"ابوحنیفه" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 44: | سطر 44: | ||
== قلمروِ مذہبِ ابوحنیفہ == | == قلمروِ مذہبِ ابوحنیفہ == | ||
قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ اس مذہب کے پیروکار دوسرے اسلامی مذاہب کے مقابلے میں زیادہ ہیں، اور اس کا جغرافیائی دائرہ [[ترکی]]، [[افغانستان]]، [[مشرق|آسیای میانه]]، [[عراق]]، قفقاز، [[هندوستان]]، چین، کشورهای حوزه بالکان، برزیل، [[شام]]، [[لبنان]] اور [[فلسطین]] تک پھیلا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں، حنفی محدود صورت میں ایران، [[حجاز]]، [[یمن]] اور [[مصر]] میں بھی موجود ہیں<ref>http://www.hajij.com/fa/islamic-countries-and-sects/islamic-sects/item/660-1390-12-14-09-24-15 </ref>۔ لہٰذا اس مذہب کے دنیا بھر میں وسیع پھیلاؤ کے سبب کہا جا سکتا ہے کہ تقریباً ایک تہائی مسلمان اس مذہب کے پیرو ہیں<ref> محمد وفاریشی، «المذهب الحنفی»، ج۱، ص۳۴۱، در المذاهب الاسلامیة الخمسة: تاریخ و توثیق، بیروت: الغدیر، ۱۴۱۹/۱۹۹۸ | قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ اس مذہب کے پیروکار دوسرے اسلامی مذاہب کے مقابلے میں زیادہ ہیں، اور اس کا جغرافیائی دائرہ [[ترکی]]، [[افغانستان]]، [[مشرق وسطی|آسیای میانه]]، [[عراق]]، قفقاز، [[هندوستان]]، چین، کشورهای حوزه بالکان، برزیل، [[شام]]، [[لبنان]] اور [[فلسطین]] تک پھیلا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں، حنفی محدود صورت میں ایران، [[حجاز]]، [[یمن]] اور [[مصر]] میں بھی موجود ہیں<ref>http://www.hajij.com/fa/islamic-countries-and-sects/islamic-sects/item/660-1390-12-14-09-24-15 </ref>۔ لہٰذا اس مذہب کے دنیا بھر میں وسیع پھیلاؤ کے سبب کہا جا سکتا ہے کہ تقریباً ایک تہائی مسلمان اس مذہب کے پیرو ہیں<ref> محمد وفاریشی، «المذهب الحنفی»، ج۱، ص۳۴۱، در المذاهب الاسلامیة الخمسة: تاریخ و توثیق، بیروت: الغدیر، ۱۴۱۹/۱۹۹۸ | ||
</ref>۔ | </ref>۔ | ||
نسخہ بمطابق 12:13، 30 مئی 2026ء
| ابوحنیفه | |
|---|---|
| پورا نام | نُعمان بن ثابت بن زوطا بن مرزبان |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 80 ق |
| پیدائش کی جگہ | کوفه |
| وفات | 150 ق |
| اساتذہ | حماد بن ابی سلیمان، ابراهیم نخعی، علقمه بن قیس شاگرد عبدالله بن مسعود |
| شاگرد | ابوالهذیل زفر بن هذیل بن قیس کوفی، حسن بن زیاد، ابویوسف یعقوب بن ابراهیم کوفی |
| مناصب | نامور فقیه اور متکلم اور اہل سنت و جماعت کے چار فقہی مذاہب میں سے حنفی مذہب کے بانی |
نُعمان بن ثابت بن زوطا بن مرزبان جن کی کنیت اور شہرت ابوحَنیفہ (80–150ھ) ہے، کوفه کے نامور فقیه اور متکلم اور اہلِ سنت کے چار فقہی مذاہب میں سے حنفی مذہب کے بانی ہیں۔ ابوحنیفہ نے حماد بن ابی سلیمان، ابراهیم نخعی اور علقمه بن قیس شاگرد عبدالله بن مسعود سے علم فقه اور علم حدیث حاصل کیا۔ شافعی اور مالکی نے ان کی علمی کمالات کا اعتراف کیا ہے۔ اہلِ سنت کے نزدیک وہ بڑے فقہا میں شمار ہوتے ہیں، اور اپنے زمانے میں ایک کامیاب تاجر بھی تھے۔
مشخصات
ابوحنیفہ 80 ہجری قمری میں کوفه میں، اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کی امارت کے دور میں پیدا ہوئے، اور عمر بن عبدالعزیز کی خلافت کے زمانے میں اپنی صلاحیت اور استعداد ظاہر کی۔ زمانی اعتبار سے یہ شخصیت تابع تابعین میں شمار ہوتی ہے، لیکن چونکہ انہوں نے بعض صحابہ —جن میں انس بن مالک بھی شامل ہیں—سے حدیث نقل کی ہے، اس لیے انہیں تابعین میں بھی شمار کیا گیا ہے[1]۔ بہت سے بڑے اہلِ سنت فقہا کے نزدیک ابوحنیفہ ایک ممتاز اور سرآمد فقیہ کے طور پر متعارف ہیں۔ مثال کے طور پر شافعیه کے پیشوا نے لوگوں کو فقه میں ابوحنیفہ کا احسان مند قرار دیا ہے[2]۔
زیادہ تر منابع کے مطابق ان کی اصل کابل کی طرف لوٹتی ہے۔ بعض منابع میں ترمذ یا نسا کو ان کے آبائی وطن کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ان کے دادا موالی میں سے اور ایرانی تھے، اور وہ 80 ہجری قمری میں شہر کوفہ میں پیدا ہوئے تھے۔
تحصیلات و اساتذہ
ابوحنیفہ نے بہت سے فقہا اور علما سے علم حاصل کیا۔ ان کے خاص استاد حماد بن ابی سلیمان تھے۔ وہ 18 سال تک ان کے درس میں شریک رہے اور حماد کی وفات تک ان کے شاگرد رہے[3]۔
عامر شعبی، ابواسحاق سبیعی، عاصم بن ابی النجود، قیس بن مسلم، سماک بن حرب، علقمہ بن مرثد، عطیة بن سعد عوفی اور حکم بن عتیة ان کے دیگر اساتذہ میں سے تھے[4]۔ نیز بصرہ کے بعض رجال—جیسے قتادہ بن دعامة اور مالک بن دینار—کا نام بھی ان کے اساتذہ کی فہرست میں آتا ہے[5]۔
ابوحنیفہ نے دورانِ تحصیل (114ھ سے پہلے) حجاز کا سفر یا سفر کیے اور حرمین کے شیوخ سے علم حاصل کیا۔ مدینہ میں کچھ مدت وہ ربیعة بن ابی عبدالرحمن (اہلِ رأی فقہا میں سے) کے درس میں رہے[6] اور مکہ میں کچھ مدت عطاء بن ابی رباح (متوفی 114 یا 115ھ) جو اس علاقے کے بڑے فقیہ تھے، کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے[7]۔ انہوں نے مدینہ میں امام محمد باقر (علیہ السّلام)، عبدالرحمن بن ہرمز اعرج، نافع مولیٰ ابن عمر، محمد بن منکدر اور ابن شهاب زہری سے، اور مکہ میں عمرو بن دینار اور ابوالزبیر مکی جیسے افراد سے بھی استفادہ کیا[8]۔
بہر حال، ابوحنیفہ کی امام باقر اور امام صادق (علیہما السّلام) نیز زید بن علی (علیہ السّلام) کی خدمت میں شاگردی کسی بھی طور قابلِ انکار نہیں، اور انہوں نے ان حضرات کے محضر سے بہت سے فوائد حاصل کیے ہیں[9]۔
شاگرد
ان کے بہت سے شاگرد تھے جن میں سب سے مشہور ابوالهذیل زفر بن هذیل بن قیس کوفی، حسن بن زیاد، ابویوسف یعقوب بن ابراهیم کوفی—جو هارون الرشید کے زمانے میں قاضی القضاۃ تھے—اور محمد بن حسن شیبانی ہیں[10]۔
اصولِ مذہبِ ابوحنیفہ
ابوحنیفہ کہتے ہیں: احکام کے استنباط کے لیے پہلے کتابِ خدایِ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہوں؛ اگر کتابِ خدا اور سنتِ پیغمبر (صلّیاللہ علیہ وآلہ) سے کوئی حکم مستنبط نہ کر سکوں تو صحابہ کے اقوال سے فائدہ اٹھاتا ہوں اور باقی کو چھوڑ دیتا ہوں، اور کسی دوسرے کے قول پر عمل نہیں کرتا۔ وہ تشریعی مصادر جن پر ابوحنیفہ مسائل کے استنباط میں اعتماد کرتے تھے یہ ہیں: قرآن، سنتِ نبوی، صحابہ اور دیگر مجتہدین کا اتفاقِ رائے، اور قیاس۔ البتہ ان چار منابع کے بعد استحسان کی باری آتی ہے[11]۔
مذہبی طرزِ فکرِ ابوحنیفہ
مشہور ہے کہ ابوحنیفہ اہلِ رائے کے امام تھے[12]۔ اگرچہ وہ سنتِ نبوی اور احکامِ تعبّدی پر بہت زیادہ تاکید کرتے تھے، تاہم غیر قطعی اخبار و روایات کو فتویٰ دینے کے لیے کافی نہیں سمجھتے تھے[13]۔
قلمروِ مذہبِ ابوحنیفہ
قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ اس مذہب کے پیروکار دوسرے اسلامی مذاہب کے مقابلے میں زیادہ ہیں، اور اس کا جغرافیائی دائرہ ترکی، افغانستان، آسیای میانه، عراق، قفقاز، هندوستان، چین، کشورهای حوزه بالکان، برزیل، شام، لبنان اور فلسطین تک پھیلا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں، حنفی محدود صورت میں ایران، حجاز، یمن اور مصر میں بھی موجود ہیں[14]۔ لہٰذا اس مذہب کے دنیا بھر میں وسیع پھیلاؤ کے سبب کہا جا سکتا ہے کہ تقریباً ایک تہائی مسلمان اس مذہب کے پیرو ہیں[15]۔
مصادرِ فقہیِ ابوحنیفہ
ابوحنیفہ فتویٰ دینے میں کتابِ خدا اور سنتِ رسولِ خدا سے—اس شرط کے ساتھ کہ وہ سنت یا تو متواتر ہو یا تمام علاقوں کے علما کے نزدیک معمول بہ ہو، یا اسے کسی صحابی نے خود صحابہ کے درمیان نقل کیا ہو اور اس کا کوئی مخالف بھی نہ ہو—استفادہ کرتے تھے۔ اگر انہیں کوئی سنت نہ ملتی تو وہ اجماعِ صحابہ کے پابند ہوتے، اور اگر وہ بھی نہ ہوتا تو اجتہاد و قیاس اور اس کے بعد استحسان سے تمسک کرتے۔ چونکہ ابوحنیفہ سنت پر عمل میں سخت گیر تھے، اس لیے ان کے نزدیک بطور سنت بہت کم روایات ثابت ہوئیں، اور اسی بنا پر انہوں نے وسیع طور پر قیاس اور استحسان کی طرف رجوع کیا[16]۔ ابنِ خلدون نقل کرتے ہیں کہ ابوحنیفہ نے رسولِ خدا سے منقول صرف سترہ حدیثوں کو صحیح قرار دیا اور انہی پر اعتماد کیا[17]۔
قواعد اور نصوص پر عمل میں ابوحنیفہ کا رویہ
مشہور یہ ہے کہ ابوحنیفہ رائے اور قیاس کے مدافع تھے، یہاں تک کہ وہ اہلِ رائے کے پیشوا کے طور پر معروف ہوئے۔ تاہم وہ رائے کو وہاں استعمال کرتے تھے جہاں قرآن کی کوئی نص یا رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی کوئی روایت موجود نہ ہو۔
حوالہ جات
- ↑ خطیب بغدادی، ج۱۵، ص۴۴۵.
- ↑ خطیب بغدادی، ج۱۵، ص۴۶۳ـ۴۸۱ و مشهورترین استادش حماد بن ابی سلیمان کوفی متوفای 120 هجری قمری بود.
- ↑ خطیب بغدادی، احمد بن علی، تاریخ بغداد، قاهره، ۱۳۴۹ق، ج۱۳، ص۳۳۴،
- ↑ ابن ابی حاتم، عبدالرحمن بن محمد، الجرح و التعدیل، حیدرآباد دکن، ۱۳۷۲ ق/۱۹۵۳م ج۴ ج۴، ص۴۴۹، خطیب بغدادی، احمد بن علی، تاریخ بغداد، سال 1439 ق، ج۱۳، ص۳۲۴؛ مزي، يوسف بن عبدالرحمن، تهذيب الكمال، نسخة خطي كتابخانة احمد ثالث، ج۱۸، ص۱۲۷-۱۲۸
- ↑ مکی، موفق ابن احمد، مناقب ابی حنیفه، حیدرآباد دکن، ۱۳۲۱ ق، ج۱، ص۵۹.
- ↑ ابوزرعه دمشقی، عبدالرحمن بن عمرو، تاریخ، به کوشش شکرالله قوجانی، دمشق، ۱۴۰۰ ق/۱۹۸۰م، ج۱، ص۴۲۸
- ↑ ترمذی، محمد بن عیسی، سنن، به کوشش احمد محمد شاکر و دیگران، قاهره، ۱۳۵۷ ق/۱۹۳۸، ج۵، ص۷۴۱
- ↑ مزي، يوسف بن عبدالرحمن، تهذيب الكمال، نسخة خطي كتابخانة احمد ثالث، ج۱۸، ص۱۲۷-۱۲۸
- ↑ کاشف الغطاء شیخ علی، ادوار علم الفقه، ص ۱۴۲.
- ↑ زهیلی وهبه، الفقه الاسلامی و ادلّته، ج ۱، ص ۴۴
- ↑ http://wiki.ahlolbait.com/%D8%AD%D9%86%D9%81%DB%8C
- ↑ ابوالقاسم گرجی، تاریخ فقه و فقها، ۱۳۹۲ش، ص۸۳
- ↑ احمد پاکتچی، اندیشههای فقهی در سدههای ۲و ۳، ص۴۴۴
- ↑ http://www.hajij.com/fa/islamic-countries-and-sects/islamic-sects/item/660-1390-12-14-09-24-15
- ↑ محمد وفاریشی، «المذهب الحنفی»، ج۱، ص۳۴۱، در المذاهب الاسلامیة الخمسة: تاریخ و توثیق، بیروت: الغدیر، ۱۴۱۹/۱۹۹۸
- ↑ تاریخ الفقه الاسلامی، ص ۱۲۱-۱۲۰.
- ↑ تاریخ ابن خلدون، ج ۲، ص ۷۹۶ (فصل ششم، علوم حدیث)