"انور عباس" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{خانہ معلومات شخصیت | |||
| title = | |||
| image = انور عباس.jpg | |||
| name = | |||
| other names = ڈاکٹر انور عباس | |||
| brith year = 1955 ء | |||
|15 brith date = فروری | |||
| birth place = انڈونیشیا ، بالایمانسیرو | |||
| death year = | |||
| death date = | |||
| death place = | |||
| teachers = | |||
| students = | |||
| religion = [[اسلام]] | |||
| faith = [[اہل السنۃ والجماعت|سنی]] | |||
| works = | |||
| known for = مدرسِ اقتصاد اسلامی |نائبِ رئیسِ شورای علمائے اندونزی| | |||
رئیس، معاون اور خزانچیِ ہیئتِ اجرائیۂ مرکزی مؤسّسۂ محمدیّہ| | |||
ارکانِ گروہِ نمایندگانِ مجلسِ شورای خلقِ جمهوریِ اندونزی | | |||
مدرّسِ مستقلِ شعبۂ مطالعاتِ اسلامی بنکاری (اسلامک بینکنگ اسٹڈیز) — فیکلٹیِ اقتصاد و تجارت، یونیورسٹیِ شریف ہدایتاللہ جکارتہ }} | |||
'''انور عباس''' ایک تجزیہ نگار، اسلامی معاشیات کے مدرس، نائب صدر کونسلِ علمائے انڈونیشیا، ادارۂ محمدیہ کی مرکزی عاملہ کے صدر، نائب صدر، خزانچی؛ عوامی مشاورتی مجلسِ جمہوریہ انڈونیشیا کے سابق رکن اور جامعہ شریف ہدایت اللہ جکارتا کی فیکلٹی آف اکنامکس اینڈ ٹریڈ میں اسلامی بینکاری اسٹڈیز کے مستقل مدرس ہیں۔ | '''انور عباس''' ایک تجزیہ نگار، اسلامی معاشیات کے مدرس، نائب صدر کونسلِ علمائے انڈونیشیا، ادارۂ محمدیہ کی مرکزی عاملہ کے صدر، نائب صدر، خزانچی؛ عوامی مشاورتی مجلسِ جمہوریہ انڈونیشیا کے سابق رکن اور جامعہ شریف ہدایت اللہ جکارتا کی فیکلٹی آف اکنامکس اینڈ ٹریڈ میں اسلامی بینکاری اسٹڈیز کے مستقل مدرس ہیں۔ | ||
وہ اس بات کے قائل ہیں کہ [[وحدت اسلامی|اسلامی وحدت]] [[مسلمان|مسلمانوں]] کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، اور امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ [[اسرائیل]] کے [[ایران]] پر حملے کی امریکی حمایت کے سامنے امریکی غرور اور خود پسندی کو ختم کرنے کے لیے متحد ہو جائیں۔ ان کے مطابق، [[غزہ]] میں نیتن یاہو کی ہمہ گیر [[جنگ]]، [[فلسطین]] کو اسرائیل کا حصہ بنانے کی کوشش ہے۔ | وہ اس بات کے قائل ہیں کہ [[وحدت اسلامی|اسلامی وحدت]] [[مسلمان|مسلمانوں]] کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، اور امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ [[اسرائیل]] کے [[ایران]] پر حملے کی امریکی حمایت کے سامنے امریکی غرور اور خود پسندی کو ختم کرنے کے لیے متحد ہو جائیں۔ ان کے مطابق، [[غزہ]] میں نیتن یاہو کی ہمہ گیر [[جنگ]]، [[فلسطین]] کو اسرائیل کا حصہ بنانے کی کوشش ہے۔ | ||
| سطر 21: | سطر 43: | ||
== نظریات == | == نظریات == | ||
[[فائل:انور عباس 1.webp|تصغیر|دائیں|]] | |||
=== عالمی اتحاد اور امریکہ کی خود پسندی کا خاتمہ === | === عالمی اتحاد اور امریکہ کی خود پسندی کا خاتمہ === | ||
انوَر عباس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کے غرور اور خودبینی کے خاتمے کے لیے متحد ہو۔ | انوَر عباس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کے غرور اور خودبینی کے خاتمے کے لیے متحد ہو۔ | ||
| سطر 56: | سطر 78: | ||
ان مکاتب کے درمیان *برداشت اور احترام* ایک اہم خصوصیت ہے۔ | ان مکاتب کے درمیان *برداشت اور احترام* ایک اہم خصوصیت ہے۔ | ||
[[مسلمان]] اختلافِ رائے کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ | [[مسلمان]] اختلافِ رائے کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ | ||
وہ اختلافات کو مصیبت نہیں بلکہ | وہ اختلافات کو مصیبت نہیں بلکہ نعمت سمجھتے ہیں۔ | ||
اسی وجہ سے وہ اختلافات کو بنیاد بنا کر آپس میں جھگڑتے یا ایک دوسرے کی مذمت نہیں کرتے<ref>[ انور عباس، وبسایت صندوق حمایت متقابل (JMA Syariah]- اخذ شدہ بہ تاریخ: 29 اپریل 2026ء</ref>۔ | اسی وجہ سے وہ اختلافات کو بنیاد بنا کر آپس میں جھگڑتے یا ایک دوسرے کی مذمت نہیں کرتے<ref>[ انور عباس، وبسایت صندوق حمایت متقابل (JMA Syariah]- اخذ شدہ بہ تاریخ: 29 اپریل 2026ء</ref>۔ | ||
| سطر 65: | سطر 87: | ||
- مسلمان | - مسلمان | ||
- انڈونیشیا | - انڈونیشیا | ||
== حوالہ جات == | |||
{{حوالہ جات}} | |||
{{انڈونیشیا}} | |||
[[زمرہ:شخصیات]] | |||
[[زمرہ: انڈونیشیا]] | |||
[[fa: انور عباس]] | |||
نسخہ بمطابق 13:57، 29 اپريل 2026ء
| انور عباس | |
|---|---|
| دوسرے نام | ڈاکٹر انور عباس |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1955 ء، 1333 ش، 1374 ق |
| پیدائش کی جگہ | انڈونیشیا ، بالایمانسیرو |
| مذہب | اسلام، سنی |
| مناصب | مدرسِ اقتصاد اسلامی |
انور عباس ایک تجزیہ نگار، اسلامی معاشیات کے مدرس، نائب صدر کونسلِ علمائے انڈونیشیا، ادارۂ محمدیہ کی مرکزی عاملہ کے صدر، نائب صدر، خزانچی؛ عوامی مشاورتی مجلسِ جمہوریہ انڈونیشیا کے سابق رکن اور جامعہ شریف ہدایت اللہ جکارتا کی فیکلٹی آف اکنامکس اینڈ ٹریڈ میں اسلامی بینکاری اسٹڈیز کے مستقل مدرس ہیں۔ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ اسلامی وحدت مسلمانوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، اور امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ اسرائیل کے ایران پر حملے کی امریکی حمایت کے سامنے امریکی غرور اور خود پسندی کو ختم کرنے کے لیے متحد ہو جائیں۔ ان کے مطابق، غزہ میں نیتن یاہو کی ہمہ گیر جنگ، فلسطین کو اسرائیل کا حصہ بنانے کی کوشش ہے۔
سوانحِ حیات
انوَر عباس 5 جولائی 1955ء کو انڈونیشیا کے علاقے بالایمانسیرو (Balaimansiro) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے:
- ماسٹرز ڈگری ادیان میں (معیشتِ اسلامی کے تخصص کے ساتھ) جامعہ محمدیہ جکارتا سے حاصل کی،
- ماسٹرز ڈگری مینجمنٹ میں STIE-IPWI جکارتا سے،
- اور پی ایچ ڈی شریعت و فکرِ اسلامی میں 2008ء میں جامعہ اسلامی دولتی شریف ہدایت اللہ جکارتا (UIN) سے حاصل کی۔
عہدے اور ذمہ داریاں
- نائب صدر، کونسلِ علمائے انڈونیشیا (MUI) — 2020ء تا 2025ء
- صدر، مرکزی عاملہ ادارۂ محمدیہ — 2015ء تا 2020ء
- تربیتِ معلم و تعلیمِ محمدیہ جکارتا کے دوسرے اور چوتھے نائب صدر
- انسانی وسائل کے مدیر، اسلامی اسپتال پوندوک گِدے، مشرقی جکارتا
- رکن، عوامی مشاورتی مجلسِ جمہوریہ انڈونیشیا (MPR-RI) — 1997ء تا 1999ء
- مستقل مدرس، اسلامی بینکاری اسٹڈیز، فیکلٹی آف اکنامکس اینڈ ٹریڈ، UIN شریف ہدایت اللہ
- خزانچیِ اعلیٰ اور اقتصادی و کاروباری کونسل کے صدر، مرکزی عاملہ ادارۂ محمدیہ
- صدرِ هیئتِ تبلیغِ اسلامی اور مرکزی ناظرِ تبلیغات، ادارۂ محمدیہ
- محمدیہ کے 48 ویں کانگریس (سوراکارتا) کے *تنویری* (تبلیغ اسلامی) اجلاس میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر منتخب رکن [1]
نظریات

عالمی اتحاد اور امریکہ کی خود پسندی کا خاتمہ
انوَر عباس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کے غرور اور خودبینی کے خاتمے کے لیے متحد ہو۔
یہ بیان انہوں نے اسرائیل کے ایران پر حملے — جو امریکی حملے کے بعد مزید شدت اختیار کر گیا — کے بعد، ۲۳ جون 2025ء کو دیا۔ انہوں نے کہا:
"ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو قبول نہیں کرسکتے کہ ’اب وقت امن کا ہے‘، جبکہ وہ لڑاکا طیارے بھیج کر ایران کی کچھ تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں اور ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کر چکے ہیں۔"
نیتن یاہو کی ہمہ گیر جنگ
انوَر عباس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے مکمل جنگ کا پرچم بلند کر دیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی دوبارہ مخالفت کرنے کے بعد نیتن یاہو کے اقدامات مشرقِ وسطیٰ میں امن کی امید کو مزید کمزور کر دیتے ہیں، اور یہ اقدامات فلسطین کو اسرائیل کا حصہ بنانے کی کوشش کے طور پر سمجھے جاتے ہیں۔
انڈونیشیا–اسرائیل تعلقات پر گفت و گو
مرکزی عاملہ محمدیہ کے صدر نے کہا: "اسرائیل انڈونیشیا کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ استعمار ختم کرے اور فلسطین کو مکمل آزادی دے۔"
یہ بیان انہوں نے صدرِ انڈونیشیا پرابو سوبیانتو کے اس بیان کے جواب میں دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر اسرائیل فلسطین کی آزادی کو تسلیم کرے تو انڈونیشیا سفارتی تعلقات پر غور کرنے کا دروازہ کھلا رکھتا ہے۔
انوَر عباس نے 30 مئی 2025ء کو کہا: "یہ موقع اسی وقت پیدا ہوگا جب اسرائیل فلسطینی سرزمین پر قبضہ ختم کرے اور فلسطینی عوام کو مکمل استقلال دے، تاکہ فلسطین ایک حقیقی، بااختیار اور مقتدر ریاست بن سکے۔"
وحدتِ اسلامی — مسلمانوں کی اولین ترجیح
انوَر عباس، نائب صدر کونسلِ علمائے انڈونیشیا، کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں اختلافِ رائے ایک مانوس حقیقت ہے؛ خصوصاً چار فقہی مکاتب کے درمیان نمایاں اختلافات۔
یہ بیان انہوں نے رمضان 1447ھ کے آغاز کے تعین کے اختلاف کے پس منظر میں، 18 فروری 2026ء کو دیا۔
انہوں نے کہا:
ان مکاتب کے درمیان *برداشت اور احترام* ایک اہم خصوصیت ہے۔ مسلمان اختلافِ رائے کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ وہ اختلافات کو مصیبت نہیں بلکہ نعمت سمجھتے ہیں۔
اسی وجہ سے وہ اختلافات کو بنیاد بنا کر آپس میں جھگڑتے یا ایک دوسرے کی مذمت نہیں کرتے[2]۔
متعلقہ تلاشیں
- وحدتِ اسلامی - اہلِ سنت - مسلمان - انڈونیشیا