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
{{حوالہ جات}}

نسخہ بمطابق 11:48، 20 اگست 2026ء

سید محسن حکیم
پورا نامآیت اللہ سید محسن طباطبائی حکیم
دوسرے نامحکیم، ضیاء الصالحین
ذاتی معلومات
پیدائشعید الفطر
یوم پیدائش۱۳۰۶ ہ، ۱۲۶۷ ش، ۱۸۸۹ء
پیدائش کی جگہنجف، عراق
وفات۱۳۹۰ ہ، ۱۳۴۸ ش، ۱۹۷۰ ء
یوم وفات۲۷ ربیع الاول
وفات کی جگہنجف
اساتذہاساتذہ محمد کاظم خراسانی
شاگردحسین وحید خراسانی، سید محمد باقر صدر، محمد تقی جعفری اور سید مصطفی خمینی
مذہباسلام، شیعہ
اثراتتصانیف مستمسک العروة الوثقی، حقائق الاصول، نہج الفقاہة اور منہاج الصالحین
مناصبنجف اشرف میں جماعت العلماء کا قیام

سید محسن حکیم، آیت اللہ سید محسن طباطبائی حکیم ۱۳۰۶ سے ۱۳۹۰ ہجری تک کے ایک مجاہد شیعہ عالم، فقیہ، اصولی، امامیہ شیعہ کے مرجع تقلید اور حوزہ علمیہ نجف کے مدیر تھے۔ وہ میرزا محمد حسین نائینی کے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔ سید حسین بروجردی کے انتقال کے بعد ۱۳۴۰ ہجری میں انہوں نے نو سال سے زیادہ عرصے تک شیعیان عالم کی عمومی مرجعیت کی ذمہ داری سنبھالی۔ انہوں نے اپنی بابرکت زندگی اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی اور عراق میں مدارس، کتب خانوں، مساجد اور دیگر علمی و دینی مراکز کی تعمیر و تاسیس پر خصوصی توجہ دی۔

آیت اللہ حکیم سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں ایک بہادر شخصیت تھے۔ اپنے علمی نظریات کے اظہار میں صراحت اور فتوے دینے میں ان کی جرأت کم نظیر تھی۔ وہ ایران کے حالات پر بھی گہری نظر رکھتے تھے اور خطوط، اعلانات اور ٹیلی گرام کے ذریعے امام خمینی کی قیادت میں ایران کے علما کی ان کوششوں کی حمایت کرتے تھے جو شاہی حکومت کے ظلم و جبر کے مقابلے میں جاری تھیں۔

سید محسن حکیم کی زندگی

سید محسن حکیم ۱۳۰۶ ہجری میں نجف میں ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید مہدی حکیم نجف کے علما میں شمار ہوتے تھے۔ محسن حکیم نے چھ سال کی عمر میں اپنے والد کو کھو دیا۔ ان کے دس بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔ ان کے بیٹوں کے نام یوسف، محمد رضا، محمد مہدی، کاظم، محمد باقر، عبدالہادی، عبدالصاحب، علاء الدین، عبدالعزیز اور محمد حسین تھے۔

سید محسن حکیم کی زندگی کے آخری سال گھریلو نظر بندی، حوزہ علمیہ اور عراق کے شیعوں پر سختیوں اور ان کے مسلسل مزاحمت کے ساتھ گزرے۔ حسن البکر کی بغاوت کے بعد بعث پارٹی کی جانب سے سید محسن حکیم پر دباؤ مزید بڑھ گیا اور بعث پارٹی نے انہیں اپنے سامنے جھکانے کی کوشش کی۔

سید محسن طباطبائی حکیم بالآخر ۲۷ ربیع الاول ۱۳۹۰ ہجری کو ۸۴ سال کی عمر میں بغداد میں بیماری کے باعث وفات پا گئے۔ ان کے جسد خاکی کو بغداد سے کربلا اور پھر نجف تک بڑے شاندار انداز میں لے جایا گیا اور مسجد ہندی میں ان کی لائبریری کے قریب سپرد خاک کیا گیا۔

حکیم کہلانے کی وجہ

دسویں صدی ہجری میں سید علی، شاہ عباس صفوی کے خصوصی طبیب تھے۔ وہ بادشاہ کے ہمراہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے نورانی روضے کی زیارت کے لیے نجف گئے۔

اس آسمانی شہر کی روحانی فضا نے دربار کے اس پاکیزہ دل طبیب کو اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے اہل نجف کی درخواست کو بے اختیار قبول کر لیا اور ہمیشہ کے لیے حضرت علی علیہ السلام کے آستانے کے خادم اور اس امام برحق کے حرم کے باشندوں کے طبیب بن گئے۔ اس طرح سید علی حکیم کے نام سے مشہور ہوئے اور یہ نام ہمیشہ کے لیے ان کی اولاد کے نام کے ساتھ یادگار بن گیا۔

آیت اللہ سید محسن حکیم کی تعلیم و تربیت

نجف کے اس یتیم بچے، سید محسن حکیمؒ کے والد کے انتقال کے بعد ان کے بڑے بھائی سید محمود نے ان کی سرپرستی اور تربیت کی۔ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کے چہرے سے یتیمی کے غم کو کم کرنے کی کوشش کی اور انہیں قرآنِ کریم حفظ کرنے اور اس کی قراءت کی طرف راغب کیا۔

سید محسن حکیمؒ نے نو سال کی عمر میں حوزۂ علمیہ کی تعلیم کا آغاز کیا۔ سید محمود ان کے اولین استاد تھے اور انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو ادب، منطق اور فقہ و اصول کے بعض ابتدائی مباحث پڑھائے۔

اس کے بعد سید محسن حکیمؒ نے شیخ صادق بن حاج مسعود بہبہانی اور شیخ صادق جواہر کے حلقۂ درس میں شرکت کی۔ وہ آخوند خراسانیؒ کی وفات سے تقریباً تین سال قبل اس عظیم فقیہ کے درسِ خارج میں حاضر ہونے میں کامیاب ہوئے۔

سن ۱۲۸۷ شمسی میں، آخوند خراسانیؒ کے انتقال کے زمانے میں، انہوں نے آقا ضیاء الدین عراقیؒ کے درس میں شرکت شروع کی اور ان کے اصولِ فقہ کے دو مکمل دوروں سے استفادہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے شیخ علی باقر جواہریؒ کے درسِ فقہ میں شرکت کی اور تقریباً پانچ سال تک اس بزرگ فقیہ کے علمی بحر سے فیض یاب ہوتے رہے۔

بعد ازاں سید محسن حکیمؒ، میرزا محمد حسین نائینیؒ کے شاگردوں میں شامل ہوئے۔ روحانی اور اخلاقی تربیت کے لیے انہوں نے عراق کے معروف حکیم و عارف سید محمد سعید حبوبیؒ سے بھی استفادہ کیا۔

سید محمد سعید حبوبیؒ، سید محسن حکیمؒ کی شخصیت میں ایک روشن اور تابناک مستقبل دیکھتے تھے، اسی لیے مختلف مواقع پر ان کی محنت، استقامت اور علمی صلاحیتوں کو سراہتے اور ان کے درخشاں مستقبل کی نوید دیتے تھے۔ وہ انہیں اپنی معنوی اور روحانی حمایت سے بھی نوازتے تھے۔

آیت اللہ سید محسن حکیم کے اساتذہ

آیت اللہ سید محسن حکیمؒ نے سن ۱۳۲۷ ہجری قمری میں حوزۂ علمیہ کے اعلیٰ دروس، یعنی درسِ خارج کا آغاز کیا۔ انہوں نے فقہ، اصول اور علمِ رجال جیسے علوم کو متعدد جلیل القدر علماء اور فقہاء سے حاصل کیا۔ ان کے اہم اساتذہ میں درج ذیل شخصیات شامل ہیں:

  • آخوند ملا محمد کاظم خراسانی
  • آقا ضیاء الدین عراقی
  • شیخ علی جواہری
  • میرزا محمد حسین نائینی
  • ابو تراب خوانساری

ان بزرگ اساتذہ سے علمی استفادے کے نتیجے میں سید محسن حکیم نے فقہ و اصول کے میدان میں بلند مقام حاصل کیا اور درجۂ اجتہاد پر فائز ہوئے۔

اخلاق، عرفان اور روحانی تربیت کے سلسلے میں بھی انہوں نے متعدد بزرگ علماء اور عرفاء سے فیض حاصل کیا، جن میں:

  • سید محمد سعید حبوبی
  • باقر قاموسی
  • سید علی قاضی طباطبائی
  • ملا حسینقلی ہمدانی
  • شیخ علی قمی شامل ہیں۔

آیت اللہ سید محسن حکیم کے شاگرد

آیت اللہ سید محسن حکیمؒ نے سن ۱۳۳۳ ہجری قمری میں جہاد سے واپسی کے بعد حوزۂ علمیہ کے دروسِ سطح کی تدریس شروع کی۔ پھر سن ۱۳۳۷ یا ۱۳۳۸ ہجری قمری سے فقہ و اصول کے درسِ خارج کا آغاز کیا۔

انہوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ تدریس کے میدان میں گزارا اور اس دوران بے شمار علماء، فقہاء اور مجتہدین کی تربیت کی۔ ان کے بعض مشہور شاگرد درج ذیل ہیں:

  • ان کے فرزند سید یوسف حکیم
  • محمد تقی آل الفقیہ، لبنان کے معروف عالم
  • سید اسماعیل صدر
  • سید محمد تقی بحر العلوم
  • شہید سید محمد باقر صدر
  • محمد علی قاضی طباطبائی
  • آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی
  • آیت اللہ سید اسد اللہ مدنی
  • علامہ محمد مہدی شمس الدین
  • سید محمد حسین فضل اللہ
  • آیت اللہ حسین وحید خراسانی
  • امام موسیٰ صدر
  • سید حسن خرسان
  • سید حسین مکی عاملی
  • محمد تقی تبریزی
  • نصر اللہ شبستری
  • آیت اللہ سید سعید حکیم
  • خلیل قبلہ ای خوئی

یہ نام اس عظیم علمی مکتب کے اثر و رسوخ اور آیت اللہ حکیمؒ کی طویل علمی و تدریسی خدمات کی نمایاں دلیل ہیں۔

آیت اللہ سید محسن حکیم کی تصانیف

آیت اللہ سید محسن حکیم نے فقہ و اصول کی تدریس، حوزۂ علمیہ کی انتظامی ذمہ داریوں، دینی زعامت اور مرجعیت کے باوجود چالیس سے زیادہ علمی آثار تصنیف کیے۔ ان میں بعض مستقل تصانیف، بعض شروح اور بعض اہم فقہی کتابوں پر حواشی ہیں۔ ان کی چند اہم تصانیف درج ذیل ہیں:

مستمسک العروۃ الوثقیٰ

مستمسک العروۃ الوثقیٰ، کتاب العروۃ الوثقیٰ کی پہلی استدلالی شرح شمار ہوتی ہے۔ آیت اللہ حکیمؒ نے ابتدا میں اس کتاب کے مباحث کو اپنے درسِ خارجِ فقہ میں بیان کیا، جہاں العروۃ الوثقیٰ کو درس کا بنیادی محور بنایا گیا تھا، اور بعد میں ان مباحث کو مرتب کرکے کتابی شکل دی۔

اس کتاب میں آیت اللہ حکیم نے فقہی احکام کے دلائل کو نہایت سادہ، جامع اور مختصر انداز میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے مختلف فقہی دلائل کا دقیق جائزہ لیا، ان کی تشریح کی اور جہاں ضروری ہوا وہاں ان پر علمی نقد بھی کیا۔

مستمسک العروۃ الوثقیٰ معاصر فقہاء کے نزدیک ایک اہم علمی مرجع شمار ہوتی ہے اور فقہی تحقیقات اور دروس میں اس سے کثرت سے استفادہ کیا جاتا ہے۔

حقائق الاصول

آیت اللہ سید محسن حکیم کی ایک اہم تصنیف حقائق الاصول ہے۔ یہ ان کے استاد آخوند خراسانیؒ کی معروف اور بنیادی اصولی کتاب کفایۃ الاصول کی شرح ہے۔

اس کتاب میں فقہ کے اصولی مباحث کو علمی اور تحقیقی انداز میں زیرِ بحث لایا گیا ہے، اور اس کے ذریعے آیت اللہ حکیمؒ کی اصولِ فقہ میں گہری بصیرت اور علمی مہارت نمایاں ہوتی ہے۔

نہج الفقاہۃ

نہج الفقاہۃ، شیخ مرتضیٰ انصاریؒ کی معروف فقہی کتاب المکاسب کی شرح اور حاشیہ ہے۔ اس کتاب کی پہلی جلد میں آیت اللہ حکیم نے بیع کے مباحث کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے مبحث عقدِ مُکرَہ تک کتاب المکاسب کی عبارتوں کی وضاحت اور تشریح کے ساتھ ان پر حواشی تحریر کیے ہیں۔

اس کے بعد انہوں نے اصل کتاب کی عبارتوں کو نقل کیے بغیر اس کے علمی اور فقہی مطالب کا تجزیہ اور تحقیق پیش کی ہے۔

اس کتاب کی دوسری جلد خیارات کے مباحث پر مشتمل ہے اور اس میں شیخ انصاریؒ کی علمی آراء پر تحقیق و حاشیہ نگاری کی گئی ہے۔

منہاج الصالحین

منہاج الصالحین آیت اللہ سید محسن حکیمؒ کی مفصل رسالۂ عملیہ ہے، جس میں فقہ کے مختلف ابواب سے متعلق ان کے فتاویٰ جمع کیے گئے ہیں۔

یہ کتاب عبادات، معاملات اور زندگی کے مختلف فقہی مسائل پر مشتمل ہے اور مقلدین اور دینی مسائل کے طالبین کے لیے ایک اہم فقہی مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔

حوالہ جات