مندرجات کا رخ کریں

"ائمه اطهار" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:
[[فائل:ائمه ا.jpg|تصغیر|بائیں|]]
'''ائمہ''' معصوم [[شیعہ]] کے پیشوا ہیں۔<nowiki/> [[امامت|امام]] کی اصطلاح خاص مفہوم میں انبیاء اور ان کے جانشینوں پر اطلاق ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے [[امامت]] اور ولایت کے بلند منصب پر فائز ہوتے ہیں۔ اس معنی میں امام دین و دنیا کے امور میں ولایتِ مطلقہ کا حامل، گناہ سے معصوم، اور ہر قسم کی لغزش، خطا اور بھول چوک سے محفوظ ہوتا ہے، مخلوق پر حجت اور زمین میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہوتا ہے۔
'''ائمہ''' معصوم [[شیعہ]] کے پیشوا ہیں۔<nowiki/> [[امامت|امام]] کی اصطلاح خاص مفہوم میں انبیاء اور ان کے جانشینوں پر اطلاق ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے [[امامت]] اور ولایت کے بلند منصب پر فائز ہوتے ہیں۔ اس معنی میں امام دین و دنیا کے امور میں ولایتِ مطلقہ کا حامل، گناہ سے معصوم، اور ہر قسم کی لغزش، خطا اور بھول چوک سے محفوظ ہوتا ہے، مخلوق پر حجت اور زمین میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہوتا ہے۔



نسخہ بمطابق 21:19، 30 مئی 2026ء

ائمہ معصوم شیعہ کے پیشوا ہیں۔ امام کی اصطلاح خاص مفہوم میں انبیاء اور ان کے جانشینوں پر اطلاق ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے امامت اور ولایت کے بلند منصب پر فائز ہوتے ہیں۔ اس معنی میں امام دین و دنیا کے امور میں ولایتِ مطلقہ کا حامل، گناہ سے معصوم، اور ہر قسم کی لغزش، خطا اور بھول چوک سے محفوظ ہوتا ہے، مخلوق پر حجت اور زمین میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہوتا ہے۔

لفظِ ائمہ کا مفہوم

أئمہ، امام کی جمع ہے، اور فقہاء کی اصطلاحات میں امام دو مفاہیم: عام اور خاص میں استعمال ہوا ہے۔

امام کا عام مفہوم

امام کے عام مفہوم سے مراد مسلمانوں کا حاکم اور ولی (ولایتِ فقیہ), امامِ جماعت اور امامِ جمعہ ہے۔

اس مفہوم میں “امام” کبھی مضاف کے ساتھ آتا ہے، جیسے امامِ جماعت اور امامِ مسلمین، اور کبھی قرینہ کے ساتھ؛ اور اگر بغیر اضافت اور قرینہ کے استعمال ہو تو اس سے مراد اس کا خاص مفہوم ہوتا ہے، جو اسی مقالے کا موضوع ہے، اور جسے «امامِ عادل» یا «امامِ عدل» بھی کہا گیا ہے۔[1][2]

امام کا خاص مفہوم

امام کے خاص مفہوم کا اطلاق انبیاء اور ان کے جانشینوں پر ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے امامت اور ولایت کے بلند منصب پر مقرر ہوتے ہیں۔

اس معنی میں امام دین و دنیا کے امور میں ولایتِ مطلقہ رکھتا ہے، گناہ سے معصوم اور ہر قسم کی لغزش، غلطی اور فراموشی سے محفوظ ہوتا ہے، مخلوق پر حجت اور زمین میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہوتا ہے۔[3][4]

اماموں کی تعداد اور نام

اسلامی شریعت میں معصوم اماموں (علیہم السلام) کی تعداد بارہ ہے[5][6]، اور وہ درج ذیل ہیں: ۱) ابوالحسن، علی بن ابی‌طالب، امیر مؤمنان.

۲) ابومحمد، حسن بن علی، المجتبی.

۳) ابوعبدالله، حسین بن علی، سید الشهدا.

۴) ابومحمد، علی بن حسین، زین‌العابدین.

۵) ابوجعفر، محمد بن علی، باقر العلوم.

۶) ابوعبدالله، جعفر بن محمد، الصادق.

۷) ابوالحسن، موسی بن جعفر، الکاظم.

۸) ابوالحسن، علی بن موسی، الرضا.

۹) ابوجعفر، محمد بن علی، التقی الجواد.

۱۰) ابوالحسن، علی بن محمد، الهادی.

۱۱) ابومحمد، حسن بن علی، العسکری.

۱۲) امام مهدی منتظر، حجة بن الحسن. علیهم‌السلام.

اماموں کی طرف سے صادر ہونے والے احکام

ائمہ (علیہم السلام) کی طرف سے صادر ہونے والے احکام—خواہ وہ ان کے قول کا مفہوم ہوں یا ان کے فعل یا تقریر (یعنی ان کی تائید و سکوت) سے مستفاد ہوں—مسلکِ شیعہ کی ضرورت اور تمام فقہاء کے اتفاق کے مطابق حجت ہیں۔[7]

امامت پر ایمان اور اماموں کی پیروی کی ضرورت

ائمہ (علیہم السلام) کی امامت و ولایت پر ایمان رکھنا، نیز ان کی پیروی کرنا اور ان کے احکام کی اطاعت کرنا تمام مکلفین پر واجب ہے۔[8][9] مرجعِ تقلید، امامِ جماعت، اور عبادات وغیرہ کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط اماموں کی امامت پر اعتقاد رکھنا ہے۔

ائمہ سے محبت اور صلوات

ائمہ (علیہم السلام) سے محبت واجب اور ایمان کی علامت ہے۔[10]

نماز کے تشہد میں رسولِ خدا اور آپ کی آل پر درود (صلوات) بھیجنا واجب ہے۔[11][12]

چونکہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) پر صلوات، آپ کے خاندان پر صلوات کے ساتھ لازم و ملزوم ہے، لہٰذا جہاں رسولِ خدا پر صلوات واجب ہو (مثلاً خطبۂ نمازِ جمعہ میں) وہاں تبعاً آپ کی آل پر بھی صلوات واجب ہے۔

اماموں کے ناموں اور مشاہدِ مشرفہ کا احترام

بہت سی آیات و روایات اہلِ بیت (علیہم السلام) کی عظمت و جلالت پر صراحت کرتی ہیں، اور فقہاءِ امامیہ نے انہی کی بنیاد پر مختلف ابواب میں کچھ فروع ذکر کیے ہیں، مثلاً:

۱) مشہور قول کے مطابق طہارت کے بغیر اماموں کے ناموں کو چھونا حرام ہے۔[13][14]

۲) (مشہور قول کے مطابق) اُس ہاتھ سے استنجاء کرنا مکروہ ہے جس میں ایسا انگوٹھی ہو جس پر ائمہ کے نام نقش ہوں؛ بشرطیکہ وہ نجس نہ ہو، ورنہ (اگر نجس ہو جائے تو) حرام ہے۔[15]

۳) مشاہدِ مشرفہ کو جنابت کی حالت میں داخل ہونے کی حرمت میں مساجد کے ساتھ ملحق قرار دینا[16]، اور ان کو نجس کرنا (حرام ہونا)، اور ان سے نجاست کو فوراً دور کرنا واجب ہونا[17]؛ نیز ان میں نماز پڑھنے کی فضیلت، بلکہ بعض کے نزدیک ان میں نماز کا مساجد سے بھی افضل ہونا۔[18][19][20]

۴) مشہور کی طرف منسوب قول کے مطابق نماز میں اماموں کی قبور سے آگے کھڑے ہونا مکروہ ہے، بلکہ بعض کے قول کے مطابق قبر کے برابر ہونا بھی مکروہ ہے؛ جبکہ مقابل قول یہ ہے کہ آگے بڑھنا یا برابر ہونا حرام ہے۔[21][22][23]

اماموں کی یاد اور نام کی تعظیم

فقہاءِ امامیہ کے نزدیک ائمہ کے مشاہدِ مشرفہ کو آباد کرنا—ان کی تعمیر، مرمت اور عمارت کی تجدید کے ذریعے—مستحب ہے[24][25][26]، اور ان کے فضائل کا ذکر و اشاعت بھی مستحب ہے۔[27]

اماموں کی قبور کی زیارت، اور ان پر وارد ہونے والی مصیبتوں پر غم و اندوہ اور گریہ کرنا—بالخصوص ابا عبداللہ الحسین (علیہ السلام) کی مصیبتوں پر—مستحب ہے۔[28][29]

اماموں کی قبور کی زیارت کے لیے خاص آداب وارد ہوئے ہیں جن کی رعایت زائر کے لیے مستحب ہے۔[30]

فقہاء نے بابِ حج میں اس موضوع کی توضیح کے لیے «بابُ المزار» کے عنوان سے ایک مستقل باب قائم کیا ہے۔ بعض نے اس سلسلے میں مستقل کتاب بھی لکھی ہے، جیسے «کامل الزیارات» (تصنیف: ابوالقاسم جعفر بن محمد بن قولویہ قمی) اور «المزار» (تصنیف: ابوعبداللہ محمد بن مکی، معروف بہ شہیدِ اوّل)۔

توسل اور تبرک

ائمہ (علیہم السلام) سے توسل، آیتِ کریمہ «وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ»[31] کے مطابق—جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف تقرب حاصل کرنے کے لیے وسیلہ تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے—ایک راجح اور پسندیدہ امر ہے۔

اسی طرح ان سے تبرک حاصل کرنا بھی—کیونکہ وہ بارگاہِ الٰہی کے مقرب اور ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہیں—محبوب اور مستحسن امر ہے۔

فقہِ شیعہ میں تبرک کی بعض صورتوں کا ذکر ہوا ہے، جن میں سے چند یہ ہیں:

۱) ائمہ کے مشاہدِ مشرفہ سے تبرک حاصل کرنا مستحب ہے۔[32]

۲) اماموں کے نام کفن اور جریدتین پر لکھ کر ان سے تبرک حاصل کرنا مستحب ہے[33][34]، نیز اولاد کے نام ان کے ناموں پر رکھنا بھی مستحب ہے۔[35]

۳) تبرک کی غرض سے جنازے کو مشاہدِ مشرفہ کی طرف منتقل کرنا مستحب ہے۔[36]

۴) امام حسین (علیہ السلام) کی تربت سے تبرک حاصل کرنا مستحب ہے۔[37]

اماموں کے بارے میں غلو

ائمہ (علیہم السلام) کے لیے الوہیت و خدائی کا دعویٰ کرنا، یا انہیں تخلیق اور رزق دینے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ مستقل یا شریک سمجھنا حرام ہے، بلکہ یہ کفر کا موجب ہے۔[38]

اماموں سے دشمنی

ائمہ (علیہم السلام) سے دشمنی اور کینہ رکھنا—جسے «نصب» کہا جاتا ہے—حرام ہے، بلکہ ناصبی شخص کے لیے کفر اور نجاست کا باعث ہے۔[39]

اماموں کو سبّ و شتم

ائمہ (علیہم السلام) کو گالی دینا حرام ہے، اور اگر ممکن ہو اور کوئی مفسدہ نہ ہو تو گالی دینے والے کو قتل کرنا واجب ہے۔[40][41][42][43] تاہم اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا محض دشنام دینا—اگرچہ اس کا منشا نصب نہ ہو—بھی ارتداد اور نجاست کا موجب ہے، یا یہ حکم صرف اس صورت میں ہے جب وہ دشمنی سے پیدا ہوا ہو۔[44][45][46]

دعوائے امامت

چونکہ منصبِ امامت، نبوت کی طرح ایک الٰہی منصب ہے اور اس کا اختیار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے بعض فقہاء نے دعوائے امامت کرنے والے کو، اس کے قتل کے وجوب کے اعتبار سے، دعوائے نبوت کرنے والے کے ساتھ ملحق قرار دینے کو بعید نہیں سمجھا۔[47][48]

اماموں کی تصدیق

ائمہ (علیہم السلام) جو خبریں دیں، ان میں ان کے قول کو بغیر بَیِّنہ کے قبول کرنا واجب ہے، اور ان سے قسم لینا جائز نہیں۔[49]

قدما کے مشہور قول کے مطابق ائمہ پر جھوٹ باندھنا روزے کے باطل ہونے کا سبب بنتا ہے، اگرچہ متأخرین کے مشہور نے اس قول کو قبول نہیں کیا۔[50][51][52]

اماموں کی ولایتِ مطلقہ

ائمہ (علیہم السلام) رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی طرح ولایتِ مطلقہ رکھتے ہیں، اور آیتِ کریمہ «النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ»[53] کی رو سے وہ ہر شخص کی نسبت، اس کے اپنے نفس سے بھی زیادہ، اس سے متعلق تصرفات کے حق دار ہیں۔

اماموں کے شئون

بعض ذمہ داریاں اور احکام ائمہ (علیہم السلام) کے عنوان سے بیان ہوئے ہیں، جو اجمالی طور پر زمانۂ غیبت میں جامع الشرائط فقہاء کے لیے بھی ثابت ہیں۔ یہ شئون درج ذیل ہیں:

نمازِ جماعت قائم کرنا

نمازِ جمعہ، عیدین اور میت کی نماز قائم کرنا: نمازِ جمعہ کے وجوبِ عینی[54] اور نمازِ عید الفطر و قربان کے وجوب[55][56] کو امام علیہ السلام کی موجودگی سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔[57][58]

اگر امام جنازے پر موجود ہو تو میت کی نماز پڑھانے میں وہ سب سے زیادہ حق دار ہے۔[59]

زکوٰۃ وصول کرنا

امام (علیہ السلام) کی حکومت کے زمانے میں، بعض فقہاء کے قول کے مطابق، مالک کے لیے امام کی اجازت کے بغیر زکوٰۃ کو مستحقین میں تقسیم کرنا جائز نہیں۔[60]

اگر امام کسی کے مال کی زکوٰۃ طلب کرے تو اس کی ادائیگی واجب ہے۔[61][62]

امام پر واجب ہے کہ ہر سال ایسے افراد کو اسلامی علاقوں کے اطراف میں زکوٰۃ جمع کرنے اور اکٹھا کرنے کے لیے روانہ کرے، البتہ جب حصولِ زکوٰۃ اسی پر موقوف ہو۔[63][64]

ان افراد کے لیے بھی امام کی اجازت کے بغیر زکوٰۃ کو مستحقین میں تقسیم کرنا جائز نہیں۔[65][66]

خمس اور انفال وصول کرنا

مشہور قول کے مطابق خمس چھ حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے بعد اس کے تین حصے امام (علیہ السلام) کے لیے ہیں، جنہیں «سہمِ امام» کہا جاتا ہے، اور امام کی اجازت کے بغیر اس میں تصرف جائز نہیں۔

زمانۂ حضور میں تمام خمس امام کو ادا کرنا واجب ہے، لیکن زمانۂ غیبت میں اس کی کیفیت کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔[67][68]

انفال رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی ملکیت ہیں اور آپ کے بعد امام (علیہ السلام) کی ملکیت شمار ہوتے ہیں۔ امام ان میں جس طرح مصلحت سمجھے تصرف کرتا ہے، اور دوسروں کے لیے اس میں امام کی اجازت کے بغیر تصرف جائز نہیں۔[69]

جہاد کا حکم دینا

جہادِ ابتدائی کی مشروعیت اور اسی طرح اس کا وجوب، امام یا اس شخص کی موجودگی سے مشروط ہے جسے امام نے جہاد کے لیے مقرر کیا ہو۔[70]

باغیوں کے خلاف جہاد، اگر امام بلائے، واجب ہے۔[71]

اگر جہاد امام کی اجازت سے ہو تو اسلامی مجاہدین کو حاصل ہونے والی غنیمتوں میں خمس ادا کرنا واجب ہے، اور اگر اجازت کے بغیر ہو تو وہ ساری غنیمتیں انفال شمار ہوں گی اور امام کی ملکیت ہوں گی۔[72][73]

امام یا اس کا نائب مصلحت یا عدمِ مفسدہ کے پیشِ نظر تمام کفار یا ان میں سے بعض کو امان دے سکتا ہے۔[74]

عقدِ ذمّہ، صلح اور جنگ بندی کا معاہدہ امام یا اس کے نائب کے ذریعے منعقد ہوتا ہے۔

قضاء اور حدود کا قیام

قضاء، لوگوں کی جان، مال اور آبرو میں تصرف کو مستلزم ہے، اور اسی وجہ سے یہ ایک قسم کی ولایت شمار ہوتی ہے۔ یہ ولایت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) اور امام (علیہ السلام) کے لیے ثابت ہے، اور قضاء کے منصب کو سنبھالنا دوسروں کے لیے صرف اسی صورت میں جائز ہے جب ان کی طرف سے خاص یا عام نصب ہو یا اجازت حاصل ہو۔[75]

حدود کا اجرا صرف امام یا امام کی طرف سے منصوب شخص کے اختیار میں ہے۔[76]

تعزیر بھی امام اور اس کے نائب کے شئون میں سے ہے، بلکہ مشہور قول کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی اس صورت میں کہ وہ زخم پہنچانے یا منکر کے مرتکب کو قتل کرنے پر موقوف ہو، امام کی اجازت سے مشروط ہے۔[77]

امام بعض مواقع میں مجرم کو معاف کر سکتا ہے، جیسے تعزیر کے موارد میں، نیز ان حدود کے موارد میں جو حق اللہ ہوں اور اقرار سے ثابت ہوئے ہوں، نہ کہ بَیِّنہ سے۔[78]

اقطاع

امام کے دیگر شئون میں سے ایک یہ ہے کہ وہ جس انداز سے مصلحت سمجھے اقطاع[79] کر سکتا ہے۔[80][81]

لاوارث لوگوں کا وارث

اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کا مال امام کا ہوگا؛ کیونکہ امام لاوارثوں کا وارث ہے۔[82]

ولیِ دم

جو شخص قتل ہو جائے اور اس کا کوئی ولیِ دم نہ ہو، امام اس کا ولیِ دم ہوتا ہے، اور قاتل سے قصاص لینے یا اس سے دیت لینے کا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔[83]

حوالہ جات

  1. شیخ طوسی، محمد بن حسن، النهایة، ص۴۰۔
  2. شیخ طوسی، محمد بن حسن، النهایة، ص۱۱۸۔
  3. ص/سورہ ۳۸، آیت ۲۶۔
  4. انبیاء/سورہ ۲۱، آیت ۷۳۔
  5. شیخ مفید، محمد بن محمد النعمان، المقنعة، ص۳۲۔
  6. حلی، علی بن مطهر، تذکرة الفقهاء، ج۳، ص۲۶۸۔
  7. طباطبائی بروجردی، سید حسین، جامع احادیث الشیعه، ج۱، ص۱۲۶-۲۱۹۔
  8. شیخ صدوق، محمد بن علی، الهدایة، ج۲، ص۲۵-۴۰۔
  9. شیخ مفید، محمد بن محمد النعمان، المقنعة، ص۳۲۔
  10. مقدس اردبیلی، احمد، مجمع الفائدة، ج۷، ص۵۲۷۔
  11. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۰، ص۲۵۳-۲۵۷۔
  12. أبوالقاسم خوئی، ابوالقاسم و بروجردی، مرتضی، مستند العروة (الصلاة)، ج۸، ص۳۰۶۔
  13. طباطبائی حکیم، محسن، مستمسک العروة، ج۳، ص۴۵۔
  14. شیخ انصاری، مرتضی، کتاب الطهارة، ج۲، ص۵۸۵۔
  15. بحرانی، یوسف، الحدائق الناضرة، ج۲، ص۸۲۔
  16. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۳، ص۵۲۔
  17. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۶، ص۹۸۔
  18. کاشف‌الغطاء، جعفر بن خضر، کشف الغطاء، ج۳، ص۶۷۔
  19. طباطبائی یزدی، محمد کاظم، العروة الوثقی، ج۱، ص۵۹۶۔
  20. طباطبائی یزدی، محمد کاظم، العروة الوثقی، ج۱، ص۱۸۸۔
  21. شیخ یهایی، محمّد بن عزّ الدین، حبل المتین، ص۱۵۹۔
  22. بحرانی، یوسف، الحدائق الناضرة، ج۷، ص۲۱۹-۲۲۴۔
  23. طباطبائی حکیم، محسن، مستمسک العروة، ج۵، ص۴۶۲-۴۶۷۔
  24. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۴، ص۳۴۱۔
  25. مکی العاملی، محمد بن جمال‌الدین، الدروس، ج۱، ص۱۱۶۔
  26. ملکی تبریزی، میرزا جواد، مصباح الفقیه، ج۵، ص۴۲۸۔
  27. حلی، ابن إدریس، السرائر، ج۳، ص۶۲۵۔
  28. حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعة، ج۱۴، ص۴۵۶۔
  29. حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعة، ج۱۴، ص۵۰۰۔
  30. حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعة، ج۱۴، ص۵۲۷۔
  31. مائدہ/سورہ ۵، آیت ۳۵۔
  32. حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعة، ج۱۴، ص۵۶۱۔
  33. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۴، ص۲۲۵۔
  34. طباطبائی یزدی، محمد کاظم، العروة الوثقی، ج۲، ص۸۵۔
  35. فاضل هندی، محقق اصفهانی، کشف اللثام، ج۷، ص۵۲۷۔
  36. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۴، ص۳۴۳۔
  37. حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعة، ج۱۴، ص۵۱۰۔
  38. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۶، ص۵۰۔
  39. حسینی عاملی، سید جواد، مفتاح الکرامة، ج۲، ص۴۳۔
  40. جبعی عاملی، علی، مسالک الافهام، ج۳، ص۷۵۔
  41. جبعی عاملی، علی، مسالک الافهام، ج۳، ص۹۴۔
  42. مسالک جبعی عاملی، علی، الافهام، ج۱۴، ص۴۵۲۔
  43. خویی، ابوالقاسم، مبانی تکملة المنهاج، ج۱، ص۲۶۴۔
  44. کاشف‌الغطاء، جعفر بن خضر، کشف الغطاء، ج۲، ص۳۵۵۔
  45. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۶، ص۵۵-۵۶۔
  46. خویی، ابوالقاسم، التنقیح (الطهارة)، ج۲، ص۸۷۔
  47. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۴۱، ص۴۲۲۔
  48. سبزواری، سید عبدالأعلی، مهذب الاحکام، ج۲۸، ص۳۴۔
  49. مکی العاملی، محمد بن جمال‌الدین، الدروس، ج۲، ص۹۰۔
  50. بحرانی، یوسف، الحدائق الناضرة، ج۱۳، ص۱۴۱۔
  51. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۶، ص۲۲۳-۲۲۵۔
  52. نراقی، احمد، مستند الشیعة، ج۱۰، ص۲۵۱-۲۵۴۔
  53. احزاب/سورہ ۳۳، آیت ۶۔
  54. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۱، ص۱۵۱۔
  55. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۱، ص۳۳۳۔
  56. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۱، ص۳۴۷۔
  57. حمزة بن عبدالعزیز الدیلمی، ابی یعلی، مراسم العلویة، ص۷۷۔
  58. فاضل هندی، محقق اصفهانی، کشف اللثام، ج۴، ص۲۰۱۔
  59. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۲، ص۲۱۔
  60. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۵، ص۴۱۶-۴۲۰۔
  61. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۵، ص۴۲۱۔
  62. حلی، علی بن مطهر، تذکرة الفقهاء، ج۵، ص۳۱۷۔
  63. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۵، ص۳۳۸۔
  64. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۵، ص۴۲۴۔
  65. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۵، ص۳۳۸۔
  66. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۵، ص۴۲۴۔
  67. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۶، ص۱۰۹۔
  68. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۶، ص۱۳۴۔
  69. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۶، ص۱۳۴۔
  70. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۲۱، ص۱۱۔
  71. محقق حلی، جعفر بن الحسن، شرائع الاسلام، ج۱، ص۲۵۷۔
  72. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۶، ص۵۔
  73. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۶، ص۱۲۶۔
  74. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۲۱، ص۹۷۔
  75. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۴۰، ص۲۳۔
  76. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۲۱، ص۳۸۶۔
  77. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۲۱، ص۳۸۳-۳۸۵۔
  78. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۴۱، ص۲۹۳-۲۹۵۔
  79. کسی حاکم کی طرف سے زمین یا اس کے حاصل ہونے والے منافع، یا کاروبار کی جگہ کو کسی شخص کے حوالے کرنا—چاہے محدود مدت کے لیے ہو یا غیر محدود مدت کے لیے—«اقطاع» کہلاتا ہے، اور اس عنوان سے بابِ «احیاءِ موات» میں بحث کی گئی ہے۔
  80. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۳۸، ص۱۰۱-۱۰۳۔
  81. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۳۸، ص۱۱۱۔
  82. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۳۹، ص۲۶۰۔
  83. روحانی، سید محمد صادق، فقه الصادق، ج۲۶، ص۳۴۷۔

منابع

فقہی ثقافت مطابق مذہبِ اہلِ بیت (علیہم السلام)